No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
برقی قمقموں سے سجا چھوٹا سا گھر اُسے اپنے ارمانوں کا قاتل لگ رہا تھا اس وقت وہ سرخ آنکھیں کو ایک لمحے کو بند کرتا خود کو کچھ کرنے سے روکنے لگا ورنہ جب سے اُسے پتہ چلا کہ آج اُسکی محبت کو کسی اور کے نام کی انگھوٹھی پہنائی جائے گی تب سے وہ پاگل ہو رہا تھا دل چاہ رہا تھا کہ خود کو اور اسے ختم کر دے۔۔
چھوٹے سے گھر کے اندر کود کر وہ اُس روم کی جانب بڑھا جہاں وہ اسکے ارمانوں کی قاتل بنی ہوئی موجود تھی اس وقت اسکی چال میں وازیہ شکست صاف نظر آ رہی تھی۔
“کون ہے وو۔وہاں۔۔؟؟
بیڈ روم کے اندر سے لرزتی آواز سن کر اُسکے سختی سے بھینچے گئے لب مسکرا اٹھے وہ نپے تلے قدم لیتا روم کے اندر داخل ہوا اور سامنے اسے سجے سنورے ہوئے دیکھ کر وہ وہی ساکت رہ گیا لیکن کسی اور کے نام کا جوڑا اسکے تن میں سجے دیکھ وہ غصے کی آگ میں جلنے لگا۔۔
“میں راجہ ڈر کیوں رہی ہو۔۔؟؟
آگے چل کر اسکے مقابل کھڑا ہوا اور اسکے پیلے پڑتے چہرے کو بغور دیکھتا پوچھنے لگا تو وہ پیچھے ہٹتی ہوئی کہنے لگی۔
“دیکھوں چلے جاؤ یہاں سے تُم جانتے تو ہو محلے والوں کو پھر بھی میری عزت خراب کرنے پر تلے ہوئے ہو۔۔!!
وہ اب باقاعدہ روتی ہوئی بولی۔۔
“تُم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو کیا میں ایک قاتل ہو یا ایک ریپسٹ؟؟پنک شرارے میں کامدار دوپٹہ اوڑھے سامنے کھڑی حسین سی معصوم نقش والی لڑکی کو دیکھتا آگے چل کر بوجھل آواز میں بولا۔۔
لڑکی سامنے اُس خوبصورت بلا کو اپنے پاس بے حد نزدیک آتے ہوئے دیکھتی آنکھوں میں آنسوؤں اور ڈر کی پرچھائیاں لیے پیچھے کھسکنے لگی۔۔
وہ بے حد قریب پہنچا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر نرمی سے دیکھنے لگا اچانک سے اُسکی نیلی آنکھوں میں مقابل کھڑی نازک لڑکی کے دور ہو جانے پر غصہ بھرنے لگا۔۔
“اتنا ڈرتی ہوں مجھ سے کہ میری سانسوں کو تنگ کرنے کیلئے مجھ سے بھاگنے کا سوچ رہی ہو۔۔۔!!
نیلی آنکھوں میں غصہ تو گرے آنکھوں میں ڈر ہلکورے لے رہا تھا نازک وجود کو اپنے مضبوط گرفت میں جکڑے کھڑا سخت بے چین لگ رہا تھا۔۔
“مم۔میری منگنی کی تت۔۔۔تقریب ہے آج خخ۔خدا کے لیے تماشہ نہ کریں اا۔۔اور چلے جائے یہاں سے وو۔۔۔ورنہ میں بدنام ہو جاؤ گی۔۔۔!!
گرے آنکھوں نے سرخی لیے نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خوفزدہ ہو کر لرزتے ہوئے کہا تو مقابل غصے سے پاگل ہوتا اُسے پیچھے دیوار سے لگا کر دو قدم پیچھے ہوا پھر آگےبڑھا اور شدت سے برابر میں ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کو مکا مار کر توڑتے ہوئے پھٹ پڑا۔۔
“نہیں ہونے دو گا میں یہ تقریب مر جاؤ گا لیکن تُمہیں کسی اور کا کبھی نہیں ہونے دو گا تُم صرف میری ہو صرف میری سمجھی۔۔۔؟؟
وہ خون سے سرخ ہاتھوں کو لڑکی کے شانوں پہ رکھتے ہوئے دھارا تو لڑکی اپنے شانوں پر کچھ گیلا شدت سے محسوس کرتی بری طرح سے ڈرنے لگی۔۔
“بولو تُم کس کی ہو۔۔؟؟
لڑکی کی آنکھوں میں نیلی آنکھیں شدت پسندی سے گاڑھتا وہ جنونی انداز میں پوچھنے لگا تو لڑکی لرزتی ہوئی رو کر نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“سہی تُم نے قسم کھائی ہے کہ تُم نہیں بتاؤ گی اوکے اب تُم یہ بات اُس کے سامنے بتاؤ گی جس سے آج منگنی کر رہی ہو تُمہیں اُسکے سامنے میری محبت کا اعتراف کرنا پڑے گا ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو کہ میں اپنے ساتھ کیا کر سکتا ہوں۔۔!!
وہ سختی سے اُسے پیچھے دیوار کی طرف کرتا اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے اپنی قید میں جکڑتا سنگدل لہجے میں کہتا چلا گیا اور وہ بے چاری اُسکے خوف میں بری طرح سے تڑپ رہی تھی اور کانپتی ہوئی خود کو اسکے سامنے سے ہٹانے کے لیے راہ ڈھونڈ رہی تھی جو ناممکن تھا کیونکہ مقابل اتنا طاقتور تھا کہ اُسے دونوں ہاتھوں سے بھی ہٹا نہیں سکتی تھیں۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“آپ مجھے خوفزدہ لگ رہی ہے کیا آپ کے بابا نے زبردستی کی ہے جو آپ اتنی ٹینشن میں لگ رہی ہے۔۔؟؟
زارقم عباس سلطان فائقہ کے چہرے پر پریشانی تو نہیں ہاں ڈر دیکھ کر چونک گیا پھر آگے کو جھک کر ہلکی آواز میں اس سے پوچھنے لگا۔۔
“نن۔نہیں سر میں ٹھیک ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔!!
فائقہ نے سخت گھبرا کر اپنا سر اٹھا کر سامنے راجہ کے گھر کی چھت کی طرف دیکھا جہاں وہ شاید کچھ دیر بعد کوئی طوفان برپا کرنے کے لیے کھڑا اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا وہ اندھیرے کی وجہ سے ٹھیک سے تو اسے نہیں دیکھ سکتی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ اِس وقت وہ زارقم سلطان کو اسکے ساتھ دیکھ کر پاگل ہو رہا ہوگا۔۔
“ہممم سمجھ گیا کہ اس ڈر کے پیچھے کون ہے لیکن یہ ڈر بہت دور کر دو گا تُم سے اور اپنی زندگی کے آس پاس بھی اب اس ڈر کو آنے بھی نہیں دو گا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا کہنے لگا وہ اُسکی اسٹوڈنٹ تھی اور اس سے منگنی وہ کیوں کر رہا تھا یہ کسی کو بھی خبر نہیں تھا بس دو دن پہلے اچانک سے سب کو اپنا فیصلہ سنا کر اپنی ماں سے منگنی کی تیاری کا کہہ کر وہ فائقہ کے بابا سے بات کرنے خود ان کے گھر چلا گیا تھا۔۔
جبکہ فائقہ اسکی باتوں پر دھیان کم اور راجہ پر زیادہ دے رہی تھی تبھی راجہ کو غصے سے نیچے کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ وہ اچانک سے بری طرح ڈر کر اپنی انگلیوں کو آپس میں الجھانے لگی۔۔
دوسری طرف مرجان اُن سب سے چھپ کر ان کے پیچھے یہاں اُس چھوٹے سے محلے میں آئی تھی سامنے اسٹیج پر اسے اس لڑکی کے ساتھ دیکھ کر شاکڈ رہ گئی جو اسکی کلاس فیلو رہ چکی تھی۔۔
“بہت گہرا رشتہ ہے تُمہارا دولہے کے ساتھ۔۔؟؟
وہ شاکڈ کھڑی سامنے دلہن بنی فائقہ کو دیکھ رہی تھی اپنے پیچھے اِس بھاری گھمبیر آواز پر ڈر کر پیچھے مڑی تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی وہ ساکت رہ گئی۔۔
“خوفزدہ کیوں ہوگئی آپ نظر پڑھنا تو راجہ کا سب سے خوبصورت مشغلہ ہے۔!!
اُسکے زرد پتوں کی ماند پیلے پڑتے چہرے کو کوئی اور رنگ دیتا وہ معنی خیزی سے بولا تو مرجان سخت خوفزدہ ہوتی اب اُس سے پیچھے کی جانب آہستگی سے قدم بڑھانے لگی۔۔
“دد۔۔دور رہوں مجھ سے۔۔؟؟
وہ روتی ہوئی چیخ کر بولی تو زہاک اور ژالے جو نزدیک ہی کھڑے تھے مرجان کی چیخ کی آواز پر مڑ کر سامنے کھڑے انسان کو دیکھتے ہوئے وہ بھی شاکڈ رہ گئے جبکہ جمامہ جو اس تقریب میں پڑوسی کی حیثیت سے شرکت کرنے آئی تھی وہ راجہ کو کسی لڑکے کے ساتھ بات کرتے اور اس لڑکے کے خوفزدہ ہو کر چیخنے پر آگے بڑھی لیکن چند قدم پر اُس شخص کو دیکھتی وہی دم بخود رہ گئی۔۔
“نمیر لاشاری تو تُم نکل ہی گئے اپنے بل سے آئی لائک اٹ۔۔!!
زارقم عباس سلطان شان سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا سامنے کھڑے مجمعے میں نمیر لاشاری کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔
“راجہ کیوں تماشا کری ایٹ کر رہے ہو چلو یہاں سے اپنی نہیں تو میری عزت کا خیال کر لوں۔۔!!
جمامہ لاشاری آگے بڑھی اور آہستگی سے بولی جبکہ زہاک عباس سلطان اور ژالے اُس عورت کو اپنے سامنے تین سال بعد دیکھ کر چونک گئے اور چونکے کی وجہ اُس عورت کا نمیر کو کھینچ کر وہاں سے لے جانے کا تھا۔۔
“ویٹ جمامہ لاشاری ایسی بھی کیا جلدی ہے اپنے نیم عقل والے بھائی کو یہاں سے لے جانے کا کچھ حساب کتاب باقی ہے۔۔۔!!
زارقم عباس سلطان نے معنی خیزی سے کہا تو جمامہ لاشاری کے قدم اسکی بات پر تھم گئے۔۔
“تُم تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن سے اس لہجے میں بات کرنے کی ہاں۔۔!!
نمیر عرف راجہ جو آنکھوں میں شعلے لیے زارقم عباس سلطان کو ختم کر دینا چاہتا تھا وہ شدید غصے سے آگے بڑھا اس سے پہلے کے وہ زارقم عباس سلطان کو کالر سے پکڑتا غصے سے زارقم نے اُسکے چہرے پر زوردار مکا رسید کر دیا تو وہ دور جا گرا۔۔
“میری ہمت ہی تو ہے نمیر لاشاری جو تُم درندے نما انسان آج بھی سانس لے رہے ہو اگر ہمت برداشت ختم ہو جاتی تو تُم اس محلے میں بھی کسی کو نظر نا آتے اور شکر کروں یہ لڑکی بچ گئی تُم جیسے درندے سے جیسے تُم نے دو ماہ پہلے میری محبت کو برباد کیا تھا نا آج میں تُمہیں برباد کرو گا کیونکہ اس لڑکی کو تُم سے جدا کر کے میں اتنا بے غیرت نہیں ہو کہ تمہاری غلطی کی سزا اس معصوم کو دو۔۔!!
وہ سخت گیر لہجے میں کہتا وہاں موجود سب کو شاکڈ کر گیا جبکہ زویا عباس سلطان سکون سے صوفے پر بیٹھی یہ سارا تماشا دیکھنے لگی وہ اور زارقم عباس سلطان نے ہی تو یہ سارا پلان رچایا تھا اس گدھ نما انسان کو برباد کرنے کے لیے تبھی ایک خوبصورت نوجوان زارقم عباس سلطان کے کہنے پر وہاں آیا اور پھر اسکے پیچھے سارب عرفان سلطان کے ساتھ ایک مولوی۔۔
“یہ سب کیا ہے زارقم۔۔؟؟
دا جی کب سے خاموش کھڑے تھے وہ مولوی کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھے اور اپنے سرپھرے پوتے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے۔
“دا جی انتقام زارقم عباس سلطان کا انتقام اُسکی محبت کو بدنام کرنے کی سزا جو اِس گدھ کو اپنی محبت کو آج کسی اور کا ہوتا ہوا دیکھ کر ملے گا مہران شاہ جاؤ فائقہ کے پاس بیٹھوں۔۔!!
داجی سے کہنے کے بعد وہ سپاٹ لہجے میں مہران شاہ سے کہنے لگا جو اُسکا بزنس پارٹنر کے ساتھ دوست بھی تھا وہ اسکی بات پر خوبصورتی سے مسکرا کر اسٹیج کی جانب بڑھا جبکہ زارقم عباس سلطان آگے بڑھا اور مرجان کے مقابل کھڑا ہوا وہ جو ڈر سے بری طرح سے کانپ رہی تھی اُسکے سامنے آنے پر تیزی سے آگے بڑھی اور رو کر اُسکے سینے سے لگی تو وہ اُسکی پشت کو سہلا کر سرخ نظروں سے پاس کھڑے نمیر لاشاری کو دیکھنے لگا جو سامنے ساکت نظروں سے اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا اُسکے ری ایکشن بلکل اس دن کی طرح تھے جب زارقم عباس سلطان مرجان کو اس شیطان کا ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا اور چہرے پر درد سجائے کھڑا تھا اور آج وہی درد اس شیطان کے چہرے پر رقم دیکھ وہ دل میں ٹھنڈک محسوس کرنے لگا۔۔
“جان بس آج اجازت دے رہا ہوں ان آنسوؤں کو اگر کل یہ بہے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔!!
وہ مرجان کے آنسوؤں کو پونچھتا ہوا اسے لیے اسٹیج کی جانب بڑھا اور دا جی سے کہنے لگا۔۔
“دا جی اجازت ہے آپکے اس سرپھرے پوتے کو آپکی چالاک ضدی پوتی سے نکاح کرنے کی یاد رکھیے گا جواب ہاں میں ہونا چاہیے ورنہ اٹھا کر لے جاؤ گا آپکی اس ضدی پوتی کو اپنے ساتھ بہت دور۔۔!!
وہ داجی سے ایسے اجازت مانگنے لگا جیسے وہ مانگ نہیں بلکہ انہیں دے رہا ہے لہجہ انتہائی سنجیدگی تھا جبکہ مرجان یہ الفاظ سن کر حیران رہ گئی۔۔
“اجازت ہے بچہ میں کون ہوتا ہو مانا کرنے والا جو تم مجھ سے اجازت لے رہے ہو بلکہ اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے یہ مولوی سامنے بیٹھا ہے پڑھوا لوں۔۔!!
دا جی اپنی بے خبری پر اسکے اوپر سخت غصہ تھے کیونکہ پورے دو ماہ سے وہ ناراض تھا اور اب دو دن پہلے اچانک سے سب کچھ طے کر کے انکے پاس بس اپنی منگنی کا بتانے آیا تھا اور اب یہ سب جو ہو رہا تھا وہ اس سے بھی لا علم تھے۔۔
“اوکے داجی چلو آؤ جان یہاں بیٹھوں۔۔!!
وہ اتنی تابعداری سے ان سے بولا کہ وہ سخت نظروں سے اسے گھورنے لگے جبکہ وہ انکی نظروں سے مسکرایا اور دا جی اسکے ہونٹوں پہ اتنے عرصے بعد مسکراہٹ دیکھ بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ ہمشیہ سپاٹ ثاترات چہرے پر سجا کر سب سے باتیں کرتا تھا لیکن آج اسکی خوشی ہر ہر انداز سے انہیں نظر آ رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد اُن دونوں کا نکاح بھی خوشگوار ماحول میں ہوا اور سب ان دونوں کے نکاح پر بہت زیادہ خوش لگ رہے تھے اور اب سب ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے زہاک عباس سلطان جو ژالے کے ساتھ کھڑا تھا موبائل کی بیل پر ژالے کے کانوں میں کچھ کہتا باہر کی جانب تیزی سے بڑھا ایک نازک وجود جو اُن سب سے الگ تھلگ دور کھڑے اُسے ژالے کے ساتھ لگ کر کھڑے دیکھ جل اور سخت سلگ رہی تھی ژالے کے شرم سے سرخ پڑتے چہرے کو نفرت سے گھور رہی تھی کہ اُسے باہر نکلتے ہوئے دیکھتی سرخ لپ اسٹک سے سجے خوبصورت ہونٹوں پر ایک قاتل مسکراہٹ سجا کر تیزی سے اس دشمن جاں کے پیچھے بڑھی۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“آپ۔۔۔؟؟
زہاک عباس سلطان جو کال اٹینڈ کرنے کے بعد موڑا تو سامنے کھڑی ہستی پر نظر پڑتے ہی اسکے چہرے کے تاثرات سخت گیر ہوتے چلے گئے اور وہاں سے جانے کے لیے دوسری سائیڈ سے نکلنے ہی والا تھا کہ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور اُسکی مضبوط شانوں کو تھام کر بے قراری سے بولی۔۔
“Leave me..”
سخت پھتریلے تاثرات چہرے پر سجائے مقابل کھڑی ہستی سے نفرت سے بولا تو وہ اسکے لہجے پر دو قدم پیچھے ہٹی اور اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی جسے اسنے تین سال پہلے خود کھو دیا تھا۔۔
“زہاک آپ اس طرح مجھے نظر انداز نہیں کر سکتے گوٹ اٹ میں ابھی بھی آپکی بیوی ہو۔۔!!
اب اُس لڑکی کو سخت غصہ آیا اُسکی بے رخی اس برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ اتنے سالوں بعد اُسے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی اور دل الگ مچل مچل کر اُسکی قربت کی چاہ کر رہا تھا۔۔
” ریلی تُم ابھی تک مجھے اپنا شوہر مانتی ہو وہاٹ آ جوک۔!!
طنزیہ نظریں سامنے بلیک ساڑھی میں ملبوس نازک لڑکی پر گاڑھتے ہوئے نفرت سے بولا تو وہ بےقراری سے آگے بڑھی اور اُسکے سینے سے لگ کر بری طرح سے رونے لگی جبکہ دونوں ہاتھوں سے اسکی پشت کو سختی سے جکڑے کھڑی جیسے اُسے خود سے دور جانے سے روک رہی تھی۔
“دور رہوں تُم مجھ سے اور اپنی لمٹ میں رہوں ہمارا رشتہ صرف ایک کنٹریکٹ کی حیثیت رکھتا تھا جو تُمہارے جانے کے بعد ختم ہوا اب میری بیوی صرف ژالے ہے گوٹ اٹ۔۔!!
اُسے سختی سے خود سے دور کرتا جیسے وہ دھار اٹھا تو وہ سرخ آنکھوں کو اٹھا کر اُسے ایسے دیکھنے لگی جسے ابھی خود کو ختم کر دے گی یا اسے۔
“آپ اتنے ظالم کیسے بن سکتے ہیں بھول کیوں رہے ہیں کہ میں اب بھی آپ کی پہلی بیوی کی حیثیت کے ساتھ آپکے بیٹے کی ماں بھی ہوں۔۔!!
وہ بھی یکدم جنونی ہوتی اُسے دونوں شانوں سے پکڑتی دھار اٹھی تو زہاک عباس سلطان اسکی بات پر معنی خیزی سے ہنسا۔
“نائس جمامہ لاشاری تُمہیں اب یاد آیا کہ تُم میرے بیٹے کی ماں ہوں۔۔!!
سرخ انگارا بنی آنکھوں سے دیکھتا استہزایہ لہجے میں بولا تو جمامہ لاشاری سخت نظروں سے اُس ظالم بنے شخص کو دیکھنے لگی جسے وہ صرف اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے چھوڑ کر گئی تھی۔
“ہمشیہ سے یاد تھا کہ میں ثمر زہاک سلطان کی ماں ہو اور وہ ژالے تُمہاری دوسری بیوی یاد رکھنا نا کبھی تمہاری بیوی بننے کی حقدار ہے اور نا ہی ثمر کی ماں میں چاؤ تو اُسے تُم سے ابھی دور کر سکتی ہو۔۔!!
وہ آپ سے تُم کا سفر طے کرتی اس وقت زہاک کو سخت زہر لگی۔۔
“خبردار میری ژالے سے دور رہنا ورنہ بہت برا کروں گا جمامہ لاشاری ابھی تُم نے زہاک عباس سلطان کی نرمی دیکھی ہیں اُسکے درندہ بننے سے پہلے سدھر جاؤ۔۔!!
آگے بڑھا اور سختی سے اسکی نازک گردن کو جکڑتا شدت پسندی سے بولا تو ژالے کے لیے اُس شخص کو اتنا پوزیسو دیکھ وہ جلنے لگی۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“کام ہوگیا شکورے۔۔؟؟
اپنے چھوٹے سے گھر کے صحن میں وہ کھڑی شکورے سے پوچھنے لگی تو شکورے نے سر ہاں میں ہلایا تو وہ خوشی سے مٹھی میں دبے کچھ نوٹ اسے تھما کر سختی سے کہنے لگی۔
“یاد رکھنا راجہ آج کی رات گھر میں نہیں آنا چاہیے۔۔!!
سختی سے کہتی وہ اُسے بغور دیکھنے لگی تو شکورے کمینگی سے مسکرایا اور خباثت سے بولا۔۔
“آپ فکر مت کرے جمامہ باجی وہ آج گھر میں آنے والا بھی نہیں ہے ویسے ایک بات پوچھو یہ شاندار مرد کون ہے۔۔؟؟
جمامہ لاشاری اُسکی بات پر خوش ہوئی پھر اُسکی آخری بات پر چمکتی نظروں سے اُس چھوٹے سے روم کی جانب دیکھنے لگی جہاں اُسکی زندگی کا سرمایہ اُسکا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔۔
“شوہر اور بچے کا باپ جو میری کم عقلی کی وجہ سے میں نے کھو دیا تھا لیکن آج کی رات وہ ہمشیہ ہمشیہ کیلئے پھر سے میرا ہو جائے گا۔!!
وہ تین سال پہلے کی بے وقوفی کو سوچتی ہوئی خود پر غصہ ہوئی پھر آخری لفظوں کو ادا کرتے ہوئے دل میں ایک ٹھنڈی پوار محسوس کرنے لگی۔۔
“چلوں جمامہ باجی آپ اپنے شوہر کے ساتھ اور میں اپنے دوست کے ساتھ ان پیسوں کے ساتھ عیاشی کروں گا ویسے بھی اپنا شیر آج مجنوں بنا ہے کچھ پینے کا بندوست کرتا ہوں۔۔!!
شکورے کمینگی سے بولا اور قدم گھر کے دروازے کی طرف بڑھانے لگا تو اسکے گھر سے نکلتے ہی جمامہ لاشاری فتح کی سرخی چہرے پر سجائے اپنے چھوٹے سے روم کی جانب بڑھی۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“ژالے۔۔؟؟
بہت زیادہ نشے کی وجہ سے وہ اپنا بری طرح سے چکراتا سر تھام کر اٹھا تو روم میں کسی کی قدموں کی آہٹ پردھندلی نظروں سے سامنے دیکھتا ژالے کا نام لیتا ہوا لڑکھڑاتےقدموں سے اُس کی جانب بڑھا۔۔
“زوجہ سلطان کہاں چلی گئی تھی مجھے اکیلا چھوڑ کر بھلا کوئی ایسا کرتا ہے اپنے شوہر کو چھوڑ کر جاتا ہے۔۔؟؟
وہ تڑپ کر نازک وجود کو کسی گڑیا کی طرح اٹھاتا مخمور لہجے میں بولا تو جمامہ لاشاری جو آنکھوں میں خماری لیے اپنے شوہر کو دوسری بیوی کا نام لیتے ہوئے دیکھ غصے کی شدت سے مٹھیاں بھینچنے لگی۔۔
“تُم خاموش کیوں ہو جان بولتی کیوں نہیں۔۔؟؟
گھمبیر آواز میں کہتا وہ جھکا اور شفاف گردن کو چھونے لگا تو یکدم سے وہ ٹھہرا جیسے اُسے لگا کہ اُسکی باہوں میں ژالے نہیں کوئی اور تھی۔۔
جمامہ لاشاری جو اُس نرم گرم لمس پے ہونٹوں میں فتح مند مسکراہٹ لیے اپنے بے حد قریب خوبرو چہرے کو بغور دیکھ رہی تھی اُسکے چہرے کے بدلتے تاثرات جانچ کے آگے کو ہوئی اور دونوں ہاتھوں سے اُسکا چہرہ تھام کر ہونٹوں سے پیشانی چھو کر نیچے بڑھی لیکن ہونٹوں پہ جھکنے سے پہلے ہی زہاک عباس سلطان نے شدید غصے سے اسے دور جھٹکا۔۔
“دور ہو جاؤ تُم میری ژالے نہیں ہو میری ژالے اتنی بے باک ہر گز ہر گز نہیں ہے کہ وہ خود سے آگے بڑھے دور ہو جاؤ مجھ سے آئی سی گیٹ اوٹ۔۔!!
شدید سخت گیر لہجے میں کہتا وہ اُسے دور کرتا اٹھا لیکن سر میں شدید درد کی وجہ سے دوبارہ بیڈ پر گر سا گیا تو جمامہ لاشاری اُسکے گرنے پر جھکی اور آہستگی سے اُسکے قمیص کے بٹن کھولنے لگی۔۔
“آئی سی گیٹ آؤٹ سمجھ نہیں رہی چھوڑو مجھے۔۔!!
وہ سخت شعلے برساتیں لہجے میں کہتا اُسے خود سے دور جھٹکنے لگا لیکن نشے کی حالت میں وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا اُسکی آنکھیں بوجھل ہو کر آہستگی سے بند ہو رہی تھی لیکن پھر بھی وہ مقابل کو خود سے دور کر رہا تھا اور دوسری طرف ژالے جو پورے تقریب میں زہاک کو ڈھونڈ رہی تھی وہ بے چینی محسوس کرتیں سامنے ایک کرسی کو کھینچ کر اس پر بیٹھی اور آنکھیں موند کر ہلکی آواز میں اسے بلانے لگی
