Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 25)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

کھانا لگ چکا تھا سبھی مہمان کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ کہ انمول نے پری اور ایشو کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔

انمول اور ایشعال نے مصطفٰی صاحب آسیہ بیگم جبران صاحب اور سعدیہ بیگم کو اپنے سامنے کھڑا کیا۔ ساتھ ہی پریہان نے ابراہیم صاحب، کلثوم بیگم حسن صاحب اور دانیہ بیگم کو اپنے سامنے کھڑا کیا

انمول کے ہاتھ میں مائک تھا۔

اس نے بولنا شروع کیا تھا۔

( انمول)

نا کچھ پوچھا

نا کچھ مانگا

تو نے دل سے دیا

جو دیا۔۔۔

( پریہان )

نا کچھ بولا

نا کچھ تولا

مسکرا کے دیا

جو دیا۔۔

( ایشعال )

تو ہی دھوپ

تو ہی چھایا

تو ہی اپنا پرایا۔۔

باری باری اپنی دلی کیفیت، اپنی دلی باتوں کو چند لائنوں میں بیان کیا تھا۔وہاں موجودہ ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں،اور پھر تینوں نے ایک ساتھ کچھ لائنز سر جھکا کر بولیں تھیں۔آنسو تینوں کی آنکھوں سے بہے جارہے تھے۔

(مانو، پری،ایشو)

اور کچھ نا جانو میں

بس اتنا ہی جانو

تجھ میں رب دیکھتا ہے

یارا میں کیا کروں

تجھ میں رب دیکھتا ہے

یارا میں کیا کروں

سجدے سر گرتا ہے

یارا میں کیا کروں

تجھ میں رب دیکھتا ہے

یارا میں کیا کروں

جبران اور حسن صاحب نے جلدی سے اپنی شہزادیوں کا سر اُٹھا کر سینے سے لگایا تھا۔یہ وقت ہر ماں باپ اور اس نازک دل لڑکی کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، بچپن سے ماں باپ کے ساتھ ہسنا، کھیلنا، شرارتیں کرنا، رونا، ناراض ہو کر اپنے لاڈ اٹھونا،چھوٹی سی چوٹ پر گھر سر پر اٹھا لینا، اور ایک ائسکریم پر خوشی سے گھر میں دھوم مچانا، کوئی نقصان کرنے کے بعد مما کے ڈر سے جلدی سے بابا کے آغوش میں چھپ جانا ایک پل میں سب بدل جاتا ہے۔

ایک پل میں زندگی کی ڈور باپ سے کسی انجانے شخص کے ہاتھ میں چلے جاتی ہے، بےبس سا باپ کا اپنی لاڈوں میں پلی گڑیا کو ایک پل میں خود سے دور کرتا، گزرے بچپن کا ہر لمحہ یاد آتا اور پھر رخصتی کے وقت باپ کے سینے لگ کر خوب رونا۔۔۔

اپنی معصوم سی گڑیا بیٹی کو رخصت کرنے کے بعد اچھے نصیب کی دعائیں کرنا، اپنے جگر کے ٹکڑے کو خود سے جدا کرنا، انتہائی کرب ناک وقت ہوتا ہے، کیوں کہ باپ تو رو بھی نہیں سکتا، کہیں اُس کی بیٹی اُس کو روتا دیکھ کمزور نا پڑجائے، مگر دل ہی دل میں خوب روتا ہے، کاش یہ دنیا کا دستور نا ہوتا، کہ کوئی اپنی لاڈو میں پلی بیٹی کو کسی انجان شخص کے سپرد نہ کرتا۔۔

ایشعال تو خوب روئی تھی، چاہئے جبران صاحب اور سعدیہ بیگم نے کبھی اس کو سگے ماں باپ کی کمی کو محسوس ہونے نہ دی تھی، مگر پھر بھی دل نے ایک بار اپنی ماں، اپنے باپ سے ملنے کی آرزو کی تھی، کاش کہ اُس کے سگے ماں باپ زندہ ہوتے، اس کو بھی ماں باپ کا لمس محسوس ہوتا، مگر قسمت نے بھی اس کے حصے میں محرومی لکھی تھی،لیکن اس محرومی کے بدلے اس کو جبران صاحب جیسے پیار کرنے والے بابا اور سعدیہ بیگم جیسی ماں سے نوازا تھا۔

(اللہ پاک ہم سب کے والدین کو صحت و سلامتی والی لمبی زندگی عطا کریں آمین ثم آمین )

🖤
🖤
🖤
🖤

سارے مہمان جاچکے تھے، گھر میں صرف گھر کے ہی افراد موجود تھے۔اور باری باری تینوں جوڑیوں کو ابٹن لاگا رہے تھے۔ مگر تھوڑا تھوڑا لیکن بچارے داریاں کو سکون ہضم کہاں تھا۔ کہ اس نے مانو کے سامنے رکھی کٹوی میں سے بہت سارا ابٹن اُٹھایا اور مانو کو بلا تھا۔کیوں مانو کےچہرے پر تو لگانے سے رہا، تو اسی لے دور سے پھنکے پر اتفاقا کیا تھا۔

” مانو ” انمول جو ماہم سے بات کر رہی تھی۔ داری کی پکار پر پلٹی تھی۔ مگر داریاں کے ہاتھ میں ابٹن دیکھ کر اس کو کسی خطرے کی علامت نظر آئی تھی۔ تو فورن سے اپنی پوزیشن سے سائڈ پر ہوئی تھی۔داریاں نے جو ابٹن کی ہوائی فائرنگ کی تھی۔مانو کہ اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے سیدھا فون میں مصروف ازلان کے منہ پر لگا تھا۔

داریاں تو اپنے کارنامے پر منہ کھولے کھڑا تھا جب کہ ازلان کا حال کچھ یوں تھا۔ سارا ابٹن ازلان کے منہ میں اور کچھ بئیرڈ پر تو کچھ بالو میں لگا تھا۔

“واٹ دی ہیل داری” ازلان کی حالت پر سب ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہے تھے۔اور داریاں نے میسنی سی شکل بنائی تھی، ” سوری بھائی” مگر ازلان اپنا بدلا لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تو سامنے رکھی کٹوری سے ڈھیر سارا ابٹن اُٹھایا اور داریاں پر پھنکا تھا، جب کہ داریاں نے ازلان کے ارادے بھانپتے ہوئے، وہاں سے نو دو گیارہ ہوا تھا۔

ازلان کا پھنکا ہوا ابٹن پاس سے گزرتی مومل کے منہ پر لگا تھا۔یہ تو شکر تھا، کہ مومل گلاسسز لگاتی تھی۔ورنہ تو اس کی آنکھوں میں ہی چلا جاتا، مومل نے غصے سے سامنے کی طرف دیکھا تھا۔ جہاں ازلان ابھی تک منہ کھولے مومل کو دیکھ رہا تھا،مومل کے اس طرح پلٹنے پر سپٹا گیا تھا۔

“سوری یار داریاں کو مار رہا تھا” ازلان کھسیانا ہو کر مسکرایا تھا۔”کوئی نہیں بھئیو اپکا بدلا میں لیتی ہوں” مومل دونوں ہاتھوں میں ڈھیر سارا ابٹن لیتے ہوئے بولی تھی،مگر پری اور احمر کے پچے چھپا داری فورن سے بار نکلا تھا، اور دوسری جانب بھاگا تھا،مومل بھی داریاں کے پیچھے دوڑ لگائی تھی، مومل نے داریاں کا نشانہ لیتے ہوئے ابٹن پھنکا تھا، مگر داریاں فورن نیچے گرا تھا۔سامنے کھڑے سالار کے سفید کرتے کو پیلے رنگ میں رنگ چکا تھا، اور دوسرے ہاتھ کا ابٹن سالار کے پاس بیٹھی ماہم کے گردن اور بالوں میں لگا تھا۔وہ دونو اس طرح یک دم کے حملے کے

لیے تیار نہ تھے، ماہم تو چیخ اُٹھی تھی، تو زمین پر پڑے داریاں نے پیٹ پکڑے قہقہے لگائے تھے،

مگر مومل نے رونی صورت بنائی تھی،اب کی بار مانو نے پری اور ایشو اشارے سے اپنے ساتھ آنے کو کہا تھا، کیوں داریاں کچھ زیادہ ہی سمارٹ بن رہا تھا، تینوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے ابٹن لے لیا تھا۔ اور ہال میں داریاں کو گھیر لیا تھا، اب تو سچ میں داریاں کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی تھی،

کیوں کہ اس کے سامنے تین تین آفتیں کھڑیں تھیں، چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے ہوئے تھیں، تو داریاں نے بچنے کے لیے ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔ “ایک ایک منٹ مانو پری ، ایشو ہم چاروں بہت اچھے دوست ہیں،” لیکن ان تینوں شیطانوں کے چہرے پر کمینگی سی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی، اور ” اٹیک ” انمول کے اٹیک بولنے پری اور ایشو نے اپنے ایک ہاتھ کا ابٹن پھنکا تھا، لیکن داریاں نے اپنے سامنے پڑی ٹیبل کو آگے کر دیا تھا، ایک ان دونوں کے ایک ہاتھ کا وار ضائع گیا تھا،

ایک بار پھر سب بڑوں کا قہقہ گونجا تھا، اور داریاں بھی ہنسا تھا، اپنے دائیں طرف احمر اور علیان کو کھڑا دیکھ تو اس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگی تھی۔پری اور ایشو نے نے ایک بار پھر داریاں کا نشانہ لیا تھا، مگر یہ کیا دونوں کہ نشانے احمر اور علیان پر لگے تھے۔ احمر نے اپنا چہرہ پر سے ابٹن ہٹاتے ہوئے غصے سے سامنے کی طرف دیکھ تھا،مگر اپنی زوجہ محترمہ کو دیکھ کر فلائنگ کس دی تھی۔ جب کہ پری تو وہیں پانی پانی ہوئی تھی،

دوسری طرف ایشو نے دانتوں تلے زبان دبائی تھی۔ علی کی طرف دیکھ تھا، جس نے کس کے ساتھ آنکھ دباتے ہوئے ٹھرک پن کا مظاہرہ کیا تھا ۔انمول نے موقع پاتے ہوئے سیدھا داریاں کی منہ کا نشانہ لیا تھا۔ بچارے داریاں قہقہ لگانے میں انتا مصروف تھا، خطرے کی گھنٹی کو نا سن سکا،اور انمول کے بیک وقت ڈبل وار کے تھے جو کہ ٹھیک داریاں کے منہ پر لگے تھے، اور تو اور کچھ ابٹن داریاں کہ منہ بھی گیا تھا۔

” اہہہ یہ کیا کر دیا ذلیل !! مانو اتنا گندا سا ٹیسٹ ہے ایووو” داریاں اپنا منہ صاف کرتے ہوئے انمول سے کہا تھا، اس بات سے انجان کہ اب اس کے ساتھ کیا ہونے ولا ہے، جیسے ہی داری پلٹا تھا، علی احمر، سالار ،ازلان مومل ، ماہم، مانو، پری اور ایشو سب نے اپنے ہاتھوں میں بہت سارا ابٹن بھرا ہوا تھا، اور داریاں کے گرد چکر لگا رہے تھے، بے ساختہ داری نے تھوک نگلا تھا، اب بچنا ناممکن تھا۔

مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب نے سیٹی بجائی تھی، کہ سبھی داریاں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ درمیان میں بچارہ داری ابٹن میں نہا چکا تھا، اور اب داری کی حالت کچھ ایسی تھی، جیسے ابٹن میں ڈبکیاں لگا کر آیا ہے، چہرے پر صرف آنکھیں ہی نظر آرہیں تھیں، سبھی نے اپنے موبائل فون نکال کر داری کی ویڈیو بنائی تھی، جس سے داریاں کو پتنگے ہی لگ گئے تھے۔

اور پھر یہ حال تھا، سبھی آگے آگے اور داریاں سب کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔پورے راجپوت ہاؤس رات کے بارہ بجے قہقہوں سے گونج رہا تھا ،” ہاہاہا بچوں بس کرو اور فریش ہو کر آجاؤ ساتھ چائے پیتے ہیں، ” آسیہ بیگم نے سب کی خراب حالتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا تھا۔ تو سبھی اپنے اپنے کمروں میں چلے گے تھے،کچھ دیر میں سب سادے سے کپڑوں میں فریش ہوکر نیچے آئے تھے،

رضیہ نے سب کے لیے چائے بنائی تھی، مگر داریاں کو دیکھتے ہوئے شرمائے جارہی تھی، یہ دیکھ کر سبھی کا زوردار قہقہہ گونجا تھا۔ اور داریاں اتنی سی شکل بنا کر بولا تھا، ” رضیہ بہن !! کچھ خدا کا خوف کرو تم چار بچوں کی اماں ہو، مگر مجھ پر نظر رکھتے ہوئے شرم نا آئی ” داریاں سب کی چڑاتی نظروں کو دیکھ کر جل کر راکھ ہوا تھا، انمول کی نظر سالار پر پڑی تھی۔ جو سب سے الگ تھلگ خاموش سا بیٹھا تھا۔تو انمول اُٹھ کر اس کے پاس جا کر بیٹھی تھی۔سالار کو مخاطب کیا تھا،

” سالار کیا ہوا اتنے خاموش کیوں ہو۔۔۔!”

سالار نے چونک کر اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا تھا، اور نفی میں سر ہلایا تھا۔ تو مانو کے مائنڈ میں موڈ سیٹ کرنے کی ایک ترکیب آئی تھی۔ “شاہ میری ایک چھوٹی سی وش پوری کرو گے۔۔۔۔؟” انمول نے معصومیت سے کیا تھا، تو سالار نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ ” کیا تم میرے لیے اپنا فیورٹ سونگ گاو گے۔۔۔؟؟”

سالار ابھی کچھ بولتا کہ انمول نے بےحد اسرار کیا تھا۔ “پلیززز پلیززز پلیززز شاہ سنا دو پلیززز صرف ایک” تو سالار نے ناچاہتے ہوئے بھی ہامی بھر لی تھی۔” رضیہ۔۔!! میرے کمرے سے گٹار لے آئیں “

“ہووووو”

سب نے سالار کو چیر اپ کیا تھا۔ہال میں ایک طرف کو لڑکیاں تھیں تو دوسری طرف لڑکے درمیان میں سالار بیٹھا تھا۔ باقی بڑے سب سونے کے چلے گئے تھے۔

میوزک

🎵
🎵
🎵

سالار نے سونگ گانا شروع کیا تھا، اس کی آواز نے سبھی پے ایک سحر طاری کیا تھا۔اور سالار اپنے ہی خیالات میں گم سا ہوگیا تھا۔

میری قسمت کے ہر ایک پنے پے

میرے جیتے جی بعد مرنے کے

میرے ہر ایک کل ہر ایک لمحے میں

تو لکھ دے میرا اسے

ہر کہانی میں سارے قصوں میں

دل کی دنیا میں کے سچے رشتوں میں

زندگانی کے سارے حصوں میں

تو لکھ دے میرا اسے

اے خدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

اے خدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

سالار کے گانا گانے پر سبھی ہی اپنی دنیا میں گم ہوگے تھے۔سالار نے انمول کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے ہر الفاظ دل سے ادا کیے تھے۔اس کے ہر الفاظ میں شدت تھی،مگر اس کی کوئی سننے والا نہیں تھا۔

🎵
🎵
🎵

اُس کا ہوں اُس میں ہوں

اُسے ہوں اُسی کا رہنے دے

میں تو پیاسا ہوں

ہے دریا ہے وہ ذریعہ

وہ جینے کا میرے

سالار جیسے ٹکٹکی باندھے انمول کو دیکھ رہا تھا، ویسے ہی انمول ازلان کو دیکھے جاری تھی، اور مومل سالار کو مگر ازلان اپنے فون میں مصروف تھا۔

مجھے گھر دے گلی دے

شہر دے اسی کے نام کے

قدم یہ چلے یا رکیں اسی کے واسطے

دل مجھے دے اگر درد دے اس کا پر

اس کی ہو وہ ہنسی گونجے جو میرا گھر

اے خدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

اے خدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

سالار کا دل شدت سے چاہ رہا تھا، اپنی محبت کو خود میں چھپا لے، تاکہ وہ اس کی ہوجائے،اس فانی دنیا سے دور لے جائے اپنے خوابوں کی دنیا میں۔۔۔

میرے حصے کی خوشی کو ہنسی کو تو چاہئے آدھا کر

چاہئے لے لے تو میری زندگی پر یہ مجھ سے وعدہ کر

اس کے اشکوں پے، غموں پے، دکھوں پے

پر اسکے زخم پر حق میرا ہی رہے

ہر جگہ ہر گھڑی ہاں عمر بھر

اب فقط ہو یہی

وہ رہے مجھ میں ہی

ہو جدا کہنے کو

بچھڑے نا پر کبھی

اے خُدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

اے خدا اے خدا

جب بنا اس کا ہی بنا

سالار کو اپنے گلے میں کانٹے چبتے ہوئے محسوس ہوئے تھے،اب مزید برداشت نہیں تھا، کہ انمول کسی اور کو دیکھے،اچانک سالار کو زور سے کھانسی شروع ہوئی تھی، تو انمول نے جلد سے اس کو پانی دیا تھا۔ رات بہت ہوچکی تھی۔ اور سالار کے طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے سب نے سونے کا فیصلہ کیا تھا،اور اپنے کمروں کی طرف بڑھ گے تھے۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *