Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 29)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 29)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
ازلان صبح کا گیا شام کو واپس آیا تھا۔ دانیہ بیگم کھانا بنا رہیں تھیں۔ ازلان کی آواز سنی تو وہ باہر آئیں تھیں۔اور اس کو مخاطب کیا تھا۔
“ازلان بیٹا آپ کہا گئے تھے، کیا ہوا تھا، کونسے دوست کی طبیعت خراب تھی، اب کیسا ہے وہ۔۔۔؟”دانیہ بیگم نے ازلان کو دیکھتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ ازلان کا دماغ پہلے ہی کیلر کی دی گئی، سزا سے خراب تھا، دانیہ بیگم کے سوالوں نے رہی سہی کسی پوری کر دی تھی۔
” کیا یار مما جانی آتے ہی سوال شروع ہوگی ہیں، بتا کر تو گیا تھا، کہ دوست کی طبیعت خراب ہے، اُس کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا، ایسے سوال کرتیں ہیں، جیسا چھوٹا بچہ ہوں”
ازلان بولتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ پیچھے دانیہ بیگم ششدر سی کھڑیں، اپنی تربیت میں کمی ڈھونڈ رہیں تھیں۔آخر کیا کمی رہے گی تھی، جو آج اُن کا پیارا بیٹا اُن سے اتنی بدتمیزی کر گیا تھا۔ صرف یہی پوچھنے پر کے وہ کہاں گیا تھا۔ لاکھ انا پرست، ضدی، مغرور صحیح، مگر وہ بدتمیز تو نہ تھا۔ مگر آج دانیہ بیگم کو افسوس ہوا تھا۔ اپنے خودسر بیٹے پر، آنکھ سے آنسو چھلکا تھا۔ کچن سے کام والی لڑکی کی پکار پر دانیہ بیگم ہوش کی دنیا میں واپس آئیں تھیں۔ اور اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی کچن کی طرف بڑھیں تھیں۔
ازلان کمرے میں آیا، تو انمول کو اپنے بیڈ پر سکون سے سوتے ہوئے دیکھا، دماغ پہلے سے ہی خراب تھا، انمول کا سکون سے سونا جلے پر نمک کا کام کر رہا تھا۔ازلان آگے بڑھا اور ایک جھٹکے سے سوتی ہوئی انمول کو اُوپر بیڈ سے زمین پر پھنکا تھا۔
“اہہہ۔۔!!”
انمول جو اس طرح کے حملے کے لیے تیار نہ تھی،اچانک زمین پر گرنے سے چیخی اُٹھی تھی،کل رات کے گرنے سے انمول کو پہلے ہی بازو میں درد تھا، اب دوبارہ گرنے ایسا محسوس ہوا تھا،کہ بازو ٹوٹ چکی ہے، انمول نے زور سے بازو کو دبایا تھا،اور غصے سے ازلان کے مقابل کھڑی ہوئی تھی۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی، کہ تم ہر وقت مجھے اس طرح ذلیل کروگے اور میں برداشت کروں گی۔” انمول درد کو ضبط کرتے ہوئے غرائی تھی،
” اور تمہیں کس نے حق دیا کہ میرے یا میری چیزوں کے قریب او” ازلان غصے سے ڈھاڑا تھا، کہ انمول دو قدم پیچھے ہوئی تھی،
” مجھے کس نے حق دیا۔۔۔؟”
انمول نے استہزاء انداز میں قہقہ لگایا تھا،” تمہیں پتہ ہے جس لمحے تم نے مجھے نکاح میں قبول کیا تھا۔ اُسی لمحے سے میں تم پر،تمہاری ہر چیز پر حق رکھتی ہوں”
انمول نے اپنی شہادت والی انگلی ازلان کے سینے پر ٹھوک کر بولی تھی، جسے سے ازلان کو مزید تیش آیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک زوردار تماچہ انمول کے نازک رخسار پر جڑ دیا، ابھی دل نہیں بھرا تھا، اس ظالم شخص کا کہ ایک اور تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھایا ہی تھا۔کہ اُس لمحے دانیہ بیگم اور سالار کمرے میں داخل ہوئے تھے،اور بروقت آگے بڑھ کر سالار نے ازلان کا ہاتھ تھاما تھا۔ سالار اور دانیہ بیگم کے پیچھے نایاب، ماہم اور داریاں بھی کمرے میں آئے تھے، مگر سامنے کا منظر دیکھ کر دنگ رہے گے تھے۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی، میرا ہاتھ پکڑنے کی یا ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان آنے کی” ازلان سالار پر دھاڑا تھا۔مگر سالار نے ازلان کا ہاتھ ایسا تھاما تھا،جیسے ابھی جڑ سے اُکھاڑ کر پھنک دے گا۔
“جہاں ایسے جاہل میاں ہوں، وہاں ہمت بھی دیکھائی پڑتی ہے اور درمیان میں بھی بولنا پڑتا ہے ۔” سالار نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا،چہرہ بے حد سنجیدہ تھا، کالی آنکھیں سرخ تھیں، شدید سرخ،اُس کا تو بس نہیں چل رہا تھا، کہ سامنے کھڑے شخص کو جان سے مار دے ۔
چٹاخ۔۔۔!!!
ازلان ابھی آگے بول ہی رہا تھا، کہ دانیہ بیگم کا ہاتھ اُٹھا تھا اور ازلان کے چہرے پر اُنگلیوں کی چھاپ چھوڑ گیا۔جہاں ازلان کا چہرہ ایک طرف کو جھکا تھا، ازلان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔کہ پہلے اُس کے باپ نے اور آج اس کی ماں نے سب کے سامنے اس کو تھپڑ مارا تھا۔سب کے ہاتھ منہ کو پڑے تھے۔ سالار نے بھی ازلان کا تھاما ہوا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑا تھا۔ماہم نے آگے بڑھ کر اپنی بہن کو سنبھلا تھا۔جس کی آنکھیں رونے سے لال تھیں،
“ازلان کیا کمی رہے گی تھی، میری پرورش میں۔۔۔!!”
دانیہ بیگم نے ازلان کو تھپڑ مارنے کے بعد اس کا گریبان پکڑتے ہوئے، اُس پر چیخی تھیں،ازلان کو شرٹ سے پکڑتے ہوئے، زور سے جھنجھوڑا تھا، آنکھوں سے ندامت کے آنسو رواں تھے۔
” بتاؤ ازلان کیا کمی رہے گئی تھی،میری تربیت میں۔۔۔۔؟ کل ہی اس بچی کو اتنی چاہ سے ، پیار سے بیاہ کر لے آئی تھی میں، اور اس کے ماں باپ کو وعدہ کیا تھا،کہ اس لڑکی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں آنے دوں گی۔ایک ہی دن میں تم نے میرے وعدے کو پاش پاش کر دیا، کیوں ازلان کیوں بیٹا۔۔۔۔؟
” اگر تمہاری جگہ احمر ہوتا اور انمول کی جگہ پریہان ہوتی، تو کیا تم برداشت کرتے۔۔۔؟” دانیہ بیگم کے سوال پر ازلان نے تڑپ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔
“مما میں جان سے مار دوں گا احمر کو، اگر اس نے میری بہن کو کچھ کہا بھی”
“کیوں جان سے مار دو گے۔۔۔؟وہ بھی تمہاری طرح اپنی بیوی کو مارے گا،ا اور وہ ان کا ذاتی معاملہ ہوگا۔تم کچھ نہیں کر سکو گے۔اسی لیے اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو۔”
مسلسل چیخنے کی وجہ سے دانیہ بیگم کی سانس پھولنے لگا تھی،وہ تھر تھر کانپ رہیں تھیں۔کہ داریاں نے ان کو سہارا دیا تھا۔ اور زبردستی باہر لے کر آیا تھا۔سبھی باہر حال میں آچکے تھے،سالار کا تو خون ابل رہا تھا۔ وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایک بار دیدار یار کرنے آیا تھا۔ مگر یہاں تو ایک دن کی بیاہی لڑکی کا حال دیکھ کر غصے سے پاگل ہونے کو تھا۔اسی لیے اس نے کچھ سوچ لیا تھا۔ہال میں سکوت چھایا ہوا تھا۔
“دانیہ خالہ۔۔!”
“کیا میں انمول کو اپنے ساتھ گھر لے جاؤں۔۔۔؟”
ماہم کہ سوال پر ہال میں بیٹھیں دانیہ بیگم اور داریاں کو تکلیف ہوئی تھی۔کہ ایک ہی دن میں اُن کہ گھر کا مان ٹوٹ گیا تھا۔دانیہ بیگم کا سر جھکا تھا۔کہ ماہم اپنی جگہ سے اُٹھ کر ان کے قریب جا بیٹھی تھی۔
” آپ کیوں شرمندہ ہو رہی ہیں۔ خالہ جانی ہم دونوں آپکی بیٹیاں ہیں۔ آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ بس میں یہ چاہ رہی تھی، کہ انمول اس طرح فرش ہوجائے گی۔”
ماہم کی بات پر سالار نے بھی اتفاق کیا تھا۔
” ہاں بلکل مانو بلی تم ایسے جاہل انسان کے ساتھ نہیں رہے سکتی” سالار انمول کی آنکھوں میں دیکھ کر بڑی حجت سے بولا تھا۔ لیکن ضروری تو نہیں جس پر حجت کی جائے وہ آپ کی بات سن لے گا۔ ہمیشہ سب کچھ بدلتا ہے،اور انسان تو گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدلتا ہے۔
” تم کسی ایسے شخص کی مستحق ہو جو تمہیں اپنی دل کی ہر دھڑکن سے محبت کرے، ایک ایسا شخص جو مسلسل اور مستقل تمہارے بارے میں سوچتا رہے۔
کوئی ایسا کہ جو ہر دن کا ہر منٹ اسی بات کو حیرت میں سوچتے گزار دے کہ تم کیا کر رہی ہو، کہاں ہو، کس کے ساتھ ہو، اور کیا تم ٹھیک ہو۔ کوئی ایسا جو تمہیں، تمہارے خوابوں تک لے جائے اور تمہارے ہر خوف سے تمہیں محفوظ رکھے۔
تمہیں ایک ایسا شخص چاہئے جو تمہاری عزت کرے، تمہارے ہر پہلو سے محبت کرے، خاص طور پر تمہاری خامیوں سے۔
تمہیں ایسے شخص کے ساتھ ہونا چاہیے جو تمہیں خوش کر سکے، خوش رکھ سکے بہت زیادہ خوش…!! “
سالار خاموش ہوا تھا، سب انمول کے جواب کے منتظر تھے۔




“نہیں میں کہیں نہیں جاؤں گی آپی، یہ میرا گھر ہے، اور میں خوش ہوں یہاں، آپ پریشان مت ہوں،اُس زکوٹا جن عرف جلاد انسان کو، میں خود ہی سیدھا کر لوں گی، اور ایسی چھوٹی موٹی باتوں کو میں دل سے نہیں لگاتی۔”
ارے وہ کتنی جھوٹی لڑکی تھی، جو ہمیشہ اپنی ذات پر دوسرے کو ترجیح دیتی تھی،جو سب کے سامنے یہ بول رہی تھی، کہ ایسی چھوٹی موٹی باتوں کو میں دل سے نہیں لگاتی،ارے سب سے زیادہ حساس وہی لوگ ہوتے ہیں، جو زخمی دل کے ساتھ بھی کبھی اپنے آنسو ظاہر نہیں کرتے، کبھی کسی پر اپنی ناراضگی ظاہر نہیں کرتے، کہیں وہ شخص ہمیں چھوڑ نہ دے، ہم سے ناراض نہ ہوجائے، اسی لیے اپنی زخمی دل کو خاموش کرا لیتے ہیں، دنیا کے سامنے ہسنے کھلکھلانے والے لوگ سب سے زیادہ زخمی ہوتے ہیں۔ ان کی خوبصورت سی مسکراہٹ میں ہزاروں چیخیں، سسکیاں قید ہوتی ہیں۔کتنے معصوم ہوتے ہیں نہ ، ایسے لوگ۔۔
انمول نے مسکرا کر ماہم اور سالار کی طرف دیکھا تھا، کچھ ٹوٹا تھا،آنکھوں میں شدید سرخ تھیں کالی آنکھیں، یا پھر ناراض تھیں۔انمول نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے،”شا۔ہ” کہ سالار صوفے سے کھڑا ہوا تھا۔وہ پوزیسیوز تھا۔ یہ تو انمول جانتی تھی۔ مگر اس حد تک کہ وہ ناراض ہوجائے گا۔
“اوکے ایوری ون میں چلتا ہوں کافی وقت ہوگیا ہے،اللہ حافظ۔۔! “
سالار داریاں سے ملتا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ بنا انمول کی سنے وہ چلا گیا تھا۔پیچھے انمول نے اپنی بے بسی پر زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔




ازلان غصے میں اپنے ہاتھ کو دیوار پر مار مار کر زخمی کر چکا تھا۔ اس کی ماں نے صحیح کہا تھا، انہوں نے ایسا کبھی نہیں سکھایا تھا۔ کہ صنف نازک پر ہاتھ اُٹھایا جائے۔دانیہ بیگم کی باتیں اسکے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہیں تھیں۔ازلان کی پیٹھ تھی، جب نایاب کمرے میں داخل ہوئی تھی۔کمرے کی اور ازلان کی حالت پر دلکشی سے مسکرائی تھی۔اور پھر آگے بڑھ کر ازلان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔آنکھوں میں جھوٹے آنسوؤں لائے، ازلان کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ ازلان کے چہرے کو اپنے ہاتھ کے پیالوں میں لیا تھا۔
“ازلان۔۔۔!!
پلیز تم کیوں خود کو غصے کی آگ میں جلا رہے ہو، انمول کی ہی غلطی ہوگی، وہ ہے ہی بدتمیز ، یہ سب ہوجاتا ہے اور تم شوہر ہو حق رکھتے ہو، اس پر مارو یا پیار کرو، وہ تمہاری محرم ہے۔” نایاب نے چالاکی سے ازلان کا برین واش کیا تھا۔
” نہیں !! نابی نہیں!! اس میں انمول کی تو کوئی غلطی نہیں تھی، وہ تو آرام سے سو رہی تھی، میں نے ہی اس کے ساتھ جانوروں والا سلوک کیا تھا،اور تو اور مما کے ساتھ بھی بدتمیزی کی، لعنت ہے مجھ پر لعنت کیسی اولاد ہوں،دوسروں کا غصہ میں نے گھر والوں پر اتار دیا، ناچاہتے ہوئے بھی میں نے غلط کر دیا”
ازلان نے بولتے ساتھ ہی دوبارہ سے دو چار موقے دیوار پر مار تھے، کہ اب ہاتھ سے خون رسنے لگا تھا۔ نایاب کا تو انمول کی حمایت سن کر دل ہی کھٹا ہو گیا تھا۔وہ تو یہاں ازلان کے دل میں انمول کی خلاف اور زہر بھرنے آئی تھی۔ مگر ازلان کو اپنے کیے پر ندامت سی محسوس کرتے دیکھ، اُس کو شدید غصہ آیا تھا۔ تبھی ازلان کا کندھا تھپ تھپاتے ہوئے باہر کی طرف نکل گئی تھی۔
داریاں ماہم کو گھر چھوڑنے چلا گیا تھا۔دانیہ بیگم خاموش سی حال میں بیٹھیں تھیں۔ انمول سے ان کی اداسی دیکھی نہیں جارہی تھی۔ اس لیے ان کے گلے سے جا لگی تھی۔ دانیہ بیگم نے بھی انمول کو اپنے حصار میں لیا تھا۔ اور سر پر بوسہ دیا تھا۔
“ارے واہ دانیہ بہو!!! لگتا ہے، بسٹ ساس بننے کا ایوارڈ حاصل کرنا ہے، تم نے اسی لیے بہو پر پیار نچاور کیے جارہی ہو”
ہال میں کلثوم بیگم آتی ہوئیں بولی تھیں۔ ان کی بات پر دانیہ بیگم آسودہ سی مسکرائیں تھیں،
” ارے کلثوم جانو آپ کو نہیں پتہ میری دانیہ مما پہلے پی ایوارڈ جیت چکی ہیں۔ پری اور ایشو کی ساس کو ہرا کے”
” ہاہاہا”
دانیہ بیگم اور کلثوم بیگم دونوں انمول کی بات پر ہنسی تھی۔ “چل نکمی شریر نہ ہو تو” کلثوم بیگم نے ہنستے ہوئے ہلکی سی چت مانو کو لگائی تھی۔
” ارے میں تو معصوم ہوں،کلثوم جانو سچی” انمول اپنی سبز آنکھیں ٹپٹپاتی ہوئی بولی تھی، “دانی مما بھوک لگی ہے زور سے” انمول نے مسکین سی شکل بنائی تھی۔کہ انمول کی شکل کو دیکھتے ہوئے، دونوں نے دوبارہ قہقہ لگایا تھا۔
وہ لڑکی ہمیشہ اچھے سے سب کو ہسانا جانتی تھی۔
وہ لڑکی ہمیشہ اپنے غموں کو چھپانا جانتی تھی۔
وہ لڑکی ہمیشہ خوشیاں بانٹنا جانتی تھی۔
دانیہ بیگم ہال سے اُٹھتی کچن کی طرف بڑھ گیں۔اور انمول بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گی،دروازے پر رک کر گہری سی سانس لی تھی۔ اور پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھی، مگر کمرے کا نقشہ بگڑا دیکھ، انمول کا دماغ چکرا گیا تھق۔بالکنی میں کھڑے اپنے شوہر نامدار کو دیکھا، جو سگریٹ پھونکتے میں مصروف تھا۔ ازلان کو دیکھ کر مانو کی ماتھے پر بل پڑے تھے۔ اور قدم بالکنی کی جانب لیے تھے۔
“سگریٹ پینے سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے،انسان مر جاتا ہے “
انمول نے بالکنی کے سامنے سے لان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ازلان نے ایک نظر اپنے دائیں طرف کھڑے وجود کو دیکھا، جو ایسے بیہو کر رہی تھی، جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نا ہو۔
“تو مر جانے دو، تمہاری جان چھوٹ جائے گی، ایسے جاہل انسان سے،پھر کسی اچھے شخص سے شادی کر لینا”
ازلان کی بات پر انمول کی آنکھوں میں نمی اُتری تھی،ایک پل کو دل کی ڈھڑکنیں تھم سی گئی تھیں۔انمول نے کن آنکھوں سے اپنے دشمن جان کو دیکھا تھا، وہ شخص کبھی بھی اس کو درد دینے سے باز نہیں آتا تھا۔کبھی جسمانی تکلیف دیتا، تو کبھی اپنے لفظوں کی مار مارتا۔
میں نے کہا وہ اجنبی ہے
دل نے کہا یہ دل کی لگی ہے
میں نے کہا وہ سپنا ہے
دل نے کہا پھر بھی اپنا ہے
میں نے کہا وہ دو پل کی ملاقات ہے
دل نے کہا وہ صدیوں کا ساتھ ہے
میں نے کہا وہ میری ہار ہے
دل نے کہا یہ ہی تو پیار ہے




سالار جب سے انمول کے گھر سے نکلا تھا۔ پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہا تھا۔ اُس کو انمول کے جواب سے شدید تکلیف ہوئی تھی۔رات کے سائے گہرے ہوئے تھے۔ تو سالار بکھری ہوئی حالت میں گھر آیا تھا، حالت ایسی تھی۔ کہ اُس سے چلا تک نہ جارہا تھا۔ ملازم نے آگے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی تو اس نے منع کر دیا۔ ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی،جس کو تھامے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ مگر اور پھر سامنے ایک طرف بنے کمرے کی طرف چلا گیا۔نشے میں دھت وہ خود سے بڑبڑائے جارہا تھا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دھڑام سے دروازہ بند کیا تھا۔
“آ۔آج۔ت۔تمہیں۔بب۔بتانا۔ہی۔ہو۔گا۔۔کک۔۔کیوں۔کرتی ہو ایسا میرے ساتھ۔ہم۔ہمیشہ۔تم سے محبت کی۔مگر مجھے کیا ملا کچھ نہیں میں ہی کیوں خالی ہاتھ رہے جاتا ہوں۔”
سالار نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر چیخا تھا۔ مگر کوئی تو نہ تھا،اس کے پاس وہ تو خالی ہاتھ تھا۔آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔ہاتھوں میں تصویر تھی۔ایک طرف جس میں اسکی فیملی تھی، اور دوسرے طرف اس کی محبت تھی۔اس معصوم کے پاس تو بچپن سے ہی کچھ نہ تھا۔وہ تو خالی ہاتھ تھا۔آخر کس گناہ کی سزا ملی تھی اس کو،
سچ ہے کہ دل تو دکھا ہے،
ہم نے مگر یہ سوچا ہے،
دل کو غم کیوں،
آنکھ ہے نم کیوں،
ہونا ہی تھا جو ہوا ہے،
سالار رات کو وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ روتے روتے سو گیا تھا۔




علیان اور احمر صبح کہ گئے،اب گھر میں داخل ہوئے تھے۔ رات کے گیارہ ہو رہے تھے۔ابھی وہ لوگ اُوپر چھڑنے لگے تھے۔ کہ سیڑھیوں کے اوپر طرف کھڑے دو وجودوں نے مل کر دونوں پر ٹھنڈے ٹھار پانی کی سلامی پیش کی تھی۔
“احمر : اہہہ”
” علیان: اففف “
سیڑھیوں کے پاس لگے بٹن پر ہاتھ مار تو کچھ بلب روشن ہوے، سامنے دیکھ کر دونوں نے بے ساختہ اپنا گلا تر کیا تھا۔ سامنے کھڑی خوبصورت اپسراوں کو لال آتش فشاں بنے دیکھ کر سانس اٹک سی گی تھی۔ احمر اور علیان نے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھسیانا ہو کر مسکرائے تھے۔
اور کچھ بولنے کے جیسے ہی لب کھولے تھے۔
” خبردار۔۔!! “
پریہان اور ایشعال دونوں یک زبان بولے تھے۔ اور فورن سے اپنے کمرے میں گئی تھیں۔ کمرے سے ایک تکیہ اور کمبل اُٹھاتی، باہر آکر اپنے شوہروں کی طرف اُچھالا تھا۔جس کو بروقت دونوں تھام گے تھے۔نہیں تو وہ بھی پانی میں گیلے ہوجاتے،
” کیا مطلب ہے ان سب کا “
علیان نے تکیہ اور کمبل کی طرف اشارہ کرتے، ایشعال پر تھوڑا روب جھاڑا تھا۔ جس پر ایشعال اپنی شہد رنگ آنکھیں چھوٹی کر کے گھورنے لگی تھی۔
” مطلب یہ کہ مسٹر علیان راجپوت آج آپ سامنے ہال میں پڑے ہوئے، صوفے پر آرام و سکون کریں گے، سمجھے آپ ” ایشعال نے ڈبل روب سے علیان کو چھاڑ پلائی تھی۔
“خدا کا خوف کرو لڑکی، ایک دن کے شوہر کے ساتھ ایسا کون کرتا ہے۔”
“جب ایک دن کا شوہر اپنی ایک دن کی بیوی کو بھول سکتا ہے، تو بیوی بھی اپنے شوہر کے ایسا کرسکتی ہے۔”
” خبردار اب جو ایک لفظ بھی منہ سے نکالا ورنہ پورا ہفتہ سونا پڑے گا۔” ایشعال نے اچھا خاصا دھمکایا تھا۔
” پریہان !!! “
احمر نے میسنی سی شکل بناتے ہوئے پری کو بلایا تھا۔ احمر کے انداز پر پریہان نے آئیبرو اچکائیں تھیں۔
“جی بولیں۔۔؟”
“وہ آج کمرے میں آنے وہ دوبارہ ایسا نہیں ہوگا”
احمر ہولے سے منمنایا تھا۔تو پریہان آپنا ایک ہاتھ کمر پر ٹکا گی تھی۔
” نہیں مسٹر احمر راجپوت اگر اج سزا ملے گی، تو آگے سے غلطی ہی نہیں ہوگی۔چلیں آپ دونوں آرام کریں ہمیں بھی نیند آرہی ہے، کیوں ایشو۔۔؟”
” آہہ۔۔!! ہاں بلکل پری ” ایشعال جمائی لیتے ہوئی بولی تھی۔دونوں اپنے کمروں کی جانب بڑھ گے تھے۔اور ٹھاہ کر کے دروازہ بند کیا تھا۔پیچھے علی اور احمر اتنی سی شکل لتے ہوئے صوفے پر لیٹنے کی کوشش کر رہے تھے، کہ نظر کچن سے نکلتے ہوئے دادا جی طرف پڑی تو جن کی طرح اُٹھ بیٹھے۔
” ہاہاہا کھوتے کے پتروں وہ پیچاری صبح سے تم دونوں کا انتظار کر رہیں تھیں، اب اتنی سی سزا تو ملنی تھی، تاکہ دوبارہ سے کوئی غلطی نہ ہو”
مصطفٰی صاحب مسکرا کر بولے تھے۔اور پھر پانی کا جگ لیتے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔پیچھے علیان اور احمر اپنی عزت افزائی پر پیج و تاب کھاتے رہے گے۔



صبح انمول کی آنکھ دیر سے کھلی، وقت دیکھا تو گیارہ کا ہو رہا تھا۔انمول صوفے پر سے جمپ لگانے والے انداز میں اُٹھی اپنے کپڑے لیتی فریش ہونے چلی گی۔کچھ دیر میں فریش ہو کر نیچے آئی تو سب ناشتہ کر کے آفس جا چکے تھے۔ کلثوم بیگم اور دانیہ بیگم ٹی-وی لانچ میں بیٹھیں، ٹی وی دیکھ رہیں تھیں۔
“اسلام و علیکم۔۔!!!” انمول نے دانیہ بیگم اور کلثوم بیگم دونوں کو سلام کیا تھا۔
“وعلیکم السلام۔۔!”
“کیسی ہے ہمارے گڑیا۔۔۔؟”
دانیہ بیگم نے بڑے پیار سے پوچھا تھا۔
“الحمداللہ ٹھیک ہوں،دانیہ مما،”
” چلو آجاو تمہارے لیے ناشتہ بناتی ہوں”۔تو انمول دانیہ بیگم کے سنگ کچن کی طرف بڑھ گیں۔ انمول کو ناشتہ بنا کر دیا۔ناشتے کے دوران مانو نے دانیہ بیگم کو مخاطب کیا۔۔
“دانیہ مما۔۔۔!!کیا آج مما کی طرف چلی جاؤں سب کو بہت زیادہ مس کر رہی ہوں۔”
“ارے ہاں بچے آپ کو جہاں جانا ہے، وہاں جاؤ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے بھلا،”
دانیہ بیگم نے پیارے سے سر پر بوسہ دیا تھا۔
“اچھا کیسے جاو گی۔۔۔؟”
“ہآں یہ تو ہے، ہاں رکشہ کر لوں گی، واپسی پر اپنی گاڑی لاؤں گی۔”
“ارے نہیں انمول بیٹا، میری گاڑی فری ہے، میں تو چلاتی نہیں، تو تم اپنے استعمال میں رکھو، شام کو حسن صاحب آتے ہیں، تو نئی گاڑی کا بولتی ہوں،”
“ارے نہیں نہیں مما جب ایک گاڑی ہے، تو اور کیوں منگواتی ہیں۔آپ مجھے گاڑی کی چابی لا دیں”
” ہاں ابھی لائی “
دانیہ بیگم گاڑی کی چابی لینے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیں۔انمول بھی اپنا پرس اور موبائل فون لینے کمرے میں چلی گی۔آج اس نے اپنی آنکھوں جیسا سبز رنگ پہنا تھا، سبز انکھوں میں کالا کاجل اور ہونٹوں پر ہلکی پیچ کلر کی لپسٹک لگائی تھی۔پرفیوم کی بوتل سے اپنے اُوپر پرفیوم کا چھڑکاؤ کیا تھا۔اور باہر حال میں آئی تھی، جہاں دانیہ بیگم گاڑی کی چاہیاں تھامے بیٹھیں تھیں۔
انمول ان سے چابیاں لیتے باہر کی جانب بڑھ گی۔انمول راجپوت ہاؤس سے پہلے کہیں اور جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔راستے سے اس نے پھولوں کی دکان سے ایک خوبصورت سا لال اور کالے گلابوں کا دستہ لیا تھا۔ساتھ ہی چھوٹا سا گفٹ لیتی وہ اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔




“سلام صاحب” ایک ملازم نے سر جھکائے مودبانہ انداز میں سلام کیا تھا۔
“ہممم وعلیکم السلام!!یہ سالار کہاں ہے۔۔۔؟”
اس نے کروفر سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ملازم کے سلام کا جواب دیا تھا اور اس کے بعد سوال کیا تھا۔”
“صاحب جی، وہ تو سو رہے ہیں” ملازم نے سر جھکائے جواب دیا تھا۔
“جاو اُس سے بات کرو،اُس کو بولو کہ میں آیا ہوں، ملنے”
“جی صاحب جی”
ملازم اوپر کی طرف آیا تھا۔اور اس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، سالار جو ابھی اپنے کمرے میں آیا تھا۔ اور فریش ہونے گیا تھا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔سامنے وہ نکلا تھا،باتھ ٹاول میں ماتھے پر بال چپکے ہوئے تھے۔
“کیا ہوا۔۔؟” سالار نے باہر آتے ہوئے پوچھا تھا۔
“وہ صاحب جی، بڑے صاحب آئے ہیں، آپ سے ملنے “ملازم نے ہڑبڑاتے ہوئے جواب دیا تھا۔
” ہممم چلو آتا ہوں۔ ” تو ملازم نیچے سالار کے آنے بتاتا ہوا کچن کی طرف چلا گیا۔
کچھ ہی منٹس گزے تھے۔ کہ وہ سیڑھیاں اُترتا ہوا، بڑے کروفر سے چلتا آرہا تھا، بلیک جینز پنٹ اور سفید شرٹ پہنے وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔ اس کی کالی چمکیلی بھیڑیے نما آنکھیں، سرخ تھیں، سالار شاہ اپنی ماں اور باپ سے بہت مشابہت رکھتا تھا،سالار کو دیکھ شہیر شاہ کی لب پھلے تھے۔ چہرے پر اکڑ پن واضع نظر آرہا تھا۔سالار نے آتے ہی مقابل سے سوال کیا تھا۔
” بولیں کیا کام ہے، کس مطلب سے آئیں ہیں۔۔۔؟ “
سالار نے آتے ہی دو ٹوک سوال پوچھا تھا۔جس پر شہیر شاہ نے ہونٹوں میں دبائی ہوئی سگریٹ، ایش ٹریے میں مسلی تھی،اور سالار کی جانب دیکھا تھا۔
” ارے میرے سپوت کسی کام سے نہیں آیا، تمہیں یاد کر رہا تھا، اور ویسے بھی سنا تھا، تم کافی بیمار تھے،تو سوچا کہ اپنی ایک لوتی اولاد سے مل لوں،مگر یہاں آتے ہی تمہارے طنز ہی شروع ہوگے۔”
شہیر شاہ کی بات پر سالار نے بھرپور انداز میں قہقہ لگایا تھا۔
” واہ بابا واہ، اُپس یار میں کیوں بھول جاتا ہوں،میرا باپ تو میری ماں کے ساتھ ہی اس دنیا سے چلا گیا تھا، تو مسٹر شہیر شاہ!! پانچ سال بعد میری یاد آئی۔اس سے پہلے بارہ سال پہلے آئی تھی، وہ بھی پراپرٹی کی لیے،ورنہ تو نہیں آتی۔ اور آئے بھی کیوں آپ کو تو اپنی عیاشی سے محبت ہے، پیسہ سے اور دل بھلانے والی تتلیوں سے”
سالار کی بات پر شہیر شاہ نے جبڑے بھیجنے تھے،چہرہ غصے کے مارے سرخ ہوا تھا۔ ابھی شہیر شاہ جواب دیتا، کہ کسی کی نسوانی آواز گونجی تھی۔
” سرپرائز !! “
شہیر شاہ اور سالار بیک وقت سامنے کی طرف دیکھا تھا۔چہرے کو گلاب کے خوبصورت دستے کے پیچھے چھپائے ہوئے تھی،یہ جانے بغیر کہ سالار کے ساتھ کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، انمول نے آگے بڑھتے ہوئے تازے پھولوں کا دستہ سالار کی طرف بڑھایا تھا۔جس کو ناچاہتے ہوئے بھی مانو کا شاہ تھام گیا تھا۔چہرے پر معصوم سے ایموجی کا ماسک لگائے وہ سبز رنگ کے سادہ سے فراک اور چوڑی دار پاجامہ پہنے بہت ہی عمدہ لگ رہی تھی۔ سالار کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر شہیر شاہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
” سوری شاہ !! “
انمول نے کانوں کو پکڑتے ہوئے اُٹھک بیٹھک شروع کی تھی، ابھی انمول دو بار ہی جھکی تھی۔کہ تیسری بار سے پہلے ہی فورن سے سالار اُس کو تھام گیا تھا۔شاید مانو نے صوفے پر بیٹھے شہیر شاہ کو نہیں دیکھا تھا۔
” بس کرو ڈرامے باز مانو، میں نہیں ہوں ناراض، ہاں کل تک تھا مگر اب نہیں ہوں”
اس لڑکی کی موجودگی نے ہی سالار کے چہرے پر سے سرد پن کو کہیں دور پھنک دیا تھا۔ وہ جیسے اپنے باپ کی موجودگی کو سرے سے ہی فراموش کر گیا تھا۔
“اچھا اب میں ماسک اُتار رہی ہوں، پکا تم ناراض نہیں ہونا”
تو سالار نے نفی میں سر ہلایا تھا۔جس کو دیکھتے مانو نے جلدی سے چہرے پر سے ماسک اُتارا تھا۔ مگر یہ کیا مانو کا چہرے سے ماسک اُتارنا تھا۔
کہ شہیر شاہ کے پیروں تلے زمین کھسک ہی گئی تھی۔ہوبہو وہی چہرہ، وہی سبز آنکھیں، وہیسے ہی گال میں پڑتا ہوا گڑھا، مگر فرق صرف اتنا تھا، کہ جس کے ساتھ زندگی کا ایک حصہ گزارا تھا، وہ بھرپور مرد تھا، اور سامنے کھڑی نازک سی لڑکی تھی۔
شہیر شاہ کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں تھیں۔ سانس سینے میں اٹکنے لگی تھی۔انمول سالار کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ کہ نظر سامنے کھڑے شخص پر ٹھہر گی۔کیوں کہ وہ کسی دوسرے کی موجودگی کو بلکل ہی محسوس نہ کر پائی تھی۔انمول کی مسکراہٹ مانند پڑتے دیکھ سالار بھی اپنی دائیں جانب دیکھا تھا۔اور سالار نے خود ہی انمول کو بتایا تھا۔
” انمول !! یہ میرے بابا ہیں، شہیر شاہ، مگر نام کے بابا ، یہ میرے ساتھ نہیں رہتے”
” اوہو سوری”
” اسلام وعلیکم !! انکل میں شاہ کی کلاس فیلو انمول ہوں” جس پر شہیر شاہ نے محض سر ہلا کر جواب دیا۔ کوٹ کی پاکٹ سے رومال نکال کر اپنے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا تھا۔
” شاہ میر عباس “
شہیر شاہ کے ہونٹ ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔دل خوف کے مارے لرز اُٹھا تھا۔جس ماضی کو وہ سرے سے ہی بھلا چکا تھا۔ سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا کر، کیا کچھ یاد نہ آیا تھا۔
“اچھا مانو بلی کیا کھانا پسند کرو گی”
“اممم زیادہ کچھ نہیں،شاہ بس ایپل جوس لے کر آنا میرا فیورٹ ہے”
انمول نے ہونٹوں پر زبان پھرتے ہوئے کہا تھا۔اُس کی حرکت پر سالار نے سر نفی میں ہلایا تھا۔انمول بات سن کر شہیر شاہ کو کوئی بھولی بسری بات یاد آئی تھی۔
“میر !! یار چل کچھ پیتے ہیں”
” ہاں ہیرے جوس پیتے ہیں، مگر میری پسند کا ایپل جوس، ہائےےے” میر نے ہونٹوں پر زبان پھرتے ہوئے کہا تھا۔
“میر تو کھبی نہیں سدھرنے ولا ہمیشہ بھوکوں کی طرح حرکتیں کرتا ہے، اب تو سدھر جا باپ بنے والا ہے۔”
” ہاہاہا، ہیرے ابھی کہاں ابھی تو تھوڑا اور بگڑیں گے”
” نہیں نہیں وہ زندہ نہیں ہے “
دل کی ڈھڑکنوں میں عجیب سا شور برپا ہوا تھا۔نا چاہتے ہوئے بھی شہیر شاہ انمول کو مخاطب کر گیا تھا۔ جو اپنے موبائل فون میں مصروف تھی۔
” بیٹا آپ کے والد کا کیا نام ہے۔۔۔؟ “
شہیر شاہ کی ہلکی آواز پر انمول نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔
اس کی دیکھنے کا انداز ” اہہہہ ” ہوبہو ویسا تھا۔اس سبز آنکھیں۔
” انکل میرے بابا کا نام جبران راجپوت ہے، راجپوت انڈسٹری کے مالک مصطفٰی راجپوت کے بڑے بیٹے میرے بابا ہے۔”
” صحیح “
شہیر شاہ نے مختصر سا جواب دیا تھا۔ اور اُٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گے۔پیچھے مانو کو بھی اُنکا ہڑبڑانا کچھ عجیب سا لگا تھا۔ مگر اپنی گیم میں مگن اس نے گندھے اچکا دیے تھے۔
جاری ہے۔۔
