Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 32)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

انمول اور ازلان جب گھر میں داخل ہوئے تو دانیہ بیگم کو اپنا منتظر پایا تھا۔تو انمول بڑھ کر دانیہ بیگم کے گلے لگی تھی۔اور سب کی خیریت معلوم کی تھی۔مگر بھولے سے بھی ازلان کی طرف نہیں دیکھا تھا۔جس کو ازلان نے شدت سے محسوس کیا تھا۔

ازلان نے آگے بڑھ کر دانیہ بیگم کا ہاتھ تھامتے ہوئے روکا تھا۔ مگر دانیہ بیگم نے رخ موڑے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ مگر ازلان نے ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔ “مما جانی مجھے معاف کر دیں۔ میں اپنے کیے پر نادم ہوں،” ازلان ندامت سے بولا تھا۔

دانیہ بیگم کو صوفے پر بیٹھاتے خود ان کے قدموں میں بیٹھا تھا۔ انمول نے بھی دونوں ماں اور بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیا۔اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گی۔ازلان کی معافی مانگنے پر بھی دانیہ بیگم ہنوز خاموش رہیں۔ازلان نے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا تھا۔ جو خاموشی سے آنسوں بہا رہیں تھیں۔ازلان اٹھتا،ان کے برابر میں بیٹھا تھا۔

” ازلان میرے معاف کرنے نہ کرنے سے کیا ہوگا۔تم اس سے معافی مانگو جس کو تم نے ہرٹ کیا۔” دانیہ بیگم ازلان کو سمجھاتی ہوئیں بولیں تھیں۔تو ازلان نے اپنی ماں کے ہاتھوں پر عقیدت سے بوسہ دیا تھے۔” مما میں نے انمول سے معافی مانگ لی ہے۔” تو دانیہ بیگم نے ازلان کے سر پر بوسہ دیا تھا۔

“اگر اس نے معاف کر دیا ہے، تو میں نے بھی معاف کر دیا ہے۔ مگر ابھی سے خبردار کر رہی ہوں، دوبارہ اگر ایسی کوئی حرکت کی تو مجھے سے کوئی امید مت رکھنا “

دانیہ بیگم نے ازلان کو ہلکی سی چت لگائی تھی۔ “زی بیٹا !! وہ بچی بہت معصوم ہے، ہاں شرارتی ہے، مگر دل کی بری نہیں، تم اس کو ایک موقع تو دو، تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دے گی،سب سے پیار کرنے والی ہے، اور تم خود میں ذرہ برداشت پیدا کرو ، غصے کو قابو کرنا سیکھو ، کیوں کہ انسان غصے میں،اپنی سمجھ بوجھ ،سب کچھ کھو بیٹھتا ہے، اور ایسے فیصلے کر جاتا ہے، جس پر بعد میں، اس کو پچتاوا ہوتا ہے، زندگی بہت برے برے امتحان لیتی ہے۔ تو ہمیں ہمیشہ صبر سے کام لینا ہوتا ہے، یوں غصے میں اپنا آپا، کھو کر مار پیٹ کرنا، چیخنا چلانا ، سب غلط ہے۔ انسان خود کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہا ہوتا ہے۔”

دانیہ بیگم خاموش ہوئیں تو ازلان نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ” اوکے مما جان اب سے میں پوری کوشش کروں، اپنے غصے پر قابو پانے کی، اور اپنے رشتے کو دل سے نبھانے کی۔آپ پریشان مت ہوں۔” تو دانیہ بیگم نے سکون سے سر اثبات میں ہلایا تھا۔اور پھر اپنے کمرے کی جانب چلی گئیں تھی۔ پیچھے ازلان بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

مگر ہال میں کوئی اور موجود تھا۔ جس کی آنکھوں میں انتقام کی اگ جل رہی تھی، جو کہ خانزادہ اور راجپوت فیملی کو تباہ کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔

🖤
🖤
🖤

ازلان کمرے میں آیا، تو کمرہ نیم اندھرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ازلان نے نظر صوفے کی طرف دوڑائی تو انمول کو سوتے ہوئے پایا تھا۔کچھ سوچتے اپنی الماری کی طرف بڑھا اور ڈریس لے کر باتھ کی طرف شاور لینے کے لیے بڑھ گیا۔

پندرہ سے بیس منٹ بعد ازلان فریش سا روم میں آیا اور بالوں میں برش پھیرا تھا ،اور پھر انمول کی جانب ایا تھا۔ جو سکون سے اپنی نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔ نیند میں انمول کے بال، اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے ، اس کے حسن کو اور بھی زیادہ دلکش بنا رہے تھے۔ ازلان ہاتھ بڑھا کر مانو کے چہرے پر سے بکھرے بال پیچھے ہٹائے تھے۔ صاف شفاف پرُ سکون چہرہ ازلان کتنی ہی دیر بے مقصد مانو کے چہرے تکتا رہا، کتنی معصوم تھی نا وہ ، شرارتی سی ،

” کاش !! میری مانو تم میری محبت ،میرے پاگل پن کو سمجھ پاتی،کہ یہ دل صرف تمہارے لیے دھڑکتا ہے، صرف تمہارے لیے، مگر تم نے ہمیشہ میری جگہ دوسروں کو ترجعی دی، ہمیشہ مجھے دھتکارہ، میرے حکم کی نفی کی، میں نے کیا مانگا تھا تم سے ۔۔۔؟صرف یہی کہ صرف میری بن جاو چھوڑ دو ساری دنیا کو، ہمیشہ کے لیے اس ڈیول کنگ کی اینجل کوئین بن جاو، مگر تم نے ٹھکرا دیا، تم نے مجھے شیطان بنا دیا میری کوئین۔۔!! ، میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہیں کر سکتا، کیوں کہ میں انسان نہیں ہوں،تمہارے عشق نے مجھے ایک وحشی شیطان بنا دیا ہے۔اور میرے نزدیک تم پاک ہو بہت پاک، ڈیول کنگ کی اینجل کوئین”

ازلان نے اپنی اینجل کوئین کو اپنا حال دل بتایا تھا۔ مگر وہ پاگل تھا۔ اپنی انا کا مارا، یہ جانے بغیر، کے انے والے وقت نے سب کچھ برباد کر دینا ہے۔ازلان نے آگے بڑھ کر مانو کے ماتھے پر پہلا عقیدت بھرا بوسہ دیا تھا۔اور پھر اپنی کسرتی بازوں میں بھر کے، اپنی نازک سی بیوی کو بیڈ پر لیٹایا تھا۔کہ مانو بیڈ پر اتے ہی سکون بھرے تاثرات چہرے پر سجا گئی تھی۔ انمول کے برابر میں ہی بیڈ کی دوسری جانب ازلان لیٹا تھا۔ کہ کچھ ہی وقت میں نیند اس پر غالب آگئی تھی۔اور کروٹ بدلتے ازلان نے مانو کو اپنے مضبوط حصار میں لیا تھا۔ اور انمول نے بھی ازلان کی ٹانگ کے اوپر ٹانگ جمائی تھی۔

🖤
🖤
🖤
🖤

صبح مانو کی آنکھ خود پر پڑتے وزن کی وجہ سے کھلی، کیوں کہ وہ مانو کو کسی پیلو کہ طرح ہگ کر کے سو رہا تھا۔مگر اس کی سخت گرفت سے انمول کا سانس اٹکنے لگا تھا۔پہلی سوچ کہ وہ یہاں بیڈ پر کیسے ائی تھی۔مگر اب زیادہ سوچتی تو لازمن اس کی اوپر کی ٹکٹ کٹ جانی تھی۔اسی لیے انمول نے مزاحمت شروع کر دی تھی۔

“اوو!!! جلاد جن میرے اوپر سے ہاتھ اُٹھاو کہیں میں مر مرا نہ جاوں۔” انمول کے بار بار ہلانے اور مزاحمت کرنے پر ازلان نے غصے سے آنکھیں کھولیں تھیں۔نیلی آنکھوں میں لال ڈوریاں نیند کے خمار میں ڈوبی ہونے کی گواہی دے رہیں تھیں۔

“کیا مسئلہ ہے تمہیں سکون سے سونے دو” ازلان نے انمول کی بار بار مزاحمت سے چڑ کر کہا تھا۔

” وہ میں نے اُٹھنا ہے۔آج سب نے ناشتے پر آنا یے، تو خالہ جانی کی ہیلپ کرنے ہے۔” انمول نے چہرے کے زاویے بگاڑے ہوئے بتایا ، جس پر وہ بہت کیوٹ سی لگی تھی۔

” ہمم تو جاو میں نے روکا تھوڑی ہے” انمول کی بات سنتے ازلان نے بھی کندھے اچکا دیے تھے۔

” ارے زی یار میں کیسے جاؤں گی، پہلے اپنے بلڈوز جیسے بازو تو ہٹا لو ” انمول کی رونے والی حالت پر ازلان نے مشکل سے ہنسی دبائی تھی۔ اور ہنوز چہرے پر سنجیدگی قائم رکھی۔اور آئی برو اچکائی تھی۔

“اوو میں بلڈوز ہوں تو تم جیسے بہت نازک کلی ہونا، چھپکلی کہیں کی ” ازلان نے تپی ہوئی انمول کو اور زیادہ تپایا تھا۔

“کیا۔۔۔!!! چھپکلی،وہ بھی میں۔۔۔؟ خود کو کبھی آئینے میں دیکھا ہے، خوبصورت سے مینڈک لگتے ہو۔ ہونہہ بڑے آئے مجھے چھپکلی کہنے والے ” انمول ازلان کو آگ لگاتی، اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تھی، مگر ازلان بھی اپنے نام کا ڈھیٹ بندا تھا۔جو کہ ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا۔ جس پر انمول جی جان سے جلی تھی۔ اور پھر سکون سے مسکراتی ازلان کی گردن پر اپنے دانت گاڑ دیے تھے۔انمول کے حملے پر ازلان ہڑبڑا کر دور ہوا تھا۔کہ منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی۔

” اہہ جنگی بلی ” ازلان جیسے ہی دور ہوا تھا۔ انمول نے موقع پاتے فورن ہی ازلان کے مضبوط حصار سے فرار ہوئی تھی۔

” ہاہاہا مسٹر جلاد خانزادہ انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا ورنہ آپکی لائف میں دنگا ہی دنگا” انمول کھلکھلاتے ہوئے اپنا ازلی ڈائلاگ جھاڑا تھا۔اور اپنے کپڑے لیتی باتھ میں بند ہوگی تھی۔پیچھے ازلان نے مسکراتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا تھا۔ خود کے بڑھتے جذباتوں پر قابو پایا تھا۔اور خیال میں اپنی اینجل کوئین کو مخاطب کیا تھا۔

“میری اینجل کوئین۔۔!!! تم نے مجھے ٹھکرا دیا تھا،میری جنونیت کو،میں تمہیں اپنی سانسیں تو دے سکتا ہوں ،مگر کبھی محبت نہیں دے سکتا، میری انا مجھے اجازت نہیں دیتی ، میرا ٹھکرایا ہوا عشق مجھے تمہارے قریب آنے سے روکتا ہے۔”

کیسا تھا وہ شخص۔۔۔؟

اپنے عشق میں اتنا پاگل، اتنا جنونی اور سب سے بڑھ کر اتنا انا پرست، مغرور جب جب کوئی اس کے قریب آتا، اس کو دیکھتا، یا کوئی اس سے بات کرتا، تو اس کا یہ مغرور نیلی آنکھوں والا دیوانہ پاگل ہوجاتا۔

پتہ نہیں زندگی ان دونوں عاشقوں کو کس موڑ پر لانی والی تھی۔ ایک طوفان تھا۔ جو سب کچھ تباہ کرنے کے لیے آمادہ تھا۔

🖤
🖤
🖤

ناشتے کی ٹیبل پر سبھی موجود تھے۔احمر ، پریہان، ایشعال اور عليان نے اپنے ساتھ ماہم کو بھی زبردستی گھسیٹا تھا۔ وہ بچاری کب سے چھچھورے داریان کی بےباک نظریں خود پر جمی ہوئیں محسوس کر رہی تھی۔دانیہ بیگم کے ساتھ انمول بھی ناشتے کی ٹیبل کو سجھا رہیں تھیں۔کہ سامنے سیڑھیوں سے اترتے ازلان پر گئی، جو گرے کلر کی شرٹ

میں ملبوس انتہائی ہینڈسم لگ تھا۔

اسلام وعلیکم۔۔!! ازلان کے سلام پر انمول کا سکتا ٹوٹا تھا۔ازلان کے سلام پر سب نے یکجاں ہو کہ سلام کا جواب دیا تھا۔ مگر داری کی نظر انمول پر گی، جو کہ یک ٹک ازلان پر جمی ہوئیں تھی۔ تو اس کے دماغ میں شیطانی شرارت ائی تھی۔

” ویسے انمول بھابھی۔۔۔!!! اگر اپنے ہوچکے شوہر کو اچھے سے تک لیا، ہو تو ہم غریبوں کا بھی کچھ سوچو لیں،”

داریان نے انمول کے اپنے شوہر کو اس طرح یک ٹک دیکھنے پر چوٹ کی تھی۔ جس پر مانو یک دم سے گڑبڑاتے ہوئے سیدھی ہوئی تھی۔سب نے انمول کو معنی خیزی سے دیکھا تھا۔جسے محسوس کرتے مانو خخل سی ہوئی تھی۔مگر پھر خود کو سنبھالتے ہوئے سالن کا کٹورا ٹیبل پر رکھا۔

” ارے میرے پیارے سے دونمبر دیور جی۔۔۔!!! کم سے کم تمہاری طرح نظر باز نہیں ہوں، جو کب سے میری پیاری سی آپی کو اپنی گندی نظروں سے گھورے جا رہے ہیں۔۔۔؟ ہے کہ نہیں ذرہ وڈے بلب نال روشنی پاو”

مانو بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ اپنا حساب اچھے سے بےباک کرنا آتا تھا۔ اب کی بار داریاں اچھے سے گڑبڑایا تھا۔ ساتھ ہی حسن صاحب نے داری کو زبردست گھوری کے سے نوازا تھا۔

“بھابھی جی تو ایسا کیا ہوگیا ،میری حق حال کی بیوی ہے،اگر دیکھ بھی رہا ہوں، ” داریان نے بھی ڈھیٹ پن میں ایم-بی-بی-ایس کیا ہوا تھا۔

“بلکل داریاں بیٹا صرف تمہاری ہی بیوی حق حلال کی ہے ، ہم نے جیسے اغواء کر کے یا ڈاؤنلوڈ کر کے بیوی بنائی ہے۔” ابراہیم صاحب نے داریاں کی بات پر جل کر جواب دیا تھا۔ کہ پورے ڈائنگ ہال میں سب کا فلکشگاف قہقہ گونجا تھا۔

” ارے دادا جان۔۔!!! کیا کروں غریب بندہ ہوں۔۔۔! ہنی مون پر جانے سے رہا ، اسی لیے بس آنکھوں سے کام چلا رہا ہوں “

داریاں کی اس طرح بےباک بات پر ماہم کا چہرہ لال قندھاری ہوگیا تھا۔

“علی اور احمر رست کو گیارہ بجے تک ریڈی ہو جانا،تاکہ وقت پر ائیر پورٹ پہنچ جائیں۔” ازلان نے دونوں کو تاکید کی تھی۔ جس پر دونوں نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ سب ناشتے میں مصروف تھے۔ کہ نایاب اپنا سفری بیک لے کر وہاں آئی تھی۔

” خالہ جانی۔۔! “نایاب نے دانیہ بیگم کو مخاطب کیا تھا۔ “جی نایاب بیٹا ” دانیہ بیگم نایاب کی جانب متوجہ ہوئیں تھی۔

” خالہ جانی کل کو ہے میری برتھ ڈے تو میری فرینڈز نے سیلبرٹ کرنے کے لیے میرے لیے سرپرائز پلین کیا ہے، اسی لیے میں جا رہی ہوں۔تین سے چار دنوں تک میری واپسی ہوگی۔”

دانیہ بیگم ابھی جواب دیتں، کہ نایاب کا فون بجا اُٹھا تھا۔ اور نایاب کال اٹینڈ کرتی باہر کی جانب چلی گیں۔ پچھے دانیہ بیگم نے تاسف سے نایاب کو دیکھا تھا۔

کھانے سے فارغ ہو کر سب مرد حضرات چائے پیتے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔ انمول نے پری اور ایشو کو مخاطب کیا تھا۔

” یار یہ سالار اور مومل کا فون مسلسل آف کیوں جارہا ہے۔” مانو نے پری اورایشو سے سوال کیا تھا۔ ” پتہ نہیں مانو میں نے بھی کچھ بکس کے لیے سالار کو کال کی تھی۔تو اس کا نمبر بند تھا،پھر مومل کو کال کی شاید، اس کے پاس ہو بک مگر اُس کا وی نمبر بند تھا۔” پری نے پریشانی سے بتایا تھا۔

” ہمم “انمول نے مختصر سا جواب دیا تھا۔

🖤
🖤
🖤

رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ جب شاہ مینشن میں ایک کالا سایہ داخل ہوا تھا۔ مگر اندھرے میں ہی کہیں گم ہوگیا تھا۔ ہر طرف گھپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔ شاید گھر میں کوئی نہیں تھا۔ سایہ کھڑی کی طرف بڑھا تھا۔ مگر رک کر پلٹا تھا۔اوپر کے کونے میں بنے کمرے میں ہلکی روشنی دیکھائی دی تھی۔

جس پر سایہ ٹھٹھک کر سیکنڈوں میں اوپر کی طرف بڑھ تھا۔کمرے کے دروازے کے بجائے باہر کو نکلتی کھڑکی سے اندر دیکھا تھا۔ جہاں پورے کمرے میں ہر جگہ صرف تصویریں ہی تصویریں تھیں، مختلف پوزیز میں لی گئیں تھیں۔ کمرے میں زیرو بلب ان تھا۔ کہ اچانک سے کسی کی سسکی نے خاموں کمرے میں ارتعاش پیدا کیا تھا۔ کہ سایہ محتط ہوا تھا۔ کمرے کے ایک کونے میں کوئی شخص بیٹھا تھا۔ وہ سایہ جانے کے کیے پلٹا تھا۔ کہ اس کی نم آواز پر سائے کے پاؤں کسی بیڑی میں جکڑے تھے۔کہ ایک بھی قدم آگے لینے سے انکاری تھے۔

” اہہہہ یا اللہ مجھے موت دے دیتا ، مگر یہ گناہ نہ کرنے دیتا ، کاش کہ مجھے موت اجاتی ، کاش میں اس معصوم کی زندگی برباد نہ کرتا، وہ تو ایک بہترین ہمسفر ڈیزو کرتی تھی۔ مجھ جیسا شخص ہرگز نہیں جو کسی دوسری لڑکی کو اپنی زندگی مانتا تھا۔انجانے میں ہی اس سے یک طرفہ محبت کر بیٹھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تو مجھے دوست سے زیادہ مانتی ہی نہیں، ہمیشہ اس کی سبز آنکھوں میں چمک صرف نیلی آنکھوں کے سامنے آتی تھی، کیوں میرے پروردگار کیوں پیدا کی محبت میرے دل میں، جو کہ پہلے ہی کسی اور سے محبت کرتی تھی،”

کئی سسکیاں ایک ساتھ فضاء میں گونجی تھیں۔” کتنا برا ہوں ، کتنا بدکردار ، کاش مانو تم میری آنکھوں میں اپنے لیے سچی محبت دیکھ لیتی کاش۔۔۔!! تاکہ آج نشے مجھے سے کسی معصوم کی عزت داغدار نہ ہوتی،” وہ کرب سے بولا تھا۔ کہ اس کو کھڑکی کے پاس سے ایک سایہ نظر آیا تھا، سالار دبے پاوں کھڑکی کی طرف بڑھا تھا۔کھڑکی کے باہر جھانکا تھا۔مگر وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔اپنا وہم سمجھ کر سالار کمرے باہر چلا گیا تھا۔

🖤
🖤
🖤

“ایس-وی خبر ملی ہے، کہ ملک سارے مارخور ایک جٹ ہو کر کام کر رہے ہیں،ڈیول کنگ اور اس کے ساتھی دوبئی آنے والے ہیں۔وجہ کہ وہ ہمیں ٹراپ کرنے والے ہیں۔” غفار نے بہت مشکلوں سے یہ خبر نکلوائی تھی۔اور سنیک ونم کو بتائی تھی۔

” ہاہاہا ہمیں ٹراپ کریں گے، کل کے ائے بچے ” ایس-وی بات پر غفار نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔جہاں ایس-وی شراب اپنے اندر اتار رہا تھا۔

“سر !! ڈیول کنگ کوئی بچہ نہیں دنیا اس کو شارپ شوٹر کے نام سے جانتی ہے۔جس کا نشانہ غلطی سی بھی نہیں چکتا۔۔ہاں مگر ان کی کمزوریاں ڈیول کنگ اور اس کے ساتھیوں کی کمزوری ان کے ساتھ ہی آئیں ہیں، ان کی نئی نویلی دلہنیں “

” واہ!! چلو سب کی بیویوں کو اُٹھا لو، سپیشل ڈیول کنگ کی بیوی کو، ذرہ ہم بھی دیکھیں ڈیول کی اینجل کو ہاہاہا “

ایس-وہ نے کمینگی سے قہقہہ لگایا تھا۔

🖤
🖤
🖤

ان سب کا جہاز دوبئی کی سرزمین پر اتر چکا تھا۔تینوں کپلز بہت خوش تھے۔ زندگی ایک دم سے خوشیوں سے بھر گئی تھی۔تینوں کپلز ایرپورٹ سے سیدھا گرینڈ ہوٹل پہنچے تھے۔ جہاں ان کی بکنگ الریڈی ہوچکی تھی۔

“اففف ہم سب تو بہت تھک گئے،” پری ایشو اور مانو نے یکجاں ہو کہ جواب دیا تھا۔

” ہمم یہ تو ہے چلو ابھی آرام کر لو رات میں گھومنے چلیں گے۔”ازلان نے جوابن سب نے کہا تھا۔سب نے ایک ساتھ ڈیسائڈ کیا تھا۔اور اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے۔ مگر دو آنکھوں نے جلتی نظروں سے سب کو خوش حال دیکھا تھا۔

” ازلان !! تمہیں تو میں اپنا بنا کر ہی رہوں گی، چاہیے مجھے اُس کے لیے اپنی عزت کی باری ہی کیوں نہ لگانی پڑے۔۔”

تینوں کپلز اتنا تھک چکے تھے۔ کہ ان کو بیڈ پر لیٹتے ہی نیند نے اپنے آغوش میں لے لیا۔

سبھی سکون کی نیند میں سو چکے تھے۔شاید ہی ان کو دوبارہ سے اپنی زندگی میں یہ سکون بھری نیند میسر ہو،وقت سب کو بہت رلانے ولا تھا۔یا جدا کرنے والا تھا۔

شام کا وقت تھا، باہر کا موسم بہت خوشگوار سا تھا۔ ہر کوئی بیچ پر موسم کو انجوائے کر رہے تھے۔ ” زی۔۔!!! تم ہمیشہ ایسے ہی رہنا، ” انمول چاہت سے چور لہجے میں بولی تھی۔ اور ازلان کے ہاتھ کو تھام گئی تھی۔مگر ازلان ہنوز خاموش رہا تھا۔لیکن ازلان نے اپنے ہاتھ میں مقید نازک سے ہاتھ کو دبایا تھا۔ جیسے کہ اپنی رضامندی ظاہر کی ہو۔

“آئی لو یو سو مچ احمر۔۔!! ” پریہان نے احمر لے گرد بازوں کا حصار باندھا تھا۔ ” لو یو ٹو مائی لو ” احمر نے شدت سے پریہان کی گالوں پر لب رکھے تھے۔ساتھ ہی ہلکے سے ہونٹوں کے نیچے موجودہ چھوٹے تل پر ہلکے سے دانت گاڑے تھے۔کہ پریہان جی جان سے کانپی تھی۔

” علی۔۔!!!!! ” ایشعال نے اپنے سے تھوڑے دور کھڑے شوہر کو اونچی آواز میں ہانک لگائی تھی۔

” جی جانِ علی۔۔!!! ” علیان نے بھی ایشعال کو وہی سے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔

” آئی لائک یو۔۔۔!! علی بھئیو ” یہ بولتے ہی ایشعال نے دانتوں تلے زبان دبائی تھی۔ اور علیان کو خود کی طرف بڑھتا دیکھ آگے کی طرف دوڑ لگائی تھی۔ ” کیا کہا ایشو کی بچی ” علیان ایشعال کی طرف بھاگا تھا۔کہ دور سے ہی ان چاروں کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔بھاگتے بھاگتے ایشو رکی تھی۔علی نے ایک ہی جست میں پہنچتے، ایشو کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا۔اور ساتھ ہی کان کی لو کو زور سے اپنے دانتوں تلے دبایا تھا۔ کہ ایشو کے منہ سے ایک سسکی بلند ہوئی تھی۔

“آجاو سب آئسکریم کھانے چلتے ہیں ” ازلان نے دور سے سب کو بلایا تھا۔کچھ دیر آئسکریم کھانے کے بعد سبھی ہی واپس ہوٹل کی طرف چل پڑا تھے۔سبھی کو زندگی بہت ہی حسین لگ رہی تھی۔

🖤
🖤
🖤

ہوٹل میں آتے ہی تینوں کپلز اپنے رومز کی طرف بڑھ گئے تھے۔مگر ازلان کو کال آئی، تو انمول کو روم بھیجتا ، خود کال کی طرف متوجہ ہوا۔ابھی کال اینڈ ہوئی تھی۔کہ ازلان اپنے روم کی طرف بڑھا تھا۔ مگر اپنے روم کے ساتھ ہی دو رومز چھوڑ کر نایاب کو کمرے کا دروازہ کھولتے دیکھا تو ایک پل کو ٹھٹھکا تھا۔

” نایاب۔۔! “ازلان کی پکار پر نایاب پلٹی تھی۔جو کہ جان بوجھ کر کمرے کے دروازے کو کھولنے کا ناٹک کر رہی تھی۔ آواز کی سمت پلٹی تھی۔

” ارے ازلان تم یہاں۔۔۔!” نایاب نے مصنوعی حیرت سے پوچھا تھا، مگر دل میں وہ جلی تھی۔انمول سے شدید جلن محسوس ہوئی تھی۔ کہجو بچپن سے اس کی محبت پر قبضہ جما کر بیٹھی تھی۔

” ہاں میں۔۔مگر تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟” ازلان نے نایاب کے قریب آتے ہی سوال کیا تھا۔ ” آج میرا برتھ ڈے تھا، تو فرینڈز نے یہاں پارٹی دی تھی۔” نایاب نے چہرے پر ہلکی مایوسی سجاتے ہوئے بتایا تھا۔

” اُپس یار سو سوری رات کو وش کرنا تھا، مگر فلائٹ کی وجہ سے دماغ سے نکل گیا،ہیپی برتھ ڈے مائی ڈئیر کزن ” ازلان نے جلدی سے نایاب کو وش کیا تھا اور وش نہ کرنے کی وجہ بتائی تھا۔

“ہمم سوری تب ایکسپٹ کروں گی، جب تم میرے ساتھ سیلبرٹ کرو گے۔” نایاب نے اپنی چال کا پتہ پھنکا تھا۔

” یار اس وقت فل ہوں، ورنہ خود کیک کھلاتا ” ازلان نے کھانے سے فورن سے منع کیا تھا۔

” اچھا ایک جوس تو پی ہی سکتے ہو ” نایاب کی بات ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کی تھی۔ اور سر اثبات میں ہلایا تھا۔اندر آتے ہی نایاب کمرے میں ایک طرف کو بنے کچن کی طرف بڑھ گی تھی۔ ریفریجریٹر سے جوش نکلا تھا۔ اور گلاس میں اُندیلنے لگی تھی۔

مگر ایک گلاس میں سفید رنگ کا کوئی پاوڈر ملایا تھا۔اور ازلان کی جانب آئی تھی۔ ایک گلاس ازلان کی طرف بڑھایا تھا۔تو دوسرا خود لبوں کی طرف بڑھایا تھا۔نایاب دل ہی دل میں خوش تھی۔ کہ آج وہ اپنے ازلان کو حاصل کر ہی لے گی۔

پندرہ منٹ گزرے تھے۔ کہ ازلان کو گرمی سی محسوس ہونے لگی تھی۔ طبیعت عجیب سی محسوس ہو رہی تھی۔کہ دماغ کی رگیں اُبھرنے لگیں تھیں۔ مگر ازلان مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا۔ بقول نایاب کہ پندرہ سے بیس منٹ گزر چکے تھے۔ مگر ازلان کو کچھ بھی نہ ہوا تھا۔

” ارے ازلان کہاں جا رہے ہو ۔۔۔؟ ” نایاب نے ہڑبڑا کر پوچھا تھا۔

” یار مانو ویٹ کر رہی ہوگی، اسی لیے کل بات ہوگی” نایاب نے بولنے کے لیے اپنے لب کھولے ہی تھے۔ کہ اس سے پہلے ہی ازلان نایاب کے کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔ اپنی حالت کو اگنور کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ آنکھیں ضبط سے لال انگارا ہو رہیں تھیں۔

کمرے میں جب داخل ہوا تو انمول کو شیشے کے سامنے کھڑے، ہاتھ پر لوشن لگاتے دیکھا تھا۔ سفید رنگ کی نائٹی میں دیکھ اُس کے بڑھتے جذباتوں کو ہوا ملی تھی۔ ازلان نے جھٹکے سے اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف کو پھنکی تھی۔اور ایک پل ضائع کیا انمول کو اپنے حصار میں لیا تھا۔کہ انمول اس طرح قریب آنے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔

ازلان نے انمول کا رخ اپنی جانب کیا تھا۔ مگر انمول نے جیسے ہی ازلان کی نیلی سمندر جیسی آنکھوں میں دیکھا تھا، تو ٹھٹھک گئی تھی۔ آنکھیں شدید سرخ ہو رہیں تھیں۔ اور ازلان کا آنداز بہکا بہکا ، ابھی انمول آگے کچھ بولتی کہ ازلان نے انمول کے گلابی ہونٹوں پر فوکس کرتے اپنے لبوں سے حملہ کیا تھا۔

ازلان کے لمس میں شدت تھی۔ انمول کو اپنا سانس رکتا محسوس ہو رہا تھا۔ کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد ازلان نے انمول کے ہونٹوں کو بخشا تھا۔ جس سے انمول ازلان کے کسرتی سینہ میں منہ چھپائے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔

ازلان نے انمول کو باہوں میں بھرتے ہوئے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے تھے۔ انمول کو بیڈ پر لیٹتے خود اُس پر گھٹا کی مانند چھا گیا تھا۔

“ز-زی۔۔!! ” انمول نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی تھی، مگر ازلان نے اس کی آواز کو اپنے لبوں میں قید کر لیا تھا۔انمول نے بہت مزاحمت کی تھی۔ مگر ازلان ہوش میں ہوتا تو اُس کو سنتا یا رکتا،ازلان کے شدت بھرے لمس انمول کے لبوں سے ہوتے گردن پر رکھے تھے۔

کہ انمول نے اپنی مزاحمت ترک کر کے خود کو ازلان کے سپرد کر دیا تھا۔جیسے جیسے رات ڈھلتی جارہی تھی۔ویسے ویسے ازلان کی شدتوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ وہ انمول کو اپنی شدتوں کی بارش میں بھگو رہا تھا۔ رات ڈھل چکی تھی۔ کہ تب جاکے کہیں آزلان نے انمول کو اپنی قربت سے آزادی بخشی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *