No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
“وہ لوگ خوش ہے اور تُم برباد سب کچھ چھین لیا ہے اُنہوں نے تم سے،تُمہاری ماں کو تمہاری محبت کو اور تمہاری بہن کو تو انہوں نے پاگل کر دیا ہے۔۔!!
وفا زیدی کے ساتھ جب وہ اس عالی شان محل نما گھر میں آیا تو ایک نوکر کے پیچھے وفا زیدی نے اسے ایک روم کی جانب بھیجا تو وہ اسکے پیچھے بڑھا جب وہ ایک روم میں داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر ایک عورت کو دیکھ وہ بھنوں کو ترچھا کر کے اسے دیکھنے لگا۔۔
جو یہ کہہ رہی تھی اور وہ اسکی بات پر نفرت سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا اور یہ منظر دیکھ صفیہ حاکم زیدی شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بیڈ سے اٹھی۔۔
“خوش ہونہہہ پتہ ہے مجھے اچھے سے کہ وہ کتنے خوش تھے تُم نے اور تمہارے پوتے نے جو دو دن پہلے تماشا کیا تھا نا انکے گھر جا کر میں اچھے سے جانتا ہوں میں جیل میں تھا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجھے باہر کی خبر نہیں ہوگی۔۔!!
وہ طنزیہ انداز میں مسکرا کر سامنے ٹیبل پر رکھے باسکٹ سے چاقو اٹھا کر ایک سیب کو اٹھا کر کاٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بہت انٹیلجنٹ ہو تُم لیکن کیا فائدہ ایسی انٹیلجنٹ کا تُم اُسکی وجہ سے نا ہی اپنا سب کچھ لا سکتے ہو اور نا ہی اُن سلطان ولا کے لوگوں کا کچھ بگاڑ سکتے ہو بار بار تو وہ جیت جاتے ہیں تُم سے ہاہاہاہاہاہاہا۔۔!!
وہ طنز کرتیں ہوئے آخر میں زور زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگیں تو نمیر سخت غصے سے ہاتھوں میں پکڑے چاقو کو آگے چل کر غصے سے اُس عورت کی گردن پر رکھ کر دباؤ بڑھانے لگا اور صفیہ حاکم زیدی خوف سے سفید پڑتی اپنے ہاتھوں سے اُس پاگل انسان کے مضبوط گرفت کو نڈھال ہو کر تڑپتے ہوئے توڑنے لگیں جو ناممکن تھا کیونکہ وہ اب کمزور تھیں بوڑھی ہوگئی تھی تو کیسے اسکا مقابلہ کر سکتی تھیں۔۔۔
“بہت شوق ہے نا تُمہیں موت آنے سے پہلے مرنے کا ہاں بڑھیا کہوں تو ابھی تُمہاری گردن کاٹ کر یہ شوق پورا کر دوں۔!!
گردن پر چاقو کو سختی سے دباؤ بڑھا کر وہ سخت لہجے میں کہتا اُسے ڈرائے جا رہا تھا اور وہ اس بوڑھی عورت کے چہرے پر رقم ڈر کو مزے سے دیکھنے لگا۔۔
“چھوڑو میرے آکا بی کو پاگل انسان۔۔!!
وفا جب وہاں آئیں تو سامنے نمیر کو غصے سے چاقو صفیہ حاکم زیدی کی گردن پر رکھے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور اسے ہٹاتے ہوئے بولی۔۔
“لڑکے تُم ہمارے لیے کام کر رہے ہو نا کے ہم جو تُم ہمیں اس طرح ٹارچر کروں اور ہم جو کہے گے تُمہیں تُمہیں وہی کرنا پڑے گا ورنہ تُم کو جان سے مارنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔!!
وہ کھانستی ہوئیں غصے سے اُسے دیکھتی ہوئی بولیں تو نمیر اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرا کر آگے بڑھا اور چاقو کو اُسکے سامنے لے جاتے ہوئے ٹیبل پر پھینک کر اُسے دیکھنے لگا جو چاقو کو اپنے سامنے واپس دیکھ بری طرح سے ڈر رہیں تھی۔۔
“مجھ سے ڈر کر کہتی ہو بڑھیا کہ مجھے قتل کر دو گی فنی جوک۔۔۔!!معنی خیزی سے ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
“یاد رکھنا میں تُم لوگوں کا غلام نہیں ہو مفت میں تُم لوگوں کے کام آ رہا ہوں تو یہ روعب مجھے مت دیکھاؤ ورنہ انجام کے زمہ دار تُم لوگ خود ہوگے۔۔!!
انگلی اٹھا کر انہیں تنبیہ کرتیں ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا تو دونوں دادی اور پوتی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔
“ٹھیک ہے ہم پاٹنر کی طرح ملے گے اور تُم کیا کرنے والے ہو یہ تُمہیں ہم سے ڈسکس کرنا پڑے گا ورنہ۔۔!!
صفیہ حاکم زیدی کی دھمکی دینے پر اُسنے آنکھوں کو سختی سے اٹھا کر اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں باز رہنے کیلئے کہا تو وہ جلدی سے خاموش ہوگئیں۔۔
“میں جو کروں گا تُم لوگوں سے ڈسکس نہیں کروں گا کیونکہ میں جو کرتا ہوں وہ اکیلے ہی کرتا ہوں نا کوئی میرا پاٹنر ہے اور نا ہی میں کسی کا غلام۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا سامنے رکھے صوفے پر آرام سے بیٹھا تو صفیہ حاکم زیدی نے سخت تیوریاں چڑھا کر خود کو کچھ کہنے سے روکا۔۔
“تُم پھیل رہے ہو لڑکے۔۔!!
سخت گیر لہجے میں کہتی وہ اُسے دیکھنے لگی جو اب ان دونوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ٹیبل سے سیب اٹھا کر کھانے لگا۔۔
“یہ کمرا بہت خوشادہ ہے یہاں میں آرام سے رہ سکتا ہوں لڑکی کس کا ہے تُمہارا اگر تُمہارا ہے تو بھول جاؤ کیونکہ آج سے یہ نمیر لاشاری کا کمرا ہے۔۔۔!!
وہ صفیہ حاکم زیدی کی باتوں کو نظر انداز کر رہا تھا اور یہی چیز صفیہ حاکم زیدی کو سخت ناگوار لگ رہی تھیں۔۔
“نہیں یہ آکا بی کا کمرہ ہے اور تُم یہاں اس گھر میں نہیں رہوں گے چلو اٹھو اور آؤ میرے پیچھے۔۔!!
وفا زیدی نے اُسکی اوقات یاد دلانا چاہا پر وہ بھی اُسی کا بھائی تھا طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا ۔
“کیوں نہیں رہ سکتا میں یہاں اس گھر میں کیا ڈر لگ رہا ہے اپنے بھائی سے کہ وہ مجھے یہاں دیکھے گا تو تُم کیا کہوں گی۔۔۔!!
وفا زیدی کو ہنس کر کہتا وہ سامنے پڑے گلاس میں جوس کے جگ میں سے بھرتے ہوئے کہنے لگا جو ابھی کچھ دیر پہلے ملازمہ صفیہ حاکم زیدی کے لیے لائی تھی۔۔
“نہیں ڈرتے ہم اُس سے میں اپنے اس عالیشان محل میں تُم جیسے کیڑوں کو برداشت نہیں کر سکتی ہوں سمجھے اب اٹھو اور یہاں سے دفعہ ہوجاؤ۔۔!!
وفا زیدی کی بات پر وہ اٹھا اور سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے رکھیں خوبصورت سے گلدان کو زمین بوس کرتا طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“اب سمجھ میں آیا ہوگا تُم دونوں کو کہ تُم نے کس کیڑے کو جیل سے باہر نکالا ہے۔۔۔!!
گلدان کو زمین بوس دیکھ وہ دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھیں اور وہ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر مزے سے جوس پینے لگا۔۔
“کل اُن دونوں کی بربادی شروع اور وفا زیدی تُمہارا عاشق تو زندہ نہیں بچے گا سو بیوہ بننے کے لیے ریڈی ہو جاؤ۔۔!!
وہ نفرت سے مٹھیوں کو کھس کر دونوں سے کہنے لگا تو وفا زیدی اسکی بات پر سخت غصے سے آگے بڑھنے والی تھی کہ ہاتھ آگے بڑھا کر صفیہ حاکم زیدی نے اسے روکا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے باہر آنے کے لئے اشارہ کرتی وہ خود روم سے باہر نکلی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“بہت خوش ہوں تُم اپنے شوہر کے ساتھ مرجان زارقم عباس سلطان۔۔!!
وہ سخت بخار میں مبتلا سخت گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی تو آہستہ آہستہ چل کر سامنے چئیر پر جا کر بیٹھی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ تبھی اپنے پاس اُس انسان کی آواز سن وہ خوف سے سفید پڑنے لگی جس کو وہ دوبارہ اپنے سامنے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن آج وہ کسی بھیانک خواب کی طرح اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
وہ زارقم عباس سلطان کے ساتھ چیک اپ کروانے ہاسپٹل آئی تھی صبح سے اُسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو زارقم کے زبردستی ہاسپٹل لانے پر اب وہ ایک چئیر پر بیٹھی زارقم کا انتظار کر رہی تھی جو اسکے متلی کی وجہ سے باہر اسٹور سے اسکے لیے جوس لینے گیا تھا۔۔
“ویسے کیا کوئی خوشخبری تو نہیں ہے جو تُم ہاسپٹل میں مجھے ملی خیر ویسے بہت اچھا موقع ہے میرے پاس تُم دونوں کو الگ کرنے کے لیے میں تُمہیں ابھی اٹھا کر لے جاؤ گا تو تُم مرجان اس بار پھر سے برباد ہو جاؤ گی اور اس بار تو تُم زندہ نہیں بچو گی بدنامی بھیانک ہوگی پہلے تو بچ گئی تُم کیونکہ محرم کا نام تھا اب تو غیر محرم کے ساتھ دو تین دن رہ کر جاؤ گی اپنے گھر۔۔!!
وہ بظاہر نارمل انداز میں بولا لیکن اسکے الفاظ بہت سخت لگے مرجان کو تو وہ تیزی سے اٹھی اور پیٹ پر ہاتھ رکھتی وہ پیچھے مڑے بغیر تیزی سے اس انسان سے دور ہوئی اور سامنے سے آتیں زارقم عباس سلطان کے ساتھ لگ کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
جبکہ وہ بھی اس ذلیل انسان کو دیکھ چکا تھا اُسی لیے شدید غصے سے مرجان کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر اسے کھینچتا ہاسپٹل سے وہ اسکا بنا چیک اپ کیے باہر نکلا اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھیں جو اسے آگے چل کر بھگتنا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ دونوں ہاسپٹل سے جب باہر نکل کر پارکنگ ایریا کی جانب پہنچے تو زارقم عباس سلطان نے اسکی کلائی کو چھوڑا اور شانوں سے پکڑ کر اسے بغور دیکھنے لگا کہ وہ ٹھیک تو ہے ڈر تو نہیں رہی اس وقت اسے غصہ اس شخص پر بے پناہ آ رہا تھا کہ وہ کیسے جیل سے باہر نکلا اور اسے یہاں انکی موجودگی کا کس نے بتایا ہوگا وہ سانس خارج کرتا پیشانی پر ہاتھ پھیرتا گویا ہوا۔۔
“وہ انسان یہاں کیا کر رہا تھا اور تُم کیوں کھڑی تھی اُسکے پاس ہاں جواب دو اور کیا ضرورت تھی اُس سے بات کرنے کی بلکہ کیوں کی تُم نے اُس خبیث سے باتیں بولو اُس ذلیل کمینے انسان نے تُمہیں برباد کیا تھا تُم پھر بھی اُسکے ساتھ کھڑی ہو کر باتیں کر رہی تھی۔۔؟؟؟
زارقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے مرجان کی جانب دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا ناچاہتے ہوئے بھی وہ اپنا لہجہ سخت کرنے سے خود کو روک نا سکا۔
“کیا مطلب وہ کیا کر رہا تھا ارقم آاآپ مجھ پر شک کر رہے ہیں اپنی مرجان پر۔!!! اور آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں کہ میں اس گھٹیا شخص سے مل رہی تھی۔۔!!
مرجان نے نظریں اُس پر گاڑھتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص اُس پر شک کر رہا ہے جو اُس سے بے پناہ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔۔
“جو پوچھا ہے تُم سے مجھے اُس کا جواب دو وہ کیا کر رہا تھا یہاں اور تُم کیوں گئی تھی اُسکے پاس۔۔؟؟
زراقم عباس سلطان کی آنکھوں میں اِس وقت غصہ بھرا ہوا تھا جبکہ لہجہ خطرناک حد تک سپاٹ تو مرجان کی سرمئی آنکھوں میں بے یقینی تھی بھلا کیسے یقین کر سکتی تھی وہ کہ مقابل کھڑا شخص جو اونچی آواز میں بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا تھا آج نا صرف اونچی آواز میں بات کر رہا تھا بلکہ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اُس پر شک بھی کر رہا تھا۔۔
“ارقم آپ۔۔۔!!
سرمئی نم آنکھوں میں بے بسی لیے وہ بے چینی سے بولی اُس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتی زارقم عباس سلطان نے سنجیدگی سے اُسے آگے کچھ کہنے سے روکا جبکہ اُسکی غصے سے نیلی آنکھیں سرخ انگارا بنی مرجان کو وحشت میں مبتلا کر رہی تھی۔۔
“مرجان تُم یہی میرا ویٹ کرنا میں ابھی آتا ہو ہلنا مت یہاں سے میں تُمہارے لیے جوس لینے جا رہا ہوں تُمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہم اس بارے میں گھر چل کر آرام سے ڈسکس کرے گے اوکے۔۔!!
نرمی سے اسکے گالوں کو چھو کر واپس قدم ہاسپٹل کے اندر بڑھانے لگا تو وہ سر کے درد سے دوہری ہوتی اپنا سر پکڑ کر کار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی کہ تبھی کسی نے وہاں آکر اسکی ناک پر ایک رومال رکھ کر اسے بے ہوش کر دیا اور اسے اٹھا کر اپنی کار کی جانب تیزی سے بڑھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“مجھے جانے دو پلیز۔۔؟؟
وہ اِس اندھیرے کمرے میں سامنے کرسی پر بیٹھے شخص کو اپنی آنکھوں کو بڑی کرتیں دیکھنے کی کوشش کرتی ہوئی کہنے لگی۔۔۔
“تُم جا کر وہاں کیا کروں گی اب وہ تُمہیں قبول نہیں کرنے والا دو دن یہاں رہی ہو ایک غیر مرد کے ساتھ اور ایک لڑکی وہ بھی شادی شدہ اگر گھر سے باہر ایک رات بھی گزار کر اپنے گھر کو لوٹے تو معاشرہ کو چھوڑو اُسکے اپنے گھر والے اُسے ایکسپیٹ نہیں کریں گے۔۔!!
کرسی کے ہتھے پر دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھام کر سپاٹ لہجے میں بولا تو وہ اندھیرے میں اُسے دیکھنے میں ناکام ہو کر اپنی نظریں نیچے جھکا کر اُسکی باتوں سے خوفزدہ ہونے لگی۔۔
“دیکھوں تُم جو بھی ہو پلیز مجھے جانے دو میں نے تُمہارا کیا بگاڑا ہے میں تو تُمہیں جانتی بھی نہیں۔۔!!
سچ تو کہہ رہی تھی کہ وہ اُسے نہیں جانتی ہے کیونکہ وہ شخص جب بھی آتا ہے تو کمرے کا لائٹ آف کر دیتا ہے اُسے صرف اُسکی آواز جانی پہچانی سی لگتی ہے جیسے وہ سن چکی ہے پہلے اُسکی آواز کو۔۔۔
“میں کب سے کہہ رہا ہوں ناں کہ اب تُمہارے اپنے شوہر کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور کیا اِس بچے کا یقین دلا سکوں گی تُم اُسے۔’جو تُمہاری کوکھ میں پل رہا ہے ہاں کہ یہ اُسکا بچہ ہے بتاؤ مجھے۔۔اُسے دیکھتے ہوئے سختی سے گویا ہوا وہ کمرے کے دروازے سے اندر آتیں روشنی کی وجہ سے اُسے صاف دیکھ سکتا تھا جبکہ وہ نہیں۔۔۔
“وہ مجھ سے محبت کرتا ہے میرا یقین ضرور کرے گا میں جانتی ہوں اُسے چاہیے میں ایک ماہ بعد ہی کیوں نہ چلی جاؤ اُسکے پاس لیکن مجھے یقین ہے وہ مجھے بہت جلد ڈھونڈ لیں گا۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے آنکھوں کے گوشوں سے آنسوؤں کو صاف کرتیں ہوئے آہستگی سے بولی جبکہ اُسکی یقین پر طنزیہ انداز میں مسکرایا۔۔
“وہ ایک مرد ہے کیا تُم اُسکی فطرت کو بدل سکتی ہو نہیں نا مرد کتنا ہی محبت کیوں نہ کرتا ہوں اپنی بیوی سے لیکن وہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُسکی بیوی تین دن باہر گزار کر آئیں۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اٹھا اور جانے لگا کہ وہ اٹھی اور آگے بڑھ کر اسکے پیروں کو پکڑ کر چہرہ اوپر اٹھا کر روتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ایسا کچھ مت کرنا کہ اس بار موت میری مقدر ٹھہرے مم۔مجھے جانے دو۔۔!!
وہ نم آنکھوں سے بغور اس شیطان نما انسان کو دیکھ رہی تھی اس سے اپنے آزادی کی بھیک مانگ رہی تھی جو شاید اب ناممکن لگ رہا تھا۔۔
“مجھے ایسا ویسا کچھ کرنا بھی نہیں ہے تمہارے ساتھ نفرت کرتا ہوں تم سے اور تمہارے پورے خاندان سے ہاتھ لگانا تو دور کی بات تھوکنا بھی پسند نہیں ہے تم پر مجھے اور اب سے تم یہی رہوں گی دو تین دن اور، اور پھر میں تمہیں خود چھوڑنے جاؤ گا تمہارے گھر ڈراما بھی تو دیکھنا ہے تم لوگوں کی بدنامی کا اور تم خودکشی مت کرنا سنا ہے یہ حرام ہے ایک حرام کام تو انجام دیا ہے اب دوسرا انجام مت دینا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا آخر میں طنزیہ انداز میں مسکرا کر کہنے لگا تو مرجان سخت شعلے برساتی نظروں سے اسے دیکھتی اٹھی اور پاگلوں کی طرح اسے کالر سے پکڑ کر بری طرح سے جھنجھوڑتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“خودکشی تو تُم کرو گے جلاد انسان بہت جلد میں نے غلطی کی تھی جو تم جیسے انسان کو چاہا تھا بلکہ وہ چاہت میرے لیے ایک گناہ تھا جو میں نے تم سے کیا تھا لیکن اب میں ہی تمہیں ختم کر دو گی مجھے کمزور سمجھ کر تم نے اچھا نہیں کیا اور اگر میں پہلے تم سے بھیک مانگ رہی تھیں نا تو اپنی محبت زارقم عباس سلطان کے پاس جانے کیلئے مانگ رہی تھی لیکن اب نہیں اب تم مانگو بھیک مجھ سے اپنی زندگی کیلئے خبیث انسان۔۔!!
سختی سے دونوں ہاتھوں سے کالر کو جکڑے وہ سخت غصے سے پاگل ہوتی اسے گھور رہی تھی دل تو چاہ رہا تھا کہ اس انسان کو بھیانک موت دے لیکن وہ ابھی صرف یہاں سے نکلنا چاہتی تھی اس شخص کی قید سے جو دو دن سے اسکی قید میں تھی۔۔
“دور ہٹو مجھ سے ورنہ میں نے تمہارے ہاتھوں کو ہٹایا نا تو تُمہارے بچے کے لیے سہی ثابت نہیں ہوگا دنیا میں آنے سے پہلے چلا جائے گا۔۔!!
بے تاثر لہجے میں کہتا اپنے کالر پر رکھے ناگواری سے اسکے دونوں ہاتھوں کو دیکھنے لگا جو اسکے کالر پر رکھے ہوئے تھے۔۔
“اور دیکھنا چاہوں گی اپنے شوہر کو۔۔؟؟
اسکے ہاتھوں کو اپنے کالر سے ہٹاتے ہوئے بغور اسے دیکھتے ہوئے پرسرار انداز میں مسکرا کر پوچھنے لگا۔۔
“ہاں مجھے دیکھنا پلیز ایک بار دیکھا دو اتنے دنوں سے میں نے اسے نہیں دیکھا۔۔!!
وہ زارقم عباس سلطان کا نام سن کر دیوانوں کی طرح کہتی اسے دیکھنے لگی جو موبائل اسکرین پر کچھ پریس کر رہا تھا تبھی اسکرین کو اچانک اسکی نظروں کے سامنے کرتا معنی خیزی سے مسکرایا۔۔
“یہ ہے تمہارا بے پناہ چاہنے والا شوہر دیکھو تو آج کل اپنے دشمنوں کی بیٹی کے ساتھ ہر جگہ پایا جا رہا ہے کبھی کافی کیفے میں تو کبھی کسی ریسٹورنٹ میں ایسا بلکل بھی نہیں لگ رہا کہ یہ غمگین ہے اپنے بیوی کے کھونے پر بلکہ یہ تو مجھے بہت خوش لگ رہا ہے۔۔!!
اسکرین پر ایک ریسٹورنٹ کا منظر تھا جہاں وفا زیدی زارقم عباس سلطان کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھے اسے بڑے ہی پیار سے دیکھ رہی تھی جبکہ زارقم عباس سلطان نظریں نیچے جھکائے خاموش تھا یہ وڈیو نمیر کا ہی پلان تھا مرجان کو زارقم عباس سلطان سے بدگمان کرنے کے لیے یہ سب وفا زیدی کے ضد کرنے پر اسکے ساتھ مل کر اسنے کیا تھا ورنہ وہ قائل نہیں تھا کہ کوئی اسکے ساتھ مل کر کام کرے۔۔۔
“میں یقین کیوں کرو اس وڈیو کا ہاں کیا ثبوت ہے کہ میرے زارقم ایسے ہیں ہاں یہ تمہاری چال ہوسکتی ہے اچھے سے جانتی ہو میں تمہیں اب میں وہ مرجان نہیں ہو جو اندھی تھی تمہارے پیچھے اب یہ مرجان مضبوط ہے اور اپنے شوہر پر یقین کرتی ہے تم جیسے سو لوگ بھی آکر اسکے خلاف کیوں نہ باتیں بنا لو لیکن میں یقین نہیں کروں گی۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اسکا موبائل ہاتھ لگا کر دور اچھالتی ہوئی چیخ کر بولی تو نمیر نے سخت غصے سے اسے دیکھا اور یہ سوچنے لگا کہ اپنے پلان کے کام نا آنے پر وہ کچھ بھی کر سکتا تھا مرجان کے ساتھ اسی لیے وہ تیزی سے روم سے باہر نکلا اور وہ جو کب سے اسکے سامنے مضبوط بنیں کھڑی تھی اسکے باہر نکلتے ہی بے بسی سے نیچے گری اور بری طرح سے رونے لگی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“ہیلو مس صالحہ اینڈ ویلکم ٹو اٹلی۔۔۔!!
اٹلی ائیرپورٹ کے پارکنگ لاٹ کی جانب بڑھتی صالحہ کو پیچھے ایک طنزیہ آواز سنائی دی تو وہ تیزی سے پلٹی اور اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی وہ اپنا بیگ مضبوطی سے تھام کر وہاں سے تیزی سے نکلنے والی تھی کہ اس کے گارڈز نے آگے بڑھ کر اسے روکا۔
“بھاگ کر کہاں جاؤ گی واپس تو تُمہیں یہی آنا ہے اپنے بھائی کو ڈھونڈنے وہ تمہیں ضرور ملے گا لیکن میرے آدمیوں کے قبضے میں تو اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔۔۔!!
سنجیدگی سے آگے بڑھ کر وہ کہنے لگا تو صالحہ نے غصے سے اسے دیکھا اور پھر ایک گارڈز کے پاؤں میں اپنا پیر زور سے مارتی دوسرے کے چہرے پر کہونی سے وار کرتیں انہیں تکلیف میں دیکھ وہ تیزی سے بیگ پکڑ کر وہاں سے بھاگنے لگیں کہ ضنافر حسن زیدی سخت غصے میں آگے بڑھا اور اُسے کلائیوں سے جکڑ کر قابو کرنے لگا۔۔
“مجھ سے بھاگنے کا انجام کیا ہوتا ہے آج میں تُمہیں بتاؤ گا مس صالحہ عرفان سلطان۔۔۔!!!
دونوں کلائیوں کو جکڑ کر اُسے اپنے بے حد قریب کرتا غرا کر بولا۔۔۔
صالحہ سخت غصے سے آنکھیں سامنے مقابل کھڑے شخص پر گاڑھتی خود کو اُسکی سخت گرفت سے چھڑا رہی تھی پر گرفت اُسکے ہلنے پر ڈھیلی ہونے کے بجائے زیادہ سخت ہو رہی تھی۔۔
“نہیں ڈرتی میں تُم سے جو کرنا ہے کرو میرے ساتھ اور آتا کیا ہے تُم جیسے مردوں کو عورت کی عزت کے ساتھ کھیلنے کے علاؤہ ہاں۔۔۔؟؟
آنکھوں میں بے پناہ شعلے بھڑک رہے تھے اِس وقت اور لہجے میں سرد پن اور ضنافر حسن زیدی اِن سخت لفظوں پر خود کو سخت جھلستا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا تو غصے سے اُسکی کمر کو جکڑتا اُسے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
“ختم کر دو گا بہت جلد تُمہاری یہ اکڑ بہت پھیل رہی ہو ناں سارے پرزے ٹھیک کروں گا بہت اچھل رہی ہوں ناں تُم اپنی یہ فرار والی بہادر حرکت کے بعد اچھے سے بتاؤ گا کہ ضنافر حسن زیدی کیا ہے۔۔!!
دوسرا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکی ٹھوڈی کو اپنی ایک انگلی کی مدد سے اوپر اٹھا کر سرد لہجے میں بولا۔۔۔
“مت بھولو ضنافر حسن زیدی کے یہ اٹلی ہے پاکستان نہیں جہاں تُم جو مرضی ایک بے بس لڑکی کے ساتھ کروں تُمہیں روکنے والا کوئی نہیں لیکن یہاں قانون ہے سمجھے تُم گھٹیا انسان۔۔۔!!
بے حد غصے سے سرخ ہوتیں اپنی خوبصورت آنکھوں کو مقابل کھڑے مغرور شہزادے کی آن بان لیے کھڑے گھمنڈی انسان کی نیلی آنکھوں میں گاڑھتی ہوئیں چٹخ کر بولی تو وہ اسکی بات پر زور سے ہنسنے لگا۔۔
“اٹلی میں بھی میں تُمہیں بے بس کر سکتا ہوں مائے لیڈی کیونکہ یہاں کی قانون دوست ہے دشمن نہیں بس فرق اتنا ہے یہاں عزت سے تُمہارا قتل کروں گا اور وہاں پاکستان میں قتل کرنے میں تو اپنا ہی مزا ہے پہلے بدنام کر کے ماروں پھر گلا کاٹ کر ہمشیہ ہمشیہ کے سلا دو وہاں قاتل بننے میں ایک الگ مزا ہے ۔۔!!!
وہ انگلی کو دباؤ اسکی ٹھوڈی پر سخت کرتا زومعنی لہجے میں بولا جبکہ صالحہ عرفان سلطان بنا ڈرے اُسکی آنکھوں میں بہادری سے آنکھیں ڈالے کھڑی اُسے گھور رہی تھی۔۔
💥💥💥💥💥💥💥💥
