Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 17)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

کیلر نے اس شخص کے مردہ وجود بڑی سفاکی سے ٹھوکر مار کر نیچے گرایا تھا،اور پھر اگئے، بڑھ کر اپنے ہاتھوں پر چڑھے گلوز کو اچھے سے دھویا تھا ، ہاتھوں کو اچھے سے خوشک کر کے، اس کے بعد اپنی جیب سے فون نکالا، اور شیشے کی بنی دیوار کے، اُس پار سامنے بیٹھے ایجنٹس کو میسج کیا۔

“چاروں ہوش کی دنیا میں واپس آجاؤ”

کیلر نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔

“ایس۔وی کا مال ڈیلور ہونے کے لیے نکل چکا ہے۔تو سب تیار ہوجائیں۔ایس۔وی کو ایک اور جھٹکا دینے کے لیے”

چاروں ایجنٹس کے موبائل فونز پر میسج کی گھنٹی بجی تھی۔ جس کو دیکھتے ہی، سب نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ اور پھر اپنی نظریں اِدھر اُدھر پھیر لیں تھیں۔

کیلر نے آنکھوں کے اشارے سے اپنے ساتھیوں کو اپنے قریب بولایا تھا۔ جس کو سمجھتے ہوئے، ہنٹر اور فائر دونوں، اس کے قریب گے تھے۔

“اُس بچے کا کیا بنا ۔۔۔؟”کیلر نے سوال کیا تھا۔

“اُس بچے کا آپریشن ہو چکا ہے۔ اور بمم پیٹ سے نکال کر ڈیفیوز بھی ہوگیا ،مگر”

فائر نے بتانا شروع کیا ہی تھا۔ لیکن درمیان میں رکا سا گیا تھا، جس پر کیلر نے اپنا آئی بررو اچکایا تھا۔جس کا مطلب تھا آگے بولو۔

“مگر اس بچے کے جسم میں سے ایک گردہ غائب تھا۔ مشکل سے جان بچی ہے،اس معصوم بچے کی”

فائر کی آدھی بات کو مکمل ہنٹر نے کیا تھا۔

“ہمم”

پوری بات سننے کے بعد کیلر نے گہری ٹھنڈی سی ہنکار بھری تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

عفار پریشانی کی عالم میں کسی کو فون کر رہا تھا۔مگر دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔اچانک فون پر گھنٹی بجی تھی۔ اس نے اپنا فون کھولا تو حیران سا رہ گیا۔ کسی انجان نمبر سے میسج تھا۔

“Game’s time is over ,It’s time to Boom”

“Now,open your t.v”

ساتھ ہی ایک پستول کا نشان بھی تھا۔میسج کو دیکھ کر، غفار کی پیشانی پر ننھی ننھی پسنے کی بوندیں نمودار ہوئیں تھیں۔

اتنا عجیب و غریب قسم کا میسج تھا۔ جس پر غفار کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔جیسے ہی غفار نے ٹی-وی اون کیا،تو اپنا وجود زلزلوں کی زد آتا محسوس ہوا تھا۔

جہاں سارے چینلز پر، اینکر چیخ چیخ کر آج کے ہوئے واقعے کے بارے میں بتا رہے تھے۔ کسی کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا ، ملک کے محافظوں نے بنا کسی کی نظر میں آئے، ملک کی حفاظت کی ہے، اور اس ملک کی خاطر جان لگا دی۔

غفار کو اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی۔ ایس-وی کسی حال میں، اس کو نا بخشتا، غفار کا دل کیا،کہ ایس-وی کو نا بتائے، لیکن کسی بھی وقت کہیں سے بھی یہ خبر ایس-وی کو معلوم ہوسکتی ہے۔پھر ایس-وی بنا کوئی موقع دیے بغیر شوٹ کر دیتا، اس سے بہتر وہ خود کیوں نا بتائے دے،پھر غفار اپنی ساری سوچوں کو جھٹک کر ایس-وی کے پرائیویٹ روم کا دروازہ کھٹکتا ہے۔

“آجاؤ “

اندر سے مثبت سے ملتے ہی ،غفار اندر کمرے میں داخل ہوا تھا۔ایس-وی کو دیکھ کر نظریں جھکا گیا تھا۔ کیوں کہ ایس-وی کی باہوں میں ایک نازک وجود تھا،جو کے نازیبا لباس میں ملبوس تھی۔

“۔سر اپ سے بات کرنی ہے۔” غفار سر جھکائے ہوئے بولا تھا۔

“ہممم بولو”

ایس-وی چہرے پر بےزاریت طاری کیے ہوئے بولا تھا۔

“سر وہ”

غفار ہچکچاہٹ کا شکار ہوا تھا، “جلدی بولو میرے پاس تمہاری کسی فضول بات کے لیے وقت نہیں”۔

“سر اج جتنے بھی بم بلاسٹ ہونے تھے۔ وہ سب ایجنسی والوں کے ہاتھ لگ گئے، اور کوئی بم بلاسٹ نہیں ہوا ،کسی کو بھی کچھ نہیں ہوا ،اور ایس-وی یعنی آپکے خلاف اریسٹ وارنٹ جاری ہوچکا ہے۔”

“یہ کیا بکواس ہے حرام خور۔۔۔؟”

ایس-وی، غفار کی بات سنتے ہی حلق کے بل دھاڑا تھا۔ کہ ساتھ بیٹھی نازک حسینہ لرز اُٹھی تھی۔ اور پھر بیڈ سے اٹھتے ہی غفار کی گردن کو دبوچا تھا۔۔

“س۔۔سر! اس میں میری کیا غلطی، میں نے تو کام پکا کروایا تھا۔ مگر پتہ نہیں کیسے، ان مارخوروں کو اس بات کا علم ہوگیا اور ان لوگوں نے بمز ڈھونڈ کر ڈیفوزکر لیے”

بمشکل غفار یہ چند الفاظ ادا کر پایا تھا۔گردن پر دباؤ کی وجہ سے غفار کا چہرہ ضبط سے سرخ ہو چکا تھا۔کہ ایک جھٹکے سے ایس-وی نے غفار کو زمین پر پٹخا تھا۔ غفار گہرے گہرے سانس لینے لگا تھا۔

“مارخور،مارخور !!! “

” تم سب کو میں نہیں چھوڑوں گا، تباہ و برباد کر دوں” بولتے ہی ایس-وی نے سامنے پڑی شیشے کی ٹیبل کو ٹھوکر مار کر نیچے پھینکھا تھا۔ جسے وہ چھن کی اواز میں ٹوٹی تھی۔اُس کی دھاڑ میں ایک آگ تھی۔ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی۔۔

” دفعہ ہوجاؤ میری نظروں سے،ورنہ تمہارا قتل کر دوں گا۔” ایس-وی نے غفار کو کالر سے پکڑتے ہوئے کمرے کے باہر پھینکا تھا۔ جس سے وہ ٹوٹی میز کے ٹکڑوں پر گرتے گرتے بچا تھا۔

“ا**یک ایک منٹ مال!!” کیا مال روانہ ہو چکا ہے۔۔۔؟”

ایس-وی نے غفار سے سنجیدگی سے سوال کیا، جس پر غفار سر جھکا گیا۔ جس کا مطلب سمجھتے ہوئے، ایس-وی نے پاس رکھی شراب کی بوتل کو منہ لگا کر اپنے اندر اُنڈیلنے لگا تھا۔پھر منہ سے نکالتے ہی،زمین پر دے ماری تھی۔۔۔

“جاؤ غفار جاؤ، میرے مال کو روکو اور ہر حال میں میرے مال کی حفاظت کرو اور واپس لے کر آؤ، ورنہ ، ورنہ میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا، نکل جاؤ میری نظروں کے سامنے سے”

ایس-وی کی دھاڑ پر غفار اپنی جان بچاتے ہوئے، کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

پھر ایک ٹیم کو تیار کر کے مال کو بچانے کے لیے نکل چکا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

صبح سے رات ہو چکی تھی۔ مانو، پری اور ایشو گھر نہیں ائے تھے۔ سب پریشان تھے۔ ماہم اور داری بھی رات کے کھانے تک لوٹ چکے تھے۔

لیکن تین عظیم ہستیاں صبح سے گم تھیں۔ کسی سے بھی گھر کی خاموش برداشت نہیں ہو رہی تھی۔

“آنٹی پلیز ! آپ دونوں پریشان مت ہوں،میں پتہ کرتا ہوں” سالار فکری مندی سے بولا تھا۔

مگر علی اور احمر نیچے آئے تھے، تو پریشانی کی وجہ جان کر انمول کے میسج سے آگاہ کیا تھا۔ اور پھر سب لوگوں کو سمجھا بجھا کر آرام کرنے کے لیے بھیج تھا۔کیوں کے مانو نے اپنی کسی پرانی دوست کی طبیعت خراب ہونے کا احمر اور علی کو بتا دیا تھا۔کہ آنے میں ان تینوں کو دیر ہوجائے گی۔

جب ہی سب کے سونے کے بعد علی اور احمر بھی سونے چلے گے تھے۔

“مانو یار بہت زیادہ دیر ہوچکی ہے، ہمیں گھر چلانا چاہیے”

پری کے چہرے پر ڈر کی لکیریں واضح دیکھائی دے رہیں تھیں۔” ہاں یار مانو چلتے ہیں نا، بہت زیادہ دیر ہوگئی ہے۔” ایشعال نے بھی پری کا ساتھ دیا۔

آف!!!!

” لڑکیوں پریشان مت ہو، اپنی زندگی کا ہر پل ایسے جیو جیسے کہ آخری ہو، کیوں کہ کل کس نے دیکھا ہے۔” انمول سونگ کا بیڑا غرق کرتی ہوئی بولی تھی،جس پر ایشعال اور پریہان نے گہرا سانس خارج کیا تھا۔

“میں نے علی بھئیو اور احمر بھئیو کو بول دیا ہے، میری دوست کی طبیعت کچھ خراب ہے۔ جس کی وجہ سے گھر آنے میں، دیر ہوجائے گی، تو میرے ڈر پوک جگرز ساتھیوں جسٹ ِچل، ِچل او جسٹ ِچل ، پارٹی انجوائےکرو”

انمول شانِ بےنیاز سے بولی تھی۔اور ساتھ ہی پری اور ایشو کو ڈانس فلور پر لے آئی تھی۔کچھ وقت مزید گز چکا تھا۔ وہ دنیا کو بھلائے باتوں میں مگن تھیں۔ مگر پری اور ایشو کی برداشت کی حد ختم ہوچکی تھی۔

مانو !!!

“بارہ بج رہے ہیں، تمہیں خدا کا واسطہ چلو اب، کیوں کہ مما نے اب چھترول کرنی ہے۔ہم سب کی، بنا ہماری عمروں کا لحاظ کیے”ایشو کوفت سے بولی تھی۔

“بلکل ایشو سنگل نہیں ڈبل چھترول ہوگی، کیوں کہ اس کے ہی کہنے پر ہم لوگ اپنے موبائل فون بھی گھر چھوڑ کر آئے تھے۔” پری نے مانو کو سخت گھوری سے نوازا تھا۔

“ارے ارے جانِ من!! کیوں ڈرتی ہو، میں انمول راجپوت ہوں، کسی کے باپ سے نہیں ڈرتی” انمول نے خود کو داد دی تھی اور پھر کندھے اچکا دیے تھے۔

“مانو کی بچی زیادہ پھنے خان بنے ضرورت نہیں ، بشک باپ سے نہیں ڈرتی، مگر باپ کی بیوی عرف سعدیہ ڈارلنگ عرف اپنی ماں کی چھترول سے ڈرتی ہو”

پری نے مانو پر طنز کے تیر برسائے تھے۔ جس کو سنتے ہی انمول کے گلے سے اترتے ہوئے لیز پھستے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ بے ساختہ مانو نے تھوک نکلا تھا۔لیکن پھر بھی پری اور ایشو کو سامنے اپنا بھرم قائم رکھنا تھا۔ تو ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی بولی تھی۔

“میرے جگر کے ٹوٹوں زیادہ پریشان مت ہو، چلو چلتے ہیں۔”

رات کے اندھیرے میں تین لوگ گھر میں داخل ہوئے تھے۔ “یار ایشو اور پری چپ چاپ اپنے کمروں میں چلے جائیں گے۔ بنا کوئی آواز کیے ٹھیک ہے۔شششش کرکے” مانو کی حرکت پر دونوں نے اپنا سر پیٹا تھا۔

“ہممم”

پھر دونوں نے ہنکار بھری تھی۔ ابھی کچھ قدم بڑھائے ہی تھے۔ مانو کو پٹچ کر کے کندھے پر کچھ لگا تھا۔

“اہ” مار ڈالا بیڑہ غرق ہو، جس نے مجھے مارا ہے۔ بازو توڑ دیا۔ اللہ پوچھے گا۔”

مانو اپنا بازو سہلاتے ہوئے پٹر پٹر بولی تھی۔ لائٹ آن ہوئی تو مانو نے روشنی سے آنکھیں میچ لیں تھیں۔ مگر دل میں سعدیہ بیگم کا خیال آتے ہی، خود کو ہزاروں بار کوسا تھا۔اور پھر دل ہی دل میں سعدیہ بیگم کے سونے کی دعا مانگی تھی۔ مگر ہر دعا قبول نہیں ہوتی تھی۔

مانو نے پہلے اپنی بغل ٹھہرے پری اور ایشو پر ڈالی، جن دونوں کی شکلیں ایسی تھیں۔ جیسے کوئی چور، چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ اور پھر نظر سامنے کی طرف پھری تو اپنی ماں کو ، اپنے چنڈی روپ (شدید غصے میں) میں دیکھا، مانو کو محسوس ہوا آج تو گی، کیوں کے سعدیہ بیگم اپنے پیر سے دوسرا جوتا اتار رہیں تھیں۔

مانو ہڑبڑا کر صوفے کے پیچھے چھپ رہی تھی۔ کہ سعدیہ بیگم اس نے مانو کی طرف قدم بڑھائے تھے

“مانو !! کہاں تھے تم تینوں”

سعدیہ بیگم مانو کے قریب پہنچتی تھیں۔ کہ تب ہی مانو، چلانگ لگا کر دوسری طرف آئی تھی۔اس وقت مانو اور اس کی پیچھے سعدیہ بیگم اپنے ہاتھ میں جوتی لیے، مانو خے پیچھے بھاگ رہیں تھیں۔

اگے آگے مانو اور پیچھے پیچھے سعدیہ بیگم تھیں۔ “خود تو ہو ہی نکمی، نالائق،اپنے ساتھ ان معصوموں کو بھی شامل کر لیا۔” سعدیہ بیگم پری اور ایشو کو دیکھتے ہوئے بولیں تھیں۔ جس پر ان دونوں نے مزید مسکین سی شکل بنائی لی تھی۔

” توبہ کریں مما یہ دونوں اور معصوم،ارے آپ کو نہیں معلوم، ان کا دماغ بہت خرافاتی ہے۔ یہ دونوں بہت زیادہ میسنیاں ہیں۔ مانو کی بات پر پریہان اور ایشعال نے خونخوار نظروں سے انمول کو دیکھ تھا۔ جس پر مانو نے اپنی باچھیں پھلا لیں تھی۔سعدیہ بیگم اب تھک کر ایک جگہ رک سی گئیں تھیں۔

کہ مانو ان کی طرف آئی تھی۔” ارے مما جانی کیا ہوگیا ہے، آپ کو۔۔۔؟ کیوں اتنے جلال میں آرہیں ہیں۔”

شور کی وجہ سے احمر اور علی کی انکھ کھل گی تھی۔ اور وہ دونوں اس وقت نیچے ہال میں آچکے تھے۔مگر خاموش تھے۔

کیوں کے سعدیہ بیگم سچ مچ ، شدید غصے میں تھیں۔ اسی لیے کسی نے بھی بیچ میں بولنے کی ہمت نا کی تھی۔

“کہاں آوارہ گردیاں ہورہیں تھیں۔ صبح کی نکلیں تھیں،رات کو بارہ بجے گھر ارہیں ہیں، پیچھے ماں پریشانی سے مر جائے، مگر مجال ہے، جو تم ذلیلوں پر جوں بھی رینگے،ڈھیٹوں کے ڈھیٹ مرے ہوں گے، تب جاکر تم پیدا ہوئی تھی”

سعدیہ بیگم نے بولتے ہی انمول کی کمر پر ایک اور جوتی رسید کی تھی۔جس پر مانو بلبلا اُٹھی تھی۔

“مما جانی”، “خالہ جانی” پری اور ایشو تڑپ اُٹھیں تھیں۔

” خبردار !!! جو آج تم دونوں بھی بیچ میں ائے،ورنہ تم دونوں کی بھی چھترول کر دینی ہے۔” سعدیہ بیگم نے وارننگ دیتی نظروں سے گھورا تھا۔ جس کو دیکھتے ہی پری اور ایشو سہم گے تھے۔

“انمول کیا بنے گا تمہارا، میں تو تنگ آگی ہوں، تم سے اور تمہارے پچپنے سے، اتنی بڑی گھوڑی ہوگی ہو، مگر کوئی احساس ہی نہیں ہے۔پتہ بھی یہ اپنا نہیں پرایا ملک ہے”

سعدیہ بیگم نے انمول کا کان زور سے موڑا تھا۔ کچھ ہی دیر میں مانو کی آنکھوں میں آنسو بھر گے تھے۔ جب کے پری اور ایشو نے آگے بڑھ کر، سعدیہ بیگم کے ہاتھ سے مانو کا کان چھڑیا تھا۔ اور مانو کو گلے سے لگایا تھا۔ آخر تینوں کی جان بستی تھی، ایک دوسرے میں، ایشو اور پری دونوں کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں،مانو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر، یہ جانے بغیر کہ مانو نے زبردستی اپنی آنکھوں سے آنسو نکالے تھے۔

” اچھا خالہ جانی آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔”پری نے ایک اپنی سی کوشش کی تھی۔جس پر سعدیہ بیگم نے غصے سے سر جھٹکا تھا۔

” مما جانی اب بس بھی کریں، وہ بچی ہے”، احمر اور علی دونوں مانو کی حمایت میں بولے تھے۔ جس پر سعدیہ بیگم کو مزید تاؤ آیا تھا۔

“تم سب کے بے وجہ لاڈ پیار نے اس کو سر چڑھایا ہے۔”سعدیہ بیگم دونوں بھائیوں کو ڈانٹ کی جھاڑ پلائی تھی۔

“مما!!! میں کیسے کسی کے سر پر چڑھ سکتی ہوں، میں تو بڑی ہوں اور احمر بھئیو اور علی بھئیو کا سر اتو سا ہے “

مانو نے بڑی معصومیت سے ہاتھ کے زاویئے سے ایک چٹکی بنائی اور پھر اس سے دونوں بھائیوں کے سروں کو تشبہ دی تھی۔ بھرپور سنجیدگی سے غیر سنجیدہ بات کی تھی۔جہاں باقی سب نے اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔ وہیں سعدیہ بیگم نے خون آشام نظروں گھورا تھا۔

“مما جانی اب ہم تینوں جائیں۔۔؟” سچی بہت زیادہ تھک چکے ہیں۔ باقی کی سنوائی صبح تک ملتوی کر لیں۔”

“مانو !!” سعدیہ بیگم نے اپنا لہج سخت اور آواز اونچی رکھی تھی ۔ وہ انمول ہی کیا ،جو سدھر جائے۔

“یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔؟”جبران صاحب کمرے سے باہرآئے تھے۔

“بابا جانی” مانو نے آنکھوں میں اُنگلی مار کے آنسو نکلے تھے۔اور سوں سوں کرتی، جبران صاحب کے گلے لگ گئی تھی۔

“بابا جانی آپکی چہتی بیوی نے مجھ پر ظلم کیا ہے، رات کے اس پہر مجھے جوتیوں سے مارا ہے، میرا جسم درد سے ٹوٹ رہا ہے” بولا کے میں سر چھڑ گی ہوں،مجھ پر شدید تشدد کیا ہے۔ مانو نے اپنے نا آنے والے آنسو صاف کیے تھے۔انمول کی گوہرافشائی پر سعدیہ بیگم کا منہ کھل گیا تھا۔

” بیگم !!! میری پیاری سی شہزادی کیا بول رہی ہے۔۔۔؟”جبران صاحب ماتھے پر بل ڈال کر بولے تھے۔

” اسی سے پوچھ لیں، “سعدیہ بیگم غصہ سے پھنکاریں تھیں۔

“بابا جانی !! آپ نا میرے لیے نئی مما لے آئیں، یہ پرانی ہوگی ہیں،اور بوڑھی بھی ، اس لیے ہر وقت غصہ کرتی ہیں “

مانو نے بولتے ہوئے معصومیت اور مسکینیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔ مگر مانو کی سبز آنکھوں میں ڈھیروں شرارت ناچ رہی تھی۔

جہاں انمول کی بات پر سب نے اپنے شدید والے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا۔وہیں جبران صاحب کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ان کی شہزادی نئی گاڑی یا نئے گھر کی نہیں، بلکہ نئی بیگم لانے کا بول رہی تھی۔

بے ساختہ انہوں نے تھوک نگل کر اپنا گلا تر کیا تھا۔ کیوں سامنے ان کی بیوی خطرناک حد تک آگ بگولا ہو چکیں تھیں۔

“دیکھا آپ نے کتنی بے باک ہوگی ہے، کیسے نئی ماں کی فرمائش کر رہی ہے، بہت زیادہ خود سر ہوگی ہے۔اگر ایک بار اچھے سے چھترول ہوجائے گی۔ تو سیدھی ہوجائے گی۔”

ارے مما جانی ذرا رکیں۔سعدیہ بیگم ایک بار پھر مانو کی طرف بڑھیں تھیں کہ علی نے اپنی ماں کا راستہ روکا تھا۔

“میرے سامنے سے ہٹ جاؤ علی ، آج یہ لڑکی میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جائے گی۔ “اپنی ماں کی بات پر مانو ہڑبڑا کر جبران صاحب کے پیچے چھپ گی تھی۔

“مانو بیٹا آپ سب اپنے کمرے میں جاؤ اور آرام کرو جب تک میں اپکی لگائی گی آگ بجھتا ہوں۔”جبران صاحب کی بات پر مانو کے چہرے پر گہرے گھڑے نمودار ہوئے تھے۔مانو نے اپنے دانت نکلے تھے۔ اور پھر سیکنڈ سے پہلے تینوں اپنے کمروں میں گم ہوگے تھے۔

“جبران صاحب یہ آپکی ڈھیل کا نتیجہ ہے، جو اتنی بدتمیز ہوگی ہے۔” علی کے سامنے سے ہٹتے ہی سعدیہ بیگم نے جبران صاحب سے شکوہ کیا تھا۔ علی اور آحمر بھی موقع غنیمت پاتے، اپنے کمروں میں سونے چلے گے تھے۔ اور جبران صاحب بھی اپنی جوالہ مکھی بیوی کو منانے کی کوشش میں جدوجہد کر رہے تھے۔کیوں انمول کی لگائی گی آگ کسی آتش فشاں کی طرح بھڑک رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *