Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 15)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 15)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
کچھ ہی وقت میں ڈنر لگ چکا تھا۔سب مل کر ڈنر کر رہے تھے۔مانو کب سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔دائیاں ہاتھ مکمل سوجھ چکا تھا۔اور مانو اُلٹے ہاتھ سے کھانا کھا ہی نہیں پارہی تھی۔
سالار جانے کب سے مانو کی ہر ایک حرکت پر غور کر رہا تھا۔کہ وہ پلیٹ میں صرف چمچ ہی چلا رہی تھی۔تو سالار نے مانو کہ ہاتھ سے چمچ لیا اور چمچ میں تھوڑے سے چاول بھر کے مانو کی طرف بڑھائے۔
تو سب لوگ مانو اور سالار کی طرف متوجہ ہوئے۔سب کی نظریں خود پر مرکوز ہوتے دیکھ مانو کو شرمندہ سی ہوگی۔”میں خود کھا لوں گی سالار ” مانو نے سالار کہ ہاتھ سے کھانا کھانے سے انکار کیا تھا۔
“مانو تم کیسے کھاؤ گئی،اپنا ہاتھ دیکھو۔” سالار نے ماتھے پر دو بل ڈالے تھے۔تو سب ناسمجھی سے مانو کو دیکھنے لگے۔
“کچھ بھی نہیں ہوا گائز میں ٹھیک ہوں،گھر میں کچھ لگا ہوگا،اس لیے ہاتھ سوجھ گیا۔”
پری اور ایشو اپنی جگہ سے اُٹھ کر مانو کہ پاس آئیں اور مانو کے ہاتھ سے رومال نکالا تو دیکھ کر حیران ہوئیں۔جس دیکھ مانو نے نظریں چورائیں تھیں۔مانو کا ہاتھ پھولی ہوئی ڈبل روٹی کی مانند پھولا ہوا لگ رہا تھا۔
“مانو چندا کیا کسی نے تمہارا ہاتھ موڑا ہے۔۔۔؟ “ماہم نے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔
“ارے نہیں آپی یہ پتہ نہیں کیسے ہوگیا۔”
” گڑیا ایسے کیسے ہوگیا۔۔۔۔؟”
علی اور آحمر چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے۔
“کچھ نہیں ہوا بھئیو میں ٹھیک ہوں۔”انمول نے جیسے بات ہی ختم کرنی چاہی تھی۔
” ادھر دیکھاو۔”
داریان سنجیدگی سے مانو کا سوجھا ہوا ہاتھ دیکھنے لگا جس پر اُنگلیوں کی چھاپ نمایاں تھی۔داریان نے سر اُٹھا کر ازلان کو دیکھا جو کہ سب سے لاتعلق بنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
مگر پھر بھی ازلان اپنی چھور نظروں سے مانو کہ ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔ جو کہ سالار کہ ہاتھ میں تھا۔لیکن مکمل سوجھا ہوا لال سا۔۔۔
مانو کے ہاتھ کو دیکھ کے ازلان کو برا محسوس ہوا کہ اتنی بڑی بات تو نہ تھی۔صرف ڈانس ہی تو کیا تھا۔ کہ اس کو اتنا غصہ آگیا۔ جس کہ وجہ سے وہ لاشعوری طور پر مانو کو درد دے گیا تھا۔
” سالار تم اپنا کھانا کھاؤ میں کھلا دیتی ہوں کھانا ” پری بولی تو مانو نے سکھ کا سانس لیا۔
“ہمم ٹھیک ہے یہ لو”
سالار نے چمچ رکھ کر مانو کی پلیٹ پری کی طرف بڑھائی تو پری سالار سے پلیٹ لے کر مانو کو کھانا کھلانے لگی۔ باقی پارٹی میں موجود سب ہی اپنے اپ میں مگن ڈنر کر رہے تھے۔
روبن رابرٹ بڑی شان سے سربراہ کی کرسی پر براجمان تھا۔ کہ روبن رابرٹ کے خاص آدمی ایا اور روبن کہ کان میں کچھ بولا۔
جس کو سنتے ہی روبن کے چہرے پر سے ہوائیاں اُڑنے لگئیں تھیں۔اور پھر روبن وہ تن فن کرتا اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
پارٹی میں موجودہ لوگ ڈنر سے فارغ ہو چکے تھے۔مگر روبن کا کچھ اتا پتہ نا تھا۔سبھی کچھ دیر وہاں رکے مگر روبن کو نیچے اتا نہ دیکھ کر سب نے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔پارٹی سے واپسی پر سب بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ تو اتے ہی سونے چلے گئے۔۔
اگلے دن
صبح کہ وقت سب گھر والے ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے اور کھانا کھا رہے تھے۔
“مانو بلی تمہارا ہاتھ کیسا ہے۔۔۔؟”
سالار نے مانو سے پوچھا۔اس کے لہجے میں فکر نمایاں تھی۔
:ہا۔ہاں شاہ الحمداللہ اب ٹھیک ہوں۔”
” کیوں کیا ہوا ہے،تمہارے ہاتھ کو ” سعدیہ بیگم تیوری چڑھا کر بولیں۔”ارے میرے بابا جانی کی ڈارلنگ کچھ بھی نہیں ہوا۔ بس چھوٹی سی چوٹ لگی تھی۔اب ٹھیک ہے۔”
“اچھی بات ہے، انسان کو مضبوط ہونا چاہیے، کہ کسی چھوٹی سی چوٹ سے کوئی فرق نا پڑے” سعدیہ بیگم نے اپنی معصوم سی بیٹی کو مضبوط بننے کی تاکید کی تھی۔
” بلکہ مماجانی میں تو اپکی شیرنی بیٹی ہوں۔”مانو گردن اکڑا کر بولی تھی۔
“بلکل بلکل جو کہ ایک چوہے سے ڈر جاتی ہے۔اور ہے وہ شیرنی ” سعدیہ بیگم نے ظنز کیا۔جس پر مانو منہ بسورا تھا۔
“بابا جانی۔۔۔!! “جبران صاحب کو درمیان میں گھسیٹا کر لائی تھی۔” جی ہاں میرا بچہ آپ شیرنی ہو۔”جبران صاحب کی بات پر مانو کے چہرے پر گہری مسکراہٹ ائی تھی۔
“اور میں بابا جانی۔۔۔؟”
ایشو نے سوال کیا تھا، جس پر جبران مسکرائے تھے۔”آپ بھی میری شیرنی ہو۔بلکہ آپ تینوں میری شیرنیاں ہوں۔پری بیٹی بھی، میری شیرنی ہے۔”
” بلکل انکل پریہان سفید پری ، مانو کالی پری اور ایشو پیلی پری ” داریان اپنی بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے ہولا تھا۔
“درفٹے منہ تیرا داری، بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لے،مگر نہ تم نے قسم کھائی ہے غلط بولنے کی” مانو تو تپ اُٹھی تھی۔



“مما جانی۔۔۔!”
علیان نے سعدیہ بیگم کو مخاطب کیا۔۔
“جی بیٹا جان۔۔۔؟”
“آج ہم سب لڑکوں نے کچھ پرانے دوستوں کے ساتھ پلن بنایا ہے۔ سیر و تفریح کا تو شام تک یا پھر رات تک ان کے ساتھ ہوں گے۔”
“ہمم چلو ٹھیک ہے”
“سالار بھی ہمارے ساتھ ہوگا۔”احمر بولا تھا۔
” مگر علی یار میں نے اور ماہم نے یہاں کہ ٹاپ ہاسپٹل کا وزٹ کرنا ہے۔ کل ہم ڈاکٹر شاؤ سے ملے تھے. جو کہ یہاں مشہور کارڈویلوجیسٹ ہیں۔انہوں نے مجھے اور ماہم کو وزٹ کے لیے انوائٹ کیا ہے۔ تو ہم دونوں وہاں پر جارہے ہیں۔”
” ہمم چلو ٹھیک ہم چاروں چلے جائیں گے۔”
:میں بھی اپنی کچھ دوستوں کے پاس جاؤں گی۔” نایاب نے بھی اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔
“سبھی ہی کہیں نا کہیں جا رہے ہیں۔ ہم چاروں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہم بھی شاپنگ پر جائیں گے۔اور گھومنے بھی” مانو ،پری اور ایشو نے دوہائی دی تھی۔
” مانو جان تم تینوں چلے جاؤ میرا دل نہیں ” مومل نے آج بھی انکار کیا تھا۔جس پر کسی نے اسرا بھی نا کیا تھا۔ کیوں کہ اس کی طبیعت کچھ سنبھلی تھی۔ مکمل ٹھیک نا ہوئی تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے بچوں جس نے جہاں جانا ہے جائیں۔مگر سب نے اپنا خیال رکھنا ہے۔رات تک آجانا ہے۔”
سب نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔کچھ وقت بعد سبھی اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے۔





ہنٹر اور فائر پورے جلسہ گاہ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔مگر کچھ بھی گڑبڑ محسوس نا ہوئی تھی۔ شہیر شاہ اپنے لوگوں اور چاہنے والوں کہ درمیان کھڑا تقریر کر رہا تھا۔
لیکن اچانک ہنٹر کی نظر ایک جگہ پر رک سی گئی۔ پانی والے کولر کے ساتھ دس سے بارہ سال کی عمر کا لڑکا بیٹھا تھا۔جو کہ اپنی آنکھوں میں سوکھے ہوئے آنسو اور درد ناک کہانی لیے ہوئے تھا۔
ہنٹر نے فائر کو اشارہ کیا۔جس پر دونوں اگئے کی طرف بڑھے رش کو چیرتے ہوئے دونوں اُس لڑکے کی طرف آئے تھے۔
معصوم سے بچے کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی رنگ نا تھا۔بے نور چہرے لیے وہ دنیا سے بے خبر بیٹھا تھا۔کہ فائر نے بم ڈیٹیکٹر مشین کو اون کیا اور اس بچے کے پاس کیا۔تو وہ بم پلانٹ ہونے کا سائن دینے لگئ۔ بچے نے نظر اُٹھا کر دیکھا ہی تھا۔
کہ ہنٹر نے اس کی گردن میں موجود خاص رگ کو دبا دیا۔جس پر وہ حوش و حواس سے بیگانہ ہو کر نیچے گرا۔ تو فائر نے اس کو ایک بوری میں ڈالا اور دونوں اس کو لیے گم ہوگئے۔جیسے کبھی یہاں آئے ہی نا ہوں۔۔
سنسان علاقہ میں اس بچے کی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ بم بچے کے جسم میں پلانٹ کیا گیا ہے اور بم بلاسٹ ہونے میں ڈیڑھ گھنٹہ رہتا تھا۔مگر اس معصوم کی حالت دیکھ دونوں کی آنکھیں غصہ سے لال ہو چکیں تھیں۔۔۔
دونوں اس بچے کو لیے ٹارچر ہاؤس کی طرف روانہ ہو گے تھے۔۔۔




ہاتھ میں شراب اور بغل میں بیٹھی لڑکی کہ شباب میں چور وہ دنیا سے بے خبر و بیگانہ نشے میں دُھت بیٹھا تھا۔ کہ کمرے میں عفار داخل ہوا۔
“سر ۔۔۔ !!”
عفار نے ایس-وی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “آپ کے حکم کی تکمیل ہو چکی ہے۔”
“ہمم” ایس_وی مے نشے میں چور لہجے میں ہنکار بھری تھی۔
ایس-وی کہ حکم پر عفار نے امریکہ اور دوبی کے لیے مال لوڈ کرو دیا تھا۔۔۔
معصوم اور بے بس سی لڑکیاں،کسی کو سکول ،کالج یا یونیورسٹی سے اغوا کیا تھا۔تو کچھ کو ان کی محبت نے بیچا تھا۔سو سے زائد لڑکیوں کو تیار کیا گیا تھا۔
نازیبا اور بیہودہ لباس پہنائے گئے تھے۔ کوئی اپنی پھوٹی قسمت کو رو رہیں تھیں۔ تو کوئی آجکل کی سوشل میڈیا کی محبت پر ماتم منا رہیں تھیں۔
کچھ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغواء کیا گیا تھا۔ تو کچھ بچوں کی زندگیوں کی بے معنی سی قمت لگائی گی تھی۔ سب ہی بھوک و پیاس سے نڈھال پڑئے تھے۔
اور کچھ ٹرکوں میں انسانی جسم کی اعضاء تھے۔جن کو امریکہ بھجا جارہا تھا۔
مال کو روانہ ہونے میں آدھا گھنٹہ رہتا ہے۔ایک بار پھر پاکستان کی ہار ہوگئی تھی۔




وہ شخص جیسے ہی موڑا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہے گیا۔۔۔
ڈیول نے اس آدمی کو کالر سے پکڑا اور ایک در ایک چار سے پانچ گھونسے اس کے منہ پر جڑ دیے۔ جس پر وہ شخص جو ٹرین بنانے کے لیے مکینک بن کر آیا تھا۔
اس نے اپنی سچائی کسی طوطے کی طرح فرفر بتا دی۔مگر ڈیول کنگ کا غصہ کم ہونے میں نہیں ارہا تھا۔ اور وہ لگاتار لاتوں اور گھونسوں سے اس آدمی کو مارے جارہا تھا۔
ایول نے ڈیول کو آپے سے باہر ہوتے دیکھا تو جلد اس تک پہنچا اور اس کو روکا اور اس کا دھیان ٹرین میں لگے بم کی طرف کروایا۔ابھی دونوں بات کر ہی رہے تھے۔کہ ڈیول نے جس شخص کو مار تھا وہ قہقہے مار کر ہنسنے لگا۔
“ہاہاہا !! بہت دیر ہوچکی ہے صرف آٹھ منٹ صرف اس کے بعد بومممم”
“ہاہاہاہاہاہاہا دوبارہ سے اس نے قہقہہ لگایا تھا۔ اور ایک بات پاکستان کے ماخوروں کہ ٹرین کی بریک فیل کر دیں ہیں۔ اگر بم بھی ڈھونڈ لو گے۔ تو بھی دھماکہ ہو گا بہت بڑا۔”
اس شخص کی بات پر ڈیول اور ایول دونوں نے غصے سے جبڑے بھیجنے تھے۔
کہ ڈیول تیش کی عالم اگئے بڑھا اور دوبارہ اس نیچ آدمی کو مارنے لگا۔ مگر ایول نے اس کو روک دیا۔
ڈیول دوبارہ اس کو مارنے کہ لیے بڑھتا اس پہلے ایول اس اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ ہزاروں زندگیوں کا معاملہ تھا۔ مگر اس شخص کو بھی کھلا نہیں چھوڑا تھا۔اس کو وہیں بینچ کی زنجیر سے باندھ کر گیا تھا۔۔
ایول نے اپنے کچھ دوستوں کو مدد کے لیے بلایا تھا۔ جو کہ وہاں موجود تھے۔ٹرین چلنا شروع ہو چکی تھی۔ ایول اور ڈیول دونوں پریشانی کے عالم میں ٹرین کی طرف بڑھے تھے۔
بھاگتے بھاگتے ٹرین میں چڑ گے اور ٹرین کی تلاشی لینے لگے تھے۔مگر بے سود کچھ نہ حاصل ہو رہا تھا وصول ہو رہا تھا۔
دونوں کہ چھپے ہوئے چہروں پر پریشانی کی لکیریں دیکھائی دے رہیں تھیں۔کہ اچانک ایول کہ دماغ میں کچھ کلک ہوا۔
تو ایول نے ڈیول کو اشارے اپنے ساتھ آنے کا کہا تھا۔ وقت تھا کہ ریت کی مانند پھسلتا جارہا تھا۔ اب صرف ساڑھے تین منٹ بچے تھے۔
ٹرین کی سپیڈ تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ کچھ مارخور کی ٹیم ٹرین کو دوسرے روٹ پر منتقل کرنے کی کوشش میں جدوجہد کر رہی تھیں۔ اچانک ٹرین جھٹکا کھا کر دوسرے روٹ پرمنتقل ہوئی۔ مگر اس کی سپیڈ کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہ تھی۔
ایک مسئلہ حل نہ ہوا تھا۔ کہ دوسرا تیار تھا۔جس روٹ پر ٹرین کو منتقل کیا تھا۔ وہ بھی ٹوٹی ہوئی تھا۔ اور سامنے کی طرف کھائی تھی۔ ڈیول اور ایول نے پوری ٹرین کی چیکنگ کرلی تھی۔
مگر بم کا کوئی نشان و سراغ نا ملا تھا۔ ابھی اسی پریشانی میں تھے۔ ایک مارخور دوست دوڑتا ہوا ایا۔ اور بتایا کے بم انجن والے ڈبے میں لگایا گیا ہے۔
ایک منٹ بیس سیکنڈ رہتے تھے۔ ڈیول اور ایول دونوں نے مل کر ٹرین اور انجن کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔کیوں کہ اگر بم کو ڈیفوز کرتے تو بھی ٹرین نے کھائی میں گرنے تھا۔
مگر دونوں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ جیسے ہی ٹرین اور انجن الگ ہوا تو ٹرین رک گی۔مگر انجن کو روکنا ناممکن تھا۔
چھ،پانچ،چار سیکنڈز کی گنتی دلوں کی بھرتی رفتار کر رہی تھی۔ فضاء میں ایک نعرے کی آواز گونجی تھی۔
“نعرہ تکبیر”
“اللہ اکبر”
“پاکستان زندہ باد”
تین ، دو، ایک
” بومممم”
کہ اچانک ہی ٹرین کا انجن اپنی پٹری سے ڈھلکتا ہوا نیچے کھائی میں گرنے لگا ہی تھا۔ اس سے پہلے زوردار دھماکہ ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ کانوں کے پردے پھٹ چکے ہیں اور ایسی وحشت ناک آواز تھی، جس نے دلوں دہلا کر رکھ دیا تھا۔
ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل چکا تھا۔
جاری ہے۔۔
