Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 33)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 33)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
صبح کے گیارہ بجے انمول کی آنکھ کھلی، تو خود کو ازلان کے حصار میں پایا، جو اوندھے منہ سویا ہوا، انمول کو پیلو کی طرح اپنے حصار کی قید میں رکھے ہوئے تھا۔ اُس مغرور شہزادے کے چہرے پر سکون چھایا تھا۔



دو دن بعد!
آج تینوں کپلز کا پلین برج خلیفہ دیکھنے کا تھا۔ کیوں کہ کل کو ان کی واپسی تھی۔اسی لیئے اج سب نے اچھے گھومنے اور شاپنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
احمر اور پریہان نے بلیو کلر کی جینز شرٹ میچ کر ڈریسنگ کی تھی، ساتھ ہی ایشعال اور عليان براون کلر کی جینز کوٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ میچنگ تھی۔ مگر ایک کپل ایسا تھا۔جو ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ازلان نے سفید پینٹ کے ساتھ بلیو کلر کی شرٹ پہنی تھی۔ اور انمول نے اپنے جسم پر سیاہ رنگ کے پہنا تھا۔بالوں کو کرل کیے وہ خوبصورتی کی اعلی مثال لگ رہی تھی۔ اس سبز شاداب آنکھوں میں چمک تھی۔چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔
پہلے شاپنگ مال آئے تھے۔ اور سب کے لیے گفٹس لے رہے تھے۔
” پری۔۔!!ایشو۔۔!! یہ دیکھو جیکٹ سالار کے لیے کیسی رہے گی۔۔؟” انمول نے پریہان اور ایشعال سے پوچھا تھا۔”ہاں!! مانو بہت اچھی ہے،”ایشعال نے جیکٹ لو دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔مگر انمول کی زبان سے سالار کا نام سنتے ازلان کا موڈ بگڑا تھا۔تو اپنا غصہ ضبط کرتے دوسری طرف کو چلا گیا تھا۔
کہ اچانک ہر طرف گولیوں کی آواز گونجیں تھیں، پورا شاپنگ مال گولیوں کی تھرتھراہٹ سے تھرتھرایا تھا۔ہر سوں افراتفری مچ گی، ازلان ، عليان اور احمر چوکنا ہوئے تھے۔تینوں کی آنکھوں میں سرد مہری چھائی تھی۔وہ اکیلے ہوتے ، تو ٹھیک تھا، مگر ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی ساتھ تھیں۔ ازلان اور عليان نے اپنی گنز نکال کر ، آگے کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ پیچھے احمر نے اپنی گن نکالتے ہوئے مانو ، پری اور ایشو کے چہرے بے تاثر تھے۔
“مانو بچے پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔آپ تینوں باہر چلو میرے ساتھ اور گاڑی میں بیٹھو ” احمر یہاں وہاں دیکھتے ہوئے بولا تھا اور تینوں کو ساتھ لیے باہر کی طرف برھا تھا۔
عليان اور ازلان آگے بڑھے تھے۔ کہ سامنے ہی کچھ نقاب پوش کھڑے تھے، ہتھیار سمیت ان کی طرف بڑھے تھے۔ کہ سامنے سے دو نقاب پوش ان کی طرف ہی ارہے تھے، جس کو دیکھتے ، ازلان نے ان کے ماتھے کا نشانہ لیتے ہوئے ، شوٹ کیا تھا۔عليان ڈیول کے بائیں جانب کھڑے نقاب پوش کو اہنی گولی سے جہنم وصول کروائی تھی۔ ازلان نے جھک کر ان نقاب پوشوں کی گن اٹھائی تھی۔اسی طرح علیان نے بھی دوسری گنز تھامی، اور دونوں الگ الگ سمت برھ گے تھے۔
ازلان مال کی سامنے کی طرف بڑھا تھا۔کہ سامنے پانچ نقاب پوش آتے ہوئے دیکھائی دیے تھے۔کہ وہ اور ازلان پے فائر کرتے، اس سے پہلے ہی ازلان پلر کے پیچھے چھپ گیا۔اور ایک جھٹکے سے باہر نکلتے دو نقاب پوشوں کے دماغ اُڑائے تھے۔وہ ایک شارپ شوٹر تھا۔جس کا نشانہ غلطی سے بھی کبھی ادھر سے ادھر نہ ہوا تھا۔ ماتھے کے بیچو بیچ سوراخ بناتا تھا اور وہاں سے خون اُبل اُبل باہر نکل رہا تھا۔
احمر جو تینوں کو باہر لے کر نکل ایا تھا، پری اور ایشو گاڑی میں بیٹھے ہی تھی۔ تین نقاب پوشوں نے انمول کی کان پٹی پر گن رکھ دی۔انمول گاڑی کا دروازہ بند کرتے مڑی تھی۔احمر نے مجبورً اپنی گن نیچے رکھ دی تھی۔کیوں کہ وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔ان تینوں میں سے ایک نے انمول کو آگے چلنے کو کہا اور خود اس کے پیچھے ہو لیا ابھی چند قدم ہی آگے بڑھے تھے۔ کہ احمر نے اپنے دائیں جانب کھڑے نقاب پوش کو اچھے سے دو گھونسے جڑ دے ساتھ ہی اس ہاتھ میں موجودہ گن کا رخ اپنے بائیں جانب کھڑے نقاب پوش کو جہنم وصول کروائی تھی، اور پہلے والے کو بنا سمجھنے کا موقع دیے ایک جھٹکے سے اس کی گردن توڑ دی تھی۔
مگر گولی کی آواز پر پانچ سے چھ نقاب پوش وہاں آئے تھے۔ اور احمر کو گھیر لیا تھا۔
اس پہلے ازلان باقی نقاب پوشوں کو ڈھیر کرتا، کہ سپیکر سے غفار کی آواز اُبھری تھی۔” ڈیول کنگ تم اور تمہارا ساتھی سرنڈر کر دو !کیوں کہ تمہاری عزیز بیوی ہمارے قبضے میں ہے۔پانچ تک گنتی گنوں گا۔ تب تک اگر سلنڈر نہ کیا، تو پھر اپنی بیوی کی پرچھائی کو بھی ترسو گے۔”
غفار کی استہزاء آواز گونجی تھی، کہ ازلان کی گرفت گن پر سخت ہویی تھی،اور غصے سے دانت پیسے تھے۔ دوسری طرف اپنی بہن کا سن کر علیان کے ہاتھوں میں لرزش ہوئی تھی۔ غصے سے رگیں اُبھرنے لگیں تھیں۔ اخر کو اس کی جان سے پیاری بہن کے بارے میں بول رہے تھے۔
ایک۔۔!!
غفار نے گنتی شروع کی تھی، مگر عليان نے ازلان کو روکا ہوا تھا۔جو غصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔
دو۔۔!!!
تین۔۔!!
“ڈیول کنگ۔۔۔!!خوبصورت سی بیوی کے ساتھ تیرا ساتھی اور دونوں بہنیں بھی ہمارے ہاتھ لگ چکے ہیں۔سلنڈر کر دو ورنہ۔۔۔!!” غفار نے اپنے جملے کو ادھورا چھوڑا تھا۔
چار۔۔!!
اب کی بار نا چاہتے ہوئے بھی، ڈیول اور ریبل نے اپنی گن پھنک کر خود کو سرنڈر کر دیا تھا۔ڈیول کنگ اپنے غصے کو ضبط کیے کھڑا تھا۔شاپنگ مال کے بیچ و بیچ بنے ہال میں تینوں کے ہاتھ پیچھے کمر کی طرف ہتھکڑیایوں میں قید تھے۔اس کے بعد کچھ نقاب پوش نے تینوں کو مارنا شروع کیا تھا۔
” غفار صاحب !! ان لڑکیوں کا کیا کرنا ہے۔۔۔؟! “
ایک نقاب پوش نے غفار سے سوال کیا تھا۔اس نقاب پوش کے سوال پر غفار کے ماسک میں چھپے چہرے پر کمینگی سی مسکراہٹ ائی تھی۔
” ہمم۔۔۔! ایس-وی سر کو پہلے خوش خبری تو دے دوں،اس کے بعد ان کلیوں کا رس چکھتے ہیں۔”
غفار نے کال ملاتے ہی ایس-وی کو خبر دی تھی،جس کے جواب میں ایس-وی نے تینوں لڑکیوں کو ختم کرنے کو کہا تھا۔ڈیول اور اس کے ساتھیوں کو اپنے اڈے پر لانے کو کہا۔غفار نے اپنی جیب سے تین انجکشن نکالے اور ایک ایک کر کے ڈیول، ریبل اور سپائے ہیکر کو لگا دئے۔اور پھر لڑکیوں کی جانب موڑا تھا۔
“سب سے پہلے کس کلی کے حسن کو خراجِ تحسین پیش کروں۔۔۔؟” غفار نے مصنوعی سوچنے کی اداکاری کی تھی۔
“ہاں۔۔!! یہ شہد آنکھوں والی معصوم گڑیا۔۔۔!!” غفار ایشعال کی طرف اشارہ کرتے زوردار قہقہہ لگا گیا تھا۔کہ پورے شاپنگ مال میں قہقہہ کی گونج خاموش دیواروں سے ٹکرا کر ماحول میں وحشت سی پیدا کر رہی تھی۔
غفار نے ہاتھ بڑھا کر ایشعال کو چھونا چاہا تھا،آنکھوں سے حوس ٹپک رہی تھی۔کہ اچانک اُسے ایک جھٹکا لگا تھا۔غفار کی نظر اپنے بازو پر گئی، تو دنگ رے گیا، کیوں کہ اس کا ہاتھ بازو سے الگ ہو چکا تھا۔فضا میں زور دار چیخ بلند ہوئی تھی۔غفار درد سے بلبلا اُٹھا تھا۔ ازلان، عليان اور احمر جہاں دنگ ہوئے تھے۔وہیں دو چہروں ہر طنزیہ مسکراہٹ ائی تھی۔
” ابے کمینے سالے پاک ماں باپ کی حر*ام اولاد ، تو ہاتھ لگائے گا میرے ساتھی کو۔۔۔۔!!!
میرے مارخور کو۔۔!!!! اور میں تیرا ناپاک ہاتھ ان تک پہنچنے دوں گی، نا نا چل نکل لے ادھر سے ورنہ یہ ٹاکسک کیلر تجھ میںاتنا زہر بھرے گی۔ کہ نہ موت آئے گی، نہ سکون ملے گا”
انمول نے نیچے پڑا اپنا کلپ نما چاکو دوبارہ سے بالوں میں لگایا تھا، لال آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی،اور ماحول کو بے حد پراسرار سی بنا رہی تھی۔
” اہہہہ!!! ابے کمینی کتیا تو نے میرا ہاتھ کاٹ دیا، ابے حرام خوروں شکل کیا دیکھ رہے ہو، نوچ لو اس کتیا کو” غفار پھڑپھڑاتے ہوئے غرایا تھا۔
انمول نے اپنے گلے میں ہاتھ پھر کر اپنا لاکٹ نما چھوٹا چاکو نکالا تھا۔ بالوں سے دوبارہ اپنا تیز دھار چاکو نکلا کر اپنے قریب آتے نقاب پوش کی آنکھوں میں گاڑا تھا، جہاں سے خون فورارے کی طرح ابل ابل کر نکلا تھا۔دوسرے چاکو سے دوسرے نقاب پوش کے گلے بیچ و بیچ گاڑا تھا۔
انمول نے ایک چاقو منہ رکھتے روسرا چاقو بلڈی ہنٹر یعنی پریہان کی طرف اچھالا تھا، اپنے قریب آتے نقاب پوش کی ٹانگوں کے درمیان زوردار کک رسد کی تھی۔ کہ اس چیخوں سے پورا شاپنگ مال ہی تھرتھرا رہا تھا، کہ اس ہی جگہ اپنے منہ میں لیا ہوا چاقو پھنکا تھا۔جس سے وہ پل بھر میں تڑپ تڑپ کر نڈھال ہو چکا تھا۔اُس پھڑپھڑاتے شخص کو دیکھ کر،باقیوں نے تھوک نگلآ تھا۔
فائر نے اپنا الیکٹر راڈ سے کئی نقاب پوشوں کو جلا کر بھسم کیا تھا۔مال میں دھواں سا پھلا رہا تھا۔بلڈی ہنٹر نے اپنے پسندیدہ ہتھیار تیز دھار والے کلہاڑے سے، سب کے گلے اتارے تھے۔
ڈیول، ریبل اور سپائے ہیکر تینوں اپنی جگہ اپنی بیویوں کو دھڑا دھڑ لاشیں گراتا دیکھ آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔
” ابے اوئے کمینے سالے ایک باپ کی اولاد ہے تو آجا۔۔۔!! “
ٹاکسک کیلر کی دھاڑ پر غفار نے اپنے درد ناک چیخوں کا گلا گھونٹا تھا۔اور ایک پلر کے پچھے چھپ گیا۔ مگر ہائے رے قسمت کیلر کی چیل جیسی آنکھوں سے یہ منظر چھپا نہ رے سکا تھا۔انمول کے چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ ائی تھی۔ غفار کے سارے آدمی جہنم وصول کر چکے تھے۔ ڈیول اور اس کے ساتھیوں پر انجکشن کا اثر ہونا شروع ہوا تھا۔کہ آہستہ آہستہ دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔کہ وہ لوگ اپنی آنکھیں بند کر گئے تھے۔
مال میں اب ایسی ہولناک سی دل چیر دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی، جیسے یہاں کوئی ذی روح موجود نہ ہو، کیلر نے گھڑی پر ٹائم دیکھا اور بے زایت سے اپنی بھویں سکھڑیں تھیں۔ایشعال اور پریہان کو اشارے سے اپنے شوہروں کو گاڑی میں بیٹھانے کا آڈر دیتی، غفار کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
” اے او خچر کی نسل بس کر اب نکل آ کیوں کہ میں اس گیم سے تھک گئی ہوں، اور۔۔” ابھی انمول بول رہی تھی، کہ غفار کا زمین پر پڑا ہوا موبائل فون بجا تھا، جو کہ پھڑپھڑاتے وقت اس کی جیب سے نیچے گرا تھا۔
انمول نے وہ موبائل فون اُٹھاتے ہوئے سپیکر پر ڈالا تھا۔
” ہیلو کدھر ہو غفار ۔۔۔؟ڈیول کی بیوی کو مت مارنا، اس کو میرے پاس لے آو، اور پھر پاکستان سے مال ڈیلور کرو۔۔۔!!، غفار۔۔!! گونگے ہوگے ہو۔۔؟ ایس-وی فون سے ہی دھاڑا تھا۔
” زہے نصیب زہے نصیب۔۔۔!! کیسے ہو سنیک ونم ۔۔!! یار کب اپنا زہریلا تھوبڑا دیکھا رہے ہو، قسم سے میں تو تھک گی، اس چھوہے بلی والے کھیل سے ، چلو ذرہ سامنے ٹپکو تاکہ ٹکر کا مقابلہ تو ہو ” انمول نے سنیک ونم کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی بےزایت کا اظہار کیا تھا۔
“کو۔کون ہو تم۔۔!!”ایس-وی نے فون سے اُبھرتی آواز سے ،بے جاں خوف محسوس کیا تھا۔
“موت۔۔!!! تیری موت ہوں سالے بوڈھے کھوسٹ۔۔۔!!! “
انمول کی غراہٹ سے پورا مال گونج اٹھا تھا، ایس-وی کے چہرے پر سے ہوائیاں اُڑنے لگئیں تھیں۔
‘دنیا مجھے کیلر کے نام سے جانتی ہے،”انمول کی آنکھیں سرخ انگارا تھیں۔
“وہ وحشی۔۔!!” ایس-وی کی ہونٹوں سے سرگوشی نما آواز میں یہ لفظ ادا ہوئے تھے۔کہ انمول کہ چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ اُبھری تھی۔
“ہاں وہی کیلر۔۔!! ٹاکسک کیلر۔۔۔!”
انمول نے اپنے چاقو سے خون صاف کرتے ہوئے، دوبارہ اپنے گلے میں ڈالا تھا۔
“ابے کمینے۔۔۔! تیری تباہی شروع ،اپنی اُلٹی گنتی شروع کر دے، کیوں کہ تیرے سارے ساتھی، میرے پاس ہیں،اب بچہ تو اور وہ لعنتی شیخ۔۔!!! آپنی قبر کی تیاری پکڑو، کیوں کہ میجر بلال احمد غفار۔۔۔!!جہنم وصول کر چکا ہے۔پاکستان سے غداری کی سزا موت ہے فقط موت۔۔!!!”
موت لفظ پر ایس_وی نے کھٹ سے فون بند کیا تھا۔غفار جو کب سے چھپا خاموشی سے ٹھہرا تھا، اپنے اصل نام پر دنگ رہے گیا۔ایشعال اور پریہان نے کام پورا ہونے کا اشارہ کیا،تو انمول نے جیب سے چھوٹی سی سوئی نکالی تھی، اور پلر کے پار چھپے غفار کی گردن میں چبھو دی۔
پانچ منٹ میں پورا مال خالی ہوگیا تھا۔ جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو، اور وہ سفاک ٹاکسک کیلر بھی دھوائے کی مانند، ہوا ہو چکا تھا۔



” اسلام و علیکم۔۔!! “
سالار نے انمول کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے سعدیہ بیگم کو سلام کیا تھا۔ سعدیہ بیگم نے سالار کو اندر حال کی طرف داخل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
” وعلیکم السلام۔۔۔!! کیسے ہو سالار بیٹا اور کہاں گم ہو، اتنے عرصے سے دیکھائی نہیں دے رہے۔۔۔؟” سعدیہ بیگم نے سلام کے بعد سالار سے طبیعت پوچھی اور ساتھ ہی اپنی اس کی غیر موجودگی پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔۔۔
“الحمداللہ میں ٹھیک ہوں آنٹی، اپ کیسی ہیں۔۔؟گھر میں باقی سب کیسے ہیں۔۔۔؟بس آنٹی کیا بتاؤں کچھ مصروفیات تھیں۔” سالار نے سرسری سا بتایا تھا۔
“اللہ پاک کا شکر ہے بیٹا سب ٹھیک ہیں،اچھا کیا لو گے چائے یا ٹھنڈا ۔۔۔؟” سعدیہ بیگم نے سالار سے چائے پانی کا پوچھا تھا۔
” کچھ نہیں آنٹی بس آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔” سعدیہ بیگم کو سالار کچھ پریشان اور سنجیدہ سا لگا تھا۔
رات کے سائے گہرے ہورہے تھے۔ “جی جی بیٹا بولو میں سن رہیں ہوں۔۔!! “سالار نے ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کی تھی۔ اور اپنی بات کا آغاز کیا تھا۔
” آنٹی جیسا کہ آپ جانتی ہیں، کہ میری فیملی میں کوئی نہیں ہے،ماں تو اس دنیا سے چلی گی، تو باپ نے مجھے تنہا چھوڑ کر ، سیاست سمبھال لی، میں آپ کو اپنی ماں کی جگہ سمجھتا ہوں، اور انکل کو اپنے باپ کی جگہ، تو میں مومل سے شادی کرنا چاہتا ہوں،بس سادگی سے نکاح کا فنگشن چاہتا ہوں۔ تو کیا آپ لوگ نکاح کی تیاریاں دیکھ لیں گے۔”
سالار کے جھکے سر کو سعدیہ بیگم اور آسیہ بیگم نے اوپر کی طرف اُٹھایا تھا۔آسیہ بیگم تو اپنے پوتوں کی طرح سالار اور مومل کو پیار کرتیں تھیں۔سالار کی آنکھوں میں مایوسی کی چمک تھی۔
سالار نے ضبط سے آنسوں کا درد بھرا گولا اپنے گلے کے اندر اُنڈیلا تھا۔سالار کو اس طرح دیکھ کر وہ دونوں بھی افسردہ سی ہوئیں تھیں۔
“ارے میرا ُپتر ہم تیرا نکاح دھوم دھام سے کریں گے۔” دادی جان نے سالار کے سر پیار بھرا بوسا دیا تھا۔
” بہت شکریہ دادی جان !! آپکے سب کے بے انتہا پیار کا، باقی سارے اخراجات میں خود اُٹھاوں گا۔کیوں۔۔۔” سالار ابھی بول رہا تھا۔ کہ جبران صاحب اور مصطفٰی صاحب گھر میں داخل ہوتے ہوئے سالار پر ہلکے سے بھڑکے تھے۔
“کیوں برخوردار۔۔!! ہمیں اتنا گیا گزرا سمجھا ہے۔۔۔؟اللہ پاک کا دیا ہوا، سب کچھ ہے، اگر اپنا مانا ہی ہے،تو پوری طرح سے سمجھو، تم بھی ہمیں ہمارے پوتوں کی طرح پیارے ہو، اور مومل بیٹی تو ، ہے ہی ہماری گڑیا، تو بس پرسوں رکھتے ہیں نکاح ، کل تک انمول اور ازلان باقی سب بھی آجائیں گے۔تو تمہارے نکاح کے اگلے دن داریان اور تمہارا ولیمہ بھی کر دیں گے۔”
مصطفٰی صاحب نے سارا فیصلہ خود کر لیا تھا۔ دوسری جانب جبران صاحب نے بھی باپ کی بات میں لبیک کہا تھا۔ مگر سالار کی سوئی تو انمول پر رکی تھی، کہ وہ کہاں سے واپسی آرہی ہے،کیا وہ اپنے شاہ کو پل بھر میں بھول گی تھی۔۔!!
“ویسے دادو جان انمول اور باقی سب کہاں گے ہیں۔۔۔۔؟” سالار نے نا چاہتے ہوئے بھی دل میں آیا سوال پوچھ ڈالا تھا۔
ارے بیٹا تمہیں نہیں معلوم وہ لوگ اپنے ہنی مون پر گئے ہیں، کل تک واپسی یے۔۔”
مصطفٰی صاحب کے جواب پر سالار کو اپنا دم گھٹتا سا محسوس ہوا تھا،اس لیے جلدی سے سب کا اللہ حافظ بولتا راجپوت ہاؤس سے باہر نکل آیا تھا۔
باہر چلتی تیز فضاء میں بھی سالار کو سانس نہیں آرہی تھی،غصے میں اپنی گاڑی کی بونٹ پر دو سے تین موقے رسد کیے تھے۔گاڑی میں بیٹھا تھا، کہ اچانک اس کا فون بجا تھا۔ کہ سالار نے جیب سے فون نکالا لاتعد کالز میسجز تھے، انمول پری اور ایشو کے،سالار کو اپنے غائب دماغی پر شدید غصہ آیا تھا، مگر ہیڈ کواٹر سے میسج دیکھا سالار نے وہاں کا رخ کیا تھا۔



ازلان، عليان اور احمر کو ہوش آیا، تو خود ایک محل نما کمرے میں پایا تھا۔جہاں وہ تینوں ایک جہازی سائز بیٹ پر سوئے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں وارث صاحب کمرے میں داخل ہوئے تھے۔اور تینوں کو فرش ہو کے باہر میٹنگ میں آنے کو کہا تھا۔تینوں حال میں موجودہ صوفے پر بیٹھے تھے۔کہ داخلی دروازے سے سالار آتا ہوا دیکھائی دیا تھا۔سبھی کے تاثرات بلکل سنجیدہ سے تھے۔
ادھر آ کر سب کو بےجا پراسراریت سی محسوس ہوئی ،اس سرمائی رنگ کے بنے محل میں عجب سی وحشت پھیلی تھی، سب وقت دیکھ رہے تھے۔اس کے دیے گے وقت میں،صرف ایک منٹ باقی تھا۔مگر ابھی تک وہ خود غائب تھا۔کہ سامنے سے شیرو دھاڑتا ہوا، نیچے سے اوپر سامنے کی طرف آتے ، سیڑھیوں سے اوپر کی طرف آرہا تھا، اور اس کے ساتھ کسی کے مضبوط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔
وہ بڑی کروفر سے چلتی آرہی تھی، سبز آنکھوں میں چمکتی وحشت بھرے ، ماحول کو ہولناک بنا رہی تھی۔خود کو مکمل طور پر کالے رنگ میں ڈھالے وہ کوئی کالی خوفناک گھٹا کی مانند سب کو ایک بار پھر دنگ کر چکی تھی۔ آخر کیا تھی، وہ لڑکی اتنی سفاک ،اتنی زہریلی، جس کی سبز آنکھوں میں ہمیشہ شرارت نظر آتی تھی،آج ان سے سبز آنکھوں میں کاجل کی لکیریں، اس کی سفاکی کی گواہی دے رہیں تھیں،اس کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔ چاروں ایجنٹس کو، اپنی مانو بلی سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
اُس موت کی دیوی کے پیچھے، ہوبہو اس کے ساتھی خود کو مکمل کالے رنگ میں ڈھالے ہوئے، بلکل درندے لگ رہے تھے۔وہ اپنی نشست پر بیٹھتی، اپنے شیرہ کو بیٹھا گئی تھی،اس کے دائیں بائیں اس کے ساتھیوں نے اپنی جگہ سنبھلی تھی۔
سالار آنکھوں میں فقط حیرت ہی حیرت تھی۔جس دنیا وحشی کیلر کے نام سے جانتی تھی۔ وہ کوئی اور نہیں اس اپنی سبز آنکھوں والی بلی تھی، اور اس کے ساتھ بھی اس ہی کے دوست تھے۔جس کی آنکھوں سے سالار عشق کرتا تھا۔ وہاں اب سرخ لاوا بھڑک رہا تھا۔وہ عجیب تھی، بہت ہی عجیب ، اُس کو سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔
“سر اپ نے کہا تھا، کہ ڈیول اور اس کے ساتھی سب سنبھال لیں گے۔مگر انہوں نے تو اپنی بیویوں کی خاطر خود کو سرنڈر کر دیا، مجھے خاصی مایوسی ہوئی ہے، مسٹر ڈیول سے، اُن کو چاہیے تھا، کہ اپنی بیویوں کی قربانی دے دیتے، اپنے ملک کی خاطر، مگر انہوں نے وطن کی ساتھ خود غرضی کی، تو اب کیا کیا جائے۔۔۔؟”
انمول کی اس طرح کی لاتعلقی پر چاروں ہی دنگ رہے گے۔ کہ آخر ڈیول کی بیوی وہ خود ہی تھی، اور خود کے بار میں وہ خود ایسا بول رہی تھی، یہ وہ ان کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتے، کتنی سفاک تھی وہ، ان چاروں کو جھرجھری سی آئی تھی۔
” اور مسٹر ایول مونسٹر تو اپنے کام کے ساتھ سیریس ہی نہیں ہیں، انتے وقت سے خود کو اپنی ڈیوٹی سے لاتعلق کر لیا تھا۔تو کیا ان کو مشن سے نکال دیا جائے۔۔۔؟”
ٹاکسک کیلر کی بات پر چاروں نے غصے سے جبڑے بھیجنے تھے۔
“تم ہوتی کون۔۔۔”ڈیول کنگ ابھی غصے سے ڈھاڑا ہی تھی، کہ ٹاکسک کیلر نے فورن سے ایک زوردار موقہ،ڈیول کے منہ پر جڑ دیا، کہ وہ اچانک افتادہ پر صوفے پے جا گر، اور ٹاکسک کیلر نے اپنا جوتی میں مقید پاؤں ڈیول کی ٹانگ پر رکھتے ہوئے، ذرہ اس کی طرف جھکی تھی۔کہ اس کے انداز سے ہی پراسراریت سی پھوٹ رہی تھی۔
” مسڑ ڈیول کنگ۔۔!! آج تو میرے سامنے بولنے کی غلطی کر دی، دوبارہ اگر چونچ بھی کھولی ، تو یہ خوبصورت سا چہرہ کسی کے دیکھنے لائق نہیں بچے گا۔سو بی کیر فل۔۔۔۔”
کیلر نے ڈیول کی گال کو ہلکے سے تھپ تھپاتے ہوئے، کسی بچے کی مانند بچکارا تھا۔کہ ازلان کا چہرہ انمول کی بات ہر اہانت سے سرخ ہوگیا تھا۔مگر علیان کے ہاتھ دبانے پر خاموشی اختیار کر لی۔
” وارث سر ذرہ ان کو میرے رولز اپنے طریقے سے اچھی طرح یاد کروا دیں، ورنہ اگر تو میں نے ان کو سمجھے ،تو ہوسکتا ہے میرا انداز ان کو پسند اور سمجھ نہ ائے۔۔”انمول نے سب کو طنزیہ پراسرار سی مسکراہٹ اچھالی تھی۔
تو صوفے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے بیٹھے میجر وارث نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” ٹیم ممبرز ! آپ سب کی ہیڈ کیلر ہے، اور اس کے رولز سب کو لازمی فالو کرنے ہوں گے، کیوں کہ وہ بھی آپکی طرح اپنے ملک کی بہترین ماخوروں میں شامل ہے، یہ یوں کہنا ہوگا، شاید۔۔۔!! کہ ان سے اور ان کے ساتھیوں جیسے مارخور آج تک نہیں دیکھے، اپنے ملک کے لیے پاگل، بہت کم وقت اور عمر میں انہوں نے اپنا کام دکھایا ہے، اور ملک کے غداروں کو عبرت ناک موت دی ہے،۔۔۔
کیوں کہ کیلر کی ڈکشنری میں غداری کی ایک ہی سزا ہے، موت۔۔!! بھیانک ناک موت، اس غدار کو صفا اے ہستی سے مٹ دیتی ہے۔اسی لیے پاکستان اپنے ایسے ماخوروں پر فخرکرتا ہے، اور دشمن خوف سے تھر تھر کانپتا ہے”
جاری ہے۔۔
