Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 07)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

رات ہر سوں اپنے پنکھ پہلائے ہوئے تھی۔ سنسان علاقہ تھا۔ پرانی اور خستہ حال عمارت میں کسی کے چیخنے کی آوازیں ارہیں تھیں۔ کمرے میں گھپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔کرسی پر بندھا ہوا کوئی شخص درد سے چلا رہا تھا۔کوئی ہے۔ مجھے یہاں سے نکالو۔کہ کوئی تو مسیحا بن کر آئے۔اور اس کو اس خوف ناک سی جہنم آزادی دی لائے۔۔۔۔

🖤
🖤
🖤

رات کا وقت تھا، راجپوت فیملی میں سب ڈنر کر چکے تھے۔ اب سب آیک ساتھ ٹی-وی لاؤنچ میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے۔۔۔

“جی ناظرین میں ہوں فرحان علی آپ کو آج کی تازہ ترین خبروں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ کہ دن دہاڑے انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہوا دہشت گردوں کا حملہ، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھرپور مقابلہ کیا۔ اسی بیچ دو سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔اللہ پاک شہیدوں کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا کریں اور ان کے گھر والوں کو صبر عطا فرمائیں۔جی ناظرین اب آتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ہوئے معجزے کی جانب۔۔

دہشت گردوں نے جیسے اچانک حملہ کیا۔ویسے ہی اچانک

گمشدہ ہوگئے۔ جن طالبات کو بندی بنایا ہوا تھا۔وہ بھی آرمی اور پولیس کو صحیح سلامت بہوش ملے۔ ہوش آنے پر سب طالبات سے بیان لیا گیا۔ ان کے بیانات کے مطابق ملک کے غداروں میں سے ایک غدار بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے حملہ کیا تھا۔اور اپنے خاص بندے کی رہائی مانگنے والے تھے۔

کہ اچانک ہر سوں سفید دھواں پھیل گیا تھا۔اس کے بعد سب ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئے۔جی ناظرین تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ وہ سب کہاں گم ہو گئے۔ اور وہ کون تھے۔جنہوں نے سب کی حفاظت کی۔جن کو نہ کوئی کمیرہ دیکھ پایا نا انسان۔”

“ویسے دادو جان !!!

انمول نے مصطفٰی صاحب کو مخاطب کیا۔ “یہ کون لوگ ہوں گے۔جنہوں سب کی مدد کی۔” مانو اپنے لہجے میں تجسس سموئے بولی۔ تو مصطفٰی صاحب اور جبران صاحب مسکرا دیے۔

” بیٹا ہوں گے کوئی ہونہار خاندان کے محب الوطنی مارخور جو اپنے ملک کی خاطر ہمیشہ جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔اور کسی کے سامنے بھی نہیں اتے۔۔۔”

“ہاے ایشو!!! کاش ہم بھی تھوڑے بہادر ہوتے ۔تو ایسا کچھ کرتے۔”

“ہاں مانو تم کرتی۔ مجھے اپنی جان اور نیند پیاری ہے۔”

“ہاہاہاہا”

سعدیہ بیگم نے قہقہہ لگایا۔”مانو تم سے وقت پر اُٹھا نہیں جاتا اور مارخور بنو گئی۔” سعدیہ بیگم کی بات پر سب مسکرا دیے ۔

” کیا مما ۔۔۔!!! “

مانو منہ بسور کر بولی۔۔

” میری پیاری سی شہزادی چھپکلی سے ڈرجاتی ہے۔اور مارخور بنا عام بات نہیں”۔جبران صاحب بولے تو ان کی بات پر مانو نے چہرے کے زاویہ بگاڑئے۔مانو کی انداز پر سب نے زوردار قہقہہ لگایا۔

مانو ابھی سب کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ کہ اس کے موبائل پہ یونی کی طرف سےمیسج ایا۔ایشو کو بھی میسج ایا۔۔۔۔

“او واو”

“بلے بلے یاہوو”

” مما بابا،دادو،دادی۔۔۔!!!تین مہینوں کی چھٹیاں یس۔۔۔ “

“یونیورسٹی آف اب مزے کریں گے۔میں بھی سوچ رہی تھی۔ کہ کب سے ہم کہیں اوٹ او کنٹری گھومنے نہیں گئے۔ اب جائیں گے۔” مانو پرجوش ہوتی چیخ کر بولی۔تو سب نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے۔۔

“کیا ہوگیا ہے مانو پاگل تو نہیں ہوگئی۔” سعدیہ بیگم نے زبردست گھوری سے نوازا۔۔۔

“بلکل خالہ جان آپ نے درست فرمایا آجکل کچھ لوگوں کو پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں۔”

سعدیہ بیگم کی بات کا جواب پیچھے سے آتے ازلان نے دیا۔

“تم سے کسی نے پوچھا ہونہہ جاہل انسان” مانو نے دانت کچکائے ۔

“ارے ازلان بیٹا آپ”

اسلام وعلیکم۔۔!!

وعلیکم السلام۔۔۔سب نے یکجاں ہو کہ سلام کا جواب دیا۔

“جی خالہ جان کل رات ہی واپس آیا ہوں۔۔”

ازلان کے پیچھے داریان اور پری بھی اندر ائے۔تینوں سب سے ملے اور وہیں سب کے ساتھ بیٹھ گئے۔۔۔

حال احوال پوچھنے کے بعد سعدیہ بیگم نے کھانے کا پوچھا تو ازلان نے منع کر دیا کے ابھی کھا کے ائے ہیں۔۔۔

اچھا کیا پیو گئے۔۔ ؟

چائے، کافی یا جوس۔۔۔؟

سعدیہ بیگم نے پیار سے پوچھا تو ازلان کچھ بولتا۔ اس سے پہلے مانو بول پڑی۔۔

“خون”

” وہ تو تمہاری خوراک ہے کیوں ایشو۔۔۔!!!چڑیل ہی پیتی ہے خون۔”

” جی ازلان بھئیو۔ “

اشعال نے بے دھیانی میں ہاں بول دیا۔ پری کے چٹکی کاٹنے پر ہوش میں آئی۔تو زبان دانتوں تلے دبائی۔ازلان نے مانو کو دل جلا دینے والی مسکراہٹ پاس کی۔جوابن مانو نے ازلان اور ایشو کو خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔۔

مانو کچھ جواب میں بولتی کہ۔ سعدیہ بیگم نے انمول کو تہبینہ نظروں سے دیکھا۔جس کو دیکھتے مانو خاموش ہوگئی۔

“اور بھئی کیا ہو رہا ہے آج کل ” جبران صاحب نے ازلان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

” بس انکل پڑھائی تو مکمل ہو چکی ہے۔ اب آپ سب کے ساتھ ہوں افس میں۔۔ “

” ماشاءاللہ۔”

“اور داریاں بیٹا آپکی پڑھائی کیسی جارہی ہے۔۔۔؟”

“میری الحمد اللہ اے-ون۔۔۔

بس ابھی فائنل کے بعد ون منتھ کی چھٹیاں ہیں۔۔”

“ہاں بابا جانی ہماری یونیورسٹی کی بھی تھری منتھ چھٹیاں ہیں۔ آج کے ہوئے واقعے کے بعد” انمول نے اپنی بات بولنا لازمی سمجھا۔۔

“ہممم صحیح”

” تو کیوں نا کہیں گھومنے چلیں مانو پرجوش ہو کے بولی”۔ تو پھر جبران صاحب نے فورن ہاں میں ہاں ملائی۔ کیوں کہ اپنی جان سے پیاری اور لاڈلی بیٹی کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے تھے۔

“چلو میں حسن سے بات کرتا ہوں۔ پھر کوئی پلین بناتے ہیں۔”

“علی بھئیو ” مانو نے علیان کو مخاطب کیا ۔۔

“جی گڑیا۔۔۔؟”

“آئسکریم کھانے چلیں۔۔۔؟”

“مانو بچے رات کے دس ہو رہے ہیں۔”

“بھائی پلیززز پلیززز چلیں نا۔ پری بھی آئی ہے۔ اور داری بھی ماہم آپی اور ایشو بھی بول رہے ہیں۔”

پلیززز مانو نے معصومیت سے انکھیں ٹپ ٹپاتے ہو کہا تھا۔تو ناچاہتے ہوئے بھی علیان نے اپنے ہتھیار ڈال دیئے۔

“چلو جو حکم میری شہزادیوں کا “

“ہاں مانو یہ سہی ہے۔ ہم لوگ پھر اپنے گھر کی طرف چلے جائیں گے۔ٹھیک ہے نا ازلان بھئیو ….؟ “

پری نے لاڈ سے ازلان کو بولا تو وہ بھی راضی ہو گیا۔

“یاہو”

سب نے نعرہ لگایا۔ “مانو اور ایشو جلدی سے چینج کر کے آو” ماہم بولی تو دونوں نے ایک سو بیس کی سپیڈ سے دوڑ لگا دی۔پانچ منٹ میں دونوں ریڈی ہو کے اچکے تھے۔سب باہر کی جانب بڑھے۔۔

احمر نے گاڑی سٹارٹ کی لیکن سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ “یار علی میری گاڑی میں کوئی مسئلہ ہوگیا ہے۔سٹارٹ ہی نہیں ہو رہی۔”

“ارے احمر بھئیو میں اپنی گاڑی نکال لیتی ہوں۔آپ سب علی بھئیو کی گاڑی میں اجائیں۔کیوں علی بھائی ۔۔۔؟ “

“ہمم مانو ویسے بات تو سہی ہے۔۔۔”

“لیکن علی یہ لڑکی ہے۔ اور اس کی ڈرائیونگ پتہ نہیں کیسی ہے۔ گاڑی چلانا آتی بھی ہے۔ یا بس باتیں کرنا آتی ہیں۔” ازلان کی بات سنتے مانو کا میٹر شاٹ ہوا تھا۔

“اوو نیلی آنکھوں والے زکوٹا جن مجھے چیلنج مت کرو ورنہ منہ کی کھاؤ گے۔”

” اوووو سبز آنکھوں والی کالی بلی زیادہ اُڑنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے پتہ ہے زبان چلانے کے علاوہ کچھ نہیں اتا۔” ازلان نے بھی انمول کے انداز میں جواب دیا۔

“تمہیں کیا جو چلاوں انمول نے دوبدو ہو کے جواب دیا۔”

“پری گڑیا تم میرے ساتھ چلو گئی۔”

” اووو ہیلو بڑا ایا میرے ساتھ چلو گئی۔ وہ میرے ساتھ جائے گئی۔”

ازلان “نہیں”

انمول ” ہاں”

ازلان “بلکل نہیں

انمول “بلکل ہاں”

“بسس”

پریہان نے اونچی آواز میں کہا تو ایک دم خاموشی سی چھا گئی۔”بھئیو پلیززز آپ داری کو لے کر جائیں۔ میں مانو کے ساتھ آتی ہوں، بہت اچھی ڈرائیونگ کرتی ہے۔”

مانو نے اردگرد نظر گھمائی تو سب کو گھورتے ہوئے پایا۔جسے دیکھ مانو کی سیٹی گم ہو گئی۔ ” سوری بھئیو آپ ناراض نہیں ہوں” مانو معصومیت سے بولی تو احمر اور علی ہلکے سے مسکرا دیے۔

“چلو گلز آجاؤ جلدی سے۔۔۔”

انمول دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے۔گاڑی کی طرف بھاگی۔۔

باقی سب گاڑیوں میں بیھٹے چکے تھے۔ ازلان بھی گاڑی میں بیٹھنے والا تھا کہ مانو موڑی اور ازلان کو مخاطب کیا۔

“اوو زکوٹا جن اوپسس مسٹر ازلان خانزادہ مجھے چیلنج کیا ہے نا کے مجھے ڈرائیونگ نہیں آتی تو آئسکریم پارلر تک ریس۔ جو ہارا وہ آئسکریم پارلر میں سب کے سامنے جيتنے والے سے سوری بولے گا۔” انمول اپنی سبز چمکتی آنکھوں سے بولی تھی۔

“اوکے سی یو سون”

●☆☆☆☆☆☆●

“بادشاہ اور اس کے حرام خور کتے کہا مر گئے۔۔۔؟

کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ زمین نگل گئی یا آسمان گھا گیا۔اور تم سب کہاں مرے ہوئے تھے۔میں نے تم سب کیوں رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔”

” ہاں۔۔۔؟ “

Evil Monster ۔۔!!!

“ہمیں معاف کر دیں۔” ایک شخص کپکپتے ہوئے بولا تھا۔

“قسم سے بوس ان پے پوری نظر رکھی ہوئی تھی۔ کہ اچانک سفید رنگ کا دھواں پھیل گیا اور جب ختم ہوا تو وہاں بادشاہ یا اسکے کسی بھی آدمی کا نام و نشان نہ تھا۔”

●☆☆☆☆☆☆●

ازلان گاڑی میں بیٹھا تو داریان بھی ساتھ بیٹھا۔ جیسے ہی گاڑی سٹارٹ کی تو وہ آگئے نہ بڑھی۔ ازلان حیرانی سے گاڑی کو دیکھنے لگا۔ ابھی تک تو ٹھیک تھی۔ ازلان بڑبڑایا تو اس کی بڑبڑاہٹ سن کر داریان بولا

“انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا ورنہ آپکی لائف میں دنگا ہی دنگا۔۔۔”

داری کی بات پر ازلان نے غصے سے گھورا۔بھائی میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ازلان گاڑی کی باہر نکلا تو دیکھا کہ گاڑی کے پیچھلے دونوں ٹائیرز کی ہوا نکلی ہوئی تھی۔ ازلان کو اب داریان کی بات سمجھ آئی تھی۔۔۔

ازلان نے مانو کی گاڑی کی طرف دیکھا تو مانو نے گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے آنکھ دبائی جس کو دیکھ کر ازلان کو آگ ہی لگ گئی۔

” اس چھپکلی کو تو نہیں چھوڑوں گا۔”

مانو کی گاڑی گھر سے نکل چکی تھی۔ علی اور آحمر بھی جانے والے تھے۔ کہ ازلان نے مانو کی سارے کارروائی بتائی۔ جس پر علی اور احمر کا بے ساختہ قہقہہ چھوٹا۔تو ازلان نے دونوں کو ایک ایک گھوری سے نوازہ۔ علی کو پیچھے بیھٹا کر اب ڈرائیونگ سیٹ ازلان نے سمبھالی اور گاڑی کو دو سو چالیس کی سپیڈ سے بھاگا لی۔

مانو کی گاڑی پہلے آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ یک دم جھٹکا کھا کر تیز ہو گئی۔۔۔۔

” گلز بی کیر فل دشمن قریب اچکا ہے۔”

ازلان نے بھی گاڑی کو اُڑائے رکھا تھا۔ تو مانو کی گاڑی بھی بادلوں سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔

دونوں بلکل برابر تھے ایک دوسرے کو برابر کی ٹکر دیے ہوئے تھے۔مانو کی گاڑی میں کلمہ شہادت کا ورد جاری تھا۔ تو دوسری طرف داریان ڈر کے مارے علیان کی گود میں چھڑ کر بیٹھا تھا۔دونوں ایک دوسرے کو مات دینے کے چکروں میں ایک دوسرے ایسے کرس کر رہے تھے۔ کہ لگتا تھا۔ ابھی گاڑیوں کا آپس میں ٹکرو ہو جائے گا۔۔۔۔

چرر کی آواز پر دونوں گاڑیاں آیک ساتھ روکیں۔ مانو کی گاڑی ازلان کی گاڑی کے گرد چکر کاٹ کر روکی تھی۔ کہ اچانک ہر سوں خاموشی پھل گئی۔دونوں گاڑیوں کے فرنٹ سیٹ کے ڈور کھولے اور دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ایک دوسرے کے روبرو آ کھڑے ہوئے۔ نیلی آنکھوں میں غصہ تو سبز آنکھیں مسکرا رہیں تھیں۔۔۔

“ہممم تو مسٹر بندر اوپسس ازلان جلدی سے سوری بولو مجھے۔”

سب گاڑیوں سے باہر چکے تھے۔

“بلکل نہیں بھلا میں کیوں سوری بولنے لگا۔”

“کیوں کہ تمہاری گاڑی اور میری گاڑی میں دو آینچ کا فاصلہ ہے۔ میں تم سے جیت چکی ہوں۔” انمول چہک کر بولی۔۔۔

“میں نہیں مانتا ہم دونوں برابر تھے۔ اور ازلان خانزاد کبھی نہیں ہارتا،کیوں کہ ہارنا کبھی نہیں سکھا۔۔”ازلان مغروررانہ انداز میں بولا۔

” مسٹر ازلان سے سوری “مانو سنجیدگی سے بولی باقی سب ان دونوں کی بلی چوہے والی لڑائی انجوائے کر رہے تھے۔مسٹر ازلان سے سوری ٹو می ۔۔

نو

نیور

ایور۔۔۔

“میرے ساتھ غداری۔۔۔!”

“یاد رکھنا وہاں ماروں گئی۔ جہاں پانی بھی نہیں ملتا “

مانو کی آنکھوں میں چمک تھی۔مانو نے گھور کر ازلان کو دیکھا۔۔۔

” کیوں۔۔۔!

کوئی ناگن ہو یا پھر آجکل ٹی وی زیادہ دیکھ رہی ہو۔۔؟” سب کی دبی دبی ہنسی گونجی تو مانو نے پلٹ کر سب کو گھورا سپیشل داری کو جو سب سے زیادہ کھی کھی کر رہا تھا۔یک دم سب کی ہنسی کو بریک لگی۔ داریان نے تو ہونٹوں پر انگلی جما لی۔۔۔

پھر ازلان کی جانب پلٹی زور سے اس کے بال پکڑے۔

“تم انا پرست جاہل انسان ہو۔” جھٹکے سےاس بال چھوڑئے۔۔

ازلان نے خون آشام نظروں سے مانو کو گھورا۔۔۔۔

مانو نے پھر علیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “چلیں بھئیو ہم اپنی آئسکریم کھانے چلتے ہیں”۔سب اندر کی جانب بڑھے۔۔۔۔

پیچھے ازلان نے اپنے بالوں میں ہاتھ ڈال کر بال سہی کیے۔اور اندر کی طرف آیا۔سب اپنی اپنی آئسکریم کھانے میں مصروف تھے۔۔۔

ازلان نے بهی اپنے لیے آئسکریم منگوائی۔ پھر احمر اور علیان کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگیا۔باقی سب ایک طرف ہنسی مذاق میں گم تھے۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ازلان علی کی گاڑی پر داری اور پری کو لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔اور مانو کی گاڑی احمر نے سمبھالی۔۔۔۔

☆●●●●●☆

” مجھے آج کے اج مال ہی چاہیے۔ ورنہ میں تمہارے ملک پاکستان کو تباہ و برباد کر دوں گا۔”فون کی دوسری طرف سے کوئی غصہ سے ڈھاڑا تھا۔

“یار غصہ کیوں ہو رہے ہو۔کچھ وقت دو میں کچھ کرتا ہوں

ایک تو آج کل جگہ جگہ پر چیکنگ ہے۔ پولیس والے تو بک جاتے ہیں۔پیسوں کے سامنے لیکن یہ آرمی اور ان کے اوپر بیٹھے مارخور بہت ہی زیادہ ڈھیٹ ہوتے ہیں۔

اور آجکل بہت زیادہ ذلیل کیا ہوا ہے۔پہلے بھی مال کی سپلائی کے وقت پتہ نہیں کیسے ان کو خبر مل گئی۔اور تین ٹرک ضبط کر لیے میرا کروڑوں کا نقصان ہوگیا ہے۔”

خیر سنا ہے شہر میں نیا گینگسٹر آیا ہے۔ ایول مونسٹر یہ بھی ڈرگز سمگلنگ کرتا ہے۔ ان سے ذرہ بات چیت کرتے ہیں۔۔۔

غفار ذرہ میری میٹنگ فکس کرواؤ اور ساتھ کوئی خوبصورت سا تحفہ بھی منگواو تاکہ پہلی ملاقات پر ہی کام کرنے کے لیئے راضی ہو جائے۔۔”

“اوکے سر”

سامنے کھڑے شخص نے سر جھکائے اثبات میں ہلایا۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤

اندھیرے کمرے میں اچانک پیلے رنگ کا بلب روشن ہوا۔کرسی پر بندھے ہوئے شخص نے موندی موندی آنکھیں کھولی، جسم درد سے چور تھا، ہلنے تک کی سکت نا تھی۔ سامنے سے آتے کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس سائے کو دیکھا۔تو حلق تک خوشک ہوگیا ۔۔۔

ہولے سے لب پھڑ پھڑائے ” مجھے مار دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔۔”

سائے نےلال خون چھلکاتی آنکھوں سے گھورا اور اگئے بڑھ کر اپنا پسندیدہ ہتھیار اُٹھایا۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *