Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 26)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 26)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
وہ نڈھال سا وجود لیے شراب کے نشے میں دھت پڑا تھا۔ دنیا جہاں سے بےخبر ،کمرے کا حال بکھرا پڑا تھا،مہنگی اور خوبصورت چیزیں زمین پر پڑیں اپنی بے قدری پر ماتم منا رہیں تھیں۔ کمرے میں جگہ جگہ جلی ہوئیں سگریٹیں پڑیں تھیں۔تو کہیں شراب کی آدھی بوتلیں پڑیں تھیں۔ اس نے اپنی بربادی پر خوب کھل کر جشن منایا تھا۔گہرے درد نے اس کو سکون کی موت سے بچایا تھا۔
اُس کا تو اس دنیا میں کوئی نہ تھا،اگر تھا بھی تو نا ہونے کہ برابر، ایک باپ جو کہ نام کا تھا۔جس کو اپنے پیسے اور عیاشی سے محبت تھی ، سالار ٹوٹ چکا تھا۔ مگر اس کے پاس کوئی نہ تھا، دلاسہ دینے والا پیار کرنے والا کاش کہ لوئی اتنا بھی اکیلا نہ ہو جس کا درد بھی کوئی سنے ولا نہ ہو مگر کوئی نہ بھی ہو تو وہ سنتا ہے، جو سب کے دلوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔۔
” دردِ دل بھی بڑی کُتی چیز ہے یار ،نہ سکون سے جینے دیتا ہے، نہ سکون سے مرنے دیتا ہے۔ پل پل تڑپاتا ہے،سسکاتا ہے اور پھر تباہ و برباد کر دیتا ہے”




آخر کار وہ دن آہی پہنچنا تھا۔ جس سب کو انتظار تھا۔ سبھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دونوں گھروں میں افراتفری کا سماں تھا۔ دونوں گھروں کو دلہنوں کی طرح سجھایا گیا تھا۔
راجپوت ہاؤس میں سب کا دل اُداس تھا، کیوں کہ انکی لاڈلی بیٹی جو رخصت ہونے جارہی تھی۔بےشک ہر وقت ناک میں دم کرتی تھی، ڈھیروں ذلیل کرتی، مگر آج اُس کا اس گھر میں آخری دن تھا، پھر ہمیشہ کہ لیے اُس کو اپنے گھر چلے جانا تھا۔
اپنے گھر۔۔؟ ہاں اپنے گھر! ناچاہتے ہوئے بھی،جس کا ہر لڑکی کو سمجھایا جاتا ہے، کہ بڑے ہو کر اس نے پرائے گھر جانا ہے،یہ دنیا کا دستور ہے، بیٹی کے پیدا ہونے سے جوانی تک یہی کہا جاتا ہے، تم نے پرایا گھر بسانہ ہے ، تم پرایا مال ہو،سالوں ماں باپ دنیا کے کالے سائے سے اپنی بیٹیوں کو بچائے رکھتے ہیں،لاڈ پیار سے پالتے ہیں، کہ کل کو انہوں نے پرائے گھر چلے جانا ہے، جانے قسمت کیسی ہو۔۔۔۔؟
سعدیہ بیگم کی آنکھیں بار بار نم ہوں رہیں تھیں۔ بے شک ان کی مانو بلی ایک بہترین خاندان کی بہو بنے جارہی تھی، مگر ماں تھیں۔ دل گھبرا رہا تھا۔ہر ماں پے یہ وقت آتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے ایک ٹھنڈی سی آہ، ہوا کے سپرد کی تھی، اور رخصتی کی تیاریوں میں لگ گئیں تھیں۔ماہم جو خود سے بڑبڑاتے ہوئے، عجلت میں گھر سے نکل رہی تھی۔ سعدیہ بیگم کی آواز پر رکی تھی۔
” کیا ہوا ماہم بیٹا کوئی پریشانی ہے۔۔۔؟ کیوں ایسے خود سے بڑبڑاتے ہوئے جاری ہو” سعدیہ بیگم کو فکر ہوئی تھی اپنی پڑھاکو بیٹی کی “ارے مما جانی ایسی کوئی بات نہیں بس ہاسپٹل بھی جانا ہے۔ ڈاکٹر رمیز کو ایک پیشنٹ کی فائل دینی ہے، اور پالر بھی ،اب کہاں پہلے جاؤں سمجھ ہی نہیں ارہا”
ماہم کی اتنی سی بات پر سعدیہ بیگم مسکرائیں تھی، “ایسا کرو پہلے پالر چلی جاؤ تیار ہوکر پھر واپسی پر ہاسپٹل کا چکر لگا لینا “
ماہم نے سعدیہ بیگم کی بات سنتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ماہم، مانو اور ایشو کو لے کر پالر کی طرف روانہ ہوگی تھی۔دوسری طرف مومل پری کے ساتھ روانہ ہوئی تھی۔




احمر، علیان اور ازلان اس وقت جنٹس سلون میں اپنا فیشل کروا رہے تھے۔اور داریاں خاموشی سے انکی پکس بنا رہا تھا۔
” عدنان بھائی ! ذرا ان تینوں کی فار ہیڈ ویکس بھی کر دیں۔تاکہ دلہا بن کر انکے چہروں پر بھی نور آئے” داریاں کی بتیسی باہر ائی تھی ویکس کے نام پر، مگر پھر ان تینوں کے سامنے اندر کر لی تھی۔کہیں شک ہی نہ ہوجائے۔
” ٹھیک ہے داریاں بھائی،مگر کونسی ویکس۔۔۔؟” سلون والے لڑکے نے داریاں سے سوال کیا تھا۔ ” ارے یار اور کونسی ہاٹ ویکس ہمارے ہاٹی لڑکوں کے لیے “اخر میں داریاں کا لہجہ خالص زنانہ ہوگیا تھا۔
” ابے اوے کمینے ٹھرکی انسان،اگر ہمارے چہروں کو کچھ بھی ہوا،وہ بھی آج کے دن تو تمہاری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا ۔احمر ہتھے سے اُکھڑا تھا۔ تو داریاں نے بےساختہ تھوک نگلا تھا۔ “زیادہ کچھ نہیں بس تم تینوں کا چہرہ لال ٹماٹر کی طرح سرخ ہوجائے گا” داریاں نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔داریاں کی سوچوں میں خلل ماہم کی کال نے ڈالا تھا۔ ” اسلام وعلیکم داریاں ! ” داریاں نے جیسے ہی فون کان سے لگایا تھا۔ماہم کی پتلی سی آواز گونجی تھی۔ ” وعلیکم السلام! جی ماہ بولیں” داریاں نے بھی ادب سے جواب دیا تھا۔
“وہ داریاں مجھے آپکی ہلیپ چاہی تھی”
“جی جی بولیں اہ میں سن رہا ہوں”
ماہم آگے کچھ بولتی کہ آواز بار بار کٹ رہی تھی اور اچانک ہی کال کٹ گئی۔تو داریاں نے بھی کندھے اچکا دے۔اور تینوں گرومز کی طرف متوجہ ہوا،جن کے چہرے پر ویکس اپلائی ہونی تھی۔
پالر والے لڑکے نے ابھی ویکس لگائی ہی تھی، “اہہہہہہہہہ ” کہ تینوں کی چیخوں سے پوری شاپ کے در و دیوار ہل گئے تھے، اور جب ویکس اتاری گئی تھی،تو تینوں نے داریان کو کس کس گالی سے نہ نوازا تھا، غصے اور درد سے پاگل ہونے کے در پر تھے، داریاں تو وہاں سے پہلے ہی نو دو گیارہ ہو چکا تھا۔ کیوں کہ وہ تیار تھا۔ تینوں نے اپنے چہرے شیشے میں دیکھے تھے۔ جو کہ خون چھلکانے کی حد تک سرخ تھے۔ ان تینوں کے خطرناک تیور دیکھ سلون والے لڑکے کی گلے کی ہڈی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔ “کیا ہوا بھائی ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔؟” عدنان نے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا۔ ” یہ کیا کر دیا پاگل انسان”ازلان نے غصے میں اپنے لال ٹماٹر جیسے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، “سس سر یہ وقتی ہے ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ٹھیک ہوجائے گا۔” سلون والے لڑکے نے ڈرتے ہوئے جواب دیا تھا۔” تو ہمارے منہ کیا دیکھ رہے ہو جلد کرو ٹھیک” علیان نے سخت لہجے اختیار کیا تھا۔تو سلون والا لڑکا جلدی جلدی ہاتھ چلاتے لگا۔




سات بجے کا وقت تھا۔پالر میں ساری لڑکیاں تیار ہو چکی تھیں۔ تینوں لال عروسی جوڑے میں آپنی مثال آپ لگ رہیں تھیں۔بھر بھر کر روپ آیا تھا۔ ” مومل !! ” ماہم نے مول کو مخاطب کیا تھا۔ “جی ماہم آپی” مومل ماہم کی طرف پلٹی تھی۔ “مجھے نا ذرہ ہاسپٹل جانا ہے، پلیز تم نا، ان تینوں کو لے کر حال چلی جاؤ، میں ابھی گی اور ابھی آئی” ماہم عجلت میں بولی تھی۔
“آپی آج کہ دن بھی آپ ہاسپٹل جارہی ہیں۔۔۔؟” ایشو نے خفتگی سے کہا تھا ساتھ اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ “ارے چندا یہ دیکھو ڈاکٹر رمیز کے ایک سو بارہ کالز ہیں، غصے سے پاگل ہوئے جارہے ہیں۔ایک فائل کے لیے”
ماہم موبائل آگئے کرتے ہوئے سکرین ان کی تھی، جس کو دیکھتے ہوئے ایشعال نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا تھا۔تو ماہم نے بھاری کامدار ڈوبٹے کو گلے میں اچھے سے سیٹ کیا تھا۔ اور کار ڈرائیو کرتی ہاسپٹل کے لیے نکل چکی تھی۔
انمول، پری، مومل اور ایشو چاروں اپنی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ کہ کسی نے گاڑی کے آنے کا بتایا تھا۔ تو وہ چاروں باہر آئیں تھیں۔ پری مومل اور ایشو گاڑی میں بیٹھ چکیں کہ سامنے سے داریاں کی گاڑی آتی ہوئی دیکھائی دی، جو کہ پریہان کو لینے آیا تھا۔ مگر پریہان گاڑی میں پہلے ہی بیٹھ چکی تھی۔ تو اس نے واپسی کا ارادہ کیا کہ اپنے بھائی اور دوستوں کو دیکھ لیے، مگر ایک خیال کی تحت رکا اور مانو سے ماہم کا پوچھا،جس پر مانو یہ بتایا کہ کی ڈاکٹر رمیز کی ایک سو بارہ کالز آچکی تھیں، صرف ایک فائل کے لے تو ماہم انکو وہ فائل دینے گی ہے۔
ڈاکٹر رمیز کے نام پر داریاں کا مسکراتے لب سکھڑے تھے۔ چہرے پر سنجیدگی سی طاری ہوگی تھی۔مانو تو حیران سی داریاں کے چہرے پر بدلتے تاثرات دیکھ رہی تھی۔ جو ڈاکٹر رمیز کے ذکر پر تن سے گئے تھے۔ مگر پھر داریاں بنا کچھ بولے ہی گاڑی میں بیٹھا تھا اور پھر گاڑی کو بھاگا لیا تھا۔مانو نے بھی کندھے اچکا دے تھے۔ داریاں کے دماغ میں کچھ دن پہلے ہاسپٹل میں ہوئے، اُسکے اور ڈاکٹر رمیز کے جھگڑے کا منظر لہرایا تھا، داریاں اپنے جھگڑے کے درمیان ماہم کو بھینٹ نہیں چڑھا سکتا تھا۔ کیوں کہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ رمیز کتنا کمینہ ہے، اور کس حد تک گر سکتا ہے، داریاں نے دل ہی دل میں ماہم کی عزت کی دعا کی تھی۔اور تیز ڈرائیونگ کرتا ہاسپٹل کے راستے کی جانب کامزن تھا۔




ماہم جیسے ہی ہاسپٹل پہنچنی تھی۔ ریسیپشن کی طرف بڑھی تھی۔ وہاں پر کھڑی لڑکی سے ڈاکٹر رمیز کا پوچھ تو اس لڑکی بتایا کہ ڈاکٹر رمیز کافی دیر سے آپکے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔تو ماہم اثبات میں سر ہلاتی انکے کیبن کی طرف بڑھ گی۔ لیفٹ کے قریب جا کر پتہ چلا کہ لیفٹ خراب تھی۔تو اس نے سیڑھیوں سے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
” وہ اچکی ہے۔”
ریسیپشن پر کھڑی لڑکی نے میسج ٹائپ کیا اور کسی کو سینڈ کر دیا، دوسری جانب داریاں پاگلوں کی طرح رش ڈرائیونگ کر رہا تھا، اس کوئی ہوش نا تھا۔ رہی سہی کسر ڈاکٹر رمیز کے میسج نے پوری کر دی تھی۔ “ڈاکٹر داریاں اس دن کے تھپڑ کا بدلا تمہاری بیسٹ فرینڈ کو اپنی عزت سے چکانا پڑئے گا، جیسے ویٹ اینڈ واچ “
میسج دیکھ کر داریاں کی آنکھوں میں خون کی لالی چھا چکی تھی۔ دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تھیں۔ ” آج نہیں چھوڑوں گا تجھے رمیز اگر ماہ کو کچھ بھی ہوا تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا” داریاں سٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے چیخا تھا، ماہم تھک ہار اپنا کامدار سوٹ سنبھالنی ڈاکٹر رمیز کے کمرے کہ باہر رکی تھی، کیوں کہ کمرے ہلکی ہلکی چیخوں کی آوازوں آرہیں تھی۔ ماہم پہلی گھبرائی تھی، مگر پھر کسی پیشنٹ کا سوچتے ہوئے انکے کیبن کا ڈور ناک کیا تھا،لیکن جواب نا ملنے پر اندر کیبن میں داخل ہوئی تھی، مگر سامنے دیکھ اُس کے ہوش خطا ہوئے تھے۔اپنی دوست عالیہ اور ڈاکٹر رمیز کو بے لباس ایک دوسرے پر جھکے ہو نازیبہ حالت میں دیکھ فورن سے پلٹی تھی۔بری طرح سے لرز اُٹھی تھی، دروازہ کی ناب کو بار بار گما رہی تھی،مگر دروازہ تھا کہ واپس کھل ہی نہیں رہا تھا۔
“ویلکم ویلکم !! مائی بیوٹی فل لیڈی ڈاکٹر ماہم راجپوت”
رمیز کی خباثنا آواز پورے کیبن میں گونجی تھی۔ایک جھٹکے سے عالیہ کے وجود کو چھوڑتے وہ اسی حالت میں ماہم کی طرف پلٹا تھا۔ ماہم نے اپنے بے جان ہوتے وجود کے ساتھ کیبن کا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ماہم زور زور سے چیخنا چاہتی تھی۔ مگر وہ ذلیل انسان اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
وہ واہیات انسان ایک پل کو رکا اور اپنی پینٹ پہنی تھی،ساتھ ہی عالیہ کو اشارے سے باتھ کی طرف جانے کو کہا اور اونچی آواز میں دوبارہ بولا
“مائی ڈئیر سٹوڈنٹ عالیہ! آج تم نے مجھے خوش کر دیا اس بار تمہاری فرسٹ پوزیشن پکی ہے، میٹھائی تیار رکھنا”
ماہم تو اس آواز پر ہی کانپ اٹھا تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ماہم نے ساتھ پڑے ٹرے میں سے قینچی اُٹھا لی تھی،مگر پلٹی پھر بھی نا تھی۔ دل شدت سے چاہ رہا تھا۔ زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہو جائے، کیوں عزت کے بنا کچھ بھی نہیں، ہاتھ میں پکڑا فون بجا تھا۔ کہ وہ اُس کی آواز سے ہی بوکھلا اُٹھی تھی۔
مگر داریاں کا نمبر دیکھ کر فورن سے اٹینڈ کی تھی کال،
” دا داریاں داریاں پلیز مجھے بچا لو ” ماہم روتے ہوئے بولی تھی،گلے میں آنسوؤں کا پھندا پھس چکا تھا۔الفاظ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے۔ داریاں نے سختی سے لب بھینچے تھے۔
“ماہ دیکھو کچھ نہیں ہوگا میں آرہا ہو” داریاں ابھی کچھ بول ہی رہا تھا۔ کہ رمیز نے ماہم کے قریب آتے اسکے ہاتھ سے فون کھنچا تھا۔ اور اپنے کان سے لگایا تھا۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے ماہم کے ہاتھ کو مضبوطی سے جکڑا تھا۔ ماہم اسکی پکڑ میں پھڑ پھڑائی تھی۔
” او ہو ڈاکٹر داریاں پریشان مت ہوں میں زیادہ درد نہیں دوں گا،آپکی ماہ کو بس اپنا پیار لوٹاوں گا، شدت سے اس کی پور پور کو مہکاوں گا۔” رمیز نے اپنی بے ہودہ زبان سے گند اگلا تھا۔ داریاں غصے سے غرایا تھا۔ “کتے، کمینے سور کی اولاد، اگر تو نے ماہ کو ہاتھ بھی لگایا۔ تو اپنا انجام سوچ لینا، ایسا حال کروں گا، کہ تیری سات نسلیں یاد رکھیں گی” داریاں غصے سے ڈھاڑا تھا۔ کچھ ہی منٹس میں ہاسپٹل پہنچ چکا تھا۔ فون گاڑی میں پھنکتا ہاسپٹل کی طرف بھاگا تھا۔وہ دیوانہ وار اُوپر کی طرف بڑھ رہا تھا۔
” ہائے!! اب لگے گا، کہ میں سہاگ رات منا رہا ہوں،” رمیز ماہم کو اپنی گندی غلیظ نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھتا ہوا بولتا ہوا۔ ماہم کا دل کیا تھا کاش اس وقت سے پہلے اس کو موت آجاتی۔وہ خبیث انسان ماہم کی طرف جھکا ہی تھا۔ کہ اس سے پہلے ماہم نے ہاتھ میں لی ہوئی قینچی اسکے بازو میں گھوپ دی تھی ، رمیز ماہم کے وار کے لیے بلکل تیار نہ تھا۔ اپنی بازو پر ہاتھ رکھتے درد سے بلبلا اُٹھا تھا۔
“اہہہہ کمینی عورت میرا بازو زخمی کر دیا اب تو تجھے تڑپاوں گا، اتنے زخم دوں گا کہ خود ہی موت کو گلے لگا لے گی، ہاہاہا” رمیز نے اخر میں کمینگی قہقہ لگایا تھا۔ ماہم کا وجود لرز رہا تھا،ماہم قینچی کو اپنے ہاتھ سے گرا چکی تھی۔ وہ رمیز سے دور بھاگی تھی۔مگر کہیں بھی کوئی راستہ نہ تھا۔اس کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔ اللہ سے اپنی عزت کے لیے دعا کی تھی۔ وہ شیطان شخص قدم قدم آگے بڑھ رہا تھا۔ماہم نے اُسکے آگے ہاتھ جوڑ لیے تھے۔ مگر منہ سے کچھ نکل ہی نہیں رہا تھا۔ داریاں کو پاگلوں کی طرح سیڑھیاں چڑھتے دیکھ، اس کے دوست بھی اسکی پیچھے بھاگے تھے۔
داریاں جیسے ہی ڈاکٹر رمیز کے کیبن کو پہنچا تھا۔ دھڑا ڈھڑ دروازہ بجایا تھا۔ دروازے کی ناب کو گھماتے کی بہت کوشش کی تھی۔ شاید دروازہ لاک تھا۔ اسی لیے دروازہ کو زور زور سے کندھے مارنے لگا تھا۔ داریاں کے دوست بھی اسکی مدد کو آگے تھے۔ اندر کھڑی ماہم آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اپنی جی جان لگاتے ہوئے چیخی تھی۔ “داریان۔۔!! ” اور پھر ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی زمین بوس ہوئی تھی۔
ماہم کی چیخ پر داریاں کو اپنی روح فنا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ کہ اچانک ٹھاہ کی آواز سے کیبن کا دروازہ ٹوٹا تھا۔ داریاں خون آشام آنکھیں لیے رمیز کی طرف بڑھا تھا۔ رمیز داریاں کے اتنا جلدی پہنچ جانے پر بوکھلا گیا تھا۔ داریاں نے آگے بڑھتے رمیز کو گلے سے پکڑتے مارنا شروع کر دیا تھا۔ “سور کی اولاد تیری لڑائی مجھ سے ہوئی تھی نہ، تو تو عورت ذات کو درمیان میں کیوں لایا۔” داریاں نے رمیز کو مارتے آدھ مویا کر کے چھوڑا تھا۔
داریاں کے دوستوں نے اس کا دھیان بے ہوش پڑی ماہم کی طرف کروایا تھا۔ تو داریاں رمیز کو چھوڑتا ماہم کی طرف بڑھ تھا۔ ماہم کو باہوں میں بھرتے روم میں لے گیا تھا۔ بیڈ پر لیٹا کر انجیکشن لگایا تھا۔ اور پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔ چہرے پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان جم چکے تھے۔داریاں نے خود کو ملامت کی تھی، اُس کی وجہ سے اس معصوم کو اتنا ٹارچر سہنا پڑا، ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔
گھر والے پریشان تھے۔داریاں کو کئی بار گھر سے کالز آچکی تھیں۔ اب کی بار داریاں نے جبران صاحب کی کال اٹینڈ کی تھی۔اور کچھ دیر میں آنے کا بولا تھا۔ماہم کو ہلتا جلتا دیکھ ماہم کی طرف بڑھا تھا۔ “ماہ آپ ٹھیک تو ہیں ” تو ماہم پہلے تو چھت کو گھورتی رہی، پھر اُٹھیک اور سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔
گھنی پلکوں کی جھلر اُٹھا کر داریاں کی طرف دیکھا تھا۔ رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہورہیں تھیں۔ ” میں ٹھیک ہوں داریاں ” ماہم نے زبردستی ہلکی مسکراہٹ سے جواب دیا تھا۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی، داریاں پریشانی میں بہت پینک کرتا ہے۔
ماہم کو ہلکا سا مسکراتا دیکھ داریاں کی جان میں جان آئی تھی۔بےشک وہ مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ مگر تھی تو ایک نازک جان لڑکی، جس کو اپنی عزت اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ ماہم کچھ دیر میں فریش ہوئی تھی۔ تو داریاں ماہم کو لیتا میرج ہال کی طرف گامزن ہوگیا تھا۔ لیکن دل میں کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ماہم کو دیکھ کر محض مسکرایا تھا۔ مگر آنکھیں کچھ اور ہی بول رہیں تھیں۔ لیکن فلوقت ماہم ان کو پڑھنے سے قاصر تھی۔




داریاں ماہم کو ہال میں چھوڑتا واپس کہیں چلا گیا تھا۔ مگر ماہم کو کسی کو کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا۔ماہم کو صحیح سلامت دیکھ،سعدیہ بیگم نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ رات کے وقت جوان بیٹی کا باہر ہونا، ماں کو کئی وسواسے اتے ہیں۔
کچھ وقت گزرا تھا۔ ماہم کو میرج ہال پہنے کہ بارات ہال میں پہنچ چکی تھی۔ ہر طرف ڈھول نغڑے اور پٹاخوں کی آوازیں تھیں۔ چھوٹے بڑے سب ناچ رہے تھے۔ ازلان ، علیان اور احمر جیسے ہی داخلی دروازے پر پہنچے تھے۔ انکو لڑکیوں نے گھیر لیا تھا۔ جس میں سب سے آگے مومل تھی۔
ماہم بھی ساتھ تھی، مگر خاموش سی،معصوم سا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔رکیں بھئیو پہلے پیسے پھر اینٹری ورنہ اندر نہیں آسکتے مومل نے چہکتے ہوائے کہا تھا۔
“ارے یہ کونسی رسم ہوتی ہے۔۔”
احمر حیران ہوتے ہوئے بولا تھا۔ باقی دونوں نے بھی احمر کی تائید میں سر ہلایا تھا۔
” ٹھیک ہے بھائی پیسے دے دیں گے،مگر پہلے ایک شرط ہے” داریاں کے شرط بولنے پر مومل کے کان کھڑے ہوئے تھے۔
” کیا شرط ہے” مومل سینے پر ہاتھ بند بولی تھی۔
“ہآں تو رضیہ بہن ذرہ ایک کٹورے میں پانی لاو مومل باجی اپنا چہرہ دھو کر دکھائیں گی تب پیسے ہی پیسے میلیں کےانکو”۔ داریاں نے اپنی بتیسی نکالی تھی، مگر اس کی بات سنتے ہی مومل تو منہ کھولے کھڑی تھی۔
” نہ یہ کیسی شرط ہے۔۔۔؟” مومل بوکھلا گی تھی،آخر کو اتنے مہنگے پالر سے تیار ہوئی تھی، اپنا میک اپ ایسے ضائع تو نہیں کر سکتی تھی۔
” ہمیں کوئی شرط نہیں مانی ہمیں پیسے چاہیے بس یہ آخری فیصلہ ہے۔” مومل کا آواز حتمی تھا۔ “ارے بھئی دے دو کیوں تنگ کر رہے ہو بہنوں کو” آسیہ بیگم نے لڑکیوں کی سائڈ لی تھی۔ “آسیہ ڈارلنگ یہ غلط ہے، آپ کو ہماری سائڈ ہونا چاہیے تھا، ناکہ ان لُٹیروں کی ” داریاں کی بات پر ساری لڑکیاں منہ بسورے گئیں تھی۔احمر علیان اور ازلان نے اپنی جیب سے دو دو لفافے نکالے تھے۔ ایک مومل اور ایک ماہم کی طرف بڑھایا تھا۔ جسے تھام کر مومل خوشی سے چہکی تھی۔ اور ماہم کے چہرے پر محض ہلکی سی مسکراہٹ پھلی تھی۔ لڑکیاں دروازے سے ہٹ چکی تھیں۔ بارات ہال میں داخل ہو چکی تھی۔
تینوں شہزادے بڑی شان سے سٹیج پر براجمان تھے۔ازلان نے سفید رنگ کی شیروانی پہنی تھی۔ جس سے اس کی مغرورانہ شخصیت اور بھی زیادہ نکھر رہی تھی۔مگر اس کی نیلی آنکھیں سرد تھیں۔ علیان نے اف وائٹ کلر کی شیروانی پہنی تھی، جبکہ احمر نے گولڈن کلر کی شیروانی پہنی تھی۔
مولوی صاحب اچکے تھے۔ سب کی دلہنوں کو لایا جارہا تھا۔حسین اپسرایں ایک ساتھ چلیتی آرہیں تھیں۔ پریہان اپنے گرے ائیز میں خوبصورت سی چمک لیے آگے بڑھ رہی تھی۔ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ رقصاں تھی، ڈارک پنک کلر کا لہنگا زیب تن کیے حسن صاحب اور داریاں کی بازوں میں بازو ڈال کر بڑی شان سے آرہی تھی۔
اُسی کے ساتھ ایشعال ڈارک مہرون اور گولڈن کلر کے کامدار لہنگے میں مبلوث مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب کا بازو تھامے اپنی شہد آنکھوں میں ڈھیروں شرم لیے بڑی شان سے آرہی تھی۔ پریہان اور ایشعال دونوں اپنے ہم سفر کا ہاتھ تھام کر سٹیج پر بیٹھ چکے تھے۔
وہ آرہی تھی، سبز آنکھوں میں معصومیت اور ڈھیروں خواب سجائے وہ گہرے سبز اور لال رنگ کا لہنگا زیب تن کیے ایک طرف کو جبران صاحب اور دوسری جانب اپنے بہترین دوست کے سنگ، بڑے کروفر سے چلی ارہی تھی۔
سالار کے دل نے خواہش کی تھی۔ کہ وقت یہی تھم جائے اور وہ اپنی دشمن جان کو ہمیشہ کے لیے اپنی بازوں میں چھپا۔ وہ اس کی ہم سفر ہوتی، تو اس بڑی سی دنیا سے چھپا لیتا۔۔۔
مگر اس نے اپنے شاہ کے ہاتھ کو تھاما ہی نہیں، اسکی کالی گھٹا کے مانند چمکتی آنکھوں میں اپنے لیے پیار کو دیکھا ہی نہیں،انمول قدم قدم قریب ہورہی تھی۔ اپنے نیلی آنکھوں والے مغرور شہزادے کے انمول جیسے ہی سٹیج کی قریب رکی تھی۔ ازلان سرد نیلی آنکھیں لیے آگے بڑھا تھا۔ اور مانو کا نرم۔و نازک ہاتھ تھام لیا تھا۔دونوں ایک ساتھ سامنے رکھے صوفے پہ براجمان ہوئے تھے۔ سالار نے سامنے بیٹھے جوڑے کو بڑی حسرت سے دیکھا تھا۔تو سالار کے پیچھے کھڑی مومل نے اُسی حسرت سے سالار کو دیکھا تھا، جس حسرت سے سالار نے مانو کو دیکھا تھا۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا تھا۔
” انمول راجپوت ولد جبران راجپوت اپکا نکاح ازلان خانزادہ ولد حسن خانزادہ کے ساتھ حق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔!!”
انمول کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہورہا تھا۔ اس کو اسکے بچپن کا عشق ملنے جارہا تھا۔اسکی برسوں کی تمنا، اس کو اپنے خوابوں کی تعبیر ملنے جاری تھی۔ لیکن کبھی کبھی یہ خواب کی تعبیر پلٹ بھی جاتی ہے۔ خوشیوں کی بہت چھوٹی سی عمر ہوتی ہے۔خوشیاں جلد ہی مر جاتی ہیں۔
“قبول ہے”
“قبول ہے”
“قبول ہے”
سالار نے انمول کو دل سے بہت سی دعائیں دیں تھیں۔
“ہمارا ہے کیا یار ہم ہیں دیوانے
ہماری تڑپ تو کوئی بھی ناجانے
ملے نہ تمہیں عشق میں بے قراری
سدا خوش رہو تم دعا ہے ہماری”
سالار نے بے دردی سے اپنے آنسوؤں کو آنکھوں سے رگڑا تھا۔
مولوی صاحب کے تینوں بار پوچھنے پر انمول نے خوشدلی سے ازلان کو قبول کیا تھا۔اب کی بار مولوی صاحب ازلان کی طرف موڑے تھے۔اور نکاح کے کلمات بولنا شروع کیے تھے۔
“ازلان خانزادہ ولد حسن خانزادہ اپ کا نکاح انمول راجپوت ولد جبران راجپوت کے ساتھ حق مہر دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟”
” قب”ابھی آگے کچھ بولتا کہ ازلان کی نظر سامنے کی جانب اُٹھی تھی۔داخلی دروازے کی جانب جہاں نایاب کھڑی تھی، اپنی سرخ انگارا آنکھوں میں ڈھیروں شکوے لیے، مگر پہلی مرتبہ ازلان خانزادہ نیلی آنکھوں والا مغرور شہزادہ مجبور تھا۔
“قبول ہے”
آج ازلان نے اس لڑکی کو قبول کیا تھا۔ جسے وہ ایک نظر دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔اب کی بار مولوی صاحب علیان اور ایشعال کی طرف بڑھے تھے۔ اور نکاح کے کلمات بولنا شروع کیے تھے۔
ایشعال راجپوت ولد اشرف راجپوت آپ کا نکاح علیان راجپوت ولد جبران راجپوت کے ساتھ حق مہر دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟
“قبول ہے”
ایشعال نے نے علیان کو دل سے قبول کیا تھا۔مولوی صاحب علیان کی طرف موڑے تھے۔اور نکاح کے کلمات دہرانے تھے۔
علیان راجپوت ولد جبران راجپوت اپ کا نکاح ایشعال راجپوت ولد اشرف راجپوت کے ساتھ حق مہر دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟
“قبول ہے”
مولوی صاحب اب پریہان اور احمر کی جانب آئے تھے۔ اور نکاح کے کلمات بولنا شروع کیے تھے۔
پریہان خانزادہ ولد حسن خانزادہ اپکا نکاح احمر راجپوت ولد اشرف راجپوت کے ساتھ حق مہر دس روپے لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟
“قبول ہے”
پری نے اپنی محبت کو دل و جان سے قبول کیا تھا۔
احمر راجپوت ولد اشرف راجپوت آپ کا نکاح پریہان خانزادہ ولد حسن خانزادہ کے ساتھ حق مہر دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟
“قبول ہے”
مولوی صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تھے۔تو سبھی نے تینوں جوڑیوں کو سے دعائیں دیں تھیں۔سبھی ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے۔ مولوی صاحب نے دوسری جگہ جانے کے لیے اجازت چاہی تھی۔ کہ مصطفٰی صاحب نے کی بات پر وہ رک گے۔
“مولوی صاحب ابھی ایک اور نکاح رہتا ہے۔” مصطفٰی صاحب کی آواز سبھی کے کانوں میں گونجی تھی۔ سب حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکے تھے۔ تو ابراہیم صاحب نے سب کی مشکل آسان کی تھی۔
” ہمارے بیٹے داریاں اور ہماری بیٹی ماہم کا نکاح رہتا ہے”
ماہم کے سر پر تو سات آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔ مگر ماہم کی نسبت داریاں خاصہ پر سکون میں ٹھرا تھا۔ داریاں کو دیکھنے کے بعد سب کو سمجھ آچکی تھی۔ اُس کی ہی کارستانی ہے۔مگر پہلے بھی بول سکتا تھا۔یوں اچانک سب کو کچھ کھٹکا تھا۔لیکن سب کے سامنے کوئی بھی سوال کرنا لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع دینا، اسی لیے سب خاموش تھے۔مصطفٰی صاحب نے ماہم کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی اجازت چاہی تھی۔ جس پر ماہم نے ان کی آنکھوں میں بہت سا مان دیکھا تھا۔ تو ماہم نے انکے مان کا خیال رکھتے ہوئے سر جھکا لیا تھا۔ دانیہ بیگم نے ماہم کے سر پر لال چنری ڈالی تھی۔
داریاں اور ماہم سٹیج پر انمول اور ازلان کے ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔اور مولوی صاحب نے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے نکاح کے کلمات پڑھنا شروع کیے تھے۔
“ماہم راجپوت ولد جبران راجپوت اپ کا نکاح داریاں خانزادہ ولد حسن خانزادہ کے ساتھ حق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟”
ماہم کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔دل کی ڈھڑکنوں نے شور مچایا تھا۔جس کو وہ اپنا دوست کہتی تھی۔ مگر وہ شخص اس کا ہم سفر بنے جارہا تھا۔ ماہم نے کپکپاتی ہوئے قبول کیا تھا۔
“قبول ہے”
مولوی صاحب کے بعد داریاں کی طرف پلٹے تھے۔ اور نکاح کے کلمات بولنا شروع کیے تھے۔
“داریاں خانزادہ ولد حسن خانزادہ اپکا نکاح ماہم راجپوت ولد جبران راجپوت کے ساتھ حق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟”
“قبول ہے”
“قبول ہے”
“قبول ہے”
“داریاں کی جلد بازی پر سبھی مسکرا دیے تھے۔سبھی لوگوں نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تھے۔سب نے ڈھیروں دعائیں دیں تھیں۔ ماہم اور داریان کی رخصتی کل ولیمے ولے دن تہے پائی تھی۔”
کچھ وقت بعد رخصتی کا شور اُٹھا تھا۔سبھی گھر والے اُداس تھے۔ سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم کی آنکھیں نم تھیں۔مانو اور پری سب کے گلے لگ کر خوب روئے تھے۔ ان دونوں کو روتا دیکھ ایشو بھی روئی تھی۔گاڑی میں سب بیٹھ کر اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کر چکے تھے۔
جاری ہے۔
