Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 24)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 24)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
گہری کالی آنکھیں چمکیں تھیں،عنابی لب پر خوبصورت سی مسکراہٹ ائی تھی۔
” ماشاءاللہ “
مقابل کھڑے ہوئے شخص کے منہ سے بے ساختہ ادا ہوا تھا۔مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے لب کشائی کی تھی۔
” Ay ışığı gibi görünüyorsun “
(you looks like a Moonlight)
” ہیں!! ،شاہ!!! کیا مطلب ہے،اُس کا جو تم نے بولا۔۔؟” انمول نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے، جھرجھری سی لی تھی۔ جس پر سالار گہرا مسکرایا تھا۔
“ہمم اس کا مطلب ہے، تم بلکل چاندنی لگ رہی ہو” سالار کے بتانے پر مانو ٹماٹر کی طرح لال ہوگی تھی۔ “ہاہاہاہاہا یااللہ تو میری پیاری سی مانو بلی بلش بھی کرتی ہے۔۔۔؟” سالار نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔ تو مانو کھسیانی سی ہو کر مسکرا دی تھی، “افففف میں بھی نا اپنا پوچھنے لگ گی،اچھا یہ بتاؤ تمہاری طبیعت کیسی ہے۔۔؟” مانو کے لہجے میں فکر مندی کے اثرات نمایاں تھے۔
” خود ہی دیکھ لو آج کے دن تمہارے سامنے زندہ کھڑا ہوں، شاید اللہ کو بھی ناپسند ہوں، اسی لیے اتنا سب ہوجانے کے بعد بھی ٹھیک ٹھاک ہوں۔ ورنہ لوگ تو ایک ہی بار میں اللہ کے پاس ہوتے ہیں”
سالار کے لفظوں میں قرب تھا ، اذیت تھی، مگر خاموش تھی، کاش وہ کبھی محبت نا کرتا، تو آج اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتے دیکھ کچھ محسوس نا ہوتا، دل کو سکون ہوتا، دنیا کی ہر چیز بے وفائی کرتی ہے، مگر یہ درد یہ کیوں وفا کرتا ہے،کیوں جان نہیں چھوڑتا،کیوں دل پر ناسور کا کام کرتا ہے۔
” چپ ایک دم چپ “
انمول کی آنکھوں میں یکدم سنجیدگی در آئی تھی، “شاہ ! اج تو یہ بول دیا، اگر اج کے بعد دوبارہ ایسی مایوسی والی بات بولی تو مجھ سے کبھی بات مت کرنا،شکر کرو اللہ پاک جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے، اور بنا کوئی عیب کے،ضرور ہی اس میں کوئی مصلحت ہوگی”
انمول کی آنکھوں میں سرد پن تھا، انمول نے سالار کے سامنے سے رخ موڑ لیا تھا،جیسے کہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی ہو، سالار نے اپنے دردِ دل کو حلق میں انڈیلا تھا، گلے کی گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی، جیسے خود کو رونے سے باز رکھا ہو، آنکھوں میں پانی چمکنے لگا تھا، جس کو بار بار پلک جھپکتے ہوئے پرے دھکیلے تھا، چار قدم آگے بڑھ کر انمول کے سامنے جا کھڑا ہوا اور کانوں کو پکڑ کر معافی مانگنے لگا، ساتھ ہی اُوپر سے نیچے اُٹھک بیٹھک کرنے لگا تھا۔
انمول نے سالار کو دیکھتے ہوئے بھویں اچکائیں تھیں۔” کیا ہے “انمول نے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔بازو فولڈ کر کے رخ بدلا تھا۔ تو سالار نے جلدی سے انمول کی طرف رخ کیا تھا۔ اور چہرے پر معصومانہ تاثرات سجائے تھے۔ جس کو دیکھ انمول نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔
” پلیززز مانو ” سالار کہ اس قدر معصومانہ انداز پر انمول کھل کر ہنسی تھی۔ ” اچھا زیادہ میسنے بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے،تم سے نہیں ہوگا،معصوم بننے کا ڈرامہ” اب کی بار دونوں مسکرائے تھے۔اور مانو سالار کو بازو پر دو تھپڑ جڑتے ہوئے بولی تھی۔
“سچ میں شاہ تمہیں اندازہ نہیں، اس رات ہم سب کا کیا برا حال تھا۔جب ڈاکٹر نے باہر آکر یہ کہا تھا، آئی-ایم-سوری سر ہم نے پوری کوشش کی شاید اپکا پیشنٹ خود ہی نہیں جینا چاہتا، آپریشن تو ہوگیا ہے، مگر وہ کوما میں چلے گے ہیں۔سب کی سانس تک رک گی تھی،پورے دو مہینے سکون سے سوتے رہے ہم سب کی نیندیں حرام کر کے ذلیل نہ ہو تو”
سالار نے انمول کی آنکھوں میں آنسو چمکتے دیکھے تھے۔
” اچھا اب رونا نہیں ” سالار نے جان بوجھ کر کہا تھا، کیوں کہ انمول کے بقول وہ کبھی روتی نہیں تھی،بلکہ رلاتی تھی۔ اور کہیں نا کہیں یہ سچ تھا۔
” اچھا شاہ ! ایک بات بتاؤ تمہارے ڈیڈ کو تم سے پیار نہیں۔۔۔؟کیونکہ تمہارا جو حال تھا،کبھی بھی کچھ ہو سکتا تھا، مگر وہ ایک بار بھی نہیں آئے” انمول متجسس لہجے میں بولی تھی۔سالار کے پھلے ہونٹ فورن سے سمٹے تھے۔
“کیوں کہ انکو صرف اپنے پیسے سے محبت ہے” سالار اپنے باپ کو خیال میں لاتے ہوئے بولا تھا۔ “خیر چھوڑو اس بات کو آو میں تمہارا فوٹو شوٹ کرتا ہوں”۔ تو انمول فورن سے سیدھی ہوئی تھی۔”میرا نہیں ہمارا ہم دونوں ساتھ سیلفی لیتے ہیں۔ کیوں کہ تو آج تو جناب بھی غضب ڈھا رہے ہیں۔”
انمول نے سالار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔ سفید کرتا پاجامہ پہنے ہوئے گلے میں کالا دوبٹہ ڈالے، ۔پاؤں میں پشاوری جوتی پہنے وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔ پہلے سے کچھ کمزور ضرور ہوگیا تھا۔ ” چلو مسکراؤ ” سالار کے بولنے پر انمول گہری مسکرائی تھی۔ جس سے گال میں پڑتا ہوا گڑھا واضع نظر آیا تھا۔




راجپوت ہاؤس کا پورا لان مہمانوں سے بھر گیا تھا۔اب بس انتظار تھا۔ تو صرف تینوں جوڑیوں کا، کچھ ہی دیر میں دلہنوں کے آنے کا شور مچا تھا۔
ازلان اور داریاں کے درمیان میں انکی لاڈلی چھوٹی سی حور پریہان خانزادہ چلی آرہی تھی۔ اُسی کے ساتھ کچھ فاصلے پر احمر اور ماہم کے درمیان معصوم سی ایشعال راجپوت چلی آرہی تھی۔کہ اچانک سے لائٹس آف ہو گئیں۔
دو سپوٹس لائٹس پری اور ایشو پر پڑیں تھیں۔ اور یکدم سے زور سے ڈھول نغڑے بجے تھے،ساتھ ہی فائر ورکرز اون ہوئے تھے۔ کہ تیسری سپوٹ لائٹ اون ہوئی تھی،سالار اور علیان درمیان میں، دنیا جہاں کہ رنگوں میں ڈوبا ہوا پھول چلا آرہا تھا۔ چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔ انمول اپنی سبز آنکھوں میں خوشی کی چمک لے بڑے ٹشن سے آرہی تھی۔
کچھ آگے آنے کے بعد علیان نے ایشعال کا ہاتھ تھاما، احمر نے پریہان کا ہاتھ تھام، اور پھر آخر میں ازلان نے انمول کا ہاتھ تھاما تھا، تینوں جوڑیاں مسکراتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھ رہیں تھیں، سامنے سے ماہم اور مومل ان سب پر ڈھیروں گلاب برسا رہے تھے۔




“عفار۔۔!” ایس وی کی دھاڑ پر عفار کسی جن کی طرح حاضر ہوا تھا۔ ” میرے کام کیا بنا ۔۔۔؟” بس سر دو دن میں ہوجائے گا، اور اس بار کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی،میں خود اس بار سارا کام کروں گا،
” ہممم ! اس کے بعد ذرہ دوبئی کا چکر لگاتے ہیں، کافی عرصے سے شیخ ملاقات نہیں ہوئی،” یہ بولتے ہی اس کے ہونٹوں پر کمینگی سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔ سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے دھواں ہوا کے سپرد کیا تھا۔ “چلو پھر پاکستان کو ایک سرپرائز دیتے ہیں۔آخر کار پھر پاکستان کو اپنا غلام جو بنانا ہے۔” ایس وی نے مغروریت سے کہا تھا۔سر جھکائے عفار نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔




تینوں جوڑیوں کو لال چنری کے سائے تلے لے جاتے ہوئے سٹیج پر بیٹھایا تھا۔ازلان نے اپنے پہلو میں بیٹھی اپنی منکوحہ کو دیکھا تھا، جو اس کے چاروں شانے چت کر چکی تھی۔وہیں انمول کا دل ہتھیلی پر ڈھڑک رہا تھا۔
انمول اور ازلان کے دائیں جانب علیان اور ایشعال تھیں تو بائیں جانب پریہان اور احمر بیٹھے تھے۔علیان تو آج کچھ زیادہ ہی چہک رہا تھا۔ آخر کار اس کو اُس کی محبت جو مل رہی تھی۔ ایشعال تو علیان کے قریب بیٹھنے پر ہی اپنی سانس رک گی تھی۔ چہرہ تک اُوپر کی طرف نہیں اٹھا پارہا تھی۔شرم سے پانی پانی ہوئی جاری تھی۔اور ساتھ بیٹھے علیان کی بےباک سرگوشیوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔” اج تو قیامت ڈھا رہی ہو” علی نے ایشعال کو چھڑتے ہوئے کہا تھا۔” “علی بھئیو پلیززز تنگ نا کریں” ایشعال شرم سے گھبراتے ہوئے بولی تھی، مگر بولنے کے بعد زبان دانتوں تلے دبائی تھی کہ جلد بازی میں وہ غلط بول گی تھی،” کیا مطلب تمہارا لڑکی۔۔!!! ، بھائی بول کر نکاح کیوں خراب کرتی ہوا” علیان تو تپ ہی اُٹھا تھا۔
پریہان اور احمر دونوں بے انتہا خوشی تھے۔ کیوں کہ دو طرفہ محبت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے، “ویسے پریہان میم اس دن تو آپ مجھے چکما دے کر بھاگ گئیں تھیں، مگر اب تو میں پورا پورا حق رکھتا ہوں، اب کہاں بھاگیں گی” احمر نے جھک کر پری کے کان میں سرگوشی نما کہا تھا۔احمر کی بات سنتے ہوئے پری کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ پھلے گئی تھی۔
دور کھڑا سالار انمول کو حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ کاش کہ وہ بھی اچھی قسمت لے کر پیدا ہوتا، تو آج وہ اس کی ہوتی اسکی دسترس میں ہوتی، اسی روح میں ہوتی، اس کا مستقبل ہوتی،صرف اس کا حق ہوتا اپنی بلی پر،کم سے کم اس کے گلے لگ کر اپنے درد بیان کر پاتا، اپنی محرومیاں بیان کرتا، مگر ہائے رے قسمت تیرے کیا ہی کہنے، تو بھی بےقدروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے،آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں، اور پل میں کئی آنسو بے مول ہوئے تھے۔مگر سالار شاہ کی محبت بھی بہت سنگدل تھی،لاپروا تھی، کبھی اس نے اپنے شاہ کے جذبات کی قدر نہ کی تھی۔سالار کے دائیں جانب کھڑی مومل نے سالار کو دیکھا تھا، جس کی آنکھوں میں بھی کرب تھا، وہ بھی اپنے محبوب کو درد دیکھ کر تڑپی تھی، دونوں کا حال دل ایک سا تھا،
” چلو آسیہ ہماری بہویں تو مہمان میں مصروف ہیں، ہم ہی رسمیں شروع کریں،ورنہ پھر بہت دیر ہوجانی ہے،کلثوم بیگم نے سعدیہ اور دانیہ بیگم کوکسی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، “ہاں ٹھیک کہا کلثوم چلو پھر ہم شروع کرتے ہیں۔”
آسیہ اور کلثوم بیگم دونوں ہی سٹیج کی طرف آئیں تھیں، جہاں تین کپلز کا فوٹو شوٹ چل رہا تھا۔ “چلو بچوں تم سب بیٹھ جاؤ، ہم دونوں تم سب کی رسمیں شروع کرتے ہیں، تمہاری ماوں کو تو فرصت ہی نہیں باتوں سے، آسیہ بیگم تپ کر بولیں تھیں۔ “ارے ارے اماں جان ہم دونوں آگے ہیں،سعدیہ بیگم نے پھیکا سا مسکراتے ہوئے بولیں تھیں۔ تو آسیہ بیگم دونوں کو غصے سے گھورتے ہوئے بولیں تھیں۔
“ہمم!! ہم دونوں آگی ہیں، بڑا احسان ہے آپ دونوں کا”غصے سے اپنی بہو کی نکل اتاری تھی اور سارے خیالات جھٹک کر بچوں کی طرف بڑھیں تھیں،سب پہلے ازلان اور انمول کی رسم ادا کی تھی، کیوں کہ ازلان سب سے بڑا تھا، پھر علیان اور ایشعال کی رسم ادا کی تھی، اور پھر آخر میں احمر اور پریہان کی رسم ادا کی تھی،ساری رسموں کی ادائیگی ہوچکی تھی۔
کہ اچانک ساری لائٹس آف ہو گئیں تھیں، ہر سوں سفید دھواں پھیل گیا تھا اور پھر ایک سپورٹ لائٹس ان ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا لان رنگ برنگی روشنیوں سی نہا گیا تھا، سامنے ڈانس فلور پر چار نفوس ٹھہرے تھے۔ اور ڈی-جے نے سونگ پلے کیا تھا،
میوزک



بنو
کی مہندی کیا کہنا
بنو
کا جوڑا کیا کہنا
بنو
لگے ہی پھولوں کا گہنا
جبران صاحب نے اپنی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھتے ہوئے گانے کی لائنز بولیں تھیں،اور پھر انکھوں میں شرارت لیتے ہوئے، سعدیہ بیگم کے گر چکر کاٹا تھا۔ جس پر سعدیہ بیگم جھمپ سی گئیں تھیں اور پھر ان کو کمر سے پکڑتے ہوئے گول گول گھمایا تھا۔
بنو
کی آنکھیں کجراری
بنو
لگے سب سے پیاری
میں
جاوں میں واری واری
حسن صاحب نے دانیہ کو ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا، کہ وہ سب کی ہوٹنگ پر سپٹا گئیں تھیں،اور شرماتے ہوئے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں چھپا گیں تھیں۔لیکن تب ہی حسن صاحب نے دانیہ بیگم کو گھماتے ہوئے اپنے بازوں کے حصار میں لیا تھا،کہ سب نے ایک بار پھر شور مچایا تھا۔
میوزک



ہوہوووووو
داریاں اپنے گلے میں بڑا سا ڈھول ڈالے بجاتا ہوا سٹیج پر آیا تھا،اور گانے پر لپسنگ کر رہا تھا، اور ایک بار پھر گانے کی لائنز شروع ہوئیں تھیں، کہ جبران صاحب اور سعدیہ بیگم نے سونگ کی لانز پر سٹپس لینے شروع کیے تھے،۔
بنو
کی سہیلی ریشم کی ڈوری
چھپ چھپ کے شرمائے
دیکھے چوری چوری
اور دوسری جانب حسن صاحب نے دانیہ بیگم کے ساتھ ڈانس فلور پر آگ لگا دی تھی۔ اور داریاں تھا انکے درمیان کھڑا ڈھول بجا رہا تھا، تینوں جوڑیاں سامنے بیٹھے ہوئے تالیاں بجا رہے تھے۔
اب کی بار داریاں، ماہم اور مومل نے ڈانس فلور پر انٹری ماری تھی،داریاں سٹیپس لے رہا تھا، جب کہ ماہم اور مومل کمر پر ہاتھ رکھے کمر کو ہلکے سے ہلا رہیں تھیں۔
بنو
کی سہیلی ریشم کی دوڑی
چھپ چھپ کے شرمائے
دیکھے چوری چوری
یہ مانے یا نا مانے
میں تو اس پے مر گیا
یہ لڑکی ہائے اللہ
ہائے ہائے رے اللہ
داریاں نے ڈانس کرتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھتے گرنے کی ایکٹنگ کی تھی۔اور پھر آنکھ دباتے ہوئے واپس کھڑا ہوا تھا، کہ ماہم اور مومل نے زبردست گھورا تھا، اور ماہم نے سونگ کی لپسنگ کرتے ہوئے سٹپس لیے تھے۔
بابل کی گلیاں نہ چھڈ کے جانا
ماہم نے جبران صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لائیں کہی تھی،اور آپنی جگہ سے دوسری طرف ائی تھی،جبکہ اب مومل کی باری کی تھی۔
پاگل دیوانہ اس کو سمجھانا
مومل نے اکڑ کر کھڑے داریاں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، جس پر وہ کندھے اچکا گیا تھا،اور پھر دونوں داریاں کہ دائیں بائیں آتے ہوئے سٹپس لینے لگیں تھیں،
دیکھو جی دیکھو یہ تو میرے پیچھے پڑگیا
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
میوزک





اسی بیچ داریاں کی نظر دور اکیلے کھڑے سالار پر پڑی تھی، تو وہ سالار کے لاکھ منع کرنے کے باوجود زبردستی لے آیا تھا،اب بار سالار نے سونگ کی لانز بولیں تھیں۔گہری کالی آنکھوں میں چمک تھی۔
لب کہیں نہ کہیں
بولتی ہے نظر
پیار نہیں چھپتا
یار نہیں چھپانے سے
آگے کی لائنز مومل نے سٹپس لیے ہوئے بولیں تھیں مگر نظر اپنے دشمنِ جان پر ٹھہر تھی۔اور سالار کے گرد گھومی تھی۔
ہآں روپ گھونگھٹ میں ہو
تو سہانہ لگے
بات نہیں بنتی
یار بتانے سے
سالار نے ایک پھر لب کشائی کی تھی، جیسے کہ وہ اپنا حال دل بتا رہا ہو، سامنے بیٹھی نادان لڑکی کو، سالار کو ایک جگہ جما دیکھ داریاں نے کندھا مارا تھا اور ہلکے ہلکے سٹیپس لینے کو بولا تھا، تو سالا نے بھی اپنے کسرتی جسم کو حرکت دی تھی۔اور سونگ کی لائنز بولیں تھیں، اپنا دائیں ہاں دل کے مقام پر رکھے،سر کو جھائے ہوئے وہ بولو تھا، جیسے کہ وہ اپنے درد کو بیان کر رہا ہو۔۔
یہ دل کی باتیں دل ہی جانے یا جانے خدا
یہ لڑکی ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
یہ لڑکی ہائے اللہ ہائے ہائے رے
مومل نے سالار کو گھورتے ہوئے لائنز بولیں تھیں،اور ماہم نے داری گھورتے ہوئے۔۔
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
مانگنے سے کبھی ہاتھ ملتا نہیں
جوڑیاں بنتیں ہیں پہلے سے سب کیں
مومل نے ماہم کو کندھا مارتے ہوئے لائنز بولیں تھیں اور ساتھ ہی سٹیپس لیے تھے۔ سالار واپس اپنی جگہ چلا گیا تھا۔مگر داریاں نے دوبارہ لائنز بولیں تھیں،اور ماہم کو آنکھ دباتے ہی ہاتھ تھاما تھا، ساتھ ہی مومل کا بھی ہاتھ پکڑا تھا اور دونوں کو گول گول کھمایا تھا۔
ہووووووو
لے بارات گھر تیرے اوں گا میں
میری نہیں یہ تو مرضی ہے رب کی
اب کی بار ماہم اور اور مومل نے اپنے ڈریس کی آستین کو چڑھاتے ہوئے لائنز بولیں تھیں۔
ارے جارے جارے یوں جھوٹی موٹی باتیں نہ بنا
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے اللہ
یہ لڑکا ہائے اللہ ہائے ہائے رے
سونگ کے آخر میں سب کو ڈانس فلور پر لے آئے تھے سب ہی اپنے آپ میں مگن تھے، ماہم اور مومل نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کو زور سے تھاما تھا اور تیز تیز گھومنے لگیں تھیں۔ سبھی خوش تھے۔بے انتہا خوش ہر طرف خوشیاں تھیں۔
” دور گھڑی قسمت نے سب کو اسی طرح خوش رہنے کی دعا دی تھی۔مگر وقت بدلنے ولا تھا، مگر خوشیوں کو جلدی ہی نظر لگتی ہے،وہ گہری نظر۔۔”
جاری ہے
