Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 30)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 30)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
سالار جب کچن سے مانو کے لیے جوس لایا، تو اپنے باپ کو نا بیٹھا دیکھ حیران ہوا۔ اور انمول کو مخاطب کرتے سوال کیا
“مانو یہ بابا کہاں گئے۔۔۔؟”
“پتہ نہیں شاہ اچانک سے اُٹھتے اور ہڑبڑاتے ہوئے باہر کی طرف چلے گئے۔ “
“اچھا خیر چھوڑو اور یہ لو تمہارا فیورٹ جوس” سالار نے جوس کا گلاس مانو کے سامنے پیش کیا۔ اور ایک گلاس خود اُٹھاتے مانو کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“مانو ہاتھ کا درد کیسا ہے ۔۔۔؟” سالار کو اچانک یاد آیا تو چہرے پر فکرمندی چھا گئی، سالار کی بات سنتے انمول کے گال میں پڑتے ہوئے گڑے نمایاں ہوئے تھے۔
” الحمداللہ ٹھیک ایک دم جھکاس بولے تو فٹ “انمول لوفرانہ میں بولی تو سالار کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی مسکرائیں تھیں۔
” چلو شکر اللہ کا ” سالار نے واقعی دل سے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔
” ویسے مسٹر پوزیسیو فرینڈ شادی کب کرنے رہے ہو۔۔۔۔؟
ہم سب کی شادی ہوگی ہے۔ اب ہمارے گروپ کے دو ممبرز رہتے ہیں، ایک تم اور مومل، وہ بھی جیسے ملتی ہے، اس بھی بولتی ہوں، کہ بھئی جلدی کرو ہم سب نے بھنگڑے ڈالنے ہیں، اپنی شادی پر اتنی پابندیاں تھیں، یہ مت کرو، وہ مت کرو، “
انمول نے چہرے کے زاویے بگاڑ کر بولی تو سالار کو ہنسنے پر مجبور کر گی۔ ایک وہی تھی، جس کی باتوں پر سالار سب کچھ بھلانے مسکراتا تھا۔
” مانو میرا ارادہ نہیں ہے، ابھی شادی کرنے کو ” سالار کے چہرے کی مسکراہٹ مانند پڑ گئی۔ سالار کی بات سن کر انمول نے اپنی بھویں ملائیں تھیں۔
” لو بھلا یہ کیا بات ہوئی، بوڑھے ہو کر شادی کرو گے، عمر نکلی جارہی ہے، نادان لڑکے،” مانو سر پر ہاتھ مارتی گردن کو دائیں بائیں بزرگوں کی طرح ہلاتی ہوئی بولی ، مگر یک دم سیدھی ہوئی، اور چہرے پر سنجیدگی تاری کرتے ہوئے بوالی۔جسے دیکھا سالار بھی سنجیدہ ہوا،تو انمول نے سوال کیا۔
“اچھا ویسے شاہ کیا عمر ہے تمہاری، سچی والی بتانا، خبردار جو آنٹیوں کی جھوٹی موٹی بتائی تو”
مگر انمول کے کیے جانے والے سوال پر زوزدار قہقہہ لگا ہنسا تھا۔سالار کو اس قدر ہنستا دیکھ انمول نے ناک پھلائی اور سالار کو گھورنے لگی تھی۔تو سالار نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی تھی اور بولا
“یار صرف عمر پوچھنے کے لئے تم ایسے سنجیدہ ہوئی،
میں سمجھا کہ بہت سیریس بات ہو گی، مگر میں بھول گیا تھا، میرے سامنے کون ہے، دی گریٹ انمول راجپوت، جو کہ سیریس کے “س” سے بھی ناواقف ہے” سالار نے بولتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو ناچاہتے ہوئے بھی مانو کہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔
“ویسے مجھے کوئی سنجیدہ نہ ہی دیکھے، تو بہتر ورنہ انمول راجپوت سے بے پناہ خوف کھائے گا۔”سالار انمول کے اس طرح پراسرا انداز پر ٹھٹھک گیا۔ تو مانو مسکرا دی
” اچھا اب بتا بھی دو “
مانو تنگ ہوتی ہوئی بولی تو سالار نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے،” میں اسی سال چھبیس کا ہوا ہوں ” سالار کی بات پر مانو ہونکوں کی طرح منہ کھولے بولی “کیا۔۔!!!” انمول کی حالت دیکھ سالار دوبارہ ہنسا تھا۔ اور اثبات میں سر ہلایا گیا۔
“مطلب زی کی ایج کے ہو۔۔۔؟”
“ہاں بلکل مگر مما اور بھائی کے بعد کچھ سال پڑھائی چھوڑ دی تھی،اسی لیے پیچھے رہے گیا”
“پھر تو بہت صحیح ہوا،کیوں کہ تم نے میری زندگی میں آنا تھا، میرا دوست بن کر۔”
“بلکل”
سالار نے یک لفظی الفاظ میں جواب دیا۔مانو جوس کا خالی گلاس ٹیبل پر رکھ کے جلدی سے کھڑی ہوئی تھی۔” مجھے اب جانا ہے کافی وقت ہوگیا ہے۔” مانو اپنا ہینڈ کلچ اُٹھاتی بولی تھی۔
” چلو میں چھوڑ دیتا ہوں “
“ارے نہیں شاہ میں اپنی گاڑی سے آئی ہوں، خود چلی جاؤں گی، ہاں بلکہ تم بھی میرے ساتھ امی کے گھر چلو سب ساتھ میں مستی کریں گے۔” انمول نے رک کر ساتھ چلنے کی پیشکش کی،
“نہیں مانو یار آج کچھ ضروری کام کرنا ہے، ورنہ چلتا، بس میں بھی ابھی نکلتا ہوں۔”
” ٹھیک ہے اللہ حافظ تم اپنا خیال رکھنا ” مانو یہ بولتی آگے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ پیچھے سالار مانو کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا رہا تھا۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی۔



” غفار !!!! “
ایس-وی اپنے پیلس میں داخل ہوتا ہوا دھاڑا تھا، ایس-وی کی دھاڑ پر غفار کسی جن کی طرح حاضر ہوا،
” جی جی سر !!! “
اپنے ہاتھ پیچھے باندھے، سر جھکائے مودبانہ انداز میں جواب دیا تھا۔
” وہ وہ واپس آگیا ہے، وہ زندہ ہے۔۔۔میر زندہ ہے۔۔!! “
ایس-وی کی حالت بہت خراب تھی، پورا جسم پسینے سے شربو ہولے سے لرز رہا تھا، جیسے سانس سینے میں اٹکنے لگی تھی۔
” سر کون میر۔۔۔!؟ ” غفار نے ناسمجھی سے ایس-وی کی طرف دیکھا تھا۔
” شاہ میر عباس!!! کرنل شاہ میر عباس جس کے خوف سے غدار کانپ اُٹھاتا تھا، اس کی دہشت سے مجرم خودکشی کرنا منظور کرتے، مگر اس کی ہاتھ، نہیں آتے تھے، جس کی سبز آنکھوں میں ہمیشہ پراسراریت سی رہتی، مجرموں کے لیے، سفاک انسان، اپنے ملک کے لیے غداروں کی جان لینے والا اور اپنے ملک کے لیے اپنی جان لوٹانے والا، سرپھرا درندہ، یاروں کا یار ، اور دشمنوں کے لیے موت فقط موت”
ایس-وی نے لمبی لمبی سانس لیتے ہوئے غفار کو بتایا تھا۔
” سر وہ کیسے زندہ ہوسکتا ہے، اپنے ہاتھوں سے انکی گاڑی کو کھائی میں پھنکا تھا، جس میں وہ اپنی بیوی بچے سمیت، اس دنیا سے چلے گے تھے۔”
غفار عجیب کشمکش کا شکار ہوا تھا۔ کہ اچانک اس کے باس کو کیا ہو گیا ہے، پاگلوں کی طرح باتیں کر رہا تھا۔
” تو وہ لڑکی !!! وہ لڑکی ہوبہو اس کی طرح کیسے ہوسکتی ہے، میں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ، اُس کے ساتھ گزارا ہے، وہ میرا جگری تھا، آنکھیں، تو آنکھیں اس گالوں میں پڑتے ہوئے گڑے اور اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کی پسند کیسے سب مل سکتا ہے۔۔۔؟
ابھی کے ابھی انمول راجپوت اور اس کے والد جبران راجپوت کی ساری ڈیٹیلز نکالو ابھی کے ابھی اور جلد سے جلد دبئی کی فلائٹ بک کرو “
ایس-وی نے جسم سے کوٹ کو اتار کر کہیں دور پھنکا تھا اور آگے بڑھتے شراب کی بوتل کو منہ لگایا تھا، دماغ درد پھٹ رہا تھا۔ یا پھر ڈر سے، یہ تو وقت کے پنے میں چھپا ایک راز تھا، کہ سب کی زندگیوں میں کیا طوفان آنے والا ہے۔



ایشعال اور پریہان کے سونے کے بعد ان کے شوہر چوروں کی طرح کھڑکی سے کمروں میں گھسے تھے، تاکہ صبح کو ان کی کچھ عزت بچ جائے ورنہ سب نے مذاق بنانا تھا۔
صبح جب پریہان کی آنکھیں کھلی تو خود کو احمر کے حصار میں پایا تھا۔چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ ائی تھی۔ بے شک اس نے اپنے شوہر نامدار کو سزا دی تھی۔ مگر نیند اس کو بھی نہیں آرہی تھی، ناول پڑھتے رات کے کس پہر آنکھ لگی کچھ پتہ ہی نہ چلا، اور اب مسلسل بنا پلک جھپکائے ٹکٹکی باندھے احمر کو دیکھے جاری تھی۔پریہان کی آنکھیں احمر کے چہرے سے سفر کرتی اس کے گلے کی اُبھری ہوئی ہڈی پر اٹکی تھی۔ بے ساختہ پریہان نے جھک کر احمر کی اُبھری ہوئی ہڈی پر لب رکھے تھے۔ اور پیچھے ہونے لگی تھی، کہ احمر نے اپنا حصار تنگ کر لیا تھا، مطلب صاف تھا، کہ وہ جاگ رہا تھا۔ اور اس کی بےباکی اچھے سے محسوس کر چکا ہے، پریہان کے چہرے پر سے ہوائیاں اُڑنے لگیں تھی،
” آ۔۔آپ جاگ رہے تھے۔۔۔؟” پریہان اپنا گلا تر کرتی سوال کر گی تھی،کہ ایک جھٹکے میں احمر پریہان کو نیچے کرتا اس پر حاوی ہوا تھا،
” بلکل میری پیاری رومینٹک سی بیگم، اب آپ اتنی موحیت ہو کر ناچیز بندے کو دیکھیں گی، تو کسی کم بخت کو نیند آئے گی،” پری کو احمر کی آواز میں موجود خماری کسی خطرے کی علامت لگی تھی۔ابھی وہ کچھ بولتی کے احمر نے پریہان کے ہونٹوں پر گستاخی کرتے ہوئے، اپنی شدت لٹائی تھی۔کہ پریہان نے زور سے احمر کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا تھا۔



رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے ایشعال سکون سے نیند میں گم تھی، کہ اُس اپنی کمر پر کسی کا لمس محسوس ہوا، لیکن اپنی قمیض کو سیدھا کرتی، دوسری جانب کروٹ بدلتی دوبارہ سے سو گئی تھی۔
جس کو دیکھ علیان کے ماتھے پر بل پڑے تھے، وہ اپنی بیوی کو پیارے کرنے کے لیے صبح سے جاگ رہا تھا۔اور ایک وہ میڈم تھی، جو کہ سونے سے بعض نہیں آرہی تھی،اور یہیں علی کی بس ہوئی تھی، علیان نے جھک کر ایشعال کی نازک سراحی دار گردان کو فوکس کر ہوئے اپنے دانت گاڑھے تھے۔ کہ ایشعال نیند سے چیخ مار کر اُٹھی تھی۔۔
” آہ۔ہہ کتا!!! کتا !!! کوئی مجھے بچاو بچاو”
ایشعال بند آنکھوں سے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اُٹھی تھی۔
کہ ایشعال کی چیخ پر علی بوکھلا کر پیچھے ہوا تھا۔مگر اپنے لیے کتا نام سن کر وہ ششدر سا رہے گیا، مطلب سیرسلی وہ انتے ہینڈسم لڑکے کو ایک کتے سے تشبہ دی رہی تھی۔
” کیا کہا تم نے ۔۔۔؟ “
علیان سکتے سے باہر نکلتے ہوئے تیوری چڑھاتے بولا تھا۔تو ایشو نے پھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔
” و۔وہ کتا تھا یا بلا ہاں جس نے میری گردن پر کاٹا ہے “
ایشعال اپنی گردن پر ہاتھ لگاتی ہوئی بولی تھی۔تو علیان نے اپنا آئیبرو ریز کی تھی،
” اچھا تمہارا مطلب ہے، اتنا ہینڈسم لڑکا، ایک کتا یا بلا ہے۔۔۔؟ “
علیان کی بات اور انداز پر ایشعال نے بےساختہ اپنا گلا تر کرتے ہوئے اپنی ہنسی دبائی تھی۔
“وہ مجھے لگا ایسے نیند میں کوئی انسان تو نہیں کر سکتا، اسی لیے منہ سے نکل گیا”
” مطلب تم مجھے واقعی میں کتا یا بلا بول رہی ہو “
” جی !! نہیں !! میرا مطلب ہے نہیں “
” روکو زرہ تمہیں بتاتا ہوں، میں کون ہوں کتا یا بلا “
علی نے بولتے ہی ایشعال کی طرف قدم بڑھائے تھے، لیکن ایشعال نے علی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ چار سو چالیس کی سپیڈ سے دوڑ لگائی تھی، اب منظر یہ تھا، کہ ایشعال آگے آگے اور علیان اس کی پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
ایشعال تو ایسی بھاگ رہی تھی، جیسے اس نے اولمپکس جیتنا ہو، کہ بیڈ پر چڑھتے ہوئے، ایشو کا فراک اس کے اپنے پاؤں میں پھسا تھا۔اور بیڈ پر زور سے گری تھی۔
کہ موقع پاتے علیان بھی ایشعال کی طرف لپکا تھا، اور اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ سے پن کرتے، ایشعال کے چہرے پر بکھرے سنہری بالوں کی جالی کو ہاتھ سے اس کے کان کے پیچھے اڑیسہ تھا۔ بھاگنے کی وجہ سے دونوں کی سانسیں تیز تیز چل رہیں تھیں۔
کہ علیان نے ایشعال کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں اُلجھایا تھا۔ علی کے لمس کی شدت کو محسوس کر کے ایشعال بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپی تھی۔ مگر علیان اپنے کام میں مصروف تھا۔



ٹاکسک کیلر”
” آج رات ریڈ لائٹ ایریا جہاں آرا کا کوٹھہ رات گیارہ بجے”
سپائے ہیکر اور ریبل کو میسج موصول ہوا تھا۔




صبح انمول کے جانے کے بعد جیسے سالار کی زندگی دوبارہ سے ویران سی ہوگی تھی، ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا تھا، کہ وہ اس کے پاس ہو کر بھی دور رہتا، سالار کا دل کیوں اتنا باغی ہوگیا تھا۔ اتنا خود غرض،کہ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کو اس گند شراب کا سہارا لینا پڑتا تھا۔
تاکہ کچھ وقت کے لیے ہی سہی وہ اپنے درد کو بھول جائے، اپنے کرب کو مٹا سکے، مگر یہ روگ اس کا ناسور بنتا جارہا تھا۔ اب تک وہ چار بوتلیں شراب کی خالی کر چکا تھا۔ہاتھ میں اپنے عشق کی تصویر کو لیے وہ یک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔
” کاش !! تم ایک بار میری آنکھوں میں اپنے لیے میرا عشق دیکھ لیتی، کاش !! تم ایک بار ان خالی آنکھوں میں اپنے لیے پیدا ہونے والی چمک دیکھ لیتی اور کاش کہ میں تم سے اپنے اظہار عشق کا ہنر رکھتا، کاش !!! “
مومل جب سالار کے گھر آئی تو ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس نے ایک ملازم سے پوچھا کہ سالار کہاں ہیں، تو ملازم نے اُوپر کمرے کا بتایا،وہ کچھ نوٹس بنا رہی تھی، تو سالار سے ہلپ لینے کے غرض سے آئی تھی،لیکن آج اُس کی قسمت نے اُس کو بہت برا پھنسایا تھا۔
مومل نے اُوپر آکر سالار کے روم کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
ایک بار، دو بار تین بار، مگر بےسد، تو مومل نے سالار کو کال کی،موبائل فون کی رنگ ٹون باہر تک سنائی دی رہی تھی، لیکن جواب موصول نہ ہو رہا تھا۔ مومل کا دل گھبرایا تھا۔
کہیں سالار کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔مومل اپنی ساری سوچوں کو جھٹک کر کمرے میں داخل ہوئی ، تو سامنے سالار بیڈ کے سہارے نیچے زمین پر آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ جس کو دیکھ مومل کا دل لرز اُٹھا تھا، کہ سالار کو دوبارہ سے ہارٹ اٹیک تو نہیں ہوا، مومل کے ہاتھ سے ساری فائلز زمین بوس ہوئیں تھیں۔ مومل بھاگ کر سالار کے پاس آئی تھی، اور اس کی گال کو تھپ تھپاتے ہوئے پکارا تھا۔
” س۔سالار ۔۔۔!!! ” مومل کے الفاظ لڑکھڑاہٹ کا شکار ہوئے تھے۔ آنکھوں میں آنسو کی بوندیں چمکیں تھیں۔
” آگئی تم جانِ شاه !!! ” سالار نے آنکھیں موند ہوئے ہی کہا تھا۔کہ ایک پل کو مومل حیران سی ہوئی تھی، مگر سالار نے جب اپنی آنکھیں کھولیں،تو اُس آنکھوں کو ایک وحشت تھی، اپنے یک طرفہ عشق کی آتش میں وہ عاشق جل رہا تھا۔اُس کو سامنے بیٹھی لڑکی میں اپنا عشق نظر آرہا تھا،وہ نشے میں دھت سب کچھ بھلا چکا تھا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔ سالار نے مومل کو انمول سمجھ کر، اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں لیا تھا، مگر مومل تو ناسمجھی سے سالار کو دیکھ رہی تھی،
” تم آگئی ، تمہیں پتہ ہے میری جان ، تمہارے لیے روز تڑپتا ہوں، روتا ہوں، چیختا ہوں،مگر تم نہیں آتی، میں بہت غریب بندہ ہوں مجھے بھیک میں اپنا غلام بنا لو ، یقین جانو میں تم سے سچا عشق کرتا ہوں، دل چاہتا ہے، مر جانے کو ، مگر یہ موت بھی نہیں اتی، اتنا بد قسمت ہوں، جبھی تو میرے پاس کچھ نہیں ، خالی ہاتھ ہوں ، کوئی بھی تو نہیں ہے میرا ، یہ سینے میں جو دل دھڑک رہا ہے، یہ بھی نہیں رکتا ، تمہارے دور جانے سے۔ “
سالار کے آنسو مومل کو تکلیف دیے رہے تھے، آخر کو اس کے پاس بھی کوئی رشتہ نہیں تھا، اور وہ جس سے محبت کرتی تھی، وہ بھی تو کسی اور سے عشق کرتا تھا، سالار کے درد کو سمجھتے ، محسوس کرتے مومل کے آنسو لڑیوں کی صورت میں متواتر بہے جارہے تھے۔
اچانک سے سالار کھڑا ہوا تھا۔جس کو دیکھ مومل بھی کھڑی ہوئی تھی۔سالار نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تصویر ایک طرف کو رکھی تھی۔اور لگاتار اس کو دیکھے جارہا تھا۔ مومل سے یہ منظر دیکھا نہ گیا، تو قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے، کہ اپنی کلائی پر ہاتھ لمس محسوس ہوا تھا۔مومل نے موڑ کر پیچھے دیکھا تو سالار نے اس کی کلائی تھامی ہوئی تھی۔
سالار کی آنکھوں میں چھائی خمار کی لال ڈوریوں سے مومل کو خوف آیا تھا، جو بےتاثر انداز میں اس کو دیکھ رہا تھا، مومل نے اپنی کلائی چھڑانے کے لیے مزاحمت کی تھی، جس پر سالار کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی،کہ ایک جھٹکے سے سالار نے مومل کو بیڈ پر پھنکا تھا۔ اور اُس کو اپنی شدت بھری محبت سے روشناس کرایا تھا۔
مومل ایک کمزور سی نازک اندم لڑکی تھی، اور اس کے سامنے سالار ایک کسرتی مرد تھا، اُس نے لاکھ مزاحمت کی تھی مگر وہ نہ روک پائی تھی۔اس وحشی عاشق کو جس نے شراب کے نشے میں بہک کر ایک معصوم کے ساتھ غلط کیا تھا۔
اسی لیے اللہ پاک نے قرآن مجید میں شراب کو حرام قرار دیا، کیوں کہ جب ایک نور سے بنا فرشتہ اس کو پی کر بہک سکتا ہے ، تو مٹی سے بنا انسان کیا شے ہے،
( سورة المائدہ )
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(90)
ترجمہ:
اے ایمان والو شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔




انمول دوپہر کے وقت اپنے گھر پہنچی تھی، سب سے مل کر دل کو سکون سا ملا تھا۔ پری اور ایشو کے بنا تو دل بجھ سا گیا تھا۔ اور اپنی مما جانی کی چھترول کی دھمکیاں تو افف شدت سے یاد آرہیں تھیں۔
رات کا وقت تھا، راجپوت فیملی ڈنٹ کرنے کے لیے ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے خاموشی سے ڈنر کر رہے تھے، ازلان بھی یہی موجود تھا۔وجہ انمول کو پک کرنا کیونکہ وہ اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا تھا۔ڈنر کی خاموشی کو جبران صاحب کی آواز نے توڑا تھا۔
” بچوں !! آپ سب کے لیے حسن اور میں نے ہنی مون ٹرپ پلان کیا ہے، زیادہ نہیں، ایک ہفتہ کا ہے، کل آپ سب کی فلائٹ ہے، دوبئی کے لیے، اور ہاں آپ سب کی واپسی کے کچھ عرصہ بعد سب کا ایک ساتھ ولیمہ کر دیں گے۔”
احمر اور علیان کے چہرے پر معنی خیزی والی مسکراہٹ پھلی تھی، جسے دیکھ پریہان اور ایشعال نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔لیکن دوسری طرف ازلان کے چہرے پر بےزاریت سی پھلی تھی۔مگر انمول کے چہرے پر ایک حسرت بھری چمک اُبھری تھی۔
