Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 08)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 08)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
“نہ نہیں نہیں تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔ مجھے بخش دو۔بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔” کرسی پر بندھا شخص پھڑپھڑایا تھا۔اس سائے نے ایک باکس میں سے سبز رنگ کا بچھو نکلا اور کرسی پر بندھے ہوئے شخص کے اوپر رکھا۔
اس بچھو نے بندھے ہوئے شخص کے ہاتھ پر سے ڈنک مارنا شروع کیا۔ جہاں جہاں بچھو ڈنک مار رہا تھا۔ وہاں وہاں سے جسم کی ساری جلد لال ہوتی جارہی تھی۔۔
“اہہ اس کو ہٹاؤ اہ خدارا اس کو ہٹاؤ، اہہہ “
اس شخص کی چیخیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں۔
“ہممم ٹھیک ہے۔”
سائے نے احسان کرنے والے انداز میں جواب دیا۔۔
کالے سائے نے بچھو کو اُٹھا کر ڈبے میں ڈالا اور اس شخص کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔
“ہمم تو تم اپنے اس منہ کو تکلیف دو اور مجھے بتاؤ کہ تمہارے اوپر کون بیٹھا ہے۔ کس کے لیئے کام کرتے ہو، کون ہے تمہارا بوس۔۔۔۔!! “
سائے نے برفیلے لہجے میں سوال کیا۔ جس پر سامنے بیٹھے شخص نے نظریں چراتے ہوئے بولا
“م۔ مم۔ میں خود ہوں۔ سب سے اوپر اور کوئی نہیں میں خود ہوں با بادشاہ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا”
سائے نے استہزاء انداز میں قہقہہ لگایا۔ ” بادشاہ نہیں بلال اعظم اور مجھے جھوٹ سے نفرت ہے۔ بلکہ سخت چڑ ہے۔
اس لیے تمہارے جھوٹ پر چھوٹی سی سزا تو بنتی ہے۔”
اُس سائے نے ایک اور ڈبا نکالا اور اس نے بندھے ہوئے شخص کے سامنے کیا۔ یہ ایک خاص قسم کی مکڑی تھی۔” اس کو ٹیرنٹولا(
𝓉𝒶𝓇𝒶𝓃𝓉𝓊𝓁𝒶 𝓈𝓅𝒾𝒹𝑒𝓇 ) کہتے ہیں۔اس سے پتہ ہے کیا ہوگا۔ تمہارے ساتھ اس سے تم بولنے کے قابل نہیں رہو گئے۔ بلکہ خود کچھ بھی کرنے سے قاصر ہو جاؤ گے۔ چلو اس کا ڈیمو دیکھتے ہیں۔
کہ تمہیں کیسا لگتا ہے۔اس سائے نے ڈبے سے مکڑی نکالی اور اس کے قریب رکھی تھی”۔ کہ بادشاہ بول اُٹھا۔
” رو-روکو میں بتاتا ہوں بتاتا ہوں۔”
بادشاہ اس خوفناک اور خونخوار مکڑی کو دیکھ کر ڈر کے مارے کپکپنے لگا۔اس کا حلق تک خشک ہوگیا تھا۔بادشاہ کی بات پر سائے کہ ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ائی۔۔۔
“میرا نام بلال اعظم ہے۔میں ایس_وی صاحب کے لیے کام کرتا ہوں۔ان کا مال ڈیلور کرنا، ان کے لیے کسی کا قتل کرنا ، بچوں کو اغواء کرنا، میرے علاوہ ان کے اور بھی خاص بندے ہیں۔
“کچھ یونیورسٹیسز میں،کچھ ہاسپٹلز میں، اور ان کے کئی سارے لیبز ہیں۔ایس_وی صاحب اس ہر کام کے بدلے پیسے کے ساتھ ساتھ سونے،ہیرے جواہرات انعام میں دیتے ہیں۔بس میں اتنا جانتا ہوں۔۔”
” ایس_وی کا پورا نام کیا ہے۔” سائے نے سخت لہجے میں سوال کیا۔۔۔۔
میں اور کچھ نہیں جانتا سچ میں نا کھبی دیکھا ہے۔اور نا ہی کوئی انکا اصل نام جانتا ہے۔ وہ جب بھی بات کرتے ہیں۔ اپنے ایک خاص بندے کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ہمیشہ خود کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ببس یہی جانتا ہوں۔۔۔
“اب مجھے چھوڑ دو مجھے آزاد کر دو تمہاری مہربٲنی ہوگئی۔ہمم چلو تمہیں رہائی بخشتے ہیں۔۔۔”
اس سائے نے ایک باکس کھولا اور اس میں سے اپنا سب سے زیادہ پسندیدہ ہتھیار اُٹھایا۔ (
𝓑𝓪𝓻𝓴 𝓢𝓬𝓸𝓻𝓹𝓲𝓸) کالا بچھو بادشاہ کی گردن پر رکھ دیا۔
“ی۔یہ کیا ہے۔بادشاہ نے سانس روکتے ہوئے سوال کیا۔۔”
“موت”
“تمہاری موت۔۔”
سائے نے گھمبیر لہجے میں جواب دیا۔
” مجھے چھوڑ دو معاف کر دو۔مجھ پر ترس کھاؤ۔۔”
” کیوں تم نے کھایا تھا۔۔۔۔۔؟
ان معصوموں پر جن کا قتل کیا تھا۔ جن کو اغوا کیا تھا۔ یا پھر جن لڑکیوں کی عزتیں پامال کی تھیں۔ جو میں تم پر ترس کھاؤں۔ہاہاہا تمہاری بھول ہے۔۔۔”
بادشاہ مزید بولتا کہ بچھو نے ڈنک مارا شروع کیا۔جہاں جہاں بچھو ڈنک مارتا وہاں وہاں سے جسم سے ماس گلتا سڑتا نیچے گرتا جا رہا تھا۔۔۔
وہیں بادشاہ تڑپ رہا تھا۔ پورے کمرے میں اس کی دلخراش چیخیں گونج رہیں تھیں۔ کچھ ہی لمحے لگے تھے۔ بادشاہ کو جہنم وصول کرنے میں۔۔۔
سائے نے اپنے ہتھیار کو واپس رکھا۔ اور کمرے سے باہر نکلا اس باقی دو ساتھی اسکے انتظار میں کھڑے تھے۔۔۔
“اِس کے ٹکڑے کرکے جنگل میں پھنکوا دو۔۔”
” اوکے “
یک لفظی جواب موصول ہوا۔دونوں سائے آگے بڑھے اور اپنے کام میں مصروف ہوگئے تھے۔۔۔





صبح کے وقت سب ایک ساتھ ناشتہ کر رہے تھے۔
” بابا جان۔۔! “
انمول نے جبران صاحب کو مخاطب کیا۔۔
“جی بابا کی گڑیا۔۔۔؟”
“وہ دو دن پہلے میں نے آپ سے ایک مصومانہ عرضی کی تھی”۔مانو نے آنکھیں ٹپ ٹپائیں۔ تو جبران صاحب مسکرا دیے۔ ” جی بیٹا بات تو کی تھی۔ لیکن حسن نے کہا تھا۔ کہ سوچتے ہیں۔”
“ہممم تو جواب ابھی نہیں دیا۔ چلیں کوئی نہیں میں خود ان سے پوچھ لوں گی۔کیونکہ اج ہم سب نے پری کے گھر ڈیرہ جمانا ہے۔ایشو ناشتے کے بعد ریڈی ہو جاؤ پھر چلتے ہیں۔”
“جو حکم میرے آقا۔”
“ہاہاہا ایشو میں آقا نہیں میں اقی ہوں گئی۔کیوں کہ میں تو لڑکی ہوں”۔ مانو بتیسی نکلتے ہوئے بولی تو سب نے جاندار قہقہہ لگایا۔۔۔۔
“اففف مانو اففففف کب سدھرو گئی۔شرافت سے انسان بن جاؤ۔” سعدیہ بیگم تپ اُٹھیں تھیں۔
“مما جانی قسم سے مجھے اس شرافت عرف بغیرت کا رابطہ نمبر دیں۔ذرہ اس کی خبر لوں سب بولتے ہیں۔ شرافت سے رہو، شرافت سے گاڑی چلاو ، کوئی بولتا ہے شرافت سے انسان بن جاؤ۔ مجھے لگتا ہے سب مل چکے ہیں۔ صرف میں ہی رہے گئی ہوں۔” مانو نے چہرے پر معصومیت سجھاتے ہوئے بولی۔۔۔
“مما آپ بھی ملاقات کر چکی ہیں۔پری ایشو اور مومی بھی حیرت ہے ویسے سب کہ سب مل چکے ہیں۔۔۔”
مانو کی بات پر ایک بار پھر سب نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ دوسری طرف سعدیہ بیگم سکتے کی حالت میں بیٹھی تھیں۔ کہ مانو کی بات کا مطلب کیا تھا۔ ” کہ وہ پہلے شرارتی تھیں اور شرافت سے ملاقات کرنے کے بعد وہ ٹھیک ہوئیں ہیں”۔سعدیہ بیگم کا شاک سے منہ کھل گیا تھا۔
” بیگم صاحبہ منہ بند کر لیں۔کہیں مکھی نہ چلی جائے۔” جبران صاحب نے بھی انمول کا ساتھ دیا تھا۔ ” جبران آپ بھی یہ نکمی ذلیل کم تھی۔ جو آپ بھی مجھے تنگ کریں گے۔” سعدیہ بیگم ناراض لہجے میں بولی تو مانو کی زبان میں دوبارہ سے کھجلی ہوئی۔تو دوبارہ بولی
” بابا جانی سعدیہ ڈارلنگ آوپس نہیں نہیں آپکی پیاری سی محبوبہ ہم سے جیلس ہو رہیں ہیں۔” مانو بولتے ہی ہال سے نو دو گیارہ ہوگئی۔ مانو کے محبوبہ لفظ پر سعدیہ بیگم بیج و تاب کھاتی رہے گئیں۔جس پر سب نے اپنی ہنسی ضبط کی اور دوسری طرف سعدیہ بیگم نے جبران صاحب کو گھورا جیسے کہنا چاہ رہی ہوں کہ آپکی بےجا ڈھیل کا نتیجہ ہے۔
“ویسے مما مجھے کیوں لگ رہا ہے۔ آپ شرما رہی ہیں۔بچی ُکچی کسر ایشو نے مانو کی زبان بول کر پوری کردی۔۔”
تو سعدیہ بیگم کو دن میں تارے ناچتے ہوے دیکھائی دیے۔جلدی سے آپنی جوتی اتارئی۔ لیکن تب تک ایشو بھی موقع پاتے فرار ہوئی چکی تھی۔
“انمول اور ایشو تم دونوں مجھے آج کہیں نظر نہ آؤ ورنہ بچو گئے نہیں” سعدیہ نے پیچھے سے ہانک لگائی۔۔۔۔






کچھ دیر میں مانو اور ایشو، پری کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔راستے میں تھے کہ مانو کو سالار اور مومل کا خیال ایا۔ تو ایشو کو میسج کرنے کو کہا۔ ایشو نے سالار کو میسج کیا کہ مومل کو لے کر پری کے گھر پہنچے۔ پانچ منٹ بعد اوکے کا میسج رسیو ہوا۔۔۔
گھر پہنچ کر مانو اور ایشو گاڑی سے اتریں اور اندر کی طرف بڑھ گئیں۔خانزادہ فیملی سب ایک ساتھ بیھٹے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔!!
انمول اور اشعال نے سب کو سلام کیا۔۔۔
وعلیکم السلام سب نے یکجاں ہو جواب دیا۔۔۔
” مانو ایشو ہائے اللہ کیا سرپرائز دیا ہے۔انتے دنوں بعد یاد آہی گی مجھ معصوم کی”
“ہاہاہا ہاں یار پری بہت زیادہ مس کر رہی تھی۔ سوچا مل لوں۔۔۔”
” خدا کا خوف کرو پری بیٹا ابھی دو دن ہی ہوئے ہوں گے۔ جب ہم جبران ماموں کے گھر گئے تھے۔ ازلان تپ کر بول۔”
مانو اور ایشو باری باری سب سے ملیں رہیں تھیں۔کہ ازلان کی بات پر مانو کو ناگوار گزری،
” پری مجھے لگتا ہے کچھ جل رہا ہے۔ بہت بری سمیل ہے”
مانو نے چہرے کے بڑے بڑے زاویئے بگاڑئے اور ساتھ تیوری چڑھا کر بولی جس پے سب ہنس دیے۔۔۔۔
” اچھا آپ یہ سب چھوڑیں اور حسن انکل (چچا)اپ نے ہم معصوموں کے لیے کیا سوچا۔۔۔۔۔؟”
“ہمم سوچا تو نیک ہے۔بیٹا مانو آپ سوچ کر بتائیں کہ کس کس جگہ چلنا ہے۔۔۔۔؟”
“ہاں میں بھی سوچتا ہوں”۔ داریان نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔”نہیں نہیں داری تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ تمہارے پاس دماغ تو ہے ہی نہیں۔اور جو چونٹی برابر ہے۔ وہ بھی اڑ جائے گا۔ پھر تم ہم-ٹی-وی والا بھولا بن جاؤ گے۔”
ہاہاہا
مانو بولتے خود بھی ہنسی اور باقی سب کو بھی ہنسایا۔ داریان نے دانت پیسے۔ “ویسے داری مجھے حیرت ہے۔ کہ خالی دماغ نہیں نہیں بھولی سے نازو جو کہ اردو ون پے ڈرامے میں آتی تھی۔ چیختی چلاتی تھی۔ یہ وہی ہے۔۔۔”
اور بابا جانی آپ بھی بھولی نازو سے آہو سوری انمول جس کی عقل ٹخنوں میں ہوتی ہے۔ ہمیشہ پاگلوں نہیں نہیں چڑیلوں کی طرح خون کی پیاسی ہوتی ہے۔ اس سے سوچنے کی توقعہ توبہ کسی بے وقوفی سے کم نہیں۔”
ازلان نے داریان کا بدلہ پورا کیا۔ جبکہ مانو خشمگین نگاہوں ازلان کو گھور رہی تھی۔۔۔
” اااووو زکوٹا جن، جاہل انسان تمہاری اتنی جرت میرا دماغ مت چاٹو ورنہ میرا میٹر گھما نہ اچھے سے بتاؤں کی انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا ورنہ لائف میں دنگا ہی دنگا سمجھے۔
اب پرے مرووو باقی سب پیٹ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔انکل میں نے کیا سوچا ہے۔ ہم دوبئی اور امریکہ چلتے ہیں۔”
“چلو سب پھر اپنے پاسپورٹ دے دو مجھے میں کام کرو دوں گا۔ابھی روکیں انکل سالار اور مومل بھی ہوں گے۔”
“اوکے بیٹا “
“وہ بس ابھی آتے ہی ہوں گئے۔”
کچھ دیر ہی گزری تھی۔ کہ داخلی دروازے سے دونوں آتے ہوئے نظر آئے۔ اسلام وعلیکم دونوں نے سلام کیا۔” او او بیٹا آپ ہی انتظار ہورہا تھا” سالار اور مومل سب سے ملے۔۔
لیکن ازلان کو دیکھ کر تھوڑا خاموش ہوگئے۔۔۔
“سالار اور مومی یہ میرے ازلان بھئیو ہیں۔کچھ دنوں پہلے ہی انگلینڈ سے آئے ہیں۔اور ازلان بھئیو یہ سالار آور مومل ہیں۔ ہمارے گروپ ممبرز اینڈ بیسٹ فرینڈز ہیں۔۔”
“صحیح آپ سے مل کر بہت اچھا لگا سالار بولا۔”
“می ٹو ازلان نے بھی مروت سے جواب دیا۔۔”
“پری جان مجھے تمہاری ہاتھ کی چائے پینے کا دل کر رہا ہے۔ انمول بولی اچھا ابھی بنا کہ اتی ہوں۔ اور کون کون پیے گا ہم سب مومل اور ایشو نے کہا۔”
“اوکے
پری اٹھ کر کچن کر طرف چلی گئی۔”
:چلو سب آجاؤ بات کرنی ہے۔انمول ہلکی آواز میں بولی سب کے سب ایک ساتھ ہو کے بیٹھ گئے۔ اووو داری ڈفر تمہیں الگ سے بولانا پڑے گا۔۔۔”
“ہاں ہاں آیا۔”
سب اب ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ خاموشی سے سب نے سرکل بنایا اور سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ویسے تو ازلان موبائل میں بزی تھا۔ لیکن چور نظروں سے ساری حرکات دیکھ رہا تھا۔
مانو ہلکی آواز میں بولی ” آج رات بارہ بجے پری کا برتھ ڈے سیلبرٹ کرنا ہے۔تو آج ابھی کہ ابھی ساری تیاری کرنی ہو گئی۔ وہ بھی اس سے چھپ کے داری تمہارا کام ہے پری کو شاپنگ پر لے جانا۔ پیچھے ہم سب تیاری کر لیں گے۔۔۔”
“اوکے مانو۔۔”
دس منٹ گزر چکے تھے۔ پوری گینگ ایک ساتھ سر جوڑے بیٹھی تھی ۔ازلان کو اب بہت زیادہ تجسس ہو رہا تھا۔ کہ کیا بات ہو رہی ہے۔۔۔۔
دوسرا ازلان کو سالار اور مانو کا اتنا پاس ہونا کھٹک رہا تھا۔ دس کہ بیس منٹ گزر چکے تھے۔ ان کی کھسر پھسر کی آوازیں ارہیں۔ اب ازلان کی یہی بس ہو گی تھی۔
ازلان دبے پاؤں سے چلتا ہوا ان سب کے قریب آیا ہی تھا۔ کہ مانو نے فورن سر آٹھایا۔مانو کے سر اٹھانے پر ازلان گڑبڑا گیا۔ لیکن خود کو کمپوز کر کے موبائل کی طرف نظریں مرکوز کیں۔۔۔۔
“مسڑ زکوٹا جن آپ کو کیا درد آٹھ رہا ہے۔ جو یہاں ٹپکے ہیں۔ انمول جانچتی نظروں سے گھور کر بولی۔”
“اووو موٹی بلڈوز میرا گھر ہے۔ میری مرضی جہاں جاؤں۔ اور تمہاری خوش فہمی ہے۔ کہ میں تم لوگوں کی باتیں سن رہا ہوں۔”
” جی جی وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اور میں نے یہ تو نہیں کہا کے تم ہماری باتیں سن رہے ہو۔۔”
” تو میں کیا کروں جو سمجھنا ہے سمجھو میری بلا سے” ازلان نے کندھے اچکا دے۔
“ہاں ہاں بلکل بھینسے ٹھیک کہا وہ مثال تم پر سوٹ کرتی ہے۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ لیکن تمہاری ڈاڑھی میں پورا کا پورا گھونسلا ہے”
“اج میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی۔کیوں کہ اپنے جگری دوستوں میں بہت زیادہ مصروف ہوں۔چلو رفو چکر ہو جاؤ ورنہ گھن چکر بنا دوں گئی۔:
☆☆☆☆☆☆
” ایول مونسٹر آپ سے ایس_وی ملنا چاہتا ہے۔” ایک شخص سر جھکائے بولا۔۔۔
” کیوں۔۔؟”
“سر سمگلنگ کے لیے کیوں کہ پہلے ان کی ساری سمگلنگ بادشاہ کرتا تھا۔ مال کا امپورٹ اور ایکسپورٹ سارے غیر قانونی کام وہی کرتا تھا۔۔”
“لیکن جب سے بادشاہ غائب ہوا ہے۔ تب سے ایس_وی کا مال ڈیلور نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے وہ کوئی نیا سمگلر ڈھونڈ رہا ہے۔ہممم بولا لو” وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے بوس۔۔۔”
جارہی ہے۔۔
