47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“مسٹر سلطان آپکی بیوی کی حالت بہت زیادہ سیریس ہے ہمیں ابھی انکا آپریٹ کرنا پڑے گا ورنہ بے بی اور انکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔!!
ڈاکٹر نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر اٹھا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگا اور پھر مرجان کی جانب جو بیڈ پر بے ہوش تھی۔۔
“ڈاکٹر آپ کو جو ٹھیک لگے آپ وہی کرے پلیز میری بیوی بچے کو بچائے ورنہ میں انکے ساتھ مر جاؤ گا۔۔!!
وہ مرجان سے نظریں ہٹا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے نم آواز میں کہنے لگا تو ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسا دیا۔۔
“خیر کی دعا کروں اللہ نے چاہا تو ان شاءاللہ آپکی بیوی اور بچے کو کچھ نہیں ہوگا آپ جب تک اپنی فیملی کو بھی انفارم کر دے۔۔!!
ڈاکٹر نے نرمی سے کہا تو وہ سر ہلاتے ہوئے ایک نظر مرجان کو دیکھتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔۔
“ماما مرجان۔۔!!
فون کان سے لگا کر وہ سامنے رکھی کرسی پر گر سا گیا آنکھیں نم ہونے لگیں اور لبوں سے بس اتنے الفاظ نکلے تو دوسری طرف زویا بیگم نے جب اسکی آواز میں نمی محسوس کیا تو پریشانی سے سامنے بیٹھے عباس صاحب کی جانب دیکھنے لگی۔۔
“کیا ہوا زارقم بیٹا مرجان کو تم لوگ اس وقت کہاں ہوں۔۔؟؟
زویا بیگم کے سوال پر وہ آنکھوں سے نمی کو صاف کرتیں ہوئے نظریں اوپر اٹھا کر اس روم کو دیکھنے لگا جہاں اُسکی مرجان زندگی موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔
“ماما وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہے جب سے ملی ہے خاموش ہے اور پتہ نہیں کیوں اُسے اتنا شوق ہوا ہے اپنے ارقم سے جدا ہونے کا ماما اب بھی وہ جدا ہونا چاہتی ہے مجھ سے پلیز آپ آکر اسے سمجھائے ورنہ آپکا بیٹا بھی چلا جائے گا اسکے ساتھ کیونکہ وہ اس سے جدا نہیں رہ سکتا۔۔!!
زویا بیگم اُسکی باتوں کو سن رہی تھی وہ پتہ نہیں کس درد کو اپنے سینے میں دبائے اس وقت اپنی ماں سے روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
“بیٹا یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو بتاؤ تم دونوں کہاں ہو ہم لوگ وہی آ رہے ہیں خود کو سنبھالوں ورنہ تم کیسے اسے سنبھالوں گے۔۔!!
زویا بیگم نے اسے کہا تو وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی آنکھیں صاف کرتیں ہوئے سامنے دیکھنے لگا جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم اندر داخل ہو رہی تھیں وہ دھرکتے دل کے ساتھ اٹھا اور آگے بڑھنے لگا روم کے سامنے پہنچ کر دروازے پر لگے چھوٹے سے شیشے سے دیکھنے لگا۔۔
اندر ایک ڈاکٹر مرجان کو آکسیجن ماسک لگا رہا تھا تو ایک مشین سیٹ کر رہا تھا وہ اپنی مرجان کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تو تیزی سے اپنا رخ موڑ کر دوسری طرف دیکھتے ہوئے فون کان سے لگا کر دوسری طرف موجود زویا بیگم کی آواز کو سننے لگا جو اسے ہی آوازیں دے رہی تھیں۔۔
“ماما آپ لوگ پلیز یہاں آ جائے مم۔۔۔میں اب اُسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتا دل میں درد اٹھتا ہے پلیز آپ لوگ ہاسپٹل میں آئیں پلیز۔۔!!
وہ انہیں بھاری آواز میں کہتے ہوئے آخر میں انہیں ہاسپٹل کا نام بتا کر فون بند کرتیں ہوئے فون جیب میں ڈال کر باہر نکلا اور اپنے بالوں میں ہاتھ ڈال کر نظریں اوپر اٹھا کر نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور ہاتھ اوپر اٹھا کر اِس کائنات کے خالق سے رو رو کر دل میں اپنی مرجان اور اپنے بچے کی زندگی کے لیے دعا مانگنے لگا۔۔
“زارقم۔۔؟؟
وہ سر زمین پر سجدے کی صورت میں رکھے خدا سے رو رو کر دل میں اپنی بیوی اور بچے کی زندگی کے لیے بھیک مانگ رہا تھا کہ اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو اسنے سر اٹھا اور اپنی سرخ آنکھوں سے سامنے کھڑے اپنے بھائی کو دیکھا اور زہاک عباس سلطان اپنے اُس بھائی کو دیکھنے لگا جو بڑے سے بڑے حادثوں کو برداشت کرنے والا آج اس وقت وہ اس لمحے میں ٹوٹ چکا تھا صرف اپنی محبت کو اس حالت میں دیکھ کر وہ اُسے نیچے زمین سے اٹھا کر اپنے گلے سے لگا کر اسکی پیٹھ کو تھپکنے لگا اور اپنے بھائی سے لگ کر کسی بچے کی طرح بری طرح سے رونے لگا۔۔
“زراقم عباس سلطان خود کو سنبھالوں تم ایک مرد ہو مرد مضبوط اچھے لگتے ہیں کمزور نہیں اگر تم اس طرح بچوں کی طرح روؤ گے تو باقی گھر والوں کو کون سنبھالے گا مرجان ٹھیک ہوگی تم اسکے لیے دعا کروں اس طرح رو کر تم خود کو کمزور ثابت کر رہے ہو۔۔!!
زہاک عباس سلطان نے سنجیدگی سے کہا تو اسکی بات پر زراقم عباس سلطان اس سے الگ ہوتے ہوئے سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“زہاک بھائی مرد اگر آنسو بہائے تو اُسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ مرد کمزور ہے کیا مرد کے سینے میں دل نہیں ہوتا کیا انکے دل میں وہ احساس نہیں ہوتا جو عورتوں کے دل میں ہوتا ہے انکے اندر بھی وہی احساس ہوتے ہیں جو عورتوں کے دلوں میں ہوتا ہے بس فرق اتنا ہے کہ عورت اپنے غموں کو آنسوؤں کے ذریعے کم کرتی ہیں اور ہم مرد خاموش ہو کر اندر سے مرتے ہوئے اپنے غموں کو کم کرتے ہیں باہر سے چاہیے ہم جیسے ظاہر کرے لیکن اندر سے ہم ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور اگر کسی دن اگر ہمارا ضبط ٹوٹ گیا نا تو زور زور سے رونے کا من کرے گا کیونکہ اندر جو غم ہوتے ہیں نا وہ اس ایک سچویشن میں باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں اور آج میرے اندر جو غم تھے وہ آج پورے نو ماہ بعد نکلنے کی ضد لگائیں بیٹھے تھے شاید جو باہر نکلنے کے لیے اتنے بے تاب تھے اور اگر میں اب بھی خاموش رہتا تو آپ جانتے تھے کہ اسطرح کرنے سے میرے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔۔!!
وہ اپنے جذبات کو لفظوں سے بیان کرنے لگا تو زہاک عباس سلطان نے اسے آگے بڑھ کر پھر سے اپنے سینے سے لگا کر زور سے اسکی پیٹھ کو تھپکا۔۔
“زارقم میں اچھے سے جانتا ہوں کہ جب محبت ہم سے دور ہوتی ہے یا روٹھ جاتی ہے تو کتنا تکلیف اٹھتا ہے سینے میں مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے تم نے سہی کہا کہ مرد کیوں نہیں رو سکتا وہ بھی روتا ہے اپنی محبت کی دوری پر وہ بچوں کی طرح روتا ہے۔۔!!
زہاک نے سنجیدگی سے کہا تو زراقم عباس سلطان نے نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“زہاک بھیو کیا مرجان کو کچھ نہیں ہوگا نا وہ ٹھیک ہو جائے گی نا۔۔اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤ گا مر جاؤ گا دل دھڑکنا بھول جائے گا۔۔!!
زہاک نے اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو ہاتھ آگے بڑھا کر انہیں صاف کرتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
“تم فکر مت کروں وہ ٹھیک ہو جائے گی اور تم اب روؤ مت صرف اسکے لیے دعا کروں اُسے اِس وقت صرف دعاؤں کی ضرورت ہے۔۔!!
زہاک کی بات پر وہ آنکھیں صاف کرتیں ہوئے سر ہاں میں ہلانے لگا تو زہاک عباس سلطان نے پیچھے دیکھا جہاں زویا بیگم اور ژالے کھڑی انہیں ہی دیکھ رہی تھیں وہ انکی جانب بڑھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سب باہر بیٹھے کب سے ایمرجنسی وارڈ کی جانب دیکھ رہے تھے کہ تبھی ڈاکٹرز کی ٹیم باہر نکلی تو زراقم تیزی سے اٹھا اور انکی جانب بڑھا۔۔
“ڈاکٹر میری بیوی وہ کیسی ہے۔۔؟؟
ڈاکٹر نے اُسے دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کر کے آگے بڑھا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرایا۔۔
“شی از فائن وہ اب بلکل ٹھیک ہے اور مبارک ہو آپکو خدا نے ایک صحت مند بیٹے سے نوازا ہے لیکن۔۔!!
ڈاکٹر کے ایک ساتھ دو خوشخبریاں دینے پر وہ اوپر دیکھتے ہوئے شکر ادا کرنے لگا مگر ڈاکٹر کے ٹھہر کر لیکن کہنے پر وہ نظریں واپس ڈاکٹر کے اوپر مرکوز کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“آپ کی وائف آپ سے خوفزدہ کیوں ہیں وہ آپکا نام تک خوف سے لے رہی ہے ایسا کیوں ہے ایسی کیا ریزن ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ آپ اُسکے قریب نا آئیں وائے۔۔؟؟
اب کے ڈاکٹر کی نظروں میں اپنے لیے شک دیکھ کر وہ سخت شعلے میں خود کو گرتا ہوا محسوس کرنے لگا مطلب ڈاکٹر سمجھ رہا تھا کہ مرجان کی خوف کی وجہ وہی ہے۔
“وہ مجھ سے پورے نو ماہ دور رہی تھی شاید اسی لیے اپنی ناراضگی نکالنا چاہتی ہے مجھ پر غصہ کر کے اس کے علاؤہ اور کوئی وجہ نہیں ہے ڈاکٹر صاحب میں اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور ہمشیہ کرتا رہوں گا۔۔!!
اسنے وہ بات بتانے سے اجتناب کیا اور اسے وہ بتایا جو اُسکے برعکس تھا لیکن مرجان کے اوپر اسے اب سچ میں سخت غصہ آ رہا تھا اب اتنی بھی بچی نہیں تھی وہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی تھی پھر بھی حرکتیں ایک سال کی بچی کی طرح وہ اتنی بے وقوف ہوگی وہ جانتا تھا لیکن کسی کی باتوں کو اتنا لے گی یہ اسے اندازہ نہیں تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اُسے زویا بیگم کے ساتھ ہاسپٹل سے سیدھا سلطان ولا بھیج کر وہ خود ایک بکے لینے کے لیے ایک پھولوں کی شاپ میں گیا اور وہاں سے ایک خوبصورت بکے لے کر سیدھا ولا پہنچا اور چمکتے چہرے کے ساتھ اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔
روم کا دروازہ کھول کر جب وہ اندر داخل ہوا تو اسے اور اپنے بیٹے کو وہاں نا پاکر اُسنے غصے سے بکے کو مسلتے ہوئے نیچے پھینکا اور سخت تناؤ چہرے پر سجا کر روم سے باہر نکلا اسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہو سکتی ہے۔۔
“مرجان تُم ایسا کیوں کر رہی ہو آخر میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے بولو میرا صرف یہ جرم ہے نا کہ میں نے تمہیں چاہا ہے تو میں اس جرم کی سزا آج خود کو ختم کر کے لوں گا۔۔!!
وہ منیب اعظم سلطان کہ پورشن میں غصے سے داخل ہوا اور سیدھا مرجان کے بیڈروم کی جانب بڑھا اور دروازے کے پاس پہنچ کر ایک ہی جھٹکے سے دروازہ کھولا اور سرخ نظروں سے اُسے سامنے بیڈ پر بیٹے کو فیڈ کرواتے ہوئے دیکھا تو اُسکے سر پر پہنچ کر اُسکی ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو لینا چاہا۔۔
“میرے بچے کو ہاتھ بھی مت لگانا زارقم عباس سلطان ورنہ میں خود کو ختم کر دو گی۔۔۔!!
مرجان سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتی غصے سے بولتی ہوئیں سامنے بیڈ سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھے پروٹ باکس میں سے چھری لے کر سختی سے اس چھری کو اپنی کلائی پر رکھ کر پھیرنی لگی تو زارقم عباس سلطان پھرتی سے آگے بڑھا اور اُسکے ہاتھ سے چھری کو لے کر دور اچھال کر اُسے سخت غصے سے گھورنے لگا۔۔۔
“مرجان اب کتنا دکھ دو گی تُم مجھے ہاں بتاؤ۔۔۔؟؟
اپنے بیٹے کو سامنے بیڈ پر آرام سے لیٹا کر وہ مڑا اور غصے سے اُسے دونوں شانوں سے پکڑ کر بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“پورے نو ماہ تم مجھ سے دور رہیں اور میرے بچے کی سچائی بھی تم نے چھپائی کہ تم ماں بننے والی ہو اور میں باپ کیا اُسے باپ کی محبت سے محروم کرنا چاہتی تھی تم ہاں اور خود بھی تم مجھ سے بھاگ رہی ہو بولو کیوں کر رہی ہو تُم ہاں مرجان۔۔؟؟
سرد لہجے میں کہتا اُسے اپنے بے حد قریب کرتا بغور اُسکے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں اِس وقت کچھ بھی نہیں تھا نا نفرت نا محبت نا اپنائیت صرف اجنبیت۔۔۔
“نہیں ہے یہ تُمہارا بیٹا سُنا تُم نے یہ صرف میرا بیٹا ہے کچھ بھی نہیں لگتے ہو تُم اِسکے۔اور کوئی رشتہ نہیں ہے تمہارا ہمارے ساتھ۔۔۔!!
وہ سخت ہزیانی انداز میں اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر زور زور سے کھینچتی ہوئی چیخ چیخ کر بولی تو اسکی یہ حالت دیکھ کر زارقم عباس سلطان تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے اپنے ساتھ لگا کر اُسکی پشت کو نرمی سے سہلانے لگا۔۔
“میں نے کہا نا کہ مجھ سے دور رہوں سنائی نہیں دیتا تمہیں کہہ رہی ہوں نا کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے صرف میرا بیٹا ہے۔۔!!
اُسے غصے سے خود سے دور کرتی وہ سخت لہجے میں بولی تو زارقم نے شدید غصے سے پاگل ہوتے اسے کمر سے جکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کیا اور سرخ نظروں سے اسے گھورنے لگا۔۔
“یہ میرا بیٹا نہیں ہے تو پھر کس کا ہے ہاں بے وقوف عورت نام بتاؤ مجھے اُس مرد کا۔۔کم عقل عورت تم کیوں خود کو گالیاں دے رہی ہوں اور خبردار خبردار اگر تم نے میرے بیٹے کو ایک بھی گالی دی نا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑو گا بہت ناجائز فائدہ اٹھایا تم نے میری محبت کا اب میں تمہیں اپنے بیٹے کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دو گا۔!!
وہ اچھے سے جانتا تھا کہ یہ سب وہ اپنے بیٹے کو اُس سے دور کرنے کیلئے کر رہی ہے اور ڈر رہی ہے کہ وہ اس سے اسکے بیٹے کو چھین نہ لے لیکن اُسے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے جب سے اُسے ملی ہے عیجب حرکتیں کر رہی ہے۔۔
“مجھے ہاتھ کیوں لگایا تُم نے ہاں جرآت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تمہاری دور رہا کرو مجھ سمجھے تم میں ایسے شکی انسان کو اپنے پاس بھی برداشت نہیں کر سکتی ہوں۔۔!!
اُسکی کلون کی خوشبو سے وہ سٹپٹاتی ہوئی آنکھیں جھٹ سے کھولتی جھٹکے سے اُس سے الگ ہوتیں چیخ کر بولی۔۔۔۔
“کب شک کیا ہے میں نے تُم پر مرجان ہاں بتاؤ کب میں نے تمہیں شکی نظروں سے دیکھا تھا ہاں کب میں نے تُم پر شک کر کے تُم پابندیاں لگائی تھی جواب دو۔۔؟؟
اپنے لیے شک کا لفظ سُن کر وہ سخت پاگل ہو گیا اور سخت گیر لہجے میں کہتا اُسکی کمر پر گرفت سخت کرتا اُسکو مزید قریب کرتا زور سے غرایا تو وہ غصے سے اُسکی سخت گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی ہوئی خود کو چھڑانے لگی جبکہ مقابل شدید غصے سے اپنا گرفت اور مضبوط سے مضبوط تر کر رہا تھا۔۔
وہ سخت گرفت میں بے بس ہو کر سرخ نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی جو اسے سرخ انگارہ بنی آنکھوں سے گھور رہا تھا۔۔
“آپ میرے بچے سے اور مجھ سے دور رہیے گا اب آپ کو کوئی حق نہیں ہے ہم دونوں پر اگر آپ دور نہیں ہونگے تو میں مجبوراً آپ سے یہ کاغذی رشتہ توڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاؤ گی۔۔!!!
مرجان کی تیز اور کانوں کے پردوں کو پھاڑتی چنگارتی آواز جب زارقم عباس سلطان کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ شدید غصے سے اُسے پیچھے بیڈ پر دھکیل کر پیچھے پلٹا۔۔
اور اُس معصوم سے بچے کو اٹھانے لگا تاکہ اُسے چپ کروا سکے جو کب سے رو رہا تھا۔۔
“لائک سیریسئلی میرا بچہ۔۔!!
غصے سے اُسکی رگے تن چکی تھیں وہ سخت تیوریاں چڑھا کر آگے بڑھا اور بیڈ پر منہ کے بل گری مرجان کو اپنی مضبوط ہاتھوں سے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
آہہہہہہ۔۔۔۔!!!!
مرجان اُسکی سخت گرفت سے اپنے شانوں پہ سخت درد محسوس کرتی کراہ اٹھی۔۔
“جنگلی انسان چھوڑئیے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔!!
تکلیف اب شانوں سے ہو کر اُسکی شے رگ تک جا پہنچی تو وہ جھٹپھٹا کر خود کو اُسکی فولادی اور سخت گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جب وہ شخص ضد پر اڑے رہا تو وہ شدت سے غرائی۔۔
“مرجان ہمشیہ یاد رکھنا تُم صرف زارقم سلطان کی ہو اور یہ بچہ بھی صرف زارقم سلطان کا ہے کسی اے ٹو زیڈ کا نہیں اب آئندہ اگر تُم نے اُسے صرف میرا بچہ کہا ناں تو میں اُسے ایسی جگہ پہنچاؤں گا جہاں تُم اُسے ڈھونڈ بھی نہیں سکوں گی۔۔!!
شانوں پہ وہ اپنی گرفت کو مزید مضبوط کرتا سرخ نیلی آنکھوں کو اُس کے نازک حسین پریوں جیسے سراپے پر گھاڑتے ہوئے شدت پسند لہجے میں بولا۔
مرجان اُسکی پناہوں میں مچلتی تڑپتی سسکتی بلکتی سرمئی آنکھوں میں نمی لیے اُس ظالم مغرور شہزادے کو شدید غصے سے گھورنے لگی تھی۔
“آپ مجھ سے میرا بچہ نہیں چھین سکتے ہیں سنا آپ نے وہ صرف اور صرف میرا بیٹا ہے آپ اُسکے کچھ بھی نہیں لگتے ہیں۔!!
سرمئی آنکھوں میں زارقم عباس سلطان کیلئے غصہ ہلکورے لے رہا تھا جبکہ لہجے میں سفاکیت سموئے وہ اس وقت سخت ظالم لگ رہی تھی۔
“مرجان زارقم سلطان۔۔؟؟
شدید غصے سے آگ بگولا ہو کر وہ خطرناک لہجے میں اُسکا نام لیتے ہوئے اُسکے شانوں پہ اپنے ہاتھ گھاڑنے لگا جبکہ اُسکی اپنے شانوں میں ہاتھ گھاڑنے کی وجہ سے مانوں مرجان کا تکلیف سے برا حال ہوگیا ہوں۔۔
وہ سرخ سرمئی آنکھوں میں نمی لیے اُس ظالم دیو جیسے بنے انسان کو دیکھنے لگی جو شدید غصے کی زیادتی سے اُسے شانوں سے پکڑے سخت گھور رہا تھا۔۔
“وہ شخص میری زندگی میں پہلے سے ہی میری نفرتوں کا شدت سے شکار ہو چکا ہے اب اگر تُم بار بار اُسے یاد دلاؤ گی تو اب کی بار شاید تُمہیں زندہ نہیں ملے گا اسی کی باتوں کا نتیجہ بھگت رہا ہو میں آج تم کیا سمجھتی ہوں بے وقوف عورت کیا ایسی باتیں حرکتیں کر کے خود کو جدا کر لوں گی مجھ سے نہیں میں ایسا ہونے نہیں دو گا صرف ایک بار غلطی کی ہے اب وہ غلطی میں دوبارہ نہیں کروں گا اب تمہیں جس طرح بھی سمجھانا پڑا مجھے میں سمجھاؤ گا ۔!!
نیلی آنکھوں میں نمیر کیلئے شدید نفرت سمائے وہ زور سے چھنگار اٹھا تھا اور مرجان اپنی محبت کے ہاتھوں اُس انسان کا خون کرنے کا سُنتی تڑپی جس نے اُسے برباد کیا تھا وہ
بے بس نظروں سے اُسے دیکھنے لگی جو شدید غصے سے سّرخ چہرہ لیے کھڑا اُسے سخت شعلے برساتی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
وہ غصے کی سرخی آنکھوں میں لیے اُسکی نازک کمر کو سختی سے جکڑے ہوئے تھا اُسکی آنکھوں میں درد دیکھ کر دل میں درد کی شدید لہر کو شدت سے اٹھتا ہوا محسوس کرنے لگا تو یکدم سے نیچے جھکا اور نرمی سے اُسکی پیشانی کو چھوکر وہ اُسے اپنے اندر سختی سے بھیچنے لگا مرجان اُسکی پناہوں میں آنکھیں موندے ڈر کی وجہ سے بری طرح سے کپکپانے لگی تھی۔۔
اُن دونوں کے درمیان بھی کیسا رشتہ تھا کبھی نفرت تو کبھی بے پناہ محبت جس سے دونوں نا واقف تھے لیکن کیا اب آگے چل کر ایک دوسرے کو اپنے اِن انجانے احساسات کا علم کروا پائے گے یا نہیں۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“میں نے کہا تھا نا آپ سے تھوڑی دیر پہلے ارقم کے میرے بیٹے سے دور رہے تو پھر آپ کی جرات کیسی ہوئی میرے بیٹے کو اپنے کمرے میں لانے کی ہاں۔۔؟؟
رات کا کھانا کھا کر جب وہ گیارہ بجے کے قریب اپنے روم میں گئی تو وہاں اپنے بیٹے کو نا پاکر وہ پریشانی سے اسے پورے ولا میں ڈھونڈے لگی لیکن وہ کہیں نہیں ملا تو وہ غصے سے زراقم عباس سلطان کے پاس پہنچی تو اپنے بیٹے کو اسکے سینے پر گہری نیند سوئے دیکھ کر وہ سخت نظروں سے اسے گھورتی ہوئی بولی۔۔
“ششش خاموش دیکھ نہیں رہی میرا بیٹا سو رہا ہے۔۔!!
اسنے بھی بدلے میں سخت نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں آہستہ آواز میں کہا۔۔
“میرا بیٹا ہے وہ ارقم صرف میرا بیٹا ہے اسامہ آپ کا کچھ نہیں لگتا سمجھے۔۔!!
وہ اُسکی جانب بڑھتی ہوئی پیر پٹک کر کرخت لہجے میں بولی تو زارقم نے سینے سے اپنے بیٹے کو احتیاط سے اٹھایا اور بیڈ پر لیٹا کر بیڈ سے نیچے اترا اور اسے بغور دیکھنے لگا۔۔
“نفرت کرنے لگی ہو تو نفرت کا اظہار بھی کروں تم اب نفرت میں بھی مجھے اتنی پیار سے مخاطب کروں گی کہ میرا نام زراقم عباس سلطان سے ارقم کہوں گی سو نائس مجھے ایسی نفرت قبول ہے۔۔!!
ہاتھ آگے بڑھا اُسکی کمر پر کو پکڑ کر اسے اپنے نزدیک کرتا دوسرے ہاتھ سے اُسکی ٹھوڈی کو پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کرتا معنی خیزی سے بولا۔۔
“میں آپ سے نفرت نہیں کرتی میں آپ سے بس دور ہونا چاہتی ہوں اور پلیز اب آپ مجھے ہاتھ مت لگائیے گا میں ایسا کچھ بھی اب نہیں چاہتی ہوں۔۔!!
اُسکی انگلیوں کو وہ اپنے لبوں کے اوپر سرکتے ہوئے شدت سے محسوس کرتی وہ رخ دوسری طرف کرتیں نم آواز میں بولی۔۔
“وجہ بتاؤ جان ہوسکتا وجہ جان کر میں تم سے دور چلا جاؤ لیکن ایسے وجہ جانے بغیر میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا تمہاری اس بے اعتنائی کو میں بلکل بھی اب برداشت نہیں کر رہا ہوں پلیز اب وجہ بتاؤ اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں تمہارے آنے کے بعد تم پر شک کر کے تم پر طلاق کا داغ لگا دوں گا تو تم سب سے بڑی بے وقوف ہو یا پھر تم اب تک مجھے سمجھ نہیں سکی ہوں۔۔!!
اُسکا چہرہ پکڑ کر اُسنے اسکا رخ اپنی طرف کیا اور گھمبیر لہجے میں کہتا باری باری اُسکے رخساروں کو چھونے لگا۔
“مرجان تُم نے بہت تڑپایا ہے مجھے اب اور نہیں سہہ سکتا میں مجھے محسوس کرنے دو کہ تُم میرے پاس ہو۔۔۔!!
زارقم عباس سلطان بوجھل لہجے میں کہتا اُسکے بُری طرح سے کانپتے ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے اپنی اتنے دنوں کی تڑپ کا اُسے احساس کرانے لگا۔۔۔
“نہیں ارقم میں نہیں سہہ سکتی آپکی اتنی محبت میں ڈرتی ہوں کہ آپ مجھے چھوڑ دو گے مم۔میں اُس شخص کی وجہ سے آپ سے اتنے دنوں دور رہی تھی کک۔ کہی آپ مجھ پر شک نہ کریں اگر آپ نے میری پریگننسی کا سن کر مجھے دھتکارا تو میں کیا کروں گی میں ڈر رہے تھی آپ کے غصے سے کہ آپ غصے سے مجھے خود سے دور نہ کر دے۔۔۔!!
وہ اُسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جو اُسکے اوپر جھکا اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہا تھا اُسکی بات پر اچانک سے اُسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔
مرجان اُسکی شدتوں بھرے لمس پر سختی سے اُسکی پشت کو پکڑ گئی اور زور سے آنکھیں میچتی وہ اُسکی قربت میں راحت محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔
“کیوں دور کروں گا میں تُمہیں خود سے ہاں تُم تو میرے جینے کی وجہ ہو اور میں نے اگر ایسا کیا تو خود مر جاؤ گا۔۔۔؟؟
چہرہ اوپر اٹھا کر ایک ہاتھ سے اُسکے بالوں کو گالوں سے ہٹا کر بھاری آواز میں پوچھنے لگا تو مرجان نے نم نظریں اُسکی چمکتی نیلی آنکھوں میں ڈال کر اسے دیکھا تو زارقم عباس سلطان اُسکے اسطرح دیکھنے پر نرمی سے اُسے اپنے ساتھ لگا کر شدت سے اُسکی گردن کو چھونے لگا۔۔
“بس میں ڈر گئی تھی ارقم اُس شخص نے میری برین واش کی تھی اور میں اسکی باتوں میں آگئی تھی مم۔مجھے معاف کر دے ارقم جو میں نے اتنی بڑی بے وقوفی کی ہے آپ سے الگ ہو کر اور اپنے بچے کو بھی آپ سے دور کرنا چاہا یہ شرمندگی مجھے الگ ہو رہی ہے کہ میں نے آپ نے پریگننسی کے جاننے کے بعد آپ سے رابطہ کیوں نہیں کیا سلطان والا کیوں واپس نہیں گئی۔۔!!
مرجان نے دونوں ہاتھوں سے اُسکے چہرے کو تھامتے ہوئے نم آواز میں کہا تو زارقم عباس سلطان اُس جھلی کی بات پر مسکرایا اور پیار سے اُسکے لبوں پر جھکا اور اُسے اپنی چاہت کا شدت سے یقین دلانے لگا کہ وہ کتنا چاہتا ہے اُسے کہ اُسکی دوری کا سوچ کر نا صرف وہ بلکہ دونوں تڑپ کر مر جائے گے۔۔
“جان یہ تُم نے کیسے سوچ لیا کہ تُمہارا ارقم تُم پر شک کرے گا کیسے تُم نے سوچا اس شخص پر تو مجھے بہت غصہ آ رہا ہے دل چاہ رہا ہے اسے جا کر قتل کر دو لیکن وہ معافی مانگنے آیا تھا ایک دن میرے پاس جان کیا تم اسے معاف کروں گی یاد رکھنا میں اسے کبھی معاف نہیں کرنے والا تم جو چاہو گی میں وہی کروں گا لیکن میں اسے معاف کرنے کے علاؤہ میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں ۔؟؟
مرجان بُری طرح سے آنسو بہا رہی تھیں اور ساتھ میں اُسکا نازک وجود بھی بُری طرح سے لرز رہا تھا اور یہ دیکھ وہ اُسے نرمی سے پکڑ کر بھاری آواز میں کہنے لگا۔۔
“مجھے لل۔لگا کہ آپ مجھ پر شک کرے گے اِسی لیے میں آپ سے دور چلی گئی تھی۔۔!!
وہ اُسکے بازوؤں کے اوپر اپنے ہاتھ رکھتی نم آواز میں بولی تو زراقم نے اُسکا رخ اپنی جانب کیا اور دونوں ہاتھوں کو تھام کر ہونٹوں سے لگا کر آنکھیں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی لمس پر آنکھیں میچے کھڑی تھی۔۔
“مرجان یہ کیسی بات ہوئی کیا تُم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتی ہوں جو تمہیں یہ سوچنا پڑا کہ میں تُم پر شک کروں گا اپنے خون کو گالی دو گا۔۔!!
آہستگی سے اُسکے گلابی چہرے سے زلفوں کو ہٹاتے ہوئے کان کے پیچھے کرتا بغور اُسکے چہرے کو دیکھنے لگا دل تو چاہ رہا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کو اپنی تکلیف اور تڑپ کا احساس شدت سے کروائے۔۔
“آپ پر مجھے خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے لیکن مجھے اُس وقت پر بھروسہ نہیں تھا وہ وقت ہی ایسا تھا کہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ اگر میں وہاں آئی اور میری پریگننسی کا پتہ چلا آپکو تو آپ مجھ پر شک کرکے مجھے خود سے الگ کر دے گے۔۔!!
وہ سرمئی آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی لیے اُسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو زراقم اُسکی کم عقلی پر سخت نظروں سے اسے گھورنے لگا۔۔
“اگر بھروسہ کرتی ہو تو پھر مجھے اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا تھا تم نے۔۔جان ایسا تو نہیں ہوتا یہ رشتہ جو ہے ناں یہ ایک نازک دھاگے کی مانند ہوتا ہے جس کو جتنی مرضی ہم مضبوطی سے پکڑیں گے تو کیا گرانٹی ہے کہ وہ ٹوٹے گی نہیں جب تک وہ دھاگا مضبوط نہیں ہوتا ہم اُسے ٹوٹنے سے نہیں بچا سکے گے اسیطرح اگر میاں بیوی ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرے گے تو انکا رشتہ اس کمزور دھاگے کی طرح ایک دن کمزور ہو کر ٹوٹ جائے گا۔۔!!
وہ اُسے اپنے بے حد قریب کرتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا تو مرجان اُسکی کلون کی بھینی بھینی مہک کو اپنے ارد گرد شدت سے مہکتا ہوا محسوس کرنے لگی اُسے ایسا لگ رہا تھا جسے کہ وہ ایک بار پھر سے دیوانی ہو جائے گی اِس خوشبو اور مقابل کھڑے شخص کی اور وہ چاہتی بھی یہی تھی۔۔
“جان یہی بھروسہ ہی تو ہے ہمارے درمیان جو آج میرے اتنے زیادہ غصہ ہونے کے باوجود بھی ہمیں ایک کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اگر تم بھروسہ کروں گی نا تو ہمارا رشتہ اور بھی زیادہ مضبوط ہو جائے گا اگر میں بھروسہ نہ کرتا تم پر تو آج تمہاری باتیں سچ ثابت ہوتی اور میں بنا سوچے سمجھے غصے میں تمہیں طلاق دیتا لیکن آج میرا بھروسہ جیت گیا اور غصہ ہار گیا۔۔!!
پیشانی کو نرمی سے چھو کر وہ اُسکی نازک کمر پر اپنی گرفت سخت کرتا اُسے اپنے نزدیک تر کرتا چلا گیا تھا جبکہ نیلی آنکھیں اُسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں تبھی وہ اچانک سے مدہوش سا اُسکے چہرے پر جھکا اور اُسکی سانسوں میں ایک خوبصورت سا احساس چھوڑنے لگا۔۔
وہ آنکھیں سختی سے میچے اپنی سانسوں میں جیسے ایک بھینی بھینی سی مہک کو شدت سے گھولتا کرنے لگی تھی کہ یکدم سے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے نشیلی آنکھوں کے سحر میں خود کو گرفتار ہوتیں ہوئے شدت سے محسوس کرنے لگی۔۔۔
“جان بہت مس کیا تھا تمہیں میں نے کیا تم نے اپنے ارقم کو مس کیا تھا۔۔؟؟
وہ ایک ہاتھ اُسکے دل پر رکھ کر اُسکی ڈھرکنوں کے رقص کو محسوس کرنے لگا وہ ہاتھ اسے طرح اسکے دل پر رکھے پیچھے ہٹا اور سر اُسکے سینے پر رکھ کر اُن رقص کو آنکھیں بند کرکے سنتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔
“ہاں میں نے بھی آپ کو بہت زیادہ مس کیا تھا اتنا کہ راتوں کو میں بہت روتی تھی کیوں ارقم ہماری قسمت ہمیں ہمشیہ الگ کرتی ہے کیوں۔۔؟؟
اُسکے چہرے کو اوپر اٹھا کر وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی پوچھنے لگی تو زراقم نے اُسکی نم آنکھوں کو لبوں سے چھوا اور دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر سر اسکی پیشانی سے ٹکا کر آنکھیں موندتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“یہ آزمانے کیلئے جان وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کتنا چاہتے ہیں دوری کو کیسے سہتے ہیں وہ دیکھنا چاہتا تھا بس ہم اس آزمائش میں کامیاب ہوگئے تھے تو اس نے ہمیں پھر سے ایک کر دیا اب میں تمہیں کبھی بھی خود سے دور جانے نہیں دو گا تمہیں خود سے ایسے باندھوں گا کہ تمہیں مجھ سے دور جانے کا من نہیں کرے گا۔۔!!
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ کہنے لگا اور اُسے سامنے ٹیبل سے جوس اٹھا کر پلانے لگا کیونکہ وہ اپنے صحت کا آج کل اتنا دھیان نہیں دے رہی تھی اسی لیے اسنے آنے سے پہلے اسکے لیے کمرے میں اسکے لیے جوس منگوایا تھا وہ پینے کے بعد اسنے اسکے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے لبوں سے لگا کر اسے شانوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھا کر دونوں ہاتھوں کو تھام کر تھپکتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓