Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 09)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

” ہائے پری تمہارے ہاتھوں میں تو جادو ہے۔”انمول چائے کی ایک سپ لیتی ہوئی بولی تھی۔

” امممما بلکل بجا فرمایا مانو تم نے..”

ایشو تو فرض سمجھتی تھی۔ مانو کی ہاں میں ہاں ملانا پھر بات چاہے غلط ہوتی یا سہی ایشو اور پری ہمیشہ ساتھ کھڑی ہوتیں تھیں۔

“اچھا پری میں نے کیا سوچ رہی ہوں کہ ہم سب شاپنگ پر چلتے ہیں۔ کب سے ساتھ نہیں گئے۔ہاں ٹھیک ہے۔ میں فٹا فٹ سے ریڈی ہو کے آتی ہوں۔”

پری بولتے ہی اوپر کمرے میں بھاگ گئی۔پیچھے مانو خود نا جانے کے لیئے ترکیب سوچنے لگئ۔ اچانک اس کی نظر ہاتھ میں موجودہ چائے والے کپ اور ساتھ بیٹھے داری پر گئی۔

تو دماغ میں شیطانی سی ترکیب جھمکی اور مانو کی باچھیں کھل گئیں۔جس سے اس کے قاتلانہ گھڑے نمودار ہوئے تھے۔سالار جو مانو سے کوئی بات کرنے والا تھا۔ مانو کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس جان لبوں کو آئی تھی۔کوئی اتنا معصوم اور پیارا کیسے ہو سکتا ہے سالار نے دل سے پوچھا۔

“چلیں سب۔۔۔؟”

دس منٹ میں پری تیار ہو کہ نیچے ائی۔اور سب سے پوچھا تھا۔

“ہاں چلتے ہیں، بس یہ چائے مکمل کر لوں” مانو بولتے ہوئے اُٹھ رہی تھی۔ اس کا پاؤں موڑا اور دھڑام سے نیچے گری۔

” آہ ۔۔۔!!!! “

“مانوووو!!!! ” سب انمول کے پاس بھاگے تھے۔

“آہ میرا پاؤں۔۔۔۔!!”

اس کے ہاتھ میں موجودہ چائے ساری کی ساری داریان پر جاگری۔جس پر وہ بلبلا اُٹھا۔

” آہ۔۔۔!!! جلاد لڑکی مجھ جلا دیا۔میرا بازو جل گیا۔افففف۔۔۔!!! خدایا مجھے سے اب کون شادی کرے گا۔ میرے بچوں کی ماں مجھے نہیں اپنائے گئی۔میں کہاں جاؤں گا۔ ہائے اللہ میرے مستقبل کے ننھے منے پھولوں جیسے بچے۔بن ماں کے کیسے اس دنیا میں آئیں گے۔۔۔

” ہائے اوو ربا۔۔۔!!! “

داریان ایسے دوہائیاں دے رہا تھا۔ جسے کسی فلم کی فلوپ ہیروئین اپنے سہاگ کے لیے سینا پیٹ رہی ہوتی ہے۔۔۔

:او داری۔۔۔!!! اورایکٹنگ کی دوکان چائے اتنی بھی گرم نہیں تھی۔ جتنی تم دوہائیاں دے رہے ہو۔ اور تم جل بھن کر سڑے ہو بیگن ہی کیوں نہ بن جاؤ تب بھی میں نے تمہاری شادی کام والی رضیہ سے ہی کروانی ہے۔

اگر اس نے بھی تمہیں ریجیٹ کر دیا تو کوئی نہیں میں نے پورے محلے کی کام والی ماسیاں اکھٹی کرکے دینی ہیں” مانو تیوری چڑھا کر بولی تھی۔۔

“کیوں باجی میں نے کیوں انکار کرنا ہے۔”

رضیہ انمول کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تھی۔

“مجھے تو داریان صاحب نہیں نہیں وہ انگریزی میں کیا بولتے ہیں۔ہاں آئی لو داریان ڈوگئی (Dogii) مجھے تو بہت زیادہ پسند ہیں۔” رضیہ شرماتے ہوئے بولی۔۔۔

رضیہ کی بات پر ہال میں موجودہ لوگوں کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا سب اپنے پیٹ پکڑ کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہے تھے۔

“کیااااا ڈوگی۔۔۔؟”

داریان نے جیسے کنفرم کرنا چاہ، تو زضیہ نے جلدی سے زور زور سے سر اثبات میں ہلایا، جس پر سب نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔”

“وہ جی اکثر لڑکیاں بولتی ہیں۔اپنے بوائے فرینڈ کو اور جی ٹی-وی پر بھی بولتی ہیں لڑکیاں” رضیہ اپنے دوبٹے کا کونا مڑوڑتی ہوئی بولی تھی۔

” رضیہ تمہارا مطلب کہیں ڈارلنگ (Darling) تو نہیں” ایشو نے رضیہ کی اشارے کو سمجھا “ہاں جی، بی بی جی وہیں وہیں ڈوگی۔۔۔”

رضیہ بولتے ہی شرماتی ہوئی کچن کی طرف بھاگی تھی۔ دوسری طرف داریان تو سکتے میں ہی چلا گیا تھا اپنا اور رضیہ کا فیوچر سوچ کر۔۔

داریان کو ایسا ہی بیٹھا دیکھ کر،مانو نے زور سے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی تھی، جس پر ہوش کی دنیا میں واپس آتے ہوئے چیخا تھا۔

“اب کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔۔”

داریان نے دانت پیسے ہوئے پوچھا۔۔۔

“تمہارے بچوں کی اماں جان تو مل گئی ہے۔اب پری، مومی اور ایشو کو شاپنگ پر لے جاؤ۔” انمول نے دانت نکلتے ہوئے کہا تھا۔

” میرے پاؤں میں تھوڑا درد ہو رہا ہے، میں نہیں جاسکتی۔”

“بلکل نہیں پری ،مومی اور ایشو تینوں نے ایک ساتھ بولا جس پر مانو دل سے مسکرائی تھی۔ ارے میرے پیارے دل کے ٹکڑوں میں ارام کرتی ہوں۔تم سب انجوائے کر کے آو۔۔”

“ہاں یار میں مانو کہ ساتھ رکتا ہوں۔ تم سب جاؤ، تھوڑا انجوائے کر کے آو “سالار نے بھی مانو کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔

” ٹھیک ہے” ان تینوں نے ہار مان لی تھی۔انمول ہو اور کوئی دوسرا کوئی جیت جائے ممکن ہی نہیں۔۔۔

پہلے داریان نے ڈریس چینج کیا۔ پھر پری ایشو اور مومی کو لے کر شاپنگ پر چلا گیا۔پیچھے مانو نے سالار کے ساتھ مل کر اوپر ٹیرس کو سجھایا تھا اور ساری ڈیکوریشن کی تھیم وائٹ اینڈ پنک رکھی۔کام کرتے کرتے دونوں بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ سب کچھ ریڈی ہو چکا تھا۔ اب کیک کا اوڈر دیا۔

اور واپس نیچے آگئے۔

سالار اور آنمول کو باتیں کرتا دیکھ کر ازلان کے ماتھے پر بل پڑے اور وہ ان کی جانب آیا۔ کہ جب ہی مانو نے ازلان کی طرف سر آٹھاتے ہو کہا

“کیا ہے۔۔۔۔۔؟”

مانو نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا تو ازلان نے بھی اسی انداز میں جواب دیا

“شام ہے”

“تو میں کیا کروں تمہیں کوئی کام دھندہ نہیں ہے۔ جو سارا دن گھر پڑے رہتے ہو۔۔۔۔۔؟”

“ہے نا بہت زیادہ کام ہے۔۔”

“ویسے کیا کام کرتے ہو۔۔۔؟” مانو نے ازلان سے پوچھا۔۔۔

“میں قتل کرتا ہوں بد دماغ جنگلی انسانوں کا ،بڑے بڑے ہتھیاروں سے۔”

” کیا۔۔۔!!! ” ازلان کی بات سنتے مانو کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔ جس پے فورن سے سالار نے مانو کو کہا “مانو بلی تم کیا ایسی باتوں پر یقین رکھتی ہو، چھوڑو تم فضول باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور میں ہوں نا ہمیشہ آپکے ساتھ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔سالار نے بڑے مان سے مانو سے کہا تھا۔

“ہممم بلکل ٹھیک کہا تم نے شاہ ،یہ تو ہے ہی، ایک نمبر کا جاہل انسان ہونہہ بڑا ایا قتل کرنے والا موویز کے ڈائیلاگ کہیں بھی جھاڑ دیے۔” مانو نے ازلان کو دیکھ کر مانو نے چہرے کے برے برے زاویے بگاڑے تھے۔

مانو اور سالار کی باتوں پر ازلان نے دونوں کو گھورا تھا اور وہاں سے واک آوٹ کر گیا۔

تقریبن سات بجے کے قریب داریان پری مومل اور ایشو واپس آئے۔ڈھیر ساری شاپنگ کر کے ۔۔۔

” اسلام وعلیکم!” تینوں نے ایک ساتھ سلام کیا۔

” وعلیکم السلام۔۔! ” ہال میں موجود دانیہ بیگم، سالار، مانو، ابراہیم صاحب اور آسیہ بیگم نے یکجاں ہو کہ سلام کا جواب دیا۔۔۔۔

“ہاں جی بچوں ہوگئی شاپنگ” ابراہیم صاحب نے بچوں سے پوچھا۔

“جی دادا جان ہوگئی شاپنگ، اور مانو !! ہم نے سیم ڈریسز ہی لیے ہیں چاروں کے” پری خوشی سے بولی تھی۔

” واو یہ تو بہت زیادہ اچھا کیا تم ” مانو نے خوشی سے کہا تھا۔

“چلو بچوں آجاؤ کھانا کھا لو بہت زیادہ وقت ہوگیا ہے۔” دانیہ بیگم سب کو بولتی خود کچن کی جانب بڑھ گئیں۔

“بلکل خالہ جانی مجھے بہت زبردست قسم کی بھوک لگی ہے۔”مانو پیٹ پر ہاتھ پھرتی بولی تھی۔

“تو پھر دیر کس بات کی آجاؤ۔” سب نے ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔

“چلو پری اب ہم چلتے ہیں۔ بہت زیادہ دیر ہوگئی ہے۔مما نے ہمیں مزےدار سی ڈانٹ پلانی ہے۔چلو ایشو۔۔”

“ہاہاہاہاہا ہاں ہاں چلو مانو جلدی سے”

کچھ ہی دیر میں سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

ڈیول۔۔۔۔!!!

“بادشاہ کی موت ہوچکی ہے۔کسی نے اس کو بہت بھیانک اور درد ناک موت دی ہے۔ لیکن بادشاہ کی موت سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔

اس بار پاکستان پر بادشاہ سے بھی بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔مشہور مدارس ، مسجدیں،سٹیشنز اور جلسوں میں بلاسٹ ہونے کے امکانات ہیں۔ کیوں کہ اسلام آباد میں سمگلنگ رک چکی ہے۔

جس پر ایس۔وی کو اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ اور اس بات کا بدلہ وہ معصوم جانوں سے کھیل کر لیں گا۔اور ہیڈ کوارٹر سے اوڈر ہے۔ سارے ایجنٹس ایک ہو کہ یہ کام کریں۔

ایس-وی اور اس کے کالے دھندوں کو بےنقاب کریں اور کون کون اس میں شامل ہے۔ وہ بھی پتہ لگانا ہے۔”

“ہممم” یک لفظی جواب موصول ہوا۔۔۔

سگریٹ کا گہرا کش لے کر اس نے بولنا شروع کیا۔۔

سپائے ہیکر۔۔۔!

” تم ڈیٹیلز نکلو اسلام آباد میں موجودہ سب بڑے مدارس،مساجد،اور سٹیشنز کا ڈیٹا نکالو ان کے ساتھ کون کون سی بڑی ہستیاں منسلک ہیں۔ان کا ڈیٹا بھی مجھے چاہیے۔”

ریبل۔۔!!

تم ہونے والے تمام جلسہ گاہوں پر چیکنگ کرواؤ ،الیکشن کے لیے کون کون کھڑا کو رہا ہے اور ان سب کی ڈیٹیل چاہیے۔”

“اوکے”

دونوں نے ڈیول کی ہاں میں ہاں ملائی۔

“ہممم”

” جب تک میں ایول مونسٹر سے ملاقات کر لوں۔ کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔”

“اس کے بعد KHF گینگ کو بھی ڈھونڈنا ہے۔”ڈیول کنگ سگریٹ کو پاؤں تلے مسلتا ہوا بولا تھا۔

🖤
🖤
🖤

رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ جب خانزادہ ہاؤس میں پانچ سائے گھسے رات کہ اندھیرے میں گھر کہ کسی کونے میں گم ہو گئے۔کچھ ہی دیر میں گھر کے کچھ افراد اپنے کمروں سے نکلے اور اندھیرے میں چھپ گئے۔۔۔

رات کہ گیارہ بج کہ پچاس منٹ ہو رہے تھے۔ کہ پری کے روم کا دروازہ زوروں سے بجنے لگا۔ پری جو سکون کی نیند سو رہی تھی۔ کہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔

دروازے پر دستک بند ہو چکی تھی۔پری ڈرتے کپکپتے ہوئے بیڈ پر سے اُٹھی اپنی جوتی پہنی اور گلے میں دوبٹہ ڈالا۔۔

دبے پاؤں سے دروازے کی پاس گئی اور کھولا لیکن وہاں کوئی نا تھا۔ اپنا برا خواب سمجھ کر واپس پیچھے کی طرف موڑی تھی۔ ایک بھیانک اور درد ناک چیخ فضاء میں گونجی۔۔۔

پری کا رنگ بلکل سفید پڑ چکا تھا۔لیکن پھر بھی ہمت کر کے چھت کی طرف ائی۔جہاں گھپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔اچانک سے کیسی نے خوفناک آواز میں پریہان کو پکارا۔پری جو پہلے سے خوفزدہ تھی۔ اب گرنے کے در پر تھی۔کہ اچانک سے پورا ٹیرس جگمگاتی روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔

“”Boom””

“Happy Birthday Day to you Happy birthday Dear Parihan Khanzada “

Happy birthday bestie💖

Anmol

“Happy birthday parii my love hope all your birthday wishes and dreams come true.💖

Wish you many many happy returns of the day🎉

Eshal

“Everything that brings you happiness may comes true🥰

A best friend in my life is much more like a family at heart☺️

You are very special to me 😇

Salar Shah

“I am very grateful that you are part of my life 💗

in a good time or a bad time I will always be there for you💖

Momal

“You are not just my friend you _you have become closer to me than my family this status may be short but wishing you Happy birthday once again and I am so proud to be your best friend🤗lots of love❤

❤

Dariyan

خواہشوں کے سمندر کے سب موتی تیرا مقدر ہوں ،🔥

پھول چہرے ، پھول لہجے ، تیرے ہمسفر ہوں ،🔥

Azlan

❣رفعتیں اور بلندی بھی تجھ پہ ناز کرے❣

❣تری یہ عمر خدا اور بھی دراز کرے❣

❣حسین چہرے کی تا بندگی مبارک ہو❣

❣ سالگرہ کا یہ دن مبارک ہو ❣

Ahmer

“I wish you have a life time full of smiles, happiness and love, I pray to Allah to grant you long life a good health, and more blessing and more birthdays❤.

Maham

🎈🎉🎂Happy Birthday Dear Parihan🎂🎉❤hope all your birthday wishes and dreams come true😊.Many Many Happy Returns Of The Day🎂🎂🎂This is Your that special day.. Happy Birthday!!! ❤❤..

Aliyan

❣I want to wish you all the love and happiness in the world,,,, 💞I hope this year brings everything you wish for and more!. Enjoy your day 🎊

😘
🎂
❤
❤

پری تو خوشی سے پاگل ہونے کے در پر تھی۔منہ سے کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی۔ کہ آنکھوں سے خوشی کہ آنسو چھلک پڑے۔ سب بڑوں نے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔۔۔

“پری چلو ہمارے جیسا ڈریس چینج کر آؤ جلدی سے سب نے پنک اور وائٹ کل کے ڈریسز پہن رکھے تھے۔” ایشعال نے چہکتے ہوئے کہا تھا۔

“ہاں پھر کیک کاٹ کرنا ہے۔ اور ڈانس بھی کرنا ہے۔”انمول نے چمکتی انکھوں سے پریہان کو کہا تھا۔

” بلکل گڑیا اور اس کے بعد میرے پاس آپ کے لیے ایک اور سرپرائز بھی ہے ” ازلان نے پری کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

🖤
🖤

ایک میز پر دو لوگ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ دونوں خود کو مکمل چھپائے ہوئے تھے۔ دونوں کے قریب ان کے خاص آدمی ٹھہرے ہوئے تھے۔

ایول مونسٹر!!!

“ایس-وی صاحب آپ سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔” ایس-وی کا خاص بندہ بولا جس کا نام غفار تھا۔

کیسی ڈیل ۔۔؟

“ایول مونسٹر کا خاص آدمی بولا۔۔

“سمگلنگ بیرون ممالک بنا ٹرکوں کی چھان بین کیے، اس کہ بدلے جو بھی آپ چاہیں گے۔”

“ایسی بھی کیا سمگلنگ ہے۔جو کہ بنا دیکھے سمگل کرنی ہیں۔۔؟”

ایول مونسٹر نے محض سوچا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *