No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
“سارب۔۔سارب۔۔؟؟
نظریں خوف سے اِدھر اُدھر ڈورہا کر وہ زور سے سارب کو آوازیں دے رہی تھی جب وہ غار سے اسے چھوڑ کر نکلا تھا تب سے وہ ڈر کر وہی اسکا انتظار کر رہی تھی لیکن اسکے اتنا دیر کرنے پر وہ ہمت مجتمع کرتیں باہر نکلی اسے ڈھونڈنے کیلئے اب وہ پورے جنگل میں اُسے ڈھونڈ رہی تھی۔۔
“کک۔۔کون سارب کیا وہاں تُم ہو۔۔؟؟
سامنے جھاڑیوں میں ہل چل محسوس کرتی وہ ڈرتی ہوئی قدم پیچھے لیتی ہوئی لرزتی آواز میں پوچھنے لگی لیکن سارب کے بجائے ان جھاڑیوں کے پیچھے سے بہت سارے لوگ باہر نکلے جو پولیس یونیفارم میں ملبوس تھے۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہی ہے۔۔؟؟
ایک آفیسر نے اُسے تعاجب سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اسے اپنی اور اپنے سارب کے بارے میں بتانے لگی۔۔
“وہ آپکا کیا لگتا ہے۔۔؟؟
آفیسر اسکی ساری باتوں کو تعمل سے سننے کے بعد اس سے پوچھنے لگا۔تو وہ اس آفیسر کی بات پر اپنے لبوں پر زبان پھیرتی ہوئی پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
“آفیسر وہ میرا شوہر ہے پلیز اسے ڈھونڈے اور میرے دوستوں کو بھی وہ اس طرف ان کے قید میں ہے وہ گروہ اس طرف چھپے ہوئے ہیں۔۔!!
وہ پریشانی سے سارب اور اپنے دوستوں کو سوچتی ہوئی پیچھے پلٹ کر سب کو اس طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔جہاں اس گروہ نے انکے یونی کے سبھی اسٹوڈنٹ کو قیدی بنا کر رکھا ہے۔۔
“آپ فکر مت کرے میم ہم آپکے شوہر کے ساتھ آپ کے دوستوں کو بھی ڈھونڈتے ہیں۔۔!!
اسی آفیسر نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ سر ہاں میں ہلانے لگی تبھی تیزی سے ایک آفیسر وہاں آکر سب سے اپنی زبان میں کچھ کہنے لگے پھر سب اس آفیسر کے پیچھے بھاگے تو وہ بھی ان سب کے پیچھے بھاگی۔۔
“سارب۔۔!!
جب وہ ان سب کے پیچھے اس چشمے کے پاس پہنچی تو جہاں وہ آفیسر بھاگا تھا جس نے آکر سب سے اپنی زبان میں کچھ کہا تھا۔سامنے سارب کو اپنا سر پکڑے چہرہ مکمل نیچے جھکا کر بیٹھے دیکھ کر وہ زور سے چیختی ہوئی اسکی جانب بھاگی تھی۔۔
“سارب..سارب۔۔؟؟
وہ اُسے اتنی آواز دے رہی تھی لیکن وہ سر کو سختی سے پکڑے نیچے بیٹھا جیسے بہرا بن گیا تھا جبکہ وہ غصے سے آگے بڑھی اور ابھی اُسے کندھوں سے چھونے ہی والی تھی کہ اسنے اپنی نظریں اوپر اٹھا کر اُسے مسکراتے ہوئے دیکھا عیجب طرح سے مسکراتے ہوئے۔جبکہ سیرت اسکی آنکھوں کو سُرخ دیکھتی پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“یہ کونسی جگہ ہے آفیسر۔۔؟؟
نظریں پیچھے کھڑے آفیسر سے چہرے پر تبسم بکھیر کر پوچھنے لگا۔۔سیرت اب ساکت کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جو بلکل الگ لگ رہا تھا۔۔
“مسٹر تُم نے اس وقت ڈرگز لیا ہے کیا ہاں پتہ نہیں ہے کہ یہ اٹلی کا گھنا جنگل ہے۔۔!!
آفیسر کو اسکی سرخ آنکھوں اور لبوں پر عیجب سے مسکراہٹ سے لگا جیسے اسنے ڈرگز لیا ہے جبکہ سیرت کو بھی اس وقت ایسا ہی لگ رہا تھا کیونکہ سامنے بیٹھا شخص سارب عرفان سلطان سے بہت ہی مختلف لگ رہا تھا کیونکہ سارب کی آنکھیں کبھی اتنی سرخ غصے میں بھی نہیں ہوئی تھی۔
“آفیسر طلب تو ہو رہی ہے بہت یہاں لیکن بہت مشکل ہے کیونکہ سامنے اپنی بندی کھڑی ہے۔۔!!
وہ آفیسر کو دیکھتے ہوئے آخر میں سیرت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بے چارگی سے کہنے لگا۔سیرت اسکی بات پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی مطلب وہ ڈرگز بھی لیتا ہے اور وہ انجان تھی۔۔
“میم لگتا ہے آپکے شوہر ڈرگز ایڈکٹ ہے۔۔!!
آفیسر نے سارب کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے سیرت سے کہا۔سارب اٹھا تو سیرت کو بھی اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ دیکھ کر ایسا لگا کہ وہ ڈرگز ایڈکٹ ہے۔۔
“آفیسر ناٹ فئیر تُم میری بندی کو بھڑکا رہے ہو ہمممم ناٹ فئیر۔۔!!
سارب لڑکھڑاتے ہوئے سیرت کی جانب بڑھتے ہوئے کہنے لگا۔تو سیرت اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی ڈر کر پیچھے ہٹی۔
“جسٹ چل مائے ڈول میں ٹھیک ہوں چلوں یہاں سے بہت دور چلتے ہیں وہاں جہاں ہمارے علاؤہ کوئی نہ ہو ۔!!
سارب نے لرزتے ہاتھوں کو سیرت کی جانب بڑھا کر کہا۔تو سیرت چیختی ہوئی پیچھے بڑھی۔
“آفیسر پکڑوں اسے۔۔!!
اس آفیسر نے اپنے پیچھے دو آفیسرز سے کہا۔جو شاید انکا لیڈر تھا۔تو اسکے حکم پر دو آفیسرز سارب عرفان سلطان کی جانب بڑھے۔اور سیرت خوف سے کانپتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو اب دو آفیسرز کی گرفت میں غصے سے خود کو چھڑا رہا تھا تبھی ایک آفیسر نے آگے بڑھ کر اسکی گردن کی مخصوص رگ کو دبایا تو وہ بے ہوش ہو کر نیچے گرا۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“خان تیسری قربانی تُم یہ ماڑا کی دو گے۔۔!!
وفا زیدی گھونگھٹ سے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی۔تو دبیر خان نے اسے بے بسی سے دیکھا مطلب تیسری اب اسے اپنے اس پسندیدہ لفظ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔
“مینہ گل واللہ ہم کو منظور ہے سب شرط اب تو خدا کے لیے اپنے خوبصورت چہرے کا دیدار تو کرا دو ہمیں کتنا بے چین ہے تمہیں اس روپ میں دیکھنے کیلئے۔۔!!
دبیر خان نے آگے بڑھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی گھونگھٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو وفا زیدی نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اپنا گھونگھٹ ہٹایا تو دبیر خان کی نظریں خوبصورت چہرے پر پڑی تو وہ جیسے سانس لینا بھول گیا۔کیونکہ وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی اس وقت وہ ٹرانس کی کیفیت میں آگے بڑھا۔۔
“ښکلی۔!!
(خوبصورت).!!
اسکے چہرے کو تھامتے ہوئے پشتو میں بولا۔تو وفا زیدی نے اسے حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھا۔۔
“زما پری..!!
(میری پری).
گھمبیر آواز میں کہتا وہ باری باری اُسکے آنکھوں کو پیار سے چھونے لگا۔۔وفا اس لمس پر اپنی آنکھوں کو زور سے میچتی شدت سے کانپنے لگی۔۔
“زما مینه..!!
(میری عاشقی).
بوجھل لہجے میں کہتا وہ اُسکے شرم سے اناری بنے رخساروں کو باری باری چھونے لگا۔اُسکے لمس پر وفا کو اپنی پیشانی نم ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔
“زما جنون۔۔!!
دبیر خان سب قربانی کو بھول کر اُسکی ٹھوڈی کو پکڑے اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہتا نیچے جھکا اور اُسکی بری طرح سے لرزتے نرم لبوں کو چھونے لگا۔۔
“او زما مینه..!!
وہ پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی خماری لیے آنکھوں سے اُسے چاہت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔وفا زیدی کی دھڑکنیں اسکی گستاخیوں پر معلوم سے زیادہ چلنے لگی۔۔
“دبیر خان۔۔۔؟؟
وفا خود کو اسکی باہوں میں محسوس کرتی آنکھیں جھٹکے سے کھول کر اسے ساکت نظروں سے دیکھنے لگی جو اُسے باہوں میں بھر کر بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
“ہاں میری جان میری مینہ۔۔!!
دبیر خان اُسے بیڈ پر لیٹا کر اُسکی پیشانی سے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اسکے اوپر جھکا اور بغور اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
“پلیز ابھی مجھے تھوڑا سا وقت چاہیے تُم میری بات سمجھ رہے ہوں ناں۔۔!!
وفا نے ڈھرکتے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
“ہمممم سہی ہے مینہ میری جان کی بات سر آنکھوں پر۔۔!!
اُسکی پیشانی کو چھو کر اسکے رخساروں کو ہاتھوں کی پشت سے سہلا کر پیچھے ہٹا نظریں ہنوز اسکے سرخ چہرے پر تھکی ہوئی تھی۔۔
” خان ایک بات بتاؤ یہ تُم کیا کہہ رہے تھے پشتو میں مجھے۔۔؟؟
وفا بیڈ پر لیٹی اسکی جانب دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔دبیر خان اسکی بات پر مسکرایا۔
“مینہ میں نے تمہیں جو کہا ہے اسکا مطلب تم کو خود ڈھونڈنا ہوگا میں نہیں بتاؤں گا کیونکہ تمہیں میری زبان کو سمجھنا ہوگا۔۔!!
دبیر خان نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔تو وفا بھی اسے دیکھتی ہوئی مسکرانے لگی پھر اسکے دور ہٹتے ہی وہ آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ارقم۔۔؟؟
مرجان کی آنکھیں کھولیں تو وہ کھسکتی ہوئی آگے بڑھی اور بیڈ سے نیچے جب اسنے اپنے پیر رکھے تو اپنے نرم و ملائم پیروں کو کسی نرم سے پر پڑتے ہوئے محسوس کرتی نیچے دیکھنے لگی۔۔
بیڈ کے چاروں اطراف میں بہت سارے گلاب کے پھولوں کی چادر دیکھتی اپنے ہاتھ منہ پر رکھتی نم آنکھوں سے سامنے کھڑے زارقم کی جانب دیکھنے لگی جو ایک خوبصورت سا بُھکے پکڑے اُسے پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔
“مرجان پتہ ہے یہ زندگی مجھے کب خوبصورت لگی۔۔؟؟
وہ آگے بڑھا اور اسکے قریب آ کر اُسے بُھکے تھماتے ہوئے پوچھنے لگا۔تو مرجان نے بھکے ناک کے پاس لے جاکر سونگھا۔
“کب ارقم۔۔؟؟
مرجان نے اپنی چمکتی سرمئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو زارقم عباس سلطان نے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ سجا کر اپنے عشق کی عاشقی کو بغور دیکھا۔
“تب جب میں مکمل ہوگیا تھا تُمہارے ملنے کے بعد جب تُم میری زندگی میں آئی تھی تب جب ہمارے بیٹے نے اس دنیا میں آکر ہمیں مکمل کر دیا تھا۔۔!!
وہ اُسے اپنے ساتھ لگا کر اُسکی پیشانی کو چھوم کر گھمبیر آواز میں بولتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو اسکے چوڑے سینے سے لگ کر کھڑی آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔
“ارقم آپ نے مجھ جیسی لڑکی سے محبت کیوں کیا میں تو اتنی زیادہ بری ہو کہ مجھے کوئی تھوکنا بھی پسند نہ کرے شادی تو دور کی بات پھر آپ نے کیسے مجھے اپنا لیا۔۔؟؟
وہ اُسکے سینے پر تھیڑی لکیریں کھینچتی ہوئی چہرہ اوپر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو اسی وقت زارقم عباس سلطان نے بھی اسے دیکھا تو دونوں کی نظریں ایک دوسرے کی نظروں سے ٹکرائی تو رخ بدلنا بھول گئی۔۔
“جان ہمیشہ یاد رکھنا کہ تُم زراقم عباس سلطان کی محبت ہو اور تُمہاری محبت اُسکے لیے اس دنیا کا سب سے حسین ترین تحفہ ہے تُم سکون کا وہ لمحہ ہو جو اُسے دن رات اور سالوں مہینوں چاہیے ہوتا ہے تو پھر کیسے میری جان یہ نا چیز تمہیں نہ اپناتا ہاں۔۔!!
ٹھوڈی کو نرمی سے چھو کر اوپر اٹھاتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہتا نیچے جھکا اور اُسکی سرخ لبوں کو چھونے لگا وہ مدہوشی سے مرجان کے چہرے کے اوپر جھکا ہوا تھا کہ زور سے اپنے بیٹے کے رونے کی آواز پر وہ مرجان سے دور ہوا اور پیچھے پلٹا اور کاٹ کی جانب بڑھ کر نیچے جھک کر اپنے بیٹے کو محبت سے دیکھنے لگا ۔۔
“مائے لٹل بوائے پاپا تُمہیں کیسے بھول سکتے ہیں پیار کرنے سے ماما سے جلنا مت کیونکہ ماما تو پاپا کی ڈول ہے جیسے آپ پاپا کے لیے ضروری ہے ماما بھی ضروری ہے۔۔!!
اُسے کاٹ سے اٹھاتے ہوئے وہ مرجان کی جانب دیکھتا ایک آنکھ دباتے ہوئے شریر لہجے میں کہنے لگا تو مرجان اسکی بات پر اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔
“ارقم یہ آپ کیسی باتیں سکھا رہے ہیں ہمارے بیٹے کو ہمارا بیٹا بہت پیارا ہے وہ بھلا ماما سے کیوں جلے گا وہ تو اپنی ماما سے بابا سے بھی زیادہ پیار کرے گا۔۔!!
اپنے بیٹے کی سرخ گالوں کو نرمی سے چھو کر وہ شریر نظروں سے زارقم عباس سلطان کو دیکھتی ہوئی بولی تو زراقم عباس سلطان نے اسے گھورا۔۔
“یہ کبھی نہیں ہوگا کیونکہ مرجان زراقم عباس سلطان کو صرف ایک شخص زیادہ چاہے گا اور وہ میں ہوں ہمارا بیٹا بھی نہیں۔۔!!
وہ جل بھن کر اُن دونوں کو گھورتے ہوئے بولا تو مرجان اسکی جیلسی پر زور سے ہنسی اور اسکے ہنسنے پر وہ سخت نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“ارقم اتنی جیلسی وہ بھی اپنے ہی بیٹے سے ہاہاہاہاہاہاہا کیا کوئی اپنے بیٹے سے بھی جل سکتا ہے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی بری طرح سے ہنستی ہوئی بولی تو زراقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے بیڈ پر عثمان اپنے بیٹے کو لیٹایا اور خود اسکی طرف مڑا اور اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا اسے ہنستے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“میں جیلس نہیں ہو رہا بس تُمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ میں آخری دم تک اپنی مرجان کو چاہوں گا کیونکہ وہ محبت بچے ہمیں نہیں دے سکے گے جو ہم ایک دوسرے سے کرتے ہیں وہ بڑے ہوکر اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جائے گے تو ہمارے لیے انکے پاس ٹائم نہیں ہوگا تو وہ کیسے ہم سے محبت کرے گے جو ہم کر رہے ہیں ایک دوسرے سے میری دعا ہے کہ میں بوڑھاپے میں بھی اپنی جان کے ساتھ اپنے آخری لمحے خوبصورتی سے گزاروں وہ لمحہ ایک ایک دن رات کو اسکے ساتھ سیلبریٹ کروں ایک ساتھ۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے گالوں کو چھو کر محبت سے کہنے لگا تو مرجان اسکی بات پر رونے لگی تو اسکے رونے پر اسنے اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکی پشت کو پیار سے سہلانے لگا۔۔
“ضرور ہم ایک ساتھ وہ وقت بھی گزارے گے ارقم اور ہم اس وقت خوبصورت یادوں سے بھر دے گے۔۔!!
وہ آنکھوں کو صاف کرتی ہوئی اس سے دور ہوئی اور مسکرا کر کہنے لگی تو زراقم عباس نے اسے بھی مسکرا کر دیکھا اور بیڈ کی جانب اشارہ کرنے لگا تو مرجان پیچھے مڑی اور عثمان کو سوتے ہوئے دیکھتی وہ مسکرانے لگی تو زارقم عباس سلطان نے اسکا رخ اپنی طرف کیا اور اسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر پیار سے سرخ گالوں کو چھونے لگا پھر ستواں ناک کو چھو کر نیچے کی جانب بڑھا اور انگلی سے اسکے لبوں کو چھونے لگا جبکہ مرجان اسکے لمس پر خود میں سمٹنے لگی تھی۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ہیلو اولڈ مین۔۔!!
وہ اُسکے بیڈ روم کے اندر داخل ہو کر اُسے شریر نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی تو نمیر جو جائے نماز طے کر رہا تھا اس آواز پر تیزی سے پلٹا اور اپنے سامنے اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اسکے لیے آجکل امتحان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
جب سے وہ ہاسپٹل سے زیدی ولا آیا تھا وہ ایک دن بھی مس نہیں کرتی تھی ولا میں آکر اسے تھنگ کرنے کی کبھی تو اسے وہ اپنے گناہ کی بھیانک سزا لگتی تھی۔۔
“سلی گرل تُم آج پھر آگئی یہاں میں نے تُمہیں کیا کہا تھا مجھے تمہاری کمپنی کی ضرورت نہیں ہے جاؤ یہاں سے۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگا تو وہ مزے سے آگے بڑھی اور اسکے بیڈ پر بیٹھی اور بغور اُسے دیکھنے لگی جو سفید قمیص شلوار میں ملبوس سر پر سفید ٹوپی پہنے سوبر لگ رہا تھا وہ اسکو اپنی جانب گھورتے ہوئے دیکھ کر سخت چڑا۔۔
“تُمہیں سنائی نہیں دے رہا ہاں میں کیا بکواس کر رہا ہوں۔۔؟؟
وہ چٹکی بچا کر اُسے اپنے اوپر سے نظریں ہٹانے پر مجبور کرتا غصے سے بولا تو وہ اس کے اوپر سے نظریں ہٹائے بغیر شریر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اولڈ مین نماز پڑھا ہے آپ نے ابھی تو گالی مت نکالئے منہ سے ورنہ آپ ایک بہت بڑے گناہگار بن جائے گے اس گناہ سے بھی زیادہ گناہگار جو آپ روز اسے سوچ کر خودکشی کرنے کا سوچتے ہیں۔۔!!
وہ اسکی بات پر بے بسی سے اُسے دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“تُم یہاں روز کیوں آتے ہوں۔۔؟؟
سامنے صوفے پر جاکر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تو وہ لڑکی اُسے پیار سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“آئی لو یو اولڈ مین۔۔!!
اسکی بات پر نمیر کو ایک زور دار جھٹکا لگا تو وہ صوفے سے اٹھا اور غصے سے اس لڑکی کو گھورنے لگا جو اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“یہ کیا بکواس ہے ہاں۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں کہتا آگے بڑھا اور اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر غرایا تو یکدم سے وہ زور زور سے ہنسنے لگی اور اسکی نقرئی ہنسی پر وہ ساکت نظروں سے اسکے گالوں پر پڑتے ڈمپل کو دیکھنے لگا۔۔
“اے اولڈ مین ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ کہی آپ کو مجھ سے تو سچ میں عشق تو نہیں ہوگیا یا پھر میرے گالوں پر پڑتے ڈمپل پر فدا ہوگئے۔۔!!
وہ ہنستی ہوئی بولی جبکہ وہ اُسی طرح اسکی گالوں پر پڑتے ڈمپل کو دیکھ رہا تھا اسکی آواز اسے سنائی نہیں دے رہی تھی اسی لیے وہ خاموش تھا۔۔
“اے اولڈ مین۔۔؟؟
وہ اسے زور سے ہلاتی ہوئی پکارنے لگی تو وہ چونکا اور ناسمجھی سے اُسے دیکھنے لگا وہ اپنے احساسات کو اس وقت سمجھ نہیں پا رہا تھا اسکا دل فائقہ کے لیے ایسے نہیں دھرکا تھا جو اس لڑکی کے ڈمپل کو دیکھ کر ڈھرک رہا تھا۔۔
“گیٹ آؤٹ آئی سے گیٹ آؤٹ نکلوں میرے کمرے اور میرے گھر سے ابھی کے ابھی ورنہ میں تمہارا گلا دبا کر تمہیں مار دو گا۔۔!!
وہ اپنے دل کو اتنی تیزی سے دھرکتے ہوئے اور اسکی قربت کی خواہش پر وہ سخت گھبرایا تو اُسے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“اولڈ مین آپ مجھے بھاگا رہے ہیں ناٹ فئیر۔۔!!
وہ منہ بنا کر آنکھوں میں نمی لا کر اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو نمیر اسکی خوبصورت موٹی آنکھوں میں نمی دیکھتا تڑپ اٹھا لیکن اسے نظر انداز کرتے ہوئے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے غصے سے کہنے لگا۔۔
“تُم جا رہی ہو یا نہیں یا مجھے ہی تُمہیں مار کر یہاں سے باہر پھینکا پڑے گا ہمممم۔۔؟؟
وہ بری طرح سے چیختے ہوئے اُسے وہاں سے نکلنے کا حکم دینے لگا تو وہ سخت گھبرا گیا آج اسے اتنے زیادہ غصے میں دیکھ کر اور تیزی سے اسے دور کرتی پیچھے بڑھی اور باہر نکلی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“میں تُمہیں سلطان ولا چھوڑ آتا ہو اگر تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو بتا دو۔۔؟؟
دو دن ہوگئے تھے اور ضنافر حسن زیدی ان دو دنوں میں اسکی خاموشی برداشت کر رہا تھا اور آج اسکا برداشت بھی ٹوٹ گیا تو سنجیدگی سے روم میں
داخل ہوا اور اس سے پوچھنے لگا۔۔
“مجھے اپنے گھر نہیں جانا۔۔!!
وہ آپس میں اپنی انگلیوں کو الجھا تی ہوئی نظریں نیچے جھکائے بولی تو ضنافر اسکی بات پر شاکڈ رہ گیا پھر چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو انگلی کو مڑور رہی تھی۔۔
“تو پھر تُم کہاں جانا چاہتی ہوں۔۔؟؟
اُسے ہچکچاتے ہوئے دیکھ وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ اس سے کیا کہنا چاہتی ہے لیکن اپنے لہجے میں سنجیدگی سمو کر اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“مجھے تُمہارے ساتھ تمہارے گھر میں رہنا ہے تمہاری بیوی بن کر۔۔۔!!
وہ اُسے دیکھنے سے ڈر رہی تھی اُسے لیے نظریں نیچے جھکا کر تیزی سے بولی تو اسکی بات پر ضنافر حسن زیدی خوش ہوا اور پھر شریر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“صرف بیوی۔۔؟؟
وہ آگے بڑھ کر اُسے ایک ہاتھ سے اُسکی نازک کمر سے پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اُسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے معنی خیزی سے بولا۔
“کیا مجھے بیوی کے علاؤہ بھی تُمہارے گھر کسی اور حیثیت سے بھی رہنا پڑے گا۔۔ ؟؟؟
وہ اپنی آنکھوں کو اُس پر گاڑھتی ہوئی بولی تو ضنافر حسن زیدی نے اسکی ستواں ناک کو پیار سے چھو کر اُسے مزید اپنے نزدیک کرتا اُسکے ہوش اڑانے لگا۔۔۔
“ہاں ایک اور حیثیت سے تُمہیں جانِ ضنافر میرے گھر میں رہنا ہوگا ورنہ میں تُمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاؤ گا اگر تُم نے اُس حیثیت کو ٹکرایا ناں تو۔۔!!
اُسکے نرم و ملائم گالوں کو چٹکی کاٹتے ہوئے کہنے لگا تو صالحہ اسکی حرکت پر اسے تیز نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“بادشاہ سلامت اور وہ حیثیت کیا ہے اب مجھے بیوی کے علاؤہ آپکے محل میں رہنا ہوگا ورنہ نہیں۔۔!!
وہ سخت چڑتی ہوئیں پوچھنے لگی تو اسکے بادشاہ سلامت کہنے پر وہ مسکرایا اور شرارت سے اسکی ناک کو زور سے کھینچ کر اسے دیکھنے لگا جو اپنی سرخ ناک پر ہاتھ رکھے اسے گھور رہی تھی۔۔
“ملکہ عالیہ آپ کو ہماری بیوی کے ساتھ بچے کی ماں کی حیثیت سے بھی ہمارے محل میں رہنا ہوگا ورنہ ہم دوسری۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے یکدم سنجیدگی سے کہنے لگا تو اسکی بات پر صالحہ عرفان سلطان پہلی بار دل کھول کر مسکرائی اور ضنافر حسن زیدی اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“یہ تو بادشاہ سلامت میں بعد میں سوچو گی۔۔!!
وہ ہنستی ہوئی بولی تو ضنافر حسن زیدی نے اُسے خوشی سے اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرا اور گاڑی کی جانب بڑھا تو صالحہ اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی کہ وہ اسے کہا لے کر جا رہا ہے۔۔
“اپنے گھر زیدی ولا میں وہاں میری ماں تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوگی پھر ہم سلطان ولا جائے گے میں اپنی غلطیوں کی معافی ان سے مانگنا چاہتا ہوں اور انہیں تھینک یو بھی تو کرنا ہے۔۔!!
وہ اُسے گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے ہوئے بولا تو صالحہ نے اسکے آخری بات پر اسے حیرت سے دیکھا۔
“کیوں تھینک یو کیوں کرنا چاہتے ہو تم میرے گھر والوں کو۔۔؟؟
وہ اُسے دیکھتی ہوئی آخر اس سے پوچھ بیٹھی تو وہ مسکرایا اور اسکے گالوں کو لبوں سے چھو کر پیچھے ہٹا۔۔
“وہ اس لیے میری جان کیونکہ ان کی وجہ سے مجھے اتنی خوبصورت اور غصیلی بیوی ملی ہے۔۔!!
شریر نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو صالحہ اسکی غصیلی بیوی کہنے پر غصے سے اسکے کندھوں پر مکا مارا۔۔
“تُم نےمجھے غصیلی کہا جاؤ میں نہیں آؤ گی تمہارے ساتھ جاؤ خود ہی اکیلے اپنے محل میں سمجھے۔۔!!
وہ غصے سے انگلی اٹھاتی ہوئی بولی۔تو ضنافر سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے میں دوسری بیوی کو لے کر جاؤ گا اپنے ساتھ تُم نہیں آؤ گی یہ تمہاری مرضی ہے میں تمہیں روک نہیں سکتا اور میں بھی اپنے ارمانوں کو کیسے مس کر سکتا ہوں ۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔تو صالحہ اسکی دوسری بیوی کا سن کر سخت جلتی کڑتی اسے گھورنے لگی۔۔
“جاؤ لے کر جاؤ اپنی دوسری نا ہونے والی بیوی کو اگر کوئی تُمہیں اپنی بیٹی دے دیں ناں تب ورنہ تمہاری شکل ایسی ہے کہ تمہیں بیٹی کیا اپنے گھر کھانا کھانے کا بھی کوئی نہ پوچھے۔۔!!
وہ اُسے گھورتی ہوئی بولی۔تو اسنے جھک کر گاڑی کے دروازے کو بند کیا اور کھڑکی پر جھکا۔۔
“صالحہ تُم جل رہی ہو میری دوسری بیوی کا سن کر ہے ناں۔۔؟؟
اُسکے غصے سے سرخ ہوتیں چہرے کو وہ مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔صالحہ نے اسے سخت نظروں سے گھورا اور کھڑکی کا شیشہ اوپر کرنے لگی تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا۔
“فکر مت کرو میں دوسری کیا تیسری بھی نہیں کروں گا شادی۔اُسکے گھورنے پر اسنے شادی پر زور دیا۔۔ایک مشکل سے سنبھال رہا ہو تین کہاں خاک سے سنبھالوں گا۔۔!!
آخری الفاظ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے روڈ پر ڈال کر اپنی ساری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کرتا ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“اوئے مینہ اب کیا اپنے دبیر خان کو چائے سے بھی دور کرنا ہے۔۔؟؟
دبیر خان دو دن سے نسوار کو بھول کر چائے سے گزارا کر رہا تھا کہ آج اُسے منہ بناتے ہوئے دیکھتے ہوئے وہ چڑچڑے لہجے میں بولا۔۔
“خان صاحب تُم مجھے ڈانٹ رہے ہوں میں یہ سب تمہارے بھلے کے لیے ہی کر رہی ہوں چائے بھی صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہے تم تو ایک بار میں دس کپ اڑا رہے ہوں۔۔!!
وفا آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھتی ہوئی منہ پھلا کر بولی تو دبیر خان کو ہوش آیا کہ اسنے اپنے غصے کی وجہ سے اپنی مینہ کو ناراض کر دیا تو وہ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا اسکی پیشانی کو چھو کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“اوہ مینہ ہم اڑا کہا رہا ہے ہم تو بڑے ہی پیار سے یہ چائے پی رہا ہے اگر میری مینہ یہ نہیں چاہتی تو اُسے بھی ایک شرط پر چھوڑ دیتا ہوں۔۔!!
وہ ہاتھ کی پشت سے اسکے چہرے پر آئے لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگا تو وفا اسکی بات پر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“اب تُم شرط والا سین کریٹ مت کروں خان کیونکہ میں تمہاری کوئی شرط نہیں مانو گی سمجھے۔۔!!
وہ اُسے گھورتی ہوئی انگلی سے اسکی پیشانی کو ٹچ کرتی اُسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی تو دبیر خان نے دور جانے کے بجائے اُسے دیکھا اور کمر پر گرفت سخت کرتا اچانک سے وہ اُسکے چہرے پر جھکا اور نرمی سے باری باری اسکے سرخ گالوں کو چھونے لگا۔۔
“مینہ میری جانی تُم کو شرط تو ماننا ہی پڑے گا دبیر خان کی گستاخیوں سے بچنے کیلئے اگر تُم نے اس بار انکار کیا نا شرط سننے سے تو دبیر خان بہک کر وہ کر دے گا جو تُم نے کبھی سوچا نہیں ہوگا۔۔!!
انگلی سے ستواں ناک کو چھو کر معنی خیزی سے بولا تو وفا اسکی نظروں اور معنی خیز بات پر سٹپٹا کے رہ گئی تھی۔۔
“ہاں ٹھیک ہے خان صاحب میں مانتی ہوں تمہارا شرط لیکن تُم اس سے آگے کچھ بھی نہیں کروں گے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی انگلی اٹھا کر وارننگ دیتی ہوئی بولی۔تو دبیر خان اسے بتیسی دیکھانے لگا۔
