Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

"ڈیول تم کہاں جارہے ہو۔۔۔؟ابھی اوپر سے تمہاری بات کا آپرول نہیں آیا۔ تم ایسے کیسے۔۔!!اپنی مرضی کرسکتے ہو۔۔۔۔؟"
"بس۔۔۔۔!!!!! میں کیسی کے حکم کا غلام نہیں ہوں۔میں ڈیول کنگ ہوں"
"یارررر۔۔۔!!!
تم بات کو سمجھتے کیوں نہیں۔ کسی دن تمہیں تمہاری یہی خودسری اور غصہ کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔"
"ہو گیا تیرا اب جا میرا دماغ خراب مت کر"
🖤🖤🖤
صبح کی نماز کے وقت سب اٹھے۔نماز ادا کی اور دوبارہ سے سو گئے۔ کیوں کہ آج اتوار تھا۔ تو سب اپنی مرضی سے اٹھتے تھے۔گيارہ بجے کا وقت تھا۔تقریبن سب ہی جاگ چکے تھے۔
سیوائے ایک انسان کے جو کہ ہمیشہ مُردوں سے شرط لگاتی تھی۔اور اشعال بیچاری اس کو جگانے میں ہی آدھی ہو جاتی۔اب کا بھی کچھ اسی طرح ہی پچھلے ایک گھنٹے سے ایشو مانو کو جاگا رہی تھی۔
لیکن وہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ایشو اب تھک ہار کے صوفے پر بیٹھ گئی۔دس منٹ بعد اس کے دماغ میں ایک شرارت آئی۔اور اشعال نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
اس نے سائڈ دراز سے پانی کا جگ اٹھایا اور مانو کا کمفرٹ اس کے چہرے پر سے ہٹاتے ہی سارا پانی اس پر اُلٹ دیا۔اور پھر جلدی سے کمرے سے باہر دوڑ لگا دی۔
"اہہہہ"
"کوئی بچاو بچاو سیلاب آگیا سیلاب آگیا۔"مانو ہڑبڑا کے اٹھی اور جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی۔۔
"ایشو۔۔!!! میں تمہارا خون پئ جاؤں گی" انمول نے کمرے سے ہی اونچی آواز میں ہانک لگائی تھی۔
کمرے کے باہر سے مانو کو ایشو کی کہی کہی کی آواز سنائی دی تو دانت پیستی اٹھی تھی۔لیکن تب تک اشعال وہاں سے رفو چکر ہو چکی تھی۔ایشو تمہیں تو میں دیکھ لوں گی۔ پھر فریش ہونے کے غرض سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
"کچھ دیر میں تیار ہو کے سب کے ساتھ ناشتہ کیا۔اور ہال میں گپ شپ کرنے بیٹھ گئی۔لیکن اشعال سے اپنا بدلا وہ نہیں بھولی تھی۔
"اوکے دادو بابا میں روم میں جا رہی ہوں۔ کل کو یونی جانا ہے۔ اچھا آیشو تم بھی کام کر کے ذرہ اوپر آو" مانو ایشعال کو بولتی اوپر کمرے میں چلئ گئی۔
"ایشو آتے ہوئے اپنے انگلش کے نوٹس لیتی انا"۔مانو نے اوپر سے ہانک لگائی۔"اوکے" ایشو نے بھی وہی سے اونچی آواز میں جواب دیا۔کچھ دیر بعد ایشعال بھی اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا۔ کہ اس پر ٹھنڈے برف پانی کی برسات ہوئی اور اس کے ساتھ پانی میں کچھ تھا۔ ڈھیر ساری چھپکلیاں، کچھ اپنے اوپر دیکھ کر ایشو کی تو جان لبوں پر آئی تھی۔اس چیخوں سے پورے گھر میں زلزلے کے آنے کے بعد والی حالت تھی۔
"مما بابا دادی دادو بھیا کوئی مجھے۔"
"بچائیں۔۔۔"
"بچائیں۔۔۔"
"بچائیں۔۔۔"
"مماااااا پلیززز۔۔۔!!!"
"ورنہ یہ چ۔چھ۔چھپکلیاں مجھے کچا کھا جائیں گی۔بچاو بچاو مما مما۔۔۔۔!!!"
ایشو کی چیخوں پر سب ہی اوپر کی طرف بھاگے۔ لیکن اس کی حالت اور باتیں سن کر سب کا فلک شگاف قہقہہ لگایا۔اور مانو دوسری طرف پیٹ پکڑ کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔
"ایشعال بیٹا البتہ آپ کھا سکتی ہیں۔ ان کو کچا یہ اپکو نہیں۔" مصطفٰی صاحب کی بات پر ایک بار پھر سب ہنس دیے تھے۔
" ہاہاہا۔۔۔۔!!! "
"دادوووووووووووو" مصطفٰی صاحب کی بات پر ایشو نے منہ بسور لیا تھا۔
"مس ایشعال راجپوت انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا اوکے۔۔۔۔۔"
"ایشو ڈارلنگ وہ دیکھو چھپکلیاں ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔"انمول نے ایک بار پھر ایشو کو ڈرایا تھا۔
"چلو ایشو بیٹا آپ چینج کر لو۔ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی"
اس ذلیل نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تمہیں گیلا کرنے کی۔سعدیہ بیگم نے مانو کی جانب اشارہ کر تے ہوئے کہا تھا۔
"جی مما جان میں جاتی ہوں۔۔"
"ہاں جلدی آنا پھر بات کرنی ہیں۔مانو نے دانت نکلتے ہوئے کہا تھا۔ مگر انمول کی بات پر ایشو نے خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ایشو چینج کر کے مانو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ "یار ایشو میں کیا سوچ رہی تھی۔ کہ کچھ دنوں تک پری کا برتھ ڈے ہے۔ کیوں نہ ہم اس کو سرپرائز دیں۔"
"ہاں یار بول تو تم ٹھیک رہی ہو۔"
"چلو میں کل داری سے بات کرتی ہوں۔ وہ بھی ہماری تھوڑی سی ہلپ کر دے گا۔" ایشعال نے بھی مانو کی بات پر استفادہ کیا تھا۔ مانو شام ہونے والی ہے ہم نہ مووی دیکھیں ہیں۔پٹھان نیو ائی ہے وہی دیکھتے ہیں۔
"ہمم چلو" تو دونوں ٹی-وی لانچ کی طرف چلے گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *