No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
“نفرت ہے نا تُمہیں ریوالور اور نسوار سے اب میں تم سے وہی کرواؤ گا جس سے تم سخت نفرت کرتی ہو وفا زیدی۔۔!!
دبیر خان نے اُسکے چہرے پر آئیں نمی کو اپنے لبوں سے صاف کرتے ہوئے پیچھے سے اُسکے بالوں کو سختی سے پکڑ کر کرختگی سے بولا۔۔
“کمینے خبیث انسان تُم مجھے اسطرح یہاں باندھ کر اپنے قید میں رکھ کے سب سے چھپا نہیں سکتے ہوں کسی دن اگر میرا بھائی یہاں پہنچا نا تو تم زندہ نہیں بچوں گے ۔۔!!
وفا اُسے اپنی سرخ آنکھوں سے گھورتی ہوئیں خود کو ان رسیوں سے چھڑانے لگی جو کہ اس ظالم شخص نے اسے حویلی سے بھاگنے پر سزا کے طور پر یہاں حویلی میں موجود تہہ خانے میں ان رسیوں سے باندھا تھا۔۔
دبیر خان اُسکی بات پر سخت غصے سے اُسکی ٹھوڈی کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑ کر اُسکا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب کرتا بے دردی سے اُسکے لبوں کو چھونے لگا اسکی بے درد لمس پر وفا اپنی آنکھوں میں بے شمار نمی لیے اسے دیکھنے لگی جو اپنا غصہ اس پر نکال رہا تھا۔۔
“تُم نے دھوکے بازی نہ کی ہوتی تو آج یہاں نہیں میرے کمرے میں ہوتی لڑکی تمہیں قید کرنا میری مجبوری ہے میں تُمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا تمہیں کھو نہیں سکتا بہت محبت کرتا ہوں میں تُم سے تُم اب دبیر خان کی جنون بن چکی ہو تم اگر میرے ساتھ ہو تو مجھے موت سے بھی ڈر نہیں لگتا تمہارا بھائی مجھے مار دے مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن میں تب بھی تمہارے بھائی کو تمہارا پتہ نہیں دو گا تُم آج بھی میری رہوں گی اور مرنے کے بعد میری بیوہ کیونکہ میں وفا کے ساتھ کسی اور مرد کا نام برداشت نہیں کروں گا۔۔!!
وہ سختی سے اسکے چہرے کو پکڑ کر اسے دیکھتے ہوئے جنونی انداز میں بولا جبکہ وفا اسکی جنونیت سے سخت ڈرنے لگی۔۔۔
“خان۔۔۔؟؟
وفا جو اُسکے پاس لیٹی تھی کہ اُسے نیند میں زور زور سے کچھ بڑبڑاتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور اُسکے اوپر جھکتی ہوئی اسے آوازیں دینے لگی۔۔
“مینا تُم مجھے چھوڑ کر مت جانا ورنہ میں مر جاؤ گا اور میں تُمہارے بھائی کو بھی پتہ نہیں بتاؤ گا کہ تُم کہاں ہوں۔۔!!
دبیر خان نے اپنے دونوں ہاتھ سے اسکے چہرے کو تھام کر اپنی نیند کی خماری لیے گلابی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔وفا اُسے بہکی باتیں کرتے ہوئے دیکھتی مسکرانے لگی کیونکہ وہ اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا اس وقت اسے لگ رہا تھا اسکے حساب آدھے جاگی اور آدھے سوئے ہوئے تھے جو وہ ایسی حرکتیں کر رہا تھا۔۔
“خان ہوش میں آؤں میں کہی نہیں جا رہی ہو بھائی سے تو میں ضرور ملنا چاہتی ہوں تم مجھے خود لے کر جانا۔۔!!
اپنے رخسار پر رکھے اسکے ہاتھوں کے اوپر وفا نے اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔دبیر خان اپنے ہاتھوں پر نرم لمس محسوس کرتے ہوئے آنکھیں جھٹکے سے کھول کر اپنے اسے اوپر جھکے دیکھ وہ مسکرایا۔۔
“دبیر خان کیا ہوا تُم مسکرا کیوں رہے ہو کیا کوئی برا خواب دیکھا ہے جو تم پاگلوں کی طرح ری ایکشن کر رہے ہو۔۔؟؟
وفا اُسکو مسکراتے ہوئے دیکھتی جھٹکے سے اپنے ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔دبیر خان نے اُسکو بیڈ پر لیٹا یا اور خود اسکے چہرے پر جھکا اور نرمی سے اُسکے سرخ لبوں کو چھونے لگا۔۔
“ہاں مینا بہت برا خواب تھا میں تُم پر سختی کر رہا تھا اور پتہ ہے میں یہاں پر تمہیں مارا تھا۔۔!!
دبیر خان نے کہتے ساتھ اس رخساروں کو باری باری چھوتے ہوئے کہا۔وفا اسکی لمس پر اسے دیکھنے سے اجتناب برتنے لگی۔۔
“کیا خان تُم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔؟؟
وہ اسکے مارنے والی بات پر وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی اور اسے غصے سے گھورتی ہوئی بولی تو دبیر خان نے پیار سے اسکے رخسار کو چھوا۔۔
“ہاں میری پیاری سی مینا میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا تھا لیکن خواب میں اصل میں تو میں تم پر ہاتھ اٹھانے کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہوں۔۔!!
وہ اُسے محبت سے دیکھتے ہوئے گویا ہوا تو وفا نے اسے غصے سے دیکھا اور اپنے رخسار پر رکھے اسکے ہاتھ کو ہٹایا۔۔
“کہہ تو تم ایسے رہے ہو جیسے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے تم نے دبیر خان مجھے مار کر وہ بھی اپنے خواب میں ہونہہ ۔۔!!
وہ سخت غصے سے اسے گھورتی ہوئی بولی تو دبیر خان نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسکی گردن کو پیار سے چھوا۔۔
“سوری ۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وفا نے اسے کہونی سے مارتے ہوئے گھورا۔۔
“سوری میری مینا معاف کر دو اپنے خان کو یہ سب خواب میں کیا تھا اور میں خود شرمندہ ہو کہ میں نے تمہیں خواب میں بھی کیوں مارا اور میں ازالے کے طور پر تمہیں تمہارے بھائی سے ملوانے لے کر جاؤ گا۔۔!!
وہ اسے بے چارگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وفا اپنے بھائی کا نام سن کر خوش ہو کر اسکے گلے لگ گئی تو دبیر خان نے اسے پیچھے کیا تو وفا نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
“کیا ہوا۔۔؟؟
وہ اس سے پوچھنے لگی تو وہ اسکے بے حد قریب ہوا اور اسکی ستواں ناک کو نرمی سے چھو کر اسکے گال پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مجھے ہگ نہیں مجھے کچھ اور چاہیے تُم سے مینا۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اسے دیکھنے لگا تو وفا اسکی شرارت سمجھ گئی اور اسے گھورنے لگی۔۔
“اب میں اور کچھ نہیں دینے والی تمہیں اور یہ گاؤں ہے شہر نہیں کہ میں تمہارے لیے مال سے جا کر کچھ لے آؤں گی۔۔!!
وہ اُسے سختی سے بولی تو دبیر خان نے اسکی پیشانی کو چھو کر اسے شریر نظروں سے دیکھا۔۔
“مجھے کوئی مال سے خریدی چیز نہیں مجھے تو اپنے مینا کے نرم ہونٹوں کا لمس یہاں پر چاہیے۔۔!!
وہ اپنی انگلی اپنی پیشانی پر رکھتے ہوئے بے باکی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ وفا اسکی بات پر شرم کے مارے سرخ پڑ گئی۔۔
“بہت بڑے بے شرم ہے آپ خان کون ایسی باتیں کرتا ہے ۔۔؟؟
وہ نظریں جھکا کر نروس ہو کر اپنی انگلی کو مڑورتی ہوئی بولی تو دبیر خان اسکی بات پر مسکرایا اور لیٹے سے اٹھا اور اسکے کندھے سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے اسکے سرخ چہرے کو مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
“مینا میں کرتا ہوں نا صرف ایسے باتیں بلکہ اپنی باتیں عمل کر کے بھی دیکھاتا ہو۔۔!!
وہ اسکے بری طرح سے لرزتے پلکوں کو چھوتے ہوئے معنی خیز لہجے میں بولا جبکہ وفا کبھی اسکی لمس کو آنکھوں میں تو کبھی گالوں تو کبھی ہونٹوں پر محسوس کرنے لگی اور وہ اسکے نازک وجود کو بری طرح سے لرزتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا جو اسکی گستاخیوں کی وجہ سے بری طرح سے لرز رہا تھا۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سارب اور وہ دونوں فلیٹ سے باہر نکلے تو سارب تیزی سے اپنی گاڑی کی جانب بڑھا سیرت بھی اُسکے پیچھے بھاگی۔۔
“تُم آرام سے نہیں چل سکتے۔۔؟؟
سیرت فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی ہوئی سخت گیر نظر اُس پر ڈالتی ہوئی بولی تو سارب نے غصے سے اُسے دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔
“تو تُم تیز چلا کروں اگر اتنی ہی چلنے میں تکلیف ہو رہی ہے تو وہیل چیئر کیوں ایجاد کیا گیا ہے مجھے بتا دیتی میں منگواتا تمہارے لیے وہی وہ بھی اسپیشل۔۔!!
وہ گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے سرد مہری سے بولا تو سیرت وہیل چیئر کا سنتی سخت طیش میں آگئی اور اُسے مکا مارنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ اچانک سے گاڑی انبیلنس ہوگئی وجہ سامنے کھڑی گاڑی تھی۔۔
“اسی لیے میں جلدی کر رہا تھا لیکن نہیں تُم تو وہی بیٹھ کر ان کا انتظار کر رہی تھی اب میں نہیں نکلوں گا تم ہی انہیں یہاں سے چلتا کروں گی۔۔!!
وہ غصے سے اُسے گھورتا ہوا سرد لہجے میں بولتا سیٹ کو پیچھے کرتا ٹیک لگا کر باہر کی جانب دیکھنے لگا۔۔
“کیا میں ان سے فائٹ کروں تُم ایک بلیک بیلٹ اولڈر ہو کر ان سے نہیں لڑ سکتے تو میں نازک لڑکی کیسے لڑ سکتی ہو۔۔!!
وہ اُسکی طرف مرتی ہوئی چیخ کر بولی تو سارب اسکی بات پر زور سے ہنسنے لگا۔۔
“نازک اور تُم وہاٹ آ فنی جوک۔۔!!
وہ اسٹرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے ہنس کر کہنے لگا تو سیرت غصے سے آگے اور اسکے کندھے پر زور سے کاٹنے لگے جبکہ سارب اس اچانک حملے پر خود کو سنبھال نہ سکا اور زور سے چیخنے لگا۔۔
“تُم چاہتے ہو میں جا کر ان سب پہلوانوں سے لڑوں۔۔؟؟
وہ اُسے غصے سے گھورتی ہوئی باہر کی جانب اشارہ کرنے لگی تو سارب عرفان سلطان نے اپنا سر ہاں میں ہلایا تو وہ اسکو گھورنے لگی۔۔
“افکورس تُمہیں اِن سب کو یہاں سے چلتا کرنا ہوگا ورنہ میں تُمہیں باہر نکالنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے آرام سے بولا۔سیرت اُسکی بات پر اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگی لیکن پھر ایک گہری سانس لے کر وہ گاڑی سے باہر نکلی۔۔
“ادین ڈرفوک باہر نکل لڑکی کو بیچ کر تم نے ثابت کر دیا کہ تم کتنے بڑے شیطان ہوں۔۔!!
وہ لوگ سیرت کو اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر ہنستے ہوئے سارب عرفان سلطان کو دیکھتے ہوئے مزاق اڑانے لگے تو سارب انکی بات کو سرے سے نظر انداز کرتا گاڑی سے باہر نکلا اور سامنے آکر کھڑا ہوا۔۔
“چارلی یہ شیطان نہیں یہ تو مجھے ایک ڈرفوک انسان لگ رہا ہے جو ہم جیسے طاقتور گینگ سے ڈر کر اپنے بل میں چھپ رہا ہے۔۔!!
چارلی کا باس آگے بڑھ کر سارب کو طنزیہ نظروں سے دیکھتا چارلی سے مخاطب ہوا تو اسکی بات پر اچانک سے سارب عرفان سلطان کے سر میں درد اٹھنے لگا اور اتنی شدت سے اٹھنے لگا کہ اسکی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔۔
“باس ویسے اُسکی بندی ہے کمال کی۔۔!!
چارلی کی ہوس بھری نظروں کو سیرت اپنے اوپر محسوس کرتی بری طرح سے کانپنے لگی اور سارب عرفان سلطان جو نیچے بیٹھ گیا تھا اسکا تو چارلی کی گھٹیا بات پر اب دماغ گھوم گیا اور وہ اچانک سے اٹھا۔۔
“ابے او کتوں اگر ادین کی بندی کو ہاتھ بھی لگایا نا تُم لوگوں میں سے کسی نے تو تم سب کا حال وہ کروں گا کہ تُم لوگ بیٹھنے کے قابل بھی نہیں رہوں گے۔۔!!
آنکھوں میں خون آشام درندے کی طرح سرخی لیے وہ غصے سے آگے بڑھا اور سختی سے سیرت کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتا وہ گویا غرا اٹھا جبکہ چارلی اسکی شیر جیسی ڈھار پر کانپ اٹھا۔۔
سیرت آنکھیں پھاڑے اُس انسان کو دیکھ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے خود ہی اسے ان لوگوں کو چلتا کرنے کا کہہ رہا تھا اور اب اسے اپنے قریب کیے غصے سے ان سب کو گھور رہا تھا لیکن پھر اسکی غلط فہمی اسی نے ختم کیا ادین نام لے کر تو اس نام کے سنتے ہی وہ یکدم سے بری طرح سے کانپنے لگی۔۔
“ڈارلنگ تُم باہر کیوں نکلی تھی ہاں تُمہیں تو صرف میری نظروں میں ہونا چاہیے ناکہ ان بے غیرتوں کے۔۔سیرت کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہتا سب کو گھورتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“تُم نے خود ہی تو مجھے ان سب کو چلتا کرنے کا کہا تھا سارب عرفان سلطان۔۔!!
سیرت نے منہ کھولے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو سارب عرفان سلطان پر اُسکی گرفت سیرت کی نازک کمر پر سخت ہوتی چلی گئی۔۔
“ڈارلنگ آج کے بعد اس کمینے کا نام میرے سامنے مت لینا ورنہ میں پتہ ہے کیا کروں گا۔۔وہ سیرت کے چہرے کو ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر بظاہر نارمل انداز میں مسکرا کر بولا جبکہ سیرت کو اسکا لہجہ سخت لگا۔۔
“اے ادین بتا کدھر چھپائے ہے تُم نے میرے ہیرے ورنہ میں تُمہاری بندی کا بھیجا اڑا دو گا۔۔؟؟
چارلی نے ڈرتے ہوئے ریوالور سارب کے ساتھ لگ کر کھڑی سیرت کے اوپر کرتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر سیرت کو پیچھے کرتا چارلی کو مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
“چارلی ہیرے تُمہارے کیسے ہوئے میں نے تو ان ہیروں کو تو کسی اور کو نکالتے ہوئے دیکھا تھا اس غریب آدمی کو میں نے اس رات دیکھا تھا پہاڑ پر جسے تُم نے اُس رات بے دردی سے مارا تھا اور ہماری دشمنی بھی تو اسی رات شروع ہوئی تھی اتنی بری یاداشت ہے تمہاری بیڈ۔۔!!
اُس رات ضنافر حسن زیدی اسے اور اپنے سبھی گروپ کو کوئٹہ ایک پہاڑ پر بنے چھوٹے سے کاٹیچ میں لے کر گیا تھا اور وہاں اسکی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ باہر نکل گیا تھا اور جب وہ اس پہاڑ پر ایک چمکتی چیز اسے دیکھائی دی تھی۔
تو طبیعت خرابی کی پرواہ کیے بغیر وہ اس روشنی کے پیچھے بڑھتا چلا گیا تھا جب وہاں پہنچا تھا تو دو لوگوں کو ایک شخص کو بے دردی سے چاقو سے وار کرتیں ہوئے دیکھ اُِسکے سر میں زور سے درد اٹھنے لگا تھا اور پھر پتہ نہیں چلا کب وہ سارب عرفان سلطان سے ادین بن گیا سارب عرفان سلطان کو اس رات کیا ہوا تھا کچھ بھی یاد نہیں تھا کہ اسنے وہاں کیا کیا تھا کیونکہ وہ اسنے نہیں ادین نے کیا تھا ہوا کچھ یوں تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
“کون ہو تُم لوگ اور اِس آدمی کو کیوں مار رہے ہو۔۔؟؟
وہ دونوں خونی اُس شخص کو گھائل کرنے کے بعد سامنے پڑے پوتلی کے پاس جا رہے تھے کہ اپنے پیچھے ایک سخت گیر آواز پر وہ جھٹکے سے پیچھے مڑے تو اپنے سامنے ایک نوجوان کو دیکھ کر ایک لمحے کو تو ڈر گئے لیکن دوسرے پل خود کو سنبھال کر اسے غصے سے دیکھنے لگے اور وہ بھی انہیں خون آشام نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
“اے کون ہوں تم اور یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟
وہ دونوں بجائے اسکے سوال کے جواب دیتے اس سے پوچھنے لگے تو وہ سخت نظروں سے انہیں گھورتے ہوئے اُس شخص کی جانب تیزی سے بھاگا جو بری طرح سے کراہ رہا تھا۔۔
“آپ کو کچھ نہیں ہوگا میں آپ کو اپنے دوستوں کے مدد سے ہاسپٹل لے کر جاؤ گا اور ان سب کو انکی کیے کی سزا ضرور دلاؤ گا۔۔!!
وہ اس شخص کے سر کو اپنے گھٹنوں پر رکھتے ہوئے چارلی اور اسکے ساتھی کو گھورتے ہوئے کرخت لہجے میں کہنے لگا۔۔
“نہیں بیٹا تُم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ یہ تُم کو بھی مار ڈالے گے۔۔!!
وہ شخص تکلیف کے باوجود بھی ہمت کرتا اُسکے ہاتھ پر ایک چمکتی چیز رکھ کر اسکی مٹھی کو سختی سے بند کرتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی نظریں اپنی بند مٹھی پر ٹھہر گئیں۔۔
“نہیں میں آپکو اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر یہاں سے نہیں جاؤ گا اور انہیں بھاگنے بھی نہیں دو گا۔۔!!
وہ اپنی مٹھی کو پاکٹ میں لے جا کر کھول کر پاکٹ کے اندر کسی وزنی شے کو محسوس کرنے کے بعد اُس شخص کو اٹھانے لگا اور ساتھ میں ان سے کہنے بھی لگا لیکن اس شخص نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔۔
“نہیں بچے اب میرے پاس وقت نہیں ہے یہ میں نے امانت رکھی ہے اس کو میرے بچوں کو لٹاو میں یہاں ورکر تھا اور یہ قیمتی ہیرا مجھے اس پاک ذات نے دیا تھا کیونکہ بچے میرے حالات اس وقت اتنے خراب ہے کہ میرے بچے تین وقت کھانے کے لیے ترسے ہوئے ہیں لیکن آج مجھے یہ ملا اور ان لوگوں کی وجہ سے میں ہار گیا۔۔!!
وہ شخص اپنے حالات اس سے کہتے ہوئے رو پڑا تو اسکی بات پر وہ ضبط سے اپنی مٹھیوں کو بند کرنے لگا تبھی اسے محسوس ہوا جیسے وہ شخص دم توڑ کر اس دنیا سے ہمشیہ ہمشیہ کیلئے اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا ہے وہ نم آنکھوں سے اس شخص کی پھٹی آنکھوں کو ہاتھ آگے بڑھا کر بند کرتا ان دونوں کو سرخ نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“تُم لوگوں کو کیا لگا تم دونوں رات کے تین یا چار بجے یہاں کسی کو نہیں پاؤ گے اور ایک غریب آدمی سے اس تحفے کو چھینو گے جو اُس پاک ذات نے اس انسان کو دیا تھا جسکی تڑپ شاید اس سے دیکھا نہیں گیا تھا اور یہ تحفہ اسے اپنی زمین سے دیا تھا اور تم نے اسکی خوشی کو چھیننا چاہا تھا لیکن میں یہ کرنے نہیں دو گا تم لوگوں کو سمجھ گئے تم لوگ۔۔!!
وہ سرخ آنکھوں سے ان دونوں کو گھورتا سامنے پڑے لوہے کی راڈ کو اٹھا کر زور سے ان دونوں کے سر پر وار کرتے ہوئے انہیں بے ہوش کرنے کے بعد اس شخص کو اپنی پشت پر لے کر وہاں سے نیچے اترنے لگا۔۔
“چارلی وہ ہیرا جس کا تھا ادین نے اُس رات اپنے گینگ کے ساتھ مل کر اسے اسکے اصل مالک کو لوٹا دیا تھا ویسے میں پہلے ضنافر حسن زیدی کو اپنا دوست تو نہیں ہاں دشمن مانتا تھا لیکن اس رات اسنے میری بہت ہلیپ کی تھی اسے لیے اب میں نفرت نہیں صرف اس پر غصہ کرتا ہوں اور تمہاری بھلائی اسی میں ہے تم اس ہیرے کو بھول جاؤ ورنہ تمہارے پاس اب صرف جان کھونے کے علاؤہ کچھ بھی نہیں بچا ہے اس رات یاد تو ہے نا کہ میں نے سب کچھ چھین لیا تم سے تمہارا۔۔!!
اُس رات کی یادوں سے باہر نکلا اور چارلی کو دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولا تو چارلی کو وہ بھیانک رات یاد آئی جب انکا سامنا اتنے سالوں بعد
اس کلب پر ہوا تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
“چلے جاؤ مجھے نہیں ملنا تُم سے۔۔!!
میرم ہارون کے آنکھوں میں آنسو دیکھ کر نمیر پاگل ہونے لگا وہ تو صرف اُس سے ملنا چاہتا تھا یہ آنسو وہ نہیں چاہتا تھا۔۔
“تُم روؤ کیوں رہی ہو پلیز روؤ مت میں چلا جاتا ہوں۔۔!!
وہ اُسکے آنسو پونچھنا چاہتا تھا لیکن میرم ہارون شاید اُسے اپنے سامنے نہیں چاہتی تھی اِسی لیے وہ آگے بڑھنے سے خود کو روکے ہوئے تھا۔۔
“میں کہاں رو رہی ہو تُم یہاں سے چلے جاؤ بس مجھے تُمہاری شکل نہیں دیکھنے پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔!!
وہ اپنے آنسو اُس سے چھپاتی ہوئی چیخ کر بولی تو نمیر بے بس سا اُسے دیکھنے لگا جو رو رہی تھی اور چہرہ زرد پڑ رہا تھا یہی بات نمیر کو انہونی لگ رہی تھی۔۔
“تُمہارا چہرہ اتنا زرد کیوں پڑ رہا ہے تُمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں میرم۔۔؟؟
وہ پریشانی سے آگے بڑھا تو میرم ہارون تیزی سے پیچھے ہٹی اور ہاتھ اٹھا کر اُسے غصے سے دیکھتی ہوئی روکنے کا اشارہ کرنے لگی۔۔
“مجھے کچھ بھی نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں تُم یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے اگر تُم نہیں گئے تو ہو سکتا ہے مجھے کچھ ہو جائے۔۔!!
وہ یکدم سے چیختی ہوئی بہکی باتیں کرنے لگی تو نمیر نے اُسکے زرد چہرے اور چھوٹے بالوں کو بغور مطالعہ کیا اُسے ایسا لگا جیسے میرم ہارون اُس سے کچھ چھپا رہی ہے۔۔
“نہیں میرم تُم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہو بتاؤ کیا چھپا رہی ہو تُم مجھ سے اگر تُم نے سچ نہیں بتایا تو میں۔!وہ اسے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے آس پاس کچھ ڈھونڈنے لگا تبھی اُسے سامنے ایک درخت نظر آیا تو وہ آگے بڑھا اور میرم ہارون کو دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔۔اِس پیر پر تب تک اپنا سر مارتا رہوں گا جب تک تُم مجھے وہ سچائی نہیں بتاؤ گی جیسے تُم مجھ سے چھپا رہی ہوں۔۔!!
“نہیں تُم خود کو میری وجہ سے ہرٹ نہیں کر سکتے سنا تُم نے میں تُمہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتی ہارے ہوئے میں تو تمہیں ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔!!
میرم ہارون اُسکے سر سے خون بہتے ہوئے دیکھتی شدت سے چیختی ہوئی اُسکی طرف بھاگی اور اُسے دور کرتیں ہوئے روتی ہوئی بولی۔۔
“تُم اگر مجھے اسطرح نہیں دیکھ سکتی تو میں بھی تُمہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتا میرم تُم وہ واحد لڑکی ہو جیسے میں چاہنے لگا ہو بتاؤ تُم کیا چھپا رہی ہوں۔۔؟؟
وہ آگے بڑھ کر اُسکے چہرے کو پیار سے تھام کر اسے گھور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو میرم ہارون نظریں نیچے جھکا کر آنسو بہانے لگی۔۔
“تُم اگر سچ میں مجھے چاہتے ہو تو پلیز مجھ سے دور رہوں میں تُمہیں اپنی وجہ کوئی دکھ دینا نہیں چاہتی ہوں پلیز تم میری یہ التجا سمجھ لینا یا کچھ بھی لیکن آج کے بعد مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا۔۔!!
وہ نم آواز میں بولی تو نمیر نے اسے بے بسی سے دیکھا وہ بات ضرور گھمبیر ہوگی جو وہ اس سے چھپا رہی تھی۔۔
“ٹھیک ہے تُم مجھے وجہ بتاؤ گی تو میں تم سے دور رہوں گا۔۔!!
وہ ایک اور کوشش کرنا چاہتا تھا لیکن شاید وہ اسے کوئی موقع دینے کو تیار نہیں تھی۔۔
“تُم پاگل انسان سمجھتے کیوں نہیں میں وجہ نہیں بتا سکتی تمہیں تو تم مجھے کیوں فورس کر رہے ہو چلے جاؤ میں تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی ہوں۔۔!!
اپنی سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی سرد لہجے میں بولی تو نمیر نے اسے دیکھا اور پیچھے ہٹنے لگا وہ اب سمجھ گیا کہ یہ اس معصوم کو برباد کرنے کا سزا آج اسے اپنی محبت کی آنکھوں میں نفرت کی صورت میں مل رہا ہے۔۔
