Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 03)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 03)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
صبح اذانوں کے وقت مانو کی آنکھ کھلی
“ااففف”
“میں اتنا کیسے سوگئی۔کسی نے اٹھایا کیوں نہیں۔اگر اٹھایا بھی ہو گا تو میں کون سا اٹھنے والی تھی۔چلو ایشو کو بھی اٹھا دیتی ہوں۔۔۔۔”انمول بیڈ سے اُٹھتی ہوئی بولی تھی۔
“ہائے !!پہلے خود تو پڑھ لیے مما کی نکمی اولاد”۔تو مانو جلدی سے باتھ میں بند ہو گئی اور کچھ دیر میں وضو کر کے واپس آئی الماری سے اپنا بڑا سا دوبٹہ نکلا اچھے سے حجاب بنا کر نماز ادا کی۔پھر سب کے لیے ڈھیروں دعائیں مانگیں۔۔۔
جائے نماز لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی اور اشعال کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔دروازہ کھولا اور اندر آگی۔تو سامنے وہ پہلے سے ہی نماز پڑھ رہی تھی۔۔
تو مانو خاموشی سے ایک طرف صوفے پے بیٹھ گئی۔ایشو نے اپنی نماز مکمل کی اور مانو کی طرف متوجہ ہوئی۔جو اب فون میں مصروف تھی۔
“مانو یار تمہیں پتہ ہے۔کہ میں کل شام کی سوئی تھی اور اب آنکھ کھلی ہے”
“ہاہاہاہاہاہاہا”
“ہاں یار میرا بھی یہی حال تھا۔سب بہت زیادہ تھک گئے تھے۔صرف ہمارا یہ حال نہیں پری کا بھی یہی حال تھا۔وہ بھی ابھی جاگی۔میں نے پری سے کہا ہے۔ کہ یونی کا ٹیسٹ ایک ساتھ پریپئیر کرتے ہیں۔۔”
“وہ کیسے کیا اتنی صبح ہم اس کے گھر جائیں گے۔۔۔!؟” ایشو حیران کن تاثرات سجائے بولی تھی۔
“اوو پاگل لڑکی ایک ساتھ کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے گھر جائیں۔ سمارٹ فون کا زمانہ ہے ویڈیو کال سے بھی کام ہو سکتا ہے۔” مانو نے ایشو کے سر پری چت لگائی۔
“ہاں یار میں نے تو سوچا نہیں۔ چلو تم کال کرو۔ میں تمہارا بیگ تمہارے کمرے سے لے آتی ہوں۔”
“اوکے تھینکس جانِ من۔۔۔” انمول نے ایشعال کو فلائنگ کس دی۔تو ایشو ہنستی ہوئی ک۔رے سے باہر نکل گی۔
انمول نے پریہان کو کال کی۔۔
ٹون ٹون
“اسلام وعلیکم!”
“کیسی ہو مانو۔۔۔۔؟”
“وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔”
“الحمداللہ ٹھیک ایک دم فٹ ۔۔۔۔۔ “
“تم کیسی ہو پری ۔۔۔؟”
“شکر الحمداللہ ٹھیک۔۔۔۔۔”
“اچھا پری میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم ایک ساتھ ہی ٹیسٹ اور پریزینٹیشن کی تیاری کر لیں۔۔۔”
“Sure baby! Not a bad idea….”
“تو پھر ایشو کہاں ہے۔۔۔؟”پری نے مانو سے سوال کیا تھا۔
“وہ میرا بیگ لینے گئ ہے۔”انمول جمائی لیتے ہوئی بولی تھی۔
“کیوں آلسی نکمی تمہارے خود کے ہاتھ، پاوں ٹوٹے ہوے ہیں۔”پری تپ کر بولی تھی۔
“وہ میں نہ بیٹھی ہوئی تھی۔اس لیے وہ کھڑی تھی تو وہ چلی گئی۔”مانو نے دانت نکلتے ہوئے مسئلہ بتایا۔
“اندر کر لو کہیں موبائل میں گھوس کے یہ بتیسی توڑ نہ دوں۔”پری انمول کے آلسی پن کو دیکھتی دانت پیس کر بولی تھی۔انمول ہنوز مسکراتے ہوئے دیکھ پری نے سر جھٹکا تھا۔
“ذلیل السی کہیں کی۔”
“اسلام و علیکم پری۔۔۔!!”
ایشو نے مانو سے سیل لے کے سلام کیا۔
“وعلیکم اسلام ایشو۔۔۔!!!”
کیسی ہو۔۔۔؟
“الحمداللہ ٹھیک اور تم کیسی ہو۔۔۔۔؟”
“الحمداللہ ٹھیک میں بھی۔۔۔۔”
“اب سلام دعا ہو گئ ہو تو کچھ پڑھ لیں۔۔۔؟انمول نے دانت پیسے تھے۔ کیوں وہ دونوں اس کی موجودگی کو سرے سے ہی فراموش کر گے تھے۔
“ہاں ہاں چلو۔”پری نے جواب دیا تھا۔تو وہ تینوں ایک ساتھ ہنستے مسکراتے ہوئے پڑھنے لگے۔اسی بیچ وقت کا اندازہ نہ ہوا ۔۔۔۔۔
دو گھنٹے گزر گئے۔چلو شکر اللہ پاک کا یہ تو ڈن ہو گیا۔ہاں جانو مانو صبح کے سات ہو رہے ہیں۔نو بجے تک یونی آجانا اوکے۔ابھی سب ریڈی ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
“ہمم اللہ حافظ”
ایشو نے اپنی بکس سمیٹ لیں۔ مانو نے بھی اپنا بیگ سمیٹ لیا تھا۔
“چلو مانو جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔”
مانو سر اثبات میں ہلا کر چلی گئی۔اپنے روم میں آکے مانو نے الماری سے لائٹ گرین کا فرک نکلا اور باتھ میں بند ہو گئی۔کچھ دیر میں فرش ہو کے آئی۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔بالوں کو سلجھیا۔انکھوں میں کاجل لگایا۔ ہونٹوں پر ہلکا سا پیچ شیڈ لپ گلوز لگایا۔۔۔۔۔
کانوں میں ٹوپس ڈالے۔آپنا دوبٹہ گلے میں ڈال کر بیگ لینے کے لیے اگے بڑھی تھی۔ کہ ایشو کمرے میں داخل ہوئی۔
“مانو بلی ریڈی ہو۔۔۔؟”
مانو نے جب ایشو کو دیکھا تو اس نے بھی سیم ڈریسنگ کی تھی۔لیکن کلر مختلف تھے۔ایشو کا لائٹ بلیو تھا۔ اور پری کا لائٹ پنک کا ڈریس تھا۔تینوں کی ڈریسنگ ہمیشہ سیم ہوتی تھی اور ہوتی بھی کیوں نہ تینوں میں ایک دوسرے کی جان بستی تھی۔۔۔۔۔۔
” میں ایک دم ریڈی ہوں۔”
“چلو جی ناشتہ کر لیں۔ کہیں یونی کے لیے لیٹ نہ ہو جائے۔”دونوں ہال میں داخل ہوئی تو سب کو سلام کیا۔سب نے یکجاں ہو کہ سلام کا جواب دیا۔۔۔۔۔
“ماشاءاللہ میری پیاری سی بیٹیاں آجکل خود ہی جاگ رہی ہیں۔۔”
“جی بلکل دادو جان “
“ویسے کل آپ دونوں کونسا محاذ لڑ کر کے سوئی تھیں۔۔؟ میں دونوں کو جاگا جاگا کر تھک گئی۔مگر مجال ہے۔ جو آپ دونوں ہلے ہو۔”سعدیہ بیگم دونوں کو گھور کر بولیں تھیں۔
تو ایشو نے جھٹ سے کہا “مما جان کل بہت بہت زیادہ تھک گئے تھےاسی لیے۔”
“ہممم ابھی سے یہ ہال ہے آگے کیا ہو گا۔۔۔”سعدیہ بیگم نے دونوں دیکھتے تاسف سے سر ہلایا تھا۔تو مانو کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ ائی تھی۔
دیکھا دادی جان آپ کی بہو ہمیشہ تانے دیتی ہیں۔آپ بھی ذرہ اصلی والی ساس بن کے دیکھیں۔جو سارا دن کام کروتی ہے۔ اور پھر اچھے سے ڈانٹ بھی دیتی ہے۔۔”مانو نے بولتے ہی بتیسی کھولی تھی۔
“نہ کیوں اماں جان میں نے آپکی کونسی بات نہیں مانی” سعدیہ کلس کر بولیں تھیں۔
“ارے ارے مجھے درمیان میں مت لاو۔”کلثوم بیگم جھٹ سے بولیں۔ اور پھر پوتی کی سائڈ لی “ویسے سعدیہ بیٹا ابھی چھوٹی ہے۔ بعد میں سب کر لیں گی۔۔”
“جی بلکل اماں جان کر ہی نہ لیں۔” سعدیہ بیگم طنزیہ لہجے میں بولیں۔
“اچھا بھئی بس کرو”۔مصطفٰی صاحب کی بات پے سب خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ایشو اور مانو اپنی کار میں یونی کی طرف چلی گیں۔ علیان ماہم کو لے کے چلا گیا۔جبران صاحب ، مصطفٰی صاحب اور احمر بھی آفس چلاے گے۔۔۔
مانو اور ایشو یونی پہنچ کر پری کا ویٹ کر رہیں تھیں۔پانچ منٹ گزرے تھے۔ پری ان کو آتی ہوئی دیکھائی دی۔
“شکر ہے میڈم تشریف لائی ہیں۔اب چلو جلدی سے کلاس میں کہیں لیٹ نہ ہو جائیں ورنہ سر فیضان اچھے سے مھیٹی مھیٹی عزت افزائی کرتے ہیں۔۔”
تو وہ مسکراتی ہوئیں کلاس میں داخل ہوئیں اور اپنی ٹیبل پر بیٹھ گئیں۔ کچھ دیر میں سر فیضان کلاس میں داخل ہوئے۔ سب نے مل کر ان کو سلام کیا۔انہوں نے سب سے پہلے پریزینٹیشن لی اور ساتھ ہی ٹیسٹ بھی لیا۔۔۔
ڈئیر سٹوڈنٹس!
“نیکسٹ منتھ سے آپکے فرسٹ سمسٹر کے فائنل ایگزیمسز ہیں۔جو سٹوڈنٹس نیو ایڈمیشن ہیں۔ان کو سارا سیلبس کور کرنا ہے۔میں نے سب سٹوڈنٹس کے گروپ بنائے ہیں۔ کچھ اولڈ سٹوڈنٹس نیو سٹوڈنٹس کے ساتھ ہیں۔بیکاز وہ سٹوڈنٹس نیو کمرز کی ہیلپ کریں گے۔”
سب نے باری باری اپنے گروپ ممبرز سے بات کی۔ مانو،ایشو اور پری کے ساتھ دو سٹوڈنٹس تھے۔
سالار شاہ اور مومل مجتبٰی۔۔۔
مانو پریشانی کے عالم میں یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔ کہ آج بھی دو آنکھوں میں گہری چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
“یار پری اب یہ سالار اور مومل کون ہیں۔”
مانو نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ارے ویٹ جانو میرا گلا کس کام آئے گا۔”مانو نے دانت نکلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“Listen to me Everyone …”
“It’s Me Anmol Rajput….”
“Kindly tell me…”
“Who is Salar Shah and Momal Mujtaba…?”
Because,we are Group Member’s Kindly Raise your Hand
……
“HELLO”
“I am Momal Mujtaba”
جہاں مانو لوگ ٹھہرے ہوئے تھے۔ٹھیک ان کے پیچھے سے ایک پتلی سی آواز آئی۔۔تو تینوں پیچھے موڑ کہ دیکھا۔ ڈارک براون ائیز ، ان پر نظر کا چشمہ،گندمی رنگت، تیکھےنقوش، پتلےگلابی ہونٹ بلکل معصوم سی گڑیا تھی۔ان تینوں کو بہت بھائی تھی۔تینوں نے ہاتھ بڑھا کر سلام کیا۔۔۔
“Nice to meet you…”
“اسلام وعلیکم!”
ابھی مانو مومل سے بات کرتی کے اپنے بلکل قریب سے کسی کی مردانہ آواز سنائی دی۔ تو وہ سے پلٹی۔اور سامنے کھڑے ہوئے۔ شخص کو دیکھا۔
جو کہ کیسی سلطنت کے شہزاے سے کم نہیں تھا۔ گہری چمکیلی کالی آنکھیں۔عنابی لب، درمیانی بیرڈ چھ فٹ سے نکلتا قد، کسرتی سینہ اور خوبصورت سی مسکراہٹ۔۔۔
“I am Salar Shah”
“چاروں نے سلام کا جواب دیا۔”
مانو نے اپنا تعارف کروایا:
“I am Anmol Rajput”
“I am Eshal Rajput”
“I am Parihan Khanzada”
“Salar shah”: Nice to meet you Dear Group member’s ![]()
“MANO”: Same here
“MANO”: Now we are friends
“Salar Shah”: Yes why not…
سالار نے مسکرا کر کہا تھا۔
:کیا ہم باہر چلیں۔مانو بولی کیوں کہ مجھے بہت زبردست قسم کی بھوک لگی ہے…”
“ہاہاہاہاہاہاہا “
“ہاں بلکل بوکھڑ تمھیں کھانے کے علاوہ سوجھتا ہی کیا ہے۔”پری مانو کو گھوری تھی۔ تو مانو نے دانت نکلے۔۔۔۔
“Let’s Go “
سب کینٹین کی طرف چلے گئے اور ایک ٹیبل پر بیٹھے۔ سب نے اپنا اڈر دیا۔پھر باری باری اپنا اور فیملی کا انٹروڈکشن دیا۔
سب باتوں میں مصروف تھے۔
لیکن سلار اپنے سامنے بیٹھی بلی کو دیکھنے میں گم تھا۔کہ اچانک سے مانو نے چٹکی بجائی تو وہ گڑبڑا گیا۔
“ہاں کیا کیا ہوا۔۔۔۔؟”
ہاہاہاہاہاہاہا
سب نے اس کی بات پے قہقہہ لگایا۔وہ تو سامنے بیٹھی بلی کی مسکراہٹ میں ہی کھو گیا۔ اسکی گال میں پڑتا ہوا ڈمپل۔۔۔۔
“اففف” یہ لڑکی تو میری جان لے گئ۔۔”
“اچھا تم دونوں نے پچھلے نوٹس بنائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔؟ “ایشو نے مومل اور سالار سے سوال کیا۔
“ہاں میرے پاس تو سارے نوٹس ہیں مومل نے جوابن کہا تھا۔”میرے بھی ریڈی ہیں تو تم تینوں کاپی کرو لو۔۔۔۔”
“پرفیکٹ” پری نے جواب دیا تھا۔
سب کا آڈر اچکا تھا۔تو سب کھانے میں مصروف ہوچکے تھے۔سالار نے صرف جوس منگویا تھا۔اور جوس پیتے ہوئے۔ اسکی نظریں بار بار بھٹک کر انمول پر جارہی تھی۔اور آنمول مگن سی تھی باتوں میں گم۔۔۔۔
“او نو یونی اوف ہوئے بیس منٹ گزر چکے ہیں۔”مومل پریشانی سے بولی تھی۔
” او ہاں یار چلو پھر گھر چلتے ہیں”۔لیکن مانو نے مومل کی پریشانی کو نوٹ کیا۔
“یار اس میں اتنی پریشانی والی بات نہیں ہے۔ بیس منٹ ہی گزرے ہیں۔” مانو حیران ہوئی تھی مومل کی اتنی سی بات پر
“یار میرے مما اور پاپا تو نہیں ہیں،کہ پک اینڈ ڈراپ کا مسئلہ نہ ہو میں تو یونی بس سے آتی جاتی ہوں۔اب تو وہ کب کی چلی گئی۔۔۔”تو اب میں اکیلی کیسے جاؤں گی۔
“تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔” سالار نے ساتھ چلنے کی پیشکش کی تھی۔
سالار نے کی بات پر مانو فورن سے بولی ” ارے نہیں شاہ تم رہنے دو۔ اس کو میں ڈراپ کر دوں گئ۔” انمول کی بات پر سالار کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ ائی۔۔۔۔
” اییییک
ایک منٹ شاہ کون یہ تو سالار ہے۔۔۔۔”پریہان کو حیرت ہوئی۔
“ااااوووووخدایا !!! لڑکی پوری کی پوری گدھی رہنا۔ سالار کا پورا نام سالار شاہ ہے تو میں نے نیک نیم شاہ رکھ لیا ہے۔سیمپل صحیح ہے نا۔”مانو کی بات سنتے سب مسکرا دیے تھے۔
” ویسے ایسی باتیں تمہارے دماغ میں آ سکتی ہیں۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہا بلکل جناب “
مانو کے انداز پر سب مسکرا دیے اور اللہ حافظ بول کر اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔مانو نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ساتھ پری بیٹھی اور سیٹ بیلٹ باندھی ، پیچھے مومل اور ایشو بیٹھ گئیں۔۔
“چلو گزلز کلمہ شہادت پڑھ لو “پری مومل اور ایشو کو بولی۔تو ایشو نے جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں اور آیت الکرسی اور کلمہ پڑھنے لگی۔اور مومل نے حیران ہو کے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
“مومل حیران مت ہو۔ ابھی پتہ چل جائے گا۔۔”
ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ کار میں چیخوں کی آوازیں تھیں۔
“مانو اللہ پاک کا واسطہ ہے سپیڈ کم کرو ۔نہیں تو گھر کی جگہ جنت جائیں گے۔”ایشو بوکھلاتی ہوئی بولی تھی۔
“انمول۔۔!!!”
“پلیززز پلیززز پلیززز خدا کا واسطہ ہے۔”
اب کی بار مومل نے کہا، مگر مانو تو مزے سے ان کی حالت انجوائے کر رہی تھی۔اور یک دم سے بریک لگائی تھی۔گاڑی میں بیٹھے تین معصوموں کے سر سامنے کی طرف لگے تھے۔ ایشو اور مومل تو بچ گئے۔ لیکن پری جو انمول کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔اس کا سر سامنے ڈیش بورڈ پر لگا۔اور اس کے ماتھے پر لال نشان بن گیا۔۔۔
“اہہہ”
گاڑی میں بیٹھے ان تینوں کی آواز نکلی۔اور تینوں نے خونخوار نظروں سے انمول کو دیکھا۔ان کی نظروں پر مانو کھسیانی سی مسکرا دی۔
“سوری”
انمول نے معصوم شکل بناتے ہوے کہا۔۔۔
“اااافف” اب یہ معصوم شکلیں نہ بناو نہیں کہتے کچھ۔۔”
“امممما مائی بےبیز ۔۔۔۔”
مومل کا ہوسٹل اچکا تھا۔تو وہ گاڑی سے اتری اوراللہ حافظ کرتی چلی گئی۔۔۔
“اب مانو گاڑی کو سکون سے ڈرائیو کرنا۔ نہیں تو میں علی بھئیو کو ابھی کال کرتی ہوں۔”پری نے دھمکی سے نوازا تھا۔
“کیا ہے ذلیل چلا رہی ہوں نہ۔” مانو نے منہ کے کئی زاویہ بگاڑئے۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔ پری کو ڈراپ کیا اور پھر اپنے گھر پہنچنے اور روز کی طرح نماز ادا کی اور سو گئے۔۔
اسی طرح تین ہفتے گزر چکے تھے۔اب انمول،ایشو اور پری کے پیپرز سٹارٹ ہو چکے تھے۔وہ تینوں سر توڑ محنت کر رہے تھے۔سالار اور مومل کی ہیلپ کی وجہ سے ان تینوں نے سارا سیلبس کور کر لیا تھا۔ان پانچوں میں گہری دوستی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد۔۔۔!!!!!
اج ان سب کا آخری پیپر تھا۔اور وہ پانچوں پیپر دے کے ابھی فارغ ہوئے تھے۔
“چلو یار سب آج کہیں باہر کھانا کھاتے ہیں۔۔”پری نے باہر چلنے کی پیشکش کی تھی۔
“ہاں یار میرا بھی بہت دل ہے۔ اج کہیں باہر گھومنے کو بلکل چلتے ہیں۔” مانو نے بھی پری کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
” ہمم اچھا چلیں اج میری طرف سے آپ سب کو ٹریٹ۔۔”
“وہ کیوں بھلا۔”سب کی نظریں خود پر محسوس کر مسکرا کر تفصیل دی تھی۔
“ہاں وہ اس لیے کیوں کہ آج میری برتھ ڈے ہے۔”سالار نے عام سے لہجے میں بتایا تھا۔
“واٹ۔۔!!”
سالار تم اب بتا رہے ہو۔وہ چاروں تقریبن چیخ کے بولیں۔ تو سالار کھسانا سا ہو کہ مسکرا دیا۔۔۔۔
●☆☆☆☆☆☆●
♤”KHF Gang”♤
اپ کا نیا میشن سٹارٹ ہے۔اس میشن میں کچھ اور لوگ بھی ساتھ ہوں گے۔لیکن فل حال میں ان کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔کچھ دن میں میٹنگ ہوگی.تو سب مل لیں گئے۔پاکستان میں ہونے والی سمگلنگ، چاہے وہ بچے ہوں، لڑکیاں ہوں یا پھر ڈرگز ان سب کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔۔۔
“انشاءاللہ” یک لفظی جواب موصول ہوا۔۔۔۔۔
جاری ہے
