Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 10)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

“یہ ساری سمگلنگ تو تم خود بھی کروا سکتے ہو۔ انتا سب کچھ تو ہے تمہارے پاس پھر کسی چھوٹے موٹے گینگسٹر کی مدد کیوں چاہے۔۔۔۔؟” ایول مونسٹر خاصے تعجب سے بولا تھا۔

جس پر سامنے بیٹھے شخص کہ ماتھے پر بل پڑے تھے۔ اس نے اپنے خاص بندے کو اشارہ کیا۔ جس پر وہ بولنے لگا۔

” سر اپ ڈیل کے لیے تیار ہیں ۔۔۔! کہ نہیں ۔۔۔! کیوں کہ ایس-وی آپ کے کسی سوال کے جواب کا پابند نہیں۔۔۔”

غفار سر جھکائے بولا تھا۔

“ہممم دو دن بعد جواب مل جائے گا”

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

کیلر۔۔!!

“بری خبر ہے۔۔۔”

فائر نے بولنا شروع کیا، “ایس-وی جو کہ پاکستان کا ہی رہنے والا ہے۔اس کی کوئی شناخت نہیں ہے۔کبھی کسی نے اس کو دیکھا نہیں ہے۔”

ایس-وی ہمیشہ خود کو چھپائے ہوئے رکھتا ہے۔ کبھی اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں بولتا۔ساری ڈیلنگز اس کا رائٹ ہینڈ غفار کرتا ہے۔وہ محض ساری بات سنتا ہے۔

” اس کے ساتھ ملک کے غداروں کا سپوٹ ہے۔ جس سے وہ ہر چیز کی سمگلنگ کرتا ہے۔ کھلے عام بنا کسی روک ٹوک کے۔ایس-وی کے ساتھ سیاسی لوگوں کا بہت تعاون ہے۔ جس کہ بدلے یہ ان لالچی لوگوں کو پانچ پرسنٹ دیتا ہے۔تاکہ کوئی تنگی نہ ہو۔”

” ہمم۔۔!! “

ہنٹر۔۔۔!!

” پاکستان سے جو سمگلنگ ہوتی ہے۔ وہ معصوم، مجبور، لاچار لڑکیوں کی ہوتی ہے ، چھوٹے بچوں کو اغواء کر کے بیچا جاتا ہے اور مشہور بڑے ہسپتالوں میں سے باڈی پاٹس کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔

اس کے بدلے میں خطرناک ہتھیار آتے ہیں اور ٹنوں کے حساب میں ڈرگز سپلائی ہوتا ہے۔ایس-وی اس سارے سرکل کا ہیڈ ہے۔ جو کہ پاکستان کو نستونابوت کرنے پے تلا ہوا ہے۔۔

حالی میں ہوئے واقعے کی وجہ سے جو اس کو نقصان ہوا ہے۔ اور ساتھ ہی بادشاہ کی موت کا انتقام لینے کے غرض سے اس نے اگلے ہفتے تین سے چار بلاسٹ کروانے ہیں۔ اور وہ بم خاص یو-ایس-اے میں بنائے گئے ہیں۔

سارے پاکستانی آئی-ایس-آئی ایجنٹس ایک جٹ ہو کر ان بمز کا پتہ لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔

“ہممم”

“Interesting, But S.v is not a Good planner..”

” وہ سمجھتا ہے۔ کہ بلاسٹ کر کے چپ چاپ سب کا دھیان بھٹکا دے گا۔ اور پیچھے سے وہ اپنی سمگلنگ آرام سے کر لے گا۔”

“ہاہاہا “

“مگر اس کی بھول ہے۔ ہم اس کے ناپاک ارادے کو کبھی تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے۔اس بار ایس-وی کو ایسا جھٹکا ملے کا کے دن میں تارے ناچتے ہوے دیکھائی دیں گے”

“انشاءاللہ”

تینوں نے دل و جان سے کہا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

پریہان جب تیار ہوکے اوپر آئی تو سب کو اپنا منتظر پایا۔ کہ اچانک ہی لائنٹس آف ہو گئیں۔۔۔

پھر کچھ سپوٹس لاٹس میں انمول سامنے آئی اور ہلکے ہلکے سٹیپس لینے لگئ۔۔۔۔

رنگ برنگی بجلیاں جگ مگا رہیں تھیں۔۔

🎶 Music🎶

(انمول)

ہووووووو

تجھے نچا دوں میں

تک دینا دن

بین پے جیسے ہے

ناچتی ناگَن

آگے پیچے

تیرے گھوموں جیسے

پھولوں پے کاٹتی

مکھی بھنا بھن

ذرہ تو ہاتھ اٹھا کے

کمریا گول گھما کے

اجا بیبی فلور پے

دل والے سے تو دل لگا کر

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

پھر مانو کا ساتھ دینے کہ لیئے ایشو نی دھماکے دار اینٹری ماری دونوں ساتھ میں سٹیپس کرنے لگے۔۔۔

🎶 Music 🎶

( اشعال اور مانو )

جشن بازی کی شام ہے

جشن بازی کی شام ہے

تھرکتی تال پے

ٹھمکے لگائے ظلمہ

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

لائنز کی تبدیلی پر مومل نے بھی ساتھ دیا اور ڈانس کو چار چاند لگا دیے۔۔۔

(مومل،ایشو اور مانو)

جان لیوا تیری ادا

ہائےےےےےے

جان لیوا تیری ادا

دل والے پیا کا دل

چورائے ظلمہ

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک۔۔۔

🎶 Music 🎶

انمول کی شرارتی سے سٹیپس پر داری نے بھی زبردست قسم کی اینٹری ماری اور مانو کو چھیڑتے ہوئے گانے پر ڈانس ساتھ پری کو بھی ملا لیا۔۔۔

( داریان )

تیری شیطانیوں سے

محفل رنگین ہوئی

تو دیوانہ ہوا

میں بھی شوقین ہوئی

دنیا جلتی ہے تو جلے

اااااوووووووہووووو

دنیا جلتی ہے تو جلے

آہااااااااااااااااااااااااااا

رات بھر ظلمہ کے سنگ

ناچے بالماء

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹکر ٹکر دیکھ ٹاکا ٹک ۔۔۔

🎶 Music 🎶

پورا گروپ تھا۔ ڈانسنگ فلور پر تو سالار کیوں پیچھے رہتا۔مانو نے ہاتھ دیا.تو مانو کا شاہ حاضر ہوا ۔لیکن جب سالار نے بریک ڈانس کیا تو سب نے ہوٹنگ کی ۔۔۔

سالار نے گھومتے ہوئے مانو کا ہاتھ تھاما اور اس کو گول گول گھمایا ۔۔۔

( سالار اینڈ فل گروپ)

زندگی ہے ایک لطیفہ

دل والوں دل خلیفہ

مارے موقعے پے چوکا

یہ تفریح کرے

داری کو کونے میں کھڑی ماہم دیکھی تو اس کی جانب آیا اور ماہم کو بھی ڈانس میں گھسیٹا تو ماہم نے بھی آچھا خاصا رانگ جمایا۔۔۔۔

(ماہم اینڈ داری)

کھول کے جینے کا سلیقہ

ہم سے سیکھو یہ طریقہ

پل میں صدیوں کی

ہم موجو تگڑی کرئے

سب ڈانس کر رہے تھے۔ تو ازلان،علیان اور احمر کو بھی ڈانس کی کھجلی ہوئی۔تو بن بلائے مہمانوں کی طرح انہوں نے بھی اینٹری ماری۔جس پر باقی سب کے ساتھ مل اور بھی رنگ بکھرے۔۔۔

( ازلان، احمر، علیان)

او تم بھی لیے لو مزہ

او تم بھی لے لو مزہ

ورنہ دور کھڑکے

بس تماشہ دیکھنا

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

دور کھڑی پھول جھڑی

کیوں تو ناچے لونلی

مجھ کو اپنے پاس بولا لے

تیرا میں ون اینڈ اونلی

آؤں میں رفتار سے

دیکھوں مگر پیار سے

دم ہلا کے جیسے ٹوکر آؤں

اوووو ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

سالار نے انمول کو چھڑتے ہوئے آنکھ دبائی۔ جس پر ازلان کو تپ چھڑی۔ کیوں کہ سالار کی حرکت ازلان کی تیز نظروں نے دیکھ لیا تھا۔ اور پھر یہ ہال تھا۔ ایک طرف سالار اور دوسری طرف ازلان درمیان میں کیوٹ سی انمول۔۔۔۔

تیری شیطانیوں سے

محفل رنگین ہوئی

تو دیوانہ ہوا

میں بھی شوقین ہوئی

دنیا جلتی ہے تو جلے

رات بھر ظلمہ کے

سنگ ناچے بالماء

ٹوکر ٹوکر ٹوکر ٹوکر

ٹوکر ٹوکر دیکھ ٹاکا ٹک

ہوووووووووو

سب اپنی موج مستی میں ڈانس کر رہے تھے۔ کہ بڑے سب دل ہی دل میں اپنے بچوں کی نظر اتار رہے تھے۔۔

کچھ ہی دیر میں ڈانس ختم ہو چکا تھا۔سب اب تھک ہار کے صوفوں پر ڈھے سے گئے تھے۔

“ہاہا بچوں تھک گئے ابھی سے ابھی تو کیک کٹ کرنا ہے۔”مصطفٰی صاحب نے نڈھال سے بچوں کو صوفے پر بیٹھتے دیکھا ،تو بولے۔۔

” ہاں چلو پری آجاؤ۔”

تو سب ہی ٹیبل کے قریب پہنچے پری نے اپنے ایک طرف حسن صاحب اور دوسری طرف دانیہ بیگم کو کھڑا کیا درمیان میں خود تھی۔چھری اٹھی اور ابھی کیک کٹ کرنے لگئی تھئ۔کہ کسی کی نسوانی آواز پر روکی تھی ۔

“پریہان میرے بنا ہی کیک کٹ کر لو گئی۔۔۔۔؟”

آواز پر سب نے سامنے کی طرف دیکھا تھا، جہاں خوبصورت سی مسکراہٹ لیے نایاب احمد کھڑی تھی۔

جس کو دیکھ کر سب کے چہروں پر گہری مسکراہٹ ائی۔سوائے ایک چہرے پہ اور وہ چہرہ ایسا تھا۔ کہ کڑوا بادم نِگل لیا ہو۔ وہ چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ انمول کا تھا۔

“نایاب اپی اپ۔۔!! “

پری بھاگ کر نایاب کہ گلے لگی۔ نایاب پری کی خالہ ذات بہن تھی۔نایاب اور ازلان دونوں ہم عمر اور گہرے دوست تھے۔نایاب ایک سلجھی اور خوبصورت سی لڑکی تھی۔

خوبصورت آنکھیں،سفید رنگ، گلابی ہونٹ۔ نایاب کی سب کے ساتھ بنتی سوائے انمول کے ساتھ، دونوں ایک دوسرے کہ جانی دشمن تھے۔ اور ان کی لڑائی ہمیشہ ازلان پر ہوتی۔۔

نایاب بولتی ازلان میرا بیسٹ فرینڈ ہے اور انمول بولتی ازلان میرا دوست ہے۔ اخر کار ایک دن تنگ آکر ازلان نے نایاب کی جگہ مانو کو بہت زیادہ ڈانٹ دیا تھا۔حالانکہ غلطی نایاب کی تھی۔جس پر اب تک ان کہ درمیان جب بھی بات ہوتی، بلکہ بات کی جگہ جنگ ہوتی۔کیوں کہ ازلان جو دیکھتا بنا سوچے سمجھے غصہ کرتا اور یہی بات انمول کو ہمیشہ ناگوار گزرتی۔نایاب سب گھر والوں سے ملی رہی تھی کہ پری نے نایاب کو پکارا تھا۔

“آئیں اپی آپ کو میں اپنی دوستوں سے ملاتی ہوں۔

“ہاں ضرور کیوں نہیں مانو اور ایشو کو تو آپ جانتی ہی ہیں۔ یہ مومل مجتبٰی پری نے مومل کی طرف اشارہ کرکے بتایا اور یہ ہے سالار شاہ یہ ہم سب کا گروپ ہے۔”

” ہممم گڈ نائس ٹو میٹ یو ایوری ون ” نایاب نے خوشدلی سے کہا تھا۔ نایاب سب سی ملی تھی۔ مانو کو چھوڑ کر اور مانو نے بھی کندھے اچکا دیے اور ایسے اگنور کیا کہ جیسے کوئی سامنے ہو ہی نا۔۔

” ہممم تو میری گڑیا کو کیسا لگا سرپرائز۔۔۔۔؟” ازلان نے پری سے پوچھا جس ہر پری چہک کر بولی۔۔

“بہت زیادہ اچھا لگا بھئیو۔۔”

” چلو کیک کٹ کرو ” مانو نے سب کا دھیان کیک کی طرف کروایا تو سب پری کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔

“ون

ٹو

تھری

ہیپی برتھ ڈے پری”

کیک کٹ ہوا تو پری نے سب کو باری باری کیک کھیلایا۔اس بعد سب کے لیے ہلکی پھلکی سی ریفریشمنٹ رکھی تھی۔جسے سب وہ انجوائے کرنے میں لگ گئے۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

اس وقت کمرے میں موجود گول میز کے گرد چار نفوس بیٹھے تھے۔کمرے میں گھپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔ زرو زوشنی کا بلب روشن تھا۔ کوئی کسی کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

ڈیول کینگ۔۔!

ایول مونسٹر۔۔۔۔!

اینڈ

سپائے ہیکر۔۔۔!

ریبل نے بولنا شروع کیا۔

“ہیڈ کوارٹر سے اوڈر کا سب کو معلوم ہے۔تو بنا کسی چوں چرں کے مل کر کام کرنا ہے۔”

“ہممم “سب نے مختصر سا جواب دیا۔

“سب سے پہلے ہمیں ساری انفارمیشن اکھٹی کرنی ہوگی۔ جیسا کہ ایس-وی سمگلنگ کے لیے ایول کہ پاس آیا۔ہمیں اس کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ پھر اس کو موت کے گھاٹ اتارا ہوگا۔اس بار ان ملک کے غداروں کو اُنہی کے طریقے سے جہنم وصول کروائے گئے۔”

“انشاءاللہ سب نے یکجاں ہو کہ کہا

“پاکستان زندہ باد “

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

“ابراہیم۔۔!!! میں کیا سوچ رہا تھا، مصطفٰی صاحب بولے ، کہ بچے بڑے ہو گئے ہیں۔تو کیوں نا ماضی میں ہوئے فیصلے سے سب کو آگاہ کر دیا جائے۔”

“ہممم ابھی کچھ وقت خاموشی رہنے دو پھر دیکھتے ہیں۔ کہ کیا کرنا ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *