No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“ژالے کیوں انتظار نہیں کیا میرا۔۔؟؟؟
نمیر سرخ آنکھیں اُس پر تھکائے تھکے سے انداز میں بولا اُسکے لہجے میں ہارے ہوئے کھلاڑی سی مایوسی و یاسیت بھری ہوئی تھیں اور ژالے یہ دیکھ کر سر جھکا کر بنا آواز نکالے رونے لگی۔۔
“مجھے ڈھونڈنا بھی گوارہ نہیں کیا سب نے جانتا ہوں میں اُنکے لیے ایک سوتیلا بھائی بیٹا اور پوتے کی حیثیت رکھتا ہو لیکن ژالے تُم سے اس رویئے کی امید نہیں تھیں۔۔۔!!
وہ بیڈ پر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ سامنے فلور پر کھڑی نظریں شرمندگی کے مارے نیچے جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
“ممم۔مجھے صرف نمیر آپ کا ہی ساتھ چاہیے زہاک سلطان کا نہیں میں اُسے اپنا شوہر نہیں مانتی اور پلیز آپ مجھے بے وفا مت سمجھیے گا میں مر تو سکتی ہو لیکن آپ سے بے وفائی نہیں کر سکتی۔۔!!
وہ آہستگی سے قدم آگے بڑھا کر عین اسکے سامنے کھڑی ہو کر سرخ سرمئی آنکھوں میں نمیر کے لیے محبت سجا کر یہ تک بھول گئی کہ وہ اب اُسکے لیے صرف ایک نامحرم ہے۔۔۔
“بے وفائی تو تُم نے ژالے اس وقت نکاح نامے پر سائن کر کے میرے ساتھ کر لیا اور اب زہاک سلطان کی بیوی کی حیثیت سے اس وقت تُم میرے روم میں کھڑی ہو اور باتیں وفا کی کر رہی ہو۔۔۔!!
طنزیہ لہجے میں کہتا وہ اُس خوبصورت اور نازک پری کو دیکھنے لگا جو کل اُسکی ہونے والی تھیں لیکن انجانے میں ہی سہی وہ اُسکے بھائی کی نصیب بن چکی تھی۔۔
بھائی بھی وہ جو سوتیلا ہونے کے باوجود بھی اس سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا کہنے کو تو اُسکے صرف دو ہی بڑے بھائی تھے لیکن بھائیوں جیسی سچی محبت صرف اُس سے زہاک عباس سلطان کرتا تھا زارقم عباس سلطان تو اُس سے صرف نفرت کرتا تھا جو وہ ہمیشہ اظہار بھی کرتا رہتا تھا۔۔
“نمیر اُس وقت سچویشن ہی ایسی تھی کہ مجھے ناچاہتے ہوئے ماننا پڑا ورنہ میں نے زہاک سلطان کو انکار بھی کیا تھا لیکن اس شخص کو اور دا جی کو میری محبت سے زیادہ اپنی خاندانی عزت زیادہ عزیز تھی لیکن اب میں بھی انہیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔!!
وہ زہاک سلطان کا نام شدید نفرت سے لیتی نمیر سلطان کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اُسکی نفرت انگیز لفظوں کو سن کر عجیب انداز میں مسکرایا۔۔۔
“تم ہمارے پیار کو بچانے کے لیے کیا کرو گی کیا تُم میرے ساتھ بھاگ سکتی ہوں اِس گھر سے ہاں بولو جواب دو۔۔!!
وہ شدید غصیلی آواز میں کہتا اُسے اپنی سخت نظروں سے دیکھنے لگا جو اُسے آج پہلی بار اتنے زیادہ غصے میں دیکھ کر شاکڈ رہ گئی تھی۔۔
“نن۔نہیں نمیر میں ایسا کیسے کر سکتی ہو محبت سے پہلے عزت سب سے زیادہ اہم ہے اگر عزت کھو دی تو بعد میں تٗم ہی تو مجھے طعنے دے دے کر اپنے لفظوں سے ماروں گے۔۔!!
وہ نظریں نیچے جھکا کر آہستگی سے بولی تو نمیر اُسکی بات پر استہزاء نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“تو تُم محبت کو عزت پر فوقیت دینا چاہتی ہوں ژالے منیب سلطان۔۔۔؟؟؟
ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو اُس کے شفاف چہرے پر گاڑھتے سخت لہجے میں بولا تو ژالے کی آنکھیں اُس سخت سوال پر یکدم سے تیزی سے بہنے لگیں اور وہ اِس سوال کا جواب بھی تو نہیں دے سکتی تھیں کیسے دیتی وہ اتنی مضبوط جو نہیں تھی کہ عزت کا کہہ کر اُسے کھو دیتی وہ مر تو سکتی تھی لیکن نمیر سے جدائی کا وہ کبھی سوچ نہیں سکتی۔۔
عورت جب محبت کے بجائے ماں باپ کی عزت کو چنتی ہے تو مرد پھر کیوں اُسے بے وفائی کا نام دے کر اُسے دھوکے باز کا طعنہ دے کر جدائی کا پیغام بڑے ہی سنگدلی سے کرتا ہے آخر کیوں وہ عورت کی بے بسی کو نہیں سمجھتا کیوں ژالے نمیر سلطان پر نظریں تھکائے سوچنے لگی۔۔
“تو میں تُمہاری اِس خاموشی کو ہاں سمجھو مسسز زہاک سلطان۔۔۔؟؟
وہ سپاٹ نظروں سے اُسے دیکھتا بے تاثر لہجے میں بولا تو ژالے منیب سلطان آج پہلی بار خود کو اُس انسان کے سامنے بے بس محسوس کرنے لگی جو اُس کا سب کچھ تھا جسے وہ خود سے بھی زیادہ چاہتی تھی۔۔
“ہممم تو تُم نے زہاک سلطان کو شوہر کی حیثیت دے ہی دی ژالے منیب سلطان اب میری بس ایک سوال کا جواب مجھے دینا تُم کیا وہ تمہاری محبت جھوٹی تھی یا وہ جو تُم میری ایک تکلیف میں آنسوؤں بہاتی تھی کیا وہ سب جھوٹ تھا۔ اگر ہاں تو تُم نے کیوں مجھے آگے بڑھنے دیا بولو ژالے سلطان جواب دو کیوں کیا تُم نے میرے ساتھ ایسا تُم ہوتی کون ہو میرے جزبات کے ساتھ کھیلنے والی۔۔۔!!
وہ شدید غصے سے اٹھنے کی کوشش کرتا سخت غرا کر بولا تو ژالے منیب سلطان اسکی غراہٹ پر سخت خوف کے باعث پیچھے ہٹیں اور پیچھے کھڑی زویا عباس سلطان سے جا کر ٹکرائی۔۔۔
“ہونہہ تُم اور محبت نمیر تُم کشمالہ شاہ کے بیٹے ہو تو یقین کرنے میں مجھے تھوڑی سی مشکل ہوگی لیکن یقین کرنا ہی پڑے گا تُم ایک کامیاب ایکٹر جو ٹھہرے اپنی ماں کی طرح اُسنے بھی تو یہی کیا تھا۔۔
ہم پر ایک گند کو مسلط کرکے اُسنے آخر کو اپنی اصلیت دکھائی اور پھر اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر میرے شوہر کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اسنے مجھ سے میرا شوہر اور میرے بچوں سے میرا باپ چھینا لیکن اب یہ جو تُم ہماری بچیوں کو اپنے لفظوں کی جال میں پھنسا رہے ہو نا اور اُنہیں سپنے دکھا رہے ہو یاد رکھنا ایک دن تُم مروں گے اور اچھے سے جانتے ہو کس کے ہاتھوں۔۔!!
ژالے کو زہاک سلطان کے پاس جانے کا کہہ کر وہ شدید غصے میں آ کر نمیر سلطان سے کہنے لگیں جو اب اپنے چہرے پر تمسخر پھیلائے سامنے صوفے پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔۔
“ہوں موم سوری مس زویا عباس سلطان میری ماما نے آپ کے شوہر کو چھینا تھا نا اب میں آپ کے بیٹے سے آپکی بہو کو اور اُسکی محبت کو جلد چھین لونگا جیسے زویا عباس سلطان تُم نے میری ماں کا حق چھینا تھا۔۔۔!!
وہ نفرت کی چنگاریاں نیلی آنکھوں میں ڈالے اُنہیں سرخ نگاہ سے دیکھتے سرد لہجے میں کہنے لگا جبکہ زویا عباس سلطان اُس گدھ کو سخت نفرت سے گھورنے لگی جو پچھلے چار سالوں سے اُسکے بیٹے سے اُسکی محبت کو چھینتا آ رہا تھا لیکن اب وہ یہ ہر گز ہونے نہیں دے گی چاہیے اسکے لیے انہیں گرنا ہی کیوں نہ پڑا تو وہ ضرور گری گی۔
دوسری طرف وہ انتقام میں اتنا گر چکا تھا کہ ایک لڑکی کے جزبات سے کھیل رہا تھا اور اپنے اُس بھائی کو دھوکا دے رہا تھا جو اُسے سوتیلا نہیں بلکہ سگے بھائی کی طرح چاہتا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“تُم یہاں کیوں کھڑی ہو ہاں مرجان تمہیں پتہ بھی ہے کہ تمہارا مجھے اِسکے آس پاس بھی موجود ہونا زہر سے بھی زیادہ برا لگتا ہے۔۔۔؟؟؟
زارقم عباس سلطان جو ابھی یونی سے واپس آیا تھا وہ سیرت مرجان اور سارب کی یونی میں پروفیسر تھا وہ جب حویلی میں داخل ہوا تو اُس کومل سی نازک اور اپنی بہن کی ہم عمر لڑکی کو اُس منافق کے روم کے باہر دروازے کے سامنے کھڑے دیکھ سخت تاؤ میں آ کر کہنے لگا اسے منظور نہیں تھا کہ وہ گڈھ نما شخص اب اُس کو استعمال کرے۔۔۔
“وہ میں اُنکے لیے دودھ۔۔!!
اُسکے شنگرفی لبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھا اور نازک ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر ایک ہی سانس میں وہ دودھ حلق میں انڈیل گیا اور وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔۔۔
“اب دے دیا نا ہوگیا ہونے والے شوہر کی کئیر کر لیا نا اپنا فرض پورا چلو جاؤ اور جا کر کتابیں لے کر اسٹڈی روم میں بیٹھو جب تک میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔!!
شدید سخت گیر لہجے میں کہتا وہ اُسے ڈانٹتے ہوئے آج ایک بار پھر اُسے اچھے سے یاد دلا گیا کہ اُس پر صرف اُسکا حق ہے کسی اے ٹو زیڈ کا نہیں۔۔
“یہ آپ نن۔نے کیا کیا اب میں اِنہیں کیا دو گی ماما لوگ بھی ان سے پتہ نہیں کس بات کا بدلا لیں رہے ہیں۔۔۔؟؟
وہ سخت چڑتی اُسے دیکھتی ہوئی غصے سے لال ہوتی اپنی ستواں ناک کو شدت سے سہلا کر بولی تو اُس حرکت پر زارقم عباس سلطان کو لگا جیسے وہ ابھی اپنا کنٹرول کھو دے گا اور وہ بھی حُسن کی مورتی اپنے حُسن سے لاپرواہ اُس پر ستم دا رہی تھی۔۔
“تُو وہ اُسی لائق ہے سمجھی۔۔!!
سخت گیر لہجے میں کہتا وہ اُسے گھورنے لگا جبکہ مرجان خالی گلاس کو پھر اُسے تیکھی نظروں سے گھور کر رہ گئی۔
“آپ مجھ سے بڑے ہیں تو اِسکا یہ مطلب نہیں آپ مجھ پر حکم چلائے اور نا ہی میں آپکی کوئی زر خرید غلام ہو جو آپ خود کو میرے مالک سمجھتے ہیں۔۔۔!!
وہ سرمئی آنکھوں کو بڑی کرتی اُسے نخوت سے دیکھتی بولی تو زارقم عباس سلطان اُس ٹڈی دل کو سخت غصے سے گھورنے لگے وہ اُسے اُسکی قد کی وجہ سے ٹڈی دل سمجھتا تھا۔۔۔
“تُم اتنی سی ہو ٹڈی دل اور زبان ماشاءاللہ سے اچھا خاصا لمبا ہے لیکن بے فکر رہو میں بہت جلد اُسے جڑ سے اکھاڑ دو گا۔۔۔!!
وہ غصے سے اُسے اب مخاطب بھی اِسی نام سے کرتا سخت تیش دلا گیا تھا۔۔۔
“یہ شتر مرغ پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے۔۔!!
وہ صرف دل میں اُسے شتر مرغ بولی کیونکہ سامنے بولتی تو وہ اُسے سچ میں ٹڈی دل سمجھ کر اپنے مضبوط مردانہ ہاتھوں کے درمیان میں رکھ کر مسلنے میں ایک لمحہ بھی نا لگاتا۔۔۔
“کہاں لڑکی۔۔۔؟؟
زور سے اُسکے سامنے چٹکی بچا کر اسے اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کچھ نہیں یہی پر اور اب افسوس کر رہی ہو کہ کیوں آپ سے سامنا ہوا۔۔۔!!
افسوس سے اُسے دیکھتی طنزیہ انداز میں بولی تو اسکی بات پر وہ تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھنے لگا جب بولا تو لفظ لفظ میں اسکے لیے مزاق صاف ظاہر ہو رہا تھا جو اسے اچھا نا لگا۔۔
“اب تو ساری زندگی تُم افسوس کروں گی اس ظالم کے پاس رہ کر اسکی خدمتیں کر کر کے مس مرجان منیب سلطان۔۔۔!!
وہ اسکی ستواں ناک کو زور سے دباتے ہوئے بولا۔۔
“بھول ہے یہ آپکی مسٹر زارقم سلطان میں صرف خدمتیں نمیر سلطان کی کیا کروں گی آپ کیا سمجھتے ہیں ژالے سے انہیں جدا کر کے آپ انہیں مجھ سے بھی الگ کرنے میں کامیاب ہو جائے گے تو یہ آپکی سب سے بڑی بھول نا بنائی میں نے انہیں حاصل کر کے تو میرا نام آپ بدل دینا۔۔!!
وہ بھی تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھتی چیلینجنگ انداز میں بولی تو وہ اسکی بات پر سخت پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔۔
“دیکھتے ہیں کیا کرتی ہو تم مس مرجان منیب سلطان۔۔!!
وہ بھی اُسکا چیلنج ایکسیپٹ کرتے ہوئے کہنے لگا تو دونوں نے سخت غصے سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر وہاں سے ہٹ گئے جبکہ دوسری طرف اپنے روم کے دروازے کی دوسری جانب کھڑے نمیر سلطان کے لب پُراسرار انداز میں مسکرا اٹھے تھے۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“زہاک بھیو۔۔!!
وہ آفس کے لیے مکمل ریڈی ہو کر تیزی سے پورچ کی جانب بڑھ رہے تھے پیچھے سے مرجان کی آواز پر ٹھہر گئے جبکہ وہ تیزی سے انکے سامنے آکے کھڑی ہوئی اور اُنہیں سنجیدگی سے دیکھنے لگی۔۔۔
“ہممم گڑیا کیا بات ہے۔۔؟؟
وہ ناسمجھی سے مرجان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے تو مرجان نے نظریں نیچے جھکا کر کہا۔۔
“بھیو مجھے نمیر چاہیے کیا آپ اُسے مجھے دے سکتے ہیں۔۔؟؟
وہ الٹا اُس سے سوال پوچھنے لگی وہ جو مصروف سے انداز میں اپنی کار کے کی ہول میں کی ڈال رہے تھے اس کی بات پر ایک ساعت کو تھم سے گئے۔۔
“گڑیا یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں کیسے نمیر کو آپ کو دے سکتا ہوں۔۔!!
وہ اچنبھے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان نے منت بھری نظروں سے اُنہیں دیکھا اور پھر بے بسی سے انکے آگے ہاتھ جوڑ کر گویا ہوئی۔۔
“پلیز بھیو آپ ہی انہیں میری جانب لوٹا سکتے ہیں ژالے آپی کو طلاق نا دے کر اُنہیں ہمشیہ سے اپنا بنا کر تاکہ نمیر ان سے بدظن ہو کر مجھے اپنائے۔۔۔!!
وہ نم آنکھوں سے بغور انہیں دیکھتی ہوئی بولی تو زہاک سلطان اس چھوٹی سی لڑکی کو تاسف سے دیکھنے لگا جو چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا درد اپنے سینے میں لیے پھر رہی تھی۔۔
“گڑیا میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے کہ میں ژالے کو کبھی نہیں چھوڑو گا اور نمیر سلطان کو ہی تمہارا ہم سفر چننے کے لیے کہوں گی سب گھر والوں کو خاص کر دا جی کو۔۔!!
وہ یہ سوچے سمجھے بغیر یہ لفظ ادا کر گئے کہ بعد میں انہیں اپنے ایک ایک لفظ پر پچھتانا پڑے گا وہ دو زندگیوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے وہ یہ تک نا جان سکے۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ بلکل بھی نہیں رہنا آپ سس۔۔سمجھتے کیوں نہیں ہے ہاں بولیں کیوں۔۔۔۔۔کیوں آخر کیوں میری بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں آپ اور داجی۔۔؟؟
سیاہ شال سے خود کو اچھی طرح چھپائے سرخ رونے کی وجہ سے سوجھ گئی آنکھیں اُن پر تھکا کے انتہائی بے بسی سے بولی تھیں اور وہ سامنے کھڑے اپنے مضبوط شانوں پہ کریم کلر کی خوبصورت شال اوڑھے سپاٹ چہرے کے ساتھ اُسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
“نہیں ژالے بیگم اب تُم میری بیوی ہو زہاک سلطان کی بیوی اور زہاک سلطان اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے حوالے نہیں چھوڑ سکتا اور رہی بے بسی کی بات تو بہت جلد تمہاری بے بسی میری محبت میں بدل جائے گی۔۔۔!!
مضبوط شانوں سے اپنا شال اتار کر وہ قدم آگے بڑھا کر بالکل اسکے روبرو کھڑے ہوئے اور اُسکے نازک کندھوں پر احتیاط سے رکھتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔
“نہیں چاہیئے مجھے آپ کی یہ ہمدردیاں سمجھے آپ مجھے صرف نمیر سلطان کا ساتھ چاہیے میں صرف اُسکی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہو اب سب کو پتہ چل گیا ہے تو آپ مجھے چھوڑتے کیوں نہیں ہے ہاں بولیں مجھے جواب دیں۔۔۔!!!
وہ شال بے دردی سے نیچے فرش پر پھینکتی شدت سے چلا کر بولی تو وہ تاسف سے اُسے دیکھنے لگے وہ اگر اس وقت مرجان سے وعدہ نا کرتے نا تو ضرور دو محبت کرنے والوں کو یوں تڑپنے نا دیتے وہ اچھے سے جانتے تھے کہ محبت نا ملنا کتنا بڑا درد ناک ہے کتنی تکلیف ہوتی ہے سینے میں اپنے محبوب سے دور ہونے کا سن کر کتنا درد اٹھتا ہے اور انکے علاؤہ کون اس درد سے واقف ہے۔۔۔
“ژالے زہاک سلطان یہ ہمدردی نہیں یہ میری محبت ہے اور میں اپنی ہمدردیاں کسی پر بھی نہیں لوٹاتا اور تُم پر جو لوٹاتا ہو وہ میری محبت ہے۔۔!!!
شال کو فرش سے اٹھا کر واپس اُسکے گرد اوڑھا کر بھاری لہجے میں بولے تو ژالے کو اُسکی آواز میں چھپی اپنے لیے محبت دیکھ کر اپنی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ سی لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں تو وہ اپنے گرد سختی سے حصار باندھ کر پلکوں کو عارضوں سے لگا کر شدت سے کانپنے لگی۔۔
“یہاں کافی سردی ہے چلو اندر چلتے ہیں۔۔!!
وہ اُسکے کانپتے وجود کو سردی لگنے کی وجہ سے جان کر سخت پریشان ہو کے اُسے سختی سے اچانک ہی اپنے ساتھ لگا کر بے قراری سے کہنے لگے۔۔
“نن۔نہیں مجھے سردی نہیں لگ رہی چھ۔چھوڑے مجھے۔۔!!
وہ اُسکی قربت پر سخت گھبراتی تیزی سے بولی جبکہ وہ اُسے خود میں بھینچے کھڑے اُسے حرارت دینے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ اُسے سردی نا لگے۔۔۔
“لیکن مجھے لگ رہی ہے ژالے بیگم۔۔۔!!
مخمور لہجہ جب ژالے کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ شدت سے کانپی اور مضبوط حصار سے خود کو سٹپٹا کے شدید روتی ہوئی چھڑانے لگی۔۔۔جبکہ وہ پورے تین سال بعد اپنی عشق و دیوانگی کی وجہ کو اپنے مضبوط باہوں کے حلقے میں آنکھیں موندے شدت سے محسوس کرتے کافی پرسکون لگ رہے تھے۔۔
“آپ پیچھے ہٹے ایک کم سن لڑکی کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی ہاں اور دا جی کو بھی کوئی اور نہیں ملا تھا جو میری شادی ایک بڈھے سے کروا دی۔۔!!
اُسکی بڑھتی ہوئی جسارتوں کو محسوس کرتی شدت سے مضبوط سینے پر دونوں نازک ہاتھ رکھتی اُسے پیچھے کی طرف دھکیلتی چڑ کر بولی۔۔
“وہاٹ میں بڈھا۔۔۔؟؟
وہ جو اُسکی نرم و نازک وجود کو باہوں میں بھر کر اُسکی قربت کے نشے میں چور تھا اُسکے بڈھا کہنے پر جھٹکے سے اُسکا سارا نشہ بھک سے اڑ گیا اور اب اُسکی جگہ غصے نے لے لیا۔۔
“ہاں آپ ایک نمبر کے ٹھرکی بڈھے ہیں۔۔۔!!
وہ شدید غصے سے بچوں کی طرح منہ پھولا کر بولی تو زہاک سلطان اسکے غصے سے کہنے سخت گھوریوں سے اُسے نوازنے لگا۔۔۔
“تُم پر تو نرمی کرنا فضول ہے لڑکی۔۔!!
سخت تیوریاں چڑھا کر وہ شدید غصے سے آگ بگولہ ہو کر کہنے لگا جبکہ ژالے اسکی بات پر ناک بھوں چڑھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“تُو آپ کو کس نے کہا تھا نرمی دکھانے کو اور شوہر بننے کا بڑا ہی شوق تھا نا آپ کو اب میں بتاتی ہوں بری بیوی کسے کہتے ہیں۔۔۔!!
دونوں ہاتھوں کو کمر پر رکھتی وہ شدید غصے اور نفرت سے اُسے دیکھتی ڈرانے لگی جبکہ وہ ڈرنے کے بجائے اُسے خمار لیے آنکھوں سے بغور اُسکے وجود کے زرے زرے کو گہری نظروں سے مطالعہ کرنے لگے۔۔
“منظور ہے بیگم آپکی ہر ادا۔۔۔!!
بھاری لہجے میں کہتے وہ آگے بڑھنے لگے تو وہ اُسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی ڈر کر تیزی سے اندر کی طرف بھاگی۔۔
“بیگم جاؤ گی تو اپنے شوہر کے ہی روم میں اور ہاں ثمر کو سلا دینے ورنہ ہمیں ڈسٹرب نہ کرے وہ ساری رات۔۔!!
پیچھے سے وہ اُسے معنی خیزی سے ہانک لگاتے ہوئے کہنے لگے تو ژالے اِن لفظوں میں چھپے مفہوم کو سمجھتی شدت سے کانپتی اس شخص کو غصے سے سلواتے سنانے لگی اور اب اس سے دور رہنے کا فیصلہ کرنے لگی کہ چاہیے کچھ بھی ہو جائے اُسے اکیلے اِس ٹھرکی بڈھے کے پاس نہیں رہنا اُسکے بیڈ روم میں تو غلطی سے بھی نہیں۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
