Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 27)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

فصلیں جو کاٹی جائیں اُگتی نہیں ہیں

بٹیا جو بیا ہی جائیں موڑتی نہیں ہے

تینوں بیٹیاں چلی گی تھیں۔ اپنے پیا کے دیس،اپنا سب کچھ چھوڑ کر، یہ لمحہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔جب ایک لڑکی کو اپنا سب کچھ چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔ایک نئے دنیا،نئے گھر، نئے لوگوں میں، اپنےکو محرم کے رنگ میں رنگنا۔۔

🖤
🖤
🖤

آج کا ہوا سارا واقعہ داریاں نے مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب کے گوشہ نشین کیا تھا۔ جس کو سنتے کے بعد داریاں کے نکاح کی پیشکش درست لگی تھی۔تو انہوں نے داریاں اور ماہم کے نکاح کے لیے ہامی بھری تھی۔لیکن داریاں کو رخصتی کی جلدی پڑی تھی۔اسی لیے باقی سب کے ولیمے کے ساتھ ان دونوں کی رخصتی اور ولیمہ ہوجانا تھا۔سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی میں برسو سجائے سارے خواب، ارمان پورے کیے تھے۔سعدیہ بیگم ابھی ہی ایشعال اور پری اپنے اپنے کمرے میں چھوڑ گئیں تھیں۔

🖤
🖤
🖤

ایشعال کا دل تھا،جو کہ سینہ چیر کر باہر نکلنے کو تھا۔ایک پل میں وہ نازک لڑکی اُس شخص کو بھئیا سے سئیاں بنا چکی تھی۔اب اُس شخص کی بیوی کے رتبے پر فائز تھی۔ایشعال سوچوں میں گم تھی،کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی گونجی تھی،علیان کے کمرے میں داخل ہونے پر ایشعال نے اپنا گلا تر کیا تھا۔دل کی دھڑکن تھی کی مزید بڑھ گی تھی۔اتنی کے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔علیان اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا۔کہ ایشعال کے سامنے جا بیٹھا تھا۔چہرے پر سے اپنے نام کا گھونگھٹ اُٹھایا تھا۔

“ماشاءاللہ”

علیان کے لبوں سے ادا ہوا تھا۔علیان نے جھک پر ایشعال کے ماتھے پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثابت کی تھی۔ علیان کے پہلے لمس میں اتنی شدت تھی۔کہ ایشعال کانپ کے رہے گی تھی۔ابھی تک ایشعال نے نظر اُٹھا کر علیان کو نہیں دیکھا تھا۔

” بلکل ملکہ لگ رہی ہو، میرے دل کی ملکہ “علیان ایک جذب کے عالم میں بولا تھا۔ایشعال نے ابھی تک نظر اُٹھا کر سامنے بیٹھے اپنے مزاجی خدا کو نہ دیکھا تھا۔ جس کی آنکھیں محبت کے خمار میں ڈبی ہوئیں تھیں۔ علیان نے ایشعال کا ہاتھ تھاما تھا۔اور اس میں خوبصورت سی ڈیمنڈ کی بریسلٹ پہنائی تھی۔

” ایشعال تمہیں پتہ ہے، بچپن سے ہی تم میری پسند رہی ہو، میری محبت رہی ہو۔علیان نے ایشعال کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے دل کے مقام پر رکھا تھا۔مگر ایشعال خاموش سی تھی۔ تو علیان نے خود ہی اس سے اپنے بارے میں پوچھا تھا۔

“چلو آب تم بتاؤ میں تمہیں کیسا لگتا ہوں۔۔۔؟”ایشو نے ایک بار پلکوں کی جھلر اُٹھا کر سامنے علی کو دیکھا تھا۔جس کی آنکھوں میں اس کے لیے صاف جذبات دیکھائی دے رہے تھے۔

” آپ کو پتہ ہے ! میں نے ہمیشہ اپ کو احمر بھائی کی طرح اپنا بھائی ہی سمجھا ہے،اپ کی عزت کی ہے، احترام کیا ہے، علی بھئیو” ایشعال نے بڑی معصومیت سے علیان کے شدت بھرے جذبات کا ستیاناس کیا تھا۔اس کے دل کے ارمان سمندر میں بہے تھے۔

“مورخ لکھیں گے۔”

کہ ایسی لڑکی بھی تھی، جو اپنے شوہر کو شادی کے بعد پہلی ہی رات میں اپنا بھائی بولی تھی۔

” یاخدا مجھے صبر دے، میرے جذباتوں کا اور امتحان مت لے” علیان نے اوپر چھت کی طرف دیکھتے ہوئے، ہلکی آواز میں بڑبڑا تھا۔

“لڑکی۔۔۔!! تمہیں اس بار اچھے سے سزا ملے گی۔ایک بار پے سمجھے نہیں آتی نہ، کہ مجھے بھائی مت بولا، ہمارا نکاح کیوں خراب کرتی ہو، مگر کوئی نہیں اب دوبارہ جرت نہیں کرو گی”

علیان معنی خیزی سے کہتا ایشعال کے لبوں پر جھکتا،اس کی سانسیں روک گیا تھا۔ایشعال جی جان سے کانپی تھی،اس کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔علیان کے سینے پر ہاتھ رکھتی مزاحمت کر رہی تھی،مگر علی نے اس کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیے تھے،اور پھر خود کو کچھ دیر سیراب کرنے کے بعد آہستہ سے، اس کے نازک لبوں کو راحت بخشی تھی۔

علیان کے چھوڑتے ہی ایشعال لمبے لمبے سانس لینے لگی تھی۔کہ چہرہ خون چھلکانے کی حد تک سرخ ہوچکا تھا۔علیان نے ایشعال کا چہرہ لال گلاب کی مانند چمکتا دیکھا تھا۔ جو کہ اُس کی چھوٹی سی سزا پر کانپ اُٹھی تھی۔مگر علیان آج اپنے جذبات پر قابو پانے کے موڈ میں نہیں تھا۔ آخر کو اتنے سالوں کا صبر تھی سامنے بیٹھی نازک لڑکی، اسی لیے بنا وقت ضائع کیے کمرے کی لائٹ آف کرتے دوبارہ جھکا تھا۔ ایشعال نے خود کو علیان کے سپرد کر دیا تھا۔ کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں دونوں نے ایک دوسرے کو مکمل کیا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

رات کے سائے گہرے ہوئے تھے۔رات کی تاریکی میں سیاہ کردار کے لوگ سیاہ کام انجام دیتے تھے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ایک شخص کئی لڑکیوں کو ریڈ لائٹ ایریا میں بچنے آیا، ساری لڑکیاں ڈرگز کے زیر اثر بہوش تھیں۔ پیسوں کی لالچ میں جانے کتنے عزت دار گھرانوں کو داغ دار کرنے والا تھا وہ شخص، محبت کے نام پر لڑکیوں کی عزتیں لوٹتا اور پھر ان معصوموں کی نازیبہ ویڈیوز بنا کر انکے گھر والوں کو بلیک میل کر کے پیسہ ایٹتا ،کیوں کہ ہر شریف انسان کو اپنی عزت پیاری ہوتی ہے۔ماں باپ تو اپنی بیٹیوں کو نامحرم کے ساتھ دیکھ کر ہی مر جاتے ہیں۔اور واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

“سلام ملکہ حُسن جہاں آرا ” سلمان نے بڑے مؤدب انداز سے سر جھکاتے اپنے سامنے بیٹھی عورت کے ہاتھوں کا بوسہ لیا تھا۔ جس سے مقابل بیٹھی عورت کے گہرے لال رنگ میں ڈوبے ہونٹ دلکشی سے مسکرائے تھے۔

“وعلیکم السلام”

“ارے سلمان میاں ! آپ آئے ہیں” طوائف خانے کی ملکہ جہاں آرا بی شریں لہجے میں بولی تھی۔

“جی ملکہ عالیہ ! مابدولت آپ کے لیے نیا مال لایا ہے۔تین بلکل فریش پیس ہیں، مگر دو کے ساتھ میں اپنی رات رنگین کر چکا ہوں، کیا مست مال ہیں۔ آئے ہائے دل ہی نہیں چاہ رہا تھا چھوڑنے کو،” سلمان کے چہرے پر کمینگی سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا تھا۔

“سلمان میاں! بڑی کمینی نسل کے ہو” جہاں آرا اپنے منہ میں پان ڈلتے ہوئے بولی تھی۔تو سلمان نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ ” سو تو ہے ملکہ حُسن ” سلمان نے سینے پر ہاتھ رکھتے ذرہ جھک کر داد وصول کی تھی۔

“اچھے یہ بتا کہ یہ لونڈیاں کہاں سے لایا ہے۔۔۔؟آجکل تو ہر جگہ سخت پہرہ ہے، تو تو اغواء کرنے سے رہا” جہاں آرا نے تعجب سے پوچھا تھا،کیوں کہ وہ جانتی تھی ہر جگہ آرمی اور پولیس والوں کا پہرہ تھا۔جہاں آرا کی بات سنتے ہی سلمان دوبارہ کمینگی سے ہنسا تھا۔

” ارے ملکہ حُسن ! اغواء کون کرتا ہے، ہم تو پیار، محبت، سے ان امیر زادیوں کے دل میں جگہ بناتے ہیں۔ اور پھر سینے سے اُسی دل کو نکلا لیتے ہیں،ہم تو ان کو اپنے پیار کی مار مارتے ہیں۔تاکہ کوئی چوں چراں نہ کریں۔”

“ہاہاہاہاہاہاہا”

“ہممم بڑا تیز ہے سالے کتے کی اولاد، چل قیمت لگا پانچوں لونڈیوں کی،”سلمان نے ایک نظر پورے کوٹھے میں ڈالی تھی۔کوٹھے میں موجود کچھ طوائفیں اپنے رقص میں مصروف تھیں، تو کچھ طوائفیں کمروں میں موجود عیاش سیٹھ لوگوں کا دل بہلا رہیں تھیں۔

” پچس لاکھ، پانچ لڑکیاں ہیں، ہر لڑکی کا پانچ لگایا ہے”

سلمان نے احسان کرنے والے انداز میں کہا تھا۔ سامنے بیٹھی ملکہ جہان آرا کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ ” سلمان میاں ہوش میں تو ہو، دو لونڈیاں ویسے بھی کسی کام کی نہیں ہیں۔

“اکیس لاکھ دوں گی” اس سے زیادہ ایک روپیہ بھی نہیں دوں گی۔” ملکہ جہان آرا کا انداز حتمی تھا۔ جس پر سلمان نے ہامی بھر لی تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

احمر کمرے میں داخل ہوا، تو پریہان کو نہ پا کر حیران ہوا تھا۔مگر پھر اپنے کمرے میں موجود چھوٹی سی بنی لائیبریری کی لائٹ اون دیکھ کر گہرا مسکرایا تھا۔ اور لائیبریری کی جانب قدم بڑھا لیے تھے۔اور دروازے تک پہنچا تھا۔ کہ سامنے اپنے جگہ پر اپنی جان کو بیٹھا دیکھا، دل کی ایک بیٹ میس ہوئی تھی۔وہ آج لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی۔ اپنے مزاجی خدا کے کلون کی خوشبو محسوس کرتے پریہان نے اپنی گرے کل کی آنکھوں پر سے جھلر اٹھائی تھی۔جو کہ سینے پر ہاتھ باندھے، اُس ہی کو دیکھ رہا تھا۔تو پریہان مسکراتی ہوئی اس کی جانب بڑھی تھی۔ اب تک احمر ایک بار بھی پلک نہیں جھپکائی تھی۔مسلسل ٹکٹکی باندھے اپنی پری کو دیکھ رہا تھا۔جو کہ قدم قدم چلتی اس کے مقابل آرکی تھی۔

“لگتا ہے، آج مسڑ احمر نے مجھ معصوم کو نظر لگانی ہے۔”

پریہان کی بات پر احمر کھل کر مسکرایا تھا۔اور پری کا ہاتھ تھامتے بیڈ پر بیٹھا تھا۔پریہان کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے سینے کے بائیں جانب رکھا تھا۔ ہاتھ رکھتے ہی پریہان کو احمر کی دھڑکنے اپنے دل میں دھڑکتی سنائی دی تھیں۔تو پریہان نے ابھی احمر کا دوسرا ہاتھ تھامتے اپنے دل پر رکھا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی حد سے زیادہ بڑھتی ڈھڑکنوں کو محسوس کر رہے تھے۔

” آئی لو یو احمر”

پریہان نے مسکراتی آنکھوں سے اپنی خاموش محبت کا اظہار کیا تھا۔پری کے اعتراف پر احمر نے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔ تو پریہان کا چہرہ شرم کے مارے سرخ انار کی مانند ہوگیا تھا۔ پری بیڈ سے اُٹھ کر بھاگنے لگی تھی۔کہ احمر نے پریہان کو بازو سے تھاما تھا۔اور اس کے پیچھے کھڑے ہوتے پریہان کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کان میں کچھ کہا تھا۔بولتے ہوئے احمر کے لب پریہان کے کان کو مس ہوئے تھے۔

“لو یو ٹو میری جان “

جس سے پریہان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی تھی۔کہ احمر نے پریہان کی گردن پر ایک گستاخی کی تھی۔جس پر پریہان اپنا رخ موڑتی اپنا چہرہ احمر کے حصار میں چھپا گئی تھی۔ احمر نے مسکراتے ہوئے پریہان کو باہوں میں بھرتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا تھا۔لائٹ آف کرتے ہوئے اس پر حاوی ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں دو جسم ایک جان ہوچکے تھے۔

🖤
🖤
🖤
🖤

رات کے تین بجے کا وقت تھا۔ انمول نیند سے نڈھال ہوچکی تھی۔مگر دشمن جان تھا۔کہ وہ کمرے میں آہی نہیں رہا تھا۔ رسموں کے بعد دانیہ بیگم انمول کو کمرے میں بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بول کر گئیں تھیں۔ کہ ازلان کو ابھی بھجتی ہیں۔ آپ سونا مت مگر بارہ سے اب تین بج چکے تھے۔ انمول کو اپنی کمر ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔اس لیے اس نے اب لیٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کہ کسی نے دروازے کی ناب کو گھمایا تھا۔ اور اندر داخل ہوا تھا۔اس کو دیکھ کر انمول نے سکھ کا سانس لیا تھا۔اور بیڈ پر سے اٹھتی اُس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔

” شکر ہے تم آگے، کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں اور میں تو بہت زیادہ تھک گئی ہوں، چلو جلدی بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں، ساتھ میں میری منہ دیکھائی بھی دو، تاکہ پھر اس کے بعد میں سکون سے سو سکوں”

اس نے اپنی جمائی روکتے ہوئے کہا تھا،لہجے میں شرارت صاف عیاں تھی۔مانو کی آنکھوں میں ڈھیر سارے رنگ کھلے ہوئے تھے۔ آج اس گڑیا پر رج رج کے روپ آیا تھا۔اپنے عشق کو پا لینے کا روپ،عشق کا رنگ چہرے پر ٹوٹ کے چھایا تھا، چہرہ لال گلاب کی مانند چمک رہا تھا۔لیکن اپنے دشمن جان کی آنکھوں سے وحشت سی ہو رہی تھی۔

کیوں کہ نیلی آنکھیں حد سے بھی زیادہ سرخ تھیں۔ان کو دیکھ کر دل کی ڈھڑکنوں نے عجب سا شور برپا کیا تھا۔ مقابل شخص آگئے بڑھا تھا۔اور ایک جھٹکے سے سبز آنکھوں والی بلی کے سر پر سجا ہوا اس کے نام کا لال ڈوبٹہ کھینچ کر زمین پر پھنکا تھا۔دوبٹہ جو کہ پنوں کی مدد سے سر پر سیٹ کیا گیا تھا،اس طرح نوچنے سے،

“سی۔۔!!”

لبوں سے سسکی نکلی تھی،سر کے کئی بال جڑوں سے ٹوٹ تھے۔سر میں درد سے ٹیسیں اُٹھی تھیں۔جُوڑے میں مقید بالوں کو اپنے بھاری ہاتھ کے شکنجے میں لیا تھا۔اور اس کے بالوں کھنچ کر نیچے کرتے ہوئے، انمول کا چہرہ اپنے قریب کیا تھا۔ انمول کے چہرے پر درد کی تاثرات واضح تھے۔سبز آنکھیں نمکین جام سے لبریز تھیں۔ازلان مزید انمول کی طرف جھکا تھا۔

” تمہیں پتہ ہے تم جیسی لڑکی کو کیوں قبول کیا میں نے۔۔۔؟، صرف اور صرف اپنی بہن کی وجہ سے، اگر احمر شرط نہیں رکھتا تو اُسی دن طلاق دیتا،مگر پریہان کی وجہ سے مجبور تھا۔ کیوںتم جیسی آوارہ لڑکیمیری بیویبنے کے لائق نہیں۔”

ازلان کے ایک ایک لفظ نے اس کو شدید درد میں مبتلا کیا تھا۔آنسو لڑیوں کی صورت میں متواتر بہے جارہے تھے۔ مگر اپنی سبز آنکھیں مقابل کی نیلی آنکھوں میں گاڑے ہوئے تھی۔اس آنکھوں میں کیا کچھ نہ تھا۔ پیار، محبت،خواب خوشیاں،سب کچھ کرچی کرچی ہوکر بکھر گیا تھا۔منہ سے ایک بار پھر سسکی نکلی تھی۔جس پر ایک جھٹکے سے ازلان نے انمول کو زمین پر پھنکا تھا۔ وہ زمین پر اس خود غرض شخص کے قدموں میں گری تھی۔ نیچے گرنے سے بازو میں درد کی لہر دوڑی تھی۔

” تمہاری جگہ فقط میرے پاؤں میں ہے۔تمہیں موقع دیا تھا، صرف میری بن جاؤ سب کو چھوڑ دو مگر تم نے مجھے ازلان خانزادہ کو چھوڑ دیا”

وہ اس نازک اندم لڑکی کو ٹھوکر مارتا ہوا کروفر سے آگے بڑھا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر اپنا والٹ اور گھڑی رکھی تھی۔پھر الماری سے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہو گیا۔

“کیسی تھی اس کی زندگی کی نئی شروعات ۔۔۔؟”

ہو میرے دل دے ٹکڑے سینے وچ بکھرے

اک نام تیرا ہی لیندے رہے گے

🖤
🖤
🖤

” سر ۔۔! دو دن بعد اپ کو خوش خبری ملے گی۔ان مارخوروں کو ان کی اوقات یاد دلاوں گا۔”عفار ایس-وی بتاتے ہوئے کمینگی سے مسکرایا تھا۔

“ہمم۔۔! عفار یہ ڈاکٹر رمیز کہاں غائب ہے، پتہ کرو اس کا، ہمیں باڈی پارٹس کی ضرورت ہے۔” ایس-وی نے حرام مشروب گلے میں انڈیلتے ہوئے کہا تھا۔

“اوکے سر آپ کا کام ہو جائے کا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *