Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 06)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

“مانو یار۔۔!!!”

“جلدی سے نیچے آو یونی کے لیے لیٹ ہو رہا ہے۔۔”ایشو عجلت میں بولی تھی۔

“ہاں آرہی ہوں۔”

“ایشو آپ تو ناشتہ شروع کرو” احمر بولا تھا۔

“جی بھیو آتی ہوں۔”

“اسلام وعلیکم!!!”

مانو نے آتے ہی سب کو سلام کیا۔۔

“وعلیکم السلام۔۔!”

سب نے سلام کا جواب دیا۔

“مانو بیٹا روز مردوں کو ہرانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔؟”

سعدیہ بیگم تپ کر بولیں تھیں۔

“ارے کہاں مما جانی میں تو بہت زبردست قسم کا خواب دیکھ رہی تھی۔ کہ آپکی لاڈلی نے مجھے جگا دیا۔۔”

” مانو توبہ ہے۔جو کوئی تم سے صحیح بات کی امید لگائی جائے۔ ہر بات کا الٹا جواب حد ہے۔پتہ نہیں کہ اگئے جاکے کیا کرے گی، یہ لڑکی۔”سعدیہ بیگم کو اپنی نکمی اولاد کی فکر ہوئی تھی۔

“مما جانی آپ کیوں ٹینشن لیتی ہیں۔ ابھی بچی ہے۔ بعد میں سب سمجھ جائے گی۔”ماہم نے بہن کی سائیڈ لی۔تو سعدیہ بیگم نے ماہم کو گھورا تھا۔” ایک سے بڑھ کر ایک ہمایتی بیٹھے ہیں۔”

“ہاہاہا!! کیوں سعدیہ ڈارلنگ جیلسی ہاں ۔۔۔۔۔؟”

مانو سعدیہ بیگم کو تنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔

“جبران دیکھ رہے ہیں آپ دن با دن یہ بدتمیز ہوتی جارہی ہے۔ آپ کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔۔۔؟”سعدیہ بیگم کو جبران صاحب کی لاتعلقی پر جی بھر کے غصہ آیا تھا۔

سعدیہ بیگم نے جبران صاحب کو درمیان مین گھسیٹا جو کہ بات سے لاتعلق بیھٹے تھے۔ جبران صاحب تو بولے نہیں البتہ کلثوم بیگم بول پڑیں۔۔۔

” بہو تم چھوڑو اس کو بعد میں سمجھ جائے گی۔”

“جی بلکل اماں جان یہ سمجھ ہی نہ جائے۔”سعدیہ بیگم کی بات پر سب کی دبی دبی ہنسی گونجی۔۔۔۔

“ایشو میں کیا سوچ رہی تھی کیوں نہ پری کو بھی پک کر لیں۔ “

“ہاں جانو مانو کیوں نہیں چلو پھر۔۔۔۔ “

“ہممم”

” سیٹ بیلٹ باندھ لو۔”

“مانو انسانوں کی طرح ڈرائیو کرنا ہے۔ورنہ ابھی میں علی بھائی کو کال کر رہی ہوں۔۔”

“اف۔۔!! “ایک تم اور ایک تمہاری سوکولڈ دھمکیاں۔چلو انسان بن جاتی ہوں۔ کیوں کہ آج موڈ میرا زبردست سا ہے۔تم پری کو میسج کر دو کے ہم اس کو پک کرنے آ رہے ہیں”

” اوکے۔۔”

” کچھ ہی دیر میں انمول اور اشعال، پری کے گھر کے سامنے تھیں۔”چلو مانو سب سے مل لیتے ہیں۔ بنا ملے چلے جانا اچھی بات نہیں۔”ایشو نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا تھا۔

“ہاں چلو چلتے ہیں تو دونوں اندر کی جانب بڑھ گئیں ۔”

“اہو۔۔!!میں اپنا سیل فون گاڑی میں ہی بھول گئی۔ایشو تم چلو میں لے کے آتی ہوں۔”انمول سر پے ہاتھ مارتی بولی تھی۔

” اوکے ” ایشو اندر کی جانب بڑھ گئی۔اورمانو واپس گاڑی کی طرف آئی اپنا فون گاڑی سے لیا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔فون اون کیا تو کچھ میلز آئی ہوئیں تھیں۔میلز دیکھنے میں مصرف ہوگئی۔ ساتھ گانا گانے میں بھی گا رہی تھی۔

ماہی دس کی کراں ۔۔

فیرں کملی ہوئی۔۔

پہلی وار ہویا۔۔

کچھ لگے ناں پتہ۔۔

تینوں ویکھ دیاں چناں۔۔

اکھاں بند کر کے۔۔۔

مانو جو اپنے آپ میں مگن تھی۔کہ سامنے سے آتے ازلان کو نہ دیکھ پائی اور ازلان بھی کال میں بیزی لان سے ہال کی طرف جا رہا تھا۔ کہ کسی سے زبردست تصادم کے بعد زور سے نیچے گرا۔۔۔۔۔۔

ازلان : “ااہہہ”

انمول : “اففف مار ڈالا خدایا، کون ہےاندھا ،جاہل،گدھا آنکھیں ہیں یا بٹن۔۔۔۔؟

مانو اپنا سر پکڑے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی۔

“اووو ہیلو میڈم میرے اوپر تم گری ہو۔کسی بلڈوز کی طرح چلو سوری بولو۔”

“کیا بلڈوز۔۔!!!”

بلڈوز لفظ پر انمول نے پھٹ سے آنکھیں کھولی۔

“یو تم خود کیا ہو موٹے سانڈ ،گھونچو ، ہاتھی، ہپوپوٹیمس۔”

“سوری میری جوتی بھی نہ کرئے اور میری تو دور کی بات ہے۔”

مانو زبان چلتے ہوئے جلدی سے ازلان کے اوپر سے اوٹھی۔

“شکر خدا کا میں بچ گیا۔ ورنہ ابھی ہی بلڈوز کے نیچے آیا تھا۔ بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔” ازلان دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔

مانو نے ازلان کو خونخوار نظروں سے گھورا۔اور تم سینگوں والے جنگلی جانور تمہار اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔” انمول نے بھی اپنا کھاتا بےباک کیا تھا۔

“خود کیا ہو جنگلی کالی موٹی بلی۔” موٹی لفظ پے انمول کا منہ کھل گیا۔۔۔

شور سن کر خانزادہ فیملی کے لوگ سب ہی باہر کو دوڑے۔ لیکن ازلان اور آنمو کو لڑتا دیکھ کر مزے سے ان کے WWF دیکھنے لگے۔۔۔۔

“تم خود کیا ہو نیلی آنکھوں والے زکوٹا جن ” انمول دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے بولی تھی۔

“اور تم کام والی راضیہ ” ازلان نے بھی انمول کو آگ لگائی تھی۔

” تم میرے ہاتھوں سے آج زائع ہوجاو گے جاہل کالے زکوٹے۔”انمول تیش کے عالم میں آگے بڑھی تھی۔

ابھی آگے بڑھتی کہ پہلے ہی پری نے انمول کو پکڑ لیا اور ازلان کو دانیہ بیگم نے۔ دونوں ایک دوسرے کو فنا کرنے پے تلے ہوئے تھے۔۔۔

“چھوڑ پری اس کی ہمت کیسے ہوئی۔ مجھے یہ سب بکواس کرنے کی یہ ہے کون ۔۔۔ ” انمول اپنے اپے سے باہر ہوئی تھی۔

“مما اس کالی بونی موٹی بندریا کو چپ کروئیں ورنہ اس کو ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔ “

بس۔۔۔!!!!!! “

دانیہ بیگم ،ایشو اور پری تینوں نے ایک ساتھ کہا تو ازلان اور مانو خاموش ہوگئے۔ لیکن گھور ایسے رہے تھے۔کہ جیسے ایک دوسرے کو سالم نگل لیں گئے۔۔۔۔۔

ازلان بیٹا آپ شاید بھول گئے۔یہ انمول ہے جبران بھائی صاحب کی بیٹی اور آنمول بیٹا یہ ازلان ہے کل رات ہی آیا ہے۔۔

“اوووو تو یہ ہے ازلان عرف بد دماغ زکوٹا جن”

” ہاں بلکل جیسے کے تم کم عقل موٹی کالی بھنڈی عرف انمول ہو ہی نہ جاو” ازلان طنزیہ انداز میں بولا اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔۔۔

“اچھا بس چلو اب اندر ورنہ دونوں کو ایک ایک لگاؤں گی”

سوری آنٹی اگر یہ پانڈا نہ ٹکراتا تو اتنا تماشہ نہ ہوتا۔”انمول شرمندگی سے بولی تھی۔مگر الزام ازلان کے سر ڈالنا نہ بھولی تھی۔

“سوری مما جانی اگر مجھ پر اتنا بڑا بلڈوز نا گرتا تو کچھ نہ ہوتا۔اتنا تماشہ نہ ہوتا “دونوں کو باتوں باتوں میں لڑتا دیکھ

دانیہ بیگم اور پری نے اپنا سر پکڑا تھا۔دونوں پاگل ہونے کے در پر تھے۔۔۔

ابھی انمول کچھ کہتی کے۔ اس کا فون بجا اور اکسکیوز کر کے گاڑی کی طرف چلی گئی۔ اور سب نے سکھ کا سانس لیا۔دوسری طرف طرف ازلان بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔

ان کے جانے کے بعد ہال میں موجودہ لوگوں کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا پری ایشو اور داری پیٹ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔

“ہاہاہاہاہاہاہا کس کس نام سے ایک دوسرے کو نوازا ہے۔اب چلو جلدی ایشو ورنہ ازلان بھائی کا غصہ ہم پر نکل جائے گا۔۔۔

پری اور ایشو گاڑی میں بیٹھے ہی تھے۔کہ انمول نے گاڑی بھگا لی۔اور ان دونوں کی آواز تک نہ نکالی۔کیوں کہ جانتے تھے۔کہ زخمی شیرنی کے منہ میں ہاتھ ڈالنا اپنی شامت بلانا۔۔

یونی کے گیٹ سامنے گاڑی کو بریک لگائی۔ بنا پارکنگ ایریا میں گاڑی کو چھوڑے تن فن کرتی اپنے ڈیپاڑٹ کی طرف بڑھ گئ۔اور پیچے پری اور ایشو ایک دوسرے کا چہرہ تکتی رہے گئیں۔ پری نے گاڑی کو پارکنگ ایریا میں پارک کیا۔پھر اندر کی جانب بڑھ گئیں۔

پری اور ایشو اپنی کلاس میں اینٹر ہوئیں۔تو مانو کو اکیلا بیھٹا دیکھا۔ جھٹ پٹ بھاگ کے دونوں مانو کے پاس بیٹھ گئیں۔سالار اور مومل ابھی آئے ہی نہیں تھے۔۔۔

پری نے بات کا آغاز کیا “میری پیاری سی مانو بلی کا موڈ خراب ہے۔۔۔؟”تو انمول نے بس پری کو گھورا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔

“اچھا بس کرو نہ اب ہمارے پیٹ میں درد ہو رہا۔تم سے بنا بات کیے” پری اور ایشو نے رونی صورت بنائی تو مانو کھلکھلا کر ہنس دی۔” میری جانز تم دونوں سے بھلا کیوں ناراض ہوں گئی۔ تم دونوں تو میرے جگر کے ٹوٹے ہو۔۔”

“اسلام وعلیکم۔۔۔!!!”

تینوں باتوں میں اتنی مصروف تھیں۔ کہ سامنے سے آتے سالار اور مومل کو نہ دیکھ پائیں۔دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا تو تینوں کو ان کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔

“اووو وعلیکم اسلام۔۔۔۔”

کیسی ہو مومل۔۔۔؟

اور تم کیسے ہو سالار۔۔؟

“الحمداللہ ٹھیک۔۔۔”

دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔۔۔

“تم تینوں بہت بے وفا ہو۔کہاں تھیں اتنے دن بات نہیں ہوئی پوچھا تک نہیں۔” مومل منہ بسور کر بولی تھی۔

“ارے جانم ناراضگی شرازگی ختم کرو آج یونی کے بعد ہم ساتھ میں آئسکریم کھانے چلیں گئے۔” مانو نے بڑی چلاکی سے بات بدل دی۔۔۔۔

سالار کب سے چاروں کو آنکھیں چھوٹی کرتے گھور رہا تھا۔لگتا ہے مجھے ناراض ہونا پڑے گا۔سالار نے منہ پھولآ کر کہا تو چاروں مسکرا دیں۔

🖤
🖤
🖤
🖤

“شاہ ہم چاروں تمہارے بغیر ادھورے ہیں۔”

اسلام وعلیکم ڈئیر سٹوڈنٹس ۔۔۔۔۔!!!!

وعلیکم السلام سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

“امید کرتا ہوں کہ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج میں ایک امپورٹینٹ اناؤسمنٹ کرنے آیا ہوں۔میں چھ مہینے کی لیو پر جارہا ہوں۔کیونکہ میری امی جان کا آپریشن ہے۔ اور وہ آؤٹ آف کنٹری ہیں۔ تو کل سے آپ کو نیو پروفیسر میرا سبجیکٹ پڑھائیں گے۔وہ نیو پروفیسر میرے ہونہار سٹوڈنٹس میں سے ایک ہے۔سو اپ نے ان کو بلکل تنگ نہیں کرنا۔۔۔:

“اوکے سر سب سٹوڈنٹس نے ہم آواز میں جواب دیا۔”

پورا دن لیکچرز لینے کے بعد وہ پانچوں بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ اس لئے اب ان کا رخ کینٹین کی طرف تھا۔

“سالار یار تم اوڈر دے کر آؤ ہم میں بلکل ہمت نہیں ہے۔”

“ہممممممم اوکے میں جاتا ہوں۔۔۔”

کچھ ہی منٹ گزرے تھے۔کہ یونی میں شور مچ گیا۔ ایک لڑکا بھاگتا ہوا کینٹین میں آیا ۔اور سب کو یونی سے نکلنے کا بولنے لگا۔

“جلدی سے سب یہاں سے نکلو۔ یہاں دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے۔” جیسے نے کے سب ڈر گئے۔

سالار جو کے اوڈر لے کر واپس ارہا تھا۔بھاگ کر انمول لوگوں کے پاس آیا اور ان چاروں کے چہروں پر ڈر کے تاثرات نمایاں تھے۔ وہ چاروں شاید بہت زیادہ ڈر گئیں تھیں۔۔۔

” ریلیکس گائز چلیں آپ سب یہاں ” سالار نے جلدی سے ان کو یونی کے بیک ڈور سے باہر نکالا۔ مومل تو ڈر سے کپکپا رہی تھی۔۔۔

“چلیں آپ سب کو میں چھوڑ دیتا ہوں۔”سالار انمول کے ڈرے چہرے دیکھ فکر مندی سے بولا تھا۔

” نہیں نہیں میں خود ان سب کو ڈراپ کر دوں گی۔مانو خود کو نارمل کرتی ہوئی بولی تھی۔تم اپنا خیال رکھو اور اپنے گھر جاؤ “

جوابن سالار نے سر اثبات میں ہلایا اور وہ سب اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔

یونیورسٹی کے باہر کچھ دوری پر میڈیا والوں نے ڈیرہ جما لیا تھا۔ جو بچے پھس گئے تھے۔ ان کے والدین سب پریشان سے یونیورسٹی کے گیٹ پر ٹھہرے تھےاور کچھ بچوں کی ماؤں نے رونا شروع کر دیا تھا۔ہر طرف افراتفری کا سما تھا۔۔۔۔

مانو نے گاڑی بھگا لی پہلے مومل کو ڈراپ کیا اور پھر پری کو گھر ڈراپ کیا۔جہاں دانیہ بیگم نے پری کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔پری نے سب گھر والوں کو مختصر سا سارا واقعہ بتایا اور آرام کرنے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

انمول اور اشعال گھر پہنچی تو سب کو اپنا منتظر پایا مصطفٰی صاحب نے اگئے بڑھ کر ایشو اور مانو کو سینے سے لگایا۔

“میرے بچوں نے میری جان نکال لی تھی۔”

“ارے دادووو جان آپ کیوں ٹینشن لے رہے ہیں۔ آپکی لاڈلیاں بہت بہادر ہیں۔مانو نے ان کو دلاسہ دیا تھا۔”

لیکن حقیقت میں ان دونوں کے چہروں کے تاثرات زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔چلیں دادوو جان ہم دونوں بہت زیادہ تھک چکے ہیں۔اب آرام کریں گئے۔ انمول کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔

“چلو ٹھیک ہے بچوں اپ دونوں آرام کرو مائنڈ بھی ریلیکس ہو جائے گا۔”تو دونوں اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئیں۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

تین سائے یونیورسٹی کی دیوار پھلانگ کر اند کی طرف بڑھے۔ دن میں بھی ان کا ُحلیہ کسی کالی رات سے کم نا تھا۔ ایک سایہ آگے بڑھا اور اپنے دو ساتھیوں کو اشارے سے مخاطب کیا۔ اس سائے کے دونوں ساتھی اگئے بڑھے اور پوری یونیورسٹی کا جائزہ لیا۔۔

ایک ہی ہال میں سب کو جمع کیے آٹھ آدمی تھے۔ان کے پاس ڈھیروں ہتھیار تھے۔۔۔

ان میں سے ایک سائے نے اشارے سے پاس بولایا اور انکھوں ہی آنکھوں میں بات کی تینوں نے اپنے لونگ کوٹ میں سے چھوٹے بم نکالے اور ہال کی جانب پھنک دیے۔۔۔

کچھ ہی دیر گزری تھی۔ ہر سوں سفید رنگ کا دھواں پھیل گیا۔۔۔

“ابے اےےے بخشو دیکھ اچانک دھواں کہاں سے آگیا۔۔!!کہیں ان پولیس والوں نے تو کوئی چلاکی تو نہیں کر دی ۔۔۔۔؟ “

“ہاں بادشاہ بھائی مجھے ایسا لگتا ہے۔ اے تم دونوں سامنے کی طرف جاؤ اور دو میرے ساتھ پیچھے کی طرف چلو۔”

وہ تینوں باہر آئے لیکن کچھ بھی غلط محسوس نہیں ہوا تو اندر جانے کے لیئے موڑے ہی تھے کہ اچانک ہی ان تینوں کو اپنی گردنوں پر کچھ چبھتا ہوا محسوس ہوا ،جسم کی رگیں پھولنے لگیں تھیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ تینوں موٹے سانڈ نما انسان زمین بوس ہوئے۔کچھ سیکنڈ کا کھیل تھا۔ تینوں کی کی انکھوں کانوں اور ناک سے خون کے فوارے نکلنے لگے۔منہ سے جھاگ۔دو منٹ سے کم وقت میں وہ تینوں جہنم وصول کر چکے تھے۔۔۔

بادشاہ بھائی سامنے کا راستہ صاف ہے۔

ہمممم اچانک کچھ گرنے کی آواز گونجی۔۔۔۔

“ابے شیدے جا ذرہ دیکھ ابھی تک بخشو نہیں آیا اور ساتھ ہی باہر دیکھ کس چیز کی آواز تھی۔۔”

“ٹھیک ہے بھائی لیکن باقی سب پھیل جاؤ الگ الگ ہو کے”

سب ہی باہر کو نکلے الگ الگ کلاسز اور مختلف حصوں کی چھان بین کرنے لگے۔ ان تینوں نے ایک دوسرے سے اشارے سے بات کی اور ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔۔۔۔

اپنے مخصوص ہتھیار نکالے۔۔۔۔

ایک سائے نے اپنی تیز دھار والا کلہاڑا نکالا، دوسرے نے اپنا سپیشل لائٹر نکالا دونوں اگئے بڑھے تھے۔ سنسان یونیورسٹی میں دل چیر دینے والی خاموشی چھائی تھی۔جو ہلکی پھولکی سی قدموں کی آواز تھی۔ ان کو بھی دونوں سایٔوں نے خاموش کروا دیا۔۔۔

اب صورتحال کچھ اس طرح تھی کہ بادشاہ اپنے آدمیوں کی راہ تک رہا تھا۔لیکن کسی کو واپس آتا نہ دیکھ پریشان سا ہو گیا۔۔۔۔

کہ ایک بار پھر پورے ہال میں دھواں میں ڈوب گیا۔ لیکن اس بار کچھ مختلف تھا۔ اس دھواں میں سب کے سر بری طرح سے چکرانے لگے۔دیکھتے ہی دیکھتے بادشاہ سمیت سب بہوش ہوگئے۔۔۔

کچھ ہی منٹوں کا کھیل تھا۔یونیورسٹی میں سے سارے زہریلے سانپوں کا صفایا ہوگیا۔

تینوں سائے جس طرح آئے تھے۔ ویسے ہی گم ہو گئے۔

باہر کھڑی پولیس کو ایک میسج موصول ہوا۔ فورن ہی پولیس اندر پہنچی۔لیکن وہاں کیسی بادشاہ یا اسکے کتے کا ناموں نشان تک نہ تھا۔جو سٹوڈنٹس ہال میں تھے۔ وہ بہوش تھے۔ ایمبولینس کے ذریعے سب کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔۔

ہر بچے کے گھروں والوں نے شکر کا کلمہ ادا کیا۔ ساتھ ہی ان فرشتوں کو بھی دعا دی۔ جنہوں نے خاموشی سے اُن کے بچوں کی حفاظت کی۔۔۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤

“Urgent Meeting in headquarter

Everyone come fast Hurry UP …. “

اس وقت وطن کے مارخور اپنے ملک کی حفاظت کیلئے حاضر تھے۔ سارے حُب الوطنی ایک کمرے میں ایک ساتھ موجود تھے۔

“ڈئیر ایجنٹس آپ سب کو آج کے ہوئے واقعے کے بارے میں سب معلومات ہوں گئی۔اس لیے مشن کو جلد ہی شروع کریں۔”

سب نے سر کو اثبات میں ہلا کر جواب دیا۔۔۔

اس وقت سب ہی ایجنٹس نے خود کو مکمل طور پر چھپایا ہوا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *