Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 12)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

راجپوت فیملی اور خانزادہ فیملی کے بچوں میں زور و شور سے ٹور پے جانے کی تیاری چل رہی تھی۔سب ہی شاپنگ مال جا رہے تھے۔کیوں کہ صبح کے وقت سب نے نکلنا تھا۔ اسی لیے سب آپنی بچی کوچی چیزیں لینے گئے تھے۔ علیان اور احمر فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ پیچھے ماہم ،انمول اور ایشو بیٹھے تھے۔۔۔

” یار ایشو میں کیا سوچ رہی تھی۔ کہ داری اور پری کو بھی بلالیں۔ ساتھ میں شاپنگ ہوجائے گی۔” انمول نے مشورہ دیا تھا

“ہاں ٹھیک ہے ، میں میسج کر دیتی ہوں۔”بولتے ہی ایشعال نے پری کو میسج کر دیا کچھ منٹس میں مثبت جواب موصول ہوا۔۔

بیس منٹ کی مسافت کے بعد وہ سب لوگ مال پہنچے تھے اور اندر کی جانب بڑھ گئے۔ایشو اور مانو ماہم کی شاپنگ میں مصروف ہوگئے۔

علی اور آحمر بھی جینٹس شاپ کی طرف بڑھ گئے۔مانو ایشو اور ماہم کپڑوں کی شاپ سے باہر نکل رہے تھے۔کہ سامنے سے آتے ازلان داری اور ان کے ساتھ آتی نایاب پر پڑی تو مانو کی شکل ایسی بنی جیسے کڑوا کریلا چبا لیا ہو۔۔۔

تینوں نے آتے ہی سلام کیا۔باقی سب نے سلام کا جواب دیا تھا۔

“گائز میں نے یہ بتانا تھا۔کہ ہمارے ساتھ نایاب بھی چل رہی ہے۔”

“وہ کیوں بھلا یہ تو ہماری فیملی سے نہیں ہے تو اس کا کیا کام وہاں” ازلان کے بتانے پر مانو نے دانت پیستے ہوئے بولا۔۔

ازلان کو انمول کہ بات پسند نہیں آئی تھی۔ تو وہ بولا “کیوں کہ نابی میری بیسٹ فرینڈ ہے اور اس کو میں نے انوئٹ کیا ہے۔”

ازلان کی بات پر انمول کی اندر کچھ چھن کر کے ٹوٹا تھا۔”اور مس مانو تمہارے اوپر یہ بات اچھی نہیں لگتی۔ تمہارے تو دو دوست ساتھ ہیں۔ لیکن وہ تو ہماری فیملیز سے نہیں ہیں۔”

ازلان طنزیہ انداز میں بولا جس پر انمول کو تکلیف ہوئی۔ لیکن کسی کو محسوس ہونے نہیں دیا۔ “اووو ہیلو مسٹر ازلان خانزادہ اپنی حد میں رہو، میرے دوستوں کو درمیان میں لانے کی ضرورت نہیں۔وہ تمہاری اس دوست جیسے نہیں ہیں۔کروڑوں میں ہیں۔” انمول نے بھی اپنا حساب بےباک کیا۔ازلان کےبولنے سے پہلے ہی علیان وہاں آگیا۔ دونوں کو لڑتا دیکھ سب نے اپنا سر پکڑا۔۔۔

” یار ازلان پری نہیں آئی۔۔۔؟”

علیان نے سب کی توجہ دوسری طرف متبادل کروائی۔۔

” آئی ہے یار لیکن اس کو بک شاپ مل گی تو اس طرف ہی چلی گئی۔اچھا احمر بھی بک شاپ کی طرف گیا ہے۔چلو ہم سب فوڈ کارنر چلتے ہیں۔ تب تک وہ دونوں بھی آجائیں گے۔”

تو باقی کی شاپنگ بعد میں کر لیں گے۔” ہاں یہ ٹھیک ہے”۔ازلان اور مانو دونوں ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے گھورا رہے تھے۔لیکن ایشعال مانو کو گھسیٹ کر لے گئی۔

“قسم سے ایشو اس کمینی ڈائن کو دیکھ کر دل چاہتا ہے دنیا سے رخصت کر دوں۔ عذاب کی طرح نازل ہوجاتی ہے۔” مانو غصہ سے بولی تھی۔”اچھا چھوڑو اس کو موڈ خراب مت کرو۔۔۔”

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” واااہ لو از مائی لائف (𝓵𝓸𝓿𝓮 𝓲𝓼 𝓶𝔂 𝓵𝓲𝓯𝓮) ” پری نے جیسے ہی وہ بک دیکھی تو خوشی سے چہکی تھی۔ اور کچھ بکس جو وہ پہلے سے پسند کر چکی تھی۔ وہ سب لے کر کاونٹر پر آئی۔۔۔

“انکل ان سب بکس کا بل بنا دیں۔”

” جی بیٹا آپ بکس دیں۔”شاپ کیپر ساری بکس شاپنگ بیگ میں ڈالانے لگا۔ لیکن آخری کتاب پر رک گیا۔۔۔

” بیٹا یہ کتاب پہلے ہی وہ جو سامنےسر کھڑے ہیں۔وہ لے چکے ہیں۔اور یہ لاسٹ بک ہی تھی۔ورنہ میں اپ کو سے دیتا۔”

“انکل پلیززز مجھ دے دیں میں آپ کو ڈبل پیمنٹ دوں گئی” پری معصومیت سے بولی تھی۔

“بیٹا آپ ان سر سے پوچھ لیں۔ میں کیا کہے سکتا ہوں۔”شاپ کیپر نے ہاتھ کھڑے کیے۔

” ہمم اچھا بات کرتی ہوں کیا پتہ مان جائیں”

پری نے اس شخص کی طرف قدم بڑھائے اور اس کو شخص کو پکارا جو کہ کسی فون کال میں بیزی تھا۔ ” ہیلو !! بات سنے” پری نے ہچکچاتے ہوئے مخاطب کیا۔ جب وہ شخص موڑا تو پری حیران سی ہوگئی۔ وہ شخص کوئی اور نہیں احمر تھا۔۔۔

“ارے پریہان آپ یہاں۔۔۔؟”

” جی میں پری وہ نا مجھے آپ سے کچھ چاہیے تھا۔”

“جی جی بولیں آپ کو کیا چاہیے “

احمر نے فون پینٹ کی پاکٹ میں رکھا اور سینے پر ہاتھ باندھے پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔جس پر پری تھوڑی سی گھبرائی تھی۔۔۔

لیکن احمر کو محسوس ہونے نہ دیا۔اور پلکوں کی جھالر کو نیچے جھکا کر بولی

” مجھے نا وہ بک چاہیے جو اپنے ابھی لی ہے۔” پری کی اس ادا پر وہ دل ہار بیٹھا تھا۔کونسی بک احمر انجان بنا تو پری نے پلکھوں جھالر کو اُٹھایا اور معصومیت سے انکھیں ٹپ ٹپائیں۔۔۔

” افففف یہ لڑکی” احمر پری کے انداز پر دل سے مسکرایا تھا۔ لیکن ابھی بھی پری کو تنگ کرنے کا سوچا جس پر پڑی کے منہ سے ساختہ بک کا نیم نکلا تھا۔

“وہ والی بک لو از مائی لائف

“(𝓵𝓸𝓿𝓮 𝓲𝓼 𝓶𝔂 𝓵𝓲𝓯𝓮)”

پری نے نام بولتے ہی دانتوں تلے زبان دبائی۔پری کو دیکھ احمر کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ ائی۔

“ہممم لو از مائی لائف وہ کیوں چاہیے۔۔۔؟”

احمر نے سوال دغا کیا جس پر پری پہلے تو خاموش رہی لیکن کچھ توقع کے بعد بولی ” مجھے لو سٹوریز پسند ہیں۔ لائک ہیپی کپل کی کمسٹری، مطلب سٹوریز میں سب اچھا ہوتا ہے۔۔۔

جس کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم سب اچھا اچھا امیجن بھی کرتے ہیں۔اور یہ حقیقت ہے محبت زندگی ہے، لیکن سچی ہو، دل سے نبھائی جائے، محبت آیک احساس ہے۔ جو کہ کبھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔اس کو صرف محسوس کیا جاتا ہے۔محبت ایسی ہونی چاہیے کہ چوٹ ایک کو لگئے درد دوسرے کو محسوس ہو۔”

پری کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولے جاری تھی۔ اور احمر ٹکٹی باندھے پری کو دیکھے اور سنے جارہا تھا۔۔۔

“ویسے کہنے کو یہ صرف باتیں ہیں۔اج کی دنیا میں بہت کم لوگ سچی محبت کرتے ہیں۔ آکثر لوگ حواس پرست ہیں۔یا پھر یوں کہنا بہتر ہوگا وقتی اٹریکشن کو محبت کا نام دیتے ہیں۔سچی محبت تو ایک طرفہ بھی ہوجاتی ہے۔ جس میں انسان محبوب کی رضا میں خوش ہوجاتا ہے۔۔۔”

پری مسلسل بولے جارہی تھی۔لیکن کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے خاموش ہوئی اور سامنے کی طرف دیکھا جہاں احمر ہلکی مسکراہٹ لیے پوری توجہ سے پریہان کو سن رہا تھا۔۔۔

“امیزنگ آپ یہ بک رکھ لیں۔اور آپکے الفاظ لاجواب ہیں، بہت خوبصورت انداز میں محبت کو بیان کیا۔۔۔۔”

“شکریہ”

احمر اگئے کچھ بولتا اس پہلے مانو کی کال آنے لگی۔ جس پر دونوں مسکراتے ہوئے بک شاپ سے نکل کر فوڈ کارنر کی طرف بڑھ گئے۔

جہاں سب ہی موجود تھے۔ سب نے ساتھ مل کر زنگر برگر کھائے اور پھر شاپنگ کے نکل گئے۔ نایاب اکیلی گئی تھی۔جب کہ احمر ازلان اور علیان ساتھ گئےتھے۔اور داریاں نے اپنے ساتھ ماہم کو گھسیٹا تھا۔۔۔

اب صرف مانو ایشو اور پری بیٹھے تھے۔ ایشعال نے پری کو ازلان اور آنمول کی چھوٹی سی جھڑپ کے بارے میں بتایا تھا۔

اب وہ دونوں مانو کا موڈ سہی کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن مانو کی سبز آنکھوں میں لال ڈورے یہ ظاہر کر رہے تھے۔ کہ اس نے غصے کو کمال کے ضبط سے برداشت کیا ہوا تھا۔۔۔

ایشعال نے آخر کار بولنے میں پہل کی جس پر مانو نے گھورا لیکن خاموش رہی۔۔۔

“مانو ہم جانتے ہیں کہ تم ازلان بھئیو کے لیے کیا جذبات رکھتی ہو اور اس بیچ انہوں نے نایاب کو اپنا دوست کہا اور سب جانتے ہیں تمہاری ان کے ساتھ بچپن میں ان کے ساتھ کتنی بنتی تھی۔ اب کی بار پری بولی تھی۔ تمہاری آنکھوں میں سب نظر آتا ہے”

“کیا یار پری اور ايشو اتنا بورنگ ٹاپک ازلان اور اس کی نایاب مٹی پاؤ دونوں پر چلو اپنی شاپنگ کرتے ہیں۔۔۔”

دونوں خوب جانتے تھے انمول کو لیکن پھر بھی خاموش رہے۔۔۔

اور شاپنگ کرنے کے لیے بڑھ گئے۔رات کو سب نے اپنی اپنی پیکنگ کر لی تھی۔صبح کی فلائٹ تھی۔ اس لیے انمول نے سالار اور مومل کو اپنے صبح ناشتے پر گھر ہی بولا لیا تھا۔سونے کے لیے بیڈ پر لیٹی تھی۔ کچھ یاد آنے پر جھٹ سے اُٹھی اور ڈراز سے کچھ نکالا اور اس پر کچھ لکھنے لگئی تھئ۔۔۔۔

🖤
🖤
🖤

پرسوں کی تٲریخ میں دوپہر کے وقت ایس-وی نے بلاسٹ کروانے ہیں۔سب محتاط رہیں۔

“پاکستان زندہ باد”

ہر ایجنٹ کو یہ پیغام موصول ہوا۔سب تیار تھے۔ اپنے ملک کی حفاظت کیلئے۔سارے مارخور اپنے مخصوص حلیے میں تھے۔۔۔

اپنی ملک کی خاطر جان کی بازی لگانے کو تیار پاکستان کے جوان۔۔۔

ہر ایجنٹ کو دوبارہ میسج موصول ہوئے۔۔

ریبل اینڈ سپائے ہیکر:

تم دونوں نے مساجد اور مدرس میں ساری چیکنگ کرنی ہے۔ لیکن کسی کی نظر میں آئے بغیر جلسہ گاہ پر نظر رکھنی ہے۔ تین دن بعد اسلام آباد میں سب سے بڑا جلسہ منعقد کیا جانا ہے۔۔۔

ڈیول کینگ اینڈ ایول مونسٹر:

تم دونوں نے ریلوے اسٹیشن پر نظر رکھنی ہے۔ جو بھی مشکوک افراد نظر آئے۔اس کو اپنی حراست میں لے لینا ہے۔بنا کوئی غلطی کیے۔۔۔۔

“ڈیول کینگ اس بار اپنی مرضی کی تو مشن سے باہر”

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

صبح اذانوں کے وقت مانو کی آنکھ کھلی انمول نے پہلے نماز ادا کی اور پھر اپنے کپڑے لے کر باتھ میں بند ہو گئی۔۔۔۔

مانوووو اُٹھ جاؤ ایشعال جو مانو کو جگانے کے غرض سے آئی تھی۔ مانو کو کمرے میں نا پاکر حیران ہوئی باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ تو ایشو سمجھ گئی۔ کہ مانو جاگ چکی ہے۔۔۔

تو وہ علیان کو جگانے کے غرض سے روم کے دروازے کو ناک کیا ایک بار دو بار مگر بے سود کوئی جواب نا پاکر اندر آئی جہاں گھپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔۔۔۔

جس پر ایشعال نے دروازے کے پاس لگے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ اون کی جس پر پورا کمرہ روشن ہوگیا۔ باتھ کی لائٹ اون تھی۔تو ایشو سمجھ گئی۔جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ رک گی۔۔۔

“افففف خدایا عليان بھئیو بندا کبھی خود بھی کمرے کے پردے ٹھیک کر سکتا مگر نا مجال ہے جو کبھی خود ٹھیک کریں۔”

ایشو خود سے بڑبڑاتے ہوئے کمرے کے پردے ٹھیک کرنے لگی تھی۔ علیان جو نہا کر ابھی باہر آیا تھا۔سینے پر ہاتھ باندھے ایشعال کی گوہرافشاں سنے لگ گیا۔۔۔

ایشو پردے سیٹ کرکے جیسے ہی موڑی تھی۔سامنے علی کو بنا شرٹ کے دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔

فورن سے دوسری طرف موڑی اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔

“ااااففففففف اللہ توبہ توبہ علی بھئیو آپ کو شرم نہیں آتی ایسے ہی باہر اگئے۔۔۔”

ایشو کی بات پر علی کی پیشانی پر بل پڑے “میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے۔ کہ مجھے بھئیو مت کہا کرو ” علی نے ایشعال کے قریب آتے ہوئے کہا تھا۔ ایشو کی جان لبوں کو آئی تھی۔” سوری۔۔!!” ایشعال ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔

” چلو پہلے بولو علی”

“کیوں۔۔۔؟”

ایشو نے ڈرتے ہوئے سوال کیا تو علیان نے دو اور قدم بڑھائے تھے۔” تو مائی سوئیٹ سی ایشعال میں نے تمہارے ہاتھ تمہاری پیاری سی آنکھوں سے ہٹا دینے ہیں۔۔۔”

“شرم کریں آپ “

ایشو نے اس بار نام لینے سے گریز کیا۔

اسی دوران علیان آپنی بیڈ پر پڑی شرٹ پہن چکا تھا۔مگر ایشو کو تنگ کرنے میں مزہ آرہا تھا۔۔۔۔

“شرم کس بات کی اور ویسے بھی سب بولتے ہیں۔ جس نے کی شرم پھوٹے اس کے کرم ۔اور یہ میرا کمرہ ہے میری مرضی جسے رہوں،بنا شرٹ کہ یا بنا ٹروزر کہ”

علی کی بات پر ایشعال کو اپنے کانوں سے دھوائے نکلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اس لیے بنا آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے دروازے کی طرف بھاگی تھی۔ مگر علیان نے ايشو کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔

“پلیز پلیز پلیز جانے دیں مجھے دوبارہ سے ایسے نہیں آؤں گئی۔”

“نہیں پہلے تم مجھے علی بولو پھر جانے دوں گا۔۔۔”

“مجھے اچھا نہیں لگتا اپکو ایسے بولنا” ایشو بے بسی سے بولی تھی۔

“میں نے کہا بولو علیان یا علی بولو جو تمہارا دل کرے علیان کا لہجہ قطعن تھا۔ تو ایشو نے ہار مان لی۔۔۔

“ع۔۔علی پلیز ہاتھ چھوڑ دیں۔۔۔”

ہممم پہلے اپنا دوسرا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاؤ۔

کیوں وہ کیوں میں نے کہا نا ہٹاؤ۔”

“اچھا ” ایشو نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا

” اب آنکھیں کھولو۔۔۔”

“کیااااا اپکا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔؟”

“میں نے علی بھی بولا اور دوسرا ہاتھ بھی ہٹایا یہ نہیں مان سکتی ایشو تیوری چڑھا کر بولی لیکن آنکھیں بند ہی تھیں۔۔۔پہلے میں نے آپکی مانی ہے اب آپ میری مانے اور ہاتھ چھوڑیں۔”

“افففف لڑکی بہت زیادہ باتیں کرتی ہو میں نے کہا کھولو تو کھولو۔۔۔۔”

“نہیں مطلب نہیں میں نہیں کھول رہی آپ بے شرم بنے ہوئے ہیں۔ گھر میں کیسی غنڈہ گردی ہے۔۔”

ایشعال کی بات پر علی کو ٹپ چڑھی۔علیان نے ایک جھٹکے سے ایشو کو اپنی طرف کھینچ تو کٹی پتنگ کی طرح علیان کہ سینے سے جا لگئی۔۔۔

“اہہہہہ علی میرا سر اپ نے دیوار میں مار دیا ایشعال نے آنکھیں کھولتے ہی دوہائی دی”

“ہممم دیوار تو نہیں تھی میرا سینہ تھا اب آنکھیں کھولوانی جو تھیں۔اتنی خوبصورت سی جو ہیں۔۔۔”

ایشو کی گال دہک اٹھے تھے۔”بے شرم انسان ۔۔۔”

ایشعال حیران سی علی کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھ رہی تھی۔اچانک ایشو کی نظر علی کی شرٹ پر پڑی تو حیران ہوتی بولی

“آپ نے شرٹ کب پہنی۔۔۔؟”

“وہ تو کب کی پہن لی جب تم موڑی تھی تب سے”

“کیاااااا مطلب بس مجھے تنگ کر رہے تھے۔۔۔”

“ہاہاہاہاہاہاہا بلکل جناب۔۔۔”

” ایشو کہاں رہے گئی۔۔۔ !!”

مانو نے ڈائنگ ٹیبل پر سے ہانک لگائی تھی۔۔۔

“ابھی ائی مانو۔۔۔۔”

ایشو نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا۔۔۔

“اس کا بدلہ ضرور لوں گئی.اپ سے بے شرم انسان” ایشعال بولتے ہی وہاں سے بھاگ گئی پیچھے علیان ہنستا رہا۔۔۔۔۔

“اففففف میرے خدایا تم دونوں سے تو میں تنگ ہوں۔” سعدیہ بیگم نے مصنوعی غصہ سے بولی۔۔

“وہ کیوں مما جانی “مانو نے پوچھا مانو نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔

“بلکل مما جانی اب تو ہم دونوں اچھی بچی بن گئی ہیں۔”

ایشو نے بھی مانو کا ساتھ دیا۔۔۔

“سدھر جاؤ تم دونوں ورنہ بہت مار کھاؤ گئے۔گلا ایسے پھاڑتے ہیں۔ جیسے پورے محلے میں علان کرنا ہو۔تمیز تو چھو کہ نہیں گزرتی۔۔۔۔”

:بابا جانی۔۔!!” مانو نے منہ بسور کر جبران صاحب کو گھسیٹا۔۔

“خبردار جبران” جو آپ نے ان دونوں کی سائیڈ لی۔۔۔

“اچھا بھئی بس کرو بہت زیادہ ڈانٹ لیا میری شہزادیوں کو”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *