Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 02)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 02)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
“رات کے 9 ہورہے تھے۔جب علیان، مانو اور ایشو گھر میں داخل ہوئے تو سب چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔اُن تینوں نے سب کو سلام کیا اور ہال میں سب کے ساتھ بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔
“انمول بچے آنے میں دیر کردی۔۔۔۔؟”
مصطفٰی صاحب نے بڑے پیار سے انمول سے پوچھا تھا۔
“جی دادو جان دانیہ آنٹی نے بہت پیار سے اِسرار کیا کھانے کے لیے اس لیے روک گئے.چلیں آپ سب انجوائے کریں میں بہت تھک چکی ہوں تو میں اپنے روم میں جا رہی ہوں۔”
ایشو نے بھی فورن مانو کی تاکید میں ہاں کہا، کے وہ بھی اب آرام کر گی۔۔۔۔۔
ویسے بھی دونوں نے صبح سے یونیورسٹی جانا تھا۔ کچھ دیر میں بڑے سب بھی آپنے کمروں میں چلے گئے۔مانو روم میں آتے ہی باتھ روم چلی گئی اور نائٹ ڈریس چینج کرتی روم میں آئ- بیڈ پر لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔.
“صبح اذانوں کے وقت مانو کی آنکھ کھلی جلدی سے اٹھ کے باتھ روم میں بند ہو گئی۔ کچھ دیر میں واپس آئی اور الماری سے بڑا سا دوبٹہ نکال کر اچھے سے دوبٹے کا حجاب کیا اور نماز ادا کی۔
پھر کچھ دیر بعد اپنے کمرے سے نکل کر اشعال کے کمرے میں چلی گئی۔ دروازے کھولا تو سامنے دیکھا وہ بھی نماز پڑھ کر ہی فارغ ہوئی تھی۔
“ایشو میں بہت بہت زیادہ خوش ہوں۔سچی ہم یونیورسٹی جائیں گے۔”مانو کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی تھی۔
“ہاں مانو میں بھی بہت ہی زیادہ خوش ہوں”
“چلو پھر کیوں نہ اِسی ُخوشی میں اج کا ناشتہ تم اور میں بنا لیں۔”انمول نے چہکتے ہوائے ایشعال سے کہا تھا۔
“ہاں کیوں نہیں ضرور چلو پھر کچن.” ایشعال کا جواب سنتی مانو آگے بڑھی تھی۔مگر کچھ یاد آنے کی تحت رکی اور پلٹی تھی۔
“اچھا ایشو پری کو میسج کر دینا کے اج کا ناشتہ ہماری طرف ہے “
“ہممممممم میں کر دیتی ہوں.”
“اوکے ذرا میں ماہم آپی کو دیکھ لوں اگر وہ جاگ گئی ہیں تو ہماری ہلپ کر دیں۔”
“ٹھیک ہے”
ایشو میسج کرنے لگی تھی ۔جبکہ انمول باہر ماہم کے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور روم کے ڈور کو نوک کیا اور اندر آئی جہاں ماہم نماز پڑھ کر اپنے نوٹس چیک کر رہی تھی۔۔۔
“آپی کیا آپ بزی ہیں۔۔۔۔؟”انمول نے ماہم کو نوٹس میں غرق پایا تو بولی
“ارے نہیں چندا میں فری ہوں، کوئی کام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”
“جی میں آج بہت خوش ہوں اور ایشو بھی تو بس سب کے لیے ناشتہ بنانے کا سوچ رہے تھے۔ تو کیا آپ بھی ہماری تھوڑی سی ہلپ کر دیں۔۔”انمول اپنے دانتوں کی نمائش کرتی ہوئے بولی تھی۔
“اچھا جی ایسے فری میں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
“امم نہیں رات کو میری طرف سے آپکی فیورٹ آئسکریم ” تو مانو کی بات پر ماہ مسکرا دی۔ابھی وہ دونوں باتیں کر رہی تھیں۔ کہ ایشو بھی وہاں آگئی۔
“ابھی تک آپ لوگ یہاں ہیں۔۔!!
کیا سب کے جاگنے کے بعد ناشتہ بنانا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”
ایشو تیوری چڑھا کر بولی تو وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں تھیں اور کچن کی طرف بڑھ گئے۔
“آپی میں حلوہ پوری بنا لیتی ہوں۔آپ لچھے پراٹھے ساتھ چنے بنا لیں۔ایشو تم آملیٹ اور چائے بنالو”
“واہ بہت ہی زیادہ مزہ آنے والا ہے ” ایشعال اپنی دوبٹہ ایک طرف کو باندھتے ہوئے بولی تھی ۔
“اب سب اپنے کاموں میں مصروف ہوچکے تھے۔ماہم پراٹھوں کا آٹا گوند رہی تھی۔آیشو چائے بنا رہی تھی ساتھ میں آملیٹ کے لیے ویجیٹیبلز بھی کاٹ رہی تھی۔مانو پوریوں کو بیل رہی تھی۔تینوں ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے۔۔
جب داریان کے ساتھ کیا ہوا اپنا کارنامہ بتایا۔ تو ماہم پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھی۔۔
“او خدایا تم دونوں بھی حد کرتے ہو وہ بچاراہ”
“ہاہاہاہا آپی داری اور بچاراہ توبہ توبہ پوری فلم ہے، پتہ نہیں کس نے میڈیکل میں ایڈمیشن دے دیا۔۔”انمول اپنے کانوں کو چھوتی ہوئی بولی تھی۔
“ہاہاہاہاہاہاہا”
باتوں باتوں میں تینوں نے مل کر سارا ناشتہ ریڈی کر لیا تھا۔ “چلو یہ تو ڈن ہو گیا ہے، اب سب ریڈی ہو جاتے ہیں۔کچھ دیر میں سب ہال میں اجائیں گے۔” ماہم اپنے ہاتھ پونچھتی ہوئی بولی تھی۔سب کچھ اچھے سے برتنوں میں ڈال لیا تھا۔ پھر تینوں اپنے کمروں میں چلی گئیں۔
مانو روم میں آئی اور الماری سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔اور پندرہ منٹ بعد وہ نہا کر باہر ائی اور آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ بلیک کرتا شرٹ ساتھ ہم رنگ کیپری پہنے اس کا دودھیا رنگ اور زیادہ نکھر رہا تھا۔اج ایشو، پری اور مانو نے سیم ڈریسنگ کی تھی۔
مانو نے آنکھوں میں کاجل,کانوں میں ٹوپس،ایک ہاتھ میں واچ ،گلے میں ریڈ کلر کا دوبٹہ پاؤں میں ریڈ کلر کا ویلوٹ کا کھوسا ، ہونٹوں پر پنک کلر کا لپ گلوز لگا کر،بالوں کو کھولا چھوڑا تھا۔ چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجا کر روم سے باہر نکلی تھی۔ اور ماہم کے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی شاید ریڈی ہو کر چلی گئیں تھیں۔
“چلو ایشو کو دیکھ لیتی ہوں۔”
اور اس کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کے وہ باہر نکلی اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔۔۔
“افففففففففف”” دونوں یک زبان بولتے ہوئے اپنا سر تھام گی تھیں
“مانو میرا سر توڑ دیا۔”ایشو کرہاتے ہوئے بولی تھی۔
” ہاں تم نے تو جیسے میرا سر بچا لیا “مانو طنز کرتی بولی تھی۔
“مجھے کیا پتہ تھا کہ تم بھی اندر آرہی ہو۔”ایشو نے زور سے اپنا ماتھا رگڑا تھا۔
“اچھا چلو نیچے چلتے ہیں۔ سب ناشتے پے انتظار کر رہے ہوں گے۔”مانو نے بےزار سی شکل بنائی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتیں ہوئی نیچے آئیں۔
” سب بڑوں کو سلام کیا۔”
سب گھر والوں نے دونوں کے سلام کا جواب دیا تھا۔
“ارے واہ آج مانو بیٹا کیسے بنا جگائے جاگ گئ۔۔؟؟؟” مصطفٰی صاحب سر پے پیار کرتے ہوئے بولے تھے۔
“ارے دادا جان آپ کو پتہ ہے ہماری مانو نماز کے بعد مجھے اور ماہم آپی کو کچن میں لے آئی تھی اور ہم تینوں نے سب کے لیے ناشتہ بنایا ہے ، آپ سب کے لیے” ایشعال چہک کر بولی تھی۔
“ارے واہ بیٹا کس خوشی میں آپ نے ناشتے کا اہتمام کیا۔۔۔؟؟؟؟”
“دادا جان اج سے ہماری یونیورسٹی سٹارٹ ہے۔اسی خوشی میں سوچا کہ کیوں نہ آپ سب کو زبردست سا ناشتہ کرویا جائے۔کیوں کہ روز تو آپ کو بابا جان کی سعدیہ ڈارلنگ کے ہاتھ کی پھیکی پانی ڈشزِ کھانی پڑتی ہیں۔” انمول دانتوں کی نمائش کرتی ہوئے بولی تھی۔
مانو کی بات پر سب کا فلک شگاف قہقہہ گونجا اور سعدیہ بیگم پھیکے پانی والی بات پے سکتے میں ہی آگئیں تھیں۔چہرے پر سنجیدگی تاری کرگئیں تھیں۔
تو علیان نے جلدی سے ماں کی سائڈ لی۔”ارے مما جان یہ تو ہے ہی نکمی۔ تو آپ کو تنگ کر رہی ہے۔آپ اس کو چھوڑیں اور ناشتہ کریں۔”
” ہاں بلکل بہو چلو سب ناشتہ شروع کرو۔ دادو جان بس پانچ منٹ رکیں ۔ہماری پرستان کی پری بھی آرہی ہے۔” انمول نے معصومیت سے انکھیں ٹپ ٹپائیں تھیں۔
“کیوں بھئی پانچ منٹ کیوں میں تو ابھی حاضر ہوں۔”انمول کے خاموش ہی ہوئی تھی، کہ پیچھے سے پریہان کی چہکتی آواز آئی تھی۔
“اسلام وعلیکم!”
وعلیکم اسلام سب نے یکجاں ہو کہ جواب دیا۔
“آوآو بیٹا جلدی سے شروع ہو جاو، کیوں کہ اب اور صبر نہیں ہو رہا اور کھانا ہمیں پکار رہا ہے۔”مصطفٰی مسکراتے ہوئے بولے تھے۔
“صحیح صحیح بس پری ہی سب کی چہتی ہے۔میں تو سوتیلا ہوں نہ” پری کے پیچھے سے آتے داریاں نے دوہائی دی تھی، اور چہرے کے کئی زاویہ بناتے ہوے سب کو سلام کیا تھا۔تو سب نے اپنی ہنسی ضبط کی اور جواب دیا۔۔
“نہیں بیٹا آپ بھی ہمیں تینوں بچیوں کی طرح پیارے ہو” جبران صاحب نے جلدی سے معاملہ سنبھالا تھا۔
تو داریان کے چہرے پر بھی خوبصورت سی مسکراہٹ ائی۔جو کہ مانو سے ہضم نہ ہوئی۔
” اچھا بابا جان!!! شکر آپ نے بتا دیا کے داری بھی بچی ہے۔صحیح صحیح اسی لیے تو میں بھی کہوں کہ مجھے اس میں دوسری مخلوق عکس کیوں نظر آتا ہے۔”
انمول پرسوچ انداز میں بولی تو سب کے ہلکے سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔جب کہ داریاں ابھی بات کو سمجھنے کی کوشش میں تھا۔لیکن سمجھ نہ آنے پے اپنے سامنے بیٹھی ماہم کو مخاطب کیا جو ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوئی جارہی تھی۔۔۔
“اسی بیچ سب ناشتہ شروع کر چکے تھے۔ماہ یہ مانو کی بات کا مطلب کیا ہے۔۔۔؟” وہ الجھن کا شکار ہوا تو ماہم سے پوچھا جس نے فورن سے نہ میں سر ہلایا مجھے بھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔
اب آیشو نے داریان کو کہا “ویسے داریان تم ڈاکٹر ہی بن رہے ہو نا۔۔۔۔!!!”
“ہاں بلکل ” داریاں سینہ تان کر بولا
“لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔؟”
” ہاں وہ اس لیے کے تمہیں شی-میل کا نہیں پتہ۔۔۔۔۔؟؟؟” ایشو مصروف انداز میں بولی۔
“کیوں نہیں پتہ ہے پتہ جو انسان آدھا لڑکی اور آدھا لڑکا ہو اُس کو بولتے ہیں.”وہ اپنا فرضی کالر جھاڑ کر بولا تو سب نے قہقہہ لگایا۔احمر جو کب سے اس کی ٹانگ کھنچتا دیکھ رہا تھا آخر بول پڑا.
” ابے گدھے وہ تینوں کب سے تجھے بول رہی ہیں۔”
تو داریان نے کرنٹ کھا ان تینوں آفتوں کو خشمگین نگاہوں سے دیکھنے لگا۔اور ان تینوں کی معصوم سی شکلوں کو دیکھ کر سب ہنسے اور اُدھر داریان کو اور زیادہ تپ چھڑی۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا چلو بھئی بس کرو اور اچھے سے ناشتہ کرو دادا جان نے مصنوعی غصہ سے کہا تو سب خاموشی سے اپنا ناشتہ کھانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفٰی صاحب احمر اور جبران صاحب ناشتہ کے بعد ہی آفس کے لیے نکل گئے۔”مانو بچے آپ جلدی سے اجائیں میں آپ تینوں کو بھی ڈراپ کر دوں گا”
“ارے نہیں بھیو اج میں آپنی گاڑی خود سنبھالوں گی۔” انمول اپنے چہرے پر شیطانی چمک لائے بولی تھی۔ ٹھیک ہے میرا بچہ خیال سے کوئی پرابلم ہو مجھے فورن کال کر دینا اوکے۔۔۔
“جی”
“چلو ماہ !!! آجاؤ آپ تو میرے ساتھ جاو گی۔”
“جی بھائی آرہی ہوں۔”
علیان کا فون بجا تو اس نے دیکھا جہاں احمر کالنگ لکھا ہوا تھا۔ چلیں بھائی میں ریڈی ہوں۔۔۔”
“ایک منٹ بچے میں یہ کال سن لوں۔”
“اسلام وعلیکم ۔۔۔!!
ہاں یار علی تم کہا ہو۔ جلدی سے میٹنگ میں آجاو کچھ ڈیٹیل چاہیے پارٹی کو اور پریزینٹیشن بھی تم نے تیار کی ہے۔ایڈریس ہوٹل اے-ون ہے۔”
“اوکے میں آتا ہوں۔۔”
جلدی سے اپنا فون کورٹ میں رکھا اور ہال میں داریان کو مخاطب کیا۔
“یار داریان تم اور ماہم ویسے بھی ایک ہی کالج میں ہو، تو ماہ کو بھی آپنے ساتھ لیتے جاو۔۔۔”
“میری ایک ارجنٹ میٹنگ ہے۔”
اوکے تم فکر نا کرو میں لیتا جاؤں گا۔۔۔”
“جزاک اللہ یار ” بولتا علیان اپنی گاڑی کر طرف چلا گیا۔
“اوکے اللہ حافظ”
کچھ دیر میں باقی سب بھی اپنی اپنی منزل کی طرف گامزن ہو گئے۔داریان ماہم کو لے کے اپنی راہ کو ہولیا تھا۔
دوسری طرف انمول،پری اور ایشو کو لے کے گاڑی میں بیٹھ گی۔چلو لڑکیوں اپنی سیٹ بیلٹ اچھے سے باندھ لو۔کیوں کہ یہ کار اب ایف-سولہ کی طرح یونی تک جائے گی۔
“مانو ہرگز نہیں شرافت سے انسانوں کی طرح گاڑی چلاو” پری نے گھوری سے نوازا تھا۔
“اچھا یار پہلے ایک کام کرو شرافت سے ملاقات کرو دو، پھر اس سے پوچھ کے اچھے سے چلاوں گی۔”انمول نے اپنی بتیسی کی نمائش کی تھی۔پری اور ایشو نے دانت پیستی رہے گیں اور دوسری طرف انمول نے کار کو اڑا لیا۔۔
“ایشعال اور پریہان دونوں اب کلمہ شہادت اور آیت الکرسی کا ورد کر رہیں تھیں۔جب ایک جھٹکے سے گاڑی رکی تھی۔
“گزلز یونی آگی ہے۔” ہوش کی دنیا میں واپس آجاؤ۔تو ان دونوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔مانو نے کار کو پارک کیا۔اور وہ تینوں ایک ساتھ یونی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئیں۔
سامنے کا منظر کچھ یوں تھا۔لڑکے لڑکیاں گروپس کی صورت میں اپنا کام کر رہے تھے۔ کچھ اپنے جونیئرز کی ریگین میں مصروف تھے، کچھ کپل بیٹھے تھے،کچھ لوگ کینٹین میں بیٹھے کھانے میں مصروف تھے۔۔۔۔
آبھی وہ تینوں اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہیں تھیں کے ان کے سامنےکسی گروپ کے لڑکوں اور لڑکیوں نے راستہ روکا تھا۔تو ایشو نے ان کو ہیلو کہا اور ایک طرف ہونے کو کہا تھا۔
Anmol “Please!Take a side”
“No”
گروپ کی ایک مغرور سی لڑکی آگے ائی، جس کا نام لیزہ تھا۔۔۔
Anmol “why …?”
لیزہ
“کیوں کہ تم تینوں ڈانس کر کے دیکھاو”اس کی بات پر انمول کو تپ تو بہت چھڑہی لیکن خاموش رہی..
انمول
“ہم کیوں کریں۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
“Liza”
“Because , it’s my order”
“Anmol
“Oder my foot”
“کس خوشی میں ڈانس کروں، تمہارے باپ کی شادی ہے یا لور کی یا تم ہمارے چاچا کی بیٹی ہو۔۔۔۔؟؟؟؟ “انمول سارے لحاظ کو آگ میں جھونکتی، اپنی شرٹ کے آستین فولڈ کرتی بولی تھی۔
” اِے تیری تو ” ابھی وہ آگے ہی بڑھی تھی۔ کہ انمول نے اس کو گال پر ایک تھپڑ جڑ دیا۔
سب ہی حیران نظروں سے انمول کو دیکھ رے تھے ۔ابھی پھر وہ بدلہ لینے کے لیے آگے بڑھتی کہ اس سے پہلے انمول نیچے گر پڑی سب اس کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
“ایشو اور پری حیران سی مانو کو دیکھ رہیں تھیں۔ کہ اس نے دونوں کو دیکھ کر آنکھ دبائی۔اور زور زور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔
“اااااااہہہہہہہہہہہہہ”
” مار ڈالا”
“افففففففففففففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“انمول جو سر فیضان کو اپنے قریب آتا دیکھ چکی تھی۔ جو کے ان کے ایچ-او-ڈی تھے۔ تو گرنے کی ایکٹنگ شروع کر دی۔
“یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟”
تو وہاں سب سٹوڈنٹس ڈر گے۔تو مانو جلدی سے کھڑی ہوئی۔
“سر سر میں آپ کو بتاتی ہوں۔اس نے مجھے کہا کے ڈانس کر کے دیکھو۔ میں نے کہا ہم یہاں پڑھنے آتے ہیں۔تو اس نے سب کے سامنے مجھے تھپڑ مارا اور نیچے دھکا دے دیا۔۔۔۔”انمول نے اپنے نا آنے والے آنسو صاف کیے تھے۔
“اور کہا کہ میں ِکسی کے باپ سے نہیں ڈرتی، تو یہ پروفیسر کس کھیت کی مولی ہیں”۔مانو نے انتہائی معصومیت سے سارا جھوٹ بولا۔پری اور ایشو تو مانو کی ایکٹنگ اور سفید جھوٹ پر عش عش کر اٹھیں۔
“دور سے کسی کے چہرے پر گہری مسکراہٹ ائی ۔۔۔۔”
“Liza:Say Sorry to Anmol”
جو ابھی تک انمول کے جھوٹ کے زیرے اثر تھی۔سر فیضان کی بات پر اسکو آگ ہی لگ گئی۔ لیکن اپنے غصہ کو ضبط کر کے آنمول کی طرف بڑھی۔۔۔
“ج***ی***جی سر بولتی ہوں۔۔ س و سوری انمول۔”
” آنمول جس نے احسان کرنے والے انداز میں لیزہ کو معاف کیا تھا”
“” It’s okay “
بولا اور ُاس کو گلے لگا کر کان کی طرف جھک کر بولا “”انمول سے پنگا اِز نوٹ چنگا اوکے بےبی…”
“جبکہ سر فیضان کے جانے کے بعد پری اور ایشو کا زوردار قہقہہ گونجا تھا اور وہاں سب کھڑے سٹوڈنٹس کی دبی دبی ہنسی گونجی تھی۔۔۔
لیزہ وہاں سے جا رہی تھی کہ مڑ کر دھمکی دی” تمہیں تو میں دیکھ لوں گی۔”
“شوق سے دیکھنا بہت پیاری ہوں میرے گھر والے بھی بولتے ہیں۔”وہ معصومیت سے انکھیں ٹپ ٹپا کر بولی۔۔۔۔۔
تم..!!!
لیزہ آگے کچھ بولتی کہ انمول نے بڑی پُھورتی سے اس کا فقره اچکا لیا۔
“”بھاڑ میں جاو””
“لیزہ وہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں رکی۔۔۔۔۔
تو مانو ایشو اور پری بھی اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئیں۔۔



صبح سے ان تینوں نے دل لگا کر سارے لیکچر لیے۔لیکن ُاس ُُدوران مانو کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تھی۔یہاں سے وہاں دیکھا لیکن سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔تو آپنا وہم سمجھ گیا سر جھٹک دیا۔ لیکن ایک کونے میں بیٹھے شخص کی آنکھیں چمکیں اور ہونٹ مسکرائے تھے۔۔۔
“چلو یار اب لیکچر تو ہو گے۔ کینٹین چل کے کچھ کھاتے ہیں۔ بہت زوروں کی بھوک لگ رہی ہے۔”مانو پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی۔
“ہاں یار صبح ناشتہ کیا تھاور اب دوپہر کے دو ہو رے ہیں”۔وہ تینوں باتیں کرتی کلاس روم سے باہر ائیں اور کینٹین کی طرف چل دی۔آڈر دے کر ایک طرف خالی پڑی ہوئی ٹیبل پر بیٹھ گئیں۔
“کچھ دیر میں ان کا آوڈر بھی آگیا۔ لارج پیزا،کوک اور آئسکریم۔انہوں نے آرام سے لنچ کیا اور پھر نوٹس بنانے کے لیے لائبریری چل دیں۔تینوں نے اپنی اسائنمنٹ بنائی۔
تقریبن تین بجے تک وہ تینوں فارغ ہوئیں۔یار بہت تھک گئے آج تو۔ہاں یار بلکل ایشو نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ چلو اب گھر چلیں ہممممم چلو پھر وہ تینوں ہنستی مسکراتی کار میں بیٹھیں تھیں۔
“کہ دور تک دو آنکھوں نے انمول کی کار کا پیچھا کیا۔جب تک کار آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئی۔انمول نے جلدی سے کار دوڑا لی پہلے پری کو اس کے گھر چھوڑا اور پھر اپنی گھر کی راہ لی۔۔۔”
پری گھر میں داخل ہوئی تو دانیہ بیگم کو اپنا منتظر پایا۔
“پری مما کی جان آنے میں بہت دیر کر دی۔”
“جی مما جانی بہت زیادہ کام ہے یونی کا پہلے ہی لیٹ ایڈمیشن کی وجہ سے اتنا پینڈنگ ہے۔صحیح ہے میرا بچہ دل لگا کر پڑھائی کرو۔۔۔۔۔۔”
“اچھا جلدی سے چینج کر کے کھانے کے لیے اجاو۔”
“نہیں ماما ہم نے کینٹین سے پیزا کھایا ہے۔جب داری آئے گا تو میں اس کے ساتھ کھاوں گئی۔ابھی کے لیے میں ارام کرتی ہوں۔۔۔۔۔”
“ٹھیک یے میرا بچہ اپ جاو۔”
پری نے کمرے میں آ کر ڈریس الماری سے نکالا اور باتھ چلی گئی کچھ دیر میں فرش ہو کے آئی اور نماز ادا کی پھر بیڈ پر لیٹ گئی بہت جلدی ہی نیند اس پر غالب ہوگی۔۔۔۔
ایشو اور مانو گھر داخل ہوئی تو سعدیہ بیگم اور دادو جان اور دادی جان مل کر چائے پی رہے تھے۔ایشو اور مانو نے سب کو سلام کیا۔دادو جان نے دونوں کے سروں پر پیار سے ہاتھ رکھا اور جواب دیا
“چلو لڑکیوں کھانا لگاتی ہوں دونوں کو بھوک لگی ہو گی”
“ارے نہیں مما ڈارلنگ ہم کینٹین سے کھا کر آئے ہیں۔اور بہت تھک چکے ہیں۔بس آرام کریں گئے۔ٹھیک ہے میری کوجھی
بیٹیوں۔”
“ہاہاہاہاہاہاہا”
” مما ہم تو آپ کی بیٹیاں ہیں۔جیسی آپ ویسے ہم۔ اچھا ہم چلے اپنے رومز میں” دونوں نے اپنے کمروں میں دوڑ لگا دی۔
“ان کی بات کا مطلب میں کوجھی ہوں سعدیہ بیگم کا حیرت سے منہ کھل گیا۔”
“دوسری طرف مصطفٰی صاحب اور کلثوم بیگم اپنی پوتیوں کی چلاکی پر ہنس دیے۔۔۔۔۔۔”
“مانو اور ایشو روم میں گئیں۔فرش ہو کے عصر کی نماز ادا کی پھر بیڈ پر آتے ہی نیند میں کھو گئیں۔۔۔
وہ تینوں اتنا تھک چکی تھیں کہ رات کے وقت بھی کھانے کے لیے نہ اٹھ سکیں۔دانیہ بیگم نے پری کو ایک دو بار اٹھانے آئیں۔ لیکن پری پورا جنگل ہی بیچ کر سوئی تھی۔۔۔۔
“وہاں مانو اور ایشو کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔یہ دونوں تو جب بھی سوتی ہیں۔ ُمردوں سے شرط لگا کر سوتی ہیں۔۔اور ان دونوں کو ہرانا ناممکن ہے۔۔۔”
“علیان جو اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا۔ سعدیہ بیگم کی بڑبڑاہٹ سن کے ان کے پاس آیا۔
“مما کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔”
“ہاں بیٹا جب سے دونوں آئے ہیں سو رہی ہیں۔۔۔۔۔”
” اووو میری پیاری سی مما آپ تو جانتی ہیں۔ کہ ان دونوں کی نیند کتنی پکی ہے۔ پھر کیوں جگانے کی بے کار کوشش کر رہی ہیں۔”علیان نے پیار سے سر پے بوسہ دیا تھا۔
“ہاں ٹھیک کہا بیٹا جی چلیں آپ سو جائیں دیکھیں کتنی رات ہو گئی ہے۔”
جاری ہے
