47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

“وفا کا پتہ چلا۔۔؟؟
نمیر نے نظریں اوپر اٹھا کر ضنافر کو دیکھا جو اُسکے آگے گولی بڑھا کھڑا تھا تو اسنے گولی اسکی ہتھیلی سے لیا اور پانی کا گلاس تھامتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“پتہ چل گیا ہے بس وہ جہاں ہے وہاں میں اکیلے نہیں جا سکتا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا تو اسکی بات پر نمیر نے اسے گھورا۔۔
“کیا مطلب اکیلے نہیں جا سکتا وہ ہماری چھوٹی بہن ہے بڑی وہاں مینٹل ہاسپٹل میں ہے اور تُمہیں کوئی فکر بھی نہیں ہے پتہ چلا ہے تو ابھی جا کر اسے لے کر آؤ۔۔!!
وہ بیڈ سے غصے سے اٹھا اور چیختے ہوئے کہنے لگا تو ضنافر نے بھی اسے سخت نظروں سے گھورا۔۔
“وہ جس کے پاس ہے ناں وہ تُم سے بڑا بے غیرت ہے اگر وہاں میں اُسکے گاؤں اکیلا گیا نا تو وہ مجھے مار دے گا پھر تم لوگوں کو کون سنبھالے گا ہاں میں اچھے سے جانتا ہوں اگر میں مر گیا نا تو تم وہی غلطی دوبارہ کروں گے جس سے میں نے تمہیں روکا ہے اور اب زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ابھی آرام کی ضرورت ہے اور ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے میں ہو نا ٹینشن لینے کیلئے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے بیڈ پر لیٹنے کا حکم دینے لگا تو وہ خاموشی سے لیٹا اور اسے گھورنے لگا۔۔
“مجھے آپ سے اِس بات کی امید نہیں تھی بھائی آپ اُس شخص سے اتنا ڈرے گے جو ایک عام سے گاؤں کا ہے بہت افسوس ہوا بہت زیادہ یہ سن کر کہ ایک بزنس مین اس گاؤں کے عام شخص سے ڈر رہا ہے۔۔!!
وہ اُسکی بات پر سخت نظروں سے اسے گھورنے لگا۔۔
“میں ڈر نہیں رہا بلکہ اُسے ڈارنے کیلئے یہ سب کر رہا ہوں تاکہ اسے پتہ چلے کہ اسنے کس کی بہن کو اٹھا کر پنگا لیا ہے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہنے لگا۔۔
“ویسے بھائی وفا کے بارے میں آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ اس شخص کے پاس ہے۔۔؟؟
نمیر نے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو اسنے اسکی طرف دیکھا اور اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھا۔۔
“ان دو آدمیوں سے جو اس عورت کے لیے کام کرتے تھے پہلے تو انہوں نے وفا کو اغوا کیا تھا اور وہ آدمی وفا کو زیدی ولا میں لانے کے بجائے اپنے ساتھ پشاور لے کر گیا ہے میں اُسے چھوڑو گا نہیں۔۔!!
غصے سے اپنی مٹھیوں کو بھینچتے ہوئے کہنے لگا نمیر اس عورت کا ذکر سن کر اور وفا کے اغوا کے پیچھے بھی اس عورت کا ہاتھ وہ غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔
“بھائی مجھے یہاں سے نکلنا ہے پلیز میرا یہاں دم گھٹتا ہے میں مر جاؤ گا مجھے بھی آپ کے ساتھ رہنا ہے ماما کے پاس پلیز یہاں سے مجھے نکالے۔۔!!
وہ ضنافر کو دیکھتے ہوئے بے چارگی سے کہنے لگا جبکہ دل میں پکا ارادہ رکھتا تھا اس عورت کو جان سے مار دینے کا۔۔
“اوکے میں یہاں سے جانے سے پہلے تمہیں ولا بھیجتا ہوں تم فکر مت کروں ویسے بھی اب تمہیں باہر کی کھلی ہوا میں بھی جانا چاہیے اور اس لڑکی کے ساتھ جو تم نے اتنا کچھ کیا ہے اس سے معافی بھی مانگا سنا ہے وہ مل گئی ہے زراقم عباس سلطان کو مجھے پتہ ہے تم بہت تکلیف میں ہو تمہیں رات کو سہی سے نیند نہیں آتی اسے احساس کی وجہ سے کہ وہ تمہیں معاف کرے گی یا نہیں مجھے لگتا ہے وہ تمہیں معاف نہیں کرے گی لیکن تمہیں اپنے سکون کے لیے اس سے معافی مانگنا چاہیے۔۔!!
ضنافر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ شرمندگی سے اپنا سر جھکا گیا یہ گناہ جو اسنے مرجان کے ساتھ کیا تھا اسے کبھی بھی پرسکون رہنے نہیں دے گی وہ یہ اچھے سے جانتا تھا مرجان چاہیے اسکو معاف کر دے یا نہیں وہ اسے طرح بے چینی اور احساس ندامت سے اپنی پوری زندگی گزارے گا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“تُم نے وقت برباد کر دیا ہے اور اب تو مجھے جانے دو۔۔!!
وہ جب صالحہ کے پاس آیا تو صالحہ اسے دیکھتی سخت غصے سے بولی جبکہ وہ اسے بولتے ہوئے نرم نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔
“یارِمن وقت برباد نہیں کر رہا میں بس کچھ مجبوریاں ہیں جہنیں میں سلجھا رہا ہوں تم تو مجھے سمجھوں ناں۔۔!!
اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا بوجھل لہجے میں کہتا اُسکے سانسوں کو اپنی محبت سے مہکانے لگا اور وہ اُس اچانک آفاد پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی جو اسکے اوپر جھکا اپنی تشنگی کو مٹا رہا تھا۔۔
“تو اب تُم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور زیادہ وقت دو واہ مسٹر ضنافر حسن زیدی تم بہت زیادہ چالاک لومڑ نکلے میں کیا بے وقوف ہو جو تمہاری بات کو نظر بند کر کے مان جاؤ۔۔!!
اُسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرتی وہ چٹخ کر بولی تو ضنافر حسن زیدی اسکی بات پر مسکرایا اور اسکے بالوں کو پیچھے سے پکڑ کر اسکا چہرا اپنے بے حد قریب کرتا اسے دیکھنے لگا۔۔
“بہت جاننے لگی ہو تم مجھے جان لیکن ابھی شرارت کرنے کا موڈ نہیں ہے واپس آکر اچھے سے شاباشی دو گا اس بات کا کہ تم مجھے مجھ سے بہتر جانے لگی۔۔!!
اُسکی پیشانی کو پیار سے چھو کر نیچے بڑھا اور ستواں ناک کو چھو کر اسکے دونوں گالوں کو کھینچ کر بے باکی سے کہتا اسکے بالوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا۔۔
“ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی بلکہ یہ موقع اچھا ہے جب تم میرے پاس نہیں رہوں گے میں بھی تھوڑے سے دن خوشی سے رہ کر گزاروں گی۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو ضنافر حسن زیدی اسکی بات پر اسے ترچھی نگاہوں سے گھورنے لگا۔۔
“مطلب میرا اتنے دنوں کا پیار بھرا مظاہرہ کسی کام کا نہیں آیا لگتا ہے مجھے تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جانا پڑے گا۔۔!!
وہ اُسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے معنی خیز نظروں سے اسکے سراپے کو دیکھتے ہوئے بے باکی سے کہنے لگا۔۔
“تم مکر رہے ہو اپنی بات سے میں یہاں اکیلے تمہارے ویٹ کرنے کو تیار ہو لیکن تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جا سکتی اور مجھے اپنے بھائی کو کال کرنا ہے اور اسے بتانا ہے کہ میں تمہارے پاس ہو اور کس حیثیت سے تمہارے ساتھ رہ رہی ہوں وہ بھی میں بتانا چاہتی ہو مجھے یہ دن مہینے کسی بھی ذہنی ٹینشن کے گزرانا ہے۔۔!!
وہ اُسکی باہوں میں بری طرح سے مچلتی ہوئی سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولی تو ضنافر نے اپنا موبائل جیب سے نکال کر اسکے آگے کیا۔۔
“یہ سارب کا نمبر ڈال کر کے بات کروں اس سے اور ہاں میرا سلام ضرور دینا اسے بہت مس کر رہا ہوں میں اسے میرا یار ہے وہ جگر ہے۔۔!!
اسکے ہاتھ سے موبائل لیتی وہ اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی تو وہ اسکے رخساروں کو باری باری چھو کر اسے خود سے الگ کرتا روم سے باہر نکلا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“سارب میرے بھائی کیسے ہو۔۔؟؟
صالحہ نے سارب کا نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا تو دوسری طرف سے کال ریسیو کرنے پر اسنے تیزی سے کہا۔۔
“صالحہ آپی آپ کہاں ہے میں آپ کو پورے اٹلی میں ڈھونڈ رہا ہوں اور آج آپ کو یاد آیا کہ آپکا ایک بھائی بھی ہے جو آپکے ساتھ اٹلی میں تھا اور آپ اتنی لاپرواہ کیسے ہوسکتی ہے اگر آپ کو کہی جانا تھا تو آپ کم از کم مجھے کال کر کے بتاتی۔۔۔!!
سارب اپنی بہن کی آواز سن کر اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی سیرت کو دیکھنا جو صالحہ کے نام پر اسے ہی دیکھنے لگی وہ دونوں آج پھر یونی کے چھٹی ہونے کے بعد صالحہ کو ڈھونڈنے نکلے تھے۔۔
“سارب ریلکس میں ٹھیک ہو اور مم۔میں ضنافر زیدی کے ساتھ ہو اور ہم نے نکاح کیا ہے۔۔!!
اسنے سختی سے آنکھیں میچتے ہوئے کہا تو دوسری طرف سارب نکاح کا سن کر سکتے میں چلا گیا۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہے آپی آپ نے اس انسان سے نکاح کر لیا آپ نے یہ کیا کر دیا کیا آپ بھول گئی کہ اس انسان نے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا۔۔!!
وہ اپنی بہن کی اس حرکت پر سخت خفگی سے بولا سیرت نکاح کا سنتی سارب کو منہ کھولے دیکھنے لگی۔
“مجھے پتہ ہے سارب اسنے ہمارے ساتھ جو کیا تھا وہ ایک موقع چاہتا ہے ہم سے میں نے تو موقع دیا ہے اور میں دیکھنا چاہتی ہو کہ وہ انسان کیسا ہے۔۔!!
وہ اُسے سمجھاتی ہوئی کہنے لگی تو سارب نے غصے سے یہ کہہ کر فون رکھ دیا کہ وہ یہاں اتنا پریشان ہو رہا تھا اور آپ نے وہاں اس شخص سے نکاح کر کے اسے بہت مایوس کر دیا کہ وہ اس کی بہن ہو کر ایک ایسے انسان کا ساتھ دے رہی ہے جو بہت ہی بدتمیز ہے جو بڑوں سے بات کرنا نہیں جانتا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“نہیں میرا بیٹا اتنا بے غیرت نہیں ہے جو کسی کی بیٹی اور بہن کو اٹھائے گا وہ عزت سے لایا تھا اس لڑکی کو جو اسکی بیوی ہے۔۔!!
ضنافر حسن زیدی پولیس فورس کے ساتھ جب پشاور دبیر خان کے گاؤں اسکی حویلی میں پہنچا تو اسکے غصے سے دبیر خان کے بلانے پر دبیر خان کے باپ نے آگے بڑھتے ہوئے انکے بارے میں پوچھا کہ وہ لوگ کون ہے تو ضنافر حسن زیدی نے انکی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے آرام سے کہا کہ وہ وفا زیدی کا بھائی ہے جسکو اسکے بیٹے نے اغوا کیا ہے۔۔
“کیا بیوی آفیسر سن رہے ہیں آپ اس ان پڑھ جاہل انسان نے میری بہن سے زبردستی نکاح کیا ہے اور اب خود پتہ نہیں کہا جا چھپا ہے۔۔!!
وہ اپنی بہن کا ایک ان پڑھ جاہل انسان کے ساتھ نکاح کا سن کر سخت غصے سے آفیسر سے کہنے لگا۔۔
“اوہ شہری بابو ماڑا میرا خاناں میرا بھائی ان پڑھ جاہل نہیں ہے وہ بہت پڑھا لکھا ہے اور اس گاؤں کو دیکھ رہے ہو وہ اس گاؤں کا سردار ہے اور کوئی زبردستی نکاح نہیں کیا میرے بھائی نے تمہاری بہن خوش ہے میرے بھائی کے ساتھ اور وہ پھٹان کا بچہ ہے مرد ہے بھاگا نہیں ہے یہی گاؤں میں ہے۔۔!!
دبیر خان کے بھائی حشمت خان سے اپنے بھائی کی بے عزتی برداشت نہیں ہوئی تو اسنے آگے بڑھتے ہوئے ضنافر زیدی جو سخت غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔
“نہیں میری بہن کو اسنے اغوا کیا ہے اور میں نہیں مانتا کہ وہ خوش ہے میں اپنی ضدی بہن کو اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ مرنا تو پسند کرے گی لیکن ہاں کبھی بھی نہیں کرے گی ضرور اس انسان نے میری بہن کے ساتھ کچھ کیا ہوگا اسی لیے وہ مانی ہوگی آفیسر کیسے بھی کر کے میری بہن کو اس جنگلی انسان سے بچاؤ۔!!
وہ ان سب کو دیکھتے ہوئے آخر میں آفیسر سے کہنے لگا۔۔
“ماڑا آج تو خان کے سالے صاحب آئے ہیں۔۔!!
ضنافر حسن زیدی کو اپنے پیچھے ایک خوبصورت آواز سنائی دی تو وہ پلٹ کر اپنے سامنے ایک خوبصورت نوجوان کو کھڑے بغور دیکھنے لگا لیکن اسکی نظریں اسکے پیچھے بڑے سے چادر میں چہرہ ڈھکے اپنی بہن پر ٹھہر گئی جو نظریں نیچے جھکائے اسکے پیچھے کھڑی تھی۔۔
“وفا۔۔!!
وہ اُسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھا اور وفا کے پاس پہنچ کر اسے گلے سے لگا کر کہنے لگا تو وفا اپنے بھائی کو دیکھتی بری طرح سے اس سے لگ کر رونے لگی ۔
“بھائی۔۔!!
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی تو ضنافر نے اسے الگ کیا اور اسکے چہرے کو تھام کر اسے دیکھنے لگا جو اب چہرے سے چادر ہٹائے ضنافر کے پیچھے کھڑے دبیر خان کو دیکھنے لگی جو اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔
“ڈروں مت وفا میری گڑیا اب تمہارا بڑا بھائی یہی ہے یہ شخص اب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اسکے سبھی گھر والوں کے سامنے اسکی اصلیت بتاؤ کہ اسنے کیسے تم سے نکاح کیا ہے۔۔؟؟
ضنافر نے پیچھے پلٹ کر دبیر خان کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو دبیر خان اسکے دیکھنے پر مسکرایا۔۔
“نن۔نہیں بھائی کسی نے میرے ساتھ زبردستی نہیں کیا ہے بلکہ میں خوش ہو دبیر خان کے ساتھ اور مم۔میں اسے پسند کرتی ہوں۔۔!!
دبیر خان کی گہری نظروں سے ڈرتی وہ تیزی سے بولی تو اسکی بات پر دبیر خان خوبصورتی سے مسکرایا۔۔
“سالے صاحب سن لیا کہ تمہارا داماد بہت شریف ہے ماڑا وہ اتنا نرم دل ہے کہ اپنے دشمنوں کو بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتا یہ تو پھر میری مینہ ہے۔۔!!
دبیر خان نے آگے بڑھ کر وفا کو کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مسکراتی نظروں سے ضنافر حسن زیدی کو دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے سے کہا۔۔
“بابا مہمانوں کو کھانا کھلائے بغیر جانے مت دینا خاص کر سالے صاحب کو چلو مینہ میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے اتنے ڈانٹ ڈپٹ سن کر میرا سر ہی دبا دوں۔۔!!
دبیر خان نے وفا کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے حویلی کے ملازم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو ضنافر حسن زیدی اپنے آپ کو اس طرح اگنور کرنے پر غصے سے اپنی بہن اور اسکے شوہر کو گھورتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور اسکے پیچھے پولیس فورس بھی باہر نکلی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“”مینہ میری جان ماڑا زرا میرے سر کو دباؤ سالے صاحب کی باتوں نے بہت درد کروا کر دیا ہے ہمارے سر میں اپنے سر کے تاج کا سر پیار سے دباؤ۔۔!!
دبیر خان بیڈ پر بیٹھتے ہوئے وفا کو دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا وفا جو روم میں داخل ہو رہی تھی اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“میں سر کی جگہ گردن نا دبا دو بڑا آیا سر تاج۔۔!!
وفا نے غصے سے کہا تو دبیر خان نے نظریں اٹھا کر اپنی مینہ کو پیار سے دیکھا اور پھر بیڈ سے نیچے اترا وفا جو چہرہ مکمل ڈھانپے غصے سے اُسے بڑے سے گھونگھٹ کے پیچھے سے دیکھ رہی تھی اُسکے بیڈ سے نیچے اترنے پر وہ بری طرح سے ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹی اور دروازے کے ساتھ جا لگی۔۔
“ماڑا تم ہمارا گردن بھی کاٹ لوں ہم آف نہیں کرے گا میری جان مینہ گل پری۔۔!!
وہ اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا اُسکے آوارہ لٹوں کو چھیڑنے لگا جبکہ وفا اُسکی قربت میں سخت سٹپٹا کے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے چوڑے سینے پر رکھتی خود کو اُس سے دور کرنے لگی لیکن دبیر خان نے یہ ہونے نہیں دیا۔۔وہ اُسے اپنے مزید قریب تر کرتا گھونگھٹ کے اوپر سے ہی اُسکی پیشانی کو پیار سے چھو کر اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
“دور رر۔۔۔رہوں مجھ سے بدتمیز بے ہودہ انسان اور یہ کیا تم نے بار بار کبھی مینہ تو کبھی گل پری میں تمہاری مینہ اور گل پری نہیں ہو میرا نام وفا زیدی ہے۔۔!!!
اُسے غصے سے دور دھکیلتی ہوئی سخت درشت لہجے میں بولی تو دبیر خان اُِسکے غصے کو خاطر میں لائے بغیر اُسکی کمر پر گرفت سخت کرتا اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتا وہ اچانک سے نیچے جھکا اور اُسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں بھرتا خاموشی سے بیڈ کی جانب بڑھا۔۔
“تُم میری مینہ بھی ہو اور گل پری بھی ہو جان بھی اور روز ہم اپنی مینہ کو ایک نئے نام سے پکارے گا آج تم میری گل پری لگ رہی ہو خان کی گل پری۔۔!!
اُسے بیڈ پر لیٹا کر اُسکے سراپے کو دیکھنے لگا جو مورے کے دیئے ہوئے افغانی لباس میں ملبوس آسمان سے اتری کوئی پری لگ رہی تھی لیکن اُسکا چہرہ وہ گھونگھٹ کے پیچھے چھپنے کی وجہ سے دیکھ نہیں پا رہا تھا تو بے خودی سے اسنے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکا گھونگھٹ چہرے سے جدا کرنا چاہا تو یکدم سے وفا گھبرا کر پیچھے کھسکی اسے تو اسکی بے باکیوں گستاخیوں سے بچنے کیلئے جیسے ایک خوبصورت موقع مل گیا ہوں۔۔
“نا نا نا ایسے نہیں۔۔!!
گھونگھٹ کے پیچھے سے ہی اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھتی وہ انگلی اٹھا کر نا میں اشارہ کرتی ہوئی بولی ۔
“مینہ آہ میری جان یہ ظلم نہیں اپنے خان پر شاباش ہم کو اپنا چہرہ دیکھاؤ ورنہ ماڑا ہم زبردستی کرے گا تو تم روؤ گی۔۔!!
وہ بے چارگی سے آگے بڑھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مجھے دیکھنے کیلئے خان تُمہیں بہت ساری قربانیاں دینی ہوگی۔۔!!
وہ گھونگھٹ کے پیچھے سے اُسے دیکھتی بولی سُرخ لپ اسٹک لگے لب اُسکو بے چین دیکھ کر مسکرا اٹھی تھی۔۔
“ماڑا جان بھی قربان اِس خان کی اپنی مینہ کے لیے بتاؤ کیا قربان کرنا ہوگا ہم کو ہم اپنی مینہ کیلئے جان لے بھی سکتا ہے اور دیں بھی سکتا ہے۔۔!!
وہ تھوڑا آگے کھسک کر اُسکا ہاتھ تھامنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اُسنے اُسے روکا اور خود پیچھے ہوئی اور گھونگھٹ کے پیچھے سے اُسے نظریں اٹھا کر دیکھنے لگی جو شاید اب بے چینی سے نسوار جیب سے نکال رہا تھا۔۔
“خان پہلی قربانی آپ اِسکی دیں گے یہ بھی کوئی لینے کی چیز ہے چی آپ اُسے ابھی میرے سامنے باہر پھینکے گے ورنہ میں کبھی آپ کو اپنا منہ نہیں دکھاؤ گی۔۔!!
اُسے جیب سے نسوار نکالتے ہوئے منہ کی طرف لے جاتے ہوئے دیکھ کر وہ ناگواری سے نسوار کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ یہ سن کر شاکڈ رہ گیا اور سر نفی میں ہلانے لگا۔۔
“نا نا مینہ تم میری محبت ہو تو یہ ماڑا ہمارا عشق ہے ہم سے جان مانگ لو لیکن یہ نسوار نہیں جاناں۔۔۔!!
وہ اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے اُسی نظروں سے نسوار کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی نظروں میں اُس چیز کیلئے پیار دیکھ کر وہ غصے سے بیڈ سے اٹھی تو اسے غصے سے بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے دیکھ کر وہ بھی اُسکے پیچھے بیڈ سے نیچے اترا۔۔
“تو خان اِسی عشق سے شادی رچاتے مجھ سے کیوں شادی کی تم نے ہاں۔۔؟؟
وہ گھونگھٹ کو مزید نیچے کرتی تیز لہجے میں بولی تو وہ اسکے پیچھے کھڑا ہوا اور اسے پیچھے سے پکڑنے والا تھا کہ وہ اُسکا ارادہ بھانپتی تیزی سے آگے بڑھی تو وہ سخت بدمزہ ہوا۔
“اب تو میں روز آپ کے سامنے اسی طرح گھونگھٹ ڈال کر آؤں گی آپکو آپ کا یہ عشق بہت بہت مبارک ہو۔۔!!
اُسکے ہاتھوں میں ابھی تک نسوار کے پیکٹ کو دیکھ کر وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی اپنے گھونگھٹ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔۔
“مینہ آہ میری پیاری مینہ جانم یہ دیکھو ہم اپنے عشق سے دستبردار ہو گیا اب تو میری جان خوش ہے ناں اب اپنا یہ حسین مکرہ چہرہ ہمیں دکھائی گی ناہم نے اتنی بڑی قربانی جو دی ہے۔۔؟؟
وہ نسوار کے پیکٹ کو کھڑکی سے نیچے پھینکتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے چھونے ہی والا تھا کہ وہ پھر سے پیچھے ہوئی تو اُسنے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
“نہیں ابھی بھی دو قربانیاں رہتی ہے خان۔۔!!
اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو وہ بڑے ہی ناز سے مڑورتی ہوئی گھونگھٹ کے پیچھے سے اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو وہ دو قربانیاں سن کر ڈرنے لگا۔۔
“ماڑا اب اور کتنی قربانیاں دینی پڑے گی ہم کو مینہ میری جاناں۔۔؟؟
اسکے بے بسی سے کہنے پر وہ بیڈ سائیڈ کی جانب آہستگی سے بڑھی اور ٹیبل کے اوپر رکھے اسکے ریوالور کو اٹھا کر اُسکی طرف کرتی اُسے گھونگھٹ کے پیچھے سے چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگی تو وہ ریوالور کو اپنے سامنے دیکھ کر مسکرایا مطلب اب اُسے اپنے ریوالور سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا 😭۔
“خان جی دوسری قربانی آپ کو اُسے دریا میں پھینک کر دینا ہوگا۔۔!!
ریوالور کو اُسکے سامنے پھیلا کر وہ مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی نہایت اشتیاق سے بولی جبکہ اُسکی بات پر وہ رونے والی صورت بنا کر اُس دشمنِ جاں کو دیکھنے لگا جو اب پتہ نہیں اسکے علاؤہ کونسی قربانی کا کہے گی دو قربانیاں تو اُسکی جان لے گئی لیکن تیسری کو تو سن کر اسے لگ رہا تھا کہ وہ سچ میں اِس جہاں سے اٹھ جائے گا۔۔
“اور تیسری۔۔؟؟
وہ ریوالور کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بے بسی سے تیسری اور آخری قربان کرنے والی چیز کے متعلق پوچھنے لگا جو اب اسے نسوار اپنے پہلے عشق کی طرح اسے وہ بھی قربان کرنا پڑے گا۔۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے خان پہلے تو تمہیں میرے پیر دبانے پڑے گے پھر میں پیار سے بتاؤ گی کہ وہ کونسی چیز ہے جسکی قربانی آپ کو دینے پڑے گی۔۔؟؟
وفا گھونگھٹ کو سنبھالتی ہوئی اندازے سے بیڈ کی جانب بڑھی اور ایک ناز و ادا سے بیڈ کے اوپر بیٹھتی ہوئی بے باکی سے کہنے لگی۔۔
“کیا اب ہم کو دبیر خان کو اپنی بیوی کے پیر دبانے پڑے گے اس گاؤں کے سردار کو افف مینہ یہ تو بہت بڑا ظلم ہے جاناں۔ماڑا اگر اپنے خان کے ساتھ شرارت کرنا ہے تو محبت نرمی سے کروں یہ کیا ظالموں کی طرح ظلم کر رہی ہو۔!!
وہ اُسے بے بس نظر سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وفا نے سامنے بیڈ پر رکھے اسکے سیاہ چادر کو اٹھا کر اپنے اوپر اچھے سے اس طرح اوڑھا کے اسکے کپڑے چھپ گئے اور یہ دیکھ کر دبیر خان کو دھچکا لگا اسے اپنے خاندانی لباس میں ملبوس بڑے ہی پیار سے دیکھ رہا تھا کہ اس دشمن جاں کے اس آخری سہارے کے چھینے پر وہ مایوس ہوگیا۔۔
“خان اگر آپ نے میرے پیر پیار سے نہیں دبائے تو میں اب خود کو اس کمبل سے چھپاؤ گی۔۔!!
وفا اسکی سیاہ چادر سے آتیں اسکی کلون کی مہک سے خود کو اسکے سحر میں گرفتار ہونے سے ضبط سے بچاتی ہوئی آنکھوں کو سختی سے میچتی ہوئی کہنے لگی۔۔