59.4K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“سلطان آپ نے وہاں ٹیبل سے ہلدی اٹھا لیا تھا ناں۔؟؟؟
ژالے اُس ہلدی کے بارے میں پوچھنے لگی جو اُسنے ضنافر حسن زیدی کے لیے بنائی تھی اور زہاک عباس سلطان نے روم سے باہر آ کر روم کے باہر ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
“زوجہ سلطان میں نے بہت ڈھونڈا وہ ہلدی کا باؤل لیکن مجھے وہ باؤل وہاں ٹیبل پر رکھا نہیں ملا جو میں نے روم سے نکل کر رکھا تھا اور پورے ولا میں سبھی نوکروں سے بھی پوچھا انہیں بھی پتہ نہیں ہے۔۔!!
زہاک عباس سلطان نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“تو سلطان وہاں پر نہیں ہے تو پھر کہاں ہے۔۔؟؟
ژالے پریشانی سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو زہاک عباس سلطان اسکی بیوقوفوں جیسی بات پر مسکرا کر رہ گیا۔۔
“زوجہ سلطان باؤل کے پیر تو میں نے نہیں لگائیں تھے جو وہ مٹر گشت کیلئے نکلے گا پورے ولا میں کبھی اِسکا بھی استعمال کر لیا کروں۔۔!!
شریر لہجے میں کہتا وہ اُسکے سر پر دو انگلیوں سے دستک دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“سلطان۔۔؟؟
ژالے نے سرمئی آنکھوں کو غصے سے پھیلاتے ہوئے اُسکا نام لیتے ہوئے کہا۔۔
آپ میرا مزاق اڑا رہے ہیں ۔۔!!
منہ پھلائے وہ ایک چھوٹی بچی لگ رہی تھیں زہاک عباس سلطان کو وہ آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا کر گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“زوجہ سلطان ہماری اتنی مجال کہا جو ہم اپنی زندگی کے ساتھ مزاق کریں کبھی کسی نے کیا ہے کیا اپنی زندگی سے مزاق نہیں نہ تو میں بھلا کیوں کروں گا اپنی جان سے پیاری بیگم کے ساتھ مزاق۔!!
دونوں گالوں کو شہادت کی انگلی سے چھو کر وہ اُسے شرمانے پر مجبور کرنے لگا۔۔۔
“آپ آج کل کیوں ایک سال کے بچوں کی طرح حرکتیں کرتے ہیں سلطان.؟؟
وہ دونوں ہاتھوں کو اُسکے سینے پر رکھتی ہوئی بولی تو زہاک عباس سلطان نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے گالوں پر آئے لٹوں کو کان کے پیچھے کھسکا کر اُسے دیکھنے لگا جو شرم کے باعث سرخ ہوتی اُسے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
“زوجہ سلطان وہ اِس لیے کیونکہ جب تک ہمارے ثمر کے لیے ایک پاٹنر نہیں آجاتا میں اُسکا پاٹنر شپ کو اچھے سے نبھاؤ گا۔۔!!
وہ زومعنی لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو اِس بات پر شرم سے نظریں چرانے لگی تھی جبکہ اسکی نظروں کو چرانے پر وہ نیچے جھکا اور شریر لہجے میں بولنے لگا۔۔
“پھر کیا خیال ہے زوجہ سلطان ثمر کے پاٹنر کو لانے کے پلان بنائے۔۔۔؟؟
وہ معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا جبکہ اب وہ بے باک نظروں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی۔۔
“سلطان چھوڑے مجھے آپ نا ایک بڈھے انسان ہو کر ایسی باتیں سوچ رہے ہیں شرم کرے۔۔!!
وہ نروٹھے پن سے بولی تو زہاک عباس سلطان اسکی بات پر مسکرایا اور اُسکی نازک کمر پر گرفت سخت کرنے لگا تو وہ اب روہانسی ہو گئی۔۔
“زوجہ سلطان یہ بڈھا بہت ہمت والا ہے ثبوت تو دے چکا ہے اگر پھر چاہتی ہو تو ریڈی ہے یہ تمہارا بڈھا ثبوت دینے کے لیے۔۔!!
شریر لہجے میں کہتا اسے کب سے گھبرائے جا رہا تھا اور وہ اُس ہلدی کے باؤل کو بھول کر اب خود کو اس بے باک انسان سے بچانے لگی لیکن لگتا تھا وہ آج بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“دا جی صالحہ اور ضنافر حسن زیدی کے نکاح سے پہلے سارب اور سیرت کا نکاح ہونا چاہیے کیونکہ اُنکی اٹلی کی فلائٹ ایک ہفتے بعد کی میں کوشش کر رہا ہوں کہ ہو جائے بس مجھے ان دونوں کے کاغذات کے لیے بس نکاح نامے کی ضرورت ہے تو انکا نکاح پہلے پڑھوانا چاہیے تاکہ ان دونوں کی پڑھائی پر اثر نا ہو وہاں کلاسز بس اسٹارٹ ہونے والے ہیں بس اسی لیے میں چاہتا ہوں نکاح نامے کے کاغذات میں جلد ہی بھیج دو۔۔!!
زارقم نے سنجیدگی سے کہا تو اسکی بات پر سیرت شاکڈ رہ گئی ابھی تو ایک دن بچا تھا اسکی آزادی سے زندگی جینے کا لیکن وہ حق بھی اس ضنافر حسن زیدی کے ساتھ جنگلی جن نے چھین لیا۔۔
“ٹھیک ہے ویسے بھی سارب میرا جگری دوست ہے تو اُسکے نکاح میں میں ایک دوست کی حیثیت سے اُسکے شانے سے لگ کر کھڑا رہوں گا۔۔!!
ضنافر حسن زیدی نے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے سارب کو دیکھا جو سرخ چہرے کے ساتھ اسے گھور رہا تھا۔۔
“شٹ اپ۔۔۔!!
سارب نے تیکھے نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔
“تُم میرے دوست نہیں دشمن ہو تُمہارے ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات کھڑا ہونا بھی مجھے سخت زہر لگنے لگا ہے کجا کہ شانے سے شانے لگا کر بیٹھنا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں بولا تو ضنافر حسن زیدی نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر سب کو دیکھا پھر اُسے جو سرخ نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
“سالے صاحب اب زیادہ ڈراما کری ایٹ مت کروں اور جلدی سے نکاح پڑھوا لوں کیونکہ میں اتنا رحم دلی افورڈ نہیں کر سکتا۔۔!!
یکدم سے اُسکا لہجہ سپاٹ ہوا اور آنکھیں غصے سے بھر گئی جسے دیکھ دا جی اور زہاک عباس سلطان نے مولوی کو اشارہ کیا اور زہاک پیچھے مڑا اور ژالے ، مرجان سے سیرت کو وہاں لانے کا کہتا خود ان دونوں کو دیکھنے لگا جو ایک دوسرے کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سیرت دونوں کے ساتھ آہستہ سے قدم سامنے چھوٹے سے بنے اسٹیج کی جانب بڑھتی ہوئی وہاں نظر آئیں تو سارب عرفان سلطان نے نظریں سامنے کریم کلر کے کپڑوں پر سرخ چنی اوڑھے دیکھ مبہوت ہو گیا اور اپنا سارا غصہ بھول کر وہ وہی کھڑا اُسے دیکھنے لگا جو آج اُسکی ملکیت سب کچھ بننے جا رہی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سیرت عباس سلطان ولد عباس سلطان حق مہر تیس لاکھ
سکہ رائج الحق کیا آپ کو سارب عرفان سلطان سے یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟
سرخ چُنی کو گھونگھٹ کی شکل میں اُسے اوڑھا کر سارب عرفان سلطان کے بلکل سامنے بیٹھایا گیا تھا وہ نکاح خواں کی آواز پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر نمی شدت سے محسوس کرتی نم آنکھوں سے اپنی ماں اور بابا کو دیکھنے لگی۔۔
یہ وقت ہی ایسا تھا کہ ہر لڑکی کو اپنے ماں باپ کو چھوڑنے کا سوچ کر دل میں درد اٹھتا ہے چاہے پھر وہ کیوں نہ اُنکی نظروں کے سامنے ہی نہ رہے لیکن یہ لمحہ ہی ایسا تھا کہ آنسوؤں خودبخود آنکھوں کے گوشے کو بھگو کر نیچے بہہ جاتے اور اس وقت سیرت کی آنکھیں بھی بھیگ رہی تھی
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
نکاح خواں کے دوسری مرتبہ پوچھنے پر وہ اپنا سر ہلکا سا ہلاتی یکدم سے نظریں نیچے جھکا کر آنسوؤں کو بہنے سے روکنے کی کوشش میں مزید بے آواز رونے لگی۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
نکاح خواں کے اب تیسری مرتبہ پوچھنے پر وہ اُسی طرح سر ہلاتی ہوئی نظریں اپنے ہاتھوں میں لگی سرخ مہندی پر مرکوز کرتی گھورنے لگی۔۔
اُسکے قبول ہے کہتے ہی سب گرم جوشی سے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔۔پھر نکاح خواں سیرت سے نکاح نامے پر دستخط لینے کے بعد وہاں سے رخ بدل کر سارب کی جانب متوجہ ہوا جو سامنے بیٹھا سب کاروائی دیکھ رہا تھا ۔
“سارب عرفان سلطان آپ کا نکاح سیرت عباس سلطان کے ساتھ حق مہر تیس لاکھ روپے سکہ رائج الحق ہونا طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟
نکاح خواں کے سوال پوچھنے پر سارب عرفان سلطان نے سنجیدگی سے سیرت عباس سلطان کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔
“قبول ہے۔۔!!
نظریں ہنوز سیرت پر مرکوز تھی اور سیرت اِن نظروں سے سخت نروس ہو کر اپنی ہاتھوں کی انگلیوں کو بے چینی سے مڑورنے لگی تھی۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟
دوسری مرتبہ پوچھنے پر سارب نے نظریں میں نرمی سمو کر جواب دیا۔۔
“قبول ہے۔۔!!
وہ اُسکے ہلتے وجود کو دیکھ چہرے پر مسکان سجا کر جواب دینے لگا۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟
نکاح خواں کے آخری مرتبہ پوچھنے پر وہ دل میں ٹھنڈک محسوس کرتا مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“قبول ہے۔۔!!
نکاح خواں کو جواب دیتا وہ اچانک سے اٹھا اور سیرت کی جانب بڑھ کر اسکی چّنی کو ہاتھ بڑھا کر پیشانی کو چھو کر گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو میری سفید چڑیل بیوی یہ نکاح اور مجھے اپنے شوہر کے روپ میں دیکھنے کے لیے بہت منتیں مانگی تھی ناں تُم نے تو دیکھو آج یہ خوبصورت گھڑی بھی آگیا میں تُمہارا شوہر بن گیا ہوں اب جنگ لڑنے میں اور مزا آئے گا۔۔!!
پیچھے ہٹنے سے پہلے وہ اُسکے کانوں کے بے حد قریب اپنے ہونٹ لیں جاکر شریر لہجے میں کہتا ہوا جلدی سے پیچھے ہٹا جبکہ وہ ضبط سے سرخ ہوتی اپنی مٹھیوں کو کھستی غصہ نہ کرنے پر کنٹرول کرنے لگی۔۔
“سوری سیرت میری بہن اور سارب میرے بھائی میں آج تم دونوں کے اِس اہم دن پہ نا آ سکی بٹ مجھے اُس گھمنڈی انسان کو بھی تو منہ کے بل گرانا ہے جس نے لڑکی کو کھلونا سمجھا اب اسے بتانا بھی تو ضروری ہے کہ لڑکیاں کھلونا نہیں ہوتی مرد کو کھیلنے کے لیے۔۔!!
صالحہ عرفان سلطان جو ایک سیاہ چادر میں خود کو چھپائے کھڑی اُن دونوں کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی خود سے بولی۔۔
چہرے کو اچھے سے کور کرتی وہ سب پر ایک آخری نظر ڈال کر وہاں سے تیزی سے نکلی اور زارقم بھیو کو میسج کر کے باہر بلانے لگی اسنے یہ پلان زہاک عباس سلطان اور ژالے ،زارقم عباس سلطان اور مرجان کے ساتھ مل کر بنایا تاکہ وہ اس شخص کو اچھے سے سمجھا سکے جو لڑکی کو کمزور سمجھ رہا ہے اور صالحہ کو غصہ اس بات پر تھا کہ اسکی دادی اور اسنے مل کر اسکی عزت نفس کی توہین کی اسے ایک ونی کہہ کر اُسے ایک کمزور لڑکی سمجھ کر اور کسی اور کی سزا کسی معصوم سی لڑکی کو دینے کا سوچ کر اُسے ضنافر حسن زیدی سے اب بہت زیادہ نفرت ہونے لگی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“لڑکی بھاگ گئی وہ بھی نکاح والے دن۔۔”
سلطان ولا کے بڑے سے ہال میں ان سرگوشیوں کو سن وہ سخت غصے سے مٹھیاں کھسنے لگا سرخ آنکھیں پورے ہال میں گھوم کر سامنے کھڑے صالحہ کے باپ عرفان اعظم سلطان اور دادا اعظم سلطان کی جانب غصے سے بڑھا کر اُنہیں دیکھنے لگا جو پریشان کھڑے تھے۔۔
“یہ سب کیا ہے ہاں اگر تماشا بنانا چاہتے ہو یا کوئی ڈراما تو یاد رکھنا زندہ نہیں بچوں گے تُم سب ابھی جانتے نہیں ہو مجھے کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔۔!!
وہ سب کو غصے سے گھورتا دھارا تو زارقم عباس سلطان طنزیہ انداز میں مسکرا کر آگے بڑھا اور مقابل کھڑا ہوا اور ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا جو دلہا بنا سخت غصے سے پاگل کھڑا سب کو گھور رہا تھا۔۔
“یہ ڈراما نہیں ہے اور صالحہ عرفان سلطان کہاں ہے اُسے تُم ہم کب سے ڈھونڈو رہے ہیں اور تُم بھی اُسے ڈھونڈو آخر کو ہونے والے شوہر جو ہوں اور تمہارا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے تو ہماری مدد کرو اسے ڈھونڈنے میں اور یہ غلطی سے بھی مت سوچنا کہ ہم نے اسے کہے چھپایا ہے کیونکہ ہمیں تُم سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہے ضنافر حسن زیدی اور ابھی تک ہمیں کڈنیپر کی کال موصول نہیں ہوئی اور زہاک بھیو گئے ہیں اور اب میں بھی نکلنے ہی والا تھا لیکن تُمہارا اس طرح تماشا کرنا مجھے ٹھیک نہیں لگا تو تُمہیں روکنا مجھے ضروری لگا کیونکہ اب صالحہ سلطان خاندان کی بیٹی کے ساتھ تُمہاری بھی عزت ہے اینڈ آئی ہوپ تُم ایک اپنے عزت کو اس طرح نہیں اچھالو گے۔۔!!
سخت گیر لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا تو ضنافر حسن زیدی صالحہ کے کڈنیپگ کا سن کر پریشانی سے سر سے کلا نکالتے ہوئے پیچھے کھڑے اپنے سبھی گارڈز کو پیچھے آنا کا اشارہ کرتا خود قدم تیزی سے ہال سے باہر نکالنے لگا۔۔
“پتہ کرو مجھے وہ کڈنیپر زندہ چاہیے۔۔!!
وہ فون پر کسی سے غصے سے بولا تو دوسری طرف کی بات پر وہ سخت مشتعل ہوتا ہوا تیز لہجے میں کہنے لگا۔۔
“واٹ ربش لڑکی کا سوراخ نہیں مل رہا کیسے کیسے آفیسر ہو تُم ہاں ایک لڑکی کو نہیں ڈھونڈ سکتے مجھے وہ لڑکی ہر حال میں میرج ہال میں چاہیے ورنہ ٹرانسفر کے لیے تیار رہنا ایسی جگہ بھیجوں گا جہاں تُم گھٹ گھٹ کر مر جاؤ گے۔۔!!
وہ اس وقت سخت شعلے میں خود کو گرا ہوا ختم ہوتا ہوا جیسے محسوس کر رہا تھا اور اُسکے پیچھے دو گارڈز کھڑے نظریں ہال کے چاروں اطراف میں ڈورہا رہے تھے تاکہ صالحہ عرفان سلطان نظر آئے تو اپنے باس کو بتا دیں۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“زارقم بھیو نہیں ابھی میں نہیں جا سکتی سارب اور سیرت کے ساتھ اٹلی ورنہ اُس شخص کو شک ہو جائے گا اور وہ وہاں بھی پہنچ جائے گا ہنگامہ کھڑا کرنے اور ویسے بھی ابھی میں اُس سے بدلا لینا چاہتی ہوں جو اُسنے محبت جیسے پاکیزہ جذبے کا نام لے کر میرے ساتھ کھیل کھیلنا چاہا تھا نا اب اسے میں نہیں چھوڑو گی۔۔۔!!
صالحہ اُس وقت اسلام آباد میں زارقم کے فلیٹ میں تھی اور یہ پلان صالحہ کا خود کا تھا جو نکاح کے عین ٹائم میں اسنے ضنافر حسن زیدی کو تنگ کرنے کے لیے کیا تھا۔۔
“وہ پاگلوں کی طرح آپکو پورے شہر میں ڈھونڈ رہا ہے صالحہ آپی۔۔!!
سارب نے ضنافر حسن زیدی کی بری حالت کو سوچتے ہوئے ہنس کر کہا وہ سیرت کے ساتھ کل کی فلائٹ سے اٹلی جا رہا تھا وہ بھی تین سال کے لیے اور سیرت بھی اُسکے ساتھ اس وقت صالحہ سے ملنے آئی تھی۔
“ڈھونڈنے دو بلکہ میں تو چاہتی ہوں وہ پاگل ہو کر مینٹل ہاسپٹل میں چلا جائے بہت احمق انسان ہے جب ہمیں پتہ نہیں ہے قاتل کے بارے میں تو ضد لگائے بیٹھا ہے کہ قاتل عباس چاچو ہے حد ہے کم عقلی کی ہونہہہ۔۔!!
وہ سخت چڑ کر غصے سے بولی وہ ضنافر حسن زیدی کی اس بے وقوفی پر سخت کڑتی تھی۔۔
“صالحہ بہت جلد میں پتہ لگاؤں گا اس قاتل کے بارے میں تُم ٹینشن مت لوں بس ایک ہفتے بعد تُم اٹلی سارب اور سیرت کے پاس جاؤ گی۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔
“نہیں بلکل بھی نہیں زارقم بھیو سارب اور سیرت کے ساتھ میں بلکل بھی نہیں رہ سکتی اگر میں اُنکے پاس رہنے لگیں ناں تو وہ شخص وہاں ضرور اپنے جاسوس چھوڑ دے گا اور میرے اکاؤنٹ میں تو غلطی سے بھی پیسہ ٹرانسفر مت کریئے گا ورنہ اس طرح بھی اسے پتہ چل جائے گا اور میں وہاں جا کر کوئی چھوٹی موٹی جاب کر لوں گی آپ ٹینشن نا لیں۔۔!!
صالحہ نے تیزی سے کہا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس شخص کو معلوم ہو کہ وہ کہا ہے اور کیا کر رہی ہے وہ اس شخص کا اب چہرہ بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ اس پاک ذات کے کھیل سے انجان اپنے ہی پلاننگ بنا رہی تھیں یہ جانے کہ بہترین پلانر تو وہ پاک ذات ہے۔۔
“بہت ہوشیار ہوگئی ہے میری چھوٹی بہن جہاں میری سوچ نہیں جاتی وہی پر تمہاری سوچ شروع ہو جاتی ہے صالحہ۔۔!!
وہ اُسکے سر پر ہاتھ رکھ مسکرا کر کہنے لگا تو صالحہ عرفان سلطان بھی مسکرانے لگی اور اُسکے ساتھ مرجان اور سارب سیرت بھی مسکرانے لگے تھے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“بابا مجھے چھوڑ کر مت جائے میں بے گناہ ہو پلیز بابا لوٹ آئے میں مر جاؤ گا یہ سزا کاٹ کاٹ کر پلیز۔۔۔!!
وہ آنکھیں موندے فرش پر لیٹا ہوا تھا کہ چیخ کی آواز سن اچانک سے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے لگا جہاں ایک بیس سالہ نوجوان روتے ہوئے سلاخوں کو سختی سے تھامے سامنے کھڑے شخص سے رو رو کر کہہ رہا تھا جو شاید اس نوجوان کا باپ تھا۔
اُن دونوں کو دیکھ نمیر لاشاری کو اپنی ماضی ایک بات شدت سے یاد آئیں سین بھی بلکل ویسا ہی تھا بس فرق اتنا تھا کہ وہ اپنی ماں سے کہہ رہا تھا انہیں روتے ہوئے روک رہا تھا لیکن وہ اُسکی سنے بغیر وہاں اُسے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی ہمشیہ ہمشیہ کے لیے وہ ماضی کی یادوں میں کھو کر اپنے آس پاس کیا ہو رہا تھا بھولنے لگا۔۔
“ماما پلیز مجھے چھوڑ کے مت جائے پلیز یہ لوگ میرے اپنے نہیں ہے یہ عورت ماں نہیں ہے میری آپ ہے صرف میری ماں پلیز رک جائے۔۔!!
سترہ سالہ لڑکا بری طرح سے روتے ہوئے سامنے کھڑی عورت سے کہہ رہا تھا جبکہ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
“نہیں ہو میں تّمہاری ماں یہ ہے تمہاری ماں سمجھے۔۔!!
سامنے کھڑی عورت کے منہ سے اتنے سخت الفاظ سن کر وہ لڑکا نیلی آنکھوں میں نمی لیے آگے بڑھا اور اسکے عورت کے ساتھ لگ کر روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
“نہیں ہے یہ میری ماں اور کیا ایسی ہوتی ہیں ماں ہاں اس عورت نے کبھی پوچھا ہے کہ بیٹا تُمہیں کیا پسند ہے نہیں پوچھا پوچھنا تو دور اس نے مجھ سے کبھی پیار سے بات تک نہیں کی اور آپ کہتی ہے کہ میں اِس عورت کو اپنی ماں سمجھوں نہیں ہوتا مجھ سے ماما۔۔”اور آپ عیش و عشرت والی زندگی گزارنے کے لیے ہی یہ سب کر رہی ہے ناں کہ میں ایک امیروں کی طرح زندگی گزاروں تو مجھ سے یہ نہیں ہوتا نہیں چاہیے مجھے دولت روپے مجھے بس آپکا پیار چاہیے آپ چاہیے۔۔!!
وہ اُس عورت کے ساتھ لگ کر روتے ہوئے کہہ رہا تھا اِس وقت وہ لوگ باہر کھڑے تھے جبکہ کوئی بھی اُنکے پیچھے نہیں آیا تھا کیسے آتے سب کو یقین تھا کہ یہ عباس اعظم سلطان کا بیٹا نہیں ہے لیکن سامنے جو عورت کھڑی تھیں وہ پورے ثبوت کے ساتھ آئی تھیں اور یہ ثبوت کس نے دئیے تھے عباس سلطان خود شاکڈ میں تھا وہ اس عورت کو جانتے تک نہیں تھے بھلا کیسے وہ اُسکے بیٹے کی ماں ہو سکتی ہے یہ سوچ سوچ کر وہ خود کو اب پاگل سمجھنے لگے تھے۔
“نمیر میرے بچے تُم سمجھ کیوں نہیں رہے میں وہ نہیں دے سکتی جو تُمہیں یہاں سے حاصل ہو سکتا ہے جائیداد ایک شاندار لائف سٹائل اور کیا چاہیے میرے بچے تُمہیں۔۔!!
وہ عورت اُسے دونوں شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولیں تو نمیر لاشاری سخت غصے سے ان سے الگ ہوا۔۔
“نہیں چاہیے مجھے جائیداد نہیں چاہیے مجھے ایسی شاندار لائف سٹائل جس میں آپ نا ہو بابا نا ہو دیدی نا ہو میں اس لائف کا کیا کروں ہاں بولیں۔۔!!
وہ سخت غصے میں ان سے کہتا انہیں دیکھنے لگا۔۔
“بیٹا تُمہارے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے اور بہن کو بھی میں نے کسی اچھی فیملی کے پاس چھوڑ دیا ہے میں چاہتی ہوں کہ میرے دونوں بچے ایک شاندار زندگی گزاریں جیسے یہ بڑے گھر کے بچے گزارتے ہیں اسی طرح کی زندگی میں بھی شاید اب میں بھی زندہ نا رہوں میرے بچے تم اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور اپنی بہن کا بھی کسی اچھے گھرانے میں شادی کرنا بہت ارمان تھا مجھے اپنے دونوں بچوں کی شادیاں دیکھنے کا پر کیا کر سکتے ہیں ہم اتنی ہی زندگی لکھ کر آئے تھے شاید۔۔!!
وہ نم آنکھوں سے کہتی اسے دور کرتیں ہوئے وہاں سے نکلنے لگی جبکہ وہ رو کر انہیں روکنے لگا جو وہاں سے چلی گئی تھیں۔۔ اُسے اور اُسکی بہن کو اکیلا چھوڑ کر اور یہی سے شروع ہوئیں اُسکی نفرت سلطان ولا کے سبھی افراد سے وہ اسی دن سے نفرت کرنے لگا اور اسکا پہلا نشان عباس اعظم سلطان کا بڑا بیٹا بنا اسنے ژالے کو اپنی محبت کی جال میں پھنسا کر اسے زہاک عباس سلطان سے چھینا اور زہاک عباس سلطان کی شادی اسنے اپنی بہن جمامہ لاشاری سے کروائی جو اُسکے پلان کا ایک اہم حصہ بن گئی وہ بھی تو بدلا لینا چاہتی تھی لیکن بدلا لیتے لیتے وہ خود زہاک عباس سلطان کے عشق میں گرفتار ہوگئی اور یہ تب اسے پتہ چلا جب بہت دیر ہوگئی تھیں۔۔۔وہ انتقام میں سب کچھ بھول چکی تھی یاد تھا تو سلطان خاندان کو برباد کرنا اور وہ دونوں سلطان ولا والوں سے انتقام اس لیے لینا چاہتے تھے کیونکہ اُنکی وجہ سے اُنہوں نے اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°