Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 05)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 05)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
“رات کی تاریکی میں دو سائے نکلے اور اندھیری رات کی سیاہی میں گم ہو گئے۔
” اااےے چلو بھائی۔۔۔۔!!
جلدی کرو یہ تینوں ٹرک آج یہاں سے نکل جانے چاہئیں اور اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔ورنہ بہت مسئلہ ہو جائے گا۔ اج کل ویسے بھی سنا ہے۔ ملک کے محافظ اور حب الوطنی کتے جاگ اٹھے ہیں۔چلو چلو جلدی کرو۔” ایک ٹرک ڈرائیور باقیوں کو جھڑک رہا تھا۔
“ہاں ہاں بس جا رہے ہیں۔”ابھی ٹرک آدھے راستے ہی گئے تھے۔چررررررر کی آواز پر ٹرک جھٹکا کھا کر رکے تھے۔تینوں ڈرائیور نیچے اترے تھے۔
” یار یہ گاڑیوں کو کیا ہو گیا۔۔۔۔؟”ان تینوں ٹرک ڈرائیوروں میں سے ایک نے پوچھا،
“پتہ نہیں ایک ساتھ تینوں گاڑیاں کیسے پنچر ہو سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟” دوسرا ڈرائیور پریشانی کے عالم میں بولا تھا۔
“مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے۔چلو بھاگ چلتے ہیں۔”پہلا ڈرائیور ڈرتے ہوئے بولا تھا۔
“اے تو پاگل ہے۔ ڈرپوک انسان چپ کر ، یہ ٹرک اپنی منزل کو جیسے ہی پہنچ جائیں۔ویسے ہی ہم سب مالا مال ہو جائیں گے۔۔۔”
وہ لوگ ابھی باتیں کر رہے تھے۔ان تینوں کو اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔تو وہ تینوں پیچھے پلٹے تھے۔مگر پیچھے موڑتے ہی ، ان تینوں کے جسم میں سنسنی سی دور گی۔
ان سامنے تین کالے سائے کھڑے تھے۔اندھیری رات میں وہ تینوں گہری کالی رات کا ہی حصہ لگ رہے تھے۔اُن تینوں کے چہروں پر سردیوں کے تھرتھرا دینے والی سردی میں بھی پسینے کی بوندیں چمکیں تھیں۔
بلیک لانگ کوٹ ،ہاتھوں میں بلیک گلوز، چہرے پر بلیک ماسک ان تینوں نے مکمل خود کو چھپایا ہوا تھا۔سر پر جیکٹ کی ہوڈی پہنے ہوئے تھے۔۔۔
“کون ہو تم کیاچاہیے۔۔۔!!!”
ان تینوں سایوں کو دیکھ کر ٹرک ڈرائیورز نے ڈرتے کپکپتے ہوئے پوچھا تھا۔ جن کو دیکھ ایک عجیب سی وحشت پیدا ہو رہی تھی۔
“”موت””
ایک سائے کی گمبھیر روعب دار آواز سنائی دی۔تو ان تینوں ڈرائیوروں کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہے گیا۔
آن تینوں ڈرائیورز میں سے ایک نے ذرہ سی چلاکی دیکھائی۔ اور جلدی سے اپنے پاؤں میں چھپے چاقو کو نکالا۔اور ان تین سایوں کو ڈرانا چاہا۔۔
نانانا۔۔!!!
“اس کھلونے سے ڈرا رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا”
“ہم تو ڈر گئے۔”
ان تینوں نے ڈرنے کی اداکاری کی اور کچھ دیر بعد تینوں کا مصنوعی قہقہہ بلند ہوا۔پلک جھپکنے کی دیر تھی۔ان ٹرک ڈرائیورز کو زمین بوس کیا۔
“جس ملک میں پیدا ہوتے ہیں، رہتے ہیں، کھاتے ہیں اسی کو تباہ و برباد کرنے چلے ہیں۔ایک سایہ غصہ سے پھنکارہ تھا۔
لیکن یہ زہریلے سانپ نہیں جانتے۔ اس ملک کے محافظ اور سانپوں کو کچل کر مارنے واے، مارخور آج بھی زندہ ہیں۔جو ان کو بنا چبائے ہی نگل جائیں گے۔یا پھر ان کا ایسا حال کریں گئے۔کہ ان کی سات نسلیں یاد رکھیں گئ۔”
وہ تینوں سائے آگے بڑھے اور ٹرکوں کی چھان بین کرنے لگے۔پہلے ٹرک کو کھولا تو عجیب سی بدبو ان تینوں کے نتھوں سے ٹکرائی تھی۔اس ٹرک میں بیس سے پچیس بڑے باکسز تھے۔اور ان میں سے سفید رنگ کا دھواں نکل رہا تھا۔۔۔۔
ان تینوں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر ایک باکس کھولا تو تینوں سائے دنگ رے گے۔کیوں کہ اُس باکس میں انسانی دل تھا۔ اور دھڑک رہا تھا۔اسی طرح کچھ اور باکسز کو اوپن کیا۔ تو کسی میں گردے تھے. تو کسی میں آنکھیں۔یہ سب دیکھ کے ان تینوں نے غصہ سے جبڑے بھیجنے لیے۔
“جلدی سے باقی کے دو ٹرک چیک کرو۔کیوں کہ ٹرک نہ پہنچے پر باقی کہ سانپ بھی ابھی آتے ہی ہوں گے۔”
” Hurry UP “
“Okay killer”
“Fire “
“تم اس میں چیک کرو”
اور
“Hunter”
“تم لاسٹ والے میں چیک کرو۔”
“ہممم”
اوکے بولتے ہی اس کہ ساتھیوں نے فورن اس کی بات پر عمل کیا۔اس میں ڈرگز اور کچھ دیڈ باڈیز ہیں۔جو کہ بہت بری حالت میں ہیں۔شاید ان ہی باڈیز کے پارٹس ہیں۔جو کے پہلے ٹرک کے باکسز میں ہیں۔۔۔
“ہممم”
“اوکے چلو لاسٹ والے میں چیک کرتے ہیں۔ہنٹر کو کیا ملا ہے دیکھتے ہیں۔”
” Let’s Go “
“تینوں نے مل کر ٹرک کی تلاشی لی۔اور جو ان تینوں کو دیکھنے کو ملا تو تینوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔دماغ کی رگیں تن گئیں تھیں۔۔۔
پندرہ سے بیس کی تعداد میں چھوٹے بچے تھے۔جن کی عمر تقریبن سات سے آٹھ سال کے درمیان تھی۔ساتھ آٹھ سے دس لڑکیاں تھیں۔ان معصوموں کی حالت دیکھ کر تینوں کو بہت افسوس ہوا تھا۔
“ان سب کو جلد سے جلد ہاسپٹل بھیجنا ہے۔”
“اوکے کیلر”
ان تینوں میں سے ایک نے اپنا فون نکالا اور کسی کو کال کی۔اور پھر ٹرک سے اتر کر جھاڑیوں میں چھپ گئے۔کچھ ہی منٹ میں ایمبولینس اور پولیس کی گاڑی آتی دیکھئ دی۔تو وہ تینوں سائے اندھیری رات میں کہیں گم سے ہوگئے تھے۔”





“ڈیول تم کہاں جارہے ہو۔۔۔؟ابھی اوپر سے تمہاری بات کا آپرول نہیں آیا۔ تم ایسے کیسے۔۔!!اپنی مرضی کرسکتے ہو۔۔۔۔؟”
“بس۔۔۔۔!!!!! میں کیسی کے حکم کا غلام نہیں ہوں۔میں ڈیول کنگ ہوں”
“یارررر۔۔۔!!!
تم بات کو سمجھتے کیوں نہیں۔ کسی دن تمہیں تمہاری یہی خودسری اور غصہ کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔”
“ہو گیا تیرا اب جا میرا دماغ خراب مت کر”



صبح کی نماز کے وقت سب اٹھے۔نماز ادا کی اور دوبارہ سے سو گئے۔ کیوں کہ آج اتوار تھا۔ تو سب اپنی مرضی سے اٹھتے تھے۔گيارہ بجے کا وقت تھا۔تقریبن سب ہی جاگ چکے تھے۔
سیوائے ایک انسان کے جو کہ ہمیشہ مُردوں سے شرط لگاتی تھی۔اور اشعال بیچاری اس کو جگانے میں ہی آدھی ہو جاتی۔اب کا بھی کچھ اسی طرح ہی پچھلے ایک گھنٹے سے ایشو مانو کو جاگا رہی تھی۔
لیکن وہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ایشو اب تھک ہار کے صوفے پر بیٹھ گئی۔دس منٹ بعد اس کے دماغ میں ایک شرارت آئی۔اور اشعال نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
اس نے سائڈ دراز سے پانی کا جگ اٹھایا اور مانو کا کمفرٹ اس کے چہرے پر سے ہٹاتے ہی سارا پانی اس پر اُلٹ دیا۔اور پھر جلدی سے کمرے سے باہر دوڑ لگا دی۔
“اہہہہ”
“کوئی بچاو بچاو سیلاب آگیا سیلاب آگیا۔”مانو ہڑبڑا کے اٹھی اور جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی۔۔
“ایشو۔۔!!! میں تمہارا خون پئ جاؤں گی” انمول نے کمرے سے ہی اونچی آواز میں ہانک لگائی تھی۔
کمرے کے باہر سے مانو کو ایشو کی کہی کہی کی آواز سنائی دی تو دانت پیستی اٹھی تھی۔لیکن تب تک اشعال وہاں سے رفو چکر ہو چکی تھی۔ایشو تمہیں تو میں دیکھ لوں گی۔ پھر فریش ہونے کے غرض سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
“کچھ دیر میں تیار ہو کے سب کے ساتھ ناشتہ کیا۔اور ہال میں گپ شپ کرنے بیٹھ گئی۔لیکن اشعال سے اپنا بدلا وہ نہیں بھولی تھی۔
“اوکے دادو بابا میں روم میں جا رہی ہوں۔ کل کو یونی جانا ہے۔ اچھا آیشو تم بھی کام کر کے ذرہ اوپر آو” مانو ایشعال کو بولتی اوپر کمرے میں چلئ گئی۔
“ایشو آتے ہوئے اپنے انگلش کے نوٹس لیتی انا”۔مانو نے اوپر سے ہانک لگائی۔”اوکے” ایشو نے بھی وہی سے اونچی آواز میں جواب دیا۔کچھ دیر بعد ایشعال بھی اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا۔ کہ اس پر ٹھنڈے برف پانی کی برسات ہوئی اور اس کے ساتھ پانی میں کچھ تھا۔ ڈھیر ساری چھپکلیاں، کچھ اپنے اوپر دیکھ کر ایشو کی تو جان لبوں پر آئی تھی۔اس چیخوں سے پورے گھر میں زلزلے کے آنے کے بعد والی حالت تھی۔
“مما بابا دادی دادو بھیا کوئی مجھے۔”
“بچائیں۔۔۔”
“بچائیں۔۔۔”
“بچائیں۔۔۔”
“مماااااا پلیززز۔۔۔!!!”
“ورنہ یہ چ۔چھ۔چھپکلیاں مجھے کچا کھا جائیں گی۔بچاو بچاو مما مما۔۔۔۔!!!”
ایشو کی چیخوں پر سب ہی اوپر کی طرف بھاگے۔ لیکن اس کی حالت اور باتیں سن کر سب کا فلک شگاف قہقہہ لگایا۔اور مانو دوسری طرف پیٹ پکڑ کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔
“ایشعال بیٹا البتہ آپ کھا سکتی ہیں۔ ان کو کچا یہ اپکو نہیں۔” مصطفٰی صاحب کی بات پر ایک بار پھر سب ہنس دیے تھے۔
” ہاہاہا۔۔۔۔!!! “
“دادوووووووووووو” مصطفٰی صاحب کی بات پر ایشو نے منہ بسور لیا تھا۔
“مس ایشعال راجپوت انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا اوکے۔۔۔۔۔”
“ایشو ڈارلنگ وہ دیکھو چھپکلیاں ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔”انمول نے ایک بار پھر ایشو کو ڈرایا تھا۔
“چلو ایشو بیٹا آپ چینج کر لو۔ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی”
اس ذلیل نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تمہیں گیلا کرنے کی۔سعدیہ بیگم نے مانو کی جانب اشارہ کر تے ہوئے کہا تھا۔
“جی مما جان میں جاتی ہوں۔۔”
“ہاں جلدی آنا پھر بات کرنی ہیں۔مانو نے دانت نکلتے ہوئے کہا تھا۔ مگر انمول کی بات پر ایشو نے خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ایشو چینج کر کے مانو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ “یار ایشو میں کیا سوچ رہی تھی۔ کہ کچھ دنوں تک پری کا برتھ ڈے ہے۔ کیوں نہ ہم اس کو سرپرائز دیں۔”
“ہاں یار بول تو تم ٹھیک رہی ہو۔”
“چلو میں کل داری سے بات کرتی ہوں۔ وہ بھی ہماری تھوڑی سی ہلپ کر دے گا۔” ایشعال نے بھی مانو کی بات پر استفادہ کیا تھا۔ مانو شام ہونے والی ہے ہم نہ مووی دیکھیں ہیں۔پٹھان نیو ائی ہے وہی دیکھتے ہیں۔
“ہمم چلو” تو دونوں ٹی-وی لانچ کی طرف چلے گے۔






رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ خانزادہ مینشن میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ کیوں کہ سب ہی اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔رات کے اندھیرے میں کوئی گھر میں داخل ہوا اور خاموشی سے آوپر کسی کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
صبح سات بجے سب ہی گھر والے جاگ چکے تھے۔دانیہ بیگم ناشتہ بنا رہیں تھیں۔ناشتہ بن جانے کے بعد انہوں نے سب کو ناشتہ کرنے کی آواز لگائی۔اجائیں ٹیبل پر ناشتہ ریڈی ہے۔اور پری بیٹا ذرہ آپ اپنے فون سے ازلان کو کال کریں۔میں کب سے ٹرائے کر رہی ہوں، فون کال لگ ہی نہیں رہی تھی۔
“مما جانی بھائی شاید بیزی ہوں یا سو گئے ہوں گے۔آپ کو تو پتہ ہے۔ یہاں اور وہاں کے وقت میں بہت فرق ہے۔آپ پریشان نہیں ہوں۔”دانیہ بیگم اور پری دونوں ہی باتوں میں مصروف تھے۔۔
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے۔شخص کو نہ دیکھ پائے۔ اس شخص نے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور خود جا کے پری اور دانیہ بیگم کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
“یہ کیا کون ہے۔۔۔۔۔؟”
“پری بیٹا اور دانیہ بیگم بتائیں کون ہے آپ کے پیچھے” حسن صاحب بولے تھے۔
“بابا جانی یہ آپ کا نکما داریاں ہے اور کون ہو سکتا ہے۔ ویسے داری صبح صبح کون سی مووی دیکھ کے ارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟”
“نہیں یہ میرا ازلان ہے” دانیہ بیگم مسکرا کر بولیں۔۔ “مماجانی لگتا ہے۔آپ پریشان ہیں اسی لیے لگ رہا ہے آپ کو”
“ورنہ بھائی یہاں پاکستان میں ہی نہیں ہیں۔”
پری اور اپنی ماں کی بات سن کے ازلان کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ ائی تھی۔
ازلان پری کی طرف جھک کر اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولا تھا۔” پری گڑیا !!! ماں اپنے بچے کو دور سے ہی پہچان لیتی ہے۔” ازلان نے بولتے ہی ماں اور بہن کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دیا۔
“ازلان بھیو !!!! آپ کب ائے۔۔۔۔۔؟”
پری نے تقریبن چیخ کر کہا تھا اور جھٹ سے ازلان کے گلے لگی تھی۔ازلان نے بھی پری کے سر پر پیار بھرا بوسا دیا تھا۔اور پھر دانیہ بیگم کی طرف متوجہ ہوا۔
دانیہ بیگم نے ازلان کو گلے سے لگایا تھا۔ازلان نے بھی ماں کو سر پے بوسا دیا۔” میرا بیٹا میرا شہزادہ میں نے بہت میس کیا تمہیں ، پہلے بتاتے کے آ رے ہو میں ناشتے میں تمہارے لیے سب تمہاری پسند کا بناتی۔۔۔۔۔”
“مما جان آپ نے جو بھی بنایا ہے۔ وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ ” دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے کے کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے۔ کہ ابراہیم صاحب کی آواز سنائی دی تھی۔
” ارے برخوردار اگر ماں بیٹے کا پیار ہو گیا ہو تو ہم سب سے بھی مل لو ہم بھی رشتے میں کچھ لگتے ہیں۔”
ارے میرے پیارے سے دادو اور دادی جان آپ دونوں کو بہت زیادہ میس کیا۔تو ازلان ان کی طرف بڑھتا باری باری دونوں کو گلے سے لگا گیا تھا۔اور پھر حسن صاحب کو بھی گلے ملا۔
“میں بھی کچھ لگتا ہوں۔”داریاں نے معصوم سی شکل بنائی۔
“ہاں ہاں میرا بچہ روتے نہیں ہیں۔اجا لگ جا گلے”۔
صرف داری کیوں میں بھی پری بھی ” جھٹ سے بھاگی اور ان کے گلے لگی تھی۔دونوں چھوٹے اپنے بڑے بھائی کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھے۔ یہ دیکھ سب مسکرا دیے اور سب نے دل میں ہی تینوں کی نظر اتارئی۔
“چلو بچوں باتیں بہت ہوگئیں،اب جلدی سے ناشتہ کر لو ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔”
جاری ہے۔۔
