Dushman E Jaan By Sumyia Baloch Readelle50182

Dushman E Jaan By Sumyia Baloch Readelle50182 Last updated: 27 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dushman E Jaan

By Sumyia Baloch

"یہ طلاق کے کاغذات میں نے اِن پر اپنے سائن کر دیئے ہیں اب تُم بھی کر دینا میں اِس رشتے کے قابل خود کو سمجھتا نہیں ہوں اینڈ آئی ایم سوری میرے اُن سبھی سخت لفظوں کا جو میں نے تُمہارے لِئے استعمال کیے تھے تُم چاہے مجھے معاف مت کرنا بلکہ کرنا ہی مت میں اسی قابل ہو جو انتقام میں اتنا اندھا ہوگیا تھا کہ یہ سمجھ نا سکا کہ جس سے میں بدلا لے رہا ہوں وہ تو ایک معصوم لڑکی بے قصور ہے۔۔۔!! وہ اُسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ اپنی محبت میں بے بس نہیں ہونا چاہتا تھا اسی لیے اپنی نظروں کو نیچے جھکا کر وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لفافہ اس کے آگے بڑھائے کھڑا تھا۔۔۔ "تُم ہر بار کیوں اپنا سوچتے ہوں ہاں وائے۔۔؟؟ وہ اُسکے طلاق لفظ سن کر پھٹ پڑی وہ اپنے اوپر یہ طلاق لفظ کا ٹیگ نہیں سننا چاہتی تھی اسی لیے سخت آگ بگولہ ہو گئی تھی۔۔ "تُم مجھ سے بھی بہتر ڈیزرو کرتی ہو ڈیم اٹ میں اتنا برا ہو تُمہیں خوش نہیں کرسکتا اور وہ لفظ کیوں بھول رہی ہو ہاں جو میں نے تمہارے لیے استعمال کیے تھے ہاں۔۔؟؟ وہ بھی نظریں اوپر اٹھا کر سرخ نظروں سے اسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں ایک ایک بات یاد کرواتے ہوئے کہنے لگا۔۔ "طلاق کا ٹھپہ میں اپنے ماتھے پر لگتے ہوئے کیسے دیکھوں ہاں بولو کیا کوئی عورت اپنے لیے طلاق یافتہ لفظ کہلانا پسند کرے گی نہیں نا تو پھر میں کیوں برداشت کروں ہاں جواب دو۔۔۔؟؟ وہ شدید غصے سے سرخ ہوتی چیخ کر بولی تو ضنافر حسن زیدی اچانک سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا کر بری طرح سے منتشر کرنے لگا اُسے لگا جیسے صالحہ بھی اس سے دوری نہیں چاہتی ہے وہ بھی اسی طرح تڑپی ہوگی جس طرح وہ طلاق کے پیپرز تیار کرتے وقت ہوا تھا۔۔۔ "چچ۔چھوڑو۔۔۔؟؟ وہ بُری طرح سے تیز چلتی سانسوں کے درمیان بولی اُسکی شدتوں سے تو اُسکا پورا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا اسکے زور سے پیچھے ہٹانے پر ضنافر دو انچ اس سے پیچھے ہوا اور بغور اسکے بھیگے بھیگے ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو اسکی شدتوں کی گواہی دے رہی تھی کہ اس وقت اپنی بیوی سے دوری اسے سوہان روح لگ رہی تھی۔۔۔ "مجھے صرف طلاق نہیں چاہیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تُم سے پیار کرتی ہو ہاں میں ہمشیہ تُم سے نفرت کروں گی مجھے وہ سب باتیں یاد ہے بھولی نہیں ہو۔۔۔!! وہ اپنے سرخ ہونٹوں کو بے دردی سے رگڑتی ہوئی سخت گیر لہجے میں بولی تو ضنافر حسن زیدی اِس ظالم لڑکی کی بات پر اپنے دل میں درد اٹھتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔۔ "ٹھیک ہے میں تُمہیں روکو گا نہیں تُمہیں جو ٹھیک لگے تم وہی کرنا چاہے میرے ساتھ مت رہنا میں کچھ نہیں کہوں گا بلکہ مجھے کوئی حق نہیں ہے تمہیں کچھ کہنے کی بٹ پلیز آج کی رات مجھے تھوڑا سا وقت دو پلیز آج کی رات شاید میں ان لمحوں کے سحر میں تُمہیں گرفتار کر کے تمہاری بے رخی کو ختم کر دو۔۔!! وہ آگے قدم بڑھاکر گھمبیر آواز میں کہتا اُس پر جیسے سحر پھوکنے لگا لیکن وہ بھی اس کی ان داؤ پیچ میں نہیں پڑنے کا عہد کئے بیٹھی تھی جو شدید غصے سے اسکی بات سننے کے بعد اس سے دور ہوئی اور پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔ "یہ ایک گھنٹہ ہی تُمہارے لیے کافی تھا اب میں یہاں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی سنا تُم نے۔۔؟؟ وہ سخت نظروں سے اسے ہی گھور تھی اور ضنافر حسن زیدی اسکی بات پر آگے بڑھا اور اُسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتا کچھ دیر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپا کر کھڑا اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگا پھر اچانک سے پیچھے ہٹا اور اپنے آنکھوں کو صاف کرنے لگا۔۔۔ "اپنا خیال رکھنا میں چلتا ہوں۔۔۔!! نم آنکھوں سے اس دشمن جاں کو دیکھنے کے بعد اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا کر وہ وہاں سے باہر نکلا تو صالحہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔ °°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°