Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 20)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 20)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
“”دادو جان۔۔!!!””
انمول بھاگنے کے ساتھ حلق بل چلائی تھی۔روبن رابرٹ جس پر گولی چلی تھی۔وہ موقع پاتے ہی ایک طرف کو ہوا تھا۔ لیکن اسی وقت مصطفٰی صاحب روبن سے مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تھے۔ کہ انمول کی پکار پر سامنے کی طرف دیکھا تھا۔اس سے پہلے گولی مصطفٰی صاحب کو لگتی انمول نے ان کو دھکا دیا تھا۔جس سے مصطفٰی زمین پر گرے تھے۔مگر خون کے چھنٹے انکے منہ پر پڑے تھے۔پورے ریسٹورنٹ میں ایک عجیب سی وحشت تاری ہوگیا تھی۔وہاں موجودہ سبھی لوگ ڈرے سہمے بیٹھے تھے۔
“اہہہہ”
ایک سسکی فضا میں گونجی تھی۔تیزی سے اتی ہوئی گولی، مانو کی بازو میں پیوست ہوئی تھی۔جس سے مانو کی بازو لہو لوہان ہوچکی تھی۔ خون کے چھنٹے مصطفٰی صاحب کے چہرے پر پڑے تھے۔سبھی پر سکتہ تاری ہوچکا تھا۔سبھی اپنی جگہ سٹیل ہوگے تھے۔
“اہہہ” انمول ایک بار پھر درد سے سسکی تھی۔ جس کو سنتے ہی سبھی نے ہوش سنبھالا تھا، سکتے کی بیڑیوں میں جکڑے پیر جیسے آزاد ہوئے تھے۔ “انمول” سبھی یکجاں انمول کو پکارا تھا۔اور اس کی جانب لپکے تھے۔جبران صاحب نے نڈھال سی اپنی شہزادی بیٹی کو بازوؤں کے حصار میں بھرا تھا۔ جس کا چہرہ درد کی شدت سے سفید پڑ چکا تھا۔علیان نے باپ سے اپنی ننھی سے شہزادی کو لیا اور باہر گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔ پری، ایشو مومل تینوں، انمول کی حالت دیکھ کر روئے جارہیں تھیں۔ وہیں ماہم نے علی کے ساتھ بہن کو سنبھالا تھا۔جو حوش و حواس سے بیگانہ ان کی گود میں پڑی تھی۔احمر نے گاڑی کو آڑا لیا تھا۔
مانو کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے۔ جہاں ڈاکٹرز انمول کو آئی-سی-یو میں لے گئے تھے۔انمول کا آپریشن جاری تھا۔سبھی اس وقت ہاسپٹل کے کوریڈور میں موجود تھے۔ انمول کی صحت یابی کی دعا کر رہے تھے۔کوئی بھی ایک پل کو نا بیٹھا تھا۔
سالار ٹہلتے ہوئے، اس کی شرارتوں کو سوچ رہا تھا۔ ازلان اس کے لمس کو یاد کرتے ہوئے۔ دیوار کے ساتھ لگا ٹھہرا تھا۔داریان اور ماہم دروازہ پر موجود تھے۔ پری،ایشو،اور مومل پرے روم میں نمازِحاجات ادا کر رہیں تھیں۔ مصطفٰی صاحب،ابراہیم صاحب، حسن اور جبران ساتھ بیٹھے تھے۔ دل میں اپنی بچی کی دعائیں کر رہے تھے۔ دو گھنٹے بعد ڈاکٹر آئی-سی-یو کے باہر نکلے تھے۔ سبھی ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔ احمر اور علی جو ابھی دوائیآں لے کر آئے تھے۔ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوئے۔
“ڈاکٹر!! مانو کیسی ہے۔۔۔؟”
سبھی نے ایک ہی سوال کیا تھا، تو ڈاکٹر مسکرا دیا۔
Now,She is fine ![]()
گولی بازو میں لگی تھی۔ جو کہ نکال دی ہے۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تھوڑی دیر میں پیشنٹ کو ہوش آجائے گا۔تو ہم روم میں شفٹ کر دیں گے۔تو آپ سب مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر بولتا ہوا آگے کی طرف بڑھ گیا۔
پیچے سب نے شکر کا سانس لیا۔اور نمازِ شکرانہ ادا کیا۔
مانو کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد مانو کو ہوش آیا۔ تو سبھی کو اپنے ارد گرد کھڑے تکتے ہوئے پایا تھا۔
” کیا اپ سب مجھے کھانا سمجھ کر کھانے والے ہو۔۔۔؟”
انمول کی اس قدر بےتکی بات پر سب نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔کہ اس حالت میں بھی اس کو سکون نہیں تھا،اور پھر مانو کی معصومانہ سی شکل دیکھ کر سب کے لب مسکرائے تھے۔
” میری بیگم کی نکمی سی اولاد ، ذلیل عرف ، آفت کا پرکالہ سب کی جان نکال دی تھی۔جبران صاحب انمول کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولے تھے۔
“ہاہاہا”
“ارے بابا جانی اپکو تو پتہ ميں بہادر ہوں۔” انمول نے اپنا فرضی کالر جھاڑا تھا۔جس پر سبھی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائے تھے۔
“بلکل ٹھیک کہا میری بیٹی پوری شیرنی ہے” مصطفٰی صاحب نے پیار سے مانو کو پچکارا تھا۔
“ارے بابا جانی، اسی لیے تو میں نے سوچا ہے، نئی مما لانے کو، کیوں کے میری مما تو ہر وقت، آپ کی جان نکالتیں ہیں۔”
انمول نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کیا تھا،
” مانو!! اگر مما جانی سے چھترول نہیں کروانا چاہتی، تو یہ بکواس دوبارہ مت کرنا” ایشعال نے آنکھیں دکھائیں تھیں۔ ” گڑیا درد زیادہ تو نہیں ہو رہا “احمر فکرمندی سے گویا ہوا تھا۔” الحمداللہ اے ون” انمول کے مثبت جواب پر سبھی نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
آپ سب یہی رکیں میں اور سالار کچھ کھانے کو لاتے ہیں ۔داریان پیٹ پر ہاتھ رکھے معصومیت سے منہ بنا کر بولا تھا۔
“ہاں داری مجھے بھی بہت زیادہ بھوک لگی ہے۔ ہاہر سے لانا کچھ یہاں ہاسپٹل نہیں اور ہاں میرے لیے لارج پیزا، دو پلیٹ بریانی، چار زنگر برگر، وائٹ کڑاہی اور اس کے ساتھ نان اور کریم چاٹ ، اور ساتھ میں کوک بھی، ہائے!!! بھوک سے حال ہی برا ہے۔” مانو خالی ڈکار دیتے ہوئی بولی۔ “اف اللہ میری آئسکریم تو میں بھول ہی گی تھی۔ میرے لیے بس یہی لانا ہے۔”
مانو نے ہونٹوں پر زبان پھری تھی۔ مانو کی اس حرکت پر سالار بے ساختہ نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔کیوں کہ وہ اس کی معصومیت کا دیوانہ تھا۔کیا
“یہ سب کھانا صرف تم کھاؤ گی۔”ازلان نے ہونقوں کی طرح مانو سے سوال کیا۔” ہاں بلکل کیوں تمہیں کوئی مسئلہ ہے۔۔۔؟” انمول نے الٹا سوال کیا تو ازلان گڑبڑا گیا۔ “نہیں مجھے کیا مسئلہ ہوگا۔”
ازلان نے بات ہوا میں اُڑائی تھی۔
” مگر انمول اس طرح تمھارا ویٹ بڑھے گا ” نایاب نے حیرانی کا مظاہرہ کیا۔ “نہیں نہیں نابی میرا نہیں بڑھتا، میں تمہاری طرح گوریلی نہیں بنتی” انمول نے شان بے نیازی سے کہا تھا۔ مانو کی بات پر سبھی کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
” ازلان پلیز مجھے گھر چھوڑ او، پہلے ہی موڈ سپوئل ہو گیا ہے۔” مانو کی بات سنتے ہی نایاب کو پتنگے لگ گے تھے، تبھی غصے سے پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئ۔
“بابا میں نایاب کو گھر ڈراپ کرتا آؤں”۔ازلان حسن صاحب کو بولتا، نایاب کے پیچھے، کمرے سے نکل گیا۔جسے دیکھ مانو نے سر جھٹکا تھا۔
“بھئیو گھر کب چلیں گئے۔”
مانو نے چہرے پر بےزاریت طاری کرتے ہوئے، علیان سے کہا تھا۔ “ارے گڑیا،ابھی تو اپکی طبیعت ٹھیک نہیں،ابھی آپ آرام کرو”
علی بات پر مانو نے چہرے کے کئی زاویہ بگاڑئے اور دوبارہ بولی”بھئیو اب واپس اپنے ملک چلتے ہیں۔باقی کا ٹرپ اگلے سال مکمل کریں گے۔”مانو خاموش ہوئی تو علی نے جوابً “ہممم” ہنکار بھری تھی۔
کچھ ہی وقت میں داریان اور سالار کھانا لے کر آئے۔ سبھی نے کھانے کے ساتھ بھر پور انصاف کیا، سبھی اب بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ تو علی اور احمر نے سب کو گھر بھیج دیا۔ جبران صاحب نے بھی انمول کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبئی جانے کا ارادہ ترک کردیا۔ اور واپس پاکستان جانے کو ترجیح دی۔ سبھی گھر لوٹ چکے تھے۔صرف علی اور احمر کے علاوہ، وہ دونوں انمول کے ساتھ ہاسپٹل رکے تھے۔
ازلان جب نایاب کو گھر چھوڑنے آیا ۔تو دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم کو ہال میں پریشان سا بیٹھے ہوئے دیکھا، سعدیہ بیگم کی نظر جیسے ہی ازلان پر پڑی تو فورن سے پہلے ازلان کی طرف کو لپکی تھیں۔
“ازلان بیٹا میری انمول کیسی ہے۔۔۔؟” سعدیہ بیگم آنکھوں میں آنسو لیے بولیں تھیں۔”خالہ جانی وہ ٹھیک ہے،آپ کو احمر نے بتایا ہے نا ، پھر کیوں پریشان ہو رہیں ہیں” ازلان کے بتانے پر سعدیہ بیگم نے سر اثبات میں ہلایا۔ جبکہ ازلان فریش ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تبھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں باقی سبھی لوگ گھر آگے۔ جبران صاحب اور حسن صاحب نے واپسی کا سب کو بتایا کہ پاکستان جارہے ہیں۔ کسی کو بھی کوئی مسئلہ نا تھا۔
انمول سو چکی تھی۔علی اور احمر بھی کمرے میں موجود ڈبل صوفوں پر ٹیڑھے، میڑھے ہو کر سو گئے۔ صبح ڈاکٹر کے آنے پر دونوں کی انکھ کھل تھی۔ڈاکٹر انمول کے بازو کی پٹی تبدیل کر کررہے تھے۔ کہ مانو نے ڈاکٹر کو مخاطب کیا۔
“ڈاکٹر انکل !!”
“جی بولیں ڈول” مانو نے ابھی مخاطب ہی کیا تھا۔ کہ ڈاکٹر کے اردو میں جواب دینے پر آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی، جیسے کہ اس کو امید نا تھی۔ جو دیکھنے میں بلکل انگیز تھا۔مگر اتنی صاف شفاف اردو پر وہ ششدر سی رہے گی تھی۔ ڈاکٹر نے انمول کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات دیکھ کر دھیما سا مسکرایا تھا۔ پھر خود ہی بولا
“ڈول میرے مما پاکستان سے ہیں اور بابا امریکہ سے، تو شکل بابا سے ملتی ہے، اور زبان ماں کی طرف سے ہے۔” ڈاکٹر کی بات سمجھ جانے پر مانو کھسیانی سی مسکرا دی اور پھر اپنی بات بولی
“ڈاکڑ انکل! مجھے اب گھر جانا ہے۔ یہاں کی قید کافی ہے۔” مانو نے آنکھیں ٹپ ٹپائیں تھیں۔ مگر ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ جس سے مانو کی کال میں موجود گڑھے اُبھر کر معدوم ہوئے تھے۔ مانو کے چہرے پر مصومانہ تاثرات دیکھ ڈاکٹر کے چہرے پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔ اور سر اثبات میں ہلایا تھا۔
“اللہ حافظ ڈول، اپ اپنا بہت خیال رکھنا، آپ بہت بہادر ہو”سر پر شفقت پھرا ہاتھ رکھا کر آگے بڑھ گئے۔
“چلیں آپ دونوں میں سے کوئی ڈسچارج پیپرز سائن کر دیں۔” ڈاکٹر جاتے ہوئے پلٹا تھا۔
“جی چلیں میں چلتا ہوں” علیان ڈاکٹر کے ساتھ چلا گیا۔احمر نے فون نکال کر اپنے آنے کی اطلاع گھر دی۔ سب گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
علیان اور احمر، انمول کو لے کر گھر پہنچے تھے۔ ہال میں سبھی گھر والے موجود تھے۔ سعدیہ بیگم انمول کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئیں تھیں۔چٹاک چٹاک کر کر منہ چوم ڈالا۔
“میری جاں کیسی ہو۔۔۔؟
زیادہ درد تو نہیں ہو رہا، سعدیہ بیگم مانو سے دور ہوتے ہوئے فکر مندی سے بولیں تھیں۔
” ہیں !! مما جانی آپ ٹھیک تو ہیں!! آپ کو بخار تو نہیں، کالی چنڈی سے، دیوی ماں کیسے بن گیں۔میں آپکی زندگی کی ایک لوتی بے سکونی، آفت کاپرکالہ انمول ہوں”
مانو نے حیرت سے سعدیہ بیگم کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کے بخار چیک کرنے لگی۔جس کے بدلے میں سعدیہ بیگم نے گھور کر ہلکی سی چیت مانو کی کمر پر رسید کی تھی۔
” ہاں اب لگا نا میرے بابا جانی کی ڈارلنگ سامنے کھڑی ہے۔” مانو نے بتیسی کہ نمائش کرتے ہوئے کہا تھا۔سبھی گھر والے مانو اور سعدیہ بیگم کی نوک جھونک انجوائے کر رہے تھے۔
چلو مانو بچہ آپ آرام کرو لو، آج شام میں ہماری پاکستان کی فلائٹ ہے۔ پری ایشو اور مومل انمول کو کمرے میں لے کر آئیں تھیں۔مانو بیڈ پر سر رکھتے ہی سو گی۔ کیوں کہ دوائیوں کے زیرے اثر تھی۔
شام کا وقت تھا۔ سبھی لوگ اس وقت پلین میں بیھٹے پلین کی اُڑان بھرنے کے انتظار میں تھے۔ کچھ ہی دیر میں پلین بادلوں کو چیرتا ہوا اوپر کی طرف اُڑ چکا تھا۔امریکہ سے بہت سی یادیں لے کر جارہے تھے۔



سب کو پاکستان آئے ہوئے دو دن گزر چکے تھے۔ پاکستان میں بھی کچھ حالت بہتر ہوچکے تھے۔ سکول، یونیورسٹیسز سبھی کچھ دنوں میں کھولنے کا علان ہوچکا تھا۔
” پاکستان واپسی کے دو دن بعد !!”
“ازالان کیا تم فری ہو ۔۔۔؟”
نایاب ازلان کے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولی۔
” ہمم بولو” ازلان نے مختصر سا جواب دیا تھا۔
” ازلان میں چاہتی ہوں،کہ اب ہم دونوں کو،گھر میں شادی کی بات کر لینی چاہیئے، کیوں کہ تمہارے پرپوزل کو دو سال گزر چکے ہیں” نایاب کی بات پر ازلان کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
” تمہیں رات کے اس پہر کیا سوجھی، یہ بات کرنے کی۔” ازلان کا موڈ بگڑا تھا۔ “زی” نایاب نے ابھی بات بولنی شروع ہی کی تھی۔ کی ازلان نے بات درمیان میں کاٹ کر بولا “زی نہیں ازلان، تم مجھے زی نہیں بول سکتی” ازلان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
“کیوں ! میں کیوں نہیں بول سکتی زی، کیا زی صرف تمہاری چاہیتی انمول ہی بول سکتی ہے”
نایاب نے طنز کا تیر برسایا تھا۔
“جسٹ شٹ اپ”
ازلان نے اپنے سخت لہجے پر ضبط کیا تھا۔ “مما میری شادی کرنا چاہتی ہیں” نایاب آنکھوں میں آنسوؤں سموئے ہوئے بولی تھی۔ جس کو دیکھ کر ازلان پگھل سا گیا تھا۔
“اچھا میں بات کرتا ہوں، تم رو تو نہیں”ازلان نے آگے بڑھ کر نایاب کے آنسو انگلیوں کے پوروں سے چنے تھے۔ جس پر نایاب جھٹ سے ازلان کے سینے سے لگ گی تھی۔ ازلان نے نایاب کے گرد بازوں حائل کیں تھیں۔ کیوں کہ واقعی وہ بھی نایاب جیسی میچور لڑکی کو ہی زندگی میں چاہتا تھا اور اب بہت جلد نایاب کو اپنے نکاح لانا چاہتا تھا۔
“دور گھڑی قسمت نے ان کو دونوں ساتھ دیکھ کر زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ضروری نہیں جو انسان سوچے ہمیشہ ویسا ہی ہو۔”




سب کو پاکستان لوٹے ایک ہفتے سے زائد وقت گزر چکا تھا۔ہر چیز معمول پر اچکی تھی۔ تین مہینے بعد آج مانو اور ایشو نے یونیورسٹی جانا تھا۔مگر مانو محترمہ تھیں۔ کہ سونے میں مردوں سے شرط لگاتیں تھیں۔ اور ہمیشہ جیت جاتی تھی۔ اج بھی کچھ ایسا ہی ہال تھا۔ صبح سے ايشعال اور سعدیہ بیگم مانو کو جگانے کی کوشش میں جدوجہد کر رہیں تھیں۔ مگر مجال ہے۔ جو مانو میں ٹس مس ہوئی ہو۔تو عادت کے مطابق ایشو نے مانو کے اوپر پانی کا جگ گرا دیا۔ اور پھر مانو بیڈ سے کلابازی لگاتے ہوئے اُٹھی تھی۔
” کیااااا کیا ہوا” مانو ہڑبڑائی تھی۔ ملکہ عالیہ زیادہ کچھ نہیں،بس آپکی یونیورسٹی کا ٹائم ہوا ہے۔ ایشعال نے طنز کیا تھا۔ اچھا میں تو یونی تک کو بھول گی تھی۔ چلو میں تیار ہو کے آتی ہوں۔ مانو نے برے برے چہرے بنائے تھے۔ اور اپنی امنڈنے والی جمائی کو ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔
ایشعال اپنے کمرے کی طرف بڑھ گی تھی۔ اپنا یونی بیگ لے کر نیچے ہال میں ناشتے کے لیے چلی گی۔مانو الماری سے اپنا سوٹ لیتی، باتھ میں بند ہوگی تھی۔ کچھ ہی دیر میں فریش ہوتی باہر ائی تھی۔ بالوں میں تولیہ کو رگڑتے ہوئے بال خوشک کر رہی تھی۔ پھر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ بالوں میں برش کیا تھا، ساتھ ہی سبزہ آنکھوں میں گہرا کالا کاجل لگایا تھا۔ جس سے آنکھیں اور زیادہ چمک رہیں تھیں۔میک اپ سے پاک پرنور چہرہ ، اپنا بیگ لیے کمرے سے نیچے ہال کی طرف چلی گی۔ جہاں سبھی ناشتے کی ٹیبل اچکے تھے۔
“اسلام وعلیکم “مانو نے سب کو سلام کیا تھا۔ “وعلیکم السلام” سب نے یکجاں ہو کے سلام کا جواب دیا تھا۔ مانو کے بیٹھے ہی سب نے ناشتہ شروع کیا۔درمیان میں علی یونی ڈراپ کرنے کا بولا تھا۔ مگر مانو نے یہ کہ کر منع کر دیا کہ وہ اپنی گاڑی میں جائیں گے۔ناشتے سے فارغ ہوتے ہی، مانو نے اپنی گاڑی کی چابی لی اور ایشو کو لیتی گاڑی زون سے بھگا لی تھی۔ پری اور مومل نے ساتھ یونی انا تھا۔



انمول اور ایشعال جیسے ہی یونی پہنچیں تھیں۔ گیٹ پر ہی پری اور مومل کھڑی ہوئی نظر آئیں تھیں۔” اسلام وعلیکم”پری اور مومل نے سلام کیا تھا۔ “وعلیکم السلام ” ایشعال اور مانو نے مروت سے جواب دیا تھا۔ کیسی ہو” جان اور جانو ” انمول نے دونوں کو پیار سے چیت لگاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“ہمیں چھوڑو اور اپنا بتاو کہاں تھی” ایشعال نے اپنے بچاؤ سب بتا دیا۔ “جانے کب سے میں اور مما اس میڈم کو جگا رہے تھے۔ مگر نا اپنے کسی شہزادے کی خوابوں میں بہوش تھی۔” ایشعال کی بات پر مانو نے دانتوں کی نمائش کی تھی۔”بڑی کوئی منہوس لگ رہی ہو، دانت اندر کر لو ورنہ توڑ دوں گی” پریہان نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا۔
“اچھا بس بھی کرو،کلاس میں چلو ورنہ، ایچ-او-ڈی سر نے مھٹی مھٹی کر دینی ہے”۔مومل اپنی عینک درست کرتے ہوئے بولی تھی۔ “ارے ہاں چلو چلو” انمول موقع غنیمت پاتے ہی مومل کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ تیزی سے قدم اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھائے تھے۔کلاس میں جاتے ہی سب فیلوز کو سلام کیا تھا۔سالار پہلے سے ہی کلاس میں موجود تھا۔سالار سے خیر خیریت معلوم کی اور اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہوئے تھے۔
” ٹک ٹک ٹک” کسی کے مظبوط قدم کی چاپ سنائی دی تھی۔جسے سنتے سبھی خاموش ہوگئے تھے۔ جیسے ہی سر کلاس میں داخل ہوئے تو سب سٹوڈنٹس نے کھڑے ہونے کے ساتھ سلام کیا تھا۔
“وعليكم السلام ! گوڈ مورنگ ڈئیر سٹوڈنٹس”
مگر سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر کلاس میں موجود پانچ نفوس سکتے میں ہی چلے گے۔ پوری کلاس بیٹھ چکی تھی۔ سوائے پری، ایشو، انمول، مومل اور سالار کے علاوہ، ان سب کو منہ کھولے ، سکتے میں ایک جگہ جما ہوا ،دیکھ کر سامنے کھڑی شخصیت نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔
“آپ یہاں۔۔؟” پانچویں ایک ساتھ چیخ اُٹھے تھے۔
جاری ہے۔
