47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“میرا بھائی کہاں ہے۔۔۔؟؟
صالحہ اُس شخص کے سامنے کھڑی اپنے بھائی کے متعلق پوچھ رہی تھی جس کو وہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی لیکن آج اُسے اپنے بھائی کی وجہ سے یہ زہر کا گھونٹ بھرنا پڑا اس شخص کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی۔
“کیا کہا مجھے سنائی نہیں دیا پھر سے کہنا محترمہ۔۔؟؟
وہ شخص بھی انتہا کا ڈھیٹ تھا جو اُسے زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا ابھی بھی نیلی کانچ میں شرارت کوٹ کوٹ کر بھرے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“شٹ اپ ضنافر زیدی سیدھے طریقے سے بتاؤ کہ میرا بھائی کدھر ہے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا کہیں مجھ سے زیدی خاندان کے اکلوتے سپوت کا قتل نہ ہو جائے۔۔!!
شعلے برساتی نظروں سے اُس کے خوبرو چہرے کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولی۔۔۔
“آپ سے تو ظالم آج تک دنیا میں کوئی دیکھا بھی نہیں ہے اس زیدی کے اکلوتے سپوت نے مس صالحہ عرفان سلطان۔۔!!
اُسکے غصے سے سرخ اناری من موہنی صورت کو وہ اپنی پُر حدت نَظروں سے منور کرتا گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔
“دیکھوں گے بھی نہیں تُم مسٹر ضنافر زیدی کیونکہ اِس دنیا میں اکلوتی میں ہو جو تُم سے بے حساب نفرت کرتی ہیں۔۔!!
نفرت کے جذبات سے لبریز لہجے میں کہتی اُسے خون آشام نظروں سے گھورنے لگی اور ضنافر زیدی اُسکی نظروں میں نفرت کے شعلوں کو دیکھتا عجیب انداز میں مسکرایا۔۔
“دیکھنا بھی نہیں چاہتا میں کسی اور کی نفرت کو وہ اِس لیے کیونکہ ضنافر زیدی سے نفرت کرنے کا حق صرف صالحہ عرفان سلطان کو ہے کسی اجنبی کو میں یہ حق مر کر بھی نہیں دے سکتا۔۔!!!
خوبصورت نیلی کانچوں میں محبت کی بے حساب قندیلیں روشن تھیں تو مقابل کی سبز کانچ میں اُسکے لیے نفرت کے بھڑکتے بے حساب شعلے بھڑک رہے تھے۔۔
“مجھے تُمہارے ساتھ نفرت کا رشتہ بھی نہیں رکھنا ہے اور تم چاہتے ہو میں تم سے محبت کروں۔۔!!
اسکی آنکھوں میں رقم پیغام کو غصے سے رد کرتے ہوئے وہ شدید غصیلی آواز میں بولی۔۔
“تُم رکھو یا نا رکھو مجھے تو صرف تُم سے ہی عشق ہے اور ہمشیہ رہے گی نہ ختم ہونے کے لیے کیونکہ عشق اپنا پیچھا انسان کے قبر تک جا کر چھوڑتی ہیں۔۔!!
مخمور آنکھیں گلابی مائل ہونٹوں پہ گاڑھتا وہ بوجھل لہجے میں کہتا اسے سخت طیش دلا گیا تھا۔۔
“وہاٹ ربش اپنی یہ ٹھرک پن جا کر اپنی جیسی لڑکی کے سامنے دیکھاؤ مجھے نہیں میں ان میں الجھنے والی نہیں ہوں۔۔۔!!
غصہ چھوٹی سی سرخ ناک میں دھری ہوئی تھی اور یہ منظر دیکھتا مقابل دل پر ہاتھ رکھتا پیچھے کو تھوڑا سا جھکا۔۔
“ہائے یہ خوبصورت ناک میں دھرا غصہ۔۔۔!!
واپس پہلے والی پوزیشن پہ کھڑے ہو کر وہ پرشوق نظریں اُسکے سُندر چہرے پر گاڑھتے ہوئے بے باکی سے بولا۔۔
“Stop your nonsense.”
اُسکی نظروں کی بڑھتی باکیوں سے سخت چڑتی وہ چٹخ کر بولی۔۔
“نو نو ڈارلنگ میں اور میری بکواس اب روز تُمہیں برداشت کرنے ہوگے بیکاز میں جلد تُمہیں اپنی بیوی کے رتبے پر فائز کروں گا۔۔!!
وہ اُسے مزید چراتا ہوا معنی خیزی سے بولا۔۔
“مجھے اپنی باتوں سے الجھا کر تُم میرے بھائی کو مجھ سے نہیں چھپا سکتے سمجھے۔۔!!
وہ شدید غصیلی آواز میں بولی۔۔
“آپس میں ایک ڈیل کرتے ہیں صالحہ عرفان سلطان میں ضنافر زیدی تُمہارے بھائی کو خود سے نفرت کرنے پر مجبور کرو گا اور بدلے میں تُم مجھ سے عشق کرو گی منظور ہے یہ ڈیل۔۔؟؟
نیلی آنکھوں کو ترچھی کرتے ہوئے وہ اُس غصے کے شعلوں کی تپش سے سرخ ہوتی خوبصورت کومل چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا۔۔
“مجھے تُمہاری یہ گھٹیا ڈیل ہر گز منظور نہیں ہے میں اپنے بھائی کو خود ڈھونڈوں گی تمہارے اس ڈیل سے میرا خود ڈھونڈنا سب سے زیادہ بہتر ہے۔۔!!
وہ نفرت سے کہتی پلٹی اور کینٹین سے باہر نکلی جبکہ ضنافر زیدی اس ظالم کو دیکھتا ہوا کرسی پر گر سا گیا۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“برخوردار جب تک تُمہارا بڑا بھائی زارقم نہیں آ جاتا تب تک میں نکاح کی اجازت نہیں دو گا تُم بھی اچھے سے جانتے ہو وہ مرجان کے لیے کتنا ٹچی ہے۔۔!!
داجی نے نمیر کی بات پر سنجیدگی سے کہا وہ جانتے تھے اپنے خاموش طبع پوتے زارقم عباس سلطان کی پسند کے بارے وہ عباس سلطان سے زیادہ سمجھتے تھے اُسکی اولاد کو لیکن باپ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے بچوں کے بارے میں نہیں جانتے جتنا وہ جانتے تھے۔۔
“کیوں وہ کیوں فیصلہ کرے گا وہ مرجان کا صرف کزن ہے باپ بھائی نہیں جو ہم اسکے انتظار میں بیٹھے دا جی۔۔!!
نمیر نے غصے سے کہا تو اسکی بات پر انہوں نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور یکا یک اُنہیں ایسا لگا جیسے وہ اُس کا حق دوسری بار مار رہے ہیں۔۔۔
“نکاح سے میں نے منا نہیں کیا ہے برخوردار وہ اس گھر کا فرد ہے اور اگر وہ نکاح میں موجود نہیں ہوا تو لوگ باتیں بنائے گے۔۔!!
انہوں نے اب کے تعامل مزاجی سے کہا۔۔
“داجی یہ بات آپ پہلے بھی شئیر کر سکتے تھے۔۔۔؟؟
وہ ڈرامائی انداز میں چہرے پر خفگی رقم کیے ان سے کہنے لگا۔۔
“اب کہہ دیا کافی نہیں ہے اور اب تُمہیں عقل آگئی ہوگی کہ میں کس متعلق کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔!!
اُنہوں نے سپاٹ لہجے میں کہہ کر مانو جیسے بات ختم کر دیا ہو اور نمیر انکی بات پر انہیں دیکھنے لگا اور سوچنے لگا اس بڈھے کو راضی کرنا بہت مشکل آمر ہیں۔۔
“کل بھائی آ رہے ہیں نا تو ٹھیک اُنکے آنے سے پہلے نکاح کی رسم ادا کر دیں گے پھر اُنکے آتے ہی رخصتی کر دیں گے اب اگر آپ نے انکار کر دیا تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ بھی باقیوں کی طرح مجھے اپنے بیٹے کا ناجائز بیٹا سمجھتے ہیں۔۔۔!!
اسنے وہاں مارا جہاں انکی شہ رگ تھی اور وہ بھی تکلیف سے اسے دیکھنے لگے اگر انہیں اسکی سچائی معلوم ہوتی
نا زویا بیگم اور زارقم عباس سلطان کی طرح تو وہ بھی اس سے نفرت کرتے۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“نمیر تُم ایسا کیوں کر رہے ہو میری بہن سے تُم محبت نہیں کرتے مجھے پتہ ہے پھر بھی تُم اُس سے شادی کر رہے ہو ہاں وائے۔۔؟؟
ژالے زہاک سلطان آج پہلی بار اُسکے بیڈ روم میں غصے سے داخل ہوئی تھی عموماً وہ اس سے نرم لہجے میں مخاطب ہوا کرتی تھی لیکن آج کہ دن وہ کیسے اس سے نرمی برتتی جس نے اسکی بہن کو چنا صرف اس لیے کیونکہ اسکا نکاح غلطی سے اسکے بھائی سے ہوا۔۔
“کس نے کہا میں محبت نہیں کرتا ژالے بیگم میں محبت کرتا ہوں اور ہمشیہ کرتا رہوں گا لیکن مرجان منیب سلطان سے نہیں بلکہ ژالے زہاک سلطان سے کرتا ہو۔۔!!
وہ لفظوں کا ماہر کھلاڑی تھا اب بھی وہ اپنے لفظ کے جال بچھا رہا تھا اور وہ بے وقوف لڑکی آہستہ آہستہ سے اُسکے لفظوں کی جال میں پھنستی چلی جا رہی تھی۔۔
“تو تُم محبت کرتے ہو پھر میرا انتظار کیوں نہیں کر رہے ہاں میں نے کہا تو تھا کہ میں اُس انسان سے بہت جلد طلاق لے کر آؤں گی تمہارے پاس۔۔!!
وہ سخت غصے سے سرخ ہوتی چیخ کر بولی اُسکی سرمئی آنکھوں میں نمیر نے جو سہانے خواب دیکھائے تھے وہ نمیر کو صاف نظر آ رہے تھے اور یہ دیکھ کر وہ مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے لگا۔۔
“آج رات کا وقت ہے تُمہارے پاس اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے ژالے کے تُم مجھ سے کتنا زیادہ محبت کرتی ہو اگر آج ٹھیک رات ایک بجے تُم زہاک سلطان کے روم سے طلاق کے پیپرز سائن کر کے میرے روم میں لوٹی تو ٹھیک عدت ختم ہونے کے بعد میں تُم سے نکاح کروں گا۔۔۔!!
وہ ایک بار پھر سے اسے سپنے دیکھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے میں آج رات طلاق لے کر واپس تمہارے پاس لوٹی گی تم نکاح نہیں کروں گے مرجان کے ساتھ وہ ابھی نا سمجھ ہے۔۔!!
وہ اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو وہ اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرایا اور دل میں کہنے لگا بے وقوف تم دونوں بہنیں ہو اور سب سے بڑی ناسمجھ بھی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“مجھے آپ سے ابھی اور اِسی وقت طلاق چاہیے۔۔۔!!
ژالے سامنے آکر اُنکے ہاتھوں سے اُنکا لیپ ٹاپ چھینتی شدید غصے سے بولی۔۔۔تو اُُنہوں نے ایک نظر اپنے لیپ ٹاپ پر ڈالی اور پھر اُسے اپنی سرد نظروں سے دیکھا۔
“آپ نے شادی کو بچوں کا کھیل سمجھ کے رکھا ہے کیا جو آپ ایسی بچکانہ باتیں کر رہی ہیں مس ژالے۔۔؟؟
سخت نظروں سے اُسے گھورتے وہ سرد و سپاٹ لہجے میں بولے تو ژالے اُنکی نظروں سے سخت گھبراتی ہوئی تیزی سے اُن سے دور ہوئی۔۔
“مجھے آپکی باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ مجھے بس اِس بے نام رشتے سے ابھی کے ابھی آزاد کر دے ورنہ میں یہاں سے بھاگ جاؤ گی۔۔!!
سخت پتھریلے لہجے میں کہتی وہ اِس بار اِنہیں آپے سے باہر کر گئی تھیں تو وہ یکدم سے صوفے سے اٹھے اور اُسے شدید غصے سے دونوں شانوں سے پکڑ کر غراتے ہوئے بولے۔۔
“یاد رکھیے گا مس ژالے اگر آپ یہاں سے بھاگی نا تو نقصان آپکا ہی ہوگا میں آپکو دنیا کے کونے سے بھی نکال کر ڈھونڈ لونگا لیکن پھر آپکی حالت کیا کروں گا یہ مجھ سے آپ بہتر جانتی ہے۔۔!!
اُنکے لفظوں کی سختی کو وہ اپنے شانوں پہ اُنکی سخت گرفت کو محسوس کرتی وہ کرنے لگی جبکہ وہ شدید غصے سے اپنی بھوری آنکھوں میں سرخ ڈورے لیے اُسے گھور رہے تھے۔
“آپ مجھے اسطرح دھمکی نہیں دے سکتے ہیں میں پولیس سے آپکی کمپلین کر دو گی کہ آپ ایک معصوم اور اپنی ایج سے کم لڑکی کے ساتھ روز زیادتی کرتے ہیں۔۔۔!!
وہ اب اپنی بچکانہ باتوں سے اُنہیں غصے کے باوجود بھی مسکرانے پے مجبور کرنے لگی تھیں جبکہ وہ اُنکی مسکراہٹ سے جل کر انہیں اپنی سرخ خاکستر کر دینے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“شوق سے میری کمپلین کر لے مس ژالے زہاک سلطان لیکن یاد رکھے پولیس والے میری جیب میں آج کل گھومتے ہیں ایک پیسہ دو اور اُنکو اپنا بنا لوں۔۔!!
اُنہوں نے اُسکے گلابی چہرے کو بڑے ہی پیار سے ٹھوڑی سے پکڑا اور اوپر اٹھایا اور اُسکی سحر انگیز خوبصورت سرمئی آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھوں کو گاڑھتے ہوئے کہا۔۔
“آپ پولیس کو رشوت دے گے سو چیپ۔۔!!
وہ افسوس سے اُنہیں دیکھتی سخت غصے سے بولی تو اُنہوں نے اچانک سے اُسکی پیشانی پر اپنے عنابی لبوں کو رکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔
“اپنی بیوی کے لیے میں رشوت کیا اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔۔!!
ژالے اُس سرد مزاج انسان کی باتوں اور حرکتوں سے سخت بھونچکی رہ گئی تھیں کیونکہ آج سے پہلے بلکہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ بھی وہ اِسطرح خوش نظر نہیں آئے تھے جو آج کل اُسکے ساتھ نظر آ رہے تھے یہ تو اب اُسے اُنکی کوئی چال لگ رہی تھی۔۔
لیکن وہ بھی اب اُن سے ہار نہیں ماننے والی تھیں چاہیے جو کچھ ہو جائے وہ اُن سے ہر صورت میں طلاق لے کر ہی رہے گی پھر اسکے لیے اُسے کچھ بھی کرنا پڑا تو وہ بھی وہ کر گزرے گی۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑے مجھے۔۔؟؟
اچانک سے وہ اُسے اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھا تو وہ اسکی جرات پر سخت شعلے برساتی نظروں سے گھورتی چیخ کر بولی۔۔
زہاک اُسکی آنکھوں میں بغاوت کو پنپتے ہوئے دیکھ چکا تھا اسی لیے وہ فورآ سے ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوا تھا جو پہلے وہ اُسکی حالت کے پیش نظر اور جن حالات میں انکا نکاح ہوا تھا وہ اسے خود کو سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن اسکی بغاوت کرنے کے ڈر سے وہ اسکی اجازت کے بغیر آج یہ سب کرنے جا رہا تھا تاکہ وہ بعد میں یہ لڑکی کچھ غلط ناکر بیٹھے اسی لیے وہ اُسکی مزاحمتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا اُسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
“وہی جو مجھے اُس رات کر دینا چاہیے تھا بیگم زہاک عباس سلطان تُمہارے ساتھ جس رات کو تُم دلہن بن کر اِس بیڈ روم میں آئی تھی۔۔!!!
بیڈ پر لٹا کر وہ گھمبیر آواز میں کہتا اسکے چہرے پر جھکا اور اسکے اگلے سوال کا گلہ گھونٹا اُسکی قربت میں مدہوش ہونے لگا جبکہ وہ غصے سے خود کو اسکی مضبوط پناہوں کی قید سے نکالنے کی کوشش کرتی سخت ہاتھ پیر مارنے لگی لیکن وہ جو آج طے کر چکا تھا اسے کرنا ہی چاہتا اور اسی لیے تو وہ اسکے غصے اور ناراضگی کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہا تھا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“آپ کو نمیر عباس سلطان کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
نازک سفید مومی بدن میں سرخ عروسی جوڑا آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہا تھا جبکہ کمدار پلکیں جو شرم سے نیچے جھکی ہوئی تھی کہ مانوس قدموں کی آہٹ پر اٹھی اور فتح کی سرخی سے ہم کنار ہونے لگی۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
مولوی صاحب کی دوسری بار پوچھنے پر وہ فتح نظروں سے سامنے غصے کی سرخی لیے اپنے دشمنِ اول کو دیکھنے لگی جو اس وقت پتہ نہیں ضبط کی کونسی سیڑھی پر کھڑا تھا اور غصے دکھ کی آماجگاہ بنا ایسے جنگجو کی مانند لگ رہا تھا جو جیتنے کے باوجود بھی اپنا سب کچھ ہار چکا تھا۔۔
“قبول۔۔!!
سرخ بھرے بھرے قاتل ہونٹوں سے یہ چار لفظی عرف نہیں بلکہ سامنے کھڑے شخص کے لیے وار ثابت ہوئے تھے اور وہ ان واروں کو سہہ نا سکا اور شدت سے اپنے مضبوط سینے پر ہاتھ رکھتا الٹے قدم لینے لگا۔۔۔
“دِلوں جان سے مجھے نمیر عباس سلطان کا ساتھ قبول ہے۔۔!!
سرخ لپ اسٹک سے خوبصورتی سے تراشے قاتل ہونٹوں سے اب دوسری بار یہ لفظ نکل کر جیسے اُسکے آس پاس زور دار دھماکہ ہوا ہو وہ نم آنکھوں کو سختی سے میچے وہ دونوں ہاتھوں کو کانوں سے لگا کر جیسے اُس دشمنِ جاں کی مترنم آواز کو اپنے اردگرد بند کرنا چاہتا ہوں۔۔
دلہے کے روپ میں دوسری طرف بیٹھا نمیر کے خوبصورت چہرے پر ایک مکروہ مسکراہٹ آکر ٹھہر گئی جسے وہ اپنی جلتی سرخ خون آشام نظروں سے اُسے نفرت سے دیکھتا وہ قدم گھر سے باہر کی طرف آہستگی سے لینے لگا۔۔
“پوری زندگی میں اُنکا ساتھ جی جان سے نبھاؤ گی اور مجھے آخری سانس تک اُنکا ساتھ قبول ہے۔۔!!
آنکھوں میں جیت کی خماری لیے وہ خوبصورت قاتل دلہن بنی سامنے ضبط کی تصویر لیے سینے پر ہاتھ رکھے زارقم عباس سلطان کو فتح مسکراہٹ پاس کرتی دیکھتی ہوئی تیسری بار کہنے لگی۔۔
اور یہ لفظ سن کر جیسے زارقم سلطان آج سہی معنی میں خود کو ہار چکا تھا اور اُسے اپنے دشمن کے ہاتھوں اِسطرح شکست ملے گی یہ اُسے اندازہ نہیں تھا اور یہ مار دینے والے لفظوں کی تکلیف کی شدت سے بے بسی کی انتہا سے سنتا ہارے قدموں سے پیچھے مضبوط گیٹ سے جا کر ٹکرایا تھا۔۔
“مبارک نہیں کہوں گے مجھے آپ زارقم بھائی۔۔۔؟؟
اُس دشمنِ جاں کے آخری لفظوں کے کہنے کے بعد خاموش ماحول میں یکدم سے مبارک باد کے نعرے بلند ہوئے تو وہ ان آوازوں کو پھٹے سر کے ساتھ سنتا پیچھے گھر سے باہر نکل چکا تھا نمیر سلطان نے فتح مندانہ چال چلتے ہوئے اسکے مقابل آکر مکروہ مسکراہٹ سے کہا۔۔
“مبارک باد مائے فٹ۔۔۔!!
شدت سے غرا کر وہ سینے کی تکلیف کو بھلاتا اپنا ہاتھ ہٹا کر سخت غصے سے گھر سے باہر نکلا جبکہ وہ اُس کے جاتے ہی فاتح سے چور ہو کر اپنی دلہن کے پاس جانے لگا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
زارقم عباس سلطان وہاں سے سیدھا اپنے فارم ہاؤس میں ٹھہرنے کے لیے آیا تھا اور ابھی سوئمنگ پول ایریا میں غم وغصے کی سرخی آنکھوں میں لیے سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھا اپنے دونوں پیر پول کے اندر ڈالے اور ہاتھوں میں دبی سگریٹ کے دھوئیں میں اُس دشمنِ جاں کا سرخ جوڑے میں لپٹے حِسین سراپے کا خاکہ بنتے اور بگڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“سگریٹ سے غم کم نہیں ہوگا زارقم بھائی۔۔!!
نمیر کی جیت کے نشے سے چور آواز جب اُسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ سرخ انگارا بنی آنکھوں کو اُس خاکے سے ہٹا کر اس گھٹیا انسان کو نفرت سے دیکھنے لگا۔۔
“نمیر لاشاری۔۔!!
سرد و خشک لہجے میں اُسکا اصل نام جو صرف نمیر کو پتہ تھا لیتے ہوئے اسے نفرت سے دیکھنے لگا جو منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“تُمہیں کیسے۔۔؟؟
وہ اپنے حیرت پر قابو پاکر بامشکل بول سکا۔۔
“مجھے تُمہارے اصل باپ سے پتہ چلا ہے اور تمہاری ماں کے کرتوتوں کا بھی انہی کی زبانی پتہ لگایا ہے۔۔!!
وہ طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“اچھا کیا تُم نے زارقم عباس سلطان جو میری اصلیت کا پتہ چلا لیا لیکن اب کیا فائدہ ان سب کا کیونکہ رہوں گا تو میں اب بھی اِس گھر کا فرد ہی بلکہ اب ہمارا رشتہ بدلا ہے تو اسی خوشی میں تُم اِس ڈرنکس سے اپنا غم مناؤ اور میں اپنی خوشی کو سیلبریٹ کرتا ہوں۔۔!!
ایک بوتل زارقم کی طرف بڑھا کر وہ اُسے معنی خیزی سے بولا تو زارقم نے ہاتھ آگے بڑھا کر وہ بوتل تھاما اور منہ کی طرف لے جانے کے بجائے شدت سے اُس گھٹیا انسان کے سر پر مار دیا۔۔
“یہ کیا کیا تُم نے میں نے تُمہیں غم کم کرنے کے لیے یہ دیا اور تُم نے میرا سر اسی سے پھاڑ دیا۔۔!!
خون آبشار کی طرح نیچے فرش پر گرنے لگا جبکہ زارقم غصے سے سرخ آنکھیں اُس گدھ پر گاڑھے کھڑا تھا۔۔
“شراب سلطان خاندان کے مردوں نے صرف نام سنا ہے اور آج تُمہاری صرف تُمہاری وجہ سے نمیر لاشاری یہ حرام شے سلطان ولا میں آیا ہے۔۔۔!!
غصیلی آواز میں کہتا وہ بوتل کی جانب دیکھنے لگا جو نمیر کے سر پر مارنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا۔۔
“شراب میں اس لیے یہاں لے کر آیا تھا تاکہ مل بیٹھ کر دونوں بھائی اپنی اپنی خوشی اور غمی کو سیلبریٹ کرے گے لیکن زارقم عباس سلطان تُم نے مجھے مایوس کیا کیا کوئی اس طرح غم سیلبریٹ کرتا ہے بھلا بتاؤ مجھے۔۔!!
اپنے سر سے رستے خون کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ غصے سے بولا۔۔
“میرا غم منانے کا اسٹائل ہے یہ میں اِسی طرح غم اور خوشیاں سیلبریٹ کرتا ہوں۔۔!!
نمیر کے سر سے نکلتے خون کو دیکھتا وہ بھی اُسی کی معنی خیز لہجے سے بولا جو وہ پہلے بول رہا تھا پھر بوتل کا ٹکرا زور سے نیچے پھینکتا ہوا پول سے دور ہوا اور وہاں سے نکلنے ہی والا تھا کہ اسکی غصیلی آواز پر اسے ٹھہرنا پڑا۔۔
“آج رات تُمہاری محبوبہ کو استعمال کر کے سب کچھ اپنے نام کروں گا سب کچھ کا مطلب سب کچھ یہ پراپرٹی وہ خود آج رات سے نمیر لاشاری کی مکمل طور پر ہو جائے گی۔۔!!
وہ سخت نفرت انگیز لفظوں کے تیر برساتا وہاں سے نکلتا چلا گیا اُسے انگاروں پر لوٹنے کے لیے اور وہ اس آگ میں جل کر خود کو فنا ہوتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔