Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Last Episode)Part 1

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانے کیا یاد آیا

قسمت بھی ایک پل میں، کتنے بڑے کھیل کھلتی ہے، پل پل تڑپاتی ہے اک پل سکوں کے لیے۔۔!!

دن کے اُجالے میں،اک خوبصورت سا کمرہ مکمل تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا۔ہر سو گھپ اندھیرے میں ہولناک سی خاموشی چھائی تھی،کہ کمرے میں ہلکی سسکیوں کی آواز ارتعاش سا پیدا کر رہیں تھیں،اور اُس اندھیر نگری میں، شاید کوئی وجود بیٹھا، جو سسک رہا تھا، ہلکی سرگوشی نما آواز میں کوئی کسی کو پکار رہا تھا۔

اُس وجود کی آواز میں کرب تھا، ہجر کی تڑپ تھی، مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا،جو اس وجود کی آواز سنتا یا جواب دیتا، مگر اچانک سے اُس کی کھلکھلاتی آواز سنائی دی تھی، وہ سامنے سے ہاتھوں میں ڈھیروں گلاب تھامے آرہی تھی۔ لیکن اچانک سے اس کا وجود دھندلانے لگا تھا۔

“عشق میں شرک اور محبت میں بے وفائی کی کوئی معافی نہیں ہوتی”

“بیشک میں مانتا ہوں،میں اپنی ساری غلطیاں مانتا ہوں، میں نے وقت رہتے تمہاری محبت کی قدر نہیں کی، لیکن میں سب کچھ ٹھیک کر لوں گا۔ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ اتنی بڑی سزا مت دو خدایا مجھ پر رحم کرو۔۔” وہ مناتیں ترلے کر رہا تھا۔

“نہیں نہیں مت جاؤ”

وہ نیند میں گڑ گڑایا رہا تھا، کہ اچانک سے وہ ہڑبڑا کر نیند سے بیدار ہوا۔ تو آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر ہاتھیلی پر گرا تھا۔ ” کاش وقت رہتے اس کا یقین کر لیتا، کاش کھبی بے وفائی نہ کرتا، ضد اور انا کی تسکین کے لیے انتا نا گرتا۔” اپنی سائڈ دراز سے ایک ڈائری نکالی تھی۔ جس پر بڑے حروفوں میں کچھ لکھا،ہاں کچھ یوں لکھا تھا۔

” انمول راجپوت کے عشق کے نام ” آگے بریکٹ میں کسی کا نام تحریر تھا۔

(ازلان خانزادہ )

ازلان نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا تھا، جہاں لال دل بنا ہوا تھا،اور اُس دل میں انمول نے اپنے عشق کا نام، بڑی خوبصورتی سے سجایا تھا۔ ساتھ ہی لال گلاب لگایا تھا۔ اور نیچے چھوٹی سی تحریر لکھی تھی۔ “مانو کا زی فقط انمول کا ازلان” ، جس کو پڑھتے ہی دل میں درد کی اک ٹھس اُٹھی تھی۔

” کاش !! میں تمہیں اپنے پاس چھپا لیتا ، اپنے مضبوط حصار میں پناہ دیتا، تو آج تم میرے سامنے ہوتی !! تم واپس کیوں نہیں آتی۔۔۔ !!کیا !! تمہیں میری تڑپ نظر نہیں آتی۔۔۔ !!! تڑپ۔۔ !! تڑپ۔۔ !! ہاں میری بھی کیا تڑپ۔۔۔ میں بھی بھلا کوئی انسان ہوں، میں تو شیطان ہو فقط شیطان !! ” تڑپ لفظ پر اس نے بےڈھنگے طریقے سے قہقہہ لگایا تھا۔

“واقع میری کیا اوقات اس سامنے، مجھے تو بس، اس کانچ کی گریا کو توڑنا تھا۔ اس کو کرچی کرچی کرنا تھا۔ لیکن وہ ظالم تو معصوم سی تھی۔ میں نے سالوں اس کو تڑپیا بہت زیادہ تکلیف دی ، اس کو درد میں دیکھ کر خوش ہوتا۔

لیکن میں اپنے غرور میں خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا۔ یہ تک بھول بیٹھا تھا کہ اوپر بیٹھا خدا آپنے بندوں سے بےلوث محبت کرتا ہے۔ وہ انصاف کرنے والا ہے، کب تک اپنے بندے کو جہنم کی آگ میں جلھستا دیکھتا۔” روتے روتے خود کو تھپڑ مارنے لگا تھا، شاید اس کو کچھ وقت کے لیے سکون مل جائے۔

” آخر کار میرے رب نے اُس کو ہر درد سے، تکلیف سے تڑپ سے رہائی بخش دی، لیکن جب میری رسی کو کھنچا تو میری انا میرے غرور کو توڑا کر رکھ دیا اور مجھے زمین پر ایسے پٹخا کہ میں کھبی اُٹھ نا سکا۔”

آہہہہ!! وہ چیخا تھا، لیکن وہاں کوئی ہوتا تو سنتا اس کی۔۔

” کاش !! میں اس معصوم پر تھوڑا تو یقین کر لیتا، آج یوں تل تل نا مرتا،کاش اس پاک دامن معصوم پر انتے گھٹیا الزام نا لگاتا، وہ تو میری تھی نا بچپن سے، میرے نکاح میں تھی۔پھر کیوں !! کیوں !! میں اتنا گر گیا، تم نے مجھ انا پرست، مغرور انسان کو توڑ دیا ، تمہارے سچے عشق نے مجھے ریت کی مانند زیر کیا ہے، میرے وجود کی کرچیاں ایسی بکھیریں ہیں، کہ کوئی چاہ کر بھی سمیٹ نہیں سکتا۔۔”

“اس نے کہا تھا،میرے ساتھ غداری کی تو جان لے لوں گی، وہ چلی گی،اُس۔۔اُس نے سچ کہا تھا،اس نے مجھے وہاں مارا جہاں مجھے ایک پل کو سکون میسر نہیں، میں تل تل مر رہا ہوں، میرا دم گھٹ رہا یے۔ واپس آجاؤ یا مجھے بولا لو اپنے پاس، یہ دردِ ندامت اور برداشت نہیں ہوتا۔ يارب !! میری سزا کچھ کم کر دے ، مجھے اپنے پاس بولا لے۔” وہ رو رہا تھا۔ تڑپ رہا تھا،سسک رہا تھا۔

“اور کہتے ہیں نہ جو پاس ہو اس کی قدر کوئی نہیں کرتا۔۔۔ محبت اور قدر توجہ پانے کے لئے انسان کو دور جانا پڑتا ہے۔۔۔ بہت دور۔۔۔ مر جانا پڑتا ہے۔۔۔ وہ چلی گی، دور بہت دور “

آنکھوں سے اشکوں کی برسات زور و شور سے برسی تھی۔

“جب وہ زندہ تھی۔۔۔ میں نے اسے محبت نہیں دی ۔۔۔ مگر وہ مجھ سے عشق کرتی تھی، کہ میرے عشق کو حاصل کرنے کے لئے اسے مرنا پڑا۔۔۔”

ازلان کا کوئی حال نا تھا۔ بڑھی ہوئی شیو، آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے، ڈھیلی سی شرٹ، سیگرٹ نوشی کی وجہ سے کالے پڑتے ہونٹ ، دن کی روشنی میں بھی پورا کمرہ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا۔جیسے اس کے جانے کے بعد اُس کی زندگی میں اندھیر چھا گیا تھا، سسکیاں کمرے میں گونج رہیں تھیں۔

لیکن شاید اب سب ختم ہو چکا تھا، یا پھر وہ خود سب اپنے ہاتھوں سے ختم کرچکا تھا۔

🖤
🖤
🖤

پورے دو دن بعد !! انمول کی آنکھوں میں ہلکی ہی جنبش پیدا ہوئی تھی۔ پریہان نے جیسے ہی انمول کو ہوش میں آتے دیکھا،تو وہ فورن ،اس کی طرف لپکی تھی۔ پری کو انمول کی طرف بڑھتے دیکھ کر، ایشعال، ماہم اور داریاں کے پاس بھاگی تھی۔

” مانو !! میری جانم کیسی ہو۔۔۔؟ طبیعت کیسی ہے۔۔۔؟” پریہان نے انمول کو یک ٹک چھت کو گھورتا دیکھ کر،خود ہی پہلے مخاطب کیا تھا۔لیکن انمول نے ایک بار بھی نہ کوئی جواب دیا، نہ ہی جسم کو حرکت دی تھی۔ مگر انمول کی آنکھوں سے گرم سیال بہتے دیکھ، پری کی آنکھوں میں آنسو اُمنڈ آئے تھے۔

آخر کار اُس کے اپنے بھائی نے ہی ،اُس کی سبزی آنکھوں والی بلی کے دل پر کاری ضرب لگائی تھی۔ اور کہتے ہیں جسے عشق کا تیر کاری لگے ، اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے، دو دن میں ، ایک کھلکھلاتی گڑیا صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔ارے لگتی بھی کیوں نہ قسمت نے جو ایسے درد سے دو چار کیا تھا، قسمت نے اتنی زور سے زمین پر پھنکا تھا۔ کہ واپس اُٹھنا، محال تھا۔

کچھ ہی دیر میں ایشو کے ساتھ ماہم اور داریاں کمرے میں داخل ہوئے تھے۔اور جلدی سے مانو کی طرف بڑھے تھے، انمول کو چیک کیا تھا،

” سب کچھ نارمل ہے۔”

داریاں نے سٹتھو سکوپ گلے میں ڈالتے ہوئے بولا تھا۔ داخلی دروازے سے کمرے میں داخل ہوتے سب گھر والوں نے سنا تھا۔سعدیہ بیگم نے آگے بڑھ کر مانو کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا، تو انمول نے اپنی گردن موڑ کر سب گھر والوں کو دیکھا تھا۔

سب کہ چہرے پر اپنے لیے فکرمندی دیکھ کر دل میں درد کی ٹھس اُٹھی تھی۔ انمول نے اپنی آنکھیں میچ کر کھولیں تھیں۔ اور لمبی سانس لے کر ہوا کے سپرد کی تھی اور بیڈ سے تھوڑی سی اونچی ہو کر بیٹھی تھی، ماحول میں چھائی ہوئی اُداسی کو دور کرنے کی خاطر، اپنے قریب بیٹھی، آسیہ اور کلثوم بیگم کو مخاطب کیا تھا۔

” دادی جانز !!! آپ دونوں پتہ چلا۔۔!! کہ آپ دونوں پر دادیاں بنے والے ہیں۔ ” انمول چاہا کر بھی اپنی لہجے میں وہ شوخ رنگ نہ لاسکی ،جو ہمیشہ لاتی تھی، ہمیشہ سے چہکتی رہتی، سب کی خوشیوں کے لیے ہمیشہ سے اپنا ہر درد چھپا لیتی تھی۔

مگر آسیہ بیگم نے جیسے ہی اپنی بازو واں کیے تھے، تو انمول کے گلے میں پھنسا آنسوؤں کا گولا اپنا ضبط کھوتا ، ہری آنکھوں سی برسا تھا، انمول جھٹ سے دادی کے سینے سے لگی تھی۔

اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی، انمول کو دیکھ سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ جبران صاحب انمول کو اس طرح روتا دیکھ کر ، کمرے سے ہی باہر نکل گے تھے۔تو اُن کو دلاسہ دینے کے لیے حسن صاحب بھی ان کے پیچھے گئے۔

” جبران مجھے معاف کر دو ۔۔!” حسن نے ندامت سے اپنے یار کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے۔ جس کو جبران صاحب نے تھامتے ہوئے ، حسن صاحب کو گلے سے لگایا تھا۔آنکھوں سے آنسو بہے تھے۔

🖤
🖤
🖤

“دادی۔۔۔!! ایسی کونسی بات ہے،جو میں نے، اُس کی نہیں مانی، اُس نے کہا تھا، عمر بھر میرا ساتھ نبھائے گا، میں نے مان لیا، اس نے کہا ، مجھے سے دور رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، میں نے مان لیا ، اُس نے کہا ، میری آنکھوں میں، آنسو نہیں دیکھ سکتا ، میں نے وہ بھی مان لیا۔۔۔ سب جھوٹ تھا، دادی!!! اُس کا ہر وعدہ سب جھوٹ تھا، اس کا ہر دعوٰی سب جھوٹا تھا، اُس نے مجھے اور میرے بچے کو کس بات کہ سزا دی،حالانکہ میں نے تو اُس سے بچپن سے عشق کیا تھا۔۔۔!! اللہ کرے !! جیسے آج میں درد میں تڑپ رہی ہوں، اُس کو ایسا ہی درد ہو،تاکہ اُس کو میری تڑپ محسوس ہو۔۔۔!!! “

انمول تو جیسے درد کہ شدت سے پھٹ پڑی تھی۔ اس وقت انمول کی حالت قابل رحم تھی۔ پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچتے ہوئے، چیخے جارہی تھی۔

“میری جان ایسا نہیں بولتے۔۔۔!!” آسیہ بیگم نے تڑپتے ہوئے، انمول کو تھاما تھا۔مگر وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے چیخ رہی تھی۔” نہیں دادی۔۔!! ایسا بولتے ہیں، مجھے بولنے دیں۔ ہر بار وہ میری محبت کو اپنی آنا کے نیچے روند دیتا ہے۔ایسا کیوں کرتا ہے، اُس کو میری محبت کیوں نظر نہیں آتی۔۔ “

ماہم نے داریاں کو سکون کے انجیکشن کا اشارہ کرتے ہوئے ، انمول کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔ لیکن انمول کو صبر ہی نہیں آرہا تھا۔

وہ مسلسل چیختے ہوئے خود کو اُن کی قید سے چھڑوا رہی تھی، تو داریان نے انمول کی بازو کو سختی سے جکڑتے ہوئے، اس کی بازو میں انجیکشن لگایا تھا۔

” انشاءاللہ وہ۔۔ وہ بھی تڑپے گا ،وہ روئے گا ،ای۔۔ایک پل بھی سکون نہیں ملے گا، آج اُس نے میرے عشق اور میرے بچے ٹھکرایا، کسی اور کا گن۔۔گند کہے کر۔۔۔۔”

انمول نیم بیہوشی کی حالت میں ، ہچکیاں لیتے ہوئے ، بول رہی تھی۔ اُس کی حالت دیکھ کر سب کو ترس آیا تھا۔ پری اور ایشو اپنی مانو بلی کی ایسی ، حالت کو دیکھ کر ٹوٹ گئیں تھیں۔ سعدیہ بیگم تو اپنی ہنسی کھلکھلاتی سی بیٹی کی زندگی اجڑتی دیکھ گہرے صدمے میں تھیں۔

🖤
🖤
🖤

ازلان نے جب سے انمول کو طلاق دی تھی۔جو کہ انمول کے حمل سے ہونے کہ وجہ سے مکمل طور پر نہ ہو پائی تھی۔ مگر تب ہی سے ازلان کی زندگی کا چین تباہ و برباد ہوگیا تھا۔ تو اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ، اپنے سکون کے لیے ،نکاح کرنے کا سوچا تھا۔

آج نایاب اور ازلان کا نکاح تھا۔ ازلان نے سب کو نکاح کا انویٹیشن بھجا تھا۔ نکاح میں شرکت کے لیے راجپوت اور خانزادہ فیملی میں سے کوئی راضی نہیں تھا۔

مگر انمول زبردستی سب کو نکاح میں شرکت کے لیے تیار کیا تھا۔ تین مہینے بعد وہ دن آیا تھا۔جس پر انمول راجپوت کے عشق کی بستی، صفہ ہستی سے مٹ جانی تھی۔

انمول نے سفید رنگ کا سادہ، کھلا سا فراک پہنا تھا، چہرہ مکمل طور پر سپاٹ تھا۔ کوئی رنگ نہ تھا، سبھی گھر والے نکاح کے لیے شادی ہال کی طرف نکل چکے تھے۔کچھ ہی دیر میں سب لوگ ہال پہنچ کر داخلی دروازے سے اندر داخل ہوئے تھے۔انمول نے سالار اور مومل کو بھی آنے کو کہا تھا۔

ازلان نے اپنی اور راجپوت فیملی کو اندر آتے دیکھا، تو سٹیج سے اتر کر،انکی طرف بڑھا تھا۔ مگر سب ہی ازلان کو نظر انداز کرتے ایک بڑی سی میز پر بیٹھے تھے۔

ازلان نے دوبارہ داخلی دروازے دیکھا ، تو ساکت سا رہے گیا، اُس کو قطعی طور اندازہ نہیں تھا، کہ انمول بھی آئے گی۔انمول بڑے کروفر سے چلتی اس کی جانب آرہی تھی۔ ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا گلدستہ تھامے، اپنے بھرے بھرے وجود کو بڑی سی چادر میں چھپائے، وہ بلکل ازلان کے سامنے آکر رکی تھی۔

آج تین مہینوں بعد دونوں ایک دوسرے کے روبرو آئے تھے۔دونوں کی آنکھوں میں کوئی تاثر نہ تھا۔انمول نے لال گلابوں کا گلدستہ ازلان کی طرف بڑھتے ہوئے،اپنی لب کشائی کی تھی۔

” مبارک ہو۔۔!! “

انمول نے ہلکی مسکراہٹ سے ازلان کو، نئی شادی کی مبارکباد پیش کی تھی۔مگر ازلان کو ہنوز خاموش دیکھ کر ،انمول نے اُس کے سامنے چٹکی بجاتے دنیا میں واپس پٹخا تھا۔

” اگر تمہیں لگتا ہے، یہاں آکر تم کوئی تماشہ کرو گی، یا اپنی بد صورت یادوں سے میری خوشیوں کو آگ لگاو گی، تو تمہاری بھول ہے، میں تم سے اور تمہارے سے جڑی ہر یاد سے نفرت کرتا ہوں۔” ازلان نے انمول کے بھرے بھرے وجود اور ہلکے باہر نکلتے پیٹ کو دیکھ کر حقارت سے، طنز بھرے تیر چلائے تھے۔

“ارے میں کیا آگ لگاوں گی،وہ الریڈی تم خود ہی لگا چکے ہو اپنی زندگی میں۔۔۔” انمول ازلان کو آگ لگاتی یکطرفہ مسکرائی تھی اور دانیہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی۔

تو ازلان اُلٹے پاؤں واپس سٹیج کی طرف آیا تھا،کافی وقت سے ازلان، نایاب کو کال کیے جارہا تھا،مگر نایاب کا فون ہنوز بند تھا۔تو ازلان نے غصے سے فون سامنے میز پر پٹخا تھا۔کچھ ہی دیر میں ہال کی لائٹس آف ہوئیں تھیں۔اور اندھیرے میں شادی ہال میں لگے، ایل-سی-ڈی آن ہوئے تھے۔شادی ہال میں موجود سب لوگ حیران ہوئے تھے۔مگر دو نفوس ایسے تھے، جن کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک تھی۔

ابھی سب لوگ حیران ہوتے سوچ ہی رہے تھے۔کہ ایل سی ڈی پر نایاب کی آواز اور اس کا چہرے نظر آیا تھا۔

“ہیلو مسٹر ازلان خانزادہ۔۔۔!! کیسے ہو۔۔۔؟ٹھیک ہی ہوگے،مگر اب زیادہ دیر تک ٹھیک نہیں رہو گے، اور سوچ رہے ہوگے ، میں تو پالر گئی تھی، تمہاری دلہن بننے کے لیے، کیوں کہ آج میرا اور تمہارا نکاح تھا، لیکن میں تو دوبئی میں ہوں، تو کیسے ہوگا نکاح۔۔۔؟ نایاب نے مصنوعی سوچنے کی اداکاری کی تھی۔

” اوپس۔۔۔! تو کیسا لگا میرا بدلہ مسٹر ازلان خانزادہ۔۔۔!!! جس دن تم نے مجھے ٹھکرایا تھا۔اسی دن قسم کھائی تھی۔ تمہیں برباد کر دوں گی۔اور آج تم ہوگے برباد ، پوری طرح سے ۔۔۔!! بربادی بہت مبارک ہو۔۔!! “

نایاب نے اپنی بات کے آخر میں مکرور سا قہقہہ لگایا تھا۔ مگر مقابل کھڑے ازلان کے جسم میں شرارے پھوٹنے لگے تھے،غصے سے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھیں۔آج ازلان کی عزت کی دھجیاں بکھریں تھی، ہر طرف مہمانوں کی چہ میگوئیاں گونج رہیں تھیں۔ راجپوت اور خانزادہ فیملی حیرت سے سب دیکھا رہیں تھیں۔حد تک انمول کی آنکھوں میں حیرت انگیز تاثرات نمایاں تھے۔ مگر ایشعال اور پریہان کے چہرے پر ہلکی چمک تھی۔

ازلان نے غصے میں آکر اپنی گن نکالتے ہوئے ، شادی ہال میں لگی ہوئی، ہر ایل سی ڈی پر فائر کیا تھا۔ازلان غصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔سارے مہمان ازلان سے ڈر کر آہستہ آہستہ ہال سے باہر نکل چکے تھے۔

راجپوت اور خانزادہ فیملی بھی واپس جاری تھی، کہ دانیہ بیگم رک کر ازلان کی طرف آئیں تھیں۔ اور ازلان کے جھکے سر کو دیکھ کر طنزیہ مسکرائیں تھیں۔

“بیٹا جو جیسا کرتا ہے ویسا بھراتا ہے ، تم نے ماں باپ کے مان کو توڑا ، تم نے اپنی آنا کی آڑ میں بنا سچ جانے ،انمول کو چھوڑا اور دیکھو، نایاب نے آج تمہیں ساری دنیا کے سامنے رسوا کر دیا۔”

دانیہ بیگم بولنے کے بعد رکی نہیں تھیں۔

ازلان کو آج اپنا آپ اکیلا سا محسوس ہوا تھا۔وہ سمجھتا تھا،نایاب کے ساتھ غلط کرنے کے سزا ملی تھی۔جو انمول نے اُس کو دھوکا دیا تھا۔مگر وہ تو نایاب کی ہر سازش سے ہی انجان تھا۔شاید وقت ازلان کو گہرا سبق دینا چاہتا تھا۔

🖤
🖤
🖤

کچھ وقت بعد۔۔!!

رات کے وقت ہر سو گھپ اندھیرے کے ساتھ سفید دھند کا راج تھا،سنسان علاقہ تھا۔جہاں تین کالے سائے نظر آئے تھے۔ ہر طرف موت سا سناٹا چھایا تھا۔ دور کہیں گیدڑوں کی بھونکنے کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔ تینوں کالے سائے خستہ حال عمارت میں داخل ہوئے، تو ان کا استقبال دلخراش چیخوں نے کیا تھا۔

کیلر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔مگر وہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں تھی،بلکہ وہ سفاکت سے بھری پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔آنکھوں میں وحشت لیے ،کیلر، ہنٹر اور فائر اندر ڈینجر روم کی طرف بڑھے تھے۔جہاں ڈیول کنگ ،ایول مونسٹر ، ریبل اور سپائے ہیکر چاروں بیٹھے، اُن کا انتظار کر رہے تھے۔

کیلر اور ڈیول دونوں آج اتنے وقت بعد دوبارہ سامنے آئے تھے۔ مگر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھنے سے گریز کیا تھا۔اور ڈینجر روم کی طرف آئے تھے، جہاں کرسیوں کی ایک قطار تھی۔ ہر کرسی پر وطن کا غدار نڈھال سا بندھا ہوا تھا۔

ایک کرسی پر جہاں آرا بندھی تھی، تو اس کے ساتھ سلمان بندھا تھا، اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر رمیز بندھا تھا، تو اس کے ساتھ ہی روبن رابرٹ تھا، اور آخری کرسی پر غفار بندھا تھا۔

کیلر کے اشارے پر ہنٹر اور فائر نے گرم کھولتا ہوا پانی، اُن پانچوں کے جسموں پر پھنکا تھا۔ گرم سیال اپنے جسموں پر گرتا محسوس کرتے، اُن نیم بیہوش پانچوں کی دلخراش چیخیں گونجی تھیں۔ تو مقابل کھڑے سارے مارخور مسکرائے تھے۔

” مجھے معاف کر دو۔۔۔خدا کا واسطہ ہے،مجھے پر رحم کرو، اب یہ درد برداشت نہیں ہوتا، مجھے مار دو۔۔۔!! ” جہاں آرا اپنے زخموں سے چور جسم پر کھولتا ہوا پانی پڑتے ہوئے بلبلائی تھی، روز ٹارچر کے بعد وہ موت مانگتی تھی، مگر کوئی نہیں تھا، جو اُس کی سنتا اور اُس جہنم سے آزادی بخشتا۔۔

” کیوں ابھی سے موت چاہیے۔۔۔؟ یہ موت تب کیوں یاد نہیں آئی، جب جب تم نے نابالغ بچیوں کا سود کیا۔۔۔!!! ان کو اپنے سامنے ہی درندگی کا نشانہ بنتے دیکھا ، ان کی چیخوں سے مسرور ہوئی۔۔۔!!! تب تمہارا دل نہیں کانپا۔۔۔؟ اُن ننھی ننھی سی معصوم سی بچیوں کی بد دعائیں لگیں ہیں، مگر مجھے بھی تمہاری چیخیں لطف اندوز کرتیں ہیں۔ اسی لیے تڑپو اور تڑپ تڑپ کر مرو ” کیلر نے وحشت زدہ لہجے میں جواب دیا تھا۔ کیلر کی بات سنتے جہاں آرا کے رونے مزید روانی آئی تھی۔اور زور زور سے چیخنے لگتی تھی۔

کہ ڈیول نے اپنی گن سے نشانہ لیتے ہوئے ،اس دنیا سے آذای بخشی تھی۔ مگر کیلر نے ڈیول کی خود مختاری خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔ یہ بندہ ہمیشہ سی اپنی ہی منمانی کرتا تھا۔

جہاں آرا کی ہولناک چیخوں نے باقی کے چاروں بیٹھے نفوس کے اعصابوں کو جھنجھوڑا تھا۔کیلر نے ایول مونسٹر کو دیکھا اور اشارے سے سلمان کی طرف بلایا تھا۔ تو ایول مونسٹر نے سامنے میز پر رکھے ہتھیاروں میں سے پتلی تار نما ہتھیار اُٹھایا تھا، دیکھنے وہ ایک پتلی سی تار تھی، مگر در حقیقت وہ ایک باریک سی بلیڈ تھی۔ ایول نے وہ بلیڈ اُٹھائی تھی،

ایول مونسٹر کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ ، سلمان کرسی پر جھٹ پٹانے اور بلک بلک کر رونے لگا تھا۔ایول نے سلمان نے آدھے جلسے ہوئے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا اور اُس کا منہ کھولتے ، ہونٹوں کے درمیان می اُس تار سے وار کرتے ہوئے، سلمان کی باچھیں چیر دی تھیں، اور اس کے بعد سلمان کی زبان کاٹ دی تھی۔ ایول کو دیکھتے ہوئے ، باقی تینوں نے اپنی لیے قدرتی موت مانگی تھی۔

“م۔۔ مدے۔۔۔دھی۔۔مم۔۔۔۔دولی۔۔۔۔مار دو۔۔۔!!! (مجھے بھی گولی مار دو۔۔۔۔!!! ) ” سلمان سے کوئی الفاظ ادا نہ ہو پار رہا تھا۔بلآخر تڑپ تڑپ کر بہوش ہوچکا تھا۔ایول نے سلمان کے بہوش پڑنے پر ایک جھٹکے سے، سر دھڑ سے الگ کیا تھا۔

اب کی باری ڈاکٹر رمیز کی تھی۔کیلر کے اشارے پر ہنٹر اور فائر اپنی جگہ سے آگے بڑھے تھے۔ اور ہاتھ میں آپریشن کے سارے ٹولز اُٹھائے تھے۔ مگر وہ ٹولز کیلر کے تیار کردہ تھے۔ دس انچ کی سوئی تھی ، جس میں پتلا بلیڈ نما دھاگا ڈالا گیا تھا۔

” اس کو ایسی سزا دو، کہ دنیا کو کوئی بھی ڈاکٹر ایسا کام کرنے سے کروڑوں بار سوچے ، اس کو انسانی جسم سے اعضاء نکالنے کا شوق ہے ، اُس کے بھی ہر ایک عضاء کو نکالو۔۔۔ ” ٹاکسک کیلر کی حقارت بھری آواز گونجی تھی۔ہنٹر نے رمیز کے ایک ایک جسم کے عضاء کو نکالا تھا، تو فائر نے سوئی اور بلیڈ سے مزید ٹکڑے کیے تھے۔ اسی بیج رمیز پھڑپھڑاتے ہوئے مرا تھا۔

روبن رابرٹ کو ہیکر اور ریبل نے اس دنیا سے رخصت کیا تھا۔

” میجر بلال احمد غفار۔۔۔!!! خود بولنا شروع کرو گے۔۔۔؟ یا پھر کوئی تحفہ تمہاری خدمت میں پیش کروں۔۔۔!! “

کیلر نے غفار سے تمسخرانہ مسکراہٹ لیے سوال کیا تھا۔ غفار تو کیلر اور اُس کی سفاکی پر ششدر سا بیٹھا تھا۔ آخر کو اُس کے انجام کا وقت اچکا تھا۔ اُس کی بوئی گئی، گناہوں کی فصل کٹنے کا وقت اچکا تھا۔ تو غفار کے دل میں آیا کہ کیوں نہ ساری سچائی ہی بتا کر ہی مروں۔۔۔

” سنیک ونم یعنی ایس-وی کوئی اور نہیں شاہ انڈسٹری کا مالک شہیر شاہ ہے۔” یہ کیسا انکشاف تھا، سالار کو اپنا وجود بے جان سا ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

” تین مہینے بعد ایکس مارچ کی تاریخ کو پاکستان میں میزائل کا ٹیسٹ ہوگا اور بہت تباہی ہوگی، پاکستان تقریبن پورا کا پورا تباہ ہوجائے گا اور اگر کوئی بچ بھی جائے گا، تو بلاسٹ کے بعد زہریلی گیس کا سپرے کیا جائے گا۔

ایس-وی نے بہت سے قتل کروائے ہیں۔اوع شاہ میر عباس کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے، میں نے شاہ میر اور وارث مجتبٰی کو مارنے میں ایس-وی کا ساتھ دیا۔۔ !! شاہ میر عباس تو مرگیا ، وارث کے گھر پر حملے سے اس کی بیوی تو مری، لیکن وارث اور اُس کی بیٹی بچ گے۔۔۔اس کے علاوہ وہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔”

غفار نے آنکھیں میچتے ہوئے سب بتایا تھا۔

سالار نے گن اُٹھاتے غفار کا بھجا اڑایا تھا۔وہ غصے سے پاگل ہونے کو تھا۔

رہے رہے کر اُس کو اپنے باپ سے گھن آرہی تھی، مگر سالار کی حرکت پر انمول نے غصے سے زوردار پنچ سالار کے سنجیدہ چہرے پر جڑا تھا۔ جس نے غصے میں پاگل ہوتے ہوئے ، اتنے بڑے گواہ کو مارا تھا۔ جس کے ساتھ بہت سے راز دفن ہوئے تھے۔

کیلر وارث مجتبٰی صاحب کو میسج کرتے،گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی۔ساتھ ہی سب کو گھر کی طرف آنے کو کہا تھا۔

🖤
🖤
🖤

رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ راجپوت ہاؤس میں سب اکھٹا تھے۔ انمول کے میسج پر سب پریشانی سے اسکا انتظار کر رہے تھے۔ کہ داخلی دروازے سے انمول اور باقی سب آتے ہوئے دیکھائی دیے، جو کہ انتہائی سنجیدہ تھے۔

انمول کو آتے دیکھ سب کھڑے ہوئے تھے۔ مگر انمول وارث صاحب کے مقابل کھڑی ہوئی تھی۔باقی سب خاموشی سے انمول کی حالت دیکھ رہے تھے، جس کا چہرہ غصے سے لال لہو ٹپکا رہا تھا۔

” وارث سر !! میرے ہر سوال کا جواب بلکل سیدھا دیجئے گا۔ شہیر شاہ کو اپنا جانتے ہیں۔۔۔؟اور کرنل شاہ میر عباس۔۔۔؟ کون ہے۔۔۔؟ “

انمول کے سوال پر جبران صاحب کے چہرے پر سایہ لہرا تھا۔ دل کی دھڑکنوں نے رفتار پکڑی تھی۔وارث صاحب بھی انمول کے سوال پر خاموش سے رہے گے تھے۔کافی دیر خاموشی کے بعد انمول دھاڑی تھی۔

” وارث سر مجھے جواب دیں۔۔۔ !!! مجھے بہت افسوس ہوا ، سر آپ نے مجھے اس قابل نہیں سمجھا، کہ پوری سچائی بتاتے۔۔۔”

انمول رنجیدہ لہجے میں بولی تھی۔ تو وارث صاحب نے بولنا شروع کیا تھا۔ جس کو سب دم سادھے سن رہے تھے۔

🖤
🖤

ماضی۔۔!!

” ہیرے اس سب کے پیچھے توں تھا۔۔۔ !!!توں نے ہمارے ملک کے ساتھ غداری کی۔۔ !!! توں تو میرا جگر تھا۔” ساری سچائی جان لینے کے بعد شاہ میر کے دل میں ٹھس اُٹھی تھی۔ وہ ٹوٹ چکا تھا۔

“میر۔۔!! یار تو میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا، یار اس کام میں بہت زیادہ پیسہ ہے، ہم مالا مال ہو جائیں گے اور اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے، کچھ بھی نہیں، میرے کام میں اگر ساتھ نہیں نبھا سکتا، تو راستے کا کنکر بھی مت بن، اب تیری فیملی مکمل ہونے والی ہے، تو خوش رہے، بھابھی کو وقت دے، یوں کتے کی طرح وفاداری نبھا کر کیا کر لینا ہے۔۔۔۔؟!! ” کرنل شاہ میر عباس نے بےیقینی سے اپنے یار ہیرے کی طرف دیکھا تھا۔

” ہیر۔۔ہیرے۔۔!!!یہ تو بول رہا ہے، بول دے یہ سب مذاق ہے۔” شاہ میر نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو بمشکل روکا تھا۔

” ہیرے۔۔ !!! اشرف کے جانے کے بعد ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی جان تھے۔ مگر اچانک سے شاہ میر کے دہن میں ایک جھمکا سا ہوا تھا۔ آنکھیں مزید لال ہوئیں تھیں۔

” شہیر شاہ۔۔۔!!! اشرف کو سب معلوم ہو گیا تھا۔تمہارے بارے میں وہ مجھے سب بنانے والا تھا۔ مگر مجھ سے ملنے سے پہلے ہی اُس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا، کیا وہ سب بھی۔۔۔!؟ “شاہ میر کے لفظ لڑکھڑا گئے تھے۔ ٹانگوں میں جان ختم سی ہوگی تھی۔شہیر شاہ کے چہرے پر ہلکی سی چمک دیکھ کر۔۔

” ارے یار بہت سمجھدار ہے تو سچا یار ہے، فورن سے پہچان لیا، کہ اس کی موت حادثہ نہیں سوچی سمجھی سازش تھی، صرف یہی نہیں تیری بہن بانو کو بھی میں نے ہی ، سکون کی نیند سلایا تھا۔ اُس کو میری محبت نظر نہیں آئی،اُس نے اشرف کو چنا تو پھر میں نے بھی پلین کیا ، آئمہ مجھے پسند کرتی تھی، تو اُس سے شادی کی اور اس کے سامنے اچھے شوہر کا ڈھونگ کیا ، اسی طرح میرے دو بیٹے ہوگے۔

مگر جب جب اشرف کو بانو کے ساتھ خوش دیکھتا، مجھے جلن ہوتی ، پھر جب مجھے معلوم ہوا ، کہ بانو کے بانو کی پریگنیسی میں کمپلیکیشن تھیں، اُس کے باوجود وہ بچ گئی ہے، تو ڈاکٹر سے کہلوا کر بانو کو صفہ ہستی سے مٹا دیا ، اُس کے فورن بعد پتہ ہے، میری بیگم صاحبہ کو میری ساری حقیقت معلوم ہوئی ، تو اس نے سالار کی سالگرہ والے دن پولیس کوبلا تاکہ مجھے پکڑوا سکے ، مگر وہاں میرا بندہ بیٹھا تھا ، اس نے مجھے کال کر کے سارا بتایا کہ ، تو مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی کہ ڈھونگ ہی صحیح، مگر میں سب کچھ کیا آئمہ کے لیے اور اس نے مجھے دغابازی کی ، تو بس میں نے آئمہ اور اپنے بچوں کو راستے ہٹانے کا پلین کیا ، مگر ایک نوکرانی کی وجہ سے، ایک بچ گیا۔ اس کی کھوج جاری ہے، بہت جلد مل جائے گا۔تو اس کے ذہن میں اس ملک کے خلاف بہت زہر بھروں گا۔ تاکہ کل کو وہ میرا بازو بن سکے، اور ساتھ نبھائے”

شہیر شاہ اپنی سناتا چلا گیا تھا۔

شاہ میر کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے، سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ رونے سے آنکھیں لہو ٹپکا رہیں تھیں۔شاہ میر زمیں پر ڈھے سا گیا تھا۔

” سچا کہتے ہیں لوگ !! دوست سے بڑا وفادار اور غدار کوئی نہیں۔۔ !! “

” شہیر شاہ تمہیں ایسی عبرتناک موت دوں گا، کہ دنیا یاد رکھے گی، یہ شاہ میر عباس کا، تم سے وعدہ ہے، تم نے اتنے معصوموں کی زندگی اجاڑی ہے۔ ” شاہ میر نے دل میں ایک عہد کیا تھا۔

مگر دور کھڑی قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔شاہ میر کا فون بجا تھا۔ مگر فون پر اپنی بیوی عائشہ کی روتی ہوئی آواز سن کر وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر ، اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تھا، عائشہ کو گاڑی میں بیٹھتے ، شاہ میر نے تیزی سے گاڑی بھگا لی تھی۔

شہیر شاہ کے حکم پر غفار نے شاہ میر کی گاڑی کو بلاسٹ کرنا تھا۔ مگر گاڑی میں اُس کی بیوی کو بیٹھا دیکھا ، اس نے شاہ میر کی گاڑی کو ٹرک سے ٹکر مارتے ہوئے ، کھائی میں گرایا تھا۔ یہ منظر دو نفوسوں نے بخوبی سے دیکھا تھا۔ غفار نے دور سے وارث کو پہچان لیا تھا۔جو سکتے کی حالت میں اپنے کرنل کی گاڑی کو بلاسٹ ہوتے دیکھ رہا تھا۔گاڑی سے دھواں ہر سو پھیل چکا تھا۔

مگر جبران جو سعدیہ بیگم کو ہاسپٹل لے کر جارہا تھا، اچانک شاہ میر کو گاڑی بھگاتا اور اس کے پیچھے کیسی ٹرک کو فل سپیڈ آتا دیکھا ، اپنی سپیڈ ہلکی کر گیا تھا، جبران کی گاڑی غفار کی نظر سے دور تھی اور جبران نے شاہ میر کو گاڑی سے کھودتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا۔

غفار کے ٹکر مارنے کے بعد شامیر کی گاڑی کائی میں گری تھی، گرنے سے پہلے شاہ میر نے عائشہ کو تھمتے ہوئے باہر کی طرف چلانگ لگائی تھی۔ مگر جب وہ دونوں گرے تھے۔تو گاڑی بلاسٹ ہوئی تھی ، اور شاہ میر باہر گرتے ہوئے بڑے سے پتھر سے ٹکرایا تھا۔جس سے اُس کا سر پھٹ چکا تھا۔

شاہ میر نے اپنی بند ہوتی ، آنکھوں سے پہلے جبران کو دیکھا تھا۔اور ہولے سے کچھ بولا تھا۔

” جج۔ب۔ران۔جبران م۔ی۔ری۔۔میری۔۔ع۔۔ا۔۔عائشہ کو ہسپتال لے جاو۔۔وہ حمل سے ہے۔۔۔اگر۔۔۔بچہ زندہ۔۔ہو۔۔۔تو۔۔اس کو اپنا نام دینا۔۔ !! “

(جبران میری عائشہ کو ہسپتال لے جاو وہ حمل سے ہے، اگر بچہ زندہ ہو، تو اُس کو اپنا نام دینا۔۔!! )

شاہ میر نے بمشکل ہاتھ جوڑے ہوئے ، چند الفاظ ادا کیے تھے۔اور پھر آنکھیں ساکت ہوئیں تھیں،اور جڑے ہوئے ہاتھ ، ٹوٹ کر گرے تھے۔

جبران نے شاہ میر اور عائشہ کو اپنی گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے، گاڑی ہاسپٹل کی طرف بھاگا لی تھی۔ڈاکٹر نے شاہ میر کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا، مگر عائشہ کی چند سانسیں باقی تھیں۔ جبران نے شاہ میر اور عائشہ کو ہسپتال لانے میں دیر کر دی تھی۔ سعدیہ بیگم گاڑی میں ہی بیہوش ہو چکیں تھیں۔ جہاں ڈاکٹر نے بچے کے بچنے کی کوئی امید نہیں دلائی تھی۔

جبران کے ہاتھوں میں اس وقت دو بچیاں تھیں،ایک کی سانسیں روکیں تھیں، تو ایک کو سانسیں ملیں تھیں۔ اس دن شاہ میر اور عائشہ کے ساتھ جبران نے اپنی بیٹی کو کھو دیا تھا۔مگر عائشہ اور شاہ میر کی بیٹی کو اپنا نام دیا تھا۔اور اپنے مانا تھا۔ سعدیہ بیگم کی حالت بہت نازک تھی۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے جبران نے اپنی بیٹی کی موت اور عائشہ اور شاہ میر بیٹی کے بارے میں کچھ نہ بتایا تھا۔

وہ بچی بہت معصوم اور پیارا سی تھی۔اللہ کی طرف سے انمول تحفہ تھی۔ تو جبران نے اس کا نام انمول جبران راجپوت رکھا تھا۔

🖤
🖤
🖤

وارث کی سچائی بتانے پر سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ سعدیہ بیگم کی سسکیاں خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہیں تھیں۔ ان کو ایک ڈر سا لگ رہا تھا۔کہ انمول ان کو ماں بولنے سے انکار نہ کر دے، انمول نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔جن کی آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا۔ شاید کچھ کھو دینے کا۔۔

” میری صرف ایک ہی مما ہیں، میرے بابا جانی کی سعدیہ ڈارلنگ بس کوئی عائشہ نہیں۔۔ ” انمول نے سعدیہ بیگم کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے ، اپنی لہجے کو ہشاش بشاش بنایا تھا۔ احمر اور ایشعال بھی بہت زیادہ روئے تھے۔ مگر ان سب میں ایک شخص تھا۔ جو مکمل طور پر ٹوٹ سا گیا تھا۔ سر مکمل جھکا ہوا تھا۔

” ہم سب فیملی ہیں، شاہ اور تمہیں سر جھکائے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں، جس کا ہے اُس کو ہم اُس کے انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔ ” انمول نے سالار کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے ایک عزم سے کہا تھا۔

وہ بندہ ہمیشہ ہی اپنی مانو بلی کے رنگ دیکھ کر حیران رہے جاتا ، آج بھی اُس لڑکی نے یہ نہیں کہا تھا ، کہ میرے ماں باپ کے قاتل کے بیٹے ہو تم، میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ، اس لڑکی نے تو اپنے خاندان کا فرد کہا تھا۔

وہ لڑکی اپنے سے جڑے ہر رشتے سے کتنا مخلص تھی، مگر یہ دنیا کبھی کسی کی سگی نہیں ہوئی۔

🖤
🖤
🖤

رات کے ایک بجے کا وقت تھا، سب گھر والے سونے جاچکے تھے، انمول نے اپنی دراز سے کچھ نکالا اور اُس پر لکھنے لگی، آج اُس کو اپنی زندگی کے ایک چھپے پہلو کی حقیقت معلوم ہوئی تھی۔ مگر انمول کو کوئی رنج و غم نہ تھا، کیوں کہ اللہ نے اُس کو جو ماں باپ عطا کیے تھے۔ انہوں نے کبھی کوئی دکھ درد نہ دیا تھا۔ہمیشہ اپنوں سے بھی بڑھ کر پیار کیا تھا۔

جاگتے جاگتے تہجد کا وقت ہوچکا تھا، کچھ ہی دیر میں، انمول تہجد نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔ دل میں عجیب سی بےچینی محسوس ہو رہی تھی۔تو تازہ ہوا لینے کے غرض سے باہر گارڈن میں آئی تھی،انمول کی پریگنیسی کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا۔

چلتے چلتے اچانک انمول کے پیٹ میں درد کی لہر دوڑ گئی تھی۔سانس لینے میں مشکل پیش آرہی تھی، ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکیں تھیں۔ بامشکل قدم اندر کی جانب بڑھائے تھے،درد سے کھڑے رہنا مشکل سے مشکل ہوگیا تھا۔قدم لڑکھڑا سے گئے تھے۔تو خود کو گھسیٹتے ماں باپ کے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ اور ہلکے سی دروازہ کھٹکھایا تھا۔

” م۔۔مما۔۔!! ” انمول نے دروازے کھٹکھاتے ہوئے ، ماں کو پکارا تھا۔سعدیہ بیگم جو سو رہیں تھیں، اچانک سے انمول کی ہلکی ہلکی سی آوازیں سن کر جاگیں تھی،اور کمرے سے باہر کو بھاگیں تھیں،مگر اپنے کمرے کے باہر انمول بے ہوش پڑا دیکھا، ” انمول۔۔!!” وہ چیخیں تھیں، سعدیہ بیگم کی چیخ سن کر سب جاگے تھے، جبران صاحب بھی گاڑی کی چابی لی تھی، تو علیان اور احمر اپنی بہن کو باہوں میں بھرتے ہاسپٹل کی طرف بھاگے تھے۔

ان کے پیچھے جبران صاحب سعدیہ بیگم ، پریہان اور ایشعال کو لے کر گئے تھے۔

جب کہ مصطفٰی صاحب اور آسیہ بیگم نے انمول اور بچے کی سلامتی کی دعائیں کیں تھیں۔ ساتھ ہی حسن صاحب کو کال کر کے سارے حالات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

چار گھنٹوں بعد ڈاکٹر آئی سی یو سے نکلیں تھیں،اور بتایا تھا۔ بچے کی پیدائش وقت سے پہلے ہوئی ہے،تو کچھ دن بچے کو انڈر ابزرویشن میں رکھا جائے گا اور پیشنٹ کی حالت اب کچھ بہتر ہے۔انمول کو کچھ وقت بعد کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا،

انمول جب سے ہوش میں آئی تھی، اس نے وہاں سب کو دیکھا تھا ،مگر وہ نہ تھا جس کی اس کو تلاش تھی۔ جس کی آنکھوں کو طلب تھی۔انمول کے دل نے شدت سے دعا کی تھی، ایک بار آجائے ، تو وہ اُس کو سچے دل سے معاف کر دے گی۔مگر اس کی آرزو صرف آرزو ہی رہی۔۔

” مانو۔۔۔!! ماشاءاللہ سے میں خالہ بن گی” ایشعال نے چہکتے ہوئے کہا تھا۔ “ارے یار ایشو خالہ کے ساتھ ساتھ مامی بھی ہو ” علیان نے ايشو کے ماتھے پر چت لگاتے ہوئے بتایا تھا۔تو علیان کی بات سنتے، سب کے چہروں پر گہری مسکراہٹ ائی تھی۔ ” بلکل میں خالہ پلس مامی پلس پھپھو ہوں ، پیاری بےبی کی ” پریہان نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا۔ ” ارے ارے میں ہوں نا اُس کا ون اینڈ اونلی ہینڈسم چاچو۔۔” داریان نے بھی سب کے ساتھ اپنا حصہ ڈالا تھا۔

” پر مما۔۔۔!! ” میرا بےبی کہاں ہے۔۔۔؟” انمول نے اپنے اردگرد متلاشی نظروں سے اپنے بچے کو دیکھا تھا۔جو اُس کو کہیں نہیں نظر آیا تھا۔” ارے بھئی میری پیاری سی پرنسز میرے پاس رہے گی۔آخر کو میں اس کی بڑی خالہ ہوں، میرا سب سے پہلا حق ہے، “

ابھی سب انمول کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے۔ کہ کمرے کا دروازہ کھولتے سالار اور مومل داخل ہوئے تھے۔

” اسلام و علیکم ۔۔!! “

سالار اور مومل نے ایک ساتھ سب کو سلام کیا تھا۔ ” وعلیکم السلام آو سالار ماموں اور مومی خالہ ہماری مانو بلی کی لٹل فیری آئی ہے۔

ایشعال نے چہکتے ہوئے بتایا تھا، مگر سالار کو ماموں بولنے پر گڑبڑاتے ہوئے، اس کے منہ سے بے ساختہ استغفار نکلا تھا۔

” بےبی کہاں ہے۔۔۔؟ “

مومل انمول سے ملنے کے بعد یہاں وہاں دیکھتے ہوئے بولی تھی۔وہ اصل میں پریمیچور ہے ، اسی لیے انڈر ابزرویشن میں رکھا گیا ہے، کچھ دنوں بعد ہم سب کے ساتھ ہوگی۔

” اچھا صحیح !! مانو کیا بےبی کا نام میں رکھ سکتا ہوں۔۔۔؟ آپ میرے بےبی کا نام رکھیے گا۔۔۔!! سالار نے التجایا انداز میں انمول سے کہا تھا۔ تو سالار کی بات سنتے انمول نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا تھا۔

” میرم راج۔۔!!! ” سالار ابھی پورا نام لیتا اس بے پہلے ہی انمول نے سالار کو ٹوک دیا تھا۔ ” نہیں شاہ ۔۔۔!! شاید تم بھول گے۔ میرم خانزادہ ہے، میرم ازلان خانزادہ۔۔۔!! “

انمول نے سالار کے جملے کی تصحیح کی تھی، تو سب نے انمول کے الفاظوں کو اچھے سے ملاحظہ کیا تھا۔وہ لڑکی آج بھی اُس شخص کو نہیں بھولی تھی، ہمیشہ اُس کی سبز آنکھیں ، اپنے زی کی منتظر رہتی تھیں۔

دنیا کیسے کہے سکتی ہے، اُس شخص نے تمہارے ساتھ غلط کیا ،تو بھول جاؤ ، اپنی زندگی میں آگے بڑھو ،وقت کسی کے لیے نہیں رکتا ، مگر کوئی اُس عاشق سے پوچھے ، اپنے محبوب کی یاد سے غافل تک ہونا سوہان روح ہوتا ہے۔

اس شخص سے کوئی پوچھے کہ وہ زندہ ہے یا ترک تعلق کے ساتھ مر چکا ہے، جس انسان کو اُس کے عشق نے ٹھکرا دیا، اُس عاشق کے لیے یہ دنیا ، وقت، زندگی سب کچھ اس پل رک جاتا ہے، اُس ہی لمحے روح مر جاتی ہے، اگر باقی رہتا ہے، تو صرف جسم ، لیکن جسم کو زندہ رکھنا پڑتا ہے، ان کے لیے جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *