Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 16)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 16)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
کیلر نے دو بار ساری سی سی ٹی وی فوٹج چیک کر لی تھی۔مگر اس کو کچھ بھی معمول کے خلاف نہ ملا تھا۔ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا تھا۔
مگر ابھی تک کچھ ہاتھ نا لگا تھا۔ اتنی عوام میں بم ڈھونڈنا، جیسے اندھیرے میں سوئی ڈھونڈنے کے برابر تھا۔ فوٹج کو دوبارہ سے دیکھتے وقت، کیلر کی نظر ایک جگہ رک سی گی تھی۔
اس نے فوکس کیا،تو اس کو پانچویں فلور پر ،ایک شاپ میں رکھے ہوئے،ٹیڈی پر نظر رکی تھی۔ گیارہ بجے تک تو یہاں کوئی ٹیڈی نہیں تھا۔
یہ کب ایا۔۔۔۔؟
جب اس نے دوبارہ سے فوٹج کو چیک کیا ، تو سات منٹ کے لیے سارے کیمرے آف ہوئے تھے۔اور جب واپس اون ہوئے،تو وہ ٹیڈی، اس دکان میں رکھا ہوا تھا۔ ساری بات سمجھ آتے ہی کیلر نے اوپر کی طرف ڈور لگائی تھی۔ بیس منٹ باقی رہتے تھے۔ بار بار گھڑی پر نظر دوڑاتے ہوئے ، اوپر کی جانب بھاگے جارہا تھا۔
پہلے لفٹ کی طرف بڑھا تو لفٹ خراب تھی۔ تو سیڑھیوں کی طرف بھاگا تھا۔ ہر کوئی موڑ موڑ کر اس کالے سائے کو دیکھ رہے تھے۔ جو کسی کی پرو کیے بغیر دو دو تین سیڑھیوں کو پھلانگتا ہوا، آگے کی طرف بڑھتا جارہا تھا۔
پندره منٹ باقی تھے۔ پانچویں فلور پر پہنچتے ہی لوگوں کے حجوم کو چیرتے ہوئے، وه کالا سایہ، اس دکان میں داخل ہوا تھا۔پوری شاپ پر نظر کھمائی تو ہر کوئی اپنی شاپنگ میں مصروف تھا۔
اس نے بم ڈیٹیکٹر مشین کو اون کیا اور پورے بھالو پر پھیرا تو اس کی لال بتی جلنے لگی تھی۔ جس کا مطلب وہ اچھے سے سمجھا تھا۔
کالے سائے نے اپنی جیب سے تیز دھار والا چاکو نکالا اور دھڑا دھڑ اس خوبصورت سے ٹیڈی پر وار کرتے ہوئے اس کو چیرنے لگا۔
سب لوگ تعجب اور حیرت سے اس سر پھرے انسان کو دیکھنے لگے۔دکان دار اپنے اتنے مہنگے ٹیڈی کو کٹتا دیکھ کر سکتے میں چلا گیا۔
کچھ دیر بعد ہوش کی دنیا میں آتے ہوئے، کالے سایے کی طرف بڑھا تھا۔
“ااےےےے تم کیا کر رہے ہو بیس ہزار کا تھا۔ اس کے پیسے کون دے گا میرا اتنا نقصان کردیا ہے۔ سکیورٹی سکیورٹی” دکان دار مال میں موجود سکیورٹی فورس کو بولانے لگا تھا۔
مگر اُس کالے سایے نے دکان دار کی کسی بات پر کان نا دھرے تھے۔ اور اپنے کام میں مصروف تھا۔
وہاں موجودہ لوگوں سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانا شروع کی ہی تھی۔ کہ سائے نے اپنی جیب سے گن نکال کر سامنے رکھ دی تھی۔
جس کو دیکھ کر سب نے اپنے موبائل فون واپس اپنے جیبوں میں رکھ دیے تھے۔اس کالے سائے نے پورے ٹیڈی کو پھاڑ دیا تھا۔پوری دکان میں ہر طرف روئی اڑ رہی تھی۔
آخر کار اس کو وہ مل ہی گیا تھا۔ جس کہ لیے وہ دیوانہ وار اس ٹیڈی کو پھاڑے جارہا تھا۔اس کو وہ تباہی کا سامان مل چکا تھا۔اس کو بم مل چکا تھا۔
جس پر دو منٹ کا وقت باقی تھا۔جو لوگ وہاں موجود تھے۔ بم کو دیکھ سب کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں۔
بیک وقت اس کالے سائے نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا تھا۔جہاں ساری عوام میں بم کو دیکھ کر بھگ دڑ مچ گی تھی۔ ہر کوئی مال سے باہر نکلنے کے لیے بھاگ رہا تھا۔
ہر انسان اپنی جان کے لیے دوسرے کی جان کی پروا کیے بغیر، ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے، باہر کی طرف بھاگ رہے تھے۔ اسی بیج کچھ نیچے گر رہے تھے ۔ کچھ درمیان میں پیس کر رہے گئے تھے۔
اس سائے نے اپنی پسٹل اُٹھی اور اوپر کی طرف ہوا میں فائر کیا تھا۔اُس پل پورے مال میں سکوت چھا گیا تھا۔ہر انسان کو اپنی سانسیں ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
اس سائے نے اُنگلی ہونٹوں پر جماتے ہوئے، سب کو خاموش رہنے کو کہا تھا۔ کیوں کہ وہ سایہ ایسا ہی تھا۔ اس کے اپنے اصول تھے۔اب پورے مال میں خاموشی کا راج تھا۔
اس نے جیب سے چھوٹی سی قینچی نکالی تھی، اور پھر پورے بم کا جائزہ لینا لگا تھا۔ اب ایک منٹ باقی تھا۔ سارے بم کی تاریں کالے رنگ میں تھیں۔ وقت پر وقت لگا جارہا تھا۔ اب دس سیکنڈ باقی تھے۔ہر انسان اپنی آخری سانسں کا انتظار کر رہا تھے۔
مگر سائے کہ چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ ائی تھی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ، اس نے ایک جھٹکے سے ایک تار کاٹی تھی۔جس سے بم میں بجتی ہوئی آواز تھم گی تھی۔جلتی ہوئی روشنی بجھ گی تھی۔
اس لمحے میں سب نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔ اور ساتھ ہی اس کے بھجے ہوئے مسیحے کا جس نے لاکھوں زندگیاں بچائیں تھیں۔ ابھی سبھی نے اس سائے کو تشکر بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
ٹھاہ !!!
کہ اچانک گولی چلی اور اس کالے سائے کے کندھے میں پیوست ہوگی۔ ایک بار پھر مال میں موجود لوگوں کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں۔
کالے سائے کے ماسک میں چھپے ہوئے ، چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ ائی تھی۔اس نے پھرتی سے اپنی پسٹل اُٹھی،اور گولی چلانے والے کو کوئی موقع دیے بغیر ہی، اس کے ماتھے کا نشانہ لیتے ہوئے، اس پر وار کیا تھا۔
جس پر وہ شخص وہیں ڈھیر ہوگیا تھا۔یہ وہی شخص تھا۔ جس نے بم پلانٹ کیا تھا۔سایہ بم اٹھانے کے لے جھکا تھا۔ کہ ہر سوں سفید دھواں پھیلنے لگا تھا ۔کچھ ہی دیر میں پورا مال سفید دھوائے میں نہا گیا تھا۔ کچھ ہی منٹوں کا کھیل تھا۔دھواں ختم ہونے پر سبھی لوگ حیران ہوئے تھے۔
وہاں کسی سایے کا کوئی نام و نشان نا تھا۔ مال کہ باہر اب میڈیا آ چکی تھی۔ سبھی جلدی جلدی مال کہ باہر نکلے تھے۔ سکیورٹی ساری، سی سی ٹی وی کنڑول روم کی طرف بھاگے تھے۔ مگر بے سود سبھی کیمرے بند تھے۔ اور کسی کے پاس اس ہیرو کی کوئی نشانی نا تھی کہ جس سے اس کی شناخت ہو سکتی۔
آخر کون تھا وہ۔۔۔؟
سب کے دماغوں یہ سوال آیا تھا۔۔





شام ہونے کو تھی۔دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم جانے کب سے پریشانی اور غصہ سے یہاں وہاں ٹھہل رہیں تھیں۔مگر دل تھا جس کو ایک پل سکون نا تھا۔
“آنٹی پلیز آپ دونوں پریشان مت ہو آجائیں گئی”مومل کتنی بار دونوں کو سمجھا چکی تھی۔مگر بے سود گیا۔ نایاب بھی واپس اچکی ہے۔ اور لڑکے تو سب بڑے تھے ۔ بھرپور مرد تھے۔ ساتھ ہی فون پر بات بھی ہوچکی تھی۔
یہ تینوں صبح کی نکلی تھیں۔ مگر ابھی تک واپس نہیں آئیں۔شام ہونے کو ہے۔ ” آج آنے دو انکو ان کی تو ہڈیاں میں توڑنی ہے۔”
بلکل !! دانیہ بیگم نے سعدیہ کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔اور کام دیکھو لاپرواہی کی بھی حد ہے، سب کے فون گھر پڑے ہیں۔





ریبل اور ہیکر نے مسجد اور مدرسے کی اچھی طرح سے چھان بین کی تھی۔صفائی کے نام پر ہر جگہ تلاشی لی تھی۔
تب جا کر کہیں، ریبل اور ہیکر کو مدرسے کی الماری سے بم برآمد ہوا تھا۔کئی سارے قرآن پاکوں درمیان لال رنگ کے کپڑے میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔
جیسے ہی بم دونوں کے ہاتھ لگا تھا۔ دونوں وہ لیتے ہی ہوا کی طرح وہاں سے گم ہوگئے تھے۔ دور سنسان علاقہ میں آکر ہیکر نے ،اس بم کو ڈیفیوز کیا تھا۔ اور بم کو تھامے ڈینجر روم کی طرف روانہ ہوگے تھے۔





شام کا پہر تھا۔اس وقت سارے ایجنٹس ڈینجر روم میں موجود تھے۔ سوائے ایک کے جو ٹیم کا ہیڈ تھا۔
“ٹاکسک کیلر”
جس کی دہشت سے ہر گینگسٹر کانپ اٹھتا تھا۔ جس کی وحشت دیکھ کر سب اپنی موت کی دعا مانگتے تھے۔مجرم تھر تھر کانپتے تھے۔جس کو آج تک دیکھا تو دیکھا، کسی نے سنا بھی نا تھا۔ وہ تھا ون اینڈ اونلی ” ٹاکسک کیلر “جو کہ معاشرے میں موجودہ زہر کو اپنے بنائے گے زہر سے مارتا تھا، بلکہ تڑپا تڑپا کر مارتا تھا۔سب ہی اس کے منتظر تھے۔
ڈیول اور ایول بھی ڈینجر روم میں موجود تھے۔بلکل وہ بچ چکے تھے دونوں، جب انجن بلاسٹ ہونے والا تھا۔اس سے پہلے ہی پہاڑی کے نیچے بہتی ہوئی، ندی میں دونوں نے چھلانگ لگا دی تھی۔ جس سے ان دونوں کو کچھ چوٹیں آئیں تھیں۔
مگر مارخور تھے۔ اتنی جلدی ہار مان لیتے اور اپنی زندگی رائیگاں جانے دیتے ، نہیں بلکل نہیں، بلکہ اپنے ملک کے ہر ایک دشمن کو شکست دے کر، ان کو موت کے گھاٹ اتارا کر ہی دم لینا تھا۔بے شک وہ پاکستان کے نو جوان مارخور سپاہی تھے۔۔
ٹک-ٹک-ٹک
سب کو مضبوط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔وہ اچکا تھا۔زہر سے بھی زہریلا، موت سے بھی خوف ناک،جس کو اپنے ملک کے غداروں کو تڑپانا، ان کو سسکانا، ان کے ٹکڑے کرنا، انتہائی پسند تھا۔
سب کی نظریں اس پر مرکوز تھیں۔ کالی رات کی مانند کالا سایہ، جس کو دیکھ کر عام انسان اپنے ہوش کھو بیٹھتا، سر تا پیر کالا تھا۔
چاروں ایجنٹس کو نظر انداز کرتا، وہ اپنے شکار کے پاس پہنچا تھا۔ اپنے سپیشل روم کا دروازہ بند کیا،ایک نظر اپنے دائیں جانب دیکھا، جہاں اس کے ساتھی فائر اور ہنٹر بیٹھے تھے۔
پھر سامنے کی جانب نظر کھمائی تھی۔اپنے شکار ، زہریلے سانپ کی جانب، جس کو دیکھ کر آنکھیں خون کی مانند لال ہوگئیں تھیں، کیلر کے ساتھی ایک بار پھر اس کا وحشیانہ روپ دیکھنے والے تھے۔
سپیشل روم پورا شیشے کا بنا ہوا تھا۔جس کے آر پار دیکھ تو سکتے تھے۔مگر سنائی کچھ نا دیتا تھا۔
کیلر نے ایک دراز کھولی اور اس میں میں اپنے پسندیدہ ہتھیار اُٹھائے تھے، ساتھ ایک اور ڈبا نکالا تھا۔ جس میں نمک بھرا ہوا تھا، اور اس نمک میں کیل پڑے تھے، ساتھ ہی ہتھوڑا بھی اُٹھایا تھا،
دونوں ڈبے لیے وہ اس ملک کے غدار کی جانب بڑھا تھا۔پچھو کا ڈبا ایک طرف رکھا ۔ کرسی پر بندھے شخص کی جانب جھک کر سوال کیا ۔
“ایس-وی کون ہے ۔۔؟”
” اس کا اصل نام کیا ہے۔۔؟”
یہ وہی شخص تھا۔ جس نے ٹرین میں بم فٹ کیا تھا۔اس شخص کہ جواب سے پہلے کیلر دوبارہ بولا تھا۔
“سوچ سمجھ کر جواب دینا، کیوں کہ مجھے کوئی بہانہ اور جھوٹ پسند نہیں”۔
اس آواز سے دہشت ٹپک رہی تھی۔ اس لہجے میں کوئی احساس نہیں تھا۔کرسی پر بندھا شخص جو کے سر پھرے ڈیول سے نہیں ڈرا تھا۔
اج اُس موت کے دیوتا کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر، ڈر کیا ہوتا ہے محسوس کر رہا تھا۔
” مج ھے مجھے کچھ نہیں پتہ”
اس شخص نے کپکپتے ہوئے جواب دیا تھا۔ جس کو سن کیلر کے چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ ائی تھی۔
“ہممم اپنے لیے اذیت خود منتخب کی ہے”
کیلر نے ڈبے سے نمک میں ڈوبا ہوا، کیل نکالا تھا، اور کرسی پر بندھے شخص کے سینے پر رکھ کے ٹھک سے ٹھوک دیا۔
“آہ !!!”
وہ شخص درد سے بلبلا اُٹھا تھا۔ ایک تو کیل کا جسم پیوست ہونا، دوسرا اس پر نمک کی تہے کا ہونا، جس سے اس شخص کی دردناک چیخیں بلند ہوئیں تھیں۔
اس طرح اُس سائے نے اپنے عمل کو دس بار دہرایا تھا۔ پھر سبز رنگ کا بچھو ڈبے سے نکالا اور اس کرسی پر بندھے بیٹھے شخص کے بازو پر رکھ دیا تھا۔ جیسے ہی وہ شخص ہلتا،ویسے ہی بچھو اس ڈنک مارتا، اس کی چیخوں سے سپیشل روم کی در و دیوار تھر تھر اُٹھی تھی۔
“مج ھے مجھے چھوڑ دو می میں بتاتا ہوں”درد کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے وہ شخص بولا تھا۔
” ہمم شاباش بھونکا شروع کرو ” کیلر غصب کے غصہ اور وحشیانہ انداز میں بولا تھا۔
“م می میں بتاتا ہوں، مجھے غفار نے ، ایس-وی کے لیے رکھا تھا۔غفار ایس-وی کا دائیں ہاتھ ہے غفار، اوررر”
اس شخص نے لمبی سانس لی تھی۔اتنے شدید درد سے اس کا تنفس بگڑ رہا تھا۔
“ایس‐وی اس ملک کا غدار ہے،اب اس ملک پر راج ک ر کرنا”،
اس سے آگے وہ شخص کچھ بولتا، وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا درد کی شدت کو برداشت نا کرتے ہوئے۔۔
جہاں کیلر کے ساتھیوں نے اس منظر کو دیکھتے ہوئے آنکھیں میچیں تھیں۔ وہیں سپیشل روم کہ باہر بیٹھے ایجنٹس ششدر سے اس وحشی دیوتا کو دیکھ رہے تھے۔
وہ بھی ایجنٹس تھے۔ خطرناک تھے۔ مگر اس طرح اذیت ناک،درد زدہ موت دینا، وہ آج دیکھ رہے تھے۔
کیلر نے اپنی جیب چھوٹا سا چاکو نکالا تھا۔ اور ایک جار میں رکھے تزاب میں ڈبو کر اس سانپ کے چہرے پر وار کیا تھا۔جس پر وہ شخص تڑپ اُٹھا تھا۔
پھر وہی چاکو اس شخص کی گردن میں گھوپ دیا،جہاں سے خون کا فوارہ پھوٹا تھا۔ وہ شخص بن پانی کی مچھلی کی طرح پھڑ پھڑا رہا تھا، تڑپ رہا تھا۔مگر اس وحشی دیوتا کو کوئی فرق نا پڑا تھا۔کچھ ہی سیکنڈ میں اس کا پھڑ پڑھانا ساکت ہوا تھا۔ تو کیلر نے جھک کر اس مردہ سے کچھ کہا تھا۔
“میرا وطن میرا دل ہے۔اور اس کی خوشحالی کی خوشبو میری ڈھڑکنوں کا رقص، جو اس کو نقصان پہنچائے گا، وہ پہلے مجھے سے ٹکرائے گا، اور نست و نابوت ہوجائے گا۔”
اس کے لہجے میں آگ سی تپش تھی ، اس کے انداز میں، اپنے وطن کے لیے ایک جنون بول رہا تھا۔
وہ شخص جہنم وصول کر چکا تھا۔جس کو دیکھتے ہوئے کیلر نے اپنا پسندیدہ ہتھیار واپس اُٹھا کر ڈبے میں رکھا۔ اپنے باقی سارے ہتھیار واپس اپنی رکھا رہا تھا۔
جاری ہے۔
