No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
“ابے او لفنگو تم لوگ کیا سمجھے خان اندھا ہے۔۔؟؟
دبیر خان انکے گھر سے نکل کر شدت سے دھارتے ہوئے سامنے کھڑی انکی کار کے شیشے کو زور سے مکا مار کر پیچھے ہٹا تو وہ دونوں جو اسکے نکلتے ہی سانس خارج کر رہے تھے کہ زور دار دھماکے کی آواز پر کان لپیٹنے پر مجبور ہوئے جبکہ وفا زیدی ڈر کر پیچھے چارپائی پر جا گری۔۔۔
“دبیر استاد یہ تو نے کیا کیا۔۔؟؟
اسد باہر نکلتے ہی شوکڈ رہ گیا کیونکہ کار انکی نہیں بلکہ آکا بی کی تھی جو اس وقت بھنگار بھیجنے والوں کی چیزوں سے مشابہت رکھ رہی تھی۔۔
“یہ تُم لوگوں نے جو مجھے نیند سے بیدار کیا تھا نا اسکا حساب سمجھے لنگوروں۔۔!!
اسد کو کہہ کر وہ آگے بڑھا اور گھر کے اندر داخل ہو کر وفا زیدی کے بلکل سامنے کھڑا ہوا اور اُسے سر تا پیر دیکھنے لگا جبکہ وفا اسکی نظروں سے سپٹپٹا کر چارپائی سے اٹھی۔۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے نیند سے جگانے کی ہاں۔۔۔؟؟
دبیر خان کو اپنے روبرو کھڑے دیکھ کر وفا زیدی سخت سٹپٹا کر پیچھے ہٹنے لگی تو اُسی بیچ وہ واپس چارپائی پر جا گری تو وہ سنجیدگی سے اپنا ایک ٹانگ چارپائی پر رکھ کر اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے جھکنے پر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔
“دبیر استاد تو ہماری بہن کو چھوڑ دو ہم معافی مانگتے ہیں تم سے پھر سے وہ ابھی بچی ہے۔۔۔!!
اسد گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بولا تو وفا زیدی اسکے پھر سے بہن کہنے پر سخت غصے سے اپنے ہاتھ کو ہٹا کر دبیر خان سے چلا کر بولنے لگی۔
“میں اُن کی بہن نہیں ہو یہ لوگ مجھے اغواء کر کے لائے ہیں آپ پلیز مجھے بچائے یہ لوگ میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتے ہیں آپ جتنا پیسہ چاہتے ہیں میں دینے کو تیار پلیز مجھے ان لوگوں کے گھر سے لے کر جائے میں کوئی انکی پھپھو کی بیٹی نہیں ہو میں انکی مالکن ہوں۔۔۔!!
وفا زیدی کی بات پر دبیر خان نے دونوں کو ترچھی نظروں سے گھورنے لگا تو وہ اسکے گھورنے پر دونوں ڈرنے لگے۔۔۔
“ہاں بے خاناں خراب یہ تُم لوگوں کی بہن کیا کہہ رہی ہے۔۔۔؟؟؟
قدم اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے سخت گیر لہجے میں پوچھنے لگا تو وہ دونوں ڈرتے ہوئے قدم پیچھے گھر سے باہر نکالنے لگے۔۔۔
“دبیر استاد ہمیں معاف کر دو ہم سے غلطی ہوگئی۔۔۔!!
وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے روتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“ایسے کیسے معاف کر دو ہاں بے اوباشوں ایک تو تُم لوگوں نے اِس شریفوں کے محلے میں جھتہ بازی کرنا چاہا اور اوپر سے ایک لڑکی کی عزت کو مزاق سمجھ کے رکھا ہاں بے بدچلنوں۔۔!!
وہ درشت لہجے میں کہتا دونوں کو سختی سے گردن سے باری باری دبوچ کر اُنہیں گھر سے باہر پھینک کر خود بھی باہر نکلا۔۔
سبھی محلے والے آج پھر دبیر خان کے تماشا کرنے پر یہ مفت کا فلم دیکھنے وہاں جما ہونے لگے وفا بھی اسکے پیچھے کھڑی اُسے ان دونوں کی حالت پر اپنی ہنسی پر کنٹرول کر رہی تھی۔۔
“دبیر استاد کیا ہوا ہے ان دونوں کیا آج پھر کچھ کیا ہے۔۔۔؟؟
محلے کا ایک بزرگ آگے بڑھ کر اُن دونوں کو غصے سے دیکھنے کے بعد دبیر خان سے پوچھنے لگا۔۔۔
“سیلمان چاچا یہ بے غیرتوں نے ایک لڑکی کے عزت کے ساتھ کھیلنا چاہا ہے وہ تو شکر خدا کا مجھے اس لڑکی نے نیند سے جگا دیا چاچا یا تو آج ان کا فیصلہ کر لیں ورنہ میں قتل کر دو انکا۔۔!!
اُن دونوں کو بری طرح سے ٹھوکروں پر رکھ کر بری طرح سے مارتے ہوئے کرخت لہجے میں چاچا سے کہنے لگا۔۔
“ہاں دبیر استاد اب ہم لوگ بھی ان لوگوں سے بہت تنگ آگئے ہیں اب واقعی چاچا کو کچھ سوچنا پڑے گا۔۔!!!
دبیر خان کی بات پر ایک شخص نے آگے بڑھتی ہوئے ان دونوں کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“لالا سجاد پہلے اس لڑکی کا بھی تو کچھ کرنا پڑے گا پتہ نہیں بے چاری کو یہ مردود کہاں سے اٹھا کر لائے ہیں۔۔؟؟
دونوں کو چھوڑ کر اب وہ وفا زیدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسی شخص سے مخاطب ہوا تو وفا اسکی بات پر تیزی سے اسکی جانب بڑھی اور اسکے مضبوط بازوؤں کو پکڑ کر آنکھوں کو پھتپھتا کر بولی۔۔۔
“پلیز مجھے اپنے گھر نہیں جانا آپ مجھے آج رات اپنے گھر پر رہنے دے کل میں چلی جاؤ گی پلیز۔۔۔!!!
وہ ویسے بھی اُس عورت کو اب دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور اِس وقت اُسے سب سے زیادہ اِس اجنبی پر بھروسہ کرنے کا دل چاہ رہا تھا۔۔
“کیا کہہ رہی ہو پھر سے کہنا۔۔۔؟؟
دبیر خان نے آنکھوں کو اُس پر گاڑھتے ہوئے گھمبیر آواز میں پوچھا۔۔۔
“میں رینٹ پر رہوں گی فکر مت کروں تُم بس مجھے یہ رات گزارنے دو۔۔۔!!
وفا زیدی نے اُسکے سوال کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کہا تو دبیر خان اپنے سوال کے نظر انداز کرنے پر سخت غصے سے سرخ ہوتا آگے بڑھا۔۔
“تُمہیں میں کرایہ دار نظر آ رہا ہوں ہاں عورت۔۔۔؟؟
سرد لہجے میں کہتا وہ اُسے شعلے برساتی نظروں سے گھورنے لگا تو وفا زیدی اسکی بات پر سخت غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“وہاٹ ربش میں تمہیں عورت نظر آ رہی ہوں کیا ہاں۔۔۔؟؟
الٹا وہ غصے سے سوال پوچھنے لگی تو دبیر خان تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور گردن تھیڑی کرتے ہوئے اُسے ہر اینگل سے بغور دیکھنے لگا۔۔۔
“کیوں تُم کیا سب سے الگ ہوں عورت نہیں ہو تو پھر کیا ہو مجھے بتاؤ۔۔۔؟؟
عیجب نظروں سے دیکھتے ہوئے اسنے اپنے قدم وفا زیدی کی طرف بڑھائے اور اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔
“تُم لمٹ کراس مت کروں ورنہ میں تُمہیں جان سے مار دو گی آگے مت بڑھنا سمجھے۔۔۔؟؟
وہ اب تو اس انسان سے ڈرنے لگی تھی جس پر کچھ دیر پہلے وہ بھروسہ کر بیٹھی تھی۔۔۔
“اے میں صرف ایک شرط پر تُمہیں رہنے دو گا اگر تُمہیں منظور ہو تو۔۔!!
اسکی دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کہنے لگا تو وفا زیدی نے ایک سانس خارج کیا اور آنکھیں بند کرتی خود کو پرسکون کرنے لگی۔۔۔
“اوکے بتاؤ کیا کرنا پڑے گا مجھے۔۔۔؟؟
وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
“نہیں ماڑا تُم کو وہ نہیں کرنا پڑے گا جو تُم سوچ کر ڈر رہی ہے کیونکہ ہم لڑکیوں کے ساتھ کچھ نہیں کرتا بلکہ ہم کو تو لڑکے پسند ہے۔۔۔!!
وہ بے باکی سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وفا زیدی کو سرگوشی نما آواز میں کہنے لگا تو اسکی بات پر وفا اس عجیب شخص کو دیکھنے لگی۔۔۔
“واقعی تُم میرے ساتھ کچھ نہیں کروں گے نا میں بھروسہ کر سکتی ہو نا تم پر۔۔۔؟؟
وفا زیدی اب اس عیجب انسان کی عیجب حرکتوں سے خوفزدہ ہوگئی تھی اسی لیے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
دبیر خان صرف اُس لڑکی کی وجہ سے یہ سب کہہ رہا تھا ویسے اُسے لڑکوں کو تو چھوڑوں لڑکیاں بھی خاص پسند نہیں تھی وہ صرف اکیلا رہنا پسند کرتا تھا اسی لیے تو اپنوں سے بھی دور رہتا تھا لیکن اسکے اپنے اسے چاہتے تھے کہ وہ پشاور میں آکر اپنی سرداری سنبھالے لیکن اسے کسی کے اوپر حکمرانی کرنا پسند نہیں تھا وہ صرف عام انسانوں کی طرح رہنا پسند کرتا تھا اور اس وقت وہ صرف اس لڑکی کو رہنے کے لیے پناہ دینا چاہتا تھا۔۔۔
“ماڑا کہا نا کہ مجھے عورتیں پسند نہیں ہے تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو ہم بھروسہ مند پھٹان ثابت ہونگے تمہارے لیے۔۔!!
وہ ایک آنکھ دباتے ہوئے واپس اسی انداز میں ایک ہاتھ سینے پر رکھتا معنی خیزی سے بولا تو وفا زیدی اب مطمئن ہو گئی تھی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“مجھے بھوک نہیں ہے آپ کیوں زبردستی کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
ژالے روٹھی روٹھی سی زہاک سے بولی جو اُسے اور ثمر کو آج ایک ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا تاکہ وہ جو مرجان کو سوچ سوچ کر اتنی پریشان رہتی تھی باہر کے ماحول میں شاید وہ کچھ وقت کے لیے اُسے بھول جائے۔۔۔
“زوجہ سلطان کھانا تو پڑے گا ورنہ میں اور ثمر بے بی بھی نہیں کھائے گے۔۔!!
زہاک عباس سلطان بھی روٹھ کر دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھ کر اپنا رخ دوسری طرف کرتا بیٹھ گیا اور اپنے باپ کے دیکھا دیکھی ثمر بھی اُسی طرح بیٹھ گیا تو ژالے اُن دونوں کے روٹھنے پر بے بسی سے اُن دونوں کو دیکھنے لگی۔۔
“سلطان میں کیسے کھا سکتی ہو آپ جانتے تو ہیں مرجان ابھی چھوٹی ہے وہ کیسے باہر اکیلے سروائیو کرسکتی ہے یہی سوچ سوچ کر میری بھوک خود بخود مر جاتی ہے۔۔۔!!
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے سینے پر بندھے دونوں ہاتھوں پر رکھتی ہوئی بولی تو زہاک عباس سلطان نے اُسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اُسے دیکھا۔۔۔
“زوجہ سلطان تُم مرجان کی فکر چھوڑ دو وہ جہاں پر ہے وہاں بہت خوش ہے اور پلیز اب کچھ تو کھا لوں ورنہ میں خود کھلا دو گا سب کے سامنے پھر تُمہیں نا چاہتے ہوئے بھی کھانا پڑے گا۔۔۔!!
وہ پہلے تو سنجیدگی سے مرجان کے حوالے سے کہنے لگا پھر آخر میں برگر ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے شرارت سے آگے بڑھا کر بولا۔۔
“نہیں سلطان پلیز۔۔۔!!!
اُسکے زبردستی کھلانے پر وہ چیختی رہ گئی جبکہ وہ اُسے کھلانے کے بعد اسی برگر سے بائٹ لینے لگا جو ژالے نے کھایا تھا۔۔۔
“بہت لذیز ہے بیگم ویسے اب تُمہیں بھی ٹرائی کرنا چاہیے اپنے سلطان کا جھوٹا۔۔۔؟؟
زہاک عباس سلطان کے آدھے بائٹ لیے برگر کو آگے بڑھانے پر ژالے اُسے گھورنے لگی۔۔۔
“سلطان آپ نا اپنا جھوٹا خود کھا لیں۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی وہاں سے روٹھ کر اٹھی جبکہ وہ آج اپنی زوجہ کے روٹھنے پر تیزی سے اٹھا اور اُسے منانے کے لیے ثمر کو اپنے ساتھ لیے اُسکے پیچھے بڑھا۔۔
“ماما مان جائے نہ دیکھے ڈیڈ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
ثمر کے آگے بڑھ کر کہنے پر وہ گردن موڑ کر پیچھے دیکھنے لگی جہاں زہاک عباس سلطان بہت سے بیلون لیے کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“زوجہ سلطان مجھے پتہ ہے تُم اِس وقت کس سچویشن سے گزر رہی ہوں بلکہ سب گھر والے گرز رہے ہیں خاص کر زارقم عباس سلطان بٹ اِسکا یہ مطلب تو یہ نہیں ہے کہ ہمیں اِس زندگی کی خوبصورتی سے محروم ہونا چاہیے بلکہ ہمیں اِن خوبصورتی کو باہیں پھیلا کر موسٹ ویلکم کہنا چاہیے۔۔۔!!
وہ بیلون کو آسمان کے سپرد کرنے کے بعد آگے بڑھا اور اُسے کھینچ کر اپنے بے حد قریب کرتا وہ اُسکی پیشانی کو محبت سے چھو کر اپنا چہرہ نیچے جھکا کر اُسے پیار سے دیکھنے لگا۔۔
“سلطان کیسے میں اس زندگی کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اپنی بہن کو بھولو کیسے بتائیں آپ۔۔۔؟؟
وہ اُسکے سینے سے لگی بے بسی سے بولی تو زہاک عباس سلطان نے اُسکی کمر کے گرد حصار کھینچتے ہوئے اُسے اپنا حساس شدت سے کرانے لگا۔۔۔
“زوجہ سلطان میں ہو نا میں تُمہیں بھولنے پر مجبور کر دو گا اور ویسے بھی مرجان کو یاد کرنے کیلئے میرا بھائی زارقم عباس سلطان ہی کافی ہے تُم صرف اپنے سلطان کو سوچا کروں۔۔۔!!!
ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے گالوں کو باری باری چھوتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے کے بعد آخر میں شریر لہجے میں بولا۔۔
“سلطان میری بہن اس وقت کہاں ہوگی آپکو پتہ ہے کیا۔۔۔؟؟
وہ اسکے سینے سے لگی اس سے پوچھنے لگی تو زہاک عباس سلطان جو ثمر کو دیکھ رہا تھا جو سامنے بیٹھا گیم کھیل رہا تھا کہ اسکی بات پر اسے دیکھنے لگا۔۔
“زوجہ سلطان تُم مرجان کو چھوڑ دو وہ بولا نا کہ جہاں بھی ہے بہت خوش ہے اور اسکی فکر کرنے کے لیے زراقم ہے ناں تم صرف اپنے اس مجنوں کے بارے میں سوچا کہ اس سے پیار کیسے کرنا ہے اسے کیسے خوش کرنا ہے۔۔!!
وہ معنی خیزی سے کہتا اُسکے چہرے پر جھکا اور گلابی ہونٹوں کو شدت سے چھونے لگا تو ژالے اسکی حرکت پر سخت سرخی چہرے پر لیے اسے ثمر کی جانب متوجہ کروانے لگی جو انکی جانب متوجہ نہیں تھا لیکن اسے لگ رہا تھا کہ زہاک عباس سلطان کی حرکت پر انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“سلطان آپ بے شرم ہے کوئی ایسی حرکت ایسی جگہ پر کرتا ہے ہاں۔۔۔؟؟
وہ شرم سے سرخ ہوتی اسے سختی سے گھورتی ہوئی بولی تو وہ دوبارہ جھکا اور نرمی سے اسکے ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔۔
“بیوی اپنی بچہ اپنا اور یہ جگہ اپنی پراپرٹی تو شرم کیسی ہاں زوجہ سلطان۔۔۔!!
وہ بے باکی سے اسکے سُرخ گالوں کو ہونٹوں سے چھوتا اسے معنی خیزی سے بولا تو اسکی بات پھر حرکت پر سخت سٹپٹاتی ہوئی ثمر کو دیکھنے لگی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“قاسم لالا ہمیں منظور نہیں ہے یہ سرداری آپ خان کو منا کر دے۔۔۔!!
وفا زیدی کو روم دیکھانے کے بعد جب دبیر خان اپنے روم میں آکر سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ لالا کے فون پر وہ تیزی سے باہر نکلا اور انکی بات پر سخت لہجے میں بولا۔۔۔
وفا جو سونے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے وہ سو نہیں پا رہی تھی تبھی دبیر خان کی تیز آواز پر وہ ڈر کر اٹھی اور کھڑکی کے پٹ کھول کر اسے دیکھنے لگی جو منڈیر پر کھڑا تھا اسکی نظروں کے ارتکاز پر مڑا وہ جلدی سے نیچے ہوئی۔۔
“ہم نے کتنی بار کہا ہے ہمیں حکمرانی کرنے سے سخت نفرت ہے چاہے وہ گاؤں کی ہو یا عورت کی ہم غلامی تو کر سکتے ہیں لیکن حکمرانی نہیں۔۔۔!!
یکدم سے سخت لہجے میں بولا تو وہ اسکی غصیلی آواز پر خوف سے سختی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔۔۔
“کیا لالا آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں۔۔۔!!!
دوسری طرف پتہ نہیں اُسے کیا کہا گیا تھا کہ وہ سخت غصے سے چیخا۔۔
“لالا ہم مرد ہے بھلے بہت زیادہ پڑھا ہے تو اسکا مطلب نہیں ہے کہ میری سوچ انگریزوں کی جیسے ہوگی آپ نے اپنے بھائی کو ایسا سمجھا ہے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا اب پیچھے مڑا تو سامنے وفا زیدی کو کھڑے دیکھ کر ایک منٹ کو ٹھہرا لیکن پھر قدم آگے بڑھا کر اُسے کمر سے پکڑ محبت سے کہنے لگا۔
“جاناں کیا ہوا تُم یہاں کیا کر رہی ہو کیا تُمہیں نیند نہیں آ رہی ہے میرے بغیر اپنے خان کے بغیر۔؟؟
یکدم سے اسکا ٹون بدلا اور وہ انتہائی محبت سے وفا زیدی سے ایسے کہنے لگا جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو۔۔۔
“لالا اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں اور تُمہارا خان کس سے محبت سے بات کر سکتا ہے جانتے تو ہو لالا کہ تیرا خان کتنا سخت ہے لڑکوں سے بھی سختی سے بات کرنا پسند کرتا ہے۔۔!!
وہ وفا کو نظروں ہی نظروں میں کچھ اشارہ کرنے لگا لیکن وہ ڈر کی وجہ سے کہا اسکا اشارہ سمجھ رہی تھی وہ تو اسکی اصلیت کو جان کر اب سخت پھچتا رہی تھی کہ کیوں اسنے اس انسان پر یقین کیا۔۔۔
“جاناں لالا تُم سے بات کرنا چاہتے ہیں کیا تم اُن سے بات کرنا چاہوں گی۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے محبت سے پوچھنے لگا تو وہ آنکھوں میں نمی اور خوف لیے اپنا سر نفی میں ہلانے لگی۔۔۔
“نہیں مم۔مجھے بات نہیں کرنی پلیز مجھے چھوڑ دو مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔!!
وہ خوف کی وجہ سے آنکھوں میں سرخی لیے اُسے دیکھتی نم آواز میں ڈرتی ہوئی بولی۔۔۔
“کیوں نہیں کروں گی جاناں ہوں اچھا اب سمجھا تم اس لیے بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں نے آئی لو یو نہیں کہا ہے محترمہ کو اسی لیے ناراض ہیں۔۔۔۔!!
وہ اُسکے گرد اپنا حصار مزید تنگ کرتا مسکرا کر کہنے لگا جبکہ وہ اس ڈرامے باز کی بات پر سختی سے آنکھوں کو میچتی شدت سے کانپنے لگی۔۔۔
“پلیز چھوڑ دیں مجھے میں بیوی نہیں ہو تمہاری تو کیوں جھوٹ بول رہے ہوں ہاں تم تو ان دونوں سے بھی زیادہ گرے ہوئے انسان نکلے۔۔۔!!
وہ ڈر کی وجہ سے شدت سے کانپ رہی تھی لیکن اپنے بچاؤ کے لیے اسنے اسکا حصار توڑنا چاہا لیکن وہ توڑ نا سکی۔
“لالا لگتا ہے تمہارے خان کی جان سخت ناراض ہیں آپکو تو پتہ ہے عورت کی ناراضگی کو کیسے ختم کرنا ہے اسی لیے اب میں فون بند کر رہا ہو پھر بات ہوتی ہے۔۔۔!!
وہ اپنے بھائی سے کہتا فون کاٹ کر سُرخ آنکھوں سے وفا زیدی کو گھورتے ہوئے آگے بڑھا اور اسے شانوں سے پکڑ کر اندر روم کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“یہ سب کیا تھا ہاں تُم نے میرے بھروسے کو کیوں توڑا ہاں۔۔۔؟؟
وفا زیدی سامنے کھڑے شخص کے بھروسہ توڑنے پر بہت ہرٹ ہوئی تھی اسی لیے روتی ہوئی بولی۔۔۔
“آئی ایم سوری تو میں بلکل بھی نہیں بولوں گا تُمہیں کیونکہ آج تک کوئی انسان دبیر خان سے سوری بلوانے کے لیے پیدا نہیں ہوا رہی بات جھوٹ بولنے کا کہ میں لڑکوں کو پسند کرتا ہوں اگر میں یہ نہیں بولتا نا تو تم مجھ پر کبھی بھروسہ نہ کرتی اور ساری رات باہر رہ کر گزارتی اور پھر کیا ہوتا تمہارے ساتھ تم کسی اور کا شکار بنتی اور ویسے بھی دبیر خان جیسا ایمان دار مرد تُمہیں چراغ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔۔۔!!
وہ اُسے سپاٹ لہجے میں کہتا دیکھنے لگا جو اب رو رہی تھی۔۔۔
“پہلے تو تُم نے مجھے بچانے کے لیے جھوٹ بولا لیکن یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے کس خوشی میں اتنا بڑا جھوٹ اپنے بھائی سے بولا ہے ہاں۔۔۔۔؟؟؟
وہ آنکھوں سے نمی کو صاف کرتی ہوئی بولی تو دبیر خان ایک گہری سانس خارج کرتا آگے بڑھا تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔
“میں نے یہاں پناہ اپنے خاندان والوں سے چھپنے کیلئے لیا ہے میرے یہاں ہونے کا صرف میرے بھائی کو پتہ ہے تو وہ بار بار شادی کرنے کا ذکر کرتے ہیں کہ اب مجھے گاؤں آکر اپنی منگیتر سے شادی کر لینے چاہیے لیکن میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تو میں نے انہیں بھی وہی کہانی سنائی جو تھوڑی دیر پہلے تمہیں سنائی تھی لیکن آج تمہاری آواز سن کر وہ سمجھے کہ میں جھوٹ بول رہا تھا اتنے دنوں سے جان چھڑانے کے لیے کیونکہ میں نے یہاں کسی اور ذات کی لڑکی سے شادی کر لیا ہے اسی لیے بہانے بنا رہا ہوں ۔۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا تو وفا زیدی اسکی بات پر اسے غصے سے گھورنے لگی لیکن اسکے گھور کر دیکھنے پر وہ ڈر گئی۔۔۔
“تم اتنے جھوٹ کیوں بولتے ہو اپنے اپنوں سے اور اگر تمہیں اپنی منگیتر سے شادی نہیں کرنی ہے تو اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا اپنے بھائی سے اگر انہیں اس جھوٹ کا پتہ چلا تو ہاں۔۔۔!!
وہ اسکی سخت نظروں سے خائف ہوتی ہوئی جلدی سے بولی۔۔
“کتنے پیسے چاہیے تُمہیں ہاں۔۔۔؟؟؟
وہ یکدم سے کرخت لہجے میں بولا تو وفا زیدی اسکی بات پر ساکت نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟
وہ سخت حیرت سے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو وہ غصے سے آگے بڑھا اور شدت سے اسے شانوں سے جکڑ کر پھر سے وہی سوال ڈورانے لگا۔۔۔
“کتنی قیمت ہے تمہاری منہ بند کرنے کی ہاں۔۔۔؟؟
وہ یہ بات پر سخت تاسف سے اسے گھورنے لگی جو اسے شانوں سے پکڑے سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
“میں کوئی بازاری نہیں ہو جو تُم میری قیمت پوچھ رہے ہو اور بے فکر رہوں میں اب تُمہیں کبھی نظر نہیں آؤ گی۔۔۔!!
وہ خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی جبکہ وہ اسکے شانوں پہ پکڑ سخت کیے اسے ہی گھورے جا رہا تھا ۔۔۔۔
“تُم شہری لڑکیاں صرف پیسوں کی زبان سے بات کرنا اچھے سے جانتے ہوں میں بھی تو وہی کر رہا ہوں تو تم پھر کیوں خود کو الگ سمجھ رہی ہوں ہاں میں یہاں ایک سال سے رہ رہا ہوں اچھے سے جانتا ہوں تم سب کو پہلے تو بے چارے لڑکوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتے ہوں پھر وہ کنگلے ہو جاتے ہیں تب انکا دل توڑ کر کسی اور امیر زادے کو اپنے جال میں پھنساتے ہوں۔۔۔!!
وہ سخت درشت لہجے میں کہتا اسے گھورنے لگا وہ بھی اسے ان لڑکیوں کی طرح سمجھ رہا تھا جو اسکے دوستوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر انہیں کنگلا کرنے کے بعد بھاگ جاتی ہیں وہ اس وقت انکا غصہ شاید اس پر نکال رہا تھا۔۔
