Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 21)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

نیلی پرکشش آنکھیں، عنابی لب، مغرور کھڑی ناک جو سردی سے سرخ ہورہی تھی،کالے چمکیلے بال جو کہ نفاست سے سیٹ کیے گے تھے،چہرے پر سنجیدگی تاری، وہ کروفر سے چلتا کلاس کی جانب بڑھ رہا تھا۔

ماتھے پر موجودہ بل، جس سے، اس کی شخصیت میں مغرور پن واضع نظر آرہا تھا۔وہ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا۔ سبھی موڑ موڑ کر دیکھ رہے تھے۔ یونی کی ساری لڑکیاں پہلی ہی نظر میں،اس مغرور شہزادے پر دل ہار بیٹھیں تھیں۔اور لڑکے اس کی مغرورانہ شخصیت سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا،تو سبھئ سٹوڈنٹس سلام کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ کلاس کے سارے سٹوڈنٹس بیٹھ چکے تھے۔ سوئے کلاس میں موجود پانچ نفسوں کے، جو کہ اُس مغرور نیلی آنکھوں والے شہزادے کو دیکھ کر، سکتے میں ہی چلے گے تھے۔مقابل کھڑے ہوئے شخص نے ان پانچوں نفوسوں کو بت بنے دیکھ کر اپنی ہنسی دبائی تھی۔

“آپ۔۔!!!”سبھی یک زبان ہو کر بولے تھے۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟”

انمول نے بھویں اچکائیں تھیں۔مقابل نے ہلکی سی آنکھیں دکھائیں تھیں۔مگر لبوں سے کچھ نا بولا تھا۔

“اووو زکوٹا جن تم سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔؟”

انمول نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے لڑاکا عورتوں کی طرح سوال کیا تھا۔ ازلان کا اچھا بھلا موڈ بگڑا تھا۔اور مانو کو سخت گھوری سے نوازا تھا۔ انمول کے اس طرح کے نام لینے پر کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز گونجی تھی۔

“بھئیو مجھے لگتا ہے،اج آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تبھی آپ یہاں ہماری یونی آگےہیں”پری فکرمندی سے گویا ہوئی تھی۔

” ارے پری مجھے لگتا ہے،ازلان بھئیو اپنے آفس کا راستہ بھول کر ہماری یونی آگے ہیں۔” ایشعال نے پری کے کان میں گھس کر اپنی گوہر افشائی تھی۔ آواز اتنی کم تھی۔ کہ پوری کلاس نے آرام سے سنا تھا۔ جس پر ازلان کے ماتھے کے بل مزید گہرے ہوئے تھے۔اور ایک بار پھر کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی تھی۔

ازلان کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا۔

“Shut your mouth three idots “

آپ تینوں میری کلاس سے باہر نکل جائیں۔

“And Quite Now class”

ازلان نے غصے کو پیتے ہوئے پہلی مرتبہ لب کشائی کی تھی اور سخت آواز میں پوری کلاس کو وارن کیا تھا۔مگر تینوں ڈھیٹوں کی طرح اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے تھے۔

“مس انمول راجپوت، پریہان خانزادہ اینڈ ایشعال راجپوت, کیا اپ کو کسی نے تمیز نہیں سکھائی، کہ پروفیسر سے کس طرح بات کی جاتی ہے۔”

ازلان نے تینوں پر مھٹا سا طنز کیا تھا۔ جسے سنتے ہی پری اور ایشو کی کھی کھی کو یک دم بریک لگی تھی۔ مگر مانو کے ماتھا شکن آلود ہوائیں تھا۔ مانو نے دانت کچکائے تھے۔

اور جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے۔ کہ اس سے پہلے سالار بول پڑا تھا۔

“سوری سر ہمیں اندازہ نہیں تھا،کہ آپ ہمارے پروفیسر کی حیثیت سے یہاں موجود ہیں۔اپ کو یہاں پروفیسر کی جگہ دیکھ کر سب کا شدید ری ایکشن تھا۔”

سالار کی بات پر ازلان کے تنے ہوئے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے تھے۔

“بیٹھ جائیں آپ سب”

ازلان کی اجازت ملتے ہی سبھی اپنی جگہوں پر دھڑام سے گرے تھے۔ جیسے دیکھ کر ازلان نے تاسف سے سر کو جنبش دی تھی۔اور سر جھٹکا تھا۔

“جی تو کلاس آج فرسٹ دے ہے، تو آپ سب اپنا اپنا انٹروڈکشن کرو دیں،”

“چلیں سب سے پہلے میں اپنا انٹرو دیتا ہوں، میرا نام ازالان خانزادہ ہے۔ اسی کالج سے میں نے گریجویشن کی ہے، اور وجدان سر کا فیورٹ سٹوڈنٹ رہا ہوں، اسی لیے انہوں نے اپنی جگہ مجھے رپلیس کیا ہے، وجہ وہ پہلے بتا چکے ہوں گے۔کہ انکی والدہ کے آپریشن کی وجہ سے وہ چھ مہینے کی چھٹی پر ہیں، تو کچھ وقت ہم سب کی زندگی کا سفر ایک ساتھ ہے۔”

ازلان خاموش ہوا تو سبھی نے اُس کے لیے تالیاں بجائیں تھیں۔

“اوکے سٹوڈنٹس اب آپ سب اپنا انٹروڈکشن دیں”

کچھ ہی دیر میں سب اپنا اپنا انٹروڈکشن دے رہے تھے۔

“Nice to meet you class”

وجدان سر نے آپ سب کو ایک ٹاپک پر اسائنمنٹ دی تھی، تو آپ نے بنائی ہوگی،مجھے ابھی سبمٹ کرو دیں۔

“کیا اسائنمنٹ” مانو کا لفظ اسائنمنٹ پر ہی حلق خشک ہوگیا تھا۔جب کی سالار،مومل، پری اور ایشو نے اپنے اپنے بیگز سے اسائنمنٹس نکلیں تھیں۔

جس کو دیکھ کر مانو کا پارہ ہائی کورٹ انصاف لینے کو پہنچا تھا۔ مگر اسکو لوٹنا ناانصافی کہ ساتھ تھا خالی ہاتھ،

“اووو تم سب میسنے، گُھنے، چلاک،چار سو بیس انسانوں،اللہ تم سب سے پوچھے گا،خود اسائنمنٹ بنا لی اور مجھے بتایا بھی نہیں،”

مانو غصے اور ڈر کہ ملے جلے لہجے میں بولی تھی۔اور ساتھ ہی پری اور ایشو کو دو تین تھپڑ جڑ دیے تھے۔جس سے وہ دونوں بلبلا اُٹھیں تھیں۔ مگر ایشعال نے ضبط سے کام لیا تھا۔وجہ سامنے سے آتے ہوئے پروفیسر تھا

“مس ایشعال راجپوت آپ کی اسائنمنٹ۔۔۔؟” ازلان نے سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں ایشعال نے کھڑے ہو کر ایک فائل ازلان کی طرف بڑھائی تھی۔اس کو دیکھتے ہوئے ازلان ایشو سے کچھ سوالات کر رہا تھا۔

“اہہہ اووو نائنٹز کی پھپے کوٹنی ڈائن ہم پر کیوں اتیچار کر رہی ہے۔ ہم نے تجھے کہا تھا،بنانے کو ،مگر تمہیں ہی گھومنے کی پڑی تھی۔”پری اپنا گندھا سہلاتی ہوئی بولی تھی۔جبکہ ایشعال خاموش تھی۔وجہ ازلان اس سے کچھ سوالات کر رہا تھا۔

اگلی باری مانو تھی،مانو کے گلے کی گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی، اپنا حلق تر کرتی کھڑی ہوئی تھی۔

“مس انمول آپکی اسائنمنٹ” ازلان نے سوال کیا تھا۔”پروفیسر میں نے نا اسائنمنٹ بنائی تھی، اور پھر بیگ میں رکھی تھی،مگر وہ” مانو مگر لفظ پر اٹکی تھی۔”مگر۔۔۔!!”ازلان نے بھویں سکھڑیں تھیں۔انمول کو کچھ سمجھ نا ارہا تھا،کہ آگے کیا بولے۔

” ہمم میں بتاتا ہوں،مگر آپکی اسائنمنٹ،جو اپنے بنا کر اپنے بیگ میں رکھی تھی،وہ اپکا بیگ کھا گیا،یا پھر اُس کو پیر لگ گئے تھے، کی وہ پاؤں سے چل کر کہیں چلی گئی۔

ازلان نے انمول پر سخت سنجیدگی سے اچھے خاصے طنز کیے تھے۔

“مس انمول راجپوت آپ سے مجھے کسی ایسے ہی بچگانہ بہنے کی توقع تھی۔”

“ہاہاہا” کلاس میں سبھی کی ہنسی گونجی تھی۔

“So! Get lost From my class”

اپنی انسلٹ پر مانو نے غصے سے لب بھینچے تھے۔سبز رنگ کی ہری بھری خوبصورت آنکھیں کونوں سے نم ہوئیں تھی۔جس کو انمول بخوبی سے چھپا گی تھی۔وہ شخص ایسا ہی تھا۔ مغرور، سنگ دل، اب یہ اتنی بڑی بات تو نہ تھی۔جتنی اس معصوم کی انسلٹ کی تھی۔اس انا پرست انسان نے، ہاں اس کو خوشی ملتی،اس چنچل سی لڑکی کو اپنے سامنے جھکا کے،اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ کر، اس سفاک انسان کی آنکھوں میں تمسخرانہ چمک تھی۔جس کو سب نے محسوس کیا تھا۔

مگر سالار کی چیل جیسی آنکھوں نے یہ سب منظر غور سے دیکھا تھا۔مانو کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر، اس کا دل کیا سامنے کھڑے شخص کا منہ توڑ دے۔ اسی لیے اپنی اسائنمنٹ بیگ میں رکھ کر گھڑا ہوا اور ازلان کو مخاطب کیا تھا۔

” پروفیسر میں نے بھی نہیں بنائی اسائنمنٹ “سالار کہ چہرہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔

“وہ رہا کلاس کا دروازہ”

ازلان نے کلاس کے داخلی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سالار سے کہا تھا۔ کیوں کہ وہ سالار کی حرکت سے بخوبی واقف تھا۔تبھی اُس کو سالار پر اور زیادہ غصہ آیا تھا۔

مانو اور سالار دونوں، ایک دوسرے کے سنگ کلاس کے باہر نکلے تھے۔تبھی ازلان کو اور زیادہ تپ چڑھی تھی۔ ان دونوں پر مگر اپنے سارے خیالات کو ایک طرف جھٹک کر کلاس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

“چلو شاہ وہاں بیٹھتے ہیں” مانو نے ڈیپارٹمنٹ کے باہر بنی سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔”ہمم آجاو” تو دونوں ایک ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ گے۔

” ویسے شاہ تم نے جھوٹ کیوں بولا،تم نے تو اسائنمنٹ بنائی ہوئی تھی۔۔۔؟” مانو نے اپنی سبز آنکھوں میں معصومیت طاری کیے سوال کیا تھا۔جس دیکھ کر ایک پل کو سالار سٹل ہوگیا تھا۔

“ہاں کیوں کہ میری زندگی میں میرا سب کچھ تم ہی ہو اور میں تمہیں کبھی کسی راہ پر تنہا نہیں چھوڑ سکتا” سالار کسی ٹرانس کی کیفیت میں بول رہا تھا۔

جو کہ مانو کہ سر سے گزر رہیں تھیں۔

“کیا مطلب تمہاری ساری بات کا ۔۔۔؟”مانو نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے سالار سے پوچھا تھا۔جس پر سالار نے ایک سرد سی آہ بھری تھی۔

“کچھ نہیں میری پیاری سے مانو بلی”سالار نے بات کو وہیں چھوڑ دیا۔

“اچھا چلو کچھ کھاتے ہیں” مانو نے اپنے بیگ سے ایک بڑا لیز اور دو کولڈ ڈرنکس نکلیں تھیں۔ایک سالار کی طرف اُچھالی تھی۔

“ہائے مرشد ہم پر کیا ہی ظلم و ستم تھا۔کہ پہلے بیستی، اور پھر کلاس سے بے دخل ہی کر دیا، مگر ہم لوگوں کی طرح اپنی انسلٹ کو دل کا روگ نہیں بنائیں گے، بلکہ اس کو انجوائے کرکے سب کو جلائیں گے۔”

“ہاہاہا “

مانو اور سالار دونوں نے ایک ساتھ قہقہ لگایا تھا۔کہ تبھی مانو نے سالار کو مخاطب کیا

“شاہ ہائے فائے”سالار نے مانو کے ساتھ تالی بجائی تھی۔

جس کو دور کلاس سے نکلتے ازلان نے جلتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

اسکی تنی ہوئی رگیں مزید تن گئیں تھیں۔اپنے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مگر قدم کسی خیال کے تحت رکے تھے۔

وہ تیزی سے انمول اور سالار دونوں کہ سروں پر پہنچا تھا۔

“مس انمول اینڈ مسڑ سالار”

مانو اور سالار اپنے نام کی پکار پر دونوں فورن سے کھڑے ہوئے تھے۔ “یس سر” سالار نے جواب دیا تھا۔ “آپ دونوں آج یونی ٹائم میں مجھے اسائنمنٹ بنا کر دیں،ورنہ آپکے فائنل میں مارکس زیرو ہوں گے۔”

انمول اور سالار دونوں ششدر سے اس مغرور شہزادے کو دیکھ رہے تھے، جو کہ ان پر بم پھوڑے جارہا تھا۔

ازلان پلٹا اور اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔

” اففف جلاد کہیں کا چلو شاہ لائبریری”انمول اور سالار نے لائبریری کی طرف دوڑ لگائی تھی۔

آفس کی طرف جاتے ازلان نے بخوبی انمول کے الفاظ سنے تھے۔ اس نکچڑے شہزادے کہ چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

رات کی تاریکی ہر سوں چھائی ہوئی تھی۔فضا میں تیز چلتی ہوا سے درختوں کے ہلتے جھنڈ، جن سے خاموشی میں ایک سرسراہٹ پیدا ہورہی تھی۔دور سے کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے ماحول کو ہیبت ناک بنایا ہوا تھا۔ایسے ایک پُرانی اور خستہ حال عمارت میں ایک شخص کرسی پر بندھا ہوا، چیخ و پکار کر رہا تھا۔ مگر وہاں اس کی سننے کے لیے کوئی ذی روح بھی موجود نہ تھی۔

” اہہہ مجھے چھوڑ دو میں سچ بتا رہا ہوں، مجھے روبن رابرٹ کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔مگر وہ لڑکی اچانک سے خودی ہی درمیان میں آگی تھی۔میرا کوئی قصور نہیں”

مگر مقابل بیٹھا شخص کوئی انسان نہ تھا۔وہ ایک سفاک مونسٹر تھا۔ ہاں وہ ایک سفاک، بے رحم، مونسٹر تھا۔ ساری دنیا اس کو “ایول مونسٹر” کے نام سے جانتی تھی۔ جو کسی کی جان لینے میں ایک سیکنڈ نا لگاتا۔ابھی بھی سامنے بیٹھے ہوئے، شخص کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں کاٹ چکا تھا۔ مگر ابھی دل نہیں بھرا تھا۔ ابھی اور درد دینا باقی تھا۔ ابھی تو تڑپ باقی تھی۔

“تمہیں پتہ ہے،اُس معصوم لڑکی میں میری جان بستی ہے، اگر اس کو کچھ ہوتا، تو میں پوری دنیا کو برباد کر دیتا، سب کو آگ لگا دیتا” وہ مونسٹر غصے سے پھنکارا تھا۔اُس مونسٹر کے دل کو سکون نہیں مل رہا تھا، تبھی تین منہ والا بڑا سا چاقو اٹھایا اور اس سامنے بیٹھے شخص کے بازو کو جسم سے الگ کر کے پھنک دیا تھا۔

“اہہہہ مجھے چھوڑ دو خدا کا واسطہ ہے تمہیں”وہ شخص درد کی شدت سے نڈھال ہوتے ہوئے بولا تھا۔

“کہا تھا نہ برباد کر دوں گا”

ماسک میں چھپے چہرے، کہ لبوں سے کچھ چند الفاظ ادا ہوئے تھے۔ لہجہ برف کی مانند ٹھنڈا تھا، الفاظ میں ایک عجیب سی وحشت تھی۔کالی آنکھوں میں ایک جنوں سا تھا۔ایک چمک سی تھی۔ایک آگ تھی۔سب کو جلا کر خاک کر دینے کی۔

” کس کے کہنے پر کیا تھا “

وہ مونسٹر شیر کی دھاڑا تھا،لہجے میں ایک غراہٹ تھی۔مقابل بیٹھا شخص تھر تھر کانپ اٹھا تھا۔ہلکی، ڈرتی آواز میں جواب دیا تھا۔

“ای”” ایس-وی کے کہنے پر”

ٹھاہ !!!

اس آدمی کہ منہ سے آخری الفاظ ادا ہوئے تھے۔ کہ اس مونسٹر نے اس دنیا اور درد سے رہائی عطا کی تھی۔اس آدمی گردن ایک طرف کو لُڑھک گی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

“آف میرے اللہ،شاہ! میرے تو ہاتھ ہی دکھ گے، لکھتے لکھتے، اللہ پوچھے تم سے زکوٹا جن عرف جلاد انسان” تصور میں ہی اتنے القابات سے نواز چکی تھی۔کئی بد دعائیں دے چکی تھی۔

انمول نے اپنے ہاتھ دباتے ہوئے، دوہائی دی تھی۔اور ساتھ ہی چہرے کے الگ الگ زاویے بنائے تھے۔جیسے کہ ازلان سامنے ہو اور اس کو کچا چبانے کا ارادہ رکھتی ہو۔

سالار شاہ تو بس اس باولی لڑکی کی باتوں میں گم تھا۔اس کہ سنجیدہ چہرے پر ایک ہی لڑکی مسکراہٹ لا سکتی تھی۔اور وہ تھی، اُس کی مانو فقط سالار شاہ کی سبز آنکھوں والی مانو بلی۔۔

جس کے زندگی میں آنے سے جینے کی وجہ ملی تھی۔جس سالار کو زندگی ایک بوجھ لگتی تھی۔اج اس کو زندگی حسین لگ رہی تھی، زندگی جینے کی خواہش جاگی تھی،سالار نے انمول کو اپنا بنانے کا سوچ لیا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

“اللہ آج تو پکا ہم تینوں گے،مانو ہمیں زندہ زمین میں درگور کر دے گی”۔ ایشعال عجلت میں بولی تھی۔

“ہاں ایشو مجھے بھی لگ رہا ہے،وہ بہت سے بھی زیادہ ناراض لگ رہی تھی” پری جلدی جلدی اپنا بیگ پیک کرتے ہوئی بولی تھی۔

” اففف پری ایسا مت بولو مانو کے بغیر، تو میرا دل نہیں لگتا۔” مومل نے سچے دل سے کہا تھا۔”ہاں بلکل ایسا ہی ہے،ازلان بھئیو کچھ زیادہ ہی غصہ ہوگے تھے۔”

پری کے لہجے میں افسردگی تھی۔ تینوں کلاس سے نکلیں تھیں۔ان کا رخ کینٹین کی طرف تھا۔مگر یہ کیا مانو، ان کو کینٹین میں کہیں نہیں نظر آئی تھی۔دوسری جانب چھٹی ہوچکی تھی۔ پورے پندرہ منٹ سے تینوں سالار اور انمول کو ڈھونڈ رہے تھے۔مگر وہ دونوں کیا، ان کی روحیں بھی وہاں نہ تھیں۔

تھک ہار کر تینوں نے ازلان کہ آفس کا رخ کیا تھا۔ دروازہ کو ناک کیا۔ ازلان کی اجازت ملتے ہی، تینوں آفس میں داخل ہوے تھے۔” بھئیو۔۔۔!! اُپس میرا مطلب ہے،پروفیسر۔۔۔!! آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ چھٹی کو ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے ہیں۔ مگر انمول کا کچھ پتہ نہیں۔۔۔!! “

تینوں اچھی خاصی پریشان تھیں۔ “ہممم آپ تینوں گھر جائیں میں اس کو دیکھتا ہوں”اور دوسری بات !! خیال سے ڈرائیونگ کرنی ہے۔”ازلان نے پروفیسر ہونے کے ساتھ ایک بھائی طرح نصیحت بھی کی تھی۔

“اوکے اللہ حافظ سر “

ازلان نے محض سر ہلا کر جواب دیا تھا۔ تینوں دروازے سے باہر کی طرف بڑھے تھے۔ مگر پری رک کر ازلان کی جانب موڑی تھی۔پری کو رکا دیکھ ازلان نے ائیبرو اچکائی تھی۔جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو اور کچھ بولنا ہے۔

“بھئیو ہوسکے تو مانو سے سوری کر دیجئے گا، کیوں کہ اتنی بڑی بات نہیں تھی،جتنا آپ نے اس کو ڈانٹ دیا، وہ بھی کلاس کے سامنے” یہ سب بولنے کہ بعد پری رکی نہیں تھی۔بلکہ آفس سے باہر نکل گی تھی۔پری کہ جانے کہ بعد ازلان نے استہزاء انداز میں ہنسا تھا۔

“میں ازلان خانزادہ، اس چھٹانک بھر کی ناسمجھ، بدتمیز لڑکی سے معافی مانگوں،امپاسیبل،میری جوتی بھی نا مانگے معافی”

اس کی نیلی آنکھوں سے غرور ٹپک رہا تھا۔اس کا انداز مغرورانہ تھا۔وہ انا پرست شخص،شاید وقت،مقدر،قسمت اور تقدیر، ان سب سے ناواقف تھا۔اُس کو اپنی انا کے سامنے کچھ نظر نہ اتا تھا۔ازلان اپنا بیگ لیتا آفس سے نکلا تھا،ناچاہتے ہوئے بھی اس کا رخ لائیبریری کی طرف تھا۔

” شکر الحمداللہ ہوگی مکمل”

انمول اپنی اسائنمنٹ پر ایک آخری نظر ڈالی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن کے اثرات نمایاں تھے۔ “سالار سیدھے ہوجاو میں تمہارے کندھے پر سر رکھتی ہوں، گردن میں درد ہورہا ہے،جھکا جھکا کر،میں بہت زیادہ تھک چکی ہوں”۔

مانو نے سالار پر حکم صدارت کرتے ہوئے، گردن دائیں بائیں کی طرف گھمائی تھی۔اور پھر سالار کہ کندھے پر سر رکھا دیا تھا،مگر دونوں کہ درمیان کافی سارا فاصلہ قائم تھا۔

سالار انمول کی قربت پر ہی اپنا حلق تر کرتا رہے گیا تھا۔کیوں کہ انمول پہلی مرتبہ اُس کہ اتنا قریب آئی تھی۔مگر سالار بہت خوش تھا۔ انمول نے سالار کہ کندھے پر سر رکھتے ہی آنکھیں موند لیں تھیں۔ جس سے موقع پاتے سالار نے اس خوبصورت لمحے کو تصویر میں قید کیا تھا۔

ازلان جو انمول کو خود ہی، اس کو گھر ڈراپ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔جیسے ہی لائبریری میں داخل ہوا۔تو اس کی آنکھوں میں مرچیں چبھنے لگیں تھیں۔ انمول کو سالار کے اس قدر قریب دیکھ کر ازلان کا خون کھولنے لگا۔آنکھیں خون ٹپکانے لگی تھیں۔اور سالار کی حرکت پر ازلان کا دل چاہا کہ سامنے بیٹھے خوبرو نوجوان کا قتل کر دے، اس ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ نوچ لے، مگر اس انا کو کہا منظور تھا۔کہ وہ اپنی کمزوری کو کسی پر عیاں کرے،اِسی لیے ازلان نے اپنے قدم واپس باہر کی طرف لیے تھے۔

ازلان جو تھوڑا سا نرم پڑا تھا۔واپس اپنے اُوپر غرور کا خول چڑھا چکا تھا۔اور غصے سے لب بھینچے یونیورسٹی سے ہی نکل گیا تھا۔

“چلو مانو بلی کافی وقت گزر چکا ہے۔ آنٹی پریشان ہوں گی۔” انمول نے فورن سے سالار کہ کندھے سے سر اُٹھایا تھا۔اور سر اثبات میں ہلاتی،اپنا بیگ سمیٹنے لگی تھی۔ پھر دونوں یونیورسٹی سے گھر کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔

“وقت بھی کتنی بری چیز ہے، پل میں بدل جاتا ہے۔ سبھی انجان تھے۔کہ قسمت ایک بار پھر اپنا کھیل کھیلنے والی ہے۔ ضروری نہیں، جس کی خواہش کی جائے وہ ہمیں حاصل ہو جائے”

🖤
🖤
🖤
🖤

انمول جب سے گھر آئی تھی۔روٹھی ہوئی محبوبہ بنی ہوئی تھی۔ پوری طرح پری اور ایشو کو نظرانداز کر رہی تھی۔ جب کہ اب دونوں صحیح معنوں میں انمول سے پناہ مانگ رہیں تھیں۔ اب انمول کے لیے آخری حربہ اپنا رہے تھے۔انمول کے لیے پیزا اور ائسکریم منگوایا تھا۔ کیوں کہ باقی حربے تو دھرے کے دھرے رہے گے تھے۔

” ایشو !!! یار باہر ڈلیوری بوائے آیا ہوگا،تو ذرہ ریسو کر لو کھانا” پری موبائل میں مصروف سی بولی تھی،” اور ہاں یہ اس کی پیمنٹ”،پری نے جلدی سے ایشعال کی طرف پیسے بڑھائے تھے۔

“اچھا دو ” ایشعال پیسے تھامتی باہر کی طرف بڑھی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

احمر جو سعدیہ بیگم کو اپنے لیے کافی کا بولنے آیا تھا۔پری کو کچن میں شیلف پر بیٹھا دیکھ تھوڑا حیران ہوا تھا۔گلابی رنگ کی لانگ فراک، گھنی پلکوں پر ہلکا سا مسکارہ، گرے چمکدار آنکھوں میں کاجل کی لکیریں،گالوں پر سردی سے سرخی مائل تھی۔ نازک ہونٹوں پر گلابی رنگ کا لپ گلوز، وہ کوئی حسن کی دیوی ہی لگ رہے تھی۔

مگر پری اپنے موبائل فون میں مصروف،دنیا جہاں سے بیگانہ بیٹھی تھی۔یہاں تک کہ احمر کی موجودگی کو بھی محسوس نہیں کر پائی تھی۔اور احمر خاموشی سے اپنے سامنے بیٹھی، آسمان سے اُتری گلابی پری کے دیدار میں گم تھا۔مگر اس کی نظر ہمیشہ کی طرح ایک ہی جگہ آتے ہی رُک جاتی تھی۔

نازک، خوبصورت،گلاب کی پنکھڑی جیسے لبوں پر اور نازک لبوں کہ نیچے موجودہ تل پر، ہاں وہ ہمیشہ ان لبوں پر کہیں بہک سا جاتا تھا۔ دل بغاوت پر اتر آتا اور اس تل کو لبوں سے چھونے کی ضد کرتا،احمر کی سوچوں کے تسلسل کو ایک تیز ہوا کے جھونکے نے توڑا تھا۔ مگر اپنے بہکتے جذبات پر خود کو ملامت کرتا پری کو مخاطب کر گیا تھا۔

“اسلام وعلیکم! مس پریہان خانزادہ، کیسی ہیں آپ۔۔۔؟

اور آج یہاں کیسے کیسے، وہ بھی اس وقت۔۔۔!!”

احمر اپنی شرٹ کہ بازو فوڈ کرتا ہوا،پری کی جانب آتا ہوا بولا تھا۔جب کہ پری نے موبائل سے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے احمر کو دیکھا اور شیلف سے جمپ لگا کر نیچے اُتری تھی۔اور پھر احمر کو اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔

“وعلیکم السلام!مسٹر احمر راجپوت،الحمداللہ ایک دم فٹ ہوں،اور خالہ جانی نے بلایا ہے،سبھی گھر والوں کو، اور آپ کیسے ہیں۔۔۔؟” پری نے بھی مروتً احمر کی خیریت معلوم کی تھی۔

“آپکی دعاؤں کا اثر ہے، الحمداللہ ٹھیک ہے یہ ناچیز بندہ” احمر اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا،ذرہ سا جھک کر، ڈرامائی انداز میں بولا تھا۔جس کو دیکھ کر پری کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔اور احمر اس کی ہنسی میں مبہوت سا رہے گیا تھا۔

” ویسے ایک بات بتاؤں،آج آپ بہت خوبصورت لگ رہیں ہیں۔”احمر نے پریہان کی طرف قدم بڑھائے تھے۔جس پر پری کے گلے کی گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔ حلق کو تر کرتی آنکھیں ٹپ ٹپائیں تھیں۔

“ارے ایشعال تم” پری نے احمر کے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔جب کہ احمر ایشعال کہ نام پر ہڑبڑا کر پری سے دور ہوا تھا۔ پری نے موقع پاتے ہی باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی۔جیسے ہی احمر پلٹا تھا۔ مگر اپنے پیچھے کسی کو نہ پا کر پری کی چلاکی پر دھیما سا ہنسا تھا اور سر نفی میں ہلایا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

آج راجپوت ہاؤس میں خانزادہ فیملی کی دعوت تھی۔مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب نے سب سے کچھ ضروری بات سے آگاہ کرنا تھا۔سعدیہ بیگم گھر کے کاموں میں مصروف تھیں۔ کھانا بن چکا تھا۔پری اور ایشو نے مانو کو مانا کر ہی دم لیا تھا۔اج رات کے کھانے پر انمول نے سالار اور مومل کو بھی انوئٹ کیا تھا۔

شام کا وقت تھا۔ سالار نے انمول کے گھر والوں کے لیے کچھ تحفے تحائف لیے، مگر ایک نایاب،چمکدار، تحفہ مانو کے لیے لیا تھا۔اور پھر مومل کو پک کرنے کے لیے اس کے ہاسٹل کی جانب بڑھ چکا تھا۔

کچھ ہی دیر میں مومل کو پک کر کے انمول کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔مومل کافی دیر سے سالار کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ جس پر آج الگ ہی چمک تھی۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔مومل نے دل ہی دل میں ماشاءاللہ پڑھا تھا۔

“سالارآج خیر ہے۔۔۔؟ چہرے کی چمک اور ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ کا کیا راز ہے۔۔۔؟” آخر کار مومل نے دل میں آیا سوال سالار سے پوچھ ہی لیا تھا۔جس پر اس کے ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ اور بھی زیادہ گہری ہو چکی تھی۔

مگر آنے والے وقت سے دونوں انجان تھے۔کہ ان کی زندگیوں میں بہت بڑا طوفان آنے والا ہے، اور انکی زندگیاں تباہ و برباد کرنے والا ہے۔

“ہمم!! مومل سچ بتاؤں تو مجھے محبت ہوگئی ہے۔سالار اپنی گہری کالی آنکھوں میں چمک لیے بولا تھا۔ اور آج اس کے گھر والوں سے بات کروں گا”۔

“کیااا”

مومل کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔سالار کا اظہارِ محبت مومل پر بجلی بن کر گرا تھا۔دل کی دھڑکن یک دم سے رکی تھی۔چشمے کے پیچھے براون آنکھوں سے دریا بہنے کو بےتاب تھا۔

لیکن خود کو مضبوط ظاہر کر کے،اپنے نازک سے دل پر پتھر رکھ کر،اپنی سنگ دل محبت سے، اس کی محبت کا نام پوچھا تھا۔کتنا مشکل ہوتا ہے شدید اذیت میں مسکرانا، اپنی سسکیوں کو دبا کر قہقہے لگانا۔

“سالار کیا نام ہے اس خوش نصیب لڑکی کا”

مومل نے ہونٹوں پر ہلکی سی زخمی مسکراہٹ سجائے ہوئے اس لڑکی کا نام پوچھا تھا۔

” انمول “

سالار نے صرف نام ہی بتایا تھا۔ مگر مومل کے لیے وہ نام اذیت کی وجہ تھا۔مگر اس کی زندگی بنائی پہلی دوست۔۔۔

ہائے رے قسمت کیوں کیوں۔۔!!

صرف میں ہی کیوں۔۔۔!!!

“کیا میرا خوشیوں پر کوئی حق نہیں۔۔!! ، کیا جو لاوارث ہوتے ہیں،ان پر خوشیاں حرام ہوتئ ہیں۔۔۔؟اخر کیوں سب کچھ چھن جاتا ہے۔کیا میں منہوس ہوں۔”مومل نے اپنے اپ سے سوال کیا تھا۔

مومل کا دل خون کہ آنسو رویا تھا۔ اپنا چہرہ گاڑی کے شیشے کی طرف موڑ لیا تھا۔خود پر ڈھیروں صبر اور ضبط کی باوجود آنسو آنکھوں سے بہے کر اس کے رخسار بھگو چکے تھے۔

لیکن سالار اردگرد سے لاپروا اپنی ہی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا۔ جس کے خیالوں پر سبز آنکھوں والی بلی کا راج تھا۔جس نے سالار کہ دل پر محبت کی مہر ثابت کی تھی۔

لیکن کوئی کسی کہ دل کو دکھا کر کتنی دیر خوش رہے سکتا ہے۔وقت اور قسمت پل بھر میں بدل جاتی ہیں۔

🖤
🖤
🖤
🖤

سبھی اس وقت راجپوت ہاؤس پہنچ چکے تھے۔ٹیبل پر رات کا کھانا لگ چکا تھا۔مگر ڈائنگ ٹیبل پر خاموشی کا راج تھا۔لیکن واحد ایک ایسی شخصیت تھی۔ جس کے پیٹ میں مڑوڑ اُٹھ رہے تھے۔ وجہ خاموشی تھی۔ کیوں کہ سبھی گھر والے اور خانزادہ فیملی ایک ساتھ ٹیبل پر موجود تھی، تو سعدیہ بیگم نے مانو پر اپنی زبان بند رکھنے کا،حکم جاری کیا تھا۔ لیکن مانو ہو اور کسی کی بات سن لے ہرگز نہیں۔ اسی کے ناچاہتے ہوئے بھی مصطفٰی صاحب کو مخاطب کر گی تھی۔

” دادا جان اب تو رات ہوگی ہے۔سبھی اچکے ہیں۔آپ نے کیا بتانا ہے۔۔۔،؟ جلدی سے بتا دیں۔”

انمول نے سعدیہ بیگم کی ساری گھوریوں کو خاطر میں لائے بغیر مصطفٰی صاحب سوال کیا تھا۔

” میری شہزادی پہلے آرام سے کھانا کھا لو، کیوں کہ بعد میں آپ سے کچھ کھایا نہیں جائے گا۔”مصطفٰی صاحب کی بات پر مانو کے کان کھڑے ہوئے تھے۔مگر کچھ ہی دیر کا انتظار تھا۔

“نایاب بریانی پاس کرنا”، ازلان نے نایاب کو مخاطب کر کے کہا تھا۔ “میں دے دیتی ہوں”،انمول جلدی سے ڈش پاس کرنے لگی تھی۔کہ اس مغرور شہزادے نے ڈش لینے سے منع کر دیا تھا۔ “میں نے نایاب سے کہا ہے، تم سے نہیں، اسی لیے اپنے کام سے کام رکھو اور مجھ سے دور ہی رہو، تو تمہارے بہتر ہے”

ازلان نے اس قدر بے رخی سے کہا تھا، کہ مانو دل مسوس کر رہے گی تھی۔چہرے پر پرجوش سی مسکراہٹ ایک دم مانند پڑ گی تھی۔ انمول نے ڈش واپس اپنی جگہ رکھی تھی۔ اور اپنے کھانے کی طرف جھک گی تھی۔ تو نایاب نے ازلان کو دیکھتے ہی ڈش اس کی بڑھائی تھی۔جس پر ازلان نے فورن سے ڈش تھام لی۔۔

حسن صاحب اور دانیہ بیگم نے اپنے سرپھرے بیٹے کو تاسف سے دیکھا تھا۔جو حد سے زیادہ انا پرست انسان بن چکا تھا۔

کھانے سے فارغ ہو کر سبھی ایک ساتھ ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔اب دونوں فیملیز میں سالار،مومل اور نایاب بھی شامل ہوچکے تھے۔

“مصطفٰی یار تم !! بچوں کو ہم سب کہ معاضی میں لیے گے،فیصلے سے آگاہ کرو” ،ابراہیم صاحب نے اپنے جگری یار سے کہا تھا۔جس پر مصطفٰی صاحب نے سر اثبات میں ہلا کر جواب دیا تھا۔کمرے میں موجودہ ہر نفوس مصطفٰی صاحب کی طرف متوجہ تھے۔مصطفٰی صاحب نے بولنا شروع کیا تھا۔

“بچوں جیسا کہ آپ سارے جانتے ہیں۔میری اور ابراہیم کی دوستی بہت پرانی ہے،اس دوستی کو اور اپ سب کی پسندیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم بڑوں نے ایک فیصلہ لیا تھا۔

اور وہ یہ کہ آپ سب کو بہت چھوٹی عمر میں ہی ایک مضبوط رشتے میں باندھ دیا تھا۔ ازلان اور انمول، علیان اور ایشعال، احمر اور پریہان، یہ سبھی ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں۔ داریاں اور ماہم کا بھی نکاح کروانا چاہتے تھے۔مگر یہ دونوں ہی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔اس لیے خاموش رہنے دیا،ان دونوں کو،باقی سب ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔اسی لیے ہم سب نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ اب آپ سب اپنے اپ کو منٹلی تیار کریں، کیوں کہ رخصتی کرنا چاہتے ہیں۔”

معاضی کے لیے گے،اس فیصلے نے کتنے دلوں پر خنجر چلائے تھے۔ کچھ کے دل چھنک کر کے ٹوٹے تھے،مگر کچھ خوش ہوئے تھے۔اپنی قسمت پر،اور کچھ حیران تھے،اپنے رب کی عطا پر”

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *