Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Last Episode)Part 2
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
بہرام شیخ !! جلد ہی ہمیں اپنا مشن پورا کرنا ہوگا۔ ہمارے سارے بندے مارے جا چکے ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت کم وقت ہے، یہاں میزائل کی ٹیسٹ کرنے کی تیاری کرنی ہے، آج لیب چلتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کتنا کام رہے گیا ہے۔”
شہیر شاہ کی بات پر شیخ نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔



راجپوت اور خانزادہ فیملی میں میرم کے انے سے رونق چھا گی تھی۔سب ہی خوش تھے۔
“مما اس پرل یعنی (میرم ) کی بچی کو ، اپنی گود سے ہٹائیں، آپ میری مما ہیں۔۔۔۔!! جب سے آئی ہے، میری جگہ پر قبضہ کر لیا ہے، ” انمول نے منہ بسورتے میرم کو گھورتے ہوئے دوہائی دی تھی، انمول کی بات سنتے پرل زور سے کھلکھلائی تھی۔جیسے اپنی ماں کی جیلسی سے محفوظ ہو رہی ہو۔۔
” نہ مانو !! بلکل بھی نہیں !! دور دور میری بیٹی تو صرف پرل ہے۔۔” سعدیہ بیگم کے بات پر میرم دوبارہ سی مسکرائی تھی۔جس سے اُس کی دونوں گالوں میں پڑتے گہرے گڑے پوری آب و تاب سے چمکے تھے۔
” ہونہہ!! نیلی آنکھوں والی چڑیل نہ ہو تو “
میرم کے اس طرح کھلکھلانے پر انمول غصے سے دانت پیسے ہوئے کچھ بڑبڑائی تھی۔
” کوئی نہیں میرے تو بابا جانی ہیں۔۔۔!! ” انمول نے پرل کو چڑاتے ہوئے، جبران صاحب کی طرف رخ کیا ہی تھا۔ پرل بھاں بھاں کر کے روز و شور سے رونے لگی تھی۔ جبران نے جلدی سے میرم کو اپنی گود میں لیا تھا۔ جو اپنے نانا کی گود میں آتے ہی چپ ہوگی تھی۔
انمول نے آنکھیں پھاڑ کر اپنی چوہیا سی نوٹنکی بیٹی کو دیکھا تھا ، جو ڈرامے بازی میں اپنی ماں کو بھی مات دے چکی تھی۔ انمول کا اس طرح پرل کو گھورتا دیکھ، سب کا فلکشگاف قہقہ گونجا تھا۔
” جل ککڑی کہیں کی۔۔!! ” انمول پیر پٹختی صوفے کی دوسری جانب جاکر بیٹھی تھی اور مسلسل پرل کو غصے سے گھورا تھا۔جیسے سالم نگلنے کا ارادہ رکھتی ہو۔
وہ دنیا کی واحد ایسی ماں تھی، جو اپنی ہی بیٹی سے جیلس ہو کر ، اُس کو جل ککڑی اور نیلی آنکھوں والی چڑیل کا خطاب دے چکی تھی۔



وقت جیسے پنکھ لگا کر اڑ رہا تھا، دو مہینے بعد !!
“سالار۔۔۔!! آہہ۔۔۔!! مومل پیٹ پر ہاتھ رکھ کر درد سے بلبلا اُٹھی تھی۔ سالار جو ابھی باتھ لے کر آیا تھا۔مومل کو اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے روتا دیکھ پریشانی سے، اُس کی طرف بڑھا تھا۔ اس کے حمل کا آخری مہینہ چل رہا تھا۔ولیمہ کے اگلے دن ہی ڈاکٹر نے مومل کو دو ہفتوں سے وہ حمل سے ہے، یہ خبر سنائی تھی۔جس پر سالار اور مومل خاموش سے ہوگے تھے۔ اور کچھ وقت بعد راجپوت اور خانزادہ فیملی میں یہ خبر سنائی تھی۔ مگر ساتھ ہی ڈاکٹر نے مومل کی پریگنیسی میں کمپلیکیشن بتائیں تھیں۔اور ہر پل اس کا خیال رکھنے کو کہا تھا۔
ڈاکٹر کی بات پر سالار مومل کا ہر لحاظ سے خیال رکھا تھا، اپنے ہاتھ کا چھالا بنایا ہوا تھا۔
“کیا۔۔کیا ہوا ہے مومل ۔۔۔؟”سالار نے جلدی سے مومل کو سیدھا کیا تھا۔جو درد سے دوہری ہوئی جارہی تھی۔
“س۔۔سالار پ۔۔پین ہو رہا ہے۔۔”مومل نے اٹکتے ہوئے بولی تھی،مومل کی بات سنتے سالار نے جلدی سے مومل کو باہوں میں بھرا تھا۔ اور جلدی سے قدم باہر کی طرف لیے تھے، راستے میں ماہم اور داریاں کو کال کر کے فورن ہاسپٹل آنے کو کہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ہاسپٹل پہنچ کر ،مومل کو آئی سی یو میں ایڈمٹ کیا تھا، وارث صاحب، حسن صاحب اور جبران صاحب اپنی بیگمات کے ساتھ ہسپتال پہنچے تھے۔ سالار آئی سی یو کے باہر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا۔
وارث صاحب نے سالار کو گلے سے لگایا تھا۔ “سالار کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔!! “وارث مجتبٰی نے سالار سے مومل کے بارے میں استفادہ کیا تھا۔جس کے چہرے پر بےحد پریشانی نمایاں تھی۔
” سر ابھی ڈاکٹر باہر نہیں آئیں۔۔” سالار کا جواب سنتے وارث صاحب نے ٹھنڈی سانس ہوا کے سپرد کی تھی۔
تقریبن دو گھنٹے بعد آئی سی یو کا دروازہ کھلا تھا،ایک لیڈی ڈاکٹر کمرے سے باہر ائی تھی۔ تو سب ہی ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔ ” ڈاکٹر کسی ہے میری بیوی۔۔۔؟ ” سالار نے بےچینی سے ڈاکٹر سے پوچھا تھا۔
” سر ابھی پیشنٹ کچھ بہتر ہیں، ان کا بی پی خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔مگر شکر الحمداللہ آپ کا بےبی اور مسسز بلکل ٹھیک ہیں۔کچھ ہی دیر میں ان کو روم میں شفٹ کر دیا جائےگا، تو آپ مل سکتے ہیں۔” ڈاکٹر بولتی جا چکی تھی۔
سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی تھی۔
کہ سامنے سے انمول آتی ہوئی دیکھی دی تھی۔چہرے پر ہلکی گہری مسکراہٹ لیے، وہ سب کے لیے مٹھائی لائی تھی۔
” بہت زیادہ مبارک ہو شاہ۔۔۔!!” آتے ہی سالار کو ڈھیروں مبارک باد دی تھی، “پرنس یا پرنسز۔۔۔؟ جو بھی ہو نام میں نے رکھنا ہے۔” انمول نے چہکتے ہوئے، سالار سے چھوٹے بےبی کا پوچھا تھا۔
تو انمول کی بات سنتے سالار کی ہونٹ بھی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ ” آپ کا پرنس آیا ہے۔۔!! ” سالار نے خوشدلی سے بتایا تھا۔ ” ماشاءاللہ میرا پرنس کہاں ہے۔۔۔!! ضامن سالار شاہ۔۔۔!!! ” انمول نے کمرے میں داخل ہوئے اُونچی آواز میں پکارا تھا۔
چھوٹا بےبی دانیہ بیگم کی گود میں تھا۔انمول کی آواز اور اس طرح پکارنے پر کھلکھلا اُٹھا تھا۔
جیسے بتانا چاہ رہا تھا۔ کہ اس کو اپنا نام بہت پسند آیا ہے۔ انمول نے چھوٹے بےبی کو اپنی گود میں لیا تھا۔ جس کی بھری بھری سفید روئی جیسی گالوں میں ہلکی سرخی چھائی تھی، کالی آنکھوں میں خوبصورت سی چمک تھی۔
” نہ مانو اور سالار یہ بتاؤ، تم دونوں نے خود ہی سوچ لیا تھا، کہ ایک دوسرے کے بچوں کہ نام رکھیں گے۔ ” پریہان میرم کو لیے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اور دونوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ پری کی اس بات پر ایشعال نے بھی ساتھ دیا تھا۔
” ہاں پری تمہارے بچوں کے نام میں رکھوں گی، اور میرے بچوں کے نام تم رکھنا۔۔!! “
ایشعال نے انمول اور سالار کو گھور کر پریہان سے کہا تھا۔ مگر ایشعال کی بات سنتے انمول اور سالار نے قہقہہ لگایا تھا۔ باقی سب گھر والے بھی مسکرا دیے تھے۔



او دیس میرے
تری شان پے صدقے
کوئی دھن ہے کیا
تری دھول سے بڑھ کے
تیری دھوپ سے روشن
تیری ہوا پے زندہ
تو باغ ہے میرا
میں تیرا پرندہ
بیس مارچ !!!
آج کا طلوع آفتاب، سب کی زندگیوں کے لیے نئے روشنی نئے پیغام لایا تھا۔آخر کو آج وہ دن آ ہی گیا تھا۔ مقدر میں ہار یا جیت کا فیصلہ ہونا تھا۔ آج ملک کے محافظ ماخوروں نے پختہ ارادہ کیا تھا۔دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا کر، ان کی اینٹ سے اینٹ بجائیں گے۔یا تو غازی بن کر لوٹیں گے۔
یا پھر شہید بن کر سب کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ اس وقت سب اپنے وطن کے وفادار ماخور لگ رہے تھے۔ اپنے سینوں پر ملک کا پرچم لگائے ، چہرے پر سکون کا نور لیے ،آنکھوں میں گہری آگ لیے ، وہ سب تیار تھے۔
ہے عرض یہ دیوانے کی
جہاں گھور سوہانی دیکھی
اک روز وہیں میری شام ہو
کبھی یاد کرے جو زمانہ
مٹی پر مر مٹ جانا
ذکر میں شامل میرا نام ہو
ہو دیس میرے
تیری شان پے صدقے
کوئی دھن ہے کیا
تیری دھول سے بڑھ کے
تیری دھوپ سے روشن
تیری ہوا پے زندہ
تو باغ ہے میرا
میں تیرا پرندہ
سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم دونوں نے اپنے بچوں کو جھلملاتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔سب کی پیشانیوں پر بوسے دیے تھے، دانیہ بیگم نے دل میں ازلان کے لیے شدت سے سلامتی کی دعا کی تھی۔ جو کہ آج سب میں موجود نہ تھا، مگر ماں کے لیے ساری اولاد برابر ہوتی ہے، تو بھلا کوئی کیسے اپنی اولاد کو دعاؤں میں بھول سکتیں تھیں۔ انمول نے سعدیہ بیگم کے گلے لگ کر کان میں سرگوشی کی تھی۔
” مما جانی میری میرم کا مجھ سے بھی زیادہ خیال رکھیے گا۔کیا پتہ زندگی مجھے موقع دے نہ دے۔” انمول کی گئی سرگوشی پر سعدیہ بیگم کا دل لرز اُٹھا تھا۔
آنچل تیرا رہے ماں رنگ برنگا
او اونچا آسمان سے تیرا ترنگا
جینے کی اجازت دے دے
یا حکم شہادت دے دے
منظور ہمیں جو بھی تو چھنے
ریشم کا ہو وہ دوشالا یا کفن سپائی والا
اوڑیں گے ہم جو بھی تو بھنے
او دیس میرے
تیری شان پے صدقے
کوئی دھن ہے کیا
تری دھول سے بڑھ کے
تیری دھوپ سے روشن
تیری ہوا پے زندہ
تو باغ ہے میرا
میں تیرا پرندہ
” پریہان اور احمر سب کو اچھے سے ہیک کرنا۔۔!!ایشعال اور عليان سب کو اچھے سے دھونا۔۔۔!!! ، ان کی چمڑی اُدھیڑنا۔۔۔!!! زی بھائی۔۔۔!! داریان نے دل میں ازلان کو مخاطب کیا تھا۔ سالار اور ذلیل عورت مانو !! سب کو اُن کی نانی یاد دلا دینا اور دشمنوں کو انکے انجام تک پہنچانا۔۔۔اس کے بعد میری یعنی گریٹ ڈاکٹر داریاں خانزادہ کی طرف سے پارٹی ہوگی ، جھومیں گے، گائیں گے، اور پھر ساتھ میں بھنگاڑا پائیں گے، کیوں میرو۔۔!! چاچو کی جان “
داریاں نے سب کو نیک تمناؤں کے ساتھ گلے لگایا تھا۔اور آخر میں میرم کو اپنی باہوں میں بھرا تھا۔ آخر میں جان بوجھ کر پنجابی لہجے کا تڑکا لگایا تھا۔
ہاں !! ٹھیک ہے !! جالی ڈاکٹر انشاءاللہ میری جیت کی خوشی میں بھنگڑے ڈالیں گے۔”
انمول کی بات سنتے میرم اپنی بڑی بڑی جھیل جیسی نیلی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔ تو انمول نے جھک کر میرم کی گالوں پر نرمی سے لب رکھ تھے۔کچھ ہی وقت میں سب لوگ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگے تھے۔



سارے مارخور اپنی منزل کی طرف گامزن تھے۔ کہ راستے میں ڈیول نے بھی ان سب کو جوائن کیا تھا۔ سبھی ماخوروں کے چہرے حد درجہ سنجیدہ تھے۔
صبح سے دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔ تب جاکہ کہیں وہ لوگ اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچے تھے۔ان کی ساتھ کچھ فورس بھی شامل تھی۔ یہ علاقہ آبادی سے کوسوں دور تھا۔ پہاڑوں اور جنگلوں کے درمیان ایک ڈھکی چھپی عمارت بنائی گی تھی۔ جس کے اطراف میں ڈھیروں فورس پہرا دیے ہوئے تھی۔۔
سارے مارخور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔چہروں پر خطرناک سی وحشت لیے اپنی گنز پر سائلنسر لگایا ہوا تھا۔ ڈیول ایول اور کیلر دور سے ہی سب کی بھجے اڑا دے تھے۔ کچھ راستہ صاف ہوا تھا۔ تو سب نے دو ٹیمز بنا لیں تھی۔
ایک ٹیم میں ٹاکسک کیلر کے ساتھ ایول مونسٹر اور ڈیول کنگ تھے۔ ان کے پیچھے دس اور افسرز تھے۔ جبکہ دوسری ٹیم میں ریبل، سپائے ہیکر ، فائر اور ہنٹر کے ساتھ دس لوگ شامل تھے۔
بلڈنگ کے ایک طرف کیلر کی ٹیم تھی، تو دوسری جانب ریبل کی ٹیم تھی۔ہلکے قدموں سے آگے بڑھے تھے۔ ہر کمرے کے سامنے چار چار آدمی پہرا دے رہی تھے۔سب نے نشانہ لیتے ہوئے ان آدمیوں کو مار گرایا تھا۔ اور کمروں میں کی اندر بڑھے تھے۔
ریبل اور اس کی ٹیم جیسے ہی ہال نما کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ تو سب ہی دنگ رہے گے تھے۔ وہاں ہزاروں کی تعداد میں انسان جسم کی اعضاء تھے اور ڈیڈ باڈی تھیں۔ سب کی آنکھیں پٹی کی پھٹی رہے گئیں تھیں۔ ایسے ہی ایک دو اور پھر تین کمرے بھرے ہوئے تھے۔ چوتھے کمرے کو جیسے ہی کھولا تھا۔ تو سامنے کچھ ڈاکٹرز اور گاڈز کھڑے تھے۔ سبھی نے اپنی پوزیشن سنبھالی تھی۔ مگر ان گاڈز کی طرف جوابی کارروائی نے سارا کام بگڑا تھا۔ فائرنگ کی آوازوں نے باقی سب کو الرٹ کیا تھا۔
کیلر اور اُس کی ٹیم نے کمروں کا جائزہ لیا تھا۔ جہاں دو کمروں میں تیزاب تیار ہو رہا تھا۔ اور ایک کمرے میں کافی زیادہ تعداد میں لڑکی موجود تھیں۔ مگر آخری کمرے میں داخل ہوتے ہی سب کی اعصاب جواب دے گے۔ چھوٹے چھوٹے بچے روتے سسکتے کسی بے جان چیزوں کی مانند پڑے تھے۔ کہ اک سات سالہ بچے کی نظر وردی میں ملبوس کیلر پر پڑی، تو فورن سے خود کے وجود گھسیٹتے ہوئے ، اس کی طرف آیا تھا۔ کیلر نے جھک کر بچے کو سیدھا کرتے سہارا دیا تھا۔
” آپی۔۔!!م۔۔مجھے۔۔یہ۔۔یہاں۔۔درد۔۔ہو۔۔رہا۔۔ہے، بہت درد کوئی۔۔درد۔۔کی۔۔دوا۔۔۔دو نہ، آپی !!! قسم خدا کی کھانے کو بھی کچھ نہیں مانگوں گا اور دوسری طرف کا بھی بنا روئے دے دوں گا۔”
سات سالہ بچہ اپنی سسکیوں اور جسم میں ہوتی لزش پر قابو پاتے ، اپنے لیے درد کی دوا مانگ رہا تھا۔ جس کا شاید ابھی ہی ایک گردا نکالا گیا تھا۔چہرے پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان تھے۔ اور پیٹ پر جما ہوا خون ،انمول نے اُس معصوم سے بچے کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔
اس آنکھوں میں آنسو کی جگہ لاوا بھڑک رہا تھا۔ ایسا ہی حال ڈیول اور ایول کا تھا۔ جنہوں نے اپنی مٹھیاں بھیجیں تھیں۔
اگر ایک نوجوان مرد کا آپریشن ہوتا ہے، تو وہ ہفتوں بستر سے نہیں ہلتا ، کہ آٹھنے ، بیٹھنے سے درد کی اک لہر جسم میں دور جاتی ہے۔مگر یہاں تو سات سالہ بچہ تھا، جو اپنے لیے زندگی کی بجائے ، درد کی دوا مانگ رہا تھا۔
فائرنگ کی آوازوں نے سب کو ہائی الرٹ کیا تھا۔ کیلر نے اپنے ساتھ آئے دس افسرز کو ، یہاں اس جہنم موجود سب کو بچوں کو باہر صحیح سلامت نکالنے کو کہا تھا۔ مگر اس سات سالہ بچے نے کیلر ہاتھ دوبارہ سے تھاما تھا۔
” آپی !! یہ انکل مما کے پاس لے جائیں گے۔۔۔؟ ” اس معصوم سے بچے کے سوال پر کیلر کا ضبط ٹوٹا تھا۔اور ایک آنسو دغابازی کرتا ہوا ، آنکھ سے چھلکا تھا۔
” ہاں یہ انکل آپ کو مما کے پاس لے جائیں گے۔ ” کیلر نے اس بچے کا ہاتھ ایک افسر کے ہاتھ میں دیا تھا۔اور بار کی طرف بھیجا تھا۔اور جلد از جلد ڈاکٹرز کی ٹیمز کو یہاں پہنچنے کو کہا تھا۔
ابھی وہ افسر باہر نکلا تھا۔ کہ باہر فائرنگ ہوئی تھی۔کیلر ڈیول اور ایول تینوں باہر کی طرف بھاگے تھے۔ مگر اپنے ایک افسر کو زمین بوس دیکھ تینوں نے اپنی گنز نکالتے فائرنگ شروع کی تھی۔ اسی بیچ ڈیول کو دو گولیاں لگیں تھیں۔
شہیر شاہ اور بہرام شیخ جو بلڈنگ اُوپر کے فلور پر تھے۔ان کو جیسے ہی آرمی کے حملے کا معلوم ہو تھا۔ تو جلدی ہر بڑاتے ہوئے اپنی خاص ٹیم کو الرٹ کیا تھا۔ اور اپنے چاپر کو اُڑان کے لیے تیار کروایا تھا۔
دوسری جانب ریبل اور ہیکر نے اچھے خاصے لوگوں کو مار گرایا تھا۔ مگر اسی دوران بلڈی ہنٹر کو تین گولیاں تھیں۔ ریبل کی بازو پر گہرے زخم آئے تھے۔ مگر مقابل تعداد زیادہ تھی۔
” میجر ایشعال اسپیگنگ ۔۔!! کرنل آزلان اینڈ انمول ہمیں کور کریں۔۔۔!!! ” ایشعال نے سب کو چاروں طرف سے گھیرا دیکھ ، مدد کے لیے ازلان اور انمول کو بلیو ٹوتھ میں بتایا تھا۔ سب ایجنٹس ایک دوسرے سے کنیکٹ تھے۔تو کیلر ، ڈیول اور ایول نے اپنا رخ ریبل کی ٹیم کی طرف کیا تھا۔کیوں کہ وہ تینوں اپنی طرف کے سارے آدمی کو جہنم وصول کروا چکے تھے۔
دوسری طرف جیسے ہی آئے تھے۔وہاں اپنی ٹیم کو خون میں لت پت دیکھ ان تینوں کے جسموں میں خون اُبلنے لگا تھا۔وہ تینوں ان سب کی حالتیں دیکھ کر پاگل ہوئے تھے۔ ریبل کی سر سے خون کا فوارہ پھوٹ رہا تھا۔ اور سپائے ہیکر کے دونوں ہاتھ توڑ دیے گے تھے۔ فائر کے پیٹ پر دو بڑے چاکو گھوپے گے تھے۔بلڈی ہنٹر کی ، ایک ٹانگ پر تین گولیاں پیوست تھیں، ساتھ ہی ، پیٹ پر دائیں جانب بڑا سا چاقو گھونپا گیا تھا۔ ڈیول، ایول اور کیلر کی آنکھیں خون ٹپکا رہیں تھیں ،مگر لڑتے لڑتے ان تینوں کی گنز میں گولیاں ختم ہو چکیں تھی۔
انہوں نے اپنے پاؤں میں چھپے ہوئے چاکو نکالے تھے۔ اور سب کا مقابلہ اچھے کر رہے تھے۔ مگر ایول مونسٹر کا نشانہ لیتے ہوئے چار فائر کیے تھے۔ جس سے وہ لڑکھڑاتے ہوئے ڈہے سا گیا تھا۔تو ڈیول کنگ نے ان چار شوٹرز کے گلے کاٹے تھے۔ کہ پیچھے سے کسی نے ازلان کے سر پر لوہے کے پائپ سے گہرا وار گیا تھا۔جس سے وہ بھی زمین پر گرا تھا۔ ازلان کو مارنے والا کوئی اور نہیں بلکہ بہرام شیخ تھا۔ مگر پلک جھپکنے سے پہلے ہی بہرام شیخ کے سینے میں اپنا چاقو گھونپا تھا۔ بہرام شیخ کے گرنے پر پچھے سے گولی چلی تھی۔ جو لگنی ڈیول کنگ کو تھی، مگر کیلر نے اپنے کندھے پر کھائی تھی۔ چار آدمی باقی بچے تھے۔ ان سب نے کیلر کے ساتھیوں پر بندوقیں تانی تھیں۔
ہر سو خاموشی چھا چکی تھی۔کیلر کی کنپٹی پر گن رکھی گئی تھی۔ اور اُس کے نڈھال ساتھیوں کو اُوپر کی جانب گھسیٹ کر لایا گیا تھا۔سب کی ہاتھ پیچھے کی طرف موڑ کر باندھے گئے تھے۔ جہاں ایس-وی چہرے پر گہری مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔
” ویلکم !! ویلکم !! کیسی ہو پیاری بھتجی !!! ٹاکسک کیلر یا انمول جبران راجپوت یا پھر انمول شاہ میر عباس۔۔!! میں تمہارے باپ کا جگری دوست ہوں، “
شہیر شاہ نے مکرور ہنسی ہنسی تھی۔انمول کو مسلسل غصے سے تکتا پا کر دوبارہ آگ لگائی تھی۔
” بچوں !! کیوں بنتے ہو وطن کے مارخور کتے ۔۔۔!! رکھا ہی کیا ہے، اس ملک نے دیا ہی کیا ہے، پہلے وہ میر سالا ۔۔” شہیر شاہ ابھی اپنے الفاظ مکمل کرتا کہ ، اس سے پہلے ہی کیلر اُس پر قہر برساتی آنکھوں میں وحشت لیے دھاڑی تھی۔
” خبردار !! جو ایک وفادار مارخور کا نام اپنے غدار اور ناپاک منہ سے نکالا، زبان گدی سے کھینچ لوں گی” انمول غم و غصے سے غرائی تھی۔
” ارے ارے میری بچی کو غصے آگیا ، جیسے تمہارے باپ کو آتا تھا، تم بھی ویسی ہی ہو جذباتی۔۔!! جیسا باپ ویسی بیٹی۔۔۔ ” شہیر شاہ نے دوبارہ سے قہقہہ لگایا تھا۔ انمول نے نا محسوس سے انداز ، میں اپنے بندھے ہاتھ بالوں میں چلائے تھے۔ جیسے اپنا سر دبا رہی ہو۔ اپنی بالوں سے چھوٹی چھوٹی سی سویاں نکال کر نیچے زمیں پر پھنکی تھی۔ شہیر شاہ کی نظر خون میں لت پت اپنے بیٹے کی طرف تھی۔ تو کیلر نے موقع پاتے وہ سویاں ڈیول اور ایول کی طرف کک کر کے پھنکی تھیں۔ازلان اور سالار نے انمول کا اشارہ سمجھتے ، آنکھوں اوکے کا اشارہ دیا تھا۔
“ہاں !! شہیر شاہ ہر اولاد اپنے باپ کی طرح نہیں ہوتی، اور مجھے بہت خوشی ہے، تمہارا بیٹا تمہاری طرح ملک کا غدار نہیں ہے۔ وہ اپنی ماں کی طرح وفادار ہے، اپنے وطن کا مارخور ہے ، تمہاری طرح نیچ اور گھٹیا نہیں۔۔۔ !! “
انمول نے استہزاء انداز میں مسکراتے ہوئے شہیر شاہ کو آئینہ دکھایا تھا۔تو شہیر شاہ نے اگ برساتی آنکھوں سے اپنا رخ سالار کی طرف کیا تھا۔ انمول نے نہ محسوس انداز میں اپنی جوتی میں ہوئی مقید چھوٹی سی بلیڈ نکالی تھی۔ اور آہستہ آہستہ کر کے اپنے ہاتھوں کی رسی کاٹنے لگی تھی۔
” سالار شاہ میں نے تمہاری زندگی بخشی ، تمہیں ہر آسائش دی ،تم تو میرا خون تھے، پھر بھی تم نے باپ کو تنہا چھوڑ دیا۔۔۔!!” انمول کی بولی گئی، بات پر شہیر شاہ کے سر پر لگی تلوں پر بجھی تھی۔
” اسی بات کا تو افسوس ہے ڈیڈ !! کہ میری رگوں میں آپ کا ناپاک خون شامل ہے، مجھے اپنے وجود سے گھن محسوس ہوتی ہے، میرا بس چلے تو اپنے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ اپنے وطن کے نام کر دوں ۔۔۔”
سالار نے چمکتی آنکھوں سے شہیر شاہ کو اپنے مارخور ہونے کا بتایا تھا۔ لہجے سے غرور ٹپک رہا تھا۔سالار کی بات سنتے ایس-وی نے نحوت سے اپنا سر جھٹکا تھا۔
ریبل ، سپائے ہیکر،کولڈ فائر اور بلڈی ہنٹر کی حالت خراب سے خراب ہو رہی تھی۔سات افسرز شہید ہو چکے تھے۔جب کہ آرمی اور ڈاکٹرز کو بلا لیا گیا تھا۔ کہ موقع پاتے ڈیول اور ایول نے اپنے پاس کھڑے ہوئے، نقاب پوشوں کی ٹانگوں میں وہ سویاں گاڑھیں تھیں۔
چند منٹوں میں وہ چاروں زمین بوس ہوئے تھے۔اور ان کے منہ سے سفید رنگ کی جھاگ نکلنے لگی تھی۔
شہیر شاہ نے غصے سے آنکھیں کھولیں تھیں، اور سالار اور ازلان کی ٹانگوں میں فائر کرتے ، انمول کی طرف پلٹا تھا، اور ساتھ ہی انمول کی دونوں ٹانگوں میں فائر کیا تھا۔ انمول کے قدم لڑکھڑائے تھے۔ وہ نیچے کی طرف گررتی، اُس سے پہلے قریب پڑا لوہے کا بڑا سا تیز نوکیلا بھالا نما اوزار ، ایس-وی کے سینے کے مقام پر گھونپا تھا۔ ایس-وی کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر نیچے گری تھی۔ ایس-وی نے لڑکھڑائے ہوئے قدم انمول کی طرف بڑھائے تھے۔ دور کہیں سے ایمبولینسز کی آواز سنائی دے رہی تھے۔شاید باقی کی ٹیمز اچکیں تھی۔
ٹھاہ !!
کہ اچانک ہوا کو چیرتی ہوئی گولی انمول کے سینے میں پیوست ہوئی تھی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایس-وی نے اپنی پینٹ کی جیب سے چاقو نکالتے ہوئے ، انمول کے پیٹ پر ایک در ایک تین بار وار کیے تھے۔
تلواروں پے سر وار دیے
انگاروں میں جسم جلایا ہے۔
تب جاکہ کہیں ہم نے سر پے
یہ قیصری رنگ سجایا ہے۔
” آہہہ ” انمول کے منہ سے ہلکی سی سسکی گونجی تھی۔جس کو سنتے بہرام شیخ اور شہیر شاہ نے قہقہہ لگایا تھا۔ایس-وی نے انمول کو بلڈنگ کے اوپر سے دھکا دیا تھا۔
اے میری زمین افسوس نہیں
جو تیرے سو درد سہے
محفوظ رہے تیری آن صدا
چاہے جان میری یہ رہے نہ رہے
مگر اچانک سے انمول کے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ بکھری تھی۔انمول کے ارادے بھامپتے ہوئے ، ازلان ، سالار ، عليان ، احمر، پریہان اور ایشعال نے بے یقینی سے انمول کو دیکھا تھا۔ جس کی سبز آنکھوں میں ہلکی نمی چمکی تھی۔ ایس-وی نے جیسے ہی انمول اوپر سے دھکا دیا تھا۔ انمول نے ایس-وی کا ہاتھ تھامے ہوئے ، ایک جھٹکے سے نیچے گرایا تھا۔
ہاں میری زمین محبوب میری
میری نس نس میں تیرا عشق بہے
پھیکا نہ پڑے کبھی رنگ تیرا
جسموں سے نکل کر خون کہے
تیری مٹی میں مل جاؤں
گل بڑ کہ میں کھل جاؤں
اتنی ہے دل کی آرزو
تیری ندیوں میں بہے جاؤں
تیرے کھیتوں میں لہروں
ہے اتنی سے دل کی آرزو
” مانو !!!! “
دھڑام کی آواز سے ایس-وی اور انمول بلڈنگ سے نیچے گرے تھے۔انمول نے آخری بار اپنا پیار بھرا نام سنا تھا۔ آنکھوں میں چھن سے اپنی دو ماہ کی کھلکھلاتی سی، نیلی آنکھوں والی چڑیل بیٹی (میرم) کا چہرہ نظر آیا تھا۔ ماں سعدیہ بیگم کا غصہ اور پیار نظر آتا تھا۔ بابا جانی جبران راجپوت کا لاڈ نظر آیا تھا۔ دادا مصطفٰی راجپوت اور دادی آسیہ بیگم کی بے لوث محبت یاد آئی تھی ،اپنی ماہم آپی پر فرمائشیں یاد آئیں تھیں، پاگل کزن داریان کا کے ساتھ کی گئیں شراتیں یاد آئیں تھیں۔ مول اور شاہ کے ساتھ دوستی، اپنے جگرروں کے ٹکڑوں کا چہرہ نظر آیا تھا۔ اپنی جان چھڑکنے والے بھائیوں کا عکس نظر آیا تھا۔ہونٹوں سے ہولے ہلے تھے۔
آخر میں اُس ستمگر کا چہرہ لہرایا تھا۔ جس نے ہمیشہ اُس کو تڑپا تھا۔ آج انمول راجپوت نے اُس کو وہاں مارا تھا، جہاں سے بچنے کی امید نہ تھی۔کِسی سے مِل نہ سکو تو خُدا کا شُکر کرو،کیونکہ کِسی سے مِل کر بِچھڑنا بڑی اذیت ہے۔
” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “
” پ۔۔پاکستان۔۔ز۔۔زندہ۔۔باد “
اک ہلکی سی ہچکی منہ سے آزاد ہوئی تھی،کہ آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں تھیں۔آج انمول نے اپنے وطن سے کیا ہوا ، وعدہ پورا کیا تھا۔آسمان میں گہرے کالے بادل گرجے تھے، کہ ہلکی بارش نے برسنا شروع کیا تھا۔ بارش کا قطرہ انمول کی سر سبز آنکھوں میں گرا تھا۔ مگر آنکھیں ساکت تھیں۔۔
سب حلق بل چیخے تھے۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں تھیں۔ پریہان اور ایشعال کے اعصابوں نے جواب دے دیا تھا۔وہ دونوں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکیں تھیں۔ احمر اور علیان کے دماغ شل ہو چکے تھے۔ اپنی ہنسی کھلکھلاتی سی گڑیا کی شراتیں یاد آئیں تھیں۔
سرسوں سے بھرے کھلایاں میرے
جہاں جھوم کر بھنگاڑا پا نہ سکا
آباد رہے وہ گاؤں میرا جہاں لوٹ کر واپس جا نہ سکا
ہو وطنَ وے میرے وطنَ وے تیرا میرا پیار نرالا تھا
قربان ہوا تیری عظمت پے میں کتنا نصیبوں ولا تھا
تیری مٹی میں مل جاؤں
گل بڑ کہ میں کھل جاؤں
اتنی سی ہے دل کی آرزو
تیری ندیوں میں بہے جاؤں
تیرے کھیتوں میں لہروں
بس اتنی سی ہے دل کی آرزو
سالار شاہ کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔جیسے وقت رک کر واپس کئی سال پیچھے چلا گیا تھا۔جیسے بہت قیمتی اثاثہ، چھن گیا ہو۔ازلان خانزادہ کو اپنا آپ مردہ سا لگا تھا۔ جیسے آج انمول کے ساتھ اپنا آپ بھی کھو دیا تھا۔
قیصری۔۔۔!
او ہیر میری تو ہنستی رہے
تیری آنکھ گھڑی بھر نم نہ ہو
میں مرتا تھا جس مکھڑے پے
کبھی اس کا اجلا کم نہ ہو
ہر طرف موت سا سناٹا چھایا تھا، کہ دس سے بارہ گاڑیاں آکر رکی تھیں۔ جن میں کچھ آرمی کی تھیں، کچھ میڈیا اور ایمبولینسز تھیں۔ جنہوں ان سب کو کور کیا تھا۔ آرمی کی وین سے وارث صاحب اترے تھے۔جنہوں نے خون میں لت پت انمول کی کھلی سبز ساکت آنکھوں کو بند کیا تھا۔
او مائی میری کیا فکر تجھے
کیوں آنکھ سے دریا بہتا ہے
تو کہتی تھی تیرا چاند ہوں میں
اور چاند ہمیشہ رہتا ہے
ٹی وی پر چلتی نیوز سب پر کسی پہاڑ کی مانند گری تھی۔سعدیہ بیگم بار بار پلک جھپکائے دیکھ رہیں تھیں۔ جہاں کرنل انمول ازلان خانزادہ کی شہید ہونے کی خبر ، ہر نیوز چینل چیخ چیخ کا بتا رہا تھا۔
” جبران!! جبران!! یہ دیکھیں یہ ٹی وی والے جھوٹ بول رہے ہیں نہ۔۔۔؟ یہ میری مانو کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔؟ نہیں بلکل نہیں۔۔۔ میری مانو۔۔۔آئے گی” سعدیہ بیگم نے جبران صاحب کو چیخ چیخ کر پکارا تھا۔ مگر وہ تو خود ہی ہیڈ کواٹر سے آتی کال، سن کر ساکت ہوچکے تھے۔
تیری مٹی میں مل جاؤں
تیری کھیتوں میں لہراوں
اتنی سی ہے دل کی آرزو
تیری ندیوں میں بہے جاؤں
تیری فصلوں میں لہروں
بس اتنی سی ہے دل کی آرزو



رات دس بجے کا وقت تھا۔ راجپوت ہاؤس میں چار ایمبولینسز، آکر رکیں تھیں۔جس کا سائرن زور و شور سے بج رہا تھا۔سعدیہ بیگم،دانیہ بیگم مومل اور ماہم بھاگتی ہوئیں داخلی دروازے کی جانب آئیں تھیں۔ ایک ایمبولینس کا دروازہ کھلا تھا۔جس میں سے دو ڈاکٹرز علیان اور ازلان کو نکال رہے تھے۔ اور نکالنے کے بعد ویل چیئر پر بیٹھایا تھا۔ دوسری ایمبولینسز کھلی تھی۔جس میں سے احمر اور ایشعال کو نکلا گیا تھا۔احمر کے ویل چیر پر بٹھانے کے بعد ایشعال کو نکالا گیا تھا، جس کو بمشکل ویل چیئر پر بیٹھایا تھا۔ کیوں کہ پیٹ پر گہرے زخم آئے تھے۔
تیسری ایمبولینسز گا دروازہ کھلا تھا۔ جس میں سے سالار اور پریہان کو نکالا گیا تھا۔ پریہان کی ٹانگ پر مسلسل تین گولیاں ایک ہی ٹانگ پر لگنے سے وقتی ایک ٹانگ سے معزور ہوچکی تھی۔ اس ساتھ ہی سالار کو نکالا گیا تھا۔جو ویل چیئر ایک طرف کو جھکا ہوا تھا۔
ابھی آخری ایمبولینس کا دروازہ کھلا تھا۔ جس سے پہلے وارث مجتبٰی نکلا تھا، مگر پیچھے سے دو آرمی افسر نکلے تھے۔ جو ایک سٹریچر کو تھامے آرے تھے۔شاید اس پر کوئی وجود تھا۔ جو شاید گہری نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ اس لیٹتے وجود پر سفید رنگ کی چادر ڈالی گی تھی۔
اُن آرمی افسران نے سٹریچر کو سعدیہ بیگم کے سامنے رکھا تھا۔ اور سیدھا ہوتے ہی سلیوٹ کیا تھا۔ سعدیہ بیگم نے رخ وارث مجتبٰی کی طرف کرتے چھوٹا سا سوال کیا تھا۔ مگر اس سوال نے سب کے رستے ہوئے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔راجپوت اور خانزادہ فیملی کے سبھی افراد وہاں موجود تھے۔ سبھی بے آواز زاروقطار ، رو رہے تھے۔
” وارث بھائی صاحب !! میری مانو بلی کہاں ہے۔۔؟”
آہہ !! یہ کوئی سوال تھا !!نہیں یہ سوال نہ تھا، بیک وقت سب نے سعدیہ بیگم کو دیکھا تھا، جن کی آنکھیں اپنی مانو کی منتظر تھیں، یہ سوال سب کو لیے پھگلے ہوے سیسے کی مانند لگا تھا۔ جس نے زخمی دلوں کو جلا کر راکھ کیا تھا۔
وارث بھائی صاحب۔۔!! آپ سے کچھ پوچھا ہے۔
ابھی تک یہ نہیں آئی،نکمی بول کے گئی تھی، میری پرل (میرم) کا خیال رکھیے گا ، صبح سے گئی ہے، ابھی تک کوئی خبر نہیں۔۔۔!! کوئی حال نہیں ، اس لڑکی کا ، سب بچے آگے وہ نہیں آئی ۔۔!! “
سب نے تڑپ کر سعدیہ بیگم کی طرف دیکھا تھا۔وارث صاحب خاموش تھے۔وہ ایک ماں کے سامنے سر اٹھانے کی جرت نہیں کرپا رہے تھے۔وہاں موجود کسی بھی نفوس میں یہ ہمت نہیں تھی۔کہ وہ ان کو ساری حقیقت سے آگاہ کرتے، تیز برستی بارش نے مزید زور پکڑا تھا۔ کہ تیز ہواؤں کے رقص کرتے جھونکوں نے ، اُس تڑپتی ماں کی مشکل کو آسان کیا تھا۔
سٹیچر پر وہ سفید رنگ کی چادر اُڑ کر دور جا گری تھی۔سبھی نے اپنی برستی آنکھوں کو زور سے میچا تھا۔ تو سعدیہ بیگم کی نظر اپنے قدموں میں رکھے سفید کفن اوڑھے ، چہرے پر دنیا بھر سکون لیتی ، وہ گہری نیند سو رہی تھی۔
” افف اللہ یہ لڑکی بھی نہ، جہاں جگہ ملتی ہے، یہ گدھے،گھوڑے بیچ کر سو جاتی ہے،۔۔” سعدیہ تو وہیں داخلی دروازے پر گود بنا کر بیٹھیں تھیں۔
” مانو۔۔!! اُٹھو جلدی یہ کپڑے بدلو۔۔!! اتنی سردی میں اتنا پتلا سوٹ کیوں پہنا ، اُٹھو چلو جاو بھی، اُٹھو بھی ، مانو !! مجھے یہ رنگ تم پر دیکھ کر، عجیب سی وحشت ہو رہی ہے۔ ” سعدیہ بیگم کے لہجے میں التجہ تھی، لال سرخ آنکھوں سے آنسوں بہے تھے، ہاتھ لرز رہے تھے۔
انمول۔۔۔!!! آخری بار بول رہی ہوں، اُٹھ جاو ، ایک بار تو اٹھ جاؤ نہ میری جان ، تمہارے بابا جانی کی سعدیہ ڈارلنگ، کبھی ڈانٹے گی بھی نہیں، بس اپنے شرارتی بچے کو پیار کرے گے۔” سعدیہ بیگم ہچکیاں لیتے ہوئے اٹک اٹک کر بول رہیں تھیں، ان کی باتیں سنتے سب کا ضبط ٹوٹا تھا، سارے گھر میں کہرام مچا تھا۔
” جبران آپ کی تو لاڈلی ہے، آپ کی ہر بات مانتی ہے، کبھی ناراض بھی نہیں ہوتی ، اس کو اٹھائیں نہ۔۔۔!! آپ تو اس ملے بنا ، بات کیے بنا ، ناشتہ تک نہیں کرتے ،اس کو آپ کا بھی احساس نہیں۔۔!! اب یہ ایسی سوئی رہے گی ، تو ہماری گھر میں اونچا اونچا چیخے گا کون سب کے ساتھ لڑے گا کون ، ایشعال اور پری کے ساتھ گھر میں شرارتیں کون کرے گا۔۔۔!!جبران !! آپ آپ اس کو اٹھنے کے لیے بولتے کیوں نہیں۔۔۔!!! ” سعدیہ بیگم چیخیں تھیں، جبران صاحب نے آگے بڑھ کر سعدیہ بیگم کو اپنے حصار میں لیا تھا۔
وارث صاحب نے داریاں کو اشارے سے اپنی طرف بلایا تھا۔ اور سٹریچر کو گھر کے اندر ہال میں رکھا تھا۔داریاں نے سبھی کی ویل چیئرز کو گھر کے اندر داخل کیا تھا۔ دانیہ بیگم اور مومل نے نڈھال ہوتی سعدیہ بیگم کو ، داخلی دروازے سے اندر ہال کی طرف گھسیٹتے ہوئے ، انمول کی میت کے ساتھ بیٹھایا تھا۔
” اوو مانو کی بچی ،اُٹھ نہ یار۔۔!! چل کسی کو گھن چکر بنا کر پیسے لوٹتے ہیں، یا پھر داریاں کو ڈرا کر ناگن ڈانس کرواتے ہیں، اُٹھ جا۔۔جانو ای۔ایک۔۔بار ہی صحیح۔۔اُٹھ نہ”پریہان نے انمول کو جگانے کے لیے شرارتوں کی لالچ دی تھی، تو ایشعال نے بھی پری کا ساتھ دیا تھا۔
اپنے روٹھے پرائے روٹھے یار روٹھے نہ
خواب ٹوٹے وعدے ٹوٹے دل یہ ٹوٹے نہ
روٹھے تو خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
روٹھے خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
” ہاں نہ مانو تمہاری ساری اسائنمنٹ بنا کر دوں گی، ہر کام کروں گی، جلدی جگانے کے لے کبھی پانی بھی نہیں ڈالوں گی۔۔۔!! پکا پرامس۔۔!!۔۔بس تم اپنی آنکھیں کھولو پلیززز اُٹھو نہ مانو بلی ۔۔!!” ایشعال نے روتے ہوئے وعدے بھی کیے تھے۔مگر سب بےصد تھا، جانے والے کبھی لوٹا نہیں کرتے۔۔۔
ہو اللہ واریان
ہو میں تو ہاریاں
ہو ٹوٹی یاریاں
ملا دے اوئے
پریہان اور ایشعال دونوں انمول کے قریب آئیں تھیں۔ دونوں کے زخم تازے تھے، جن سے دوبار خون رسنے لگا تھا، مگر یہاں پروا کس کو تھی، ارے ان کی تو ہنستی کھلکھلاتی سی دنیا اُجڑی تھی، اُن کے بچپن سے جوانی تک کی ساتھی تھی وہ لڑکی، جو اب کفن پہنے سکون کی نیند سو رہی تھی۔
اوڑتے پتنگوں میں
ہولی والے رنگوں میں
جھومیں گے مل کے دونوں یار
” مانو بلی !!! یار ایک بار تو اُٹھ جا۔۔!! تجھے تو جالی ڈاکٹر نے ٹریت دینی تھی اُٹھ جا نہ یار، مانو۔۔۔!! قسم سے جب جب چڑیل بن کر ڈراو گی ، میں ڈر جاؤں گا۔ جب جب بال کھنچو گی ، میں اپنا سر جھکا لوں گا۔ اور تم نے کہا تھا،جبیت کر واپس آوں گی ، تو ہم۔۔ہم سب مل کر بھنگاڑا ڈالیں گے۔۔۔۔!!! یہ کیسی جیت ہے ، جس میں کوئی خوشی نہیں۔۔!! “
واپس تو آجا یار !!
سینے سے لگا جا یار !!
دل تو ہوئیں ہیں زار زار !!
داریاں نے کفن میں لپٹی، انمول کو اُس کی باتیں یاد دلائیں تھی۔جو اُس نے اپنے جانے سے پہلے کیں تھیں۔مگر جواب نہ ملنے پر دادیاں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ کون لوگ کہتے ہیں، مرد نہیں روتے ۔۔!! مرد کو درد نہیں ہوتا، ارے کوئی راجپوت اور خانزادہ کے مردوں سے پوچھے، وہ چیخ چیخ بتائیں گے، درد ہوتا۔۔!! بہت ہوتا درد ہوتا ہے ، آنسو بھی بہتے ہیں، مگر ہم سب کے سامنے یوں عیاں نہیں کرسکتے ، روتا ہر انسان ہے، کوئی محفل میں ، تو کوئی راتوں کو چھپ چھپ کر۔۔۔
ہو اپنے روٹھے ،پرائے روٹھے ، یار روٹھے نہ !!
خواب ٹوٹے، وعدے ٹوٹے ، دل یہ ٹوٹے نہ !!
” انمول آپی کی جان !! دیکھو سب پریشان ہیں، چندا بس کر دو ،اب اُٹھ جاو، دیکھو سب کتنا رو رہیں ہیں۔۔۔!!! میں اپنی چندا کو سب اُس کی پسند کا بنا کر دوں گی اور ساتھ میں آئسکریم کا میرا حصہ بھی تمہارا ہوگا، بس اُٹھ جاو۔۔۔!! ” ماہم نے روتے ہوئے انمول سے منت کی تھی ، کیا پتہ شاید اُس سفاک لڑکی کو سب پر ترس آجائے،مگر وہ جیسی لیٹی تھی، ہنوز ویسی ہی لیٹی تھی، کچھ فرق نہ پڑا تھا۔
روٹھے تو خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
روٹھے تو خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
علیان نے بھی اپنی خاموشی توڑی تھی۔ ” مانو بچے بہت گیم ہوگی ہے ، اُٹھو چلو شاباش دیکھو ورنہ اگر نہ اُٹھی تو ، مما نے تمہاری چپل سے چھترول کرنی ہے۔ پھر بھگتی آو گی ، علی بھئیو پلیززز !!! آج بچا لیں۔” علیان نے سسکیوں کے درمیان سے کچھ الفاظ ادا کیے تھے۔احمر تو اپنے لبوں سے کچھ بول ہی نہیں پایا تھا۔آنسوؤں نے حلق کو چیر کے رکھ دیا تھا۔
ہو اللہ واریان
ہو میں تو ہاریاں
ہو ٹوٹی یاریاں
ملا دے اوئے
” مانو !! میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا، مگر تمہیں پتہ ہے، تمہارے آنے سے میری اداس ، خاموش سی زندگی بدل گئی تھی۔ تمہاری بے تھی باتوں پر ہنسنے کی عادی ہوگی ہوں، تم کیوں چلی گی ، اب ہمیں کو ہنسائے گا ، واپس آجاؤ نہ ” مومل نے روتے ، بلکتے، سکستے، اٹکتے ہوئے ، اپنے دل کے الفاظ ادا کیے تھے۔
رہے بھی نہ پائیں یار
سہ بھی نہ پائیں یار
بہتی ہی جائیں داستان
” سبز آنکھوں والی بلی !! تم۔۔تم نے مجھے جینا سکھایا ، میری زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرے ، اور سب سے بڑی بات تمہیں معلوم ہے ، مجھے تم میں اپنی ماں کا عکس نظر آتا تھا، جب جب تم مجھے شاہ بولتی تھی، اب مجھے شاہ کون بولے گا۔۔!!! “سالار نے اپنی سی ایک کوشش کی تھی۔ کیا پتہ اُس کے یکطرفہ محبت کی کشش اُس کو واپس کھنچ لائے۔ زندگی میں کُچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں نہیں مِل سکتیں ، چاہے ہم روئیں ، چِلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں رگڑیں ۔۔۔ کیونکہ وہ کِسی دُوسرے کے لِیے ہوتی ہیں۔
عمر بھر کا انتظار
ایک پل بھی نہ قرار
انگلی پر نچائے داستان
پورے گھر کے لوگ خون کے آنسو رو رہے تھے۔ایک شخص تھا فقط ایک شخص، جس کی زبان تالوں سے چپک گی تھی۔ کیوں کہ جب سے ساری سچائی معلوم ہوئی تھی، وہ اپنی ہی نظروں میں گر چکا تھا۔اج ازلان خانزادہ کی آنا ٹوٹی تھی۔ وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا،جس کے لیے ہمیشہ سے، وہ پاگل رہی تھی۔ جس کا کبھی کہا نہیں سنتی تھی ، مگر پروا ہمیشہ کرتی تھی، ہمیشہ اُس کو الگ الگ ناموں سے پکارنا، بات بات پر تنگ کرنا ، ہمیشہ چوری چھپے شراتیں کرنا، جان بوجھ کر اُس کو ذلیل کرنا، مگر کہتے ہیں نہ مرنے کے بعد بڑھ جاتی ہے انسان کی قدر ،زندہ ہے تو جینے کی سزا دیتی ہںے دنیا۔۔۔اور پھر کہتے ہیں نہ کچھ پانے کے لیے کھونا پڑتا ہے۔آج انمول راجپوت نے اپنی زندگی کو گوا کر اپنا عشق پایا تھا۔
اپنے روٹھے پرائے روٹھے یار روٹھے نہ
خواب ٹوٹے وعدے ٹوٹے دل یہ ٹوٹے نہ
روٹھے تو خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
روٹھے خدا بھی روٹھے ساتھ چھٹے نہ
ہو اللہ واریان
ہو میں تو ہاریاں
ہو ٹوٹی یاریاں
ملا دے اوئے


صبح کی نماز کا وقت تھا۔ سب لوگ فجر نماز پڑھ فارغ ہوئے تھے۔ سبھی گھر کی عورتیں انمول کی میت کے اطراف میں بیٹھیں تھیں۔ کہ جبران ، وارث ،حسن ، داریاں ،ابراہیم صاحب اور مصطفٰی صاحب گھر میں داخل ہوئے تھے۔ جبران صاحب نے ایک دوسرے میں پیوست ہوئے ،اپنے لبوں کو واں کیا تھا۔
” سعدیہ !! انمول کو اجازت دو ، اس کی الوداعی کا وقت آگیا ہے۔ جبران صاحب نے گہرے کرب سے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔آخر وہ بھی باپ تھا، اپنی لاڈلی بیٹی کی موت نے اس کو اندر سے ختم کر دیا تھا۔جبران صاحب کا لہجہ ٹوٹ چکا تھا۔سب کی آنکھیں جو سوکھ چکیں تھیں، دوبارہ سے برسنا شروع ہوئیں تھیں۔
” نہیں !! نہیں !! جبران بلکل بھی نہیں !! ہمارے بنا ہماری بیٹی کیسے رہے گی۔اس کو اکیلا رہنا نہیں پسند ، اپ جانتے ہیں، نہ ا۔۔و۔۔ر۔۔۔اور۔۔ہم۔۔سب ک۔۔ی۔۔کیسے۔۔رہیں۔۔۔گے۔۔اپنی مانو کے بنا۔۔۔!!! ” سعدیہ بیگم نے انمول کے جنازے کو لپٹ گئیں تھیں۔ ان کے لہجے میں ٹوٹے دل کی کرچیاں تھیں۔
پریہان اور ایشعال دونوں نے بھی خود کو ویل چیئرز سے گراتے ہوئے، جنازے کو مضبوط سے تھاما تھا۔ اور نفی میں سر ہلایا تھا۔
” مانو پلیز آنکھیں کھولو، خدارا ہم پر ترس کھاؤ، دیکھو ہمارے دل سینے میں درد کی شدت سے دھڑک ڈھرک کر پاگل ہورہیں ہیں اور ایک تم ہو جس نے اپنا دل ساکت کر کہ، خود کو پتھر کا کر لیا ہے۔۔۔!! ” ایشعال حلق بل چیخی تھی۔اُس کے پیٹ کا زخم ،تازہ ہوکر خون بہانے لگا تھا۔
داریان نے سعدیہ بیگم کی ہاتھوں کو زبردستی دور کرتے، جنازے کو اٹھایا تھا، تو مومل اور ماہم نے مل کر پریہان اور ایشعال کو زبردستی جنازے سے دور کیا تھا، وارث صاحب ، داریاں، جبران صاحب اور حسن صاحب نے ، مل کر جنازے کو کندھا دیا تھا۔
” کلمہ شہادت۔۔!! ” مصطفٰی صاحب اونچی آواز میں بولے تھے اور گھر سے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
” مانو کیوں ہو اتنی وحشی ، سفاک تمہیں سب کی تڑپ نہیں دیکھ رہی۔۔!!! سب کے آنسو نہیں دیکھ رہے۔۔۔؟کیوں کر رہی ہو ایسا ، نہ کرو تمہیں خدا کا واسطہ۔۔۔!! واپس آجاؤ ” پریہان پیچھے سے زور سے چیخی تھی، پریہان کے نیچے گرنے سے اس کی ٹانگ سے بھی خون رسنے لگا تھا۔تازے لگے، ٹانکے کھل چکے تھے۔
گرے ہاوس کے بنے خوبصورت سے گارڈن میں انمول کو سپرد خاک کیا گیا تھا۔آج انمول کا شیرو بھی ڈھاڑیں مار مار کر رویا تھا۔اُس جانور کی دھاڑ میں بھی درد کی کرچیاں تھیں۔



یہ منظر تھا، راجپوت ہاؤس کا جہاں اکیس مارچ کا طلوع آفتاب بہت زیادہ اذیت ناک سی روشنی پھلا رہا تھا۔ وہ چلی گی تھی، سب کو چھوڑا کر چلی گی تھی۔اُس کو کسی پر بھی ترس نہ آیا تھا۔ سعدیہ بیگم کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔ جب کہ پریہان اور ایشعال کی دوبار سے سرجری ہوئی تھی۔ اور ابھی ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ کیا گیا تھا۔
ماہم نے شدید بخار میں تپتی میرم کو سنبھالا تھا۔جس کا رو رو کر بڑا حال تھا۔ شاید وہ بھی اپنی ماں کے لمس کے لیے تڑپ رہی تھی۔مگر اس ماں تو تھی ہی شروع سے سفاک دل لڑکی، اُس نے جانے سے پہلے اپنی دو ماہ کی معصوم سی گڑیا کا بھی نہ سوچا تھا۔


آٹھ سال بعد !! سب اپنی اپنی زندگیوں میں بڑھ چکے تھے۔اللہ پاک نے سب کو اُن کے صبر کا اجر عطا کیا تھا۔ ماہم اور داریاں کو پہلے نعمت سے نوازا تھا۔تو اس کے دو سال بعد رحمت سے نوازا تھا۔ تو داریان نے اپنے بیٹے کا نام دانیال جبکہ بیٹی کا نام ماہیر رکھا تھے۔پانچ سال پہلے ایشعال اور عليان کے ہاں بھی دو ٹوونز کی پیدائش ہوئی تھی۔ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ جبکہ پریہان اور احمر کی ایک ہی بیٹی تھی، جس کا نام پریشہ رکھا تھا۔ علیان نے اپنی بیٹی کا نام انفال اور بیٹے کا نام المان رکھا تھا،سالار اور مومل کا ایک ہی بیٹا تھا۔ ضامن سالار شاہ
آج پریشہ کی چھٹی سالگرہ تھی۔رات کا وقت تھا، راجپوت ہاؤس کو اتنی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔کہ رات میں بھی دن کا گمان ہو رہا تھا۔ ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔
آج آٹھ سال بعد وہ اس دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا۔ جہاں سے وہ اُس ستمگر کا جنازہ لے کر نکلا تھا،مگر تب کا گیا وہ آج لوٹا تھا۔صرف اپنی پری کی پریشے کے اسرا پر آیا تھا۔سامنے گھر کے اندر کی جانب دیکھا تھا۔جہاں پورے گھر کو بڑے پیمانے پر سجایا تھا۔
ابھی ازلان اندر داخل ہوتا ، کہ کسی بھی کو اپنی شو لیس سے الجھتا دیکھ ، اُس کی طرف بڑھا تھا۔ جو اپنے شو لیس کو باندھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ساتھ ساتھ کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی۔
” افف !! میرو !! افف !! کب سیکھو گی ، یہ مصیبت شو لیس باندھنا ،نانو مما صبح ہی سکھایا تھا۔مگر میرا یہ دماغ افف !! “
ازلان خاموش سے اُس کے پاس جھکا کر بیٹھا تھا۔ اور اُس بچی کے شوز کے لیس باندھنا شروع کیے تھے۔ میرم نے سر اُٹھا کر شو لیس باندھنے والے کو دیکھا تھا۔ جس کا چہرہ اُس کے لیے نیا تھا۔
ازلان نے جیسے ہی، اُس بچی کو دیکھا تھا، نظریں ہٹنے سے انکاری تھیں۔ ہوبہو وہی چہرہ ، ویسی بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھیں ، بس آنکھوں کے رنگ کا فرق تھا ، اس کی سبز آنکھیں تھیں، تو اس بچی کی نیلی جھیل کی مانند تھیں، ورنہ وہ ہوبہو اُس ستمگر کی طرح تھی، گالوں میں اُس سنگدل سے بھی زیادہ گہرے گڑے پڑتے تھے۔ ازلان کنگ سا ، اُس بچی کو دیکھا رہا تھا۔ میرم نے مسلسل خود کو تکتا پاکر، ازلان کے سامنے چٹکی بجائی تھی۔
” تھنکو !! مسٹر انکل۔۔ !! “
میرم ابھی ازلان کو کچھ اور بولتی، کہ سعدیہ بیگم کی آواز پر پلٹی تھی۔
اُپس !!!
میرم نے آنکھیں میچتے ہوئے، اپنی زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔
” میرو !! کہاں گھوم رہی ہو نکمی !!! احمر ماموں آپ کا ویٹ کر رہے ہیں، چل۔۔۔ !! سعدیہ بیگم ابھی میرم کو غصے سے جھاڑ پلا رہیں تھیں، مگر سامنے کھڑے ساکت سے ازلان کو دیکھا تھا۔جو بس میرم کو دیکھے جارہا تھا۔ پھر بن دیری کیے میرم کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔ آنکھوں سے آنسو برسنے لگے تھے۔ ازلان کو محسوس ہوا تھا، تڑپتے دل پر سکون ہلکی سی پھوار پڑی تھی، آٹھ سال بعد اعصابوں کو سکون ملا تھا۔میرم اپنی آنکھیں پھیلائے، ازلان کو دیکھ رہے تھی۔
لیکن سعدیہ بیگم نے آگے بڑھ کر ازلان کی باہوں سے میرم کو جدا کیا تھا۔اور مضبوطی سے اُس کا ہاتھ پکڑا تھا۔اندر کی جانب قدم بڑھا رہیں تھیں، کہ رک کر کچھ بولیں، مگر وہ الفاظ نہ تھے۔ وہ جلتے کوئلے تھے۔ جو رستے زخموں پر پڑے تھے۔
“کسی دوسرے کے ناجائز گند کو یوں سینے سے نہیں لگایا جاتا، اُس سے دوری برتی جاتی ہے۔ !!”
آہہ یہ کیسا تماچہ تھا۔ جو سعدیہ بیگم نے بنا ہاتھ لگائے، ازلان کر منہ پر لگایا تھا، سود سمیت اُس کو اُس کے الفاظ لوٹائے تھے۔اور اندر کی جانب بڑھ گیں تھیں۔پیچھے ازلان کو جو ذرہ سا سکون ملا تھا۔اس سے زیادہ اذیت ملی تھی۔
پریشہ جو کب سے ازلان کا ویٹ کر رہی تھی،اُس کو گھر کے دروازے پر خاموش کھڑا دیکھ ، اس کی طرف ائی تھی۔اور اُس کی انگلی پکڑ کر ہلایا تھا۔
” ماموں جان !! آپ جلدی چلیں نہ ، سب آپ کا ویٹ کر رہیں ہیں ” پریشہ ازلان کو ہاتھ سے کھنچ کر، اندر کی جانب لے آئی تھی۔جہاں سب گھر والے تھے اور خوش تھے۔
” شاہ ڈیڈو !!! مجھے اوپر اُٹھائیں میں تھک گی ہوں !! ” میرم نے سالار کے سامنے منہ پھولاتے ہوئے کہا تھا۔ ازلان نے میرم کی آواز کا تعاقب کیا تھا۔ مگر سامنے کھڑے سالار کو دیکھ سینے میں شدت سے جلن ہوئی تھی۔ سالار میرم کو اپنی باہوں میں اُٹھاتا، دونوں گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے ، ٹیبل کی طرف آیا تھا۔ جہاں سب مکمل تھا۔ ہر جوڑا مکمل تھا۔سب اپنے بچوں کے ساتھ خوش تھے۔ اگر کوئی برباد ہوا تھا۔تو وہ صرف اور صرف ازلان خانزادہ تھا۔جس کو اُس کے عشق کی بد دعا لگی تھی۔وہ زندہ رہتے ہوئے بھی مر چکا تھا۔ایک پل سکوں نہیں تھا۔اُس کو اُسکی آنا نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔اُس کے غرور نے اُس کے ذات کو مٹی میں ملا دیا تھا۔وہ خالی ہاتھ رہے گیا تھا، اولاد کے ہوتے ہوئے بھی، اس کا دامن خالی تھا۔
ختم شد
وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا ، زندگی چلتی رہتی ہے ، مگر زندگی کر کردار بدلتے ہیں ، اگر کوئی آپ سے سچی اور مخلصانہ محبت کر ، تو اس کو کبھی مت ٹھکرائیں، اس کی تذلیل میت کریں، کیا پتہ اللہ پاک آپ کا غرور توڑ کر ، زمین پر پٹخ دیں، اور ایسا پٹخیں کہ کبھی اُٹھ ہی نہ پاؤ۔
