Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Epispde 23)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Epispde 23)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
انمول بھاگ کر مومل کے پاس گئی تھی۔
” مومی ک کیا ہوا ہے سالار کو۔۔۔!!” انمول نے ششدر سی مومل سے پوچھا تھا۔جس کی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو جما تھے۔پریہان اور ایشعال بھی مومل کے پاس آئیں تھی۔مگر مومل بالکل خاموش سی کھڑی تھی۔
“مومل بچے بتاؤ کیا ہو ہے۔۔۔؟”
مصطفٰی صاحب نے پیار سے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔جس پر مومل انکے گلے لگی تھی۔ اور روتے ہوئے لب کشائی کی تھی۔
“دادا جان۔۔!!! سالار ہاسپٹل میں ہے، اس کی کنڈیشن بہت خراب ہے،کسی انکل کی کال تھی۔”مومل بولتے ہی رو پڑی تھی، “کیا۔۔!!!” انمول اور اشعال نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔ سبھی نے ہاسپٹل کا رخ کیا تھا۔ساتھ ہی احمر اور علیان کو ہاسپٹل پہنچنے کا بولا تھا۔




رات کہ دو بجے کا وقت تھا۔ بارش تھم چکی تھی۔ مگر باہر تھرتھرا دینے والی سردی تھی۔جب ازلان سگریٹ پھونکتے ہوئے، گھر میں داخل ہوا، آنکھیں سرخ انگارا تھیں،بال بکھرے ہوئے تھے،گھر میں گہری خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا۔ہال میں پھلے اندھیرے کو دیکھ کر طنزیہ مسکرایا تھا۔
آج اس کی ماں نے بھی اس کو اکیلا کر دیا تھا ،ورنہ کبھی اس کو دیکھے بنا نیند نہیں آتی تھی۔لیکن آج سب بدل گیا تھا، پل بھر میں، وجہ وہ لڑکی تھی،اج کے ہوئے واقعے کا عکس،ایک بار پھر دماغ کے پردوں پر لہرا تھا۔غصے سے لب بھینجتے ،اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا،کمرے میں آتے ہی،الماری سے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہو گیا، شاور ان کیا اور خود اس کے نیچے کھڑا ہوا تھا، ٹھنڈا جما دینے والا پانی جسم پر پڑا رہا تھا، سکون کی ایک لہر وجود میں دوڑ گی تھی،تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے تھے۔
پندرہ سے بیس منٹ بعد فریش ہوکر کمرے میں داخل ہوا اور ڈریسنگ سے ہئیر برش اُٹھا کر بالوں میں پھرا اور پھر ڈریسنگ کی دراز سے سگریٹ کی ڈبی لی اور ساتھ ہی لائٹر لیتا بالکنی کی طرف بڑھ گیا۔وہاں جاتے ہی لمبی سی سانس ہوا کے سپرد کی تھی۔ساتھ ہی ایک سگریٹ نکال کر سلگائی تھی، اور ایک گہرا کش لیتے ہوئے، دھواں ٹھنڈی ہوا کے سپرد کیا تھا۔کہ دماغ کے پردوں پر ایک بھولا بسرا منظر لہرا تھا۔
“مانو ! تم سے آخری بار بول رہا ہوں،اج تو تم نے داریاں اور احمر سے بات کی ،اج کے بعد تم مجھے کسی بھی لڑکی یا لڑکے سے بات کرتی نظر مت آنا، ورنہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے دوستی ختم، مجھے نہیں پسند کہ تم میرے علاوہ کسی کو دیکھو یا بات کرو، کیوں کہ میں اپنی چیزوں کے معاملے میں تھوڑا سا خود غرض ہوں، بانٹنا مجھے پسند نہیں،اور تم اگر میری دوست بنے رہنا چاہتی ہو، تو سب کو بھلا دو صرف مجھےیاد رکھو”
بارہ سالہ ازلان اپنے سامنے بیٹھی ناسمجھ سبز آنکھوں والی بچی سے بول رہا تھا۔بارہ سالہ مغرورانہ شخصیت اس وقت نہایتی سنجیدہ تھی، مگر مقابل لڑکی ناسمجھ تھی۔اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“کیوں زی، میں تو سب سے بات کروں گی،احمر بھئیو اور علی بھئیو میرے بھائی ہیں، اور داری میرا پارٹنر، پری اور ایشو میری جان ہیں،پلیز تم دوستی مت توڑنا،” مانو کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمکے تھے، دل اُداس ہوا تھا۔
بارہ سالہ نایاب جو ازلان کو کھیلنے کے لیے بلانے آئی تھی۔مگر رک کر مانو اور ازلان کی باتیں سنے لگی تھی۔اور پھر موقع پاتے ہی فورن ازلان کے پاس آتے ہوئے بولی تھی۔
“ازلان ! میں ہوں نا تمہاری دوست کبھی کسی سے بات نہیں کروں گی، صرف تم سے کروں گی، بس ون چانس” نایاب کے اسرا کرنے پر ازلان کے چہرے پر مغرورانہ یکطرفہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔وہ نیلی آنکھوں والا مغرور شہزادہ آنکھوں ہی آنکھوں میں جتا رہا تھا،کہ ہر کوئی اس کی دوستی کو ترستا ہے۔
” ٹھیک ہے انمول میں نے جو تم سے پکی والی دوستی کی تھی، آج میں سب ختم کرتا ہوں، اب سے تم میری کچھ نہیں لگتی،اب سے میری دوست صرف نایاب ہے اور ہمیشہ رہے گی”
مگر وہ حسن کا دیوتا اس بات سے انجان تھا،کہ جسے وہ پکی دوستی بول رہا تھا، وہ ان دونوں کا نکاح تھا۔ زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔اور سگریٹ کو مسل کر پھنکا تھا۔
ماضی کے خیالات کو جھٹک کر اپنے کمرے میں آیا اوربیڈ پر لیٹتے ہی سو گیا تھا۔وہ اپنی چیزوں کے لیے جنونی تھا، مگر اس کا جنون آب خود غرضی اور آنا پرستی کی صورت اختیار کر رہا تھا۔
اس کا جنون اس کو تباہی کے راستے پر لاچکا تھا،آہستہ ازلان کو انمول کی ہر بات، ہر انداز بلکہ انمول کہ وجود سے ہی چڑ ہوگی تھی۔ انمول کا سبھی کہ ساتھ ہنسی مذاق کرنا اور ازلان کو بے دھڑک جواب دینا،اس کی باتوں کی نفی کرنا،ازلان کے دل میں ایک آگ سی جلا رہا تھا۔اس آگ کے شعلوں میں اپنے ساتھ وہ سب کی خوشیوں کو بھی جلا کر خاک کرنے والا تھا۔





راجپوت اور خانزادہ فیملی جیسے ہی ہاسپٹل پہنچنے تھے، ان کو جو خبر سننے کو ملی تھی، سبھی کا دل دہل گیا تھا۔پاوں تلے زمین کھسک گی تھی،سبھی دم سادے بیٹھے تھے۔
کئی گھنٹوں سے سالار آئی-سی-یو میں زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا۔ سالار کو میجر ہارٹ اٹیک آیا تھا۔ سڑک پر بےہوش پڑے رہنے کی وجہ سے، کسی امیر زادے کی گاڑی نے بے دردی سے سالار کے بے جان وجود کو ہٹ کیا تھا۔
مگر راہ چلتے کسی موٹر سائیکل سوار نے سالار کو دیکھا تو جلدی سے ہاسپٹل لے آیا تھا، تب سے اب تک سالار کا آپریشن چل رہا تھا۔ ڈاکٹرز نے سالار کا سامان، جب اس شخص کو دیا تھا، تو اس سامان میں موبائل فون بھی شامل تھا۔اس شخص نے موبائل فون اور باقی سامان کو تھامتے ہوئے ایک طرف کو رکھا تھا، اور موبائل فون کو اون کیا تھا۔
کہ جس کے وال پیپر پر کسی کی کاجل میں ڈوبی سبز آنکھیں تھیں، مگر اس شخص نے جلدی سے کال لوگز سے آخری ڈائل کیا گیا نمبر نکالا اور اس نمبر پر کال کی تھی، اور مقابل کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
رات سے فجر ہوچکی تھی، مگر ڈاکٹرز سے کوئی تسلی بخش خبر نا ملی تھی۔سبھی نے فجر کی نماز ادا کرنے کے لے پرے روم کا رخ کیا تھا، سالار کی صحت یابی کے لیے دعا کی تھی۔
مگر ضروری تو نہیں ہر وقت قبولیت کا ہوا۔ انمول، پریہان، ایشعال اور مومل نے رو رو کر اپنی آنکھیں سوجا لیں تھیں۔صبح کہ چھ بجے کا وقت تھا، جب آئی – سی- یو کا دروازہ کھلا تھا،اور ڈاکٹر باہر آئے تھے۔ کہ سبھی ڈاکٹر کی طرف لپکے تھے۔ مگر ڈاکٹر کا سر جھکا ہوا تھا، لیکن جو ان کو سننے کو ملا تھا، سبھی کی سانس تک رک گی تھی۔
” آئی ایم سوری سر ! ہم نے پوری کوشش کی ،مگر شاید وہ خود ہی جینا نہیں چاہتے تھے” ڈاکٹر نے جبران صاحب کا کندھا تھپ تھپاتے ہو کہا تھا۔یہ سنتے ہی سبھی کہ ہاتھ منہ کو پڑے تھے۔ وہاں موجودہ ہر شخص کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اس خبر نے۔۔۔
دل کو لگا کے لٹ جانا عشق ہے،
عشق میں وفا کا پیمانہ عشق ہے،
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے،
پل میں جو بنا دے پیمانہ عشق ہے،
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے،
عشق ہے یہ عشق ہے
عشق بس عشق ہے کوئی بھی نہیں شرطِ وفا،
عشق دیوانگی ہے،رگ رگ میں جنون جلتا ہوا،
دل بجھے یا کہ جلے،
کوئی ملے یا نہ ملے،
فیصلہ آپ ہی کرتا ہے،
عشق ہے خدا،
سمجھو نہیں کہ افسانہ عشق ہے،
جان کا یہی تو نظرانہ عشق ہے،
پل میں جو بنا دے جو دیوانہ عشق ہے،
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے،
زندگی کیا تھی کہ جینے کی طرح جی نہ سکے،
غم کے جھونکے تھے جو سانسوں کی جگہ جلتے رہے،
ساتھ رہے کہ بھی جلاتی ہے جدائی ایسے،
بس میں نہ ہو جا کر جانا عشق ہے،
جیسے دیوانہ کوئی عشق کی آتش میں جلے،
جا کے ادھر سے لوٹ آنا عشق ہے،
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے،
پل میں جو بنا دے جو دیوانہ عشق ہے،
یار کی گلی میں مر جانا عشق ہے،
” ہاں ! وہ دیوانہ اپنے عشق کی آتش میں جل کر راکھ ہوگیا تھا۔”




زندگی معمول پر واپس آچکی تھی۔خانزادہ اینڈ راجپوت فیملی میں سبھی نارمل ہوچکے تھے۔ سوائے ان چار نفوسوں کے،شاید انکی خوشیوں کو نظر لگ چکی تھی۔ حالی میں ہوئے واقعے نے سب پر برا اثر چھوڑا تھا۔
یونی میں، لائیبریری میں، کینٹین میں، ہر جگہ اس شخص کی موجودگی کو محسوس کرتے، ناچاہتے ہوئے بھی سب کی آنکھیں نم ہوجاتیں،مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب نے گھر کہ ماحول کو دیکھتے ہوئے دو مہینے بعد سب کی شادیوں کی تاریخ رکھ دی تھی۔ ان کا کہنا تھا، پڑھائی شادی کے بعد بھی ہوتی رہے گی۔اس درمیان دانیہ بیگم نے نایاب کو واپس اپنے گھر بھج دیا تھا۔کیوں کہ وہ اب مزید کوئی بد مزگی نہیں چاہتی تھیں۔




تین مہینے بعد !!
” انمول ! میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے برے رویے، اپنی کی گئی ہر غلطی کی معافی مانگتا ہوں،پلیز مجھے معاف کر دو،میں عمر بھر تمہارا ساتھ نبھاؤں گا،اب تم سے دور رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،کبھی تمہاری ان سبز شاداب آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا،ہمیشہ خوش رکھوں گا۔”
انمول تو آنکھیں پھاڑ کر، منہ کھولے، حیران سی کیفیت میں ازلان کی باتیں سن رہی تھی۔ ازلان کا بدلا ہوا انداز، اس کا لہجہ،مگر ایک چیز اس کی آنکھیں ازلان کی نیلی سرد آنکھیں،انمول کو کھٹک رہیں تھیں جو کہ برف کی مانند سرد تھیں۔
” زی۔۔!! پتہ نہیں کیوں تمہاری یہ نیلی آنکھیں۔۔!! ، یہ کچھ اور بیان کر رہی ہیں،تمہاری زبان جھوٹ بول رہی ہے۔لیکن کوئی جھوٹے وعدے نہیں کرتا،” انمول نے اپنے خیالات پر خود ہی لعنت بھیجی تھی۔دل تھا کہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔انمول کی بات پر ازلان نے ناسمجھی کے تاثرات سجائے تھے،
” چلو ٹھیک ہے،میں نے تمہیں معاف کیا،مسٹر ازلان “انمول نے احساس کرنے والے انداز میں معاف کیا تھا۔ انمول کے انداز پر ازلان کے چہرے پر بےزاریت نمودار ہوئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں اپنے گھروں کے لیے نکل گے تھے۔




آخرکار وہ دن آہی پہنچنا تھا۔ جس کا سبھی کو اتنی شدید سے انتظار تھا۔سبھی کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ آج تینوں جوڑیوں کے مایوں اور مہندی کا فنکشن تھا،جو کہ راجپوت ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔
لان کو گیندے کے پھولوں سے سجھایا گیا تھا، ساتھ ہی جگمگاتی روشنیوں سے پوار لان چم چما رہا تھا۔ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں، شام کا وقت تھا، ہر طرف گہما گہمی تھی۔ جبران صاحب اور حسن صاحب نے ایک جیسی ڈریسنگ کی تھی اور ساتھ اپنی شادی والے ڈوبٹے گلے میں ڈالے ہوئے تھے۔ جو کہ لال رنگ کے خوبصورت سے نفیس کام والے تھے۔
مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب نے سفید رنگ کی شلوار قمیض کے ساتھ سبز اور پیلے رنگ کی پگڑیاں پہنی تھیں۔ آسیہ اور کلثوم بیگم نے سفید شلوار قمیض کے ساتھ رنگ پرنگی کام والی لمبی سی چادریں کندھوں پر پہلائیں تھیں۔ ہر طرف افراتفری سماں تھا۔ سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم نے ایک جیسی ڈریسنگ کی تھی۔پیلے رنگ کی قمیض کے ساتھ سبز رنگ کا شرارہ اور سبز رنگ کا ہی دوبٹہ سر پے لیا ہوا تھا۔ساری لڑکیاں تیار ہو رہیں تھیں۔ان کو تیار کرنے کے لیے بیوٹشن آئی ہوئی تھی۔
لڑکے بھی اپنی تیاری میں لگے ہوئے تھے۔ سارے لڑکوں نے اج سیم ڈریسنگ کرنی تھی۔سفید کرتا پاجامہ پہنے، نفاست سے سیٹ کیے گے بال، چہرے پر موجود ہلکی سی بئیرڈ کو مزید تراشے ہوئے، پیلے رنگ کا دوبٹہ گلے میں ڈالے ہوئے تھے،پاوں میں کالے رنگ کی نوروزی جوتی پہنے، وجاہت کا بھر پور شہکار لگ رہے تھے۔علیان نے گلے میں سبز رنگ کا دوبٹہ ڈالا تھا، احمر نے ہلکے گلابی رنگ کا دوبٹہ ڈالا ہوا تھا۔جب کہ ان سب کہ برعکس ازلان نے ملٹی شیڈ کا دوبٹہ گلے میں ڈالے ہوئے تھا۔ سبھی اپنی مثال آپ لگ رہے تھے۔
سب سے پہلے بیوٹیشن نے ایشعال کو تیار کیا تھا۔جو کہ اورنج اور سبز رنگ کی کامدار خوبصورت سی لانگ فراک میں کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔ اُوپر سے ہلکے میک اپ کے ساتھ پھولوں کے زیورات نے ایشعال کہ حُسن میں چار چاند لگ دیے تھے۔
بیوٹیشن ایشعال کو تیار کرنے کے بعد اب پریہان کو تیار کر رہی تھی، جو کہ گلابی اور سبز رنگ کی کامدار اوپن شرٹ فراک کے ساتھ گلابی شرارے میں،کھلے بالوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے زیورات پہنے ہوئے آسمان سے اُتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی۔
دونوں دلہنوں کو تیار کرنے کے بعد بیوٹیشن نے ماہم اور مومل کو تیار کیا تھا، جو کہ آج لڑکے والوں کے چھکے چھڑانے والیں تھیں، کیوں کہ سالی کے ساتھ آدھی گھر والیں تھیں، آج نیک کے نام پر خوب لوٹنا تھا اور ساتھ ہی خوب ناچنا تھا۔
سب کو تیار کرنے کے بعد بیوٹیشن نے آخر میں انمول کو تیار کرنا تھا، جو کہ جانے کب سے نخرے کیے جارہی تھی۔ جیسے ہی سعدیہ بیگم نے انمول کو نخرے کرتے ہوئے دیکھا، تو غصے سے دانت کچکائے تھے،اور اچھے سے انمول کو ڈانٹ کی جھاڑ پلائی تھی۔
جس کے بعد انمول نے شکل بگڑتے ہوئے بات مانی تھی، ڈریس چینج کرنے کے بعد، میک آپ کروانے کے لیے بیٹھ گی تھی۔ سعدیہ بیگم انمول کو تیار ہوتا، دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گئیں تھیں۔
کچھ ہی دیر میں بیوٹیشن نے انمول کو پوری طرح سے تیار کر دیا تھا۔ اور پھر روم سی نکلتی باہر نکل گیں ،انمول نے ایک نظر بھی خود کو آئینے میں نہ دیکھا تھا،اور عجلت سے اپنا فون نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی، مگر مقابل بھی شاید ڈھیٹ تھا،ایک بھی کال آئی اٹینڈ نہ کی تھی،تو تھک ہار کے مانو موبائل لے کر بیڈ پر بیٹھ گی تھی۔کہ دروازہ ناک ہونے آواز آئی تھی۔مانو نے موبائل فون پر نظر جماتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔دروازہ کھلا تھا۔
کمرے میں ایک شخص داخل ہوا تھا۔جو کہ مانو کو دیکھ کر سٹیل ہوگیا تھا۔سبز آنکھوں میں معصومیت طاری تھی، کاجل کی خوبصورت لکیریں، ہونٹوں پر خوبصورت لپسٹک، گالوں پر لال گلال کھلا تھا۔پھولوں کے زیورات زیب تن کیے کوئی اپسرا ہی معلوم ہو رہی تھی۔
مگر مقابل کو سٹل دیکھ کر انمول کو فکر لاحق ہوئی تھی، شاید وہ بری لگ رہی تھی، اسی لیے مقابل سے فورن پوچھا تھا۔
“کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔! بری لگ رہی ہوں۔۔!”
!نمول نے اپنا خوبصورت سا دھنک کے رنگوں میں ڈوبا ہوا لہنگا سنبھالا تھا اور گول گول گھومتے ہوئے پوچھا تھا۔
مقابل شخص کو سترہ حوروں سے زیادہ خوبصورت کے رہی تھی۔ اس کے نازک لبوں کی مسکراہٹ۔۔
