No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
تُمہیں عقل ہے کہ نہیں ہاں پہلے تُم نے گناہ کیا کم کیے تھے جو اب یہ بے وقوفی کرنے جا رہے تھے ایک بار نہیں دو بار اگر تمہیں ان دونوں نے نہ روکا ہوتا تو آج تم کامیاب ہوتے۔۔!!
ہاسپٹل کے جس روم میں نمیر تھا وہ سخت غصے سے اندر داخل ہو کر غصے سے کہنے لگا تو نمیر جو بیڈ پر بیٹھا تھا وہ اٹھا اور اسے دیکھنے لگا۔۔
“بھائی میں کیا کروں مجھے سکون نہیں مل رہا جب بھی میں اپنی آنکھیں بند کرنے لگتا ہوں تو اُس لڑکی کی چیخوں سے سو نہیں پاتا اور ساری ساری رات جاگ کر گزارتا ہوں۔۔!!
نمیر نے روتے ہوئے کہا تو ضنافر نے اُسے تاسف سے دیکھا۔۔
“میرے پیارے بھائی تُم سکون اُس ذات سے مانگو جو بڑا رحیم و کریم ہے کیوں اس طرح حرام موت کو گلے لگا کر خود کو اور گناہگار بنانا چاہتے ہو۔۔!!
وہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا تو نمیر اسکی بات پر اپنی سرخ نظروں کو اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“شکر کروں تُمہیں پہلے میرے سیکٹریری نے دیکھا پھر اِس لڑکی نے اگر یہ لڑکی چھت پر نا جاتی تو آج تُم اس دنیا میں اور زیادہ رسوا ہو جاتے یار بچپن میں ہم بہن بھائیوں کو بہت محرومیاں ملی ہے ہم سب نے معصوم لوگوں سے بدلا لیا جو ہمارے قصوروار نہیں تھے ہم نے انہیں برباد کیا بلکہ تم نے تو مردوں کو چھوڑ کر ایک عورت سے بدلا لیا ابھی خودکشی کرنے سے بہتر ہے کہ تُم اپنے اس گناہ کی معافی مانگوں خدا سے وہ ایک دن ضرور تُمہیں معاف کر دے گا۔۔!!
سامنے کھڑی لڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ضنافر حسن زیدی نے کہا تو نمیر نے نظریں اوپر اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا جو اسکے دیکھنے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ اسے پاس کرتی وکٹری کا نشان بنائے اسے پھر سے ستانے لگی تھی اور وہ چڑ کر اسے غصے سے گھورنے لگا۔۔
“بھائی اس لڑکی کو میری نظروں کے سامنے سے غائب کر دے ورنہ میں اسکا قتل کر دو گا۔۔!!
وہ اسکی مسکراہٹ سے سخت چڑ چکا تھا اب وہ اسے اپنے نزدیک بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا اسی لیے غصے سے ضنافر سے اسے روم سے باہر نکالنے کا کہنے لگا۔۔
“میں جادو گرنی ہو جو تمہاری نظروں کے سامنے سے غائب ہو جاؤ گی اولڈ مین۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اُسے دیکھتی ہنس کر بولی۔۔
“لڑکی تُم یہاں سے جاتی ہو یا نہیں۔۔؟؟
نمیر نے سخت تیوریاں چڑھا کر بیڈ سے اٹھتے ہوئے غصے سے پوچھا تو وہ لڑکی ڈر کر واشروم کی طرف بھاگی اور اندر سے لاک لگا کر ہنسنے لگی۔۔
“لڑکی نہیں میرا نام میرم ہارون ہے اولڈ مین۔۔!!
وہ اندر سے ہنسی پر کنٹرول کرتی اپنا نام چیختی ہوئی بولی تو نمیر اسکی بات پر سخت نظروں سے واشروم کو گھورتا ضنافر حسن زیدی سے مخاطب ہوا۔۔
“بھائی میں یہاں اس روم میں تب آؤں گا جب واشروم سے اس چھپکلی کو نکال کر ڈنڈے سے اسکا قتل کر کے اس کو مردہ میرے سامنے باہر پھینکا نہیں جائے گا تب تک میں باہر رہ کر وقت گزار لوں گا وہ بھی بنا دواؤں کے اگر آپ مجھے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس میرم ہارون نامی چھپکلی کو میرے آس پاس بھی بھٹکنے مت دے۔۔!!
ضنافر حسن زیدی اسکی سختی سے کہنے پر واشروم کی طرف بغور دیکھنے لگا۔۔
“باہر نکل جائے بچی وہ بلا چلا گیا۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے اپنے بھائی کو بلا کہہ کر میرم ہارون کو آواز دینے لگا تو وہ ڈرتی ہوئی واشروم سے باہر نکلی اور روم میں نظریں دوراتے ہوئے اسے ڈھونڈنے لگی۔۔
“یہ اولڈ مین آپکا بھائی ہے کیا۔۔۔؟؟
وہ ضنافر حسن زیدی کے قریب آ کر رازداری سے پوچھنے لگی تو وہ اس چھوٹی سی لڑکی کو حیرت سے دیکھنے لگا۔۔
“ہاں بٹ آپ کیوں پوچھ رہی ہے۔۔؟؟
وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔
“لگتا ہے اولڈ مین اب ریٹائرڈ ہونے والے ہیں اسی لیے تو ہر وقت کریلے چباتے نظر آتے ہیں۔۔!!
شریر نظروں سے ضنافر حسن زیدی کو دیکھتی یہ کہہ کر تیزی سے روم سے باہر نکلی مبادا ضنافر اپنے بھائی کے بارے میں یہ سن کر اسے مار ہی نہ ڈالیں جبکہ ضنافر اس کی بات پر زور سے ہنسا اور ہنستا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“مجھے اُس بڑھیا سے ملنا ہے میری بہن وفا غائب ہے اور یہ اسی بڑھیا کا کام ہے۔۔!!
نمیر میرم ہارون کے اپنے روم سے نکلنے کے بعد جب روم میں آیا تو دوا لینے کے بعد ضنافر حسن زیدی سے صفحہ حاکم زیدی سے ملنے کا کہنے لگا اسے وفا زیدی اسی دن سے نظر نہیں آئی تھی جس دن اس بڑھیا کی سچائی ضنافر حسن زیدی کو پتہ چلا تھا اور اسے اس بڑھیا پر شک تھا کہ وفا کو اسی نے غائب کروایا ہوگا۔۔
“نہیں بھائی تُمہاری حالت ابھی پہلے جیسی نہیں ہے تم مینٹلی ڈسٹرب ہو تو میں تمہیں ملنے نہیں دے سکتا تم کچھ الٹا کروں گے۔۔!!
ضنافر اسکی مینٹلی ڈسٹرب کی وجہ سے اسکو صفحہ حاکم زیدی سے دور رکھنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اچھے سے جان چکا تھا اسے کہ وہ غصے میں آکر اسے مار دے گا اور وہ اس عورت کو اتنی آسانی سے موت نہیں دے سکتا تھا۔۔
“بھائی تُم اُسے ایسے ہی معاف کرنا چاہتے ہو جس نے ہماری فیملی کو برباد کر دیا ہے اپنی سگی ہو کر اسنے دشمنوں کی طرح ہم پر وار کیا کیا آپ یہ سب بھول گئے ہیں۔۔۔؟؟
وہ سخت غصے سے اسے یاد کرواتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میں کچھ نہیں بھولا اسے روز تڑپتی ہے مجھ سے موت کی بھیک مانگتی ہے ایک ایک پانی کا بوند نہیں پینے دیا ہے میں اسے اسی طرح سزا دینا چاہتا ہوں وفا کو میرے آدمی ڈھونڈ رہے ہیں وہ جلد مل جائے گی۔۔!!
وہ بھی سخت گیر لہجے میں کہتا آخر میں وفا کے بارے میں کہہ کر ایک فون اسے تھاما کر کہنے لگا۔۔
“اب میں چلتا ہوں آفس میں بھی کچھ ضروری کام نبٹانے ہے اور میں نے تمہارے لئے ایک نرس کا بندوست کیا ہے۔۔!!
وہ دروازے پر کھڑی میرم ہارون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو نمیر اُسے اپنے پاس دیکھ کر غصے سے پاگل ہوتا ضنافر حسن زیدی سے کہنے لگا۔۔
“یہ بھائی کوئی اور نرس نہیں ملا تھا جو اس بچی کو میری دیکھ بھال کے لئے رکھ دیا ہے اسے کچھ آتا بھی ہے یا جعلی نرس ہے۔۔؟؟
وہ استہزایہ مسکرایا تو میرم ہارون اسکی بات پر ضنافر حسن زیدی کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی نظروں ہی نظروں میں اشارہ کرتیں ہوئے وہ اس بلا کو انسان بنانے کا یقین دلانے لگی۔۔۔
“اگر اس جعلی نرس کے ہاتھوں انجیکشن نہیں لگوانا چاہتے تو چپ چاپ لیٹ جاؤ ورنہ انجیکشن میں مارو گی ضرور بٹ انسانوں والی نہیں جانور والی سمجھ میں آئی اس موٹی عقل میں اولڈ مین۔۔؟؟
وہ بیڈ کے قریب آ کر بولی اور ساتھ میں اسے شانوں سے پکڑ کر بیڈ پر لیٹا کر سر پر دستک کرتی اسے شریر نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“اوہ ماڑا یہ کون ہے خاناں۔۔؟؟
وہ دونوں دبیر خان کے خوبصورت حویلی میں داخل ہوئے تو سامنے کھڑے شخص نے دبیر خان کو پشتو زبان میں شاید کچھ پوچھا۔
“لالہ یہ بیوی ہے میری۔۔!!
دبیر خان نے سب کے سامنے وفا زیدی کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے محبت سے وفا زیدی کو دیکھتے ہوئے اسنے بھی جواب پشتو زبان میں دیا جو وفا زیدی کو سمجھ میں نہیں آیا۔۔
“ماڑا تو وہاں کیوں کھڑا ہے بہو کو لے کر اندر آ۔۔!!
اسکی ماں نے پشتو میں کہا تو وہ وفا کو کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ اندر کی جانب بڑھا جبکہ اُن دونوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اندر بڑھتے ہوئے گھورتی ہوئی پشمینہ گل سخت غصے سے دیکھ رہی تھی وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ اُسکا خان کسی شہری لڑکی سے شادی کر کے آیا ہے وہ سخت شعلے برساتی نظروں سے وفا کو گھورتی ہوئی وہاں سے جل بھن کر اپنے روم کی جانب بڑھی وہ اب اور اپنے خان کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
“مورے ہم تو لے کر آئے گے لیکن یہ تیرے سرکار کو لگتا ہے منظور نہیں ہے کہ ہم اپنی بیوی کو اس حویلی میں لے کر آئے…!!
وہ اپنے باپ کو جو سامنے کھڑے سخت نظروں سے ان دونوں کو گھور رہا تھا۔۔دبیر خان انہیں دیکھتے ہوئے اپنی ماں سے معنی خیز لہجے میں کہنے لگا۔۔
“څنګه کولای شو چی خپله لور وباسو؟
“ہم اپنی بیٹی کو کیسے باہر کر سکتا ہے خاناں.؟؟
وہ سب پشتو زبان میں بات کر رہے تھے اور وفا زیدی منہ کھولے انہیں سن رہی تھی اور اسکو منہ کھولے دیکھ دبیر خان کو ہنسی ضرور آئی لیکن اس وقت وہ اپنے باپ کو منانا چاہتا تھا وفا کو بھی اسنے اس لیے ابھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اسکے ساتھ ساتھ اُن سے بھی ڈراما کر رہا ہے لیکن وہ پہلے اپنے باپ کو راضی کرنا چاہتا تھا پھر اسکے بعد وہ اسے روم میں لے جانے کے بعد بتانے کا سوچ رہا تھا اس لیے وہ ابھی تک مطمئن کھڑا تھا۔۔
“مطلب آپ قبول کر رہے ہیں میری بیوی کو خان جی۔۔!!
وہ خوشی سے کہتے ہوئے آگے بڑھا اور انہیں گلے لگاتے ہوئے انکی ناراضگی کو ختم کرنے لگا وہ محبت سے اپنے باپ کو خان جی کہتا تھا۔۔
“ایک شرط پر جب مجھے میرے پوتے یا پوتی کی خوشخبری دو گے ورنہ میں بھی تمہارا باپ ہو خاناں۔۔!!
انہوں نے زور سے دبیر خان کی پشت کو تھپکی دے کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے تو انکی بات پر دبیر خان پہلی بار ڈرنے لگا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“اب وہ ریڈی منٹ پوتا یا ہوتی میں کہاں سے انکے لیے لاؤ ولی خان ابھی تو مجھے اس لڑکی کو اپنی نقلی بیوی کے لیے منانا پڑے گا۔۔!!
اپنے باپ کی فرمائش جب سے اسنے سنی تھی تب سے وہ فکر مندی سے سوچے جا رہا تھا کہ اب اس پشمینہ گل سے پیچھا چھڑانے کے لیے اسے کیا کیا کرنا پڑے گا وہ اس پاگل عورت کے ساتھ زندگی نہیں گزرنا چاہتا تھا۔۔
“خان تو ریڈی منٹ بچہ کیوں پیدا کرے گا تو اپنا بچہ پیدا کروں۔۔ولی خان معنی خیزی سے گویا ہوا۔۔۔۔بلکہ ایک کام کر اگر تو پشمینہ گل سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے نا تو تم اس لڑکی سے شادی کرکے اپنا بچہ پیدا کر۔۔شریر نظروں سے دبیر خان کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے اعلی مشورے سے اسے نوازنے لگا۔۔!!
ولی خان کے مشورے پر وہ سخت جلتے ہوئے اس بے وقوف انسان کو گھورنے لگا۔۔۔
“میں نے ایک لڑکی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنا گھر بار اور سرداری چھوڑ دیا ہے اور تُم ایک اور لڑکی کا مشورہ دے رہے ہو خاناں خراب۔۔!!!
وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔
“خان تو اگر مرنا نہیں چاہتا تو تمہیں یہ کرنا ہوگا ورنہ اگر سب کو پتہ چل گیا کہ تُم دونوں نا محرم ہو اور ایک کمرے میں کب سے رہ رہے ہو تو سب گاؤں والے مل کر تم دونوں کو مار دے گے۔۔۔!!
ولی خان کی بات پر وہ سخت بدمزہ ہوا اور اسکے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تم میرے کیسے دوست ہو ہاں پورے انیس سال ہم نے ساتھ گزاری ہے ہر جگہ میں ہوتا تھا تم بھی وہی پائے جاتے تھے تو پھر تم اپنے دوست کو کیسے سمجھ نہ سکے ہاں کیسے اسے کمزور سمجھ لیا تم نے خبیث۔۔!!
غصے سے ولی خان کے شانوں پہ پنجے زور سے گاڑتے ہوئے وہ اسکے چہرے پر تکلیف کو دیکھنے لگا جو دباؤ بڑھنے کی وجہ سے بڑھ رہا تھا اور چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔۔
“میں عورت کی عزت کو پامال کرنے والوں کو زندہ زمین میں گاڑنے والوں میں سے ہو نہ کہ اُنکی چادر کو تار تار کرنے والوں میں سے ولی خان تو پھر تُم نے ایسا کیسے سوچ لیا کہ تیرا یار ایسا بے غیرت نامرد ہے۔۔!!
وہ سخت غصے سے پاگل ہوتا اُسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“میں یہاں سے اُس خبیث لڑکی کی وجہ سے بھاگا تھا اگر میں نا بھاگتا تو میری عزت پر حرف اٹھ جاتا تھا صرف اکیلے عورتوں کو اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہم مردوں کو بھی کرنی چاہیے جتنا ہم مرد بے گناہ ہے اتنا ہی ایسی عورتیں بھی قصور وار ہے ولی خان اور وہ عورت پشمینہ گل کی طرح ہوتی ہے جہنیں اپنے والدین کی عزت کا خیال نہیں ہوتا اور زنا کرتے ہیں اور پھر جب سر سے پانی گزر جاتا ہے تب انہیں اپنی ماں باپ کی عزت کا خیال آتا ہے اس لڑکی کی وجہ سے میں اپنے ماں باپ سے دور ہوا تھا تاکہ میرے چاچا اور چاچی کی سر انکی بیٹی کی وجہ سے نا جھک جائے۔۔!!
وہ سب باتیں اس سے کرنے لگا جو وہ پورے تین مہینے سے اپنے دل میں دفنائے ہوئے تھا لیکن آج وہ اپنے دوست کی وجہ سے اس سے شئیر کرنے لگا۔۔
“یار خان میرا دوست تو اپنے دل میں اتنا غم لیے پڑ رہا تھا آ یہاں آ میرے گلے لگ یار میں تجھے آج یہ غم ہلکا کرنے میں مدد کرتا ہوں۔۔”ستاسو دا ملګری به کله په کار وي؟(تیرا یہ یار کب کام آئے گا )..؟؟
ولی خان کے آگے بڑھ کر گلے لگانے پر وہ جو اس شئیر کرنے بعد اب ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا غصے سے اپنے دانت اُسکی شولڈر پر زور سے گاڑ کر دن میں اسے تاروں کی سیر کرانے لگا۔۔۔
“خاناں خراب یہاں میں اپنی سیڈ اسٹوری تمہیں سنا رہا تھا اور تجھے اپنی چٹکلوں کی سوجھ رہی ہے۔۔۔!!
وہ پیچھے ہٹا اور شدید غصے سے پھٹ پڑا جبکہ ولی خان اپنے شولڈر کو دوسرے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے اسے دل میں موٹی موٹی گالیوں سے نواز رہا تھا۔۔
“خان تُم اس بے غیرت لڑکی کو مار کیوں نہیں دیتا وہ تو تمہارے گھر میں رہنے کے لائق بھی نہیں ہے پھر کیوں تم نے اسے ابھی تک زندہ رکھا ہے۔۔؟؟
ولی خان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“میں اُسے اُس دن مارنے والا تھا جب اسنے وہ ڈیمانڈ کیا تھا مجھ سے مگر چاچا کی پھگڑی نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا تھا مجھے اُس دن اُس بے غیرت کو زندہ چھوڑنا پڑا تھا ورنہ میرا اب بھی دل شدت سے چاہتا ہے اس کا گلا کاٹنے کو لیکن رہ رہ کر وہ پھگڑی نظروں کے سامنے سے ہٹتی ہی نہیں جو ایک باپ نے اپنی نا فرمان اولاد کو بچانے کیلئے میرے پیروں کے آگے رکھا تھا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتا آسمان میں چمکتے سفید روئیوں جیسے سفید بادلوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
“یہ لڑکی تو بہت پہنچی ہوئی چیز نکلی ویسے خان اسنے تُم سے ڈیمانڈ کیا کیا تھا۔۔؟؟
ولی خان کے پوچھنے پر وہ سخت نظروں سے اسے دیکھنے کے بعد اٹھا اور ہاتھ ملا کر کہنے لگا۔۔۔
“یہ بات میں پھر کبھی کروں گا ابھی مجھے حویلی جانا پڑے گا وہ لڑکی وہاں اکیلی ہے اور وہ ضرور اسکے ساتھ کچھ کرے گی۔۔!!
ولی خان اپنے دوست کو اس لڑکی کے لیے اتنا پریشان دیکھ کر سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے جو اسکا غصیلا دوست صرف ایک لڑکی کے لیے فکر مند ہو رہا تھا اسکی فکر کر رہا تھا۔۔
ہاں جا اور شادی کا ضرور پوچھنا پھر مل کر کورٹ جائے گے خان تیرا کورٹ میرج کروانے۔۔!!
ولی خان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اپنی جیپ کی جانب بڑھا تو ولی خان اسکے جواب دیئے بغیر وہاں سے چلے جانے پر پیچھے ایک زور دار قہقہہ لگا اٹھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“لڑکی تم میں ایسا کیا ہے جو میرا خان پاگل ہوگیا ہے اُسے میں نہیں تُم صرف تُم نظر آتی ہوں ہاں تُمہیں تو مر جانا چاہیے۔؟؟
پشمینہ گل غصے سے دبیر خان کے روم میں داخل ہوئی اور بیڈ پر بیٹھی وفا زیدی کی جانب بڑھ کر اسے گردن سے جنونی انداز میں سختی سے پکڑ کر چیختے ہوئے کہا۔۔
“ہاؤ ڈئیر یو تُمہاری اتنی مجال جو تُم نے مجھے وفا زیدی کو ہاتھ لگایا نہیں چھوڑو گی مار ڈالو گی۔۔!!
وفا زیدی اُس پاگل لڑکی کی پاگل پن پر اپنی گردن سے اسکے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ایک تو وہ لڑکی پھٹانی اوپر سے اس سے طاقت میں دوگنی وہ تھک کر سامنے ٹیبل پر رکھے اسٹیل کے جگ کو اٹھا کر اس کے سر پر مارتی ہوئی غصے سے اسے دور دھکیل کر غرائی۔۔
“اے شہری میم یہ انگریزی جا جا کر اپنے جیسے شہری لوگوں سے کر اور تو کیا مجھے مارے گی میں آج خود تمہارا قصہ ختم کر دو گی۔۔!!
پشمینہ گل کے زور دار تھپڑ پر وفا پیچھے بیڈ پر جا گری اور سخت غصے بیڈ پر گری بیڈ شیٹ کو دبوچنے لگی۔۔۔
“اے یو مینٹل گرل تُمہیں شاید مینٹل ہاسپٹل جانا ہے جو مجھ سے پنگا لینا چاہتی ہو تُم جانتی نہیں ہو کہ میں کون ہوں اگر جانتی نا تو مجھ سے پنگا لینے کے بارے کبھی نہ سوچتی۔۔۔!!
وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی سُرخ آنکھوں سے اُس لڑکی کو گھورتی ہوئی اپنے ہونٹوں سے رستے خون کو صاف کرتی ہوئی بولی۔۔
“بس بہت ہوگیا یہ چوہے اور بلی والا گیم تُم دونوں جا کر باہر کھیلوں وہاں تُم دونوں کو تماشائی بہت ملے گے یہاں نہیں یہ میرا کمرا ہے اس گاؤں کے سردار کا تُم لوگوں کا اکھاڑا نہیں ہے۔۔!!
پیچھے ایک بھاری گھمبیر آواز پر وہ دونوں ڈر کے مارے تیزی سے پیچھے مڑی اور سامنے دبیر خان کو سخت جاہ و جلال میں کھڑے دیکھ پشمینہ گل تو جلدی سے وہاں سے رفو چکر ہوئی جو بھی ہو وہ اُس ڈیمانڈ کے بعد اب خان سے بات کرنے سے بھی ڈرتی تھی اسنے تین ماہ پہلے جو شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی وہ اُس شیر کو پسند نہیں آیا تھا اور اگر وہ تھوڑی دیر اور یہاں روکتی تو ہوسکتا تھا کہ اسکی لاش اس کمرے سے باہر نکلتی وہ اب ان غصیلی آنکھوں کا سامنا بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
“تُم کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟
پشمینہ گل کے بعد وفا بھی باہر جانے والی تھی کہ دبیر خان نے آگے بڑھ کر اسے سختی سے کلائیوں سے پکڑ کر روکتے ہوئے سخت گیر لہجے میں پوچھا۔۔۔
“یہ تُمہارا روم ہے تو ظاہر سے بات ہے ہم دونوں نامحرم ہے اور ہمارا رات کو اکٹھے رہنے یہاں ٹھیک نہیں ہے تو میں باہر جا کر اپنے لیے سونے کا بندوست کروں گی۔۔!!
وہ تیز نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی تو دبیر خان کو اسکی بات پر سخت غصہ آیا اور اسکی کلائی کو مڑورتے ہوئے چبا چبا کر کہنے لگا۔۔
“لڑکی تُم یہاں سے باہر نکلی تو میں تُمہاری ٹانگوں کی گرانٹی نہیں دو گا۔۔!!
وفا اُسکی سخت پکڑ پر پھڑپھڑا کر رہ گئی اور وہ اپنی پکڑ کو اور مضبوط کرتا اسے بغور دیکھنے لگا جو غصے سے خود کو چھڑا رہی تھی۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہتی اسے گھورنے لگی لیکن اسنے نا میں سر ہلایا۔۔
“تُم باہر گئی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں نامحرم ہے ناٹک کر رہے ہیں میاں بیوی بن کر ان لوگوں سے اور ایک ساتھ روم شئیر کر رہے ہیں تو پتہ ہے ہم دونوں کے ساتھ یہ کیا کرے گے۔۔؟؟
وہ اسکی غصے سے سرخ چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا اچانک سے یہ سوال پوچھ کر اسے غصہ دلایا سب سے زیادہ تو اسے اسکا میاں بیوی والی بات پر زیادہ غصہ آیا۔۔
“میاں بیوی یہ کیا چکر ہے اور ہم دونوں کے ناٹک کا کیا مطلب ہے تُم نے یہاں اپنی فیملی سے کیا کہا تھا میرے بارے میں بولو۔۔۔؟؟
وہ اُسے غصے سے دیکھتی پوچھنے لگی تو وہ اسکی بات پر مسکرایا۔۔
“اب آئی ہوں اصل سوال پر تُم لڑکی ۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اسکے مسکراہٹ کو سخت نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
“میں نے یہاں تمہاری انٹرڈیوس اپنی بیوی کے نام سے کروائی ہے اور اگر یہاں سب کو پتہ چل گیا نا تو ہم دونوں کو مار دے گے گاؤں والے اور میرے گھر والے مل کر ویسے تُمہیں بھاگنا تو آتا ہے ناں ۔۔؟؟
وہ آخر میں شریر لہجے میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
“بکواس بند کرو اپنی اب مجھے اس ڈرامے سے باہر نکالو ورنہ میں باہر جا کر سب سے یہ کہہ دو گی کہ تم نے مجھے کڈنیپ کیا ہے۔۔۔!!
وہ انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی تو دبیر خان اسکی دھمکی پر استہزایہ مسکرایا اور اسکی انگلی کو پکڑ کر نیچے کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“تُمہاری باتوں پر بھی یہ لوگ یقین نہیں کرے گے میں ان سب کو اچھے سے جانتا ہوں یہ غیرت کے معاملے میں سخت جلاد بن جاتے ہیں میرے پاس ایک آوپشن ہے تمہارے لیے اگر تم مان گئی تو صدقے اور اگر نہیں تو تمہاری اور اپنی کفن دفن کا انتظام کرنا پڑے گا ۔۔!!
وہ بیڈ پر مزے سے لیٹتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکی باتوں کو شاید سوچ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔۔
“اتنا سوچنا تمہیں مہنگا پڑے گا سوچوں مت اتنا لڑکی بلکہ فٹا فٹ فیصلہ کروں ابھی وقت ہے شہر جانے میں۔۔۔!!
وہ اسے اتنا سوچ میں ڈوبے دیکھ کہنے لگا تو وہ شہر کے نام پر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی اور خوش ہو کر آگے بڑھی اور خوشی میں اسکے ہاتھوں کو پکڑ گئی ہوش تو اسے اسکے ہاتھ جھٹکنے پر آیا کہ وہ جلد بازی میں کیا کر گئی ہے جبکہ دبیر خان کو اسکے چھونے پر جیسے سو واٹ کا کرنٹ لگا ہوں وہ ساکت نظروں سے ابھی تک اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
“کیا تمہارا آپشن مجھے واپس میرے گھر چھوڑنے کا ہے نا۔۔؟؟
وہ نظریں چراتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو اسکی بات پر دبیر خان کو سخت غصہ آیا۔۔
“نہیں یہ تو اب کبھی نہیں ہوگا تُم اب دبیر خان کی ملکیت ہو اسکی عورت ہو تو دبیر خان تُمہیں کیوں واپس چھوڑ کر آئے گا۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میں کسی کی ملکیت نہیں ہو سنا تم نے میں ایک لڑکی ہو اور تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہوں؟
وہ سخت کرخت لہجے میں کہتی اسے گھورنے لگی تو وہ بھی اسے غصے سے اسے بیڈ پر منہ کے بل گرا کر اسکے ہاتھوں کو اسکی پشت پر باندھ کر وہ اسکے چہرے کے بے قریب اپنا چہرا کرتا سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“لڑکی اب تُم یہاں سے صرف ایک شرط پر نکل سکتی ہو اس کمرے سے رہائی تمہیں صرف دبیر خان کے بچے کی ماں بن کر ملے گی سمجھی۔۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتا اسکے چہرے کو سخت گرفت میں لے کر سرد لہجے میں کہنے کے بعد اسکے چہرے کو چھوڑتے ہوئے وہ وہاں سے غصے سے باہر نکلا اور وہ اپنا سر اٹھا کر اسے اپنی سرخ نظروں سے اسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
