47.7K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

یہ ایک مہشور بار کا منظر تھا جہاں ہر کوئی اپنے اپنے پاٹنر کے ساتھ انجوائے کر رہا تھا کہ اچانک سے بار کے مین انٹرس سے ایک لڑکا نمودار ہوا جسنے بلیک کلر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سیاہ سلکی بال اوپر کو اٹھے ہوئے تھے جسکی وجہ سے اُسکا لُک بیڈ بوائے لگ رہا تھا۔۔
اُسکی مضبوط کندھوں پر لٹکے سیاہ جیکٹ جس پر بہت سارے سفید اسٹونگ لگے تھے اور جیکٹ نہ پہننے کی وجہ سے اُسکے سفید مضبوط بازو لائٹ اس پر پڑنے کی وجہ سے نظر آ رہے تھے ایک بازو پر لوسیفر کا ٹیٹو تو دوسرے پر آئی ایم آ بیڈ بوائے ادین لکھا ہوا تھا۔۔
ساری لڑکیاں تو اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اُس بیڈ بوائے کو بے باک نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔اور وہ سب کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر اپنے قدم آگے کی جانب بڑھانے لگا۔
وہ بار کے ایک کونے کی جانب بڑھا جہاں مکمل اندھیرا تھا ہاں لائٹ وہاں آنے کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لئے وہ جگہ روشن ہو جاتی تھی۔
وہ صوفوں کی جانب بڑھا جو قطار کی صورت میں رکھے ہوئے تھے اور وہاں ایک صوفے پر تقریباً پیچھے کو لیٹے ہوئے لڑکے کو وہ اپنی عیجب نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا اور وہاں پر آرام سے اپنا ایک پاؤں ٹیبل کے اوپر رکھتے ہوئے بیٹھا اور vodka کا منی گلاس اٹھا کر اپنے منہ سے لگا کر گھٹا گھٹ پینے لگا پھر اپنی سرخ آنکھوں کو اٹھا کر اُس لڑکے کے گرد بیٹھی بولڈ لڑکیوں کو شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے ہنسنے لگا۔۔
لڑکا اُسے اپنی نشے سے چور آنکھوں سے اندھیرے کی وجہ سے اُسےدیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اُسے دیکھ نہیں سکا تو ایک لڑکی کو اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔
ایک لڑکی کی آواز پر اسنے اپنے اوپر جھکی لڑکی کو پیچھے کرتے ہوئے سامنے لائٹ ان دو نفوس پر پڑتے ہوئے دیکھنے لگا جو سامنے بیٹھے اُس خوبصورت شہزادوں کی آن بان رکھنے والے شخص کی ٹانگوں پر ایک ادا سے بیٹھتے ہوئے مسکراکر اپنا ایک ہاتھ ناز سے آگے بڑھاتی ہوئی وہ لڑکی اسکے چہرے کو بے باکی سے چھونے لگی۔۔
لڑکے کی نظریں جب اُس شخص کے اوپر پڑی تو خوف سے وہ بری طرح سے کانپ اٹھا کیونکہ وہ اُسے پہنچان چکا تھا کہ وہ یہاں صرف اُسی کیلئے آیا تھا مطلب وہ دو سال بعد لوٹا ہے وہ اپنے ملک سے یہاں اسی کی وجہ سے آیا تھا اب اُسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوگیا اور اٹھا لیکن اسے خوف سے وہی ٹھہرنا پڑا۔۔
وجہ وہ لڑکی کی درگت تھی۔جو اسنے لڑکی کو شدید غصے سے خود سے دور کیا تھا تو وہ اسکے دھکا دینے پر سیدھی جاکر ٹیبل پر وسکی اور vodka کے گلاسوں کے اوپر جا گری تھی۔۔
“ہاؤ ڈئیر یو تُمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے اتنے گلوز آنے کی میرے کام میں مداخلت کرنے کی ہممممم۔ یو بچ تِیری تو تُم نے مجھے چھوا کیوں ہاں میں نے آج تک اپنے آپ کو اجازت نہیں دیا تو تُم ہوتی کون ہو میرے قریب آنے کی باسٹرڈ۔۔؟؟
نشیلی سیاہ آنکھوں سے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔جبکہ وہ لڑکا اب وہاں سے نکلنے کی کرنے لگا کیونکہ وہ اُسے پہنچان چکا تھا اور اُسے معلوم تھا کہ وہ ڈیول صرف نام کا نہیں ہے بلکہ وہ اصل میں ایک ڈیول تھا۔
“آئی لائک اٹ تُم ہاٹ اینڈ ہینڈسم کے ساتھ بہت موڈی بھی ہو مجھے تُم سے مل کر بہت مزا آیا۔۔!!
لڑکی ٹیبل پر لیٹی اور اُسکی جانب دیکھتی ہوئی ایک آنکھ کو دباتے ہوئے بولی۔تو اُسنے سرد نگاہوں سے اُسے گھورا۔
“مجھے سخت زہر لگ رہی ہو تُم یہ گھٹیا حرکتیں کرتی ہوئی اِس سے پہلے کے میں تُمہارا گلا دبا کر تُمہارا تابوت اسی ٹیبل سے بناؤ تو ہٹو میرے سامنے سے لڑکی۔۔!!
سگریٹ اپنی پوکٹ سے نکال کر اپنے عنابی ہونٹوں سے لگا کر ناگواری سے بولا۔تو لڑکی اسکے سگریٹ ہونٹوں سے لگانے پر مسکرائی اور اٹھتی ہوئی اپنے لائٹر سے اسکے ہونٹوں سے لگے سگریٹ کو سلگانے لگی وہ اس حرکت پر سگریٹ کو غصے سے نیچے پیھنکتے ہوئے انگلی اٹھا کر غرایا۔۔
“یو باسٹرڈ مجھے صرف اپنی چیزیں استعمال کرنا پسند ہے تُمہاری ہمت کیسے ہوئی میری سگریٹ کو اپنے اس بے ہودہ لائٹر سے جلانے کی ہاں۔۔!!
غصے سے اس لڑکی کی گردن کو سختی سے دبوچتے ہوئے درشت لہجے میں کہنے لگا۔وہ لڑکی اسکی سخت گرفت پر بری طرح سے تڑپ کر خود کو چھڑانے لگی۔۔
“اے شانے چھوڑو ہماری لڑکی کو ورنہ ہم تُمہیں شوٹ کر دیں گے۔۔!!
اپنے پیچھے ایک سخت آواز پر وہ پلٹ کر اپنے سامنے چار پانچ غنڈوں کو دیکھنے لگا جو کھڑے اُسے ہی گھور رہے تھے تو وہ لڑکی کی گردن کو اور زور سے دباتے ہوئے عیجب طرح سے مسکرایا۔۔
“آؤ چھڑا لوں۔۔!!
معنی خیزی سے کہتا سامنے ٹیبل پر رکھے وڈکا ،وسکی کے گلاسوں کو اپنے پیر مار کر نیچے گرانے کے بعد اس پر بیٹھا اور اپنے پینٹ کا بیلٹ نکالکر اس لڑکی کی گردن پر باندھنے لگا۔۔
“اے شانے چھوڑ ہماری لڑکی کو ورنہ بہت پچھتائے گا تُوں۔۔!!
ایک آدمی کی بات پر اُسنے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر بیلٹ کو کھینچنے لگا جسکی وجہ سے اس لڑکی کی آنکھیں باہر کو نکلنے کے درپے ہونے لگی تو وہ آدمی ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹا۔
“ادین پچھتانے والی چیز نہیں ہے بلکہ وہ چھیڑ پھاڑنے والی چیز ہے تُم لوگ اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنی لڑکی محبوبہ جو بھی ہے اسے میری نظروں کے سامنے سے لے کر یہاں سے نکل جاؤ اگر میرا دماغ گھوم گیا ناں تو تم سب دنیا سے گم ہو جاؤ گے گوٹ اٹ۔۔!!
وہ انگلی اٹھا کر سب کو دیکھتے ہوئے وارننگ دینے لگا۔تو اسکی وارننگ سننے کے بعد سب وہاں سے بھاگ گئے تو اسنے پیچھے مڑ کر اس لڑکے کو دیکھا جو کہ اب وہاں نہیں تھا تو یہ دیکھ کر وہ استہزایہ مسکرایا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“تُم اتنے دنوں سے کہاں غائب تھی پتہ ہے نا میں یہاں کتنا ٹیشن میں تھا اور گلٹی فیل کر رہا تھا رہ رہ کر اپنا رویہ یاد آ رہا تھا کہ میں نے اس دن تمہارے ساتھ بہت روڈلی ریکٹ کیا تھا جب سوری کا سوچا تو تم غائب ہوگئی ۔۔!!
نمیر کو اپنے دل میں ایک پرسکون سا احساس محسوس ہوا اُسے اتنے دنوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر وہ لاؤنج میں بیٹھا چائے پی رہا تھا تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اسی لہجے میں اس سے مخاطب ہوا جو وہ اکثر اس کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔۔
“اپنے گھر اور کہاں رہوں گی اور اولڈ مین تُم اور میرے لیے ٹینشن نا کرو یار ورنہ میں بے ہوش ہو جاؤ گی۔”
میرم ہارون ہنستی ہوئی بولی۔نمیر اسے ہنستے ہوئے دیکھتا سخت غصے سے آگے بڑھا اور اُسے شانوں سے پکڑ کر گھورنے لگا۔۔
“مجھے اولڈ مین کہہ کر اب اگر تُم نے مجھے مخاطب کیا نا تو سچ میں میں تُمہیں بے ہوش کرنے پر مجبور کر دو گا۔۔!!
وہ اُسکے اولڈ مین کہنے پر پتہ نہیں کیوں آج سخت چڑ گیا تھا اسکے شانوں پہ گرفت زیادہ کرتا وہ غرایا۔۔
“بٹ کیوں مجھے بہت اچھا لگتا ہے تمہیں اولڈ مین کہنا۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولی۔تو نمیر نے سخت تیوریاں چڑھا کر اسے دیکھا تو وہ کھسیانی ہنسی ہنسنے لگی۔۔
“مجھے پسند نہیں ہے کہ تم مجھے اولڈ مین کہوں اس لیے سمجھی میں تم سے صرف تین سال بڑا ہوگا اتنا بھی نہیں کہ تم مجھے ایک بڈھا سمجھوں۔۔!!
وہ سخت لہجے میں بولا۔تو میرم ہارون اسکی بات پر زور سے ہنسی تو اسکی ہنسی کی جلترنگ کو سن کر وہ اُسے دیکھنے لگا۔۔
“اولڈ مین مجھے تو تُم ایک بوڑھے بابا جی کی طرح لگتے ہوں اسی لیے میں نے جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو میرے ذہن میں یہی نام آیا تھا تو میں نے تمہیں اسی نام سے بلانا شروع کر دیا تھا۔۔!!
اسکی ہنسی کی وجہ سے گالوں پر پڑتے ڈمپل میں کھویا ہوا تھا اسکی باتوں کو سن نہیں رہا تھا تو میرم نے آگے بڑھ کر اُسے زور سے کندھوں سے ہلایا تو وہ بری طرح سے چونکا۔۔
“اولڈ مین تُم کہاں گم ہو۔۔!!
وہ اُسے دیکھتی ہوئی ہاتھوں سے اشارہ کرتی ہوئی پوچھنے لگی۔تو وہ نیلی آنکھوں سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے کھوئے سے انداز میں مسکرایا۔۔
“تمہارے چہرے میں۔۔!!
وہ میرم ہارون کے گرد جیسے سحر پھوکنے لگا اپنی گھمبیر آواز سے اور وہ اس سحر میں جکڑتی ہوئی خود کو شدت سے محسوس کرنے لگی لیکن وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“اولڈ مین کیا تُمہارے دل میں میرے لیے۔۔؟؟
وہ اُسے دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔تو نمیر اسکی بات پر مسکرایا تو میرم ہارون کو اسکی مسکراہٹ سے زور دار جھٹکا لگا۔۔
“نہیں تُمہیں اپنے دل سے مجھے نکالنا ہوگا نمیر زیدی میں کسی کی زندگی میں ایک منٹ کو تو خوشیاں لا سکتی ہو لیکن ساری زندگی صرف غمی لا سکتی ہو تمہیں خود کو یہی پر روکنا پڑے گا۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے میں بول کر تیزی سے مڑی۔نمیر اُس لڑکی کو دیکھنے لگا جو ہر وقت خوش رہتی تھی اور اپنی شرارتوں سے سب کو ہنساتی ہے مگر اس وقت وہ لڑکی نہیں لگ رہی تھی بلکہ کوئی ٹوٹی بکھری لڑکی لگ رہی تھی۔۔
“یہ میرا دل ہے کوئی گھر نہیں ہے کہ ہاتھ پکڑ کر تمہیں باہر نکال دو میرم ہارون اور تُم نمیر حسن زیدی کی خوشی اور غمی کی وجہ دونوں ہو اگر تم خوشیاں لا سکتی تو میں اُن غموں کو دور کرنا جانتا ہوں۔۔!!
وہ اسکے شانوں کو سختی سے پکڑے کھڑا اسے اپنی غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو وہ اسے بے بسی سے دیکھنے لگی وہ اس شخص کو کیسے سمجھاتی کہ وہ صرف ایک بدنصیب ہے جو اس دنیا میں صرف سب کو پریشان کرنے کیلئے آئی تھی۔۔
“نہیں مجھے کچھ نہیں سننا تُم بس مجھے بھول جاؤ میں صرف غم دینے کیلئے بنی ہوئی ہو میرے چہرے پر مسکراہٹ ہنسی دیکھ کر تُم سمجھے میں اپنی زندگی سے بہت خوش ہوں لیکن تُم نہیں جانتے ہو کہ میں اس دل میں اتنے غم لیے پھرتی ہوں جتنے کسی کے دل میں نہیں ہوگے اگر کسی دن یہ غم باہر نکلے تو میں رو رو کر مر جاؤ گی اور میں چاہتی ہو میرے مرنے پر بھی سب ہنسے اور مجھے خوشی خوشی رخصت کرے لیکن تُم میری یہ چھوٹی سی خواہش کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہو۔۔!!
وہ اُسے کالر سے پکڑ کر بُری طرح سے جھنجھوڑ کر چیختی ہوئی ہزیانی انداز میں بولی۔ نمیر اسکی موت کی بات اسکے منہ سے سن کر اسنے اسے جھٹکے سے اپنے ساتھ لگایا۔۔
“آئندہ اپنے منہ سے موت کا لفظ مت نکالنا ورنہ میں تمہیں خود مار ڈالوں گا سمجھیتُم نمیر حسن زیدی کی جنون بن چکی ہواسکی خوشی ہو تم۔تمہیں دیکھ کر مجھے اب لگنے لگا ہے جیسے خدا نے مجھے معاف کر دیا ہے۔اتنے دنوں سے میں تمہیں خود سے دور کر رہا تھا کیونکہ تم بہت معصوم ہو اور میں ایک شیطان تو کیسے میں ایک معصوم اور نیک لڑکی کو چاہ سکتا ہوں لیکن ہزار بار خود کو سمجھانے کے باوجود بھی میں خود کو تمہیں چاہنے سے روک نا سکا تو اب مجھے فیل ہو رہا کہ مجھے معاف کر دیا گیا ہے۔۔!!
وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں پکڑ کر اسے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔میرم ہارون اسکی بات پر اپنے حلق میں ایک آنسوؤں کا گولا سا پھنستا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگی۔
“ہم ایک دوست بھی تو بن سکتے ہیں نمیر حسن زیدی۔۔!!
وہ آس سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔نمیر نے اسکو دیکھتے ہوئے نفی میں اپنا سر ہلایا۔۔
“نہیں میرم ہارون میں نے ایک گناہ کیا تھا اور اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ مرد اور عورت کبھی بھی دوست نہیں بن سکتے میں تُم سے صرف ایک پاکیزہ رشتے میں بندھنا چاہتا ہوں اب وہ گناہ میں غلطی سے بھی نہیں ڈورانا چاہتا۔۔!!
وہ اُسے دیکھ رہا تھا جو اسکی بات پر پتہ نہیں کیوں رو رہی تھی تبھی وہ زور زور سے اپنا سر نفی میں ہلاتی ہوئی اس سے دور ہوئی اور پیچھے ہٹتے ہوئے دروازے کے ساتھ جا لگی۔۔
“نمیر حسن زیدی میرا تُمہیں بچانا غلط تھا میں نے تمہیں اس دن خودکشی کرنے سے روکا اور آج دیکھو میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے میں ان چند دنوں کو خوشی سے گزارنا چاہتی تھی لیکن وہ سب تم نے برباد کر دیا۔۔!!
یہ کہتی وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی ہوئی تیزی سے باہر بھاگی جبکہ نمیر اسے بھاگتے ہوئے دیکھ کر خود بھی اسے آوازیں دیتے ہوئے بھاگا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
“چارلی تُم مجھ سے چھپ نہیں سکتے باہر نکلوں مجھے پتہ ہے تُم یہی پر چھپے ہوں۔۔!!
وہ بار میں بنے ایک ایک روم کو چیک کرتے ہوئے کرخت لہجے میں کسی کو آوازیں دے رہا تھا تبھی ایک روم میں پہنچ کر اسنے سامنے لگے شیشے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے بار میں لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا تھا۔
“کوئی بھی ادین سے چھپ نہیں سکتا مسٹر چارلی تم اچھے سے جانتے ہو پھر کیوں تم اتنی مشقت کر رہے ہو اس چھوٹی سی گلی کے پیچھے چھپ کر وائے۔۔!!
وہ مسکرا کر بیڈ پر جا کر بیٹھا اور شیشے میں نظر آتیں شخص کو دیکھنے لگا جو اس روم میں بنی گیلری میں چھوٹی سی گلی میں چھپا ہوا تھا
وہ اپنے دستانوں کے نیچے سے ایک منی چاقو کو نکال کر اچھالنے والے انداز میں سامنے ٹیبل پر پیھنکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اا۔۔ادین۔۔!!
وہ لڑکا روتے ہوئے اس گلی سے باہر نکلا اور اسکے ٹیبل کے اوپر رکھے پیروں کو پکڑ کر کہنے لگا تو وہ اسے اپنے پیروں پر گرے دیکھ اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ایک استہزایہ مسکراہٹ جو اپنے دشمنوں کے لیے خاص تھا۔۔
“چل شروع ہو جاؤ اُس دن کیا ہوا تھا جو میں پورے دو سال بعد جاگا تھا۔۔!!
وہ چاقو سے اسکے چہرے کو اوپر اٹھا کر اپنی سرخ آنکھوں کو اسکی خوف سے سفید پڑتی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“مجھے سچ میں کچھ پتہ نہیں میں اس دن تمہارے سر پر وار کر کے وہاں سے بھاگا تھا ادین۔۔!!
وہ بری طرح سے روتے ہوئے بولا۔ادین نے اسکی بات پر غصے سے اسکے چہرے پر ایک گہرا کٹ لگایا تو وہ درد سے بلبلا اٹھا۔۔
“چارلی مجھے سچ سننا ہے بتا اس دن کیا ہوا تھا ورنہ اب کٹ غلط جگہ پر لگاؤ گا۔۔!!
سر کے بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر اٹھا کر وہ غراتے ہوئے کہنے لگا۔ چارلی اسکی غلط جگہ کو اچھے سے سمجھ گیا اسی لیے بری طرح سے لرزنے لگا۔
“اُس دن صرف ضنافر حسن زیدی تھا تمہارے ساتھ ادین اور اُسنے تمہاری ڈرنک میں ایک دو گولی ملائی تھیں میں نے خود دیکھا تھا میری گرل فرینڈز کی قسم۔!!
چارلی نے کہا ۔تو ادین اسے اپنی گرل فرینڈز کا قسم کھاتے ہوئے دیکھ کر ایک کمینگی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر جھکا۔۔
“اپنا قسم کھاؤ پھر میں تمہاری بات پر یقین کروں گا چارلی۔۔!!
اسکی نظروں کے آگے چاقو کو لا کر پرسرار انداز میں مسکرا کر کہنے لگا۔تو چارلی خوفزدگی سے اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنا قسم کھاتے ہوئے کہنے لگا لیکن وہ ایک ڈیول تھا انسان کہاں جو پہلے اسنے کہا تھا اسنے چارلی کے ساتھ وہی کیا اسکی غلط جگہ پر وار کر کے پیچھے ہٹا اور معنی خیز نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سے تڑپ رہا تھا۔۔
“افسوس چارلی نامرد تُم نے دو منٹ لیٹ کر دیا مجھے لیٹ کرنے والے لوگ سخت ناپسند ہے۔۔!!
اسکے منہ پر تھوکنے کے بجائے اس نے نیچے فرش پر تھوکتے ہوئے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا اور اسے وہی تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلا گیا۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
سر گھٹنوں پر گرائے نیچے فرش پر بیٹھی اندھیرے کی وجہ سے بری طرح سے ڈرتی لرز رہی تھی جب اُسے اس روم میں کسی کے ہونے کا احساس ہوا تو اُسکے حلق سے ایک سسکی برآمد ہوئی اور وہ پیچھے کھسکتی ہوئی ہچکیاں لے کر بُری طرح سے رونے لگی۔۔۔
“Doll don’t cry..!
وہ شخص بلکل اُسکے قریب آکر بیٹھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے سر کو چھو کر پیار سے کہنے لگا جبکہ وہ اُس لمس پر ڈرتی ہوئی اپنی گرفت گھٹنوں پر سخت کرتی سسکیاں لینے لگی۔۔
“I said stop crying..!!
اُسے ٹھوڈی سے پکڑ کر پیار سے اُسکے نم رخساروں کو چھو کر اُسے سرد لہجے میں کہنے لگا۔وہ اُسکے لہجے میں سرد پن محسوس کرتیں بری طرح سے خوفزدہ ہو کر تیزی سے اپنے آنکھوں کے گوشوں کو صاف کرنے لگی۔۔
“ویری گڈ مائے بے بی ڈول اِسی طرح تُم اگر میری بات مانو گی تو وہ تُمہارا شوہر کیا نام ہے اُسکا بے وقوف انسان کا۔وہ شخص بلکل اُسکے قریب ہوکر اسکے ساتھ لگ کے بیٹھا اور اپنے سر پر ہاتھ رکھنے کے بجائے وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔ہاں یاد آیا اس بے وقوف انسان کا نام سارب عرفان سلطان ہے نا جو میری ڈول کو بہت تھنگ کرتا ہے اب میں آیا ہوں نا ایک ایک کر کے لوںگا اپنی بے بی کا بدلا اُسنے ڈیول کی ڈول کو بہت پریشان کیا تھا ناں اب وہ بہت پریشانی اٹھائے گا مائے ڈریم گرل کیا اُسنے تُم کو بہت رولایا تھا۔۔؟؟
اندھیرے میں اپنے قریب بیٹھے شخص کو ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن اُسکی آواز میں اپنے لیے پیار تو سارب کیلئے نفرت محسوس ہوئی۔۔
تبھی اُسے اپنے بے قریب محسوس کرتیں وہ بری طرح سے ہچکیاں لے لے کر رونے لگی تو وہ آگے ہوا اور پیار سے اُسکے چہرے کو تھام کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اُسے چپ کروانے لگا۔۔
“بے بی ڈول بس بس اب تُمہارا ڈیول آیا ہے نا اب وہ خبیث تُمہیں ڈانٹنا تو دور کی بات وہ تُمہیں ٹچ بھی نہیں کرے گا اگر اُسنے ایسا کیا نا میں اسے کاٹ کر رکھ دو گا۔۔!!
اُسکے رخساروں پر چپکے بالوں کو جو اُسکے رونے کی وجہ سے چپک گئے تھے انہیں پیچھے ہٹانے کے بعد اچانک وہ پیار سے اُسکی پیشانی کو چھوتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“تُم کچھ کہتی کیوں نہیں ہوں خاموش کیوں ہو میرا قریب آنا تُمہیں اچھا نہیں لگا بے بی ہمممم بتاؤ۔کیا تُم روؤ رہی ہو ابھی بھی۔۔۔کیا میری قربت تُم نہیں چاہتی ہو تُم اپنے ڈیول کو نہیں چاہتی۔۔؟؟
وہ اُسے شانوں سے پکڑ کر سخت گرجدار آواز میں پوچھنے لگا۔ وہ اُسکی سخت گرفت میں بُری طرح سے مچلتی ہوئی اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔
“تُم اگر اُسے چاہتی ہو تو کان کھول کر سن لو میں اُسے بہت جلد ختم کرنے والا ہوں۔۔۔اُسنے میری جگہ لی ہے میری ادین کی میں بہت تکلیف دو گا اُسے سن رہی تم میں اسے معاف نہیں کروں گا اسنے تُم کو مجھ سے چھینا ہے۔۔!!
اُسکے بری طرح سے رونے کی پرواہ کیے بغیر اُسے جھنجھوڑ کر سخت غرایا۔وہ اُسکے جھنجھوڑ کر کہنے پر اپنی آنکھوں میں جلن محسوس کرتی وہ اُسکی گرفت میں اپنے ہوش و حواس کھو کر اسکی بازوؤں میں گری جبکہ وہ اُسکو اپنے بازوؤں میں بے ہوش گرتے ہوئے دیکھ کر پریشانی سے اسے چھو کر آوازیں دینے لگا۔۔
“تُم نہیں بچو گے بے وقوف انسان میں صرف سیرت کیلئے آیا ہوں واپس لیکن اسے آج پہلی بار اپنے لیے اسکی آنکھوں میں نفرت دیکھ کر یہاں دل میں تکلیف اٹھ رہا ہے وہ صرف تمہاری وجہ سے مجھ سے نفرت کرنے لگی ہے اب تم دیکھنا میں اتنے رائتے پھیلاؤ گا جن کو سمیٹتے سمیٹتے تم اپنی پوری زندگی گزاروں گے۔۔!!
سیرت کو بیڈ پر احتیاط سے لیٹا کر اسکے اوپر کمبل اوڑھا کر وہ اسکے چہرے پر جھکا اور اپنی شدتوں کو اس پری پیکر پر نچھاور کر کے پیچھے ہٹا اور سخت تاثرات چہرے پر سجا کر شیشے کی جانب بڑھا اور غصے سے آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا پھر وہ اپنا فون نکال کر اپنی وڈیو بنانے لگا۔
“مجھے پتہ ہے تُم مجھے ابھی جانتے نہیں ہو لیکن بہت جلد جان جاؤ گے میں بھی تمہیں نہیں جانتا تھا لیکن کل اس جنگل میں اپنی ڈول سے تمہارا نام بار بار سنا تو جنگل سے نکلنے کے بعد میں نے تمہیں ڈھونڈنا اسٹارٹ کر دیا تب مجھے پتہ چلا سارب عرفان سلطان کون ہے میں تمہارے لیے بہت ساری نشانیاں چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم بھی مجھے پہنچان سکوں مجھے ڈھونڈوں جیسے میں نے تمہیں ڈھونڈا تھا۔۔!!
وہ اپنے ٹیٹو کو ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے سنجیدگی چہرہ پر ایک خوبصورت مسکراہٹ سجا کر شیشے میں اپنے چہرے کو دیکھنے لگا پھر ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا چاقو اٹھا کر اسنے بے دردی سے اپنی ایک آئی برو پر چھوٹا سا کٹ لگایا تو اسکی آئی برو سے خون نکل کر نیچے ڈریسنگ ٹیبل پر گرا تو اسنے وہ خون انگلی سے اٹھا کر شیشے پر کچھ لکھنے لگا۔۔
“سارب عرفان سلطان تُم ادین کو نا مار سکو گے اور نا ہی ہارا سکوں گے تُم ایک کمزور انسان ہو اور ہاں بہت جلد تمہارے لیے نمبر ون پلان کے مطابق میں تمہیں ایک خوبصورت سا تحفہ دو گا۔۔!!
پیچھے ہٹتے ہوئے وہ مسکراتی نظروں سے شیشے پر لکھے لفظوں کو دیکھتے ہوئے فون اوپر اٹھا کر اسکرین کی جانب دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“اور اس ضنافر کو بھی میں نہیں بخشو گا سب سے بڑا دشمن تو وہی ہے آج پتہ چل گیا ہے کہ میں کون ہو اس چارلی کی بدولت پر افسوس اب وہ اس دنیا میں نہیں ہے ہوں حیران مت ہونا تم ہاں میں نے ایک قتل کیا ہے یہ میرے لیے معمولی بات ہے ہوسکتا ہے آگے بھی میں ہوسکتا ہے کسی اور کو بھی مارو مجھے کون روک سکتا ہے۔۔!!
وہ سامنے رکھے ٹیبل کی جانب بڑھا اور ایک وسکی کا بوتل اٹھا کر فون کے آگے لہرانے لگا وہ یہ بوتل اس بار سے خرید کر لایا تھا۔۔
“تمہیں آنے والے دنوں مہنیوں میں ان سب جھٹکوں سے بھی زیادہ جھٹکے دینے والا ہوں تو اپنے دل کو مضبوط کرنا کہی ہارٹ ٹیک مت کروا دینا ہوں میں تو بھول گیا میری جان بھی یہی اس روم میں موجود ہے شششش خاموش ورنہ وہ جاگ جائے گی ۔!!
وہ بوتل کو منہ سے لگاتے ہوئے نشیلی آنکھوں سے فون کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے ہنس کر کہنے لگا پھر مڑ کر سیرت کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی انگلی منہ پر رکھ کر خود کو خاموش رہنے کا کہنے لگا۔۔
“اگر میں اپنی ڈول کو ہگ کر لوں تو تم غصہ مت کرنا کیونکہ تم تو اسے چاہتے نہیں ہو۔۔!!
وہ قدم سیرت کی جانب بڑھا کر فون سیرت کے آگے کرتے ہوئے کہنے لگا اور پھر پتہ نہیں اسے کیا ہوا وہ اپنا سر پکڑ کر نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔