Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 04)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

ناٹ فیئر شاہ ہمیں پارٹی چاہیے انمول نروٹھے پن سے بولی تھی۔ہاں بلکل سب نے انمول کی ہاں میں ہاں ملائی۔

” کیوں نہیں ضرور اور حکم ناچیز کے لیے ملکہ عالیہ آپکا غلام حاضر ہے۔”

سالار بلکل ڈرامائی انداز میں بولا۔ تو مانو کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔

وہ تو بس اسکی ہنسی میں کھوگیا تھا۔ہوش تو تب آیا، جب پری نے کہینچ کر اسکے بازو پر تھپڑ لگایا۔

“ہ ہہ ہاں کیا ہوا۔۔۔؟”سالار ہڑبڑا کر بولا تھا۔

کس دنیا میں کھو گئے۔”پری نے سوال کیا تھا۔

“ہمیشہ یہ خوابوں کی دنیا میں پایا جاتا ہے”جوابن مومل بولی تھی۔

“اچھا یہ بتاؤ پارٹی کا تھیم کیا ہو گا۔۔۔۔؟”

“ہمم”بلیک کلر”

“بلیک کلر کیوں کے وہ میرا فیورٹ ہے۔اوکے ڈن رات کو آٹھ بجے تک سب اجائیں۔سالار کھوئے ہوئے انداز میں بولا تھا۔

“کس ہوٹل میں۔۔۔؟”مانو نے سوال کیا تھا۔

“کسی ہوٹل میں نہیں۔ میرے گھر شاہ مینشن میں اور ہاں آپ سب نے اپنی فیملیز کے ساتھ آنا ہے۔۔”

اوکے ضرور بولتے سب ہی کچھ دیر بیٹھنے کے بعد سب ایک دوسرے کو اللہ حافظ بولتے اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے۔۔۔

انمول نے گھر آکر سالار کی برتھ ڈے کا بتایا۔ تو سب خوش ہوگئے۔بچوں آپ سب چلے جائیں۔احمر اور علی کے ساتھ جبران صاحب نے کہا اور دوسری طرف حسن صاحب نے بھی داریاں اور پری کو جانے کو کہا۔ کیوں کہ جبران صاحب اور حسن صاحب نے بھی اپنے کیسی بزنس پاڑنر کی پارٹی میں جانا تھا۔ تو بڑوں نے ایک ساتھ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔اور بچہ پارٹی ایک ساتھ۔۔۔۔

لڑکیوں سب نے بلیک لانگ فراک پہنے تھے۔اور لڑکوں نے بھی بلیک تھری پیس ڈریس پہنے ہوئے تھے۔سب نے ایک ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔داریاں پری آتے ہوئے مومل کو بھی ساتھ لائے تھے۔سب ریڈی ہو چکے تھے۔انتظار تھا تو صرف سبز آنکھوں والی بلی کا۔جو کہ کمرے سے باہر نکلے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔

“مانو یار۔۔!!!”

“جلدی کرو اور کتنا تیار ہو گئ۔”پری اور ایشو کب سے مانو کے روم کے دروازے پے کھڑی ہوئیں تھیں۔اور اس کا انتظار کر رہیں۔تھیں جو کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھی۔

پری بلیک لانگ فراک کے ساتھ ریڈ کیپری اور ریڈ ہی دوبٹہ لیا ہوا تھا۔آنکھوں پر لائنر اور مسکارہ لگا رکھا تھا۔ ہونٹوں پر ہلکی سی ریڈ لپسٹک اور ہونٹوں کے نیچے موجودہ تل اس کے حُسن میں چار چاند لگا رہا تھا وہ کوئی قاتل حسینہ معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔

ایشال نے بھی بلیک لانگ فراک کے ساتھ گرین کلر کی کیپری اور دوبٹہ پہنا ہوا تھا۔ہلکے سے میک اپ میں وہ کو اپسرا ہی لگ رہی تھی۔اور اس کی سنہری آنکھیں اور بھی زیادہ چمک رہیں تھیں۔

ماہم اور مومل نے بھی سیم ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔ فرق صرف دوبٹے اور کیپریوں کا تھا۔ماہم کا بلیک کے ساتھ بلیو تھا۔ جبکہ مومل کا گلابی تھا۔ وہ دونوں بھی بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں۔۔۔۔

“چل یار ایشو میں تو تھک گئ۔ یہ تو اپنے ٹائم پر نکلے گئ۔” پری اور ایشو دونوں واپس جانے کے لیئے ابھی موڑیں ہی تھیں۔کہ پیچھے سے دروازہ کھولنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔

“روکو بھئی آگی میں!!” مانو نے ان دونوں کو پکارا دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔ تو دونوں کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ ادا ہوا۔

“ایسے کیا گھور رہی ہو دونوں۔۔۔۔؟؟؟”

اتنی بری لگ رہی ہوں۔۔۔؟

“مانو نے معصوم سی شکل بنائی۔۔۔”

پری اور ایشو کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ائی۔۔۔۔

“مانوووو یہ کیا کر لیا اپنے چہرے پر” پری جھٹ سے بولی،

“کوئی نائنٹیز کی بوڑھی آتمہ لگ رہی ہو،” انمول کے چہرے کے بڑے زاویئے دیکھ دونوں نے اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔

“ارے نہیں پری مانو بلکل ویسی لگ رہی ہے۔ جو کہ اکثر ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔!!!”

” کیا کام والی ماسی ۔۔۔؟”

“ارے نہیں جو ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتی ہے۔۔۔”

“بھلا وہ کون۔۔۔؟”

پری حیران ہوتی بولی۔

“ارے بھئی جو آٹے کی دوکان چہرے پر تھوپ کہ اتی ہیں”

“اچھا خالہ شکورن عرف پھپھے کوٹنی۔۔!!”

” ہاں وہی وہی”

مانو تو شاک کی کیفیت میں سب سن رہی تھی۔۔۔

ایشال اور پری نے یہ بولتے ہی دوڑ لگا دی۔ مانو ان کی چلاکی سمجھتے ہی ان کے پیچھے بھاگی تھی۔اور وہ دونوں قہقہے لگاتی اگے آگے بھاگ رہیں تھیں۔۔۔

“ارے ارے میری پیاری سی مانو بلی اللہ پاک بری نظر سے بچائے۔تمہارے نیک نصیب کریں۔(آمین)قسم سے آج تو غضب ڈھا رہی ہو۔پکی ظالم حسینہ لگ رہی ہو” ایشو نے بھاگتے ہوئے بھی لقمہ دیا تھا ۔۔

“ہاےے سچی!!”

“مانو نے خونخوار نظروں سے گھور کر مصنوعی طور پر چیخ کر کہا۔پہلے موڈ کا بیڑا غرق کر دیا۔اب ظلم حسینہ لگ رہی ہو غضب ڈھا رہی ہو۔”مانو نے پری اور ایشو کی منہ چڑا چڑا کہ نکل کی ۔۔۔۔

“ہم دونوں تو مذاق کر رہے تھے۔ ہاں بلکل سچی میں۔”

“ہونہہہہ مذاق ” مانو نے منہ کے زاویئے بگاڑئے۔

“اچھا میری جنت کی حور چلو اب دیر ہو رہی ہے۔” تو وہ تینوں نیچے کی طرف بڑھیں۔۔

“ویسے سچی میں حور ہی لگ رہی ہو”۔پری انکھ دبا کر بولی۔بلیک لانگ فرک ،سر سبز آنکھوں میں گہرا کاجل، گھنی پلکوں پہ مسکارہ،گلابی ہونٹوں پر پنک لپ گلوز، بھرے بھرے گالوں پر ہلکا سا بلش، کانوں میں ٹوپس،گلے میں چھوٹا سا ہاٹ شیپ پینڈنٹ،اور ہم رنگ دوبٹہ، بالوں کو کرل کیے ہوئے۔مانو بلکل آسمان سے اُتری حور ہی لگ تھی۔۔۔۔

“ماشاءاللہ میری پیاری گڑیا تیار ہوگئی۔۔۔۔۔؟”

“جی بھیو۔۔”

علیان نے سب کو مخاطب کیا۔ “سب تیار ہیں تو چلیں۔۔۔؟”

ہاں سب نے ہامی بھری۔تو سب باہر کی طرف بڑھ گئے۔علیان کے ساتھ ایشو ،پری اور احمر بیٹھ گئے۔داریاں کے ساتھ ماہم مومل اور مانو تھیں۔پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد سب شاہ مینشن کے سامنے تھے۔۔۔۔

سب گاڑیوں سے باہر نکلے اور اندر کی طرف چلے گئے۔۔۔۔

“اوپس”

“میرا کیا بنے گا۔ماما بلکل ٹھیک کہتی ہیں۔میں گفٹ کا آوڈر دے کے بھول گئی۔بھیو کار کی چابی دیں۔ابھی گئ اور ابھی ائی۔۔” مانو سر پے ہاتھ مار کے بولی تھی۔

“اوکے مانو بچے بٹ آرام سے ڈرائیو کرنا ہے۔ کوئی مستی نہیں کرنی۔” علی نے تاکید کی۔

“اوکے اوکے بھئیو تھینکس۔”

مانو گاڑی کی طرف بڑھی اور باقی سب اندر کی طرف جب اندر گئے تو تعریف کیے بنا نہ رہے سکے۔کیوں کے اندر گھر کے لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔سارا تھیم بلیک تھا۔۔۔۔۔

بس سب سالار کا ویٹ کر رہے تھے۔ جو کہ سڑھیاں اترتے ہوئے دیکھائی دیا تھا۔۔۔

بلیک ڈریس کوٹ،کالی چمکتی ہوئی آنکھیں، عنابی لب جو مسکرا رہے تھے۔ بالوں کو نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا۔گلے میں مقصوص لاکٹ پہنے، بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔

سالار ہلکی مسکراہٹ لیے سب سے ملا اور سب نے باری باری سالار کو برتھ ڈے وش کیا۔ سالار سب سے ملا۔ لیکن آنکھیں کسی کی تلاش میں تھیں۔اور وہ تھی کے سامنے ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔

پری نے سالار کو خاموش خاموش دیکھا۔ تو اس سے پوچھا کسی اور نے آنا ہے کیا۔۔۔۔؟

” نہیں نہیں “

“کیا مانو نہیں ائی۔۔۔۔۔؟”

“ارے وہ۔۔”

ابھی پری کچھ بولتی کے سارے گھر کی لائٹس آف ہو گئیں۔تو سالار حیران ہوگیا۔کیوں کے ایسا کھبی نہیں ہوا تھا۔ سالار نے اپنا فون نکالا ابرار کو کال کی

:یہ لائٹ کو کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟”سالار نے تیز لہجے میں پوچھا لیکن ابرار کے جواب سے پہلے ہی لان میں ایک سپوٹ لائٹ ان ہوئی۔وہ پری کا پیکر چھوٹے چھوٹے قدم لیتی چلی ارہی تھی

“I was so blessed when you came into

my life, and I have been ever since as

I’ve watched our friendship grow and

blossom into something truly beautiful.

I’m beyond lucky to have a best friend

like you, Happy Birthday”Shah”

This Song dedicate to you Shah

ہے میرا سب کچھ تیرا تو سمجھ لے۔

تو چاہے میرے حق کی زمین رکھ لے۔

تو سانسوں پے نام تیرا لکھ لے۔

میں جیوں جب جب تیرا دل دھڑکے۔

ہوہوہوہوہوہوہوہوہوہووہو۔

آج شاعری کو رھنے دیجئے!

آج ہماری دوستی پر غور کیجیے!

__________________

“عادتیں مختلف ہیں ہماری دنیا والوں سے جاناں۔۔۔

ہم محبت پر نہیں دوستی پر۔۔

شاعری لاجواب کرتے ہیں۔۔۔”

اگر ہوجاتی میری دوستی ان بادلوں کے ساتھ

قسم سے ہم کبھی تم پر دھوپ نہ آنے دیتے

تم دوست نہیں زندگی ہو ہیں میری

MY____________________________FREINDS

๑۩۩๑

┇ ┇ ┇Eshal Rajput, Parihan Khanzada, Momal Mujtaba* & * Birth Day Boy

Salar Shah

┇ ┇ ┇ ┇

┇ ┇ ┇

┇ ┇

Love You So Much My Friend’s and also Aliyan Bhaiyou,Maham Apii, Ahmer bhai And Dinasour oppsss Dariyan Khanzada ….

اب سارے گھر کی لائٹ اون ہو چکی تھیں۔سب نے زوردار کلیپنگ کی۔۔۔۔۔۔

سالار تو بلکل جم ہی گیا تھا۔اس کے سامنے معصوم سی پری کھڑی تھی. جو کے اس وقت اس پر غضب ڈھا رہی تھی ۔اس کے سونگ اور الفاظوں نے سالار کو کسی خواب کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔۔

سالار سب کی کچھ بھلائے بس یک ٹک گہری مسکراہٹ لیے سامنے کھڑی گڑیا کو دیکھ رہا تھا۔تالیوں کی آواز پے وہ خواب سے جاگا تھا ۔یہ تمہارا سیمپل گفٹ اور یہ تمہارا سپیشل گفٹ مانو نے دو گیفٹ شاہ کی طرف بڑھائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dear Anmol..!

Bundle of thank’s I can’t Explain my feelings I’m so Happy.!!! because,you make my day very special and also Pari,Esshu,Momal and all of you Thanks Alot’s

ANMOL this For you Dear Best Friend

سوچا ہے ہم بھی شاعری پر ڪتاب لڪھیں گے۔!

اس ڪتاب میں ہم اپنی ۔۔۔پہلی ملاقات لڪھیں گے

لڪھیں گے تیری ادا …..تیری ہر بات لڪھیں گے

ہم تیرے لیے اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جذبات لڪھیں گے

لڪھیں گےجب کتاب پر۔۔۔۔۔ ہم پہلی غزل،

اس غزل میں تیرے۔۔۔۔مسڪرانے کا انداز لڪھیں گے

___________________________

سالارر خاموش ہوا۔ تو سب نے بھرپور تالیاں بجائیں۔۔۔ سالار کے بہت زیادہ اسرار پے سب نے تھوڑا سا ڈانس کیا خوب ہلا گلا کیا۔۔۔۔

کچھ دیر میں سب کے ساتھ مل کر سالار نے کیک کاٹا اور سب سے پہلے مانو کو کھلایا۔ اس کے بعد سب کو باری باری کھلایا۔باقی جو کیک بچ گیا۔مانو اُٹھایا اور سب کے چہروں پر لگایا۔داریاں جو موبائل فون میں گم تھا۔ اس کو دیکھ کر مانو کو ایک شرارت سوجھی، اپنے ساتھ پری اور ایشو کو بھی ملا لیا۔اور داریان کی جانب بڑھی اور اس کو چیخ کر مخاطب کیا۔۔۔۔

” داری ی ی “

“ہہ ہ ہاں”

جو کہ بچاراہ مانو کی چیخ پر ڈر کے دل پے ہاتھ رکھ چکا تھا۔اچانک کیک کے حملے سے بچ نہ سکا اور کرسی سے نیچے گرا۔۔۔سکتے کی حالت میں سب کو ہنستا ایسے دیکھ رہا تھا۔

جیسے کوئی سب دہشت گرد ہوں ۔۔۔

دوسری طرف سب کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔۔

جب ہوش میں آیا۔تو سب سمجھ آیا۔ مانو کی چلاکی پر اس کو خون آشام نظروں سے گھورا۔۔۔

“مانو، پری اور ایشو اس کا بدلہ ضرور لوں گا تم تینوں سے۔۔”

” ہاہاہاہا “

“ہاں ضرور لینا پہلے منہ دھو لو۔۔”

مانو کی بات پر ایک بار پھر سب نے قہقہہ لگایا تھا۔ویسے بھی علی اور احمر کی موجودگی میں داریان ان تینوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تھا بدلہ تو دور کی بات تھی۔تو صبر کے گھونٹ بھرتا اور کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد سب نے ساتھ ہی کھانا کھایا۔سالار آج بہت خوش تھا۔سب کے ساتھ فوٹوشوٹ کیا۔پھر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔۔۔۔

سالار بھی اپنے کمرے میں آیا اور ڈریس چینج کر کے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اپنا آئی پیڈ کھولا اور اس میں آج کے فنگشن کی ساری تصویریں دیکھنے لگا۔فنگشن سے زیادہ اس میں انمول کی پکچرز تھیں۔جو کہ مختلف اینگلز سے لی گئیں تھیں۔۔۔

سالار نے دراز سے مانو کا دیا ہوا۔ سپیشل گفٹ نکالا اور اس کو کھولا بہت زیادہ خوش ہو۔ اس بوکس میں لوکٹ تھا۔ جس میں دو لیٹرز لکھے ہوئے تھے۔اے اور ایس اور ان کے درمیان دو ہاتھ مل رہے تھے۔ جیسے دوستی کی نشاندہی کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔

اس کی نظر ڈار میں رکھی ہوئی تصویر پر گئ۔تو وہ اس کے ساتھ ہی وہ ماضی کی یادوں میں کھو گیا تھا۔ ہر سال اسی دن وہ ٹوٹ کے بکھر جاتا تھا۔ اور کوئی نہ تھا۔اس کو سمیٹنے والا۔۔۔

ماضی!

“شاہ مما کی جان کیوں تنگ کر رہے ہو۔”

“مما مجھے بلیو کلر کا ڈریس پہنا ہے۔پلیززز مما جان مجھے نہیں پسند یہ بلیک کلر۔۔”چھ سالہ سالار اپنی ماں آئمہ بیگم کو کب سے تنگ کر رہا تھا۔

“مما کی جان دیکھیں آپکے بھائی ارمان نے بھی جلدی سے چینج کر لیا ہے نا۔”

“وہ اس لیے مما بھئیا کا فیورٹ ہے،بلیک کلر، بٹ سالار شاہ کا نہیں۔۔۔”

“سالار آپ کو پتہ بلیک کلر پیور ہوتا ہے اور بہت مضبوط کیوں کہ اس پر کوئی اور کلر نہیں چڑھتا۔یہ سب پے بھاری ہوتا ہے۔اور یہ دیکھو میں نے بھی بلیک پہنا ہے۔”

“اوکے مما لاسٹ ٹائم آپ کی بات مان رہا ہوں۔بیکاز آئی لو یو۔”

:لو یو ٹو میرے جیری۔۔۔”

“ہاہاہاہا مما آپ ٹوم اور میں جیری سالار کھلکھلا کر ہنس دیا۔۔”

نادیہ آپا آپ سالار کو ریڈی کر کے باہر لے آئیں۔میں ارمان کو لے کے جاری ہوں۔آئمہ شاہ اپنی ساڑھی کا پلو درست کرتی ارمان کو لے کے باہر نکل گئیں۔۔۔۔

سالار نے جلدی سے اپنا ڈریس چینج کیا اور ابھی بال بنوا رہا تھا۔کہ باہر سے شور کی آواز سنائی دی۔نادیہ اماں باہر چلیں دیکھیں اتنا شور کیوں ہے۔سالار کی ننھی سی پیشانی پر بل پڑے۔سالار نادیہ اماں کے ہمراہ جیسے ہی باہر نکلا تو حیران سا رہ گیا۔کیوں جہاں گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہاں اب کوئی موجود نہ تھا۔کہ اچانک

ٹھاہ

ٹھاہ

ٹھاہ

گولیاں چلیں۔۔

“م مم اا ” سالار نے چیخنا چاہا۔ لیکن نادیہ اماں نے منہ پے ہاتھ رکھ کے اس کی چیخ گلا گھونٹا تھا۔۔۔

اس کا ماضی بہت تلخ اور دردناک رہا تھا۔ سالار کی آنکھوں سے کئی آنسو گرے اور بے مول ہو گئے۔اور وہ ہوش کی دنیا میں واپس آگیا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *