47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“خانم یہ آپکے لیے خان نے بھیجا ہے۔۔۔؟؟
ملازمہ نے ایک خوبصورت بلیک کلر کا افغانی ڈریس اُسکے آگے کرتے ہوئے نظریں نیچے جھکا کر دبیر خان کا پیغام اُسے دیا۔۔
“میں کیوں تُمہارے خان کی بات مانو جاؤ لے کر جاؤ اُسے یہاں سے ورنہ میں اُسکے ساتھ اِس ڈریس کو بھی آگ میں جھونک دو گی۔۔!!
وہ سخت نظروں سے ملازمہ کو گھورتی ہوئی بولی تو ملازمہ اُسکی بات پر اُسے تاسف سے دیکھتی پھٹانی میں پتہ نہیں کیا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے روم سے باہر نکلنے کے قدم آگے بڑھانے لگی کہ اُسنے اُسے روک دیا۔۔
“رکنا یہ تُم اپنی زبان میں کیا کہہ رہی ہو ہاں کئی مجھے گالیاں تو نہیں دے رہی تُم۔۔؟؟
وہ تیز نظروں سے اُسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“ماڑا ہمارا دماغ خراب نہیں ہوا جو ہم خان کی بیوی کو گالیاں دے گا ورنہ خان تو” موږ به ووژنو.”
“(ہم کو قتل کر دے گا).”
ملازمہ نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا تو اُس انسان کا یہاں اتنی دہشت دیکھ وہ خود بھی اس ملازمہ کی طرح اس سے ڈرنے لگی لیکن خوف کے باوجود بھی اس ملازمہ کو دوبارہ پھٹانی میں کچھ کہتے ہوئے دیکھ وہ سخت آگ بگولہ ہوگئی تھی۔۔
“تُم نے پھر سے پھٹانی ڈائیلاگ مارا یو۔۔۔!!
وہ ملازمہ پر اپنا غصہ نکالنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے ایک گھمبیر بھاری آواز روم میں گونجی جیسے سن کر ملازمہ فورأ سے وہاں سے رفو چکر ہو گئی تھیں جبکہ وہ اس آواز پر پیچھے پلٹی تو بت بن گئی۔۔
سامنے دبیر خان اپنے روایتی لباس سفید قمیص شلوار میں ملبوس سر پر پھٹانی ٹوپی پہنے اور شانوں پہ کریم کلر کی شال اوڑھے وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔۔
“لڑکی یہاں اپنی زبان اور ہاتھوں پر قابو رکھنا کیونکہ ہمارے یہاں ملازم کو بھی وہی درجہ دیا جاتا ہے جو گھر کے فرد کو دیا جاتا ہے اور اگر کسی گھر کے فرد نے انکے ساتھ بدسلوکی کرنے کی کوشش کی اُسے ہم پھر ملازم نہیں غلام بنا کر رکھتے ہیں چاہیے وہ اس گھر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ملازموں کے ساتھ یہ سلوک کرنے والا سمجھی۔۔!!
وہ دیکھ چکا تھا کہ وفا اِس ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے والی تھی اور یہ یہاں اُنکے قبیلے میں اگر کسی نے ملازمہ کو اپنے سے کم تر سمجھا تو اُسے یہاں کے لوگ اُس ملازمہ سے بھی اُسے کم تر بنا دیتے تھے کیونکہ یہ یہاں کے سردار کا فیصلہ تھا جو اُسکے بابا نے رکھا تھا۔۔
“میں کیوں ملازمہ کو اپنے برابر کروں ہاں وائے۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں پوچھتی دبیر خان کو سخت زہر لگی۔۔
“کیونکہ کوئی کم تر نہیں ہوتا سب برابر ہیں سمجھی لڑکی اللہ نے سب کو برابری کا درجہ دیا ہے چاہے پھر وہ مرد ہو یا عورت۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اُسے گھورتا ہوا سرد لہجے میں کہنے لگا تو وفا زیدی اُسکی آواز پر سخت ڈر گئی تھی اب اسے سمجھ میں آگیا تھا کہ یہاں کہ لوگ اپنے اصولوں کے خلاف جانے والوں کا انجام بہت زیادہ برا کرتے ہیں تو وہ اب سوچ رہی تھی کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کے لیے اُس شخص کی باتوں کو مانے گی چاہے کچھ بھی ہو وہ انکار نہیں کرے گی۔۔۔
“اور ہاں جلدی سے تیار ہو جاؤ آج ہمیں کورٹ جانا ہے کورٹ میرج کے لیے۔۔!!
وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وفا اُسکی کورٹ میرج والی بات پر آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
“میں نے تُمہیں پہلے بھی منا کیا تھا کہ میں تُم سے شادی نہیں کروں گی تو تم ضد کیوں کر رہے ہو۔۔۔؟؟
وہ سخت لہجے میں بولی تو دبیر خان سخت غصے میں آ کر آگے بڑھا اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا غرا اٹھا۔۔
“لڑکی ضد میں نہیں بلکہ تُم میرے لیے ضد بنتی جا رہی ہوں زبردستی کرنے پر مجبور کر رہی ہوں اور تم اِسی طرح اگر انکار کرتی رہی نہ تو باہر کسی کے کانوں میں تمہاری آواز چلی جائے گی تو تمہیں یہاں میرے خاندان والوں کے ساتھ گاؤں والے بھی زندہ نہیں چھوڑے گے تم مر جاؤ گی کیونکہ وہ اپنے سردار کو تو کچھ نہیں کرے انہیں لگے گا کہ تم ہی اُنکے سردار کے پیچھے پڑی ہوں اِسی لیے سردار کو تمہارے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔۔!!
وہ ہاتھ کی پشت سے اُسکے چہرے کو نرمی سے سہلاتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا جبکہ وفا اُسکی بات پر اب سہی معنوں میں ڈرنے لگی تھی۔۔۔
“تُم مجھ سے ہی کیوں شادی کرنا چاہتے ہو کیا تمہارے خاندان کی ساری لڑکیاں مر گئی ہے یا پھر گاؤں میں کوئی اپنی لڑکی کو تمہیں دینے کو تیار نہیں ہے۔۔؟؟
وہ طنزیہ نظروں سے اُسے دیکھتی پوچھنے لگی تو دبیر خان اُسکی بات پر سخت شعلے برساتی نظروں سے اُسے گھورنے لگا۔۔
“نہیں سب میرے پیچھے مری جا رہی ہے پاگل ہو گئی ہے ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے مجھے حاصل کرنے کے لیے لیکن میں صرف ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور وہ تم ہو شہری میم۔۔!!
اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد قریب کرتا وہ معنی خیزی سے بولا تو وفا اُسکی اتنی نزدیکی پر غصے سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے مارنے لگی۔۔۔
“تُم میرے ساتھ زور زبردستی نہیں کر سکتے ہو میں جب تک راضی نہیں ہو تُم سے شادی کرنے کےلئے تو تُم مجھ سے زور زبردستی شادی نہیں کر سکتے ہو سمجھے۔۔!!
وہ اُسکے سینے پر زور زور سے مکا مارتی اپنا غصہ نکالتی ہوئی کہنے لگی جبکہ دبیر خان جو اُسکے خوبصورت چہرے کو دیکھنے میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک سے اُسنے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے رخساروں کو چھوا تو وفا جو غصے سے نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی اُسکی اِس حرکت پر وہ خاموش ہو گئی۔۔
“او زما ګرانه تاسو ډیر ښکلی یاست..!!
(ہائے میری جان تم بہت زیادہ خوبصورت ہو).!!
وہ پشتو زبان میں بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا تو وفا زیدی اُسکے پشتو میں کچھ کہنے پر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“یہ تُم نے مجھے گالیاں دی ہے نا اپنی زبان میں کچھ تو شرم کروں ایک لڑکی کو گالیاں دے رہے ہو چی۔۔!!
وہ منہ تھیڑا کرتی غصے سے بولی تو اُسکی بات پر دبیر خان کو زور سے ہنسی آئی تو وہ ہنستا ہی چلا گیا۔۔
“موږ حتی د داسې ښکلې نجلۍ سره د ناوړه چلند فکر هم نشو کولی.”
(ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے اتنی خوبصورت لڑکی کو گالی دینا).”
وہ اُسے سر تا پیر غور سے دیکھنے کے بعد پھر سے اپنی زبان میں کہنے لگا جو اُسے بلکل بھی سمجھ میں نہ آیا تو غصے سے ہاتھ اُسکے سینے پر مارتی اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔۔
“لڑکی ہم تُم کو گالی دے گا تب تک جب تک تم ہاں نہیں کرتا ہم سے شادی کے لیے۔۔!!
وہ پھٹانی انداز میں اب اُس سے اردو زبان میں کہنے لگا تو وفا زیدی اُسے ابکی بار بے بسی سے دیکھنے لگی۔۔
“تم لوگ کیوں زبردستی کرتے ہو ہم معصوم لڑکیوں کے ساتھ ہاں۔۔؟؟
وہ روتی ہوئی کہنے لگی تو دبیر خان نے آگے بڑھ کر اسکے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرنے لگا۔۔
“ماڑا آج تو یہ تمہارے خوبصورت آنکھوں سے گرے ہیں آئندہ خیال رکھنا ورنہ ہم آگ لگا دے گا تم کو اور خود کو بھی۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اُسے گھور رہا تھا اور اُسکی باتیں تو وفا کی سمجھ سے باہر تھی کبھی وہ زبردستی کرنے لگتا تو کبھی نرمی سے پیش آتا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“پشمینہ گل۔۔!!
سرخ آنکھوں سے اپنی سرخ و سفید کلائی پر چھری رکھے دبیر خان اور وفا زیدی کے متعلق سوچ رہی تھی جیسے جیسے وہ ان دونوں کے حوالے سے سوچتی جا رہی تھیں ویسے ویسے چھری کا دباؤ اسکی کلائی پر بڑھتا چلا جا رہا تھا کہ تبھی اسکی ماں نے آکر چھری کو دور اچھالتے ہوئے غصے سے اسکا نام لیا تو وہ ہوش میں آ کر انہیں دیکھنے لگی جو غصے سے اسے گھور رہی تھی۔۔
“یہ کیا حرکت ہے ہاں لڑکی تم اب حرام موت مرنا چاہتی ہوں بھول کیوں گئی کہ تمہارے باپ نے کس طرح بچایا تھا خان سے بھول گئی کم بخت۔۔!!
انہوں نے غصے سے اسکی پیٹھ پر زور سے مارتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا تو وہ نیچے بیٹھتی ہوئی اپنے بالوں کو پاگلوں کی طرح نوچنے لگی۔۔۔
“مورے مجھے خان چاہیے میں اُسے کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی وہ صرف میرا ہے اس شہری میم کا نہیں صرف میرا ہے پشمینہ گل کا مم۔۔میں اسے جان سے مار دو گی مورے۔۔!!
وہ جنونی انداز میں کہتی اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو اسے شدید غصے سے گھور رہی تھی انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ انکی اکلوتی اولاد انکے لیے عزاب ثابت ہوگی۔۔
“لڑکی ہوش کے ناخن لیں اگر یہ باتیں خان کو پتہ چل گئی نا تو اس بار تمہارا باپ بھی تمہیں نہیں بچا پائے گا خان اس لڑکی کو بہت چاہتا ہے۔۔۔!!
وہ دوبارہ سے اسے پیٹتی ہوئی غصے سے کہنے لگی جبکہ وہ بجائے سمجھنے کے الٹا غصے و جنون کی کیفیت میں اپنی مٹھیوں کو کھس رہی تھی۔۔۔
“مجھے پرواہ نہیں ہے اب خان کو بس حاصل کرنے کا مقصد ہے اس دل میں اور میں اس لڑکی کو مار کر ہی خان کو اپنا بناؤ گی۔۔!!
وہ اٹھی اور انہیں دیکھتی ہوئی کہنے لگی جبکہ انہیں اسکے ارادے خطرناک لگ رہے تھے اسی لئے وہ ڈر رہی تھی کہ وہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے کچھ کر نہ دے۔۔
“تُمہیں ڈرنا چاہیے بے شرم کہ یہ لوگ تمہیں اب زندہ نہیں چھوڑے گے خان کو تو تمہیں جان سے مار دے گا جب تم اسکی بیوی کو ہاتھ لگاؤ گی اب میرے پاس ایک راستہ ہے تمہیں روکنے کا۔۔!!
وہ غصے سے اسے بیڈ پر دھکیلتی ہوئی درشت لہجے میں کہتی قدم پیچھے دروازے کی طرف بڑھانے لگی جبکہ وہ انکے قدموں کو دیکھ رہی تھی جو دروازے کے سامنے آ کر ٹھہر گئے وہ بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی اسکا مطلب اسکی ماں اسے اس کمرے میں قید کرنا چاہتی ہے یہ سوچ دماغ میں آتی ہی وہ غصے سے اٹھی اور دروازے کی جانب بڑھنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی اسکی ماں نے زور سے دروازہ بند کر دیا اور پھر باہر سے بھی لاک لگانے کی آواز پر وہ غصے سے پاگل ہوتی زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔۔
“اس طرح مجھے اندر بند کرنے سے آپ اسے نہیں بچا سکتی میں باہر سے ہی کسی سے یہ کام کروا بھی تو سکتی ہو میری بے وقوف مورے جان۔۔!!
وہ سخت غصے سے چیخ چیخ کر کہنے لگی اور اسی وقت دبیر خان جو ولی خان کے پاس جا رہا تھا ان دونوں نے شکار کھیلنے کا پروگرام بنایا تھا وہ رائفل کندھے پر لٹکائے ہوئے تھا اور اسکے کندھے پر رائفل دیکھ کر پشمینہ گل کی ماں سخت خوفزدہ ہوئی وہ ڈرنے لگی کہ کہی خان اسکی بیٹی کی باتیں نا سن لے جبکہ وہ اسکی آواز پر شدید غصے سے آگے بڑھا لیکن اپنی تائی کو بے بس دیکھ کر وہ ٹھہرا اور ضبط سے اپنی مٹھیوں کو کھسنے لگا لیکن وہ کچھ کہتی اسنے انہیں خاموش کروا دیا تھا۔۔
“وہ لڑکی آج رات مرے گی مورے سمجھے آپ وہ نہیں بچ سکتی میں اپنے کمرے میں بند ہو کر بھی اسے مروا سکتی ہو۔۔!!
اُسکی بات پر دبیر خان نے اپنا ضبط کھو کر قدم سخت غصے سے دروازے کی جانب بڑھائے اور زور دار دھماکے سے دروازہ اپنے کندھے پر لٹکائے رائفل سے اڑا کر اسی تیوروں کے ساتھ وہ اندر داخل ہوا تو پشمینہ گل اسے اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے اٹھی۔۔
“خان تُم آ گئے اپنی مینہ کے پاس اپنی ہونے والی بیوی کے پاس۔۔!!
وہ آگے بڑھی اور اسکے سینے سے لگنے ہی والی تھی کہ دبیر خان نے غصے سے رائفل کو بیچ میں لا کر اسے دیکھتے ہوئے اپنے قریب آنے سے روکا۔۔۔
“مينه او هغه هم زہ۔۔۔”
(مینہ آہ اور وہ بھی میری)
وہ طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“میری مینہ صرف ایک ہے اور وہ میرے کمرے میں ہے اور جسے تُم آج رات کو مارنا چاہتی ہوں ناں تو سن لوں جسے تم بھیجوں گی ناں اسکا سامنا پہلے دبیر خان سے ہوگا یہ اسے ضرور بتانا ورنہ بے چارہ مجھے وہاں دیکھ کر فوت ہو جائے گا۔۔!!
سخت نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے کرخت لہجے میں کہنے لگا جبکہ پشمینہ گل ڈر کر پیچھے ہٹ رہی تھی کہ تبھی اُسے ریوالور نکالتے ہوئے دیکھتی لرز اٹھی۔۔
“حلیمہ مورے میں آپکی اِس نافرمان بیٹی کو آپکے سامنے گولی نہیں ماروں گا اور اگر آپ چاہتی ہیں یہ بے غیرت لڑکی سدھرے تو چلی جائے یہاں سے اب اس بے غیرت کو میں خود ہی ٹھیک کر لوں گا صرف ایک گولی سے یہ اپنا اصل پہچانے گی۔۔!!
دبیر خان نے اُسکے پیروں پر نشانہ باندھا اور فائر کرنے سے پہلے باہر کھڑی اپنی تائی کو دیکھتے ہوئے انہیں وہاں سے جانے کا اشارہ کرنے لگا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ان کے سامنے انکی بے غیرت اولاد کو گولی مارے۔۔
“نن۔۔۔نہیں خان خدارا ہماری بچی کو بخش دو ہم آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہے اس کی طرف سے معافی مانگتا ہے خدا کے لیے اسے چھوڑ دو۔۔!!
پشمینہ گل اپنی ماں کو روتے ہوئے دیکھتی شرمندگی سے نظریں چرانے لگی تو اسکی نظریں چرانے پر مسکرایا۔۔
“یہ دیکھو تمہیں تمہارے ماں باپ کتنا چاہتے ہیں لیکن ایک تم ہو جو انکی محبت کو بھول کر ایک نا محرم کا ساتھ چاہتے ہو شرم کرو پشمینہ گل۔۔!!
وہ اُسے اور شرمندہ کرنے لگا اور وہ ہو بھی رہی تھی اسکی باتوں سے تبھی روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس جا کر ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگنے لگی۔۔۔
“اب ہم چلتا ہے ماڑا ولی خان وہاں ہمارا انتظار کر رہا ہوگا خانے خراب نے شکار کا پروگرام بنایا ہے۔۔!!
وہ ہنستے ہوئے ان دونوں ماں بیٹی کو دیکھتے ہوئے ولی خان کے بارے میں بتانے لگا تو تائی نے پشمینہ گل کو الگ کیا اور آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازنے لگی۔۔
“ماڑا ہم شکار پر جا رہا ہے جنگ پر نہیں حلیمہ مورے جو اتنی دعائیں دے کر رخصت کر رہی ہے آپ۔۔!!
وہ مزاحیہ انداز میں مسکرا کر ان سے کہنے لگا تو انہوں نے اسے گھورتے ہوئے اسکے مضبوط بازوؤں پر مکا مارا۔۔۔
“ماڑا حلمیہ مورے یہ ہاتھ ہے کہ ہتھوڑا بہت زور سے لگا۔۔۔!!
وہ انہیں دیکھتے ہوئے چہرے پر مصنوعی درد لا کر ڈرامے کرنے لگا تو انہوں نے اسے پھر سے گھورا تو انکے سختی سے گھورنے پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا تو اسکی دیکھا دیکھی پشمینہ گل اور حلمیہ خان بھی قہقہ لگانے لگی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات کے دو بج رہے تھے سب اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے وہ باہر کسی کی موجودگی نہ پا کر تیزی سے بیڈ سائیڈ پر رکھے رسٹ واچ کو اٹھا کر دیکھنے لگی جو کافی مہنگا لگ رہا تھا اسے اٹھانے کے بعد تیزی سے سامنے الماری کی جانب بڑھی اور اسکے اندر سے اسکی ایک سیاہ شال نکال کر وہ اچھے سے اپنے اوپر اوڑھ کر ڈرتی ہوئی باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی اسکو اچھے سے ے پتہ تھا کہ وہ شخص شکار کے لئے گیا ہے اور ہو سکتا وہ صبح لوٹے اور وہ اسکے لوٹنے سے پہلے اسکی حویلی سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ چوکیدار کی نظروں سے بچتے ہوئے جب حویلی سے باہر نکلی تو باہر اندھیرے میں اُسے کچھ نظر نہیں آیا تو وہ خوف سے آنکھوں کو زور سے میچتی ہوئیں اللہ کا نام لے کر آنکھیں کھولتی ہوئی قدم آگے بڑھانے لگی۔۔
“بیٹی تم اس وقت رات کے دو بجے باہر کیا کر رہی ہو اس وقت اس علاقے میں مردوں کے لیے گھومنا ٹھیک نہیں ہے پھر تم تو ایک لڑکی ہوں۔۔۔!!
وہ پیچھے دیکھے بغیر آگے بڑھ رہی تھی کہ پیچھے سے کسی کے آواز دینے پر وہ سخت ڈر گئی اور اپنے چہرے کو شال سے اچھے سے ڈھک کر روکے بغیر تیزی سے چلنے لگی۔۔
“بیٹی ڈروں مت میں تُمہیں جہان جانا ہے وہی چھوڑ دیتا ہوں۔۔!!
وہ شخص اسکے آگے آکر نرمی سے کہنے لگا تو وہ اپنے سامنے ایک بوڑھے شخص کو دیکھتی ایک گہری سانس خارج کرتی ٹھہر گئی۔۔
“کیا آپ مجھے بس اسٹاپ تک چھوڑ سکتے ہیں۔۔؟؟
وہ اس بوڑھے انسان سے کہنے لگی جو اسے بیٹی سمجھ کر شاید اسکی مدد کرنا چاہتا تھا۔۔
“ہاں کیوں نہیں لیکن بیٹا تم اس وقت بس اسٹیشن پر کیوں جانا چاہتی ہوں کیا گھر والوں کو اس بارے میں پتہ ہے کہ تم یہاں سے جا رہی ہو۔۔؟؟
وہ اب مشکوک نظروں سے اُسے دیکھنے لگے تو وہ جلدی سے انہیں مطمئن کرنے کے لیے یہ کہنے لگی۔۔۔
“نہیں بابا میں اس نیت سے نہیں جا رہی وہاں شہر میں میری اماں اسپتال میں ہے تو میں وہی جا رہی تھی۔۔!!
وہ اُسکی بات پر شاید مطمئن ہوگئے تھے اسی لیے سر ہلاتے ہوئے اُسے اپنے پیچھے آنے کا کہنے لگے تو وہ اُنکے پیچھے بڑھنے لگی جو سامنے ایک چھوٹے سے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔
“بختاور بیٹا کچھ کھانے کو ہے تو اپنی بہن کو دو وہ اپنی مورے کو لے کر بہت پریشان ہے شاید کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا اس نیک بخت نے۔۔!!
وہ اندر داخل ہوئے تو اس بوڑھے آدمی نے کسی کو آوازیں دی تو ایک لڑکی جو سیاہ چادر اپنے گرد اچھے سے اوڑھے ہوئے تھی ایک ترے پکڑے چھوٹے سے کچن سے برآمد ہوئی اور انہیں کی جانب بڑھنے لگی ۔
“مرجان زارقم عباس سلطان تُم۔۔۔؟؟
وفا زیدی آنکھیں پھاڑے سامنے ٹیبل پر ترے رکھتی لڑکی کو دیکھ رہی تھی تیزی سے اٹھتی ہوئی بڑبڑاتی ہوئی بولی تو وہ لڑکی اسکی بڑںڑاہٹ سنتی ہوئی تیزی سے چادر سے اپنے چہرے کو اچھے سے کور کرنے لگی لیکن وفا زیدی اسے پہچان چکی تھی اسی لیے وہ اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔
“اب چہرہ کیوں چھپا رہی ہوں اب کیا فائدہ خود کو چادر سے ڈھکنے کا ہاں۔۔۔اور تُم یہاں آرام سے اپنی زندگی گزار رہی ہو اور وہاں زارقم تمہاری جدائی کی وجہ سے روز مر رہا ہے صرف تمہاری وجہ سے اور تم یہاں اپنا نام تک بدل کر خوشی خوشی رہ رہی ہوں کوئی فکر کوئی غم بھی نہیں ہے تمہیں اس شخص کا جو تم سے دیوانوں کی طرح چاہتا ہے جس نے مجھے ٹھکرا کر تم سے وفا کیا اور تم یہاں چھپ کر اس سے بے وفائی کر رہی ہو کیوں بولو تم کیوں ایسا کر رہی ہو اسے تکلیف کیوں دے رہی ہو۔۔!!
وہ غصے سے سرخ ہوتی سرمئی آنکھوں میں گھورتی ہوئی بولی تو مرجان نے بھی سُرخ آنکھوں سے اسے گھورا۔۔۔
“تُم اپنے گریبان میں بھی تو جھانکوں تُمہیں کوئی پچھتاوا ہے کسی کے شوہر کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر اسے اپنے جال میں پھنساتے ہوئے تمہیں یاد نہیں رہا کہ وہ شخص صرف اپنی بیوی کو دیوانوں کی طرح چاہتا ہے ہاں۔۔؟؟
وہ پورے نو ماہ یہ غم لیے یہاں پشاور میں آئی تھی اور جب وہ اس گاؤں میں آئی تو اس شخص کے گھر کے سامنے بے ہوش ہو کر گری تھیں اور جب اسنے اپنی آنکھیں کھولیں تھی تو خود کو اس چھوٹے سے گھر میں اسنے خود کو پایا تھا اس گھر میں بوڑھی عورت اور ایک بوڑھے شخص کے ساتھ انکی بیٹی مہرخان اور اب وہ بھی انکے ساتھ انکی بیٹی بن کر رہ رہی تھی۔۔۔
“زر خان۔۔۔۔؟؟
باہر زور دار فائرنگ کی آواز پر وہ دونوں ڈر کر بری طرح چیخنے لگیں جبکہ زر خان کے نام پر وہ بوڑھا شخص وفا زیدی کو غور سے دیکھنے لگا۔۔
“زر خان شرافت سے میری بیوی کو باہر لے کر آؤ ورنہ تُمہاری یہ رنگینی فطرت کو میں اپنی رائفل سے آج ناک کے ذریعے باہر نکالوں گا۔۔!!
دو تین فائر کی آواز کے بعد باہر سے اُس ظالم کی آواز پر وفا زیدی سخت سٹپٹا کر مرجان کے پیچھے چھپنے لگی جبکہ وہ اُسکے اسطرح اپنے پیچھے ڈر کر چھپنے کی کوشش پر حیرت سے آنکھیں پھاڑے پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“پلیز مجھے اِس انسان سے بچاؤ پلیز۔۔۔؟؟
اسکے دیکھنے پر وہ ہاتھوں کو جوڑتی ہوئی گڑگڑا کر بولی تو مرجان اسکی بات پر سر ہلا کر اسے کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں وہ اور مہر خان رہتی تھی۔۔۔
“زر خان لگتا ہے مجھے خود ہی اندر آنا پڑے گا۔۔!!
باہر سے اسکی غصیلی آواز پر وہ ڈرتی ہوئی مرجان کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“یہ کیا چکر ہے مجھے پتہ ہے تمہاری شادی نہیں ہوئی تو پھر یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے۔۔؟؟
وہ وفا سے پوچھنے لگی تو وفا اسے دیکھ رہی تھی اسکے پوچھنے پر اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہوا۔۔
“یہ بکواس کر رہا ہے اور اگر سب کو اُسکی بکواس کا پتہ چل گیا اس گاؤں کے لوگ اسی تو کچھ نہیں کہے گے لیکن مجھے جان سے مار دے گے۔۔!!
وہ سخت ڈر رہی تھی مرجان کو اسکی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا اس سے پہلے کے وہ اسے کچھ کہتی تبھی باہر ایک زور دار دھماکہ ہوا تو وہ دونوں ڈر گئی۔۔
“تو یہاں چھپی ہے میری بیوی زر خان۔۔!!
وہ اندر روم میں داخل ہوتے ہوئے پیچھے کھڑے زر خان سے کہنے لگا تو مرجان نے شدید غصے سے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔۔
“خبردار تُم نے اسکی طرف قدم بڑھائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا تمہارے لیے خان شرم تو تم میں ہے ہی نہیں ایک بوڑھے انسان سے بات کرنے کی اور دوسری بات یہ تمہاری بیوی نہیں ہے میں جانتی ہو شرافت سے اس گھر سے نکل جاؤ ورنہ میں پولیس کو بلوا کر تمہیں یہاں سے باہر پھنکوا دو گی۔۔!!
وہ ان حالات میں خود کو سنبھالنا اچھے جان چکی تھی اور ایسے مردوں سے لڑنا بھی جو عورتوں کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہیں۔۔
“ماڑا زر خان سمجھا اپنی بیٹی کو ورنہ مر جائے گی میری گولی کھا کر دبیر خان کے رائفل کی گولی کوئی عام گولی نہیں ہے تم تو اچھے سے جانتا ہے۔۔!!
دبیر خان نے سامنے کھڑی لڑکی کو ترچھی نگاہوں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں زر خان سے کہا تو وہ ڈرتے ہوئے آگے بڑھ کر اسے سائیڈ پر کرتے ہوئے سمجھانے لگے تو دبیر خان اس بات کا فائدہ اٹھاتا وفا کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔
“چلو بہت بھاگ لیا تم نے بیوی اب میں بتاؤ گا دبیر خان کو چھکما دینے کا انجام۔۔!!
اسے سختی سے کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے وہ وہاں سے لے جانے لگا جبکہ وہ خوف سے سفید پڑتی مرجان کو دیکھنے لگی جو غصے سے دبیر خان کو دیکھ رہی تھی اور آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن زر خان نے اسے روکا ہوا تھا ورنہ وہ کبھی وفا کے ساتھ اتنی زیادتی ہونے نہیں دیتی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓