Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 31)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 31)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
کھانا کھانے کے بعد انمول اور ازلان اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگے۔کیوں کہ کل ان کی فلائٹ تھی، انمول نے پری اور ایشو کو سخت تاکید کی تھی، کل صبح کا ناشتہ ان کی طرف ہوگا۔ جس کو سب نے فورن ہی مان لیا تھا، کیوں کہ وہ انمول سے پنگا نہیں کرنا چاہتے تھے، ورنہ انکی لائف میں دنگا ہی دنگا ہونا تھا۔
ازلان اور انمول خاموشی سے گاڑی میں بیٹھے تھے۔ازلان سلو سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ اور انمول سے بات کرنے کے لیے اپنے الفاظوں کو ترتیب دے رہا تھا۔ مگر انمول گاڑی کے شیشے پار باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔مسلسل چھائی خاموشی کو ازلان نے پہل کر کے توڑا تھا۔
” مانو۔۔!! “
ازلان کی پکار پر انمول تو جیسے جھٹکا کھا کر پلٹی تھی۔اتنے سالوں بعد اُس دشمنِ جان اس کے پسندیدہ نام سے پکارا تھا۔ مانو کے چہرے پر چھائی حیرانی کو دیکھ کر ازلان ہلکے سے مسکرایا تھا۔انمول تو ایک جھٹکے سے نکلی نہیں تھی، کہ ازلان کو اپنے جانب مسکراتا پاکر دوبارہ جھٹکا لگا تھا۔
” مانو!! اس دن کے لیے میں تم سے معذرت خواہ ہوں۔”
سر جھکا کر بولا تھا اور واقعی ازلان اپنے رویے پر نادم تھا۔انمول کو تو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا،اس کو اپنے اُوپر حیرات کے پہاڑ گرتے محسوس ہو رہے تھے۔انمول کو ہنوز اسی طرح بیٹھے اور خود کو تکتے پاکر، ازلان نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تھی۔ جس پر انمول گڑبڑا اُٹھی تھی۔
” کوئی بات نہیں زی۔۔!!میں نے تمہیں معاف کیا۔اور اگر کبھی دوبارہ غصہ آئے،تو بات مجھ شئیر کر لیا، میں ہمیشہ تمہاری مدد کر لوں گی، یا تمہاری ہر مشکل کو مل کر سولو کریں گے۔”انمول ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ازلان کو بولی تھی، جس پر ازلان نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
مانو کی بات پر ازلان گہرا مسکرایا تھا۔ اور بس یہیں انمول کی بس ہوئی تھی۔وہ تو پاگل تھی، اُس شخص کی مسکراہٹ کے لیے، دنیا جہاں میں سب سے خوبصورت مسکراہٹ اپنے جلاد شوہر کی لگتی تھی،جب جب یہ بندہ مسکراتا ، انمول کو اپنا آپ اس بندے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا، ازلان کے گلے کی گلٹی کو دیکھ انمول کو اپنے حلق میں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔جب یہ شخص مسکراتا تو انمول کو اپنی پوری دنیا مسکراتی ہوئی محسوس ہوتی۔
انمول ابھی اپنی سوچوں میں گم تھی، کہ ازلان نے گاڑی کے بریک لگائی تھی،انمول حیران ہوتے باہر کی طرف دیکھا تھا، کیوں کہ ابھی گھر تو نہیں آیا تھا۔
اذلان نے حیرات میں ڈوبی سبز آنکھوں والی مانو، باہر آنے کو کہا تھا، تو انمول نے ناسمجھی سے پہلے دیکھا ،مگر ازلان سیٹ بیلٹ کھولتا باہر نکل چکا تھا۔
انمول بھی باہر نکلی تھی، کہ ازلان نے اس کی طرف آکر مانو کا ہاتھ تھاما تھا۔ اور ائسکریم پالر کی طرف بڑھ گیا۔انمول پر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔انمول نے اپنا ہاتھ ازلان کے ہاتھ میں مقید دیکھ دل سے دعا کی تھی۔کہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ ہمیشہ اپنے عشق کے ساتھ ایسے ہی خوش رہے۔ یہ پل بہت حسین تھا۔ کتنے سالوں بعد انمول کے عشق نے اُس پر نظر کرم کی تھی۔ وہ ٹرانس کی کیفیت میں ازلان کے کے ساتھ کٹی پتنگ کی طرح کھچی چلی جا رہی تھی۔
ازلان نے ایک ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے چاکلیٹ ائسکریم کا آڈر دیا تھا۔انمول مسلسل ازلان کو پیار بھری نظروں سے دیکھے جارہی تھی۔
” کیا ہوا کہیں مجھے سے پیار ویار تو نہیں ہوگیا، مسلسل دیکھے جاری ہو، ہینڈسم بندے کو نظر لگانی ہے۔۔۔؟” ازلان اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بولا تھا۔انمول کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔
“ہائے اتنی خوش فہمیاں مسٹر زی زمین پر اُتر آو، بندے شکل اچھی نہ ہو، تو بات تو اچھی کر لے” انمول نے مسکراہٹ دباتے ہوئے ائسکریم کا چھوٹا سا سکوپ لیا تھا۔انمول کی بات پر ازلان نے انمول کو ایک گھوری سے نوازا تھا۔ازلان کی گھوری پر انمول کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
آج کتنے وقت بعد انمول کا انتظار ختم ہوا تھا۔وہ جتنی خوش تھی۔اس کے چہرے پر چھائی چمک سے محسوس ہو رہا تھا۔ دونوں ائسکریم مکمل کرتے گھر کی طرف بڑھ گے تھے۔
دور کھڑی قسمت نے ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر ایک ٹھنڈی سی آہ بھری تھی، کیوں کہ کچھ مسکراہٹیں وقتی ہوتیں ہیں۔اور خوبصورت سی مسکراہٹوں کو کالی نظر اپنی لپٹ میں لے لیتی ہے۔



رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا، اسلام آباد کی سڑکوں پر اندھیرا چھایا تھا۔ہر سوں ہلکی ٹھنڈی ہوا رقص کر رہی تھی، شہر کے ایک کونے میں ریڈ لائٹ ایریا وہاں روشنیوں کا جہاں آباد تھا،تیز آواز میں بجتی موسیقی کے سُر تال پر حسیناوں کا لچکیلا، بےلباس بدن بڑی نزاکت سے جھوم رہا تھا۔ آج ملکہ جہان آرا کے کوٹھے پر بہت بڑا سودا ہونا تھا، معصوم لڑکیوں کی عزتوں کا سودا تھا۔ ہر طرف مردوں کی آمد تھی،
ملکہ حُسن جہاں آرا کے، اس عالیشان کوٹھے میں دو کالے سائے اور ان کے ساتھ دو نازک اندام حسینائیں بھی داخل ہوئیں تھیں۔مگر کالے سائے کوٹھے کے پچھلے حصے سے کہیں گم ہوگئے تھے۔ اور باقی دو لڑکیاں اندر کی جانب بڑھیں تھیں،
” ابے یار اس کیلر سالے کمینے نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا، اچھے بھلے مرد تھے،شکیرہ بنا کر لازمی نچانا تھا۔” ایک نازک لڑکی نے دوسری کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی تھی۔
“ابے چپ کر اس کے چیلے یہیں کہیں ہوں گے۔کیوں دوبارہ مرواتا ہے۔” دوسری لڑکی کلس کر بولی تھی۔اور اندر کی جانب بڑھیں تھیں۔کہ سامنے دو آدمی ہاتھ میں بندوقیں تھامے نظر آئے تھے۔
” ارے نازک حسیناوں ادھر کیا کر رہی ہو، بھاگنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟ ” ایک کالا سانڈ نما آدمی دونوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا بولا تھا۔
” ارے سرکار ہم تو یہاں نئی ہیں ، راستہ بھول گیں تھیں ، کیوں شیلا جانی۔۔۔؟”
” ہا۔ ہاں منی صحیح بول رہی ہے۔”
دونوں لڑکیوں نے ہڑبڑاتے ہوئے جواب دیا تھا۔سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں حواس کی چمک تھی۔
” واہ !! واہ !! شیلا اور منی کیا نام ہیں اور کیا ہی خوبصورت بدن ہے، اچھا کتنا لیتی ہو رات رنگین کرنے کا ” اس سانڈ نے شیلا کی نازک گردن پر ہاتھ بھرتے ہوئے، خمار آلود لہجے میں سوال کیا تھا۔شیلا ابھی جواب دیتی، اس پہلے ہی اچانک حوس کا پوجاری اور اس کے پیچھے کھڑا آدمی زمین بوس ہوئے تھے۔
دونوں نے پیچھے موڑ کر دیکھا، کوئی موجود نہ تھا، مگر شیلا اور منی دونوں ہی سمجھ چکے تھے۔ان پر وار کس نے کیا ہے۔ جس کو دیکھا وہ دونوں آگے بڑھے تھے۔ اور ہال میں ہی سلمان اور اس کے ساتھ کچھ عربی مرد بیٹھے تھے۔ مگر ان کے درمیان میں جہاں آرا بی بیٹھی تھی۔ منہ میں پان چباتی کچھ بول رہی تھی۔
فائر اور ہنٹر نے پیچھے کے راستے کو سنبھل کر ان صاف کیا تھا۔جو کہ وحشی درندوں سے بھرا ہوا تھا۔اور اس کے بعد وہاں پھسی معصوم سی لڑکیوں کو وہاں سے نکلنے کا راستہ بتایا تھا۔ خاموشی سی ایک ایک کر کے لڑکیوں باہر کو نکل رہیں تھیں۔ کچھ ہی دیر میں پولیس بھی پہنچنے والی تھی۔وہاں موجود نشے میں دھت بدن پرست آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے سکون کی نیند سلا دیا تھا۔
ریبل اور ہیکر ایک میسج کے انتظار میں رکے تھے،کہ میسج کہ موصول ہوتے ہی دونوں اندر ہال کی طرف بڑھے تھے۔مگر پہلے ہی ہال میں کچھ پھنکا تھا۔ جس سے ہلکا ہلکا سفید دھواں پھیل رہا تھا۔
جہاں آرا بی کی نظر ریبل(شیلا) اور ہیکر (منی) پر پڑی تو فورن سے خاموش ہوئیں، اور پان منہ نکالتے ہوئے ایک طرف کو پھنکا تھا۔ ” اے چھوری تم دونوں کون ہو۔۔۔۔؟میرے کوٹھے کی تو نہیں لگتیں۔”جہاں آرا نے دونوں کو شک کی نگاہ سے اوپر سے نیچے دیکھا تھا۔
” ارے ارے ملکہ میری ملکہ ہم دونوں کو سلمان میاں لائیں ہیں۔کہا کہ اچھا دام ملے گا، ایک رات کا، اسی لیے” ابھی اور آگے دونوں کچھ بولتیں کہ ہر سوں سفید دھواں پھیل چکا تھا۔ریبل نے آگے بڑھ کر جہاں آرا بی کو اُٹھا کر ایک بوری میں ڈالا تھا۔ اور ٹائیمر لگا کر بم پھنک کر باہر نکلنے تھے۔ہیکر کو میسج موصول ہوا کہ سات منٹ تک پولیس آنے والی ہے۔تو دونوں پھرتی دیکھا کر وہاں سے ٹارچر ہاوس کی طرف بڑھے تھے۔
آج دو سو سے زائد لڑکیوں کی عزتیں پامال ہونے سے بچیں تھیں، اور جن کی عزتیں برباد ہو چکیں تھیں۔ ان سب کو راحت کا سانس ملا تھا۔پولیس کے آنے پر جھاڑیوں میں چھپے سائے گہرے اندھیرے میں گم ہوئے تھے۔




اگلی صبح جب سالار کی آنکھ کھلی تو سر درد کی شدت سے پھٹا جا رہا تھا۔بمشکل اُٹھ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ دوکھتے سر کے ساتھ ملازم کو کال کر کے لیموں پانی بنانے کا بول کر، خود شاور لینے چلا گیا۔
پندرہ منٹ بعد سالار باتھ سے فریش ہوکر باہر آیا تھا ، شیشے کے سامنے شرٹ لیس کھڑا تھا۔جس سے اس کا کسرتی سینہ واضع نمایاں ہورہا تھا۔مگر سینے پر موجود چھوٹے چھوٹے زخموں کے نشانات پر سالار ٹھٹھک تھا۔اور ہاتھ بڑھا کر آنکھیں موندے ان نشانات پر ہلکے سے ہاتھ پھرا تھا۔
آہستہ آہستہ آنکھوں کے سامنے کچھ دھندلے دھندلے منظر دیکھائی دینے لگے۔ مومل کا گھر آنا اور بات کرنا اور پھر اس کے آگے کا یاد کر کے سالار کی روح تک کانپ اُٹھی تھی۔
سالار لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بیڈ کے پاس آیا تھا۔ کمبل کے ایک طرف کو نکلا دوبٹہ دیکھ ، کسی انہونی کی تحت دھڑکا تھا۔کاش جو وہ سوچ رہا ہو وہ غلط نکلے، کاش کہ اُس نے وہ گناہ نہ کیا ہو، مگر جیسے ہی سالار نے دوسری جانب سے کمبل نیچے کو سرکایا۔ سانس سینے میں اٹک گی تھی، ہاتھ کانپ اُٹھے تھے، جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔ مومل کو بے لباس، بےسد پڑا دیکھ فورن سے دوبارہ اس پر کمبل ڈالا تھا۔اور بوکھلاہٹ سے پیچھے ہٹا تھا۔پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچ رہا تھا۔اُس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔کیسے اُس نے اتنا بڑا گناہ کر دیا ہے۔
“پوری رات اُس معصوم نے کیسے، مجھ جیسے وحشی درندے کو برداشت کیا ہوگا۔ یہ گناہ کرتے وقت میرے جسم سے میری روح کیوں نہ جدا ہوئی، کاش کہ اسی پل موت آجاتی”، سالار نے بےبسی سے خود کے چہرے کو تھپڑوں سے لال کر دیا تھا۔کمرے کی ہر چیز توڑ پھوڑ کرکے برباد کر دی تھی۔
“کیسے کیسے میں اتنا گر سکتا ہوں، اپنی ہی دوست کی عزت کو داغدار کر دیا، وہ کیسے جیے گی، دنیا والے تو اس معصوم کو کھا جائیں گے،نہیں نہیں میں اُس کا گناہگار ہوں،میں اپنا لوں گا”
کسی خیال کے تحت سالار اپنی جگہ سے اُٹھا اور مومل کے بدن پر اُس کا لباس اوڑھا تھا۔مگر جب اُس کو چھوا تو وہ برف کی مانند ٹھنڈی تھی۔خوف سے لب تھرتھرائے تھے۔سالار نے جھک کر مومل کی سانسیں چیک کی تھیں۔ جو کہ نہ ہونے کے برابر تھیں۔ سالار نے اپنا فون اٹھا کر گھر کے ملازم کو کسی لیڈی ڈاکٹر کو لانے کو کہا تھا۔جلدی سے اپنی شرٹ پہن کر کمرے کی حالت کو دیکھا تھا۔جلدی سے مومل کو اُٹھا کر دوسرے کمرے میں شفٹ کیا تھا۔اور ملازم کو اپنے کمرے کی حالت ٹھیک کرنے کو کہا تھا۔
ملازم لیڈی ڈاکٹر کو لے کر آیا تھا۔کمرے میں سالار مومل کے سرہانے بیٹھا تھا۔ڈاکٹر کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔اور کمرے سے باہر چلے گیا۔سالار نے ملازم کو مومل کے لیے کچھ بنانے کو کہا تھا۔اور خود بے چینی سے دروازے پر چکر لگا رہا تھا۔ دل تھا کہ دھڑک دھڑک کر باہر نکلنے کو تھا۔
تقریبن بیس منٹ بعد ڈاکٹر نے سالار کو کمرے میں بلایا تھا۔مگر ڈاکٹر کی آنکھوں میں افسوس دیکھ کر سالار نے اپنی نظریں چرائیں تھیں۔
دیکھیں مسٹر سالار آپ نے بہت غلط کیا ہے، اپنی بیوی کے ساتھ، جب وہ ابھی اس رشتے کو بڑھانے کے کیے تیار نہیں تھیں، تو آپ نے زبردستی کیوں کی۔۔۔؟مجھے افسوس ہے، کہ پڑھے لکھے ہیں، مگر ایسی جاہلانہ حرکت،لیکن خیر اب کیا کرسکتے ہیں، میں نے ان کو انجیکشن لگایا دیا ہے، ابھی یہ شاک میں ہیں۔پلیز ان کا خیال کریں اور ابھی دوری اختیار کریں۔”
سالار نے ڈاکٹر کی ہر بات سر جھکائے سنی تھی۔ڈاکٹر باہر کی جانب گیں تھیں، جہاں وہی ملازم سر جھکائے ٹھہرا تھا۔اور ڈاکٹر کو واپس چھوڑنے چلے گیا تھا۔
سالار کمرے میں آیا تو مومل کو ہوش میں پایا، وہ چیت لیٹی چھت کو گھورے جارہی تھی۔ خوبصورت براون آنکھیں ویران تھیں۔چہرہ بلکل مرجھایا ہوا تھا۔ سالار کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔وہ مومل کے قدموں میں جا بیٹھا تھا۔ ندامت سے آنکھیں جھکیں تھیں۔گلے میں آنسوؤں کا گولا پھنسا تھا۔
“مو۔مومل مجھے معاف کر دو، میں نے جو کیا وہ نشے کی حالت میں کیا،میں نادم ہوں، اپنی کیے پر، میں جانتا ہوں، معافی لفظ بہت جھوٹا ہے، تمہارا درد، تمہارے اذیت بہت زیادہ بڑی ہے۔” سالار کی باتوں پر مومل کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بہے تھے،مومل کی حالت دیکھ کر سالار کی آنکھوں سے برداشت کے بعد بھی آنسو بہے نکلے تھے۔
” م۔مجھے م۔مار دو !!! “
” مجھے نہیں جینا “
مومل کی سرگوشی نما آواز پر سالار کا دل ہزاروں ٹکروں میں تقسیم ہوا تھا۔اُس نے معصوم سی لڑکی کو روند کر رکھ دیا تھا۔
“خدارا ایسا مت بولو !! مومل تم خود کو بہتر کرو ، پھر ہمارا نکاح ہوگا۔ میں نے جو کیا ہے، اس کے کفارے کے لیے میری موت بھی کم ہے،میں تمہاری عزت کا لٹیرا ہوں، اُس لیے میں خود تمہیں اپنی عزت بناوں گا۔”
سالار مومل کے پاؤں پکڑ کر زاروقطار رو دیا تھا۔مگر مومل کچھ نہ بولی تھی۔کمرے کا دروازہ کھٹکا تھا۔تو سالار اپنا چہرہ صاف کرتا، اُٹھا تھا۔دروازے پر ملازم کھانا لے کر کھڑا تھا۔سالار نے ملازم سے کھانا لے کر پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ بند کیا تھا۔قدم بڑھا کر بیڈ کی طرف آیا تھا۔ اور مومل کے لیے سوپ تھا۔مگر مومل ابھی تک ویسی ہی لیٹی تھی۔تو سالار نے چمچ سے تھوڑا سا سوپ لیا تھا۔ اور مومل کی طرف بڑھایا تھا۔تو مومل نے ہلکے سے اپنے ہونٹ واں کیے تھے۔
مومل نے آج خاموشی اختیار کر کے اپنی عزت نفس کا گلا گھونٹا تھا،کیوں کہ نشے میں ہی صحیح مگر اس کی عزت تو اُس کے اپنے محبوب نے لٹی تھی۔ وہ چاہا کر بھی کچھ نہیں بول پائی تھی۔اور انسان تو اندھا، گونگا بہرا ہوتا ہے، اپنی محبت کے سامنے۔
محبت کا تو پہلے سے یہی دستور رہا ہے
جو اِس کو جان لیتا ہے یہ اُس کی جان لے لیتی ہے
