Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 22)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 22)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
لگا کر عشق کی بازی سنا ہے روٹھ بیٹھے ہو۔۔۔۔![]()
محبت مار ڈالے گی ابھی تم پھول جیسے ہو۔۔۔۔۔ ![]()
مصطفٰی صاحب کے بتائے گئے،ماضی کہ فیصلے نے سب پر حیرت کے آسمان توڑے تھے۔ سبھی کو اپنا آپ زلزلوں کی زد آتا محسوس ہوا تھا۔ ہال میں موجود ہر نفوس کی چہرے پر سنجیدگی تاری تھی۔ہر شخص خاموش تھا۔گہراخاموش،مگر اس خاموشی میں کسی کی درد ناک چیخیں تھیں،تو کسی کے خوشی سے قہقہے۔قسمت نے بھی کیا کھیل کھلا تھا، کوئی دل ہی دل میں اپنی قسمت پر رشک کر رہا تھا، تو کوئی دل ہی دل میں اپنی بربادی کا سوگ منا رہا تھا۔جبران صاحب کی آواز نے اس گہری خاموشی کو توڑا تھا۔
“علیان بیٹا ! ایشعال تمہارے نکاح میں ہے، تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔؟” جبران صاحب نے نہایت ہی سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔ ” کیسی بات کر رہیں بابا۔۔۔!!! آپ سب نے فیصلہ کیا ہے۔مجھے بھلا کیا اعتراض ہونا ہے۔اور ایشعال میری کزن ہے،اس سے اچھی لڑکی میرے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔”
علیان نے ایشعال پر نظریں جماتے ہوئے کہا تھا۔مگر ایشو تو علی کے نام پر ہی بلش کرنے لگی تھی۔علی کے چہرے پر چھائی ہلکی مسکراہٹ نے جبران صاحب کی پریشانی کو کچھ کم کیا تھا۔اب کی بار جبران صاحب نے احمر کو مخاطب کیا تھا۔
” احمر بیٹا آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں۔۔۔؟” نو بابا جانی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے،”احمر نے پریہان کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تھا۔جس پر پریہان تھوڑی گھبرا سی گی تھی۔
“اماں جان ! آپ ایشعال اور پریہان کو چنری اُڑ دیں۔” سعدیہ بیگم نے اپنی ساس کو کہتے ہوئے، دو خوبصورت سی لال چنریاں دیں تھیں۔
“مگر بہو پہلے بچیوں سے تو پوچھ لو” ابراہیم صاحب کی بات سنتے ہی دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم نے پری اور ایشو کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے پوچھا تھا۔ جس پر دونوں نے گھبراتے شرماتے ہوئے مثبت جواب دیا تھا۔



عشق سے عشق کی روح داد نا پوچھے کوئی،
اشک آنکھوں میں اُٹھا کر وہ گرا دیتا ہے،
جب پوچھا ہے کہ انجامِ محبت کیا ہے،
دل بناتا ہے وہ پھر دل کو مٹا دیتا ہے،
سالار جو آج انمول کو ہمیشہ کے لیے،اپنا بنانے کے غرض سے انگوٹھی لایا تھا۔اُس کا کسی اور کہ نکاح میں ہونا،اس کو کرچی کرچی کر کے توڑ گیا تھا،وہ مرے مرے قدم لیتا راجپوت ہاؤس سے باہر کی جانب نکل گیا تھا۔دل میں درد سا اُٹھا تھا،اذیت کا خنجر اُس کے دل کو مسلسل چیر رہا تھا۔وہ بمشکل اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تھا۔آنکھوں سے درد کا لاوا بہے چکا تھا۔ اس کا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔آنکھیں سرخ انگارا تھیں۔
محبت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیں،
محبت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیں،
کہ جن کو دل میں رکھتے،
وہی دل توڑ جاتے ہیں،
کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں،
وہی دل توڑ جاتے ہیں،
محبت کہ کہانی میں،
کہاں یہ موڑ آتے ہیں،
کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں،
وہی دل توڑ جاتے ہیں،
وہ درد کہ عالم میں کیسے گاڑی چلا رہا تھا، اس کو کوئی ہوش نہیں تھا۔ شدید سردی میں موسم کہ تیور بدل رہے تھے۔ شاید بادل بھی سالار کہ دردِ دل کو محسوس کر کے رونا چاہتے تھے۔ خوب برسنا چاہتے تھے۔” اہہہ!!!!!! “وہ حلق کے بل چیخا تھا۔اُس کی چیخ میں کیا کچھ نا تھا، بےبسی، محبت کی اذیت،محبت کی پیاس، تڑپ۔۔۔
“کیا گناہ ہوا ہے مجھ سے،کوئی مجھے بتاؤ،کیا غلطی ہوئی ہے،” وہ گاڑی سے باہر نکلتے سنسان سڑک پر چیختے ہوئے بولا تھا۔بادلوں نے تیز بارش برسانا شروع کی تھی۔ روتے ہوئے وہ زمین بیٹھتا چلا گیا۔
تمہارا نام لے لے کر،
تڑپنا کیا،
سلگنا کیا،
تمہارا نام لے لے کر،
تڑپنا کیا،
سلگنا کیا،
محبت تم جو ہوجاو،
تو ملنا کیا بچھڑنا کیا،
یہ کیا کہ تم بناتی ہو،
بنا کر تم مٹاتی ہو،
جگر کا خون پیتی ہو،
دلوں کا ماس کھاتی ہو،
یہی ہیں چونچلے تیرے،
جو محفل چھوڑ جاتے ہیں،
اج وہ اپنی لاحاصل محبت پر ماتم کر رہا تھا۔ اس کو جینے کی کوئی خواہش نہ تھی۔مگر اُس لڑکی کے زندگی میں آجانے کہ بعد سالار نے زندگی کی خوشیوں کو محسوس کیا تھا۔زندگی کو غمِ سیاہ کہنے والا وہ شخص، اس لڑکی کے زندگی میں آجانے کے بعد دھنک کی خوبصورت رنگینیوں میں کہیں خوش سا رہنے لگا تھا۔
کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں،
وہی دل توڑ جاتے ہیں،
چلو ہم پاس رکھ لیں گے،
تیری باتیں،
تیری یادیں،
محبت تیرے صدقے میں،
یہی ملتی ہیں سوغاتیں،
ہنسیں گے دل سے مل کر،
ہم گلے دل کو لگائے گے،
وہ خوبرو نوجوان، اس وقت ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی مانند بکھر چکا تھا۔وہ رنج و غم کے عالم میں،اپنے رب ہمکلام تھا۔
“اے میرے پروردگار مجھ میں کیا کمی تھی۔جو میری قسمت میں خوشیاں حرام لکھ دیں۔ایسا کیوں کیا، میرے اللہ ! وہ لڑکی میرا عشق تھی،میرے جینے کی وجہ، کیوں چھنی مجھ سے میرے جینے کی وجہ۔۔۔؟”
سالار ایک بھکاری کی طرح اپنی لاحاصل محبت کی بھیک مانگ رہا تھا۔پل بھر میں سالار کی حالت بگڑ چکی تھی۔ “مجھے سے میرا سب کچھ تو چھن لیا، پہلے مجھے سے بہت پیار کرنے والی ماں چھنی،پھر میرے بچپن کا دوست میرا بھائی چھنا،اب مجھ سے میری محبت چھن لی،”آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے تھے۔
“کیوں اخر کیوں۔۔۔!!”
تجھے ہم یاد کر لیں،
تجھے ہم بھول جائیں گے،
چلو منزل سے پہلے ہم،
یہ راستہ موڑ جاتے ہیں،
کہ جن کو دل میں رکھتے،
وہی دل توڑ جاتے ہیں،
سالار سسک رہا تھا، رونے کی وجہ سے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کہیں دب سے گے تھے۔ مگر پھر بھی وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔ وہاں کوئی ذی روح موجود نہ تھی، جو اس کو جواب دیتی، سینے میں درد بڑھتا جارہا تھا۔ارے کوئی اس سے پوچھے محبت چھن جانے کا غم، تو وہ خوبرو نوجوان ڈھڑیں مار کر بتائے گا، زندگی میں زندگی کو کھونا کیسا ہوتا ہے، سالار اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے،ایک طرف کو گرا تھا۔ شاید اُس کے سکون کا وقت اچکا تھا۔ شاید اُس کی زخمی روح کو ہر اذیت سے نجات حاصل ہونی تھی۔تیز بارش میں وہ زمین پڑا تھا، بےیار و مددگار۔۔۔



راجپوت فیملی اور خانزادہ فیملی پری اور ایشو کی ہامی پر ازلان اور انمول کی موجودگی کو سرے سے ہی فراموش کر چکے تھے۔انمول اب تک خاموش گھڑی زمین کو گھورے جارہی تھی۔اس کی زندگی پل میں کیسے بدل چکی تھی۔وہ اس ستمگر کہ نکاح میں تھی،جو اس کو دیکھنا تک برداشت نا کرتا،وہ ابھی سوچوں میں گم تھی، کہ اچانک اس ستمگر کی آواز نے اس کے سوچوں کا تسلسل توڑا تھا اور سر اُٹھا کر اُپنے دشمنِ جان کی طرف دیکھا تھا۔جس کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔علیان،احمر،پریہان،ایشعال،داریاں،مومل،نایاب،ماہم اور سبھی گھر والوں نے ازلان کہ جانب دیکھا تھا۔
“مجھے یہ نکاح نہیں منظور، ہرگز منظور نہیں، مجھے،اس چھٹانک بھر، بدتمیز، بدلحاظ لڑکی کے ساتھ پوری زندگی ہرگز منظور نہیں،” ازلان جو کب سے اپنے اُوپر ضبط کیے کھڑا تھا۔انمول کی جانب اشارہ کرتے،آخرکار بول ہی اٹھا تھا۔
“میں دو سال پہلے نایاب کو پرپوز کر چکا ہوں،اس لیے اُسی سے شادی کروں گا۔کم سے کم وہ اس کی طرح چھوٹی بچی تو نہیں ہے، وہ ایک میچور، باشعور اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔اسی لیے میں اس بد دماغ، جنگلی لڑکی کو، اس رشتے سے آزاد کرتا ہوں”
” میں انمول کو طلا۔۔۔!!! “
چٹاح۔۔!!!
ازلان ابھی آگے کچھ بولتا، اُس سے پہلے ہی حسن صاحب کا ہاتھ اُٹھا تھا،جو کہ اُس مغرور شہزادے کے رخسار کو سرخ کر گیا تھا۔ازلان کا چہرہ ایک طرف کو جھکا تھا،غصے سے آنکھیں سرخ انگارا ہوچکی تھیں،زندگی میں پڑنے والا پہلا تھپڑ تھا،وجہ وہ لڑکی تھی۔
ازلان نے ایک قہر برساتی نظر سب پر ڈالی تھی۔ اور قدم باہر کی جانب لیتے ہوئے راجپوت ہاؤس سے ہی نکل گیا۔ازلان کی بات پر سبھی گھر والے پریشان تھے۔جن چہروں پر کچھ دیر پہلے خوشی تھی۔ پل بھر میں وہ پریشانی اور دکھ میں بدل چکی تھی۔علیان اور احمر انتہائی سنجیدہ ٹھرے تھے۔
انمول نے داریاں کو اشارہ کرتے ہوئے، سب کا موڈ ٹھیک کرنے کو کہا تھا۔مگر ایک آنسو بے وفائی کرتا ہوا، انمول کی آنکھ سے چھلکا تھا۔خود پر ڈھیروں ضبط کرتے ہوے ، اس نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائی تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔ وہ ایسی ہی تھی،ہمیشہ سب کو ہنسانے والی،خوشیاں بانٹنے والی، چنچل سی لڑکی،جس کا دل خون کے آنسو روتا، اپنی تذلیل پر،مگر ہمیشہ خاموش ہوجاتی، اس مغرور ستمگر کے سامنے، لیکن اس ستمگر کو کچھ احساس تک نہ ہوتا، کہ وہ اپنی باتوں سے سامنے کھڑی نازک اندم لڑکی کا سینہ چھلنی کرتا ہے، بے وجہ کی باتوں سے۔۔
انمول نے اپنے سارے خیالات کو جھٹک کر پری اور ایشو کے پاس گی۔جھٹ سے گلے لگا لیا۔ “دادا جان اج تو اپ نے میرا دل گارڈن گارڈن کر دیا سچی،” انمول چہک کر بولی تھی۔
“میں تو ابھی تک سکتے میں تھی، کہ یہ دونوں چڑیلیں میری بھابھیاں ہیں۔ ویسے حسن انکل ! مجھے لگتا ہمارا داری بچارہ کام والی رضیہ سے ہی شادی رچائے گا۔۔؟کیوں دانیہ انٹی۔۔۔؟”
انمول نے آنکھ دباتے ہوئے، دانیہ بیگم کو مخاطب کیا تھا۔ جس سے ان کا مرجھایا ہوا، چہرہ پل میں کھلا اُٹھا تھا۔انمول کی بات پر سبھی کہ سنجیدہ اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے تھے۔
“استغفراللہ کیوں میرے پیچھے پڑی ہو۔۔” ماہم سے پوچھو، کہ کیسے پوری کالج کی لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں۔” داریاں نے اپنی شرٹ کے کالر جھاڑا تھا ،ساتھ ہی ایک سٹائل سے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے، اپنے بال سیٹ کے تھے، اور میاں مٹھو بنا کر اپنی تعریف کے پل باندھے جارہا تھا۔مگر ماہم بس کھڑی مسکرائی تھی۔ “کیوں !!! روز گٹر یا کچرے کے ڈبے میں گر کر جاتے ہو۔۔۔۔؟جو لڑکیاں تم پر مرتی ہیں۔” انمول نے دانتوں کی نمائش کرتی ہوئے،داریاں کو آگ لگائی تھی۔
“ویسے مصطفٰی صاحب کی آسیہ ڈارلنگ، اپنی نکچڑی بہو سعدیہ بیگم بری پھوہڑ ہے، خوشی کا موقع ہو اور منہ ہی میٹھا نہیں کروایا،” انمول نے ناک منہ چڑھا کر اپنی بات کی تھی۔سبھی نے مانو کہ انداز پر قہقہہ لگایا تھا۔ جب کہ اپنی ماں کو ابھی بھی خاموش دیکھ کر انمول کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔
“جبران صاحب کی ایک لوتی محبوب زوجہ محترمہ سعدیہ بہن مٹھائی کہاں ہے۔۔۔؟” انمول نے ایک بار پھر اپنی گوہر افشائی کی تھی۔ جس کو سنتے ہی سعدیہبیگمٹپ اُٹھیں تھیں۔”انمول۔۔۔،!!! شرم کرو لڑکی، ورنہ میں سب کہ سامنے تمہاری چھترول کر دینی ہے۔ سمجھی تم” سعدیہ بیگم دانت پیستے،سخت گھوریوں سے نوازتے ہوئے بولی تھیں۔
“احمر اور علی بیٹا آپ دونوں جاو اور خالص دیسی گھی کی مٹھائی کا آڈر دے کر او، تاکہ صبح تک ہمیں ساری مٹھائی مل جائے” مصطفٰی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
پری اور ایشو تو اب تک شرمائی شرمائی زمین کو گھورے جارہیں تھیں۔مگر علیان اور احمر کی نظروں کی تپش محسوس کرتیں چہروں پر لال گلال کھلا ہوا تھا۔لیکن نظر اُٹھانے کی ہمت نا تھی۔
نایاب جو کب سے خاموش بیٹھی تھی۔پانی پینے کہ بہانے سے آٹھی تھی۔اور پھر انمول کہ قریب آکر بیٹھی تھی۔اس آنکھوں میں تمسخرانہ چمک تھی۔ اور ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ، مگر انمول کے ایک جملے پر اس کے تنے بدن میں آگ لگ گی تھی۔
“نایاب بی بی !! اتنا مت مسکراؤ، کیوں کہ، وہ زکوٹا جن، جس نے تمہیں پرپوز کیا ہے، وہ فلوقت میرے نکاح میں ہے۔اسی لیے ذرہ بتیسی اندر کرو” انمول بولتے ہی سب کے ساتھ پکچر لینے چلی گی تھی۔ مگر نایاب کو اچھی خاصی آگ لگ چکی تھی۔
مومل کب سے بے چینی سے سالار کو ہر جگہ دیکھ رہی تھی۔ مگر سالار وہاں ہوتا تو دیکھتا، تبھی باہر کے واچ مین سے پوچھنے چلی گی۔
” انکل۔۔!!! “
مومل نے واچ مین کو بلایا تھا۔ واچ مین اُٹھ کر مومل کہ پاس آیا۔
“جی مومل بیٹا۔۔۔!؟”
“انکل وہ سالار ۔۔۔” مومل ابھی آگے کچھ بولتی کہ خود ہی واچ مین بولا تھا۔
” بیٹا!! وہ سالار بیٹا تو کب کے، یہاں سے نکل گئے ہیں۔ بلکہ وہ تو ازلان بیٹے سے بھی پہلے نکلے ہیں۔”مومل نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“اوو!! اچھا صحیح، انکل شاید میں ہی بھول گی، سالار نے مجھے بتایا تھا” مومل ان کے سامنے بھرم رکھتی اندر کی جانب بڑھ گیا تھی، مگر دل ہی دل میں وہ کافی پریشان ہوچکی تھی۔



ازلان جو راجپوت ہاؤس سے غصے میں نکلا تھا۔جانے کب سے اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنی گاڑی دوڑا رہا تھا۔ معاضی کہ ہوئے خلاصے نے، اس کو پاگل کر ہی دیا تھا۔ کچھ سمجھ نا آرہا تھا۔جس لڑکی سے، اس کو بچپن میں ہی نفرت ہوگی تھی۔وہ لڑکی اُس کی زندگی میں ایک عذاب کی طرح نازل ہوئی تھی۔



رات کہ بارہ بجے کا وقت تھا۔باہر تیز موسلا دھار بارش برس رہی تھی۔ باہر برستی بارش کسی کے لیے خوش کن احساس تھی، تو کسی کے دل پر قہر برپا کر رہی تھی۔بار بار مومل کو کسی انجانے نمبر سے کال ارہی تھی۔دو سے تین بار کال کو اگنور کر چکی تھی۔لیکن اب کی بار کوفت سے کال پک کی تھی۔ مگر جو خبر اسے دوسری جانب سے موصول ہوئی تھی۔اس کو سن کر پیرو تلے زمین ہی کھسک گی تھی۔ دل کی دھڑکن تھم چکی تھی۔مومل کا جسم لرز اُٹھا تھا۔ کہ وہ یک دم چیخی تھی۔
“سالار۔۔!!!!”
مول کی چیخ نے سبھی گھر والوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
