Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 14)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

سفر کی وجہ سے سب لوگ بہت زیادہ تھک چکے تھے۔صبح سے شام ہو چکی تھی تو جسے ہی سب گھر پہنچے تو اپنے اپنے کمروں میں ارام کرنے چلے گئے۔جبران صاحب اور حسن صاحب نے ایک گھر بک کروا رکھا تھا۔”

🖤
🖤
🖤

صبح گھر کے بڑے سب جلدی ہی جاگ چکے تھے۔لیکن بچہ پارٹی ابھی تک سو رہی تھی۔سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم کچن میں ناشتے کی تیاری کر رہیں تھیں۔باقی سب باہر لاؤنچ میں بیٹھے تھے۔کچھ دیر میں ازلان ، علی اور آحمر بھی نیچے آگئے تھے۔دانیہ میں باقی سب بچوں کو آٹھا کہ اتی ہوں۔کیوں کہ بن چھترول کہ انہوں نے اٹھنا نہیں ہےسپیشل مانو نے۔۔۔۔

ہاہاہاہا کوئی نہیں ابھی بچی ہے۔چلو میں بھی داری اور پری کو دیکھ لو کیوں کہ ازلان تو جلدی اٹھ جاتا ہے۔ مگر داری اتنا ہی تنگ کرتا ہے۔۔۔

سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم دونوں اوپر کی طرف بڑھ گئیں۔سب کو باری باری جگایا اور دوبارہ نیچے آگئیں ٹیبل پر ناشتہ لگانے لگئیں تھیں۔ سب آچکے تھے اور ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔

“بچوں اج شام میں ہم سب نے ایک پارٹی پر جانا ہے اور پھر اپ سب گھومنے جاسکتے ہیں۔اور ساتھ میں کچھ دعوتیں ہیں۔وہ بھی اٹینڈ کرنی ہیں۔ سپیشل یہاں کہ ٹاپ بزنس مین روبن رابرٹ نے انوائٹ کیا ہے آج شام۔۔۔”

” واؤ آپکی تو بڑی بڑی پہچان ہے۔بابا جانی اور حسن انکل” انمول کو اپنے باپ اور انکل پر فخر ہوا تھا۔

“ہاہاہا بلکل بیٹا اس بار انہوں نے ڈیل سائن کرنی ہے۔اس لیے پارٹی آرگنائز کی ہے۔سب شام میں تیار رہیں۔”

کچھ دیر میں حسن صاحب اور جبران صاحب کچھ کام کے لیے باہر چلے گئے۔ گھر کے بزرگان بڑے سونے چلے گئے۔مومل کی بھی طبیعت خراب تھی تو وہ بھی سونے چلی گئی۔

دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم گھر کی سیٹنگ کر رہیں تھیں۔

اب باقی ینگ پارٹی سب ایک ساتھ ہال میں بیٹھے تھے۔”یار پری ایشو بہت زیادہ بوریت ہو رہی ہے۔”

“ہاں مانو مجھے بھی بوریت سی محسوس ہو رہی ہے”۔پری اور ایشو دونوں کی جگہ داری نے جواب دیا جس پر مانو نے اپنی خوبصورت سبز رنگ آنکھوں سے گھورا۔۔

“چلو نا کچھ کھیلتے ہیں۔لسن ایوری ون سب میری بات سنے تو کیوں سب اج شاعری کی محفل لگائیں اور سب اپنی پسندیدہ اشعار سنائیں”۔

“ہاں یار میں تو بلکل غالب ہوں۔” داری بالوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا تھا۔۔

“اوئے بس کر داری غالب کا مرا ہوا مردک سا ورین ہو۔”

“ہاہاہاہا” سب ہنس دیے تھے۔اب اجاو ساتھ بیٹھو۔سب یہاں ہیں۔ بس پری کے ازلان بھئیو نہیں ہیں۔۔۔

” جاؤ پری بولا کر آؤ جلاد کو “

“میں۔۔۔؟”پری نے گڑبڑاتے ہوئے پوچھا۔۔۔

” نہیں تمہاری جوڑواں بہن جو بچپن میں کسی میلے میں گم ہو گئی تھی۔” پری کی بات پر مانو تپ اُٹھی تھی۔

“مانو مجھے نا ڈر لگتا ہے، تم چلی جاؤ۔” تو مانو نے گھورا۔۔۔

“نا ویسے حد ہے بڑا بھائی نا ہوا جلاد ہوگیا،خیر میں بولا کر آتی ہوں۔۔۔”

مانو پہلے تو دبنگ سی بن کر گئی تھئ۔ مگر اب واقعی جان نکل رہی تھی۔ “یوں اکیلے میں اس جلاد زکوٹا جن کر کمرے میں جانا اففففف اچھا کچھ نہیں ہوتا مانو جاؤ لیکن تمیز کا مظاہرہ کرنا۔”

مانو نے بڑبڑاتے ہوئے کمرے کا دروازہ کھٹکھایا۔

” آجائیں ” اندر سے جواب موصول ہوا۔۔۔۔

مانو نے اللہ اللہ کر کے دروازہ کھولا اور اندر کی جانب بڑھی گئی۔ازلان سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے سر اُٹھا کر دیکھا تو سامنے مانو کو کھڑے پایا۔۔۔۔

ائیبرو کے زاویہ بناتے ہوئے پوچھا کیا ہے۔۔۔؟

” وہ وہ زی ہم سب نا نیچے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں۔ تم ہمارے ساتھ تھوڑی دیر گیم کھیل لو پلیز اس طرح سب کے پارٹنرز ہیں۔ صرف پری کو چھوڑ کر تو تم آجاؤ۔ “

ازلان تو مانو کہ زی بولانے پر رک سا گیا تھا۔

اتنے سالوں بعد مانو نے اس کو اس کے پرانے نام سے مخاطب کیا تھا۔۔۔۔

“ہممم چلو آتا ہوں”

ازلان نے اپنی حیرانی کو چھپاتے ہوئے بس مختصر سا جواب دیا۔۔۔

تو دونوں ہمقدم ہوتے ساتھ چل دے۔جب کہ نیچے ہال میں سب کچھ ریڈی تھا۔ سب گول دائرہ بنائے بیٹھے تھے۔مانو سالار کی پارٹنر تھی۔ تو اس کے ساتھ بیٹھی لیکن مانو کو سالار کے ساتھ مل کر بیٹھا دیکھ کر ازلان کے تاثرات یک دم بدل گئے تھے۔

“داری تم ماہم کے ساتھ بیٹھو اور آحمر تم پری کے ساتھ میں نایاب کے ساتھ بیٹھوں گا۔”جس پر نایاب کا چہرہ کھل اُٹھا اور مانو کو جتاتی نظروں دیکھا۔۔۔

لیکن مانو نے سر جھٹک کر گیم شروع کی اس میں سب اپنے پارٹنر کے لیے کچھ کریں گے ۔سب کے پاس چوائس ہوگئی۔

ٹرتھ ،ڈیر اینڈ تھرڈ اشعار۔جس کی مرضی جو چنے۔۔۔۔

چلو داری میوزک اون کرو سب یہ پلو ایک دوسرے کو پاس کریں گئے۔۔۔۔

میوزک سٹارٹ ہو چکا تھا۔اور سب ایک دوسرے کو کشن پاس کر رہے تھے۔۔۔۔

🎶
🎶
🎶
🎶

ازلان نے نایاب کو پاس کیا نایاب نے ايشو کو ایشو نے علی کو علی نے ماہم کو ماہم نے داری کو جس کشن کو پکڑ کر گلے سے لگا لیا تھا۔مگر پری داری سے کھنچ رہی تھی۔کہ تب ہی میوزک آف ہو گیا۔۔۔

اووووووووو سب نے شور مچایا تھا۔

مسٹر داری آپ ماہم آپی کے لیے کچھ عرض کریں۔۔۔

داری

“تجھے لکھوں بھی تو کس غزل کے روپ میں”

“تیری شوخیاں بھی جان لیوا تیری سادگی بھی کمال ہے”

“اے ہاے واہ واہ داری تم واقی میں غالب نکلے۔” سب نے داریان کو داد دی

“چلیں ماہ آپی اب آپ داری کے لے کچھ بولیں۔”

“مانو چندا مجھے کچھ نہیں اتا”

“کیوں آپی اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ آپ کچھ سنا دیں” پری پیار سے بولی تھی ۔۔۔

ماہم

“اے اللہ! تو مسکراہٹ جدا نہ کرنا میرے دوست کے ہونٹوں سے

بڑا معصوم سا چہرہ ہےاسکا اداس ہو تو اچھا نہیں لگتا “

ماہم کی بات پر داریان شرمانے لگا۔۔۔

“اوووو ہووووو واہ کیا بات ہے آپی” ایشو نے ماہم کو داد دی۔۔۔۔

“چلو اب آپ دونوں یہاں سے سائیڈ ہو جاؤ اور داری چلو دوبارہ سے میوزک اون کرو۔”

🎶
🎶
🎶
🎶

دوبارہ سے سب نے ایک دوسرے کو پلو پاس کرنا شروع کیا تھا۔کہ اب کی بار پری اور احمر پر میوزک آف ہوا۔۔۔

“اوووووو چلیں احمر بھئیو آپ کیا پسند کریں گئے۔”

“ٹرتھ “

“اوکے تو آپ بتائیں کہ آپ نے اپنی زندگی میں کسی سے محبت کی ہے۔۔۔؟”سب کی نظریں احمر پر تھیں۔

“ہاں بلکل کی ہے”

احمر کی بات پر سب کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔

” کیا!!! بھئیو کب ، کیسے ، کہاں، کون ہے وہ۔۔۔۔؟ “

بس ایک سوال کرنا تھا۔ احمر نے بڑی چلاکی سے اپنی جان چھڑئی تھی۔

“اچھا نام تو بتائیں صرف نام۔”

” جی نہیں “

” بھئیو پلیززز !!! “

“نو مين نو “

“چلو اب پری کی باری اس سے پوچھو “

“اچھا ” مانو نے منہ بسورا۔۔۔

” پری تم بتاؤ کیا کرو گئی۔۔۔۔۔؟”

“میں کوئی شعر سنا دوں گئی ۔۔۔” تو مانو سر اثبات میں ہلایا۔۔

“نگاہِ عشق کا عجیب ہی شوق دیکھا۔

آپ ہی آپ کو دیکھا اور بے پناہ دیکھا”

“واہ واہ کیا بات ہے، کمال لاجواب پری–!! تم بھی کسی سی عشق کرتی ہو۔۔۔۔؟” مانو نے دانت نکلے جس پر پری نے گھورا “اچھا نہیں بولتی” مانو نے اچھے بچوں کی طرح خاموش ہوگئی۔

“چلیں آپ دونوں ایک طرف کو ہو جائیں۔داری دوبارہ میوزک سٹارٹ کرو۔۔”

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

دوبارہ سے سب ایک دوسرے کو پلو پاس کرنے لگے تھے۔ لیکن اب سب کی سپیڈ تیز ہو چکی تھی۔کہ اچانک سے میوزک رکا اور پلو ايشو کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔

“او!!!! ایشو چلو کچھ سناؤ۔۔! “

“اچھا کل میں نے کچھ اشعار پڑھے ہیں وہ سناتی ہوں۔ “

“میرا دل چاہتا ھے کہ

جب میں اداس ہوں تو تمہارے بازو

میرے گرد حائل ہوں

اور میں اپنی ہر اداسی تھکن خاموشی اور

تنہائی تمہارے سینے میں چھپا کر

آنسوؤں کے راستے ختم کر دوں

اور تمہارے بازوؤں کے حصار تمہاری قربت میں

سکون کی نیند سوجاؤں۔ “

” او واہ ایشو کمال بھی کمال یہاں تو ایک سے بڑھ ایک شاعر موجود ہیں۔” مانو نے سب کو داد دی تھی۔

” چلیں اب علی بھئیو آپ کی باری “جوابن علیان نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

“تو ہے جو آسماں میں بھی کہسار ہوں

ہے تو مغرور تو میں ملنسار ہوں

میری جاں میں نہیں تیرے آگے تو کچھ

تو ہے ساگر میں تو ہلکی سی دھار ہوں

پیدا ہم ہیں تو اک دوسرے کے لئے

تو ہے مجھ پر میں تجھ پر ہی نثار ہوں

میرے ہمدم نہ ہو کوئی چنتا تجھے

بیچ میں غم سے میں تیری دیوار ہوں

میں اب بھی تیرا پرستار ہوں

تو میرا عشق اور میں تیرا پیار ہوں”

” لاجواب علی بھئیو آپ تو واقعی چھپے رستم نکلے ۔۔”

“اب تو مقابلہ ٹائٹ کا ہو گا۔کیوں کہ دونوں ٹیمز چیمپئن ہیں۔ایک طرف کنگ ازلان اور ان کی پارٹنر نایاب ہیں اور دوسری طرف کوئین انمول اور ان کے پارٹنر سالار ہیں۔۔” داریان کسی رپورٹر کی طرح بول رہا تھا۔

میوزک سٹارٹ۔۔۔۔

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

چاروں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔چاروں کی آنکھوں میں جنون تھا۔۔۔۔

جلدی جلدی سب پاس کر رہے تھے۔مانو نے پلو اچھلا اور ازلان نے پکڑا نہ تھا کہ میوزک آف ہو گیا ۔۔۔پلو درمیان میں گرگیا تھا۔۔۔۔

“او یہ کیا یار کوئی اوٹ نہیں ہوا۔”سب بدمزہ ہوئے تھے۔

“اچھا چلو سب ہی باری باری بتا دیتے ہیں۔۔”مانو نے مسلے کا حل پیش کیا تھا۔

“ہاں اور سب سے پہلے مانو میڈم آپ بتائیں گئی۔۔”

“تو مانو کیا پسند کریں گی۔۔۔۔؟” داریان نے انمول سے سوال کیا تھا۔

“میں مجھے تو خطرناک ایڈوینچرنگ پسند ہے۔” انمول اپنی سبز آنکھوں میں چمک لیے بولی تھی۔

” نو انمول تم آج سونگ سناؤ گئ۔۔”

“اوکے”

“چلو گیٹار لاؤ تم۔”

تو داریان فورن سے پہلے اوپر گیا۔اور لے کر آیا

“چلو سٹارٹ”

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

دل مانگ رہا ہے مہلت

تیرے ساتھ ڈھڑکنے کی

تیرے نام سے جینے کی

تیرے نام سے مرنے کی

دل مانگ رہا ہے مہلت

تیرے ساتھ ڈھڑکنے کی

تیرے نام سے جینے کی

تیرے نام سے مرنے کی

تیرے سنگ چلوں ہر دم

بنا کر کے پرچھائی

ایک بار اجازت دے

مجھے تجھ میں ڈھلنے کی

🎶
🎶
🎶
🎶

مانو سب کے درمیان میں بیٹھ کر سونگ گا رہی تھی۔اور سالار مسلسل انمول کو تکے جارہا تھا۔اس کا دل پھولے نہیں سما رہا تھا۔ مانو سالار کے لیے گا رہی ہے۔۔۔۔

جہاں سالار خوشی سے دمک رہا تھا وہیں ازلان ناگوار نظروں سے سالار کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

مگر مانو تو سب کچھ ُبھولائے اپنی دنیا میں گم کسی کو اپنا حالِ دل بیان کر رہی تھی۔۔۔

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

دیکھا ہے جب سے تم کو

میں نے یہ جانا ہے

میری خواہش کے شہر میں

بس تیرا ٹھکانا ہے

میں بھول گی خود کو بھی

بس یاد رہا اب تو

آ تیری ہتھیلی پر اس دل کو میں رکھ دوں

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

دل بول رہا حسرت

ہر حد سے گزرنے کی

تیرے نام سے جینے کی

تیرے نام سے مرنے کی

دل مانگ رہا مہلت

تیرے ساتھ ڈھڑکنے کی

تیرے نام سے جینے کی

تیرے نام سے مرنے کی

تیرے سنگ چلوں ہر دم

بنا کر کے پرچھائی

ایک بار اجازت دے مجھے

تجھ میں ڈھلنے کی

🎶
🎶
🎶
🎶
🎶
🎶

مانو خاموش ہوئی تو سب نے زوردار کلیپنگ کی۔ جس پر مانو کھل کر مسکرائی تھی۔ جہاں سالار اس کی مسکراہٹ پر خود کے جذباتوں پر ضبط کر گیا تھا۔۔۔۔

” اب سالار کی باری ہے “

“اوکے اوکے تو عرض کیا ہے۔”

” إرشاد!! “

میرا بس چلے تو تیری سوچوں پر

اپنی یادوں کا پہرا بیٹھا دوں

تُو دیکھے تو مجھے

تُو سوچے تو مجھے

ذکر ہو تو میرا

خیال ہو تو میرا

میرا بس چلے تو تُجھے یوں چاہوں

کہ میری چاہت کی ابتدا بھی تُو

میری چاہت کی انتہا بھی تُو

میرا عشق بھی تُو

میری ذات بھی تُو

میری بات بھی تُو

ہو عشق کی انتہا کچھ اس طرح

جو تُو نہیں تو میں نہیں

جو میں نہیں تو تُو نہیں..!

“فینٹسیٹک یار سالار اتنا کمال کی تھی شاعری” احمر نے سالار کو داد دی تھی۔

“چلو اب نایاب اب تم کچھ بولو”

“ہممم ایک شعر ہے۔۔”

🖤
🖤
🖤
🖤

وہ ھونٹ تھے ، کہ شَفق میں نہائی کرنیں تھیں

وہ آنکھ تھی ٫ کہ خنک پانیوں کا جَھرنا تھا

” واہ واہ زبردست۔۔۔!! “

“زی تم کچھ بولو ” مانو نے ازلان کو دیکھتے ہوئے کہا جس کی آنکھوں میں الگ ہی چمک تھی۔۔۔

اقرار کر گیا کبھی انکار کر گیا

ہر بار اک عذاب سے دوچار کر گیا

راستہ بدل بدل کے بھی دیکھا مگر وہ شخص

دل میں اتر کے ساری حدیں پار کر گیا

“واہ واہ کیا بات ہے۔۔۔۔!! “

“تو مسٹر ازلان خانزادہ بھی کسی کے لیے جذبات رکھتے ہیں۔۔۔۔؟”

“ایسا کچھ نہیں ہے مس انمول راجپوت بس یہ شعر تھا۔تو سنا دیا۔”

“چلو بچوں بہت زیادہ ہنسی مذاق ہوگیا۔اب تیاری کر لو کیوں کہ نو بجے تک پارٹی پر جانا ہے۔ اب سات بجے کا وقت ہو رہا ہے۔”

دانیہ بیگم نیچے ہال میں اتی ہوئی بولیں تھیں، سب لڑکے بلیو کلر کا ڈریس پہنے گئے اور لڑکیوں سب نے بلیک ڈریس پہنا ہے۔ یہ پارٹی کا تھیم ہے۔دانیہ بیگم کی بات سنتے ہی سب اپنی تیاری کے لیے چلے گئے۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

کچھ یہ دیر میں سب ہی لڑکے تیار ہو کہ نیچے ہال میں اچکے تھے۔جہاں دانیہ بیگم اور حسن صاحب انتظار کر رہے تھے۔سعدیہ بیگم اور جبران صاحب گھر رک رہے تھے۔ کیوں کہ مول کی طبیعت ٹھیک نا تھی۔ اور نایاب نے بھی جانے سے منع کر دیا تھا۔۔۔

پہلے ماہم نیچے ائی جو کہ سادہ سی بلیک شرٹ اور جینز میں بہت معصوم سی لگ رہی تھی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ایشو بھی اچکی تھی۔ جو کہ بلیک فراک اور جینز میں ملبوس خوبصورت سی لگ رہی تھی۔ علیان نے اپنی نظریں ايشو پر جما رکھیں تھیں۔۔۔۔

ابھی تک پری اور مانو نہیں آئیں میں دیکھ کر آتی ہوں۔ایشو نے اُلٹے قدم واپس اوپر کی طرف لیے۔۔۔۔

پہلے پری کے روم میں گئی جو کے مکمل تیار سی گھڑی اپنے لیے جوتی ڈھونڈ رہی تھی۔

“شکر مل گئی”۔پری نے اپنی ہیل والی شور کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

“پری کہاں ہو۔۔۔؟” ایشو نے سوال کیا تھا۔

” بس یہ جوتی پہن لوں۔پھر ریڈی ہوں”

“چلو پھر مانو کو دیکھتے ہیں۔”

“ہاں چلو “

پری نے جوتی پہنتے ہوئے کہا تھا اور پھر مانو کہ روم کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔

مانو بلی کتنا دیر ہے۔۔۔۔؟

ایشو مانو کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی جس پر مانو پلٹ کر دونوں دیکھا تھا۔

” ارے واہ آج تو دونوں قیامت ڈھا رہی ہو۔”

مانو نے پری اور ایشو کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“اور تم ہم دونوں سے بڑھ کے لگ رہی ہو میری پیاری سی مانو بلی۔”

آنکھوں میں گہرا کاجل ہونٹوں پر ریڈ لپ گلوز اور بلیک جینز کوٹ میں کوئی ہیروئین سے کم نا لگ رہی تھی۔۔۔

چلو نیچے جیسے ہی تینوں نیچے کی طرف اتر رہیں تھیں۔سب کی نظریں نے ماشاءاللہ پڑھ رہی تھیں۔۔۔۔

احمر تو پلکیں جھپکانا ہی بھول گیا تھا۔سالار تو مانو کو دیکھتے ہی نظریں پھیر گیا تھا۔ورنہ اس کا دل بغاوت پر اُتر اتا۔۔۔۔

“چلیں۔۔۔؟”

“جی بلکل بچوں نو ہو چکے ہیں۔ ویسے دانیہ آنٹی اج سارے منڈے خدا کی قسم غضب ڈھا رہے ہیں۔۔”

مانو اپنی سبز آنکھوں میں چمک لیے بولی تھی سامنے بیٹھے ازلان کو دیکھا جو کہ موبائل فون میں مصروف تھا۔

مانو کی بات پر سر اُٹھا کر سامنے دیکھا جہاں مانو بلی پوری حسینہ لگ رہی تھی۔ازلان کافی دیر مانو کو تکتا رہا۔

کہ اچانک سے فون بجا جس پر وہ فون لیتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔اور پھر باقی سب بھی باہر گاڑیوں میں بیھٹے روانہ ہو گئے۔۔۔

تقریبن تیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ لوگ پارٹی پر پہنچے تھے۔۔۔۔

سب لوگ اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کہ وہاں موجودہ ملازمین نے سب کو بلیک ماسک دیے۔ اور بتایا کہ پارٹی میں ماسک کہ بنا اینٹری نہیں ہے۔ تو سب ماسک لگائے اندر داخل ہوئے۔۔۔

جہاں رات کی تاریکی میں بھی پورا ہوٹل روشنیوں سے نہایا ہو تھا۔۔۔۔

اکثر گیسٹ اچکے تھے۔اور سب ہی ماسک میں چھپے ہوئے تھے۔ ہلکی آواز میں سونگ چلا ہوا تھا۔کچھ لوگ ہاتھوں میں ڈرنک لیے ہوئے جھوم رہے تھے۔۔۔۔

حسن صاحب اور دانیہ بیگم کچھ جانے پہچانے لوگوں سے ملنے چلے گئے۔ اور لڑکے سب ایک ساتھ انجوائے کرنے لگئے تھے۔ ایشو پری چلو ہوٹل گھومتے ہیں۔مانو نے چمکتی آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔۔۔

سب مصروف تھے۔ جبکہ داری ماہم کا سر کچا چبا رہا تھا۔ جس پر وہ ہاں ہوں میں جواب دے رہی تھی۔ دوسری طرف ازلان، احمر، علی ساتھ کچھ ڈیسکس کر رہے تھے۔ سالار اکیلا بیھٹا اپنا فون استعمال کر رہا تھا۔۔۔۔۔

مانو ہر جگہ گھوم رہی تھی۔کہ اچانک سے لائٹ بند ہو گئی۔اور پھر ایک سپوٹ لائٹ آن ہوئی اور ایک شخص ماسک لگائے سامنے ایا۔۔

𝓗𝓮𝓵𝓵𝓸𝔀 𝓔𝓿𝓮𝓻𝔂𝓸𝓷𝓮!!

“𝓘𝓽’𝓼 𝓶𝓮 𝓡.𝓑 (𝓡𝓸𝓫𝓲𝓷 𝓡𝓸𝓫𝓮𝓻𝓽)”

“آج کی پارٹی کا مقصد یہ ہے۔ کہ یہاں امریکہ میں بہت سی کمپنیز ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ میری ہی ہیں، تو میں نے پاکستان میں بھی کچھ کمپنیز کھولنے کا ارادہ کیا ہے۔”R.B کی بات پر سب بے تالیاں بجائیں۔۔

“جس میں ہمارے ساتھ آر _کے انڈسٹری نے ڈیل سائن کی ہے”۔تو آج کی رات آپ سب کہ نام اوو!!! سب نے ہوٹنگ۔۔۔

داری اور ماہم ٹھہرے تھے کہ داریاں کو امریکہ کی مشہور ڈاکٹرز کا گروپ نظر آیا تھا۔ تو اپنے ساتھ ماہم کو بھی گھسیٹ کر لے گیا تھا۔۔۔

سب ڈانس کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔R.B اگئے بڑھا اور مانو کو ڈانس کے لیے ہاتھ دیا۔

“Hey! beautiful girl can you dance with me….?”

جس پر مانو نے آرام سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔

پری کی ڈریس پر جوس گرا تھا۔ وہ اوپر روم میں کلین کرنے گئی تھی۔ساتھ میں ایشو بھی تھی۔۔۔

نیچے مانو R.B کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی۔سب ماسک اتار چکے تھے۔سوائے مانو اور R.B کے اچانک مانو گھومتی ہوئی R.B سے ٹکرائی کہ مانو نیچے گرتی اس سے پہلے R.B نے مانو کو تھام لیکن اسی بیج R.B کا ماسک چہرے سے اتر چکا تھا۔۔۔۔۔

“Oh I Am so Sorry R.B “

” میری وجہ سے آپکے چہرے سے نقاب اتر گیا۔”انمول چمکتی آنکھوں سے بولی تھی۔

“نقاب۔۔۔؟”

“Opps sorry Again”

“نقاب نہیں ماسک میرا مطلب تھا ماسک وہ اتر گیا نا۔۔۔”انمول نے اپنا فقرہ درست کیا تھا۔

” No problem Pretty Girl۔It’s OK۔۔! “

“Are you Sure…?”

” yeah Of course…”

“Thank’s R.B for Everything..”

” What you mean sweetheart..?”

“I mean For Amazing Party AnD Dance with me

otherwise Nothing else’s.”

انمول کی بات پر R.B گہرا مسکرایا تھا۔مانو ڈانس کر رہی تھی۔کہ سالار اور ازلان خود پر ضبط کیے بیٹھے تھے۔ دو لڑکیاں ازلان اور سالار کہ پاس آئیں اور بولیں کہ کیا ہمارے ساتھ ڈانس کرنا پسند کریں گئے۔

دونوں جھٹکے سے اُٹھے اور ان لڑکیوں کا ہاتھ تھامے ڈانس فلور پر اگئے۔جہاں مانو اب بھی R.B کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی ایک طرف کو سالار اور دوسری طرف کو ازلان تھا۔

تینوں کپل ڈانس کر رہے تھے۔ اس سٹیپ پر اپنے پارٹنر چینج ہوئے تو مانو سالار کہ پاس چلی گئی اور ازلان کہ ساتھ جو لڑکی تھی۔ وہ R.B کے پاس اور سالار کے ساتھ جو لڑکی تھی وہ ازلان کے پاس چلی گی تھی۔

سالار بلکل مدہوش سا مانو کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا۔ اور سب سٹیپس لے رہا تھا۔ کہ دوبارہ سے سب کہ پارٹنر چینج ہوئے تھے۔ مانو گھومتے ہوئے R.B کے پاس جارہی تھی۔ کہ اس سے پہلے مانو کو ازلان کے مضبوط ہاتھوں نے تھام لیا تھا۔۔۔

ازلان نے مانو کہ ہاتھ اور کمر پر گرفت مضبوط رکھی تھی۔ جس پر مانو کو اپنا ہاتھ ٹوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ کمر میں درد کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ مگر مانو نے بھی آف تک نہ کی تھی۔۔

سالار اور R.B واپس چلئے گئے تھے۔ مگر ازلان ہوش میں ہوتا تو رکتا غصہ سے آنکھیں لال تھیں۔ مانو اب تھک چکی مگر ازلان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔

بہت زیادہ مزاحمت کرنے کے بعد ازلان روکا تھا۔ سب نے ان دونوں کے لیے تالیاں بجائیں تھیں۔۔۔

ازلان نے جب مانو کا ہاتھ چھوڑا تھا تو اس کہ ہاتھ پر لال نشان بن چکا تھا۔مانو نے شکوہ کن نظروں سے ازلان کو دیکھا۔جس پر وہ نظر انداز کر گیا تھا۔جسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔۔۔۔

مانو یہ آپ کو کیا ہوا ہے۔ سالار نے مانو کا سفید دودھیا رنگ بازو لال ہو رہا تھا۔سالار نے فکر مندی سے مانو کی بازو کو تھاما تھا۔ جب کہ سالار کہ چہرے پر مانو کے لیے فکر کے تاثرات نمایاں تھے۔جلدی سے اگئے بڑھا اور ڈرنک کارنر سے برف لے آیا اور مانو کے لال سوجھے ہوئے ہاتھ اور بازو پر لگایا۔۔۔

” اہہ۔۔!! ” مانو کہ منہ سے سیسکی نکلی تھی۔

“مانو یہ کیسے ہوگیا۔۔۔! کیا کسی نے آپ کا ہاتھ دبایا ہے۔۔۔۔؟”

” ایسا کچھ نہیں سالار بس گھر میں کچھ لگ گیا تھا مجھے اور ویسے بھی درد نہیں ہو رہا چھوڑو تم۔”

“نہیں رکیں!!! ” سالار نے اپنا رومال نکال کر مانو کے ہاتھ اور بازو پر باندھ دیا۔ایشو اور پری نیچے ائی تھیں۔تو مانو نے پری کو مخاطب کیا

” پری جوس صاف ہوگیا۔۔۔۔۔؟”

“ہاں مانو آرام سے سارا صاف کیا اور کوئی داغ بھی نہیں بچا” تو تینوں مسکرائی تھیں۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *