No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“اففففف ارقم آپ کا دھیان کہاں ہے دیکھئیے کتنا خون بہہ رہا ہے ۔۔؟؟؟
زارقم عباس سلطان کچن میں کھڑا اسکے لیے کچھ اسپیشل بنانے کے لیے کٹنگ بورڈ پر سبزیاں کاٹ رہا تھا کہ مرجان کی سرخ لباس میں خوبصورت سراپے کو دیکھ وہ مبہوت ہو کر اُسے دیکھتے ہوئے اُسنے چاقو اپنی انگلی پر پھیر دیا تکلیف اسے تب محسوس ہوئی جب مرجان نے کٹنگ بورڈ پر اسکا خون دیکھا تو وہ تڑپ کر تیزی سے آگے بڑھی اور روتی ہوئی اُسکی انگلی کو پکڑ کر اسے ہلاتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“یہ کچھ بھی نہیں ہے مرجان میں مرد ہو کر کیوں روؤ اور مجھے تکلیف نہیں ہو رہی اور تم لڑکیاں کتنی ڈرفوک ہو بٹ ہم مرد نہیں جو اتنی چھوٹی سی چوٹ پر واویلا مچائے۔۔!!
وہ مزاق کرتے ہوئے کٹنگ بورڈ کو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان نے غصے سے اسکی وہی انگلی کو پکڑ کر سختی سے دبایا جس سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا اور وہ تکلیف سے بلبلا اٹھا۔۔
“آہہہہ مرجان آہستہ سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے پلیز آرام سے۔۔۔!!
وہ اب زور زور سے واویلا مچاتے ہوئے کہنے لگا تو مرجان اسکی رونی صورت کو دیکھتی غصہ بھول کر مسکراتی ہوئی شرارت سے بولی۔۔
“تو آپ مرد ہے آپ کو تکلیف نہیں ہوتیں پھر یہ کیا ہے ہاں ارقم آپ کیوں لڑکیوں کی طرح شور مچا رہے ہیں۔۔؟؟
شریر نظروں سے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“ہوں تو میری جان میرا امتحان لے رہی ہیں کب سے ابھی بتاتا ہوں۔۔!!
وہ اپرن کو اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہتا اسکے پیچھے بڑھا جو کچن سے باہر نکل رہی تھی۔۔
“ارقم پلیز نہیں۔۔!!
وہ باہر نکل کر صوفے کے پیچھے کھڑی ہوتی سخت ڈرتی ہوئیں بولی جو صوفے کے سامنے آکر اسے کھینچتے ہوئے صوفے کے اوپر پھینک کر خود اسکے اوپر جھکنے لگا۔۔
“کتنا چاہتی ہو تُم مجھے مرجان۔۔؟؟
سرمئی آنکھوں میں نیلی آنکھوں کو گاڑھتے ہوئے گھمبیر آواز میں یہ سوال پوچھنے لگا۔۔۔
“بب۔۔۔بہت زیادہ ارقم۔۔!!
پلکوں کو سُرخ عارضوں پہ گراتی وہ نرم لہجے میں آہستگی سے بولی۔۔۔
“کیا کر سکتی ہو میرے لیے۔۔؟؟
دوسرا سوال اُسکی پیشانی پر اپنی پیشانی تھکا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“اپپ۔اپنی جان بھی دے سکتی ہو میں آپکے لیے ارقم۔۔۔!!
وہ اُسکی بے حد نزدیکی اور قُربت پر نروس ہو رہی تھیں پَر وہ ہمت کرتیں ہوئے آہستگی سے بولی۔۔
“اگر میں سچ میں جان لے لوں تو کیا تُم خاموشی سے میری محبت میں فنا ہو جاؤ گی کیا میری دیوانگی کو سہہ سکوں گی۔۔۔؟؟
ایک ہاتھ وہ نیچے نازک کمر کی جانب آہستگی سے بڑھا کے اچانک سے اُسے جھٹکے سے اپنی جانب کھینچ کر مزید اُسے اپنے قریب کرتا بوجھل لہجے میں بولا۔۔
مرجان جھٹکے سے اُس کے کھینچنے پر اُسکے چوڑے سینے سے جا لگی تو وہ سٹپٹا کے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھتی خود کو اُسکی قربت کی خماری سے بچانے لگی۔۔
“جواب دو مرجان کیا فنا ہو جاؤ گی میری محبت میں میری دیوانگی کو سہہ سکوں گی۔۔!!
اُسکی خاموشی پر وہ ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے گالوں کو نرمی سے چھو کے پوچھنے لگا۔۔
“یی۔یہ آپ آج کس طرح کے سوال پوچھ رہے ہیں ارقم۔۔؟؟
مرجان اب گھبرا رہی تھی اُسکی بے باک نظروں اور بے حد نزدیکیوں سے اپنے گلابی ہونٹوں کو کاٹتی ہوئی وہ نظریں نیچے جھکا کر بولی۔۔
“نہیں مرجان انہیں تکلیف مت دو یہ صرف تُمہارے ارقم کی ملکیت ہے تُمہیں بھی اجازت نہیں ہے اُنہیں تکلیف پہنچانے کا ورنہ میں اِس معاملے میں سخت جاگیر دار ثابت ہو سکتا ہوں اور میں بلکل بھی برداشت نہیں کر سکوں گا کہ کوئی میری جاگیر کو نقصان پہنچائے۔۔۔!!
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اُسی ہاتھوں سے اُسکے نرم گلابی ہونٹوں کو آہستگی سے چھونے لگا جس سے کچھ دیر پہلے اُسنے اسکے سُرخ گالوں کو چھوا تھا۔۔
“اور اب بتاؤ کہ تم فنا ہو جاؤ گی میری محبت میں ہممممم مرجان میری جان میری ملکیت۔۔۔؟؟
وہ اب نرمی سے دوبارہ وہی سوال اس سے پوچھنے لگا تو مرجان اُسکی گرفت میں شرم سے سرخ ہوتی سٹپٹا کے نظروں کو بار بار جھکا اور اٹھا رہی ہے۔۔۔
“جج۔جی ارقم میں خاموشی سے فنا ہو جاؤ گی۔۔!!
آخر کار وہ ہمت مجتمع کرتیں ہوئے آہستگی سے بولی تو زارقم عباس سلطان جو اسے ہی دیکھ رہا تھا کہ۔۔
اِس کے جواب پر نیچے جھکا اور نرمی سے اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا کر وہ بے خودی سے اُسے اپنی باہوں میں بھر کر اُسکی قربت میں خود کو ڈوبتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگا۔۔
“مرجان آج میں بہت زیادہ تھک گیا ہوں اتنا تھک گیا ہوں کہ اب سکون کی نیند چاہتا ہوں میں سکون چاہتا ہوں۔۔۔’اتنے دنوں سے صالحہ کے معاملے کو سوچ کر میں خود کو بہت زیادہ کمزور سمجھ رہا تھا اور خود کو اتنا کمزور دیکھ مجھے خود سے نفرت ہو رہی تھی مجھے پتہ ہے صالحہ نے جو بھی کیا ہے وہ غلط ہے لیکن ابھی ہم سب کے لیے یہی بہتر تھا کہ صالحہ دور رہے اور سیرت سارب کا نکاح بھی اسی وجہ سے کروایا کیونکہ اس زیدی کی نظریں صالحہ کے بعد ہماری سیرت پر پڑے یہ ہماری صالحہ کے بعد سیرت کے لیے بھی سہی نہیں ہے۔۔!!
صوفے پر لیٹ کر وہ اُسے اپنے سینے کے اوپر کرتا سنجیدگی سے کہنے لگا جبکہ مرجان اسکے سینے پر ہاتھ رکھے اسکے اوپر جھکی شرم سے سرخ ہو رہی تھی۔۔
“خاموش کیوں ہو جان آج میں نے تُمہاری اجازت سے ہاتھ لگایا ہے کیا تُمہیں اچھا نہیں لگ رہا میرا چھونا میری قربت پسند نہیں جو تم نظریں چرا رہی ہو۔۔؟؟
وہ اسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا۔۔۔
“نہیں ارقم مجھے اچھا لگ رہا ہے اور آپ میرے محرم ہے ہمارا رشتہ مضبوط ہے اور آپکی قربت مجھ کو بے حد سکون پہنچاتی ہے۔۔۔!!
شرم سے گلال گالوں کو دہکتے وہ اُسکی گہری نظروں کی وجہ سے ہوئے شدت سے محسوس کرتی ہوئی اپنے ہاتھوں کے دباؤ کو اسکے سینے پر بڑھانے لگی۔۔
“مرجان آج اس رشتے کو اگر میں اور زیادہ مضبوط کر دو کیا تمہیں برا تو نہیں لگے گا نا کیا تم ڈرو گی تو نہیں ناں پہلے کی طرح مجھ سے دور تو نہیں جاؤ گی ناں۔۔!!
صوفے سے اٹھتے ہوئے اسے بھی اٹھا کر گھمبیر لہجے میں کہتا اُسے یک ٹک دیکھنے لگا جو اسکی باہوں میں آنکھیں سختی سے میچی کانپ رہی تھی وہ سمجھا کہ شاید وہ پھر سے ڈر رہی ہے اس سے تو اُسے صوفے پر بیٹھا کر وہ نیچے اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کو تھام کر پوچھنے لگا۔۔
“ہمممم ہاں ارقم مم۔میں نہیں ڈرو گی اور دد۔دور بھی نہیں جاؤ گی۔۔!!
آنکھیں بند کیے وہ اسی طرح بولی تو زارقم عباس سلطان اسکی بات پر مسکرا کر آگے کو جھکا اور اسے اپنی باہوں میں بھر کر اُسے لیے بیڈ روم کی جانب آہستگی سے اپنے قدم بڑھانے لگا جب کہ وہ اسکی شرٹ کو سختی سے تھامے شرم سے آنکھوں کو سختی سے میچے خود کو اسکی باہوں میں محسوس کرتی لرز رہی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“کیا حال بنایا ہے آپ نے وفا میری بچی جب سے اُس شخص کے نکاح کا سنا ہے آپ نے تو یہ بال سنوارنا اور میک اپ بھی لگانا کم کر دیا ہے کیوں میری بچی ایسا کیوں کر رہی ہے اور ڈریس بھی تب چھینج کیا ہے ناں جب آپ نے اپنے بڑے بھائی ضنافر کی شادی کا سنا تھا اسی لیے ناں۔۔ اور مجھے پتہ ہے یہ ڈریس اس دن نکاح کی خوشی میں نہیں بلکہ آپ نے اس شخص سے ملنے کی خوشی میں پہنا تھا وفا میری بچی مجھے پتہ ہے آپ اس طرح غم مت مناؤ بلکہ جاؤ اور جا کر بدلا لو اپنا اس لڑکی سے جس نے آپ سے آپکی محبت چھینی ہے۔۔!!
جب آکا بی اسکے بیڈ روم میں داخل ہوئی تو اُسے دیکھنے لگی جو سرخ آنکھیں لیے اور اُسی دن کے کپڑوں میں دیکھ جس دن وہ ضنافر حسن زیدی کے نکاح کے دن اسنے پہنا تھا اس میں ملبوس دیکھتی وہ تاسف سے کہنے لگی۔۔
“آکا بی کس طرح لوں گی بدلا اس لڑکی سے جس سے زارقم عباس سلطان بے پناہ محبت کرتا ہے کیسے اسے مار سکتی ہو وہ جان سے مار دے گا مجھے۔۔!!
وفا حسن زیدی جب سے سلطان ولا سے آئی تھیں تب سے اپنے کمرے میں بند تھی زارقم عباس سلطان کو مرجان کے ساتھ خوش دیکھ وہ اب سوچ سوچ کر نفرت کی آگ میں جل کر خود کو اور مرجان کو برباد کرنا چاہتی تھی۔۔۔
“آپ محبت کرتی ہو تو پھر کیوں ڈر رہی ہے ہاں۔۔؟؟
آکا بی نے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ڈرتی نہیں ہو بس اُسکے خفا ہونے سے ڈرتی ہوں آکا بی اگر وو۔وہ مجھ سے خفا ہوگیا تت۔تو میں مر جاؤ گی بہت بہت محبت کرتی ہو مم۔اس سے میں آپ سے شئیر کرنے کا سوچا تھا لیکن بھائی نے ڈرایا کہ پتہ نہیں آپ کیا کرے گے میرے ساتھ اگر آپ کو پتہ چلا تو میں ڈر گئی تھی آپ سے کہ آپ شاید یہ بات سن کر مجھے قتل کر دے۔۔۔!!
وہ بے بسی سے کہتی ہوئی آخر میں انہیں دیکھتی ہوئی کہنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“میں کیوں قتل کروں گی اپنی بچی کا بلکہ میں تو اسکا ساتھ دو گی بیٹا ضنافر ابھی غصے میں اس کا ذکر اس سے مت کرنا کہ تم ابھی تک زارقم عباس سلطان کو حاصل کرنا چاہتی ہو ورنہ وہ ہو سکتا ہے تُمہیں جان سے مار ڈالے۔۔!!
آکا بی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“مم۔۔۔میں نہیں بتاؤ گی آکا بی آپ فکر مت کرے اور میں بہت جلد اس لڑکی سے بدلا لوں گی اور زارقم عباس سلطان مجھے نہیں ملا تو وہ اسکا بھی نہیں ہونا چاہیے۔۔!!
وہ انہیں دیکھتی ہوئی پہلے تو نرمی سے بولی پھر مرجان کو سوچتی نفرت سے کہنے لگی جبکہ وہ ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ سجا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیوں جیل سے رہا کروایا مجھے ہاں۔۔۔؟؟؟
نمیر لاشاری سامنے کھڑی لڑکی کو سپاٹ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تو مقابل لڑکی جو کسی چینی گڑیا کی طرح تھی وہ آگے بڑھی اور بہت سے ہرے نوٹ اُسکے آگے ٹیبل پر رکھتی ہوئی اُسے دیکھنے لگی۔۔
“زراقم عباس سلطان کو حاصل کرنے کیلئے ہم دونوں نے اُس مرجان کی وجہ سے اپنی محبت کھوئی ہے اب اسکی باری تڑپنے کی کیا تُم ساتھ دو گے میرا۔۔!!
نازک ہاتھ کو ایک نزاکت سے آگے بڑھاتی نمیر لاشاری سے گویا ہوئی تو نمیر لاشاری ٹیبل پر نوٹ کے بنڈلز کو ہاتھ سے آگے کھسکا کر نظریں اوپر اٹھا کر اس چینی گڑیا سی لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔
“مجھے پیسوں کی چاہ نہیں مجھے صرف اپنی محرومیوں کا بدلہ اُن سے لینا ہے چاہے پھر زیدی ہو یا سلطان مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا بس مجھے اُنہیں بھی تڑپا تڑپا کے ختم کرنا ہے۔۔!!
سرخ نیلی آنکھوں میں دکھ ہلکورے لے رہا تھا جسے سامنے بیٹھی لڑکی نے اچنبھے سے دیکھا اور سوچنے لگی کہ بھلا اِس جیسے شیطان نما انسان کو ایسا کونسا دکھ ملا ہے جو وہ تکلیف میں ہے۔۔۔
“مجھے اپنا کام بغیر پیسوں کے کروانا بلکل بھی پسند نہیں ہے تُمہیں یہ رقم لینی پڑے گی ورنہ میں تمہیں بچانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی ہو کیونکہ اگر تُم واپس جیل چلے گئے تو باہر پھانسی کے پھندے کو پہنے کیلئے باہر نکلوں گے۔!!
وہ پیسوں کو واپس آگے کھسکا کر ناگواری سے بولی تو نمیر لاشاری اُس نازک لڑکی کی بات پر غصے سے اٹھا اور پیسوں کو اٹھا کر اُسنے سامنے کی کھلی کھڑکی سے نیچے پھینکا۔۔
“آئی لائک ناٹ منی مجھے پیسوں کی چاہ اگر ہوتی تو وہ پراپرٹی کے کاغذات سلطان ولا سے نکلتے وقت اپنے ساتھ لے آتا کیونکہ مرجان کی ساری پراپرٹی اب بھی میرے نام پر ہے مگر مجھے انہیں برباد کرنا تھا لالچ کیلئے نہیں انتقام کیلئے کیونکہ نمیر لاشاری پیسوں کا بھوکا نہیں ہے سمجھی۔۔!!!
سرخ آنکھوں میں غصہ بھرے لڑکی سے کہتا وہ واپس صوفے پر جا بیٹھا جبکہ وہ لڑکی پرسکون انداز میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“تُمہیں یہ کام ہر حال میں کرنا پڑے گا اور پیسے تو میں ہر حال میں دو گی اگر تُم خوددار ہو تو میں حق دار کو اُسکا حق دینا پسند کرتی ہو مجھے بھی پسند نہیں ہے کہ میں مفت میں کسی سے کام لوں۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی نوٹوں کے بنڈل کو آگے سرکا کر بولیں تو نمیر نے تیز نظروں سے نوٹوں کو گھورتے ہوئے سامنے رکھا اپنا لائٹر جس سے وہ سگریٹ سلگاتا تھا اٹھا کر سب نوٹوں کو ایک ایک کر کے نیچے پھینکتا ہوا اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے انہیں لائٹر سے جلانے لگا۔۔
“اگر چاہتی ہو کہ میں تمہارا کام کرو تو خاموشی سے میرا ساتھ دینا اور کبھی اپنی دولت کا روعب مجھے مت دکھانا ورنہ میں کتنا بُرا ہو تُمہیں بتاؤ گا نہیں بلکہ دیکھاؤ گا۔۔۔!!
نوٹوں کے بنڈل کو جلانے کے بعد وہ آگے جھکا اور نیلی آنکھوں کو اُسکی براؤن آنکھوں میں گاڑتے ہوئے خطرناک لہجے میں بولا۔۔۔
“اب میرا انتقام میری محبت کو الگ کرنے کا میں اُس زارقم عباس سلطان سے لوں گا۔۔!!
وہ سخت نفرت سے ٹیبل پر مکا مارتے ہوئے سرد لہجے میں بولا تو وفا حسن زیدی زارقم عباس سلطان کے لیے اسکی نگاہوں میں نفرت دیکھ تیزی سے بولی۔۔
“خبردار اگر تُم نے زارقم کے ساتھ کچھ بھی کیا ناں تو میں تُمہیں جیل میں ڈال دو گی اگر میں نکالنا جانتی ہوں ناں تو اندر کروانا بھی جانتی ہوں اور اس بار تو میں تُم پر ایسی الزام لگاؤ گی کہ ساری جوانی تُمہیں اندر رہ کر گزارنا پڑے گا۔۔۔!!!
سخت شعلے برساتی نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔
“لڑکی زبان کو لگام دو ورنہ سچ میں میں تُمہیں قتل کر کے جیل کے اندر خود ہی چلا جاؤں گا اب کوئی فرق نہیں پڑتا میری جوانی سڑ جائیں جیل کے اندر رہ رہ کر کیونکہ مجھے نفرت ہوگئی ہے اپنی جوانی سے اور خوبصورتی سے اسی کی وجہ سے تو شاید میری ماں نے لالچ کیا اور مجھے چھوڑ دیا۔۔!!
وہ سخت غصے سے اٹھا اور اسے گردن سے پکڑ کر سخت شعلے برساتیں لہجے میں کہنے لگا اور وفا حسن زیدی اسکی سخت گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑانے لگی اسے ایسا لگ رہا تھا کہ آج وہ مر جائے گی اس شخص کے ہاتھوں اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا کہ کیوں وہ اکیلے اس جنگلی کے پاس آئیں آکا بی کے ساتھ آنا چاہیئے تھا وہ ایسے انسانوں سے ڈیل کرنا باخوبی جانتی تھیں۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“ہاہاہاہاہاہاہا دونوں بہن بھائی بے وقوف ایک دن ضرور مرے گے ابھی موقع نہیں مل رہا لیکن کسی دن تو میں انکا قصہ بھی کر دو گی اور پھر میں سکون کی زندگی جیوں گی اس حاکم زیدی کو میں نے زہر دے کر مارا لیکن وہ بھی چالاک نکلا سب کچھ اپنے بیٹے کے نام کر دیا میرے نام ایک فلیٹ تک نہیں کیا اسنے میں سگی ماں ضرور تھی حسن کی لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ محبت سے زیادہ ویلیو آجکل پیسوں کی ہے کسی اور چیز کی نہیں اگر ہاتھ میں پیسا نا ہو تو محبت کا بھی کیا فائدہ اگر زندگی ہی بے سکونی سے گزارنا پڑے تو ایسی زندگی کا کیا فائدہ تو میں نے اپنی ممتا کو اپنے بیٹے کو قتل کرتے وقت مار دیا۔۔!!
آکا بی زور سے ہنستے ہوئے کہہ کر سامنے خوف سے کانپتی عورت کو دیکھنے لگی جو اس سے ڈر کر پیچھے کی طرف کھسک رہی تھیں۔۔
“تُم کیوں ڈر رہی ہوں تمہاری وجہ سے ہی تو آج سب کچھ میرے کنٹرول میں ہے تمہارے دونوں بیٹے بیٹے آج میری مٹھی میں ہے میں جب چاؤ ان دونوں سے سلطان ولا کے ایک ایک فرد کو برباد کر دو۔
اور نام کس کا آئے گا سلطان ولا کے لوگوں کے ذہن میں صرف تُمہارا کشمالہ حسن زیدی ویسے ایک بات پوچھوں یہ تم نے جو لاشاری کا نام اپنے پیچھے دم کی طرح لگایا ہے کیا یہ بھی حسن کے کہنے پر لگایا تھا ناں تاکہ تمہاری راہیں وہ ہموار کر سکے زیدی مینشن میں اور تم کامیاب بھی ہوتی اگر میں نے تمہارے شوہر کو نہ مار دیا ہوتا۔۔
لیکن افسوس میں نے تمہارے چاروں بچوں کے باپ کو بے دردی سے قتل کر دیا اور تُم نے اپنے بیٹے کو عباس اعظم سلطان کے اوپر الزام لگا کر اسکے پاس اس لیے چھوڑا تھا نا تاکہ میں اسے برباد نا کر سکوں لیکن ہائے رے قسمت تُم یہاں پر بھی فیل ہوگئی جب تم اپنے وفا حسن زیدی کو اس دنیا میں لانے کی تیاری کر رہی تھیں نا مطلب ڈیلوری نزدیک تھی نا تمہاری تو تب میں نے تمہارے تیرہ سالہ بیٹے کو نمیر کو عباس اعظم سلطان کے خلاف کر دیا جس طرح اسکے جڑواں بھائی کو کیا ہے میں نے ابھی..!!!
وہ سخت نفرت سے آگے بڑھی اور اُس عورت کے بے ترتیب بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر نخوت سے بولیں تو وہ عورت نیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے لیے غصے سے اپنے میلے گندے ناخنوں سے اس حسین چہرے پر گاڑنے لگی لیکن وہ شاطر عورت جس نے اپنے بیٹے کو دولت کی وجہ سے مارا تھا وہ ہنستے ہوئے پیچھے ہوئی اور سامنے غصے سے پاگل ہوتیں عورت کو دیکھنے لگی۔۔
“تُم ماں کہلانے کے لائق نہیں ہوں صفیہ حاکم زیدی تم ایک ڈائن سے بھی بدتر ہوں ڈائن عورت میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی سنا تم نے۔اور میرے بچوں کو چھوڑ دو ورنہ ورنہ میں تمہیں زندہ جلا دو گی سنا نہیں تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بیٹے کے ذہن میں ایک لالچی عورت کا خاکہ بنایا اپنے لیے تاکہ میں اسے تم جیسی چال باز عورت سے محفوظ رکھ سکوں لیکن میں غلط تھی تم ناگن ہو جو اپنا روپ بدل کر وار کرنا جانتی ہو۔۔!!
کشمالہ نے پاگلوں کی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش کرتیں ہوئے چیخ چیخ کر کہا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگیں۔۔۔
“کشمالہ حسن زیدی کیوں اپنے کمزور ہاتھوں پر زور دے رہی ہو یہ رسیاں اتنی آسانی سے نہیں کھلنے والی کیونکہ اب تم جوان اور خوبصورت نہیں رہی ہو چار جوان بچوں کی ماں ہوں ایک تو پاگلوں کی طرح پورے ملک میں اپنی باغی اور نڈر دلہن کو ڈھونڈ رہا ہے جو اسے نہیں ملنے والی میں نے ایسا کام نہیں کیا ہے کہ وہ واپس لوٹے گی۔۔!!
صفیہ حاکم زیدی کے لہجے میں کشمالہ حسن زیدی کے لیے اور اپنے سگے بیٹے کیلئے بے پناہ نفرت بول رہی تھیں اور یہ سب صرف اِس دولت کی وجہ سے تھا جو اسکے شوہر حاکم زیدی نے اُسے نہیں بلکہ مرنے سے پہلے اسکے اور اپنے اکلوتے بیٹے حسن حاکم زیدی کے نام کر دیا تھا اور یہی بات اُس ڈائن عورت سے ہضم نا ہو سکی تو اسنے اپنے سگے بیٹے کو جان سے مار دیا۔۔۔۔
