Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 01)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 01)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
![]()
![]()
بنا اجازت کہیں بھی کاپی پیسٹ کرنا منع ہے خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروائی کی جائے گی جو کہ میرا حق ہے لحاظہ کسی بھی قسم کی حرکت کرنے سے گریز کریں شکریہ![]()
![]()
![]()
“مانو بچے اٹھ جائیں دیکھیں صبح کے نو ہو رہے ہیں۔ سعدیہ بیگم کب سے مانو کو اٹھا رہی تھیں، جو کے ُمردوں سے شرط لگا کر سوئی تھی۔آخر تھک ہار کے مانو کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور ہلکے سے مسکرا دیں۔
“آپ کے بابا کب سے آپ کا ناشتے پے انتظار کر رہے ہیں اور آپ اچھے سے جانتی ہیں کے وہ آپ کے بنا ناشتہ نہیں کرتے.”
ابھی ان کے آخری الفاظ منہ میں ہی تھے۔ انمول یعنی مانو بیڈ سے چھلانگ لگانے والے انداز میں اٹھی اور الماری سے اپنے کپڑے لے کر باتھ میں بند ہو گئی…
سعدیہ بیگم نے پیچھے تصوف سے، اس کی جلد بازی پر سر ہلایا اور پھر کمرے سے نکل کر کچن میں چلی گئیں ۔ٹھیک دس منٹ بعد مانو باتھ سے فرش ہو کے باہر ائی۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود پر نظر ڈالی سفید دودھیا رنگ، گہری سبز آنکھیں، اوپر گھنی پلکوں کی جھلر، کھڑی ناک، بھرے بھرے گال، خوبصورت گلابی ہونٹ،اور ایک گال میں پڑتا ہوا ڈمپل،اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہا تھا۔۔
“سفید رنگ کا گھٹنوں کے نیچے تک آتا فراک اور ساتھ لال رنگ کا دوبٹہ اور ہم رنگ کی کیپری پہنے، آنکھوں میں گہرا کاجل، ہونٹوں پر لپ گلوز لگا کر وہ کوئی معصوم سی مومی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔بالوں کو کھولا چھوڑ کر وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی اور گھر کے ہال کی طرف بھاگی تھی ۔
” اسلام وعلیکم۔۔!!! “
سب کو سلام کیا جہاں سب گھر والے پہلے سے ہی موجود تھے۔ سب نے یکجاں ہو کے سلام کا جواب دیا۔ سب سے پہلے دادو جان کے گلے لگ کے ان سے پیار لیا تھا،اور کلثوم بیگم نے بھی پیار سے انمول کے سر پر لب رکھ دیے،اور پھر اسی طرح سے بابا جان سے بھی پیار لیا۔۔
اس کے بعد اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئی۔ جو کے ماہم اور اشعال کے درمیان میں تھی۔۔۔۔
مصطفٰی راجپوت اور کلثوم راجپوت کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے جبران راجپوت اور چھوٹے بیٹے اشرف راجپوت تھے۔۔
جبران صاحب کی شادی ان کی اپنی خالہ زاد سعدیہ بیگم سے ہوئی تھی۔ اور ان کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑا بیٹا علیان راجپوت جس کی عمر چھبیس سال تھی۔جو ایم-بی-اے کی پڑھائی مکمل کر کے اپنے والد کے ساتھ اپنے دادا کے بزنس کو اونچائیوں پر لے جا رہا تھا۔
چھ فٹ سے نکلتا قد گندمی رنگت اور خوبصورت نقوش کا مالک گہری کالی آنکھیں وہ ایک خوبرو نوجوان تھا ۔۔۔
“دوسرے نمبر پر تھی، ماہم راجپوت جو کہ تئیس سال کی خاموش میزاج اور کافی ذہین لڑکی تھی جو کہ اب ڈاکٹر بن رہی تھی ۔سنہری آنکھیں گندمی رنگت تیکھے نقوش کی مالک بہت ہی خوبصورت سی تھی۔۔
“اور پھر آتی ہیں سب کی جان یعنی معصوم سی گڑیا انمول راجپوت جو کہ بیس سال کی تھی سب کی مانو بلی گھر کی رونق شرارتی سی تھی۔
چھوٹے بیٹے اشرف نے اپنی کلاس فیلو بانو بیگم سے شادی کی ان کے دو بچے تھے۔بڑا بیٹا احمر راجپوت جس کی عمر پچس سال تھی اور وہ بھی ایم- بی- اے کرنے کے بعد اب دادا کے بزنس کو سنبھالنے میں اپنے چچا اور کزن پلس جگری یار کا ساتھ دیتا تھا۔۔۔
احمر کے بعد دوسرے نمبر پر تھی، اشعال راجپوت جو کے انمول کی ہم عمر تھی۔لیکن اشعال کی پیدائش کے وقت بانو بیگم اس دنیا سے چل بسی، کیوں کہ ڈاکٹرز نے پہلے ہی ان کی پرگنیسی میں کمپلیکیش بتا دی تھیں۔آن کے جانے کے بعد سعدیہ بیگم نے اس کی ماں بن کر پروش کی۔ بانو بیگم کی وفات کے دو سال بعد ہی اشرف راجپوت صاحب بھی کار ایکسیڈنٹ میں اس دنیا سے چل بسے۔۔۔۔
تب سے جبران صاحب اور ان زوجہ سعدیہ بیگم نے دونوں بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پالا اور پیار دیا کھبی کوئی فرق نہ کیا۔اس لیے وہ بھی سعدیہ بیگم اور جبران صاحب کو مما اور بابا بولتےتھے۔اشعال راجپوت اور آنمول راجپوت دونوں ایک دوسرے کی کاپی تھی۔اگر فرق تھا تو صرف آنکھوں کا مانو کی سبز تھیں اور اشعال کی سنہری تھیں۔۔۔
سب ناشتے کر رہے تھے۔جب انمول نے جبران صاحب کو مخاطب کیا ۔” بابا جان میں اور اشو آگے پڑھنا چاہتے ہیں۔
تو آپ کسی اچھی سی یونیورسٹی میں ہمارا داخلہ کرو دیں۔ ” انمول معصومیت سے بولی تھی۔
“ٹھیک ہے میری جان!!! علیان بیٹا آپ اپنی بہن کو لے جانا اور ان کا ایڈمیشن کرو دینا۔” جبران صاحب نے علیان کو یہ کام سونپا تھا
“بابا کرو دوں گا اج ہی، اچھا احمر آج کی میٹنگ تم سنبھال لینا۔”
“اوکے میں دیکھ لوں گا”
“مانو آپ نے کون سے سبجیکٹ میں ایڈمیشن لینا ہے۔”علیان نے انمول سے پوچھا تھا۔
“بھیو میں نے اور ایشو نے ایم-بی-اے میں ایڈمیشن لینا ہے۔بلکل اپ کی طرح “مانو مسکرا کر بولی۔
“ہاہاہا !!! اوکے بھئیو کی جان۔۔۔”ناشتہ کرنے کے بعد علی نے انمول کو چلنے کے لیے کہا تھا۔
“چلیں پھر ۔۔۔؟؟؟”
“جی بھیو بس میں پری کو کال کر کے بول دیتی ہوں، پھر ہم اس کو بھی پک کر لیتے ہیں۔اس نے بھی ہمارے ساتھ ایڈمیشن لینا ہے۔ اور ایشو تم میرے اور آپنے ڈاکومنٹس لے او جب تک میں کال کر لوں۔” انمول کی بات سنتے علی اپنے فون میں مگن ہوگیا تھا۔اور ایشعال اپنے کمرے سے ڈاکومنٹس لینے چلی گی۔
” مانو بچے جب پرہان کی طرف جائیں تو میں نے گاجر کا حلوہ بنایا ہے وہ لیتے جانا۔”
“جی ٹھیک ہے مما۔۔!!”انمول نے موبائل پر کال کرتے سعدیہ بیگم کو جواب دیا تھا۔اور موبائل کی رینگ پر فون جانب متوجہ ہوئی تھی۔جو کہ پہلی بار پے اٹھا لی گئی۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔!!! “
“کیسی ہو میری پیاری سی پرستان کی پریہان خانزادہ۔۔؟”انمول نے خوشدلی سے پریہان کی خیریت معلوم کی تھی۔
” وعلیکم اسلام مانو “
“اللہ پاک کا شکر ٹھیک ہوں۔تم کیسی ہو۔۔۔!
میری پیاری سی مانو بلی۔۔۔۔؟” پری نے رسانیت سے جواب دیا تھا۔
” الحمداللہ ایک دم جھکاس۔۔۔” انمول نے موالی لڑکے کی طرح جواب دیا تھا۔ تو پری مانو کے انوکھے انداز پر کھلکھلا دی تھی۔
“اچھا جس لیے کال کی تھی، وہ تو بولنا ہی بھول گئی۔جلدی سے تیار ہو جاو، ہم تمہیں پک کرنے آرہے ہیں۔ یونیورسٹی ایڈمیشن کے لیے جانا ہے۔” انمول سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی تھی۔
“اوکے مانو میں پھر مما جانی سے پوچھ لوں اور تیاری بھی کر لوں”۔
“ٹھیک ہے،اللہ حافظ۔۔”
“علی بھئیو آپ چلیں گاڑی نکالیں میں ایشو کو لے آتی ہوں۔”انمول ایشعال کو ابھی تک گم دیکھ کر بولی تھی۔
“ہممم چلو آجاؤ جلدی سے میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں “
علیان انمول کو بولتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔
مانو نے ایشو کو اواز لگائی اور خود کچن کی جانب بڑھی جہاں سعدیہ بیگم ایک ڈبے میں بہت سارا گاجر کا حلو ڈال رہیں تھیں۔
“مما ہم جارہے ہیں تو آپ حلوہ دے دیں”
انمول کے بولنے پر سعدیہ بیگم نے سر اثبات میں ہلایا اور حلوے والا ڈبا، مانو کی طرف بڑھایا، جس کو تھامے مانو باہر کہ طرف بڑھی۔
باہر ائی تو ایشعال کو اپنا انتظار کرتا پایا اور پھر گھر سے باہر کی جانب نکلے جہاں علیان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔گاڑی میں بیٹھے ہی وہ لوگ روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔



“یہ یے خانزادہ فیملی اور اس کے سربراہ ابراہیم خانزادہ اور ان کی زوجہ آسیہ بیگم۔ان کے دو بچے تھے۔ بڑا بیٹا حسن خانزادہ اور چھوٹی بیٹی پریسہ جو کہ تین سال کی عمر میں ہی آللہ کو پیاری ہو گئی تھی۔ کسی جان لیوا بیماری کی وجہ سے۔۔
اہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ابراہیم صاحب اور ان کی بیگم آسیہ نے خود سنبھال لیا اور اپنا سارا پیارا اپنے بیٹے حسن خانزادہ کو دیا۔۔
وقت کا کام ہے گزرنا جو کہ تیزی سے گزرا تھا، حسن صاحب کی شادی ہوگی اپنی خالہ زاد دانیہ بیگم سے جو کہ نہایت ہی نیک اور اچھی سلجھی بیوی ثابت ہوئیں۔۔۔
“اللہ نے ان کو تین بچوں سے نوازا تھا،سب سے پہلا بیٹا ازلان خانزادہ چھ فٹ سے نکلتا قد، بلیو ہیزل ائز گھنی پلکیں ،ہلکے گلابی ہونٹ،مغرور کھڑی ناک، خوبصورت سی بیئرڈ ، چوڑا سینہ،سکس پیکس تھے،وہ ایک خوبرو سنجیدہ مزاج نوجوان تھا ، غصہ ناک پہ ہوتا، جو کے اس کے شخصیت کو اور بھی مغرور بناتا۔۔۔
“دوسرا بیٹا داریان خانزادہ ڈاک براؤن ائز، ہلکی سی بیئرڈ خوش مزاج اور شرارتی سا تھا۔ جو کہ اب ڈاکٹر بن رہا تھا۔۔۔
“پھر آتی ہے سب سے چھوٹی لاڈلی کیوٹ سی پریہان خانزادہ سفید دودھیا رنگ، گرے چمک دار آنکھیں، گھنی پلکوں کی جھلر، گلابی گال اور گلابی ہونٹوں کے نیچے خوبصورت سا تل جو کہ کسی کو بھی آپنا دیوانہ بنا سکتا تھا۔۔۔
“مصطفٰی راجپوت اور ابراہیم خانزادہ کی کافی پرانی دوستی تھی، جس کی وجہ سے حسن صاحب اور جبران صاحب میں بھی گہری دوستی ہوگئی اور ساتھ میں بزنس پاڑنر تھے۔اس لیے دونوں گھرانوں میں کافی بے تکلفی اور آپنایت تھی۔۔۔۔
“مماجانی میں مانو اور ایشو کے ساتھ یونیورسٹی کے ایڈمیشن کے لیے چلی جاؤں۔۔۔!!؟ علی بھئیو لینے آ رہے ہیں۔۔”
پریہان نے اپنی ماں سے اجات چاہی تھی۔
“جی میرا بچہ چلی جاؤ، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ علیان بیٹا ساتھ ہے۔۔۔”
“اوکے تھینکس مما جانی۔۔۔”
ابھی پری اپنی ماں سے بات کر رہی تھی، کہ باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی۔کچھ دیر میں سامنے مانو اور ایشو داخلی دروازے سے داخل ہوتیں نظر آئیں تھیں۔۔۔۔
دونوں نے ایک ساتھ دانیہ بیگم کو سلام کیا انہوں نے پیار سے جواب دیا اور ساتھ ہی سب کی خیریت دریافت کی۔۔۔
“آنٹی یہ گاجر کا حلوہ مما نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔”انمول گاجر کے حلوے والا ڈبا دانیہ بیگم کی طرف بڑھتی ہوئی بولیں تھیں۔
“ارے بیٹا اس کیا ضرورت تھی۔” ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے، کہ باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔۔
” اففف میں کتنی پاگل ہوں باہر علی بھئیو ہمارا انتظار کر رہے ہیں چلو جلدی سے پری ۔۔۔” مانو جلدی میں ہڑبڑاتے ہوئے بولی تھی۔
“ارے بیٹا آپ کچھ کھا تو لیتی” دانیہ بیگم مانو کا رکتی ہوئیں بولیں تھیں۔
“ابھی نہیں آنٹی واپسی پر آپ اچھی سی بریانی تیار رکھیے گا۔”بولتے ہی مانو نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
اوکے اللہ حافظ۔۔۔
“تینوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے اور یونیورسٹی پہنچ کر اپنے فارم فل کیے ساری فارمیلیٹیز پوری کیں۔جب تک علیان پرنسپل سے بات چیت کر رہا تھا، تب تک یہ تینوں شرارتی آفتیں یونیورسٹی کا جائزہ لینے کیلئے نکل پڑیں تھیں۔
کافی وقت لگ گیا تھا ایڈمیشن کرونے میں علیان جیسے ہی فارغ ہو تو مانو کو کال کر کے گاڑی میں آنے کا بولا تھا ۔۔
“پانچ منٹ بعد ہی تینوں گاڑی میں موجود تھے اور اپنی منزل کی جانب گامزن تھے۔مانو نے علیان کو پکارا اور آئس کریم کی فرمائش کی۔
علی منع کرنے والا تھا کہ تینوں کے معصومیت سے بھرپور چہروں کو دیکھتے ہوئے روک گیا اور گاڑی آئس کریم پالر کی طرف بھاگی لی وہاں جاکے سب نے اپنی پسندیدہ فلیور کی آئس کریم کھائی۔
اب واپسی کی طرف رواں دواں تھے۔پری کو پہلے گھر ڈراپ کرنے گئے۔ تو دانیہ بیگم نےدوپہر کے کھانے میں روک لیا۔کھانا کھانے کے بعد علیان تو آفس چلا گیا۔یہ بول کہ واپسی پر ان کو گھر کے لیے پک بھی کر لیے گا۔۔۔۔۔۔
جبکہ دانیہ بیگم دوپہر میں کافی تھک چکی تھیں تو آرام کے غرض سے اپنے روم میں چلی گئیں۔مانو اور ایشو بھی پری کے ساتھ اسکے روم میں چلی گئیں۔خوب ساری باتیں کیں اب شام کے سات ہو رہے تھے۔دانیہ بیگم رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔۔۔
مانو کو اب باتوں سے بوریت سی ہو رہی تھی۔
“یار پری یہ داری کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟آج کل نظر ہی نہیں آتا۔”انمول نے داریاں خانزادہ کے بارے میں پوچھا تھا۔
“ہاں یار وہ ابھی آجائے گا۔”
پری کی بات سنتے مانو کے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ ائی تھی۔
“مجھے لگتا ہے کہ داری نے کافی ٹائم سے کوئی ہورر مووی نہیں دیکھی ہوگی کیوں نہ آج اس کو لائیو مووی دکھائی جائے۔”
تو ایشو اور پری کے چہرے پر بھی شرارتی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”چلو پھر ذرہ میک اپ کیا جائے اور اچھے سے بالوں کو سنوار جائے ” پھر تینوں کا ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔
آٹھ بجے کا وقت تھا جب داریان تھکا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔سارے گھر میں اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔ اور اب داریان کی حالت پتلی ہوئی تھی۔وہ ہال میں داخل ہو اور اپنی مری ہوئی آواز میں سب کو بلانے لگا۔۔۔
” مما،پری،دادو یار آپ سب کہاں ہیں۔۔۔۔؟”
“اور یہاں اتنا اندھیرہ کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”داریاں کے گلے کی گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔
“مما۔۔!!!”
داریاں کو اب زیادہ گھبراہٹ ہو رہی تھی۔کہ اچانک اس کو اپنے سامنے سفید رنگ کی چادر میں کالی آنکھیں اور منہ سارا لال جیسے ابھی ہی خون پئ کے ائی ہوں، بڑے بڑے بکھرے ہوئے بال۔داریان کی تو اوپر کی سانس اوپر نیچے کی سانس نیچے رہے گی۔۔۔۔۔۔۔
اچانک سے ایک چڑیل کے پیچھے سے دو بھوتنیاں اور نمودار ہوئیں تھیں۔اب داریان کا چہرہ بلکل سفید پڑ چکا تھا۔کہ اگر جسم کاٹو تو خون کی ایک بوند نہ ہو۔ہاتھوں میں موم بتیاں لیے داریان کے قریب اچکی تھیں۔ڈر کے مارے اب داریان کی سانس روکنے لگی تھی۔
اب ان تینوں نے داریان کو گھیر لیا تھا اور اس گرد چکر لگا رہیں تھیں۔ ” ارے واہ آج کا شکار۔!! تو بڑا ہٹا کٹا ہے۔ آج رات کے کھانے میں دعوت ہوگی بہنوں۔۔۔۔”
“ہم ٹھیک کہا تم نے بہن !!!
چلو بچے اوپر جانے کی تیاری کرو ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔”
“نہیں داری تم بہادر ہو تم خانزادہ ہو نہیں !! نہیں !! تم نہیں ڈر سکتے۔ اپ مجھے مت کھائیں میں تو پتلا سا ہوں چھوٹا سا ہوں پلیززز پلیززز ۔۔”
داریان کی بات سنتے بڑی مشکل سے ان تینوں نے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا۔۔
“آپ تینوں کا دل اور پیٹ نہیں بھرے گا۔مجھ معصوم کو چھوڑ دیں۔اپ ہاں اپ میری چوٹی بہن اور اس کی دو دوستوں کو کھالیں۔اپ تینوں کو الگ الگ موٹی تازی شکار ملق جائیں گی۔”
ان تینوں کو داری کی بات زبردست قسم کا حیرت کا جھٹکا لگا۔کہ وہ تینوں اور وہ بھی موٹی۔ تینوں بھوتنیوں یکجاں ہو کہ بولیں تھیں “نہیں”ان تینوں کی آواز آتنی بلند تھی کہ داریاں کو اپنی روح تک فنا ہوتی محسوس ہوئی۔
ہاہاہا تینوں نے نکلی قہقہہ لگایا اور اپنی چُھوری اور کانٹا نکالا اور داریاں کی گال پر ُچھوری رکھتے ہوئے پوچھا کہاں سے کھانا شروع کریں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
“پلیززز پلیززز مجھے مت کھائیں میرے بچے بیوہ ہو جائیں گے اور میری بیوی یتیم ہوجائے گی ، میرے مما بابا میرے جانے کے بعد دادا دادی بن جائیں، میں میں رنڈوا ہو جاؤں گا ۔آپ کو خدا کا واسطہ ہے، مجھے بخش دیں داریان نے رونی شکل بناتے ہوئے کہا تھا۔چہرہ پسینے سے شربو تھا۔
جب ک اب وہ تینوں اپنی ہنسی ضبط نہ کر پائے اور تینوں کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تھا اور گھر کی لائٹ اون ہو گئی۔
جب کہ داریان کو اپنے قریب سے ہسنے کی آواز آئی تو جھٹ سے آنکھیں کھولی اور دیکھا تو مانو ،پری اور ایشو نیچے زمین پر گرے ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہی تھیں۔سامنے صوفے پر دانیہ بیگم اور دادا دادی بھی خوب ہنس رہے تھے۔
داریان بچاراہ سا چہرہ لیے کھڑا تھا۔ پھر غصہ سے ان کی طرف بڑھا “خدا کی قسم تم ُچڑیلوں کا قتل مجھ پر واجب ہے۔اب تم تینوں بھوتنیوں کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔”
اب حال کچھ یوں تھا وہ تینوں اگے آگے اور داریاں بچاراہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا اور باقی بڑے سب قہقہے لگا رہے تھے۔ بھاگتے بھاگتے داریان اور وہ تینوں بھی بہت تھک چکے تھے۔تو ہال میں موجود بڑوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔
“چلو بچوں بہت ہنسی مذاق ہو گیا۔ تمہارے بابا اور علیان بیٹا آتے ہی ہوں گے۔جب تک داریان آپ فرش ہو کے ڈائیننگ ٹیبل پر آجائیں اور آپ تینوں بھی آپنا حُلیہ درست کر لیں۔”دانیہ بیگم کے پیار سے پکارنے پر تینوں نے فورن سے بات مانی تھی۔
“ٹھیک ہے آنٹی جان اوکے مما جانی..”
داریان آپنے کمرے میں جاتے ہوئے اُن کو وارن کرنا نہیں بھولا تھا تو مانو نے جھٹ سے جواب میں کہا
“جلدی سے کمرے میں جاو کہیں تمہارے بچے بیوہ نہ ہو جائیں۔ اور تمہاری بیوی یتیم”
یہ بولتی ہی مانو نے پری کے روم میں دوڑ لگا دی اور پیچھے داریان بچاراہ صبر کے گھونٹ بھرتا رہے گیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ دیر بعد سب ہی کھانے کے لیے ڈرائنگ ٹیبل پر موجود تھے۔علیان اور حسن صاحب بھی آفس سے آچکے تھے۔تو ابراہیم صاحب نے سب کو کھانا شروع کرنے کا کہا۔سب کھانا کھا رہے تھے۔۔
علیان بیٹا!!!
حسن صاحب نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ بہت شکریہ “آپ نے مانو اور ایشو کے ساتھ پری کا بھی ایڈمیشن کرو دیا۔ میں تو کافی دنوں سے کروانا چاہ رہا تھا۔ لیکن افس سے ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا اور ازلان یہاں ہے نہیں داریان بھی اپنی سٹڈیز میں بزی ہوتا ہے۔” حسن صاحب مشکور انداز میں بولے تھے۔
“ارے نہیں انکل آیسی بات کر کے، آپ ہمیں پرایا کر رہے ہیں۔ پری بھی مجھے مانو اور ایشو کی طرح عزیز ہے۔”
علیان کی بات پر سب مسکرا دیے۔سب نے کھانے کے بعد چائے پی۔ اور پھر کچھ دیر گپ شپ کی۔پھر علیان، مانو اور ایشو کو لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔
جاری ہے
