Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 28)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

کافی وقت گزر چکا تھا۔ جب وہ فریش ہوکر واپس کمرے میں آیا، تو انمول کو اُسی حال میں زمین پر بیٹھا ہوا دیکھ اُس سنگ دل کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔اُس معصوم نے اپنے منہ سے ایک لفظ تک ادا نہ کیا تھا۔زبان خاموش تھی۔ مگر آنکھوں سے درد کے آنسو بے رواں تھے۔

“او میڈم اُٹھو اور اپنا یہ رونا دھونا اُٹھاو، مجھے سونا ہے”

ازلان کوفت سے بولا تھا۔انمول نے آنکھیں اُٹھا کر سامنے دیکھا، جہاں ازلان اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے، کچھ پل ساکت ہوا تھا۔ مگر فوراً ہی اپنی آنکھوں کا زاویہ بدلا تھا۔ کچھ تھا جس سے ازلان انمول کی آنکھوں میں دیکھنے سے کترا رہا تھا۔ انمول بے لچک انداز میں اپنے وجود کو گھسیٹا تھا۔ الماری سے اپنا سوٹ لیتی باتھ کی جانب بڑھی تھی۔ کچھ وقت میں وہ سفید رنگ کے سادہ سے فراک میں واپس لوئی تھی۔

اپنی بربادی کا لال سوٹ الماری میں پہنکا تھا۔ اور بیڈ سے تکیہ لیتی صوفے کی طرف بڑھی۔ سامنے وہ دشمن جان نیند کی وادیوں میں کھو چکا تھا۔وہ خاموشی سے صوفے پر لیٹ گی تھی۔آنکھوں میں آنسو سوکھ چکے تھے۔خالی تھیں وہ سر سبز شاداب آنکھیں، ویران تھا وہ خوبصورت چہرہ، سبز انکھوں میں کچھ دیر پہلے ڈھیروں خواب تھے، ارمان تھے ، حسرتیں چمک رہیں تھیں۔مگر اب وہ خالی تھیں۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

بہت گہری تھی رات ——- لیکن ہم سوئے نہیں

درد بھی بہت تھا دل میں — مگر ہم روئے نہیں

کوئی نہیں ہمارا جو ——- پوچھے ہم سے بھی

جاگ رہے ہو کس لئے اور کس لئے سوئے نہیں

🖤
🖤
🖤

سورج کی چمکتی روشنی سے نئے دن کا آغاز ہوا تھا۔ہر طرف پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں تھیں۔ ترو تازہ ہوا سے سر سبز شاداب پھول،درخت، لہرا رہے تھے۔ ہر سوں پر سکون ماحول تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچے رو رو کر سکول جارہے تھے، اور کچھ بچے کھلاکھلاتے سکول کی طرف گامزن تھے۔

یہ اسلام آباد کے مشہور پاک پبلک سکول کا منظر تھا۔ جہاں صبح سویرے اسمبلی ہو رہی تھی۔ بچے بلکل سیدھے کھڑے قومی ترانہ پڑھ رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے چہروں پر نور تھا، سکون تھا۔ بچوں کے قریب ہی ان کے اساتذہ کھڑے تھے۔ نئے دن کا آغاز خوبصورت سا تھا۔

پلک ہی جھپکی تھی، ایک زوردار دھماکے ہوا تھا، کہ سب کچھ تباہ برباد ہو چکا تھا۔ کئی پلکیں وہیں سکت ہوئیں تھیں۔مگر کچھ پلکیں درد کی شدت سے لرز رہیں تھیں۔ ایک پل کو چار سوں سکوت چھا گیا تھا۔کچھ ہی دیر میں اس پرُسکون ماحول میں وحشت ناک چیخیں تھیں، خون کی ندیاں بہیں تھیں، جسم کی چیتھڑے ہوئے پڑے تھے، جانے کتنی تعداد میں خون میں لت پت لاشیں بکھیریں تھیں۔

بلکہ یہ کہنا بہتر تھا، لاشوں کے ڈھیر تھے۔ چھوٹے چھوٹے روتے، کھلاکھلاتے بچوں کی معصوم سی آنکھیں بند تھیں۔اور بند آنکھوں سے ہی ایک قطرہ نکلا تھا،آنسو کا، ہونٹوں سے سسکیاں آزاد ہوئیں تھیں، آج کئی ماؤں کی جھولیاں اُجڑیں تھیں، سکول کے باہر تین سائے کھڑے تھے، ملک کے مارخور کھڑے تھے،مگر آج ان کو ہار ہوئی تھی۔زندگی میں پہلی ہار ان کا سر جھکا تھا۔وطن کے غدار آج جیتے تھے۔ اج ایس وی نے بازی جیتی تھی۔

تینوں سائے واپس پیچھے کی طرف پلٹے تھے، صرف کچھ منٹ پہلے ان کو ساری اطلاع ملی تھی، مگر جس کو یہ کام دیا گیا تھا، ان کی ایک لاپرواہی کی وجہ سے سب کچھ برباد ہوا تھا۔ہر عمل کی سزا ہوتی ہے،یقینً جس کی غفلت تھی۔اس کو سزا تو ملنی تھی،

🖤
🖤
🖤

صبح بارہ بجے جب ایشعال کی آنکھ کھلی تو خود کو علیان کے حصار میں پایا، رات کے سارے خوبصورت سے پل آنکھوں میں جھلکے تھے۔تو چہرے پر شرمگین سی مسکراہٹ پھل گی تھی۔خود پر سے علیان کی کسرتی بازو ہٹانی چاہی، مگر اس کو ہلا تک نہ پائی تھی۔زور سے پچھے دھکیلنے سے گرفت مزید مضبوط ہوگی۔تو ایشو نے دھکیلنا چھوڑ دیا، کیوں کہ علیان جان بوجھ کے اس کو تنگ کر رہا تھا۔بظاہر تو اس کی آنکھیں بند تھیں، مگر وہ کب سے جاگ چکا تھا۔اور ایشعال کو صرف تنگ کرنے کا ارادہ رکھتا،

“علی۔۔!!” ایشعال نے تنگ ہوتے علیان کو پکارا تھا ۔ ایشعال کی پکار پر علیان کے لب پھلے تھے۔”جی جانِ علی” علیان ایشعال کی ساری مزاحمت کو ایک طرف کرتا اس پر حاوی ہوا تھا۔جس پر ایشعال کی ڈھڑکنیں منتشر ہوئیں تھیں۔

“علی پپ پلیز چھوڑیں ” ایشعال کی آنکھیں جھکیں تھیں۔تو علیان کے لبوں پر معنی خیزی والی مسکراہٹ پھلی تھی۔

” ہائے کون کمبخت اپنی اتنی خوبصورت سی بیوی کو چھوڑ سکتا ہے۔بھئی میں تو چھوڑنے سے رہا، ہاں اگر چپکنے کو کہتی ہو، تو ببل گم کی طرح چپکے جاتا ہوں، مگر چھوڑنا امپاسیبل ہے”

علی کے بے باک انداز پر ایشعال سلگ اُٹھی تھی،آئی برو اچکا کے آنکھیں دکھائیں تھیں، مگر سامنے سے علیان نے بھی ٹھرک پن میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ایشعال کی گھوری کو کھاتے میں نہ لاتے ہوئے علیان ایشعال کے لبوں پر جھکا تھا۔ اور کچھ دیر اس کی سانسیں اپنے اندر انڈیلنے لگا۔ پھر کچھ دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد دور ہوا تھا۔ایشعال کانپتی ہوئی بیڈ سے اُٹھی، اپنی سانسیں ہموار کرتی باتھ روم کی جانب بھاگی تھی۔ پیچھے علیان کا فلکشگاف قہقہ گونجا تھا۔

علیان کی توجہ اس کے موبائل فون کی جانب ہوئی تھی۔ جہاں کسی نمبر سے ڈھیروں میسج اور کالز آئیں تھیں۔ علیان کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔تو علی نے اُسی نمبر پر دوبارہ کال کی مگر نمبر بند جارہا تھا۔کئی کال کرنے کے بعد کسی کو میسج کیا اور موبائل فون بیڈ پر پھنکتا الماری سے اپنے کپڑے نکلنے چلا گیا۔ایشعال فریش ہو کر ائی تو علیان جلدی سے فریش ہونے چلا گیا۔جس کا چہرے حد درجہ سنجیدہ تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

پریہان جب جاگی تو احمر کمرے میں نہیں تھا۔تو وہ اُٹھی اور فریش ہونے چلی گی۔فریش ہوکر نیچے حال کی طرف گی تھی۔پریہان کو ایشعال ملی جو کہ روئی روئی لگ رہی تھی۔پریہان ایشعال کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی۔پریہان نے پہلے سعدیہ بیگم سے سوال کیا تھا،جن کی آنکھیں نم تھیں۔

“کیا ہوا ہے، خالہ جانی۔۔!! ” تو سعدیہ بیگم نےنفی میں سرہلایا تھا۔” کیا ہوا ایشعال کیوں اتنی پریشان ہو” تو ایشعال نے سکول میں ہوا واقعہ مختصر سا پریہان کو بتایا تھا۔ جس کو سننے کے بعد پریہان کی آنکھیں بھی جھلملائیں تھیں۔ ” پریہان بچے ایشعال کو کمرے میں لے جاو، آرام کرے گی تو ریلیکس ہوگی”۔ سعدیہ بیگم کی نم آواز گونجی تھی۔تو پریہان نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

بار بار بجتے فون کی ارتعاش سے، اس کی نیند میں خلل پڑا تھا۔نیند کی گولی کی وجہ سے وہ آج دیر تک سوئی تھی۔ فون کی سکرین پر داریاں کا نام چمک رہا تھا۔ ماہم نے فون اٹھاتے کان سے لگایا تھا۔

“اسلام وعلیکم داریاں!”

ماہم کی آواز بلکل ہلکی سی گونجی تھی۔وجہ کل کا ہوا واقعہ جس سے اُس کا گلا خراب ہوا تھا، اور اس کے دماغ پر گہرا اثر چھوڑا تھا، آواز حلق سے نہیں نکل رہی تھی۔

” ماہم جلد سے جلد ہاسپٹل پہنچو “داریاں نے ماہم کو سکول میں ہوا واقعہ مختصر سا بتایا تھا، ماہم کا تو دماغ ہی گھوم کے رہے گیا تھا۔ اس نے فون بیڈ پر اچھالتے جلدی سے ہاسپٹل جانے کی تیاری کی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

” ارجنٹ میٹنگ ان ہیڈ کوارٹرز ” ہر ایجنٹ کو میسج موصول ہوا تھا۔

🖤
🖤

” غفار آج تم نے میرا دل خوش کر دیا بتاؤ کیا انعام چاہیے”

سنیک ونم (ایس-وی)اپنے اندر حرم مشروب انڈیلتے ہوئے پوچھا تھا۔ باہوں میں ایک خوبصورت نازک وجود بیٹھا سگریٹ پھونکتے میں مصروف تھا۔

“چلو غفار اگلے ہفتے کی ٹکٹ کروا ہم دونوں نے کافی وقت سے دوبئی کا چکر نہیں لگایا۔ پھر آخر کو میرے نازک کندھوں پر اس خستہ حال ملک کا بوجھ آنے والا ہے۔لیکن جانے سے پہلے ایک مرتبہ اُس سے ملنا ہے، آخر کو میرا ہی خون ہے، سنا تھا، کچھ وقت پہلے ہسپتال میں داخل تھا، چلو اسی بہانے کچھ ثواب کا کام ہوجائے گا،مریض کی عیادت کرنے چلتے ہیں”

اپنی بات کے آخر میں ایس-وی نے مغروریت بھرا قہقہ لگایا تھا۔”اوکے سر آپ کا کام ہوجائے گا” غفار نے سر جھکائے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔

🖤
🖤
🖤

مصطفٰی صاحب نے ولیمہ پوسٹ پون کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سکول میں ہونے والے واقعے نے سب کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔نیوز دیکھ کر کلثوم بیگم کی طبیعت بگڑی تھی۔نیوز میں بار بار چھوٹے چھوٹے پانچ سے دس سالہ بچوں کی تصویریں دیکھائی جارہیں تھیں۔

خون میں لت پت معصوم سی جانیں قربان ہوئیں تھیں۔اس وطن پر ، مائیں بچوں کے کفن میں لپٹے وجود کو سینے سے لگا لگا کر رو رہیں تھیں، اور یہ سب کروانے والوں کو بد دعائیں دے رہیں تھیں۔ ان کے لخت جگر کفن میں لپٹے ساکت تھے۔ نا کوئی ضد، نا کوئی کلکاری، ناکوئی فرمائش، وہ تو سکون سے اپنے ماں باپ کو بے سکون کر چلے گے تھے۔ان کی زندگیاں اُجڑ چکیں تھیں۔

ہماری خاک سے خوشبو وطن کی آے گی.!!

ہمارا خون اسِ مٹی کے رنگ میں شامل ہے.!!

‏وہ کہتا تھا۔

“میں جیت گیا تو میری قوم جیت جائے گی، اگر ہار گیا تو میرے پاس ہارنے کو ہے ہی کیا؟”.

وہ نہیں ہارا پاکستان ہار گیا

“۔Today is the Dark day of Pakistan”

ساری خوشیاں ملا کے دیکھی میں نے

‏تیرے جانے کا دکھ سب سے زیادہ نکلا

‏ساری ضربیں تقسیمں کر کے دیکھی

‏میرا کل اثاثہ پھر بھی صرف تو نکلا

(ماؤں کی آواز)

🖤
🖤
🖤
🖤

انمول صبح سویرے اُٹھی تھی،یا یوں کہنا بہتر ہوگا، کہ اس کو رات بھر نیند ہی نہیں آئی تھی، گھر والے سو رہے تھے۔ تو اس نے اپنے لیے چائے بنائی اور حال میں ہی سب کا انتظار کرنے لگی۔کیوں کمرے میں گھٹن سی محسوس ہورہی تھی۔

کارٹون دیکھنے کے لیے جیسے ہی ٹی وی چلایا، تو سانس سینے میں ہی اٹک گی تھی،کچھ ہی دیر میں ابراہیم صاحب اور حسن صاحب جاگے تھے۔پریشانی کے عالم میں باہر آئے تو انمول کو نیوز دیکھتے ہوئے دیکھا،انمول تو اتنی روئے جاری تھی۔کہ اس کی ہچکیاں بندھ چکیں تھیں۔کلثوم بیگم اور دانیہ بیگم بھی حال میں آگیں تھیں۔ان کی بھی حالت انمول سے مختلف نہ تھی۔ داریاں تو کب کا گھر سے جاچکا تھا۔

کہ ازلان اچانک جلدی میں کمرے سے نکلا اور دانیہ بیگم کو مخاطب کیا ” مما میرے ایک دوست کی طبیعت خراب ہے، میں ابھی جارہا ہوں” ان کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ ازلان کو جواب دیتیں۔انہوں نے سر اثبات میں ہلا کر جواب دیا تھا۔ تو ازلان جلدی میں اپنی گاڑی لیتا نکل گیا۔ انمول کی آنکھوں رونے سے سرخ انگارا ہورہیں تھیں۔ تو ابراہیم صاحب نے انمول کو آرام کرنے کے لیے بھج دیا۔انمول کمرے میں آئی، چہرہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔کوئی تاثر نہیں تھا،اس کی سرخ آنکھوں سے پراسراریت سی محسوس ہورہی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

سورج کی روشنی میں بھی بلیک ہاوس تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا۔ آج پہلی بار ملک کے مارخوروں کو انکی غفلت کی سزا ملنی تھی۔آخر انہوں نے چھوٹی موٹی غلطی نہ کی تھی،کہ ان کو معاف کر دیا جاتا۔ہر غلطی کے بدلے گہری سزا ملنی تھی۔

اس وقت چار ایجنٹس اپنے مخصوص حلیے میں موجود تھے۔اگر موجود نہ تھا تو صرف وہ نہ تھا اور اس کے دو ساتھی نہ تھے،وہ کیا تھا،جس کو چیخیں سن کے سکون ملتا ،جس کو اپنا شکار تڑپتا ، پھڑپھڑاتا دیکھ بہت مسرور محسوس ہوتا، وہ تھا ٹاکسک کلیر ، کیوں کہ وہ شدید غصے میں تھا۔

ہر ایجنٹ بلیک ہاوس کو دیکھنے میں گم تھا ،جس کی ہر چیز بڑی نفاست سے سیٹ کی گی تھی۔ گھر کی چیزیں نہ سیاہ تھیں، نہ سفید تھیں، وہ رنگ مختلف تھا، اس کی پسند عجیب تھی،وہ رنگ سرمئی تھا۔چاروں ایجنٹ ستائش بھری نظروں سے محل نما گھر کو دیکھ رہے تھے۔کہ سامنے کمرے کا دروازہ کھلا تھا، ادھیڑ عمر شخص چلتا ہوا ان کے سامنے ایا تھا۔ سبھی ایجنٹس کی توجہ اس شخص کی جانب ہوئی تھی۔سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں شدید غصہ چھایا تھا، چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔

“ڈئیر ایجنٹس۔۔!! مجھے آپ سب سے ایسی نا اہلی کی ہرگز امید نہیں تھی،ایک غلطی فقط ایک غلطی کی وجہ سے آج یہ حادثہ پیش آیا۔ڈیول تمہاری ذمہ داری تھی،مگر تم نے کیا کیا، مجھ سے اب کسی بھی قسم کی سپوڑٹ کی امید مت رکھنا،کیوں کہ کیلر تو غلطی کی سزا خود کو بھی دیتا ہے، باقی وہ تم سب کو بھی سزا دے گا، اُس کا جنون ہے یہ وطن ،عشق ہے اُس کو اپنے وطن سے، اپنے وطن کی خاک سے، اس کے جسم کے خون کا ایک ایک قطرہ اپنے وطن سے محبت کی گواہی دیتا ہے۔میرے اسرا پر اس نے اپنی ٹیم میں تم چاروں کو شامل کیا تھا۔ مگر تم چاروں نے مجھے بہت مایوس کیا ہے،” وہ شخص بول کر خاموش ہوا تھا۔تو ڈیول کنگ آگے بڑھا تھا۔

“برگیڈیر وارث صاحب۔۔!! ہم اپنی غلطی کو ُسدھر لیں گے، مگر جب سے ہمارے درمیان میں آپ نے کچھ غداروں کو شامل کیا ہے، ہماری ٹیم کھوکھلی ہوگی ہے، ہر خبر دشمنوں تک پہنچ جاتی ہے، کیوں، کیسے، ظاہر ہے کوئی ہماری انفارمیشن لیک کر رہا ہے۔”

ڈیول نے اپنے سامنے کھڑے ایول مونسٹر پر طنز کیا تھا۔

” بکواس بند کرو اپنی ” ایول مونسٹر غصے سے غرایا تھا۔

“دیکھا سر چوری پکڑی جانے پر کیسے بوکھلا گیا ہے” ڈیول کنگ نے ایک بار پھر طنز کا وار کیا، کہ اب ایول مونسٹر سے برداشت نہ ہوا تھا، اور آگے بڑھ کر دو گھونسے ڈیول کینگ کے منہ پر جڑ دیے تھے۔

جس سے ڈیول کنگ کو تو کچھ نہ ہوا تھا۔ مگر سر سے اس کی ہیٹ گر گیا تھا، نیلی سرد آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔ ڈیول نے نہ او دیکھا نہ تاو دیکھا سامنے کھڑے شخص پر ٹوٹ پڑا تھا۔ دونوں میں اچھی خاصی لڑائی ہو رہی تھی۔ ریبل اور سپائے ہیکر دونوں کو روکنے کے لیے بڑھ ہی رہے تھے۔ کہ سامنے سے وارث نے روک دیا تھا۔ کیوں کہ ڈیول کو سمجھانا بے کار تھا، اور ایول کو اس وقت روکنا مشکل تھا۔

ڈیول کنگ نے ہر بار ایول مونسٹر کے چہرے کو نشانہ بنایا تھا، اور آخر کار اس کے چہرے سے نقاب اتار چکا تھا۔ اس کی سیاہ چمکتی آنکھوں دیکھ کر تینوں کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ ” تم ” دونوں ایک ساتھ بولے تھے۔ازلان اور سالار دونوں ایک دوسرے دیکھ کر تھمے تھے۔ ریبل اور سپائے ہیکر کو بھی جھٹکا لگا تھا۔ “سالار ایول مونسٹر جو کہ ایک سفاک گینگسٹر کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ تم ہو “ریبل یعنی علیان حیرانی کے عالم میں بولا تھا، ساتھ کھڑے سپائے ہیکر نے بھی اپنے چہرے سے ماسک اُتارا تھا، جو کہ کوئی اور نہیں بلکہ احمر تھا۔

چاروں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے میں تھے، کہ ایک زوردار ڈھاڑا سے ان کا سکتا ٹوٹا تھا۔چاروں نے وارث صاحب کی طرف دیکھا تھا، تو سامنے ہٹے تھے،ان کے سامنے وہ کروفر سے چلتا آرہا تھا۔ ہاتھ میں سفید رنگ کے شیر کی زنجیر تھامے، ہر سوں پراسراریت پھلائے مضبوط قدم لیتا انکی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے پیچھے اس کے دو ساتھی تھی،آج بھی وہ تینوں گہری کالی رات مانند ہر سوں خوف پھلا رہے تھے۔

حال میں موجود سرمائی رنگ کی شاہی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے دونوں ساتھی شاہی کرسی کے دائیں اور بائیں جانب رکھی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ کیوں کہ یہاں آج ایک بڑا دلچسپ کھیل کھلا جانا تھا۔کیلر نے ہاتھ کے اشارے سے وارث صاحب کو اپنے سامنے بیٹھنے کو کہا تھا۔ اور ہاتھ میں پکڑے شیر کی زنجیر کو زمین پر پھنکا ، اور ساتھ ہی گلے سے زنجیر کو کھولا تھا، آزاد ہونے پر شیر ایک پھر دھاڑا تھا،

وہ چاروں ہوش کی دنیا میں آئے تھے۔ کیلر اپنے کالے کوٹ میں سے اپنا چاقو نکل کر میز پر دو بار ٹکرایا تھا۔ جس کو سمجھتے شیر نے اپنے لبوں پر زبان پھری تھی، اور اپنے قدم ان چاروں کی طرف بڑھا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے شیرو ان پر جھبٹا تھا۔ مگر ڈیول اور ایول بیک وقت وہاں سے ہٹے تھے۔شیر اب ریبل اور سپائے ہیکر کی طرف بڑھ رہا تھا، ریبل نے اپنی گن اور سپائے ہیکر نے اپنا الیکٹرک لائٹر نکالا تھا۔ مگر شیر نے چھلانگ لگاتے ہوئے ایول مونسٹر پر حملہ کیا تھا۔ اور اس کی گردن زخمی کی تھی،اسی دوران ایک ڈیول کینگ نے موقع پاتے شیر پر گولی چلانی چاہی مگر اس سے پہلے ہی اس کے ہاتھ پر گولی لگی تھی،

جس سے اس کی پسٹل نیچے جاگری تھی۔ سب نے پلٹ کر اپنے پیچھے دیکھا تھا، جہاں وہ اپنے ایک ہاتھ میں چاقو پکڑے گما رہا تھا۔اور دوسرے ہاتھ سے وہ فائر کر چکا تھا،بنا دیکھے،اس نے ڈیول کے ہاتھ پر وار کیا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا،غلطی کرنے والے کو بد سے بد تر سزا دیتا، آج بھی ایسی ہی سزا ہی ملنی تھی،کیلر نے دوبارہ اپنا چاقو میز پر پٹخا تھا، جس کو سمجھتے شیرو واپس اپنی جگہ پر آیا تھا۔اور بیٹھ گیا تھا۔ کیلر نے اپنے ساتھی کولڈ فائر کو اشارہ کیا تھا۔جس کو سمجھتے ہوئے، اس نے چار کرسیاں حال کے درمیان میں رکھیں تھیں۔ وارث صاحب نے سب کو کرسیوں پر بیٹھنے کو کہا تھا۔

جس پر وہ چاروں ڈیول، ایول، ریبل اور سپائے ہیکر، چاروں کرسیوں پر بیٹھے تھے، ہنٹر نے اپنے کوٹ کی جیب سے چاروں کا نشانہ لیتے چھوٹے چھوٹے تیر پھنکے تھے، جو سوئی کی مانند چاروں کے سینوں میں پیوست ہوئے تھے۔کیلر نے اپنا ہاتھ اوپر کرتے گنتی شروع کی تھی، پانچ، چار ، جیسے جیسے کیلر کی انگلیاں مڑ رہیں تھیں، ویسے ویسے چاروں کی وجود جمتے جارہے تھے۔تین، دو، ایک، پورے پانچ سیکنڈ میں وہ چاروں ایک ہی جگہ جم چکے تھے، جسم میں خون لاوے کی طرح ابل رہا تھا، صرف آنکھیں ہی تھیں، جو حرکت کر رہیں تھیں، مگر جسم ساکت تھا،چاروں پھڑپھڑانا چاہتے تھے،مگر بے سود تھا۔

اس کے بعد کیلر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے اس کے ساتھی بھی کھڑے ہوئے تھے، کیلر نے ان چاروں کی گرد بڑی پراسراریت سے چکر لگایا تھا، اس کے کلون کی خوشبو سے بھی اُس ہی کی طرح پراسراریت سی محسوس ہوئی تھی،کیلر نے فائر کو دو انگلیوں کے اشارے سے اپنے پاس بلایا تھا، فائر نے اپنے لانگ کوٹ کی جیب سے دو باکس نکالے تھے۔ اور کیلر کے سامنے کھول کر پیش کیے تھے۔ اس کے پسندیدہ ہتھیار سبز اور پیلے رنگ کے بچھو، کیلر نے چاروں کے ہاتھوں پر بچھو رکھ دیے تھے۔ ایک ہاتھ پر سبز رنگ کا،تو دوسرے ہاتھ پر پیلے رنگ کا بچھو رکھا تھا۔ جیسے ہی بچھو رکھے، ویسے ہی فورن سے بچھوں نے ڈنک مارنا شروع کر دیا تھا۔ چاروں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی بوندیں چمکنے لگیں تھیں، جسم کی اندر دوڑتا ہوا خون کسی زہر کی مانند جسم کو جلا رہا تھا، اور باہر بچھوؤں کی ڈنک رہی سہی کسر پوری کر رہے تھے۔

کیلر نے اپنی جیب دو چھوٹے چاقو نکالے تھے۔ اور بڑی سفاکی سے اپنے ہی ساتھیوں کی کندھوں میں پیوست کیے تھے۔ کیلر کے وار پر وہ دونوں اپنے دوسرے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ضبط کر گے تھے، جھٹکے سے دونوں چاقو واپس نکالے تھے۔ اور دونوں اپنے ساتھیوں کے سامنے پیش کیے تھے،آخر کو وہ بھی اپنے محبوب وطن کا عاشق تھا ، پاگل سا عاشق سزا سب کو ملی تھی، تو وہ کیوں پیچھے رہتا، اس کی ساتھیوں کی ہاتھ ہولے سے لرزے تھے، ایک درد کی شدت سے اور دوسرا اپنے سر پھرے ساتھی کے لیے جو ان کو چاقو سے وار کرنے کو کہے رہا تھا، لرزتے ہاتھوں سے فائر اور ہنٹر نے وہ چاقو تھامے تھے، اور کلیر کے اشارے پر ایک ہی جھٹکے سے کیلر کے دونوں بازوں میں پیوست کیے تھے، سامنے بیٹھے چاروں ایجنٹس ششدر سے اس سائیکو کی حرکت دیکھ رہے تھے۔

جس نے اپنے ساتھیوں سمیت سب کو سزا دی تھی، ہنٹر اور فائر کو گہرے کٹ نہ لگے تھے، جب کی کلیر کی بازوں میں پیوست ہوئے چاقوں نے گہرا زخم چھوڑا تھا، کیلر نے اپنے دائیں بازو کا چاقو بائیں ہاتھ سے نکالا تھا، اور بائیں ہاتھ کا چاقو دائیں ہاتھ سے نکالا تھا، خون کی بوندیں سفید رنگ کے فرش کو سرخ رنگ میں رنگ رہیں تھیں۔ وہ بڑے کروفر سے چلتا ان چاروں ایجنٹس کے قریب ایا تھا، اس نے اپنے بچھوں کو واپس ڈبے میں رکھا تھا اور وہ ڈبا فائر کو دیا تھا۔ آگے بڑھ کر کیلر نے اپنے شیرو کی زنجیر تھامی اور اپنے ساتھیوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ واپس اُسی کمرے کی جانب پلٹ گیا تھا۔جہاں سے وہ آیا تھا،پچھے بیٹھے چاروں نفوسوں کے ہاتھ، پاؤں حرکت دینے لگے تھے، جسم میں چبھے پن کے زہر کا اثر ختم ہونے لگا تھا، وارث صاحب وہیں کے وہیں بیٹھے تھے۔آدھے گھنٹے بعد چاروں پر سے زہر کا اثر ختم ہوا تھا۔چاروں پسینے شربو تھے۔وارث صاحب اٹھ کر چاروں کے قریب آئے تھے۔اور چاروں کو مخاطب کیا تھا۔

” تم چاروں کی پہلی اور آخری غلطی تھی، جس کی چھوٹی سی سزا دی ہے، اگر دوبارہ غلطی سے بھی غلطی ہوئی، تو اس کی سزا صرف موت ہے، موت ” وہ بول کر دروازے کی جانب بڑھ گے تھے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *