Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 13)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

سب ناشتے کے لیے بیٹھ رہے تھے۔ کہ ہال کہ دروازے سے سالار اور مومل آتے ہوئے دیکھائی دیے۔ “واؤ مجھے لگتا دونوں نے پلین کر کے سیم ڈریسنگ کی ہے۔” انمول نے سالار اور مومل کی ڈریسنگ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

اسلام وعلیکم۔۔!

وعلیکم السلام۔۔۔

“نہیں بلکل بھی نہیں اور میں نے اب تک نوٹس نہیں کیا تھا۔ لیکن مانو اففف ہر چیز دیکھتی ہو۔”

“او بچوں آپ دونوں بھی جوائن کرو۔” سعدیہ بیگم نے سلام کے جواب کے بعد کہا۔۔۔

“جی آنٹی ضرور کیوں کہ مانو میم کے حکم کی پاسداری کے چکر میں ناشتہ چھوڑ کر بھاگا ہوں۔”

“ضرور آجاؤ دونوں۔۔”

“میں صرف جوس لوں گی مومل بول۔۔”مومل اپنا چشمہ ٹھیک کرتی بولی تھی۔

” نہیں ہوتی موٹی چپ کر کے ناشتہ کرو ” انمول نے بڑی دادی اماں بن کر کہا تھا۔اس کے انداز پر سب مسکرا دیے۔ “ابھی تک دانیہ اور حسن بھائی نہیں ائے۔”

“ارے بہو آتے ہی ہوں گے۔ تم آرام سے بیٹھو اور کھانا شروع کرو وہ آتے ہی جوائن کریں گے۔ مصطفٰی صاحب نے اپنی پریشان سی بہو کو سمجھایا تھا۔”

“جی ابا جان۔۔۔”

کچھ ہی دیر میں خانزادہ فیملی بھی اچکی تھی، اور ساتھ ہی ناشتے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ازلان کی نظریں بار بار انمول پر جارہیں تھیں۔ جو کہ اپنے سامنے بیٹھے سالار سے باتوں میں مگن تھی۔اج پری ایشو اور مانو نے سیم کلر پہنا تھا۔وائٹ کلر کا کرتا پاجامہ مانو کی آنکھیں کاجل سے لدی ہوئی تھیں۔جو کہ اس کہ حسن میں چار چاند لگا رہا تھا۔

“سالار تم الو کے پراٹھے کھاؤ نا مجھے بہت پسند ہیں۔ مما کے ہاتھ کہ بنے ہوئے۔”مانو نے پلیٹ سالار کی طرف بڑھائی۔

“ضرور کیوں نہیں تمہارے ہاتھ سے تو زہر بھی قبول ہے۔اور یہ الو کے پراٹھے ہیں۔۔۔”

لیکن یہ سب دیکھ ازلان کہ چہرے کے تاثرات سخت ہوگئے تھے۔بچپن میں ازلان ازلان کرتے تھکتی نہیں تھی اور اب سالار سالار۔۔۔

“یہ لڑکیاں ہوتی ہی غیر معیاری ہیں۔ روز کوئی نیا چاہیے۔ان کو ان کے ناز نخرے، چونچلے اُٹھنے والا،” ازلان نے انمول کو دیکھ کر نفرت سے سر جھٹکا تھا۔۔

پری کو مسلسل احمر کی تکتی نظروں کی تپش محسوس ہو رہی تھیں۔جس وجہ سے،اس سے ناشتہ نہیں کھایاجارہا تھا۔آخرکار تنگ آکر اس نے سامنے دیکھا جہاں احمر بڑی توجہ سے پری کو دیکھے جارہا تھا۔۔

پری نے گھور کے آنکھوں کے اشارے احمر سے پوچھا کیا ہے۔۔۔۔؟ تو احمر نے نفی میں سر ہلایا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

“ازلان چلو یہ ٹیسٹ کرو۔” نایاب نے حلوہ اور پوری کا نوالہ بنا کر ازلان کی طرف بڑھایا تو ازلان نے اسکے ہاتھ سے کھا لیا۔ جہاں سب گھر والوں کو نایاب کی یہ حرکت ناگوار گزری تھی۔

” ویسے نابی بی بی کیا آپکے سوکولڈ بیسٹ فرینڈ لولھے ہیں۔۔۔؟ نہیں مطلب ہاتھ سلامت ہیں نا ۔۔۔؟ “

مانو طنزیہ انداز میں بولی تو سب نے اپنی ہنسی ضبط کی۔”تمہیں کیوں جلن ہو رہی ہے۔” نایاب غصہ سے لال ٹماٹر ہوتی بولی تھی۔

” نابی یار ایک بات کہ تم لال مت ہوا کرو ورنہ وہ لگتی ہو وہ۔۔” (بندریا کی بمز) مانو رازدانہ اندار میں بولی تھی۔ انمول کی بات سمجھتے ہوئے نایاب کو اور زیادہ تاؤ آیا مگر چپ رہی۔

“اور دوسری بات یہ کہ فیملی بریک فاسٹ ہے سو پلیز ایسی حرکت کرنے سے گریز کریں۔” مانو کا انداز بلکل بڑی اماں کی طرح تھا۔۔۔۔

سب اپنے بیگز لیے ریڈی تھے۔

راجہ۔۔۔۔۔!!!

جبران صاحب نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی۔

” جی صاحب جی۔۔!!”

” گاڑیاں نکالو”

” پر صاحب جی مانو بی بی نے منع کیا تھا۔”

“اچھا وہ کیوں۔۔۔؟”

جبران صاحب نے پوچھا جس کا جواب مانو خود دیا۔

“کیوں کہ بابا جانی باہر سرپرائز ہے۔” مانو مسکراتی ہوئی بولی تھی۔

“جی بلکل خالو جان ” پری نے بھی مانو ساتھ دیا تھا۔۔

” آپ سب باہر آجائیں۔” مانو کہ کہنے ہر سب ہی باہر آئے جہاں ایک بڑی سی بس تیار گھڑی تھی۔

“ہم نا آج سب ایک ساتھ انجوائے کرتے ہوئے جائیں گئے ایرپورٹ۔۔۔”

” یار مانو بس میں کیسی انجوائمنٹ ۔۔۔؟”

داری نے متجسس لہجے میں سوال کیا۔تو مانو کی باچھیں کھل گئیں۔

“یہ تو ہماری ثمی ڈارلنگ اور آسی جانو بتائیں گئی۔” مانو بولی تو آسیہ بیگم اور کلثوم بیگم حیران سی انمول کی بات سن رہیں تھیں۔۔۔

“اور انکے مجنوں کہا ہیں۔۔۔۔۔؟” داریان بولا تھا۔

“وہ بھی ہیں نا” پری اور ایشو بولیں۔۔۔

“خان اور انکے دوست راجپوت صاحب کی۔”

“ہاہاہاہاہاہاہا”

“نا بچوں اج کیا سوجھی کہ ہماری جوانی یاد اگئی۔۔۔۔؟”

“ارے ابراہیم دادوووو جوانی نہیں آپکی محبت کی داستان۔مانو نے مسکرا کر بتایا تھا۔ ہاں نا دادوووو جان آپکی کہانی ہماری زبانی” ایشعال نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا۔

“واہ بھائی اب تو بہت مزہ آنے والا ہے۔چلو بھائی جب تک ہم بس میں بیٹھتے ہیں۔”کچھ دیر میں سب لوگ سپیشل بس میں جاکے بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔

کہ انمول بھی وہاں آکر بیٹھی گئی۔اور احمر اور علیان بس میں انٹر ہوئے جن کو دیکھ کر سب ینگ پارٹی نے قہقہہ لگایا۔ جب کی سب بڑے مسکرا رہے تھے۔۔۔۔

“یار علی مجھے فیلنگ ارہی ہے۔کہ میں زیادہ برا لگ رہا ہوں۔”احمر نے خود کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔

دونوں باتوں میں لگئے ہوئے تھے۔ کہ سامنے پری اور ایشو کو دیکھ کر دونوں حیران ہوئے تھے۔ساتھ ہی مانو کی چلاکی بھی سمجھ آئی تھئ۔۔۔۔

اسلام وعلیکم!

معزز سامعین،

“آج آپ سب کہ سامنے دو چھپے رستم اور دبنگ جوڑوں کی لو سٹوری پیش کی جائے گئی۔۔”

مانو نے کسی ہوسٹ کی طرح اپنے ہاتھ سے مائک بنایا ہوا تھا اور بول رہی تھی۔۔

“جی جناب تو آپ سب کی بھر پور تالیوں میں میں بلانا چاہوں گی۔کالج کے دبنگ ، ہینڈسم ہیروز مصطفٰی اور ابراہیم کو۔”

ان کہ ناموں پر علیان اور احمر سامنے آئے۔۔

احمر نےمصطفٰی صاحب کا کردار ادا کرنا تھا اور علیان نے ابراہیم صاحب کا کردار ادا کرنا تھا۔اس بیج ان کا سفر شروع ہو چکا تھا۔۔۔

“یار ابراہیم وہ دیکھ سامنے میرے دل کی ملکہ ارہی ہے۔احمر یعنی مصطفٰی بولا ہاں یار میرے دل کی تمنا بھی ساتھ ہی ہے علیان یعنی ابراہیم بولا۔”دونوں دوست اس وقت سفید رنگ کی پنٹ شرٹ میں ملبوس تھے۔

“یار مصطفٰی اج بول ہی دیتے ہیں۔ان کو اپنے دلوں کے حال سے آگاہ کرتے ہیں۔”

“نہیں یار مجھ میں تو ہمت نہیں ہے۔” ابراہیم صاحب بنا بات کیے ہی پیچھے ہٹے تھے۔

“یاررر ان دونوں کو دیکھو کتنی بہادر ہیں۔۔۔”

“نہیں یار وہ” ابراہیم ابھی کچھ آگے بولتا کہ گلا گہنگارنے کی آواز آئی دونوں نے سر آٹھا کر سامنے دیکھ تو دونوں کی نظر اپنی دشمنِ جان پر پڑی۔ جس پر دونوں گڑبڑا گئے۔کہیں کچھ سن نا لیا ہو۔۔۔۔۔

(ایشعال)آسی یعنی آسیہ بولی” یہ آپ دونوں موصوف ہم معصوم سی لڑکیوں کو دیدیں پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں۔۔؟”

“بلکل آسی یہ کتنے نظربار انسان ہیں۔ جب دیکھو کلاس،ہو یا کالج گراؤنڈ ٹوکر ٹوکر دیکھتے ہیں۔(پریہان) ثمی یعنی کلثوم بولی۔۔”

کلثوم اور آسیہ کی باتوں پر کالج کہ دبنگ ہیروز کی سیٹی گم تھی۔

“اصل ہم وہ وہ یہ میں وہ۔۔”مصطفٰی کی حالت پتلی ہوئی تھی۔

“کیا یہ وہ میں لگا رکھی ہے۔ سیدھا بولیں۔۔۔۔؟”کلثوم اپنی کمر پر ہاتھ رکھتی مصطفٰی کو گھورتے ہوئے بولی تھی۔

اور پھر ہلکے سے سٹیپ لینا شروع کیے تھے ۔

☆☆☆☆☆

کیوں اگئے پیچھے ڈولتے ہو بھوروں کی طرح

کیوں دیکھتے ہو مجھ کو یوں بے صبروں کی طرح

کیا میرے دیوانے ہو۔۔؟

نہیں نہیں۔۔۔

کیا میرے پروانے ہو۔۔۔؟

نہیں نہیں۔۔۔۔

مصطفٰی صاحب گھبراتے ہوئے بولے۔۔

کیا میرے دیوانے ہو، کیا میرے پروانے ہو۔۔؟

کیا کام ہے اتنا بتا دو جی ذرا۔۔۔۔؟

☆☆☆☆☆

اس کہ بعد آسیہ نے ابراہیم کو تیوری چڑھا کر بولا تھا۔

کیوں اگئے پیچھے ڈولتے ہو بھوروں کی طرح

کیوں دیکھتے ہو مجھ کو یوں بے صبروں کی طرح

کیا میرے دیوانے ہو۔۔۔؟

نہیں نہیں۔۔۔

کیا میرے پروانے ہو۔۔۔؟

نہیں نہیں۔۔

ابراہیم چہرے سے پسنہ صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔

کیا میرے دیوانے ہو،کیا میرے پروانے ہو۔۔۔؟

کام کیا ہے اتنا بتا دو جی ذرا۔۔۔؟

☆☆☆☆☆☆

مانو،داری،ماہم،سالار اور مومل نے اُن چاروں کا ساتھ۔۔

بول دے پیار ہے،خاموش کیوں ہے کھڑا۔۔۔

ہم اگر ہوتے تو بول دیا ہوتا۔۔

☆☆☆☆☆

ثمی اور آسی دونوں سٹیپ لیتے ہوئے بولیں۔۔۔

کیوں اگئے پیچھے ڈولتے ہو بھوروں کی طرح

کیوں دیکھتے ہو مجھ کو بھوروں کی طرح

کیوں دیکھتے ہو یوں بے صبروں کی طرح

کھڑکی پے میری کیوں رکھتے ہو آنکھیاں

کرتے ہو کیوں تم میری ہی بتیاں

کھڑکی پے میری کیوں رکھتے ہو آنکھیاں

کرتے ہو میری کیوں تم میری بتیاں

آسیہ اور کلثوم نے مصطفٰی اور ابراہیم کے گرد چکر لگاتے ہوئے بولا۔۔۔

میرے لیے آتے ہو ۔۔۔؟

نہیں تو ۔۔۔

گیت گنگناتے ہو۔۔۔؟

نا نا

میرے لیے آتے ہو۔۔۔

گیت گنگناتے ہو۔۔

بات کیا ہے دل میں تمہارے تم کو ہی پتہ۔۔۔

☆☆☆☆☆☆

مانو،داری، ماہم، سالار اور مومل

چھوڑ دے یہ شرم تو پاس اُس کو بولا

ہم اگر ہوتے تو پاس بولا لیا ہوتا

☆☆☆☆☆☆☆

پری اور ايشو کا ساتھ دینے کے لیے خود کلثوم بیگم اور آسیہ بیگم آگئیں۔۔۔

اووووووو سب نے ہوٹنگ کی تھی۔۔۔

ہاتھوں میں کیوں ہے یہ سونے کا گنگا۔۔۔

تم کو پہنا کے لے جاؤں گا آنگنا۔۔

سجنی بناؤ گئے ۔۔۔؟

ہاں جی ہاں جی ہاں

جان بھی لوٹاؤ گئے ۔۔۔؟

ارے ہاں جی ہاں جی ہاں۔۔۔۔

اج ہم کہتے ہیں تم سے پیار ہوگیا۔۔۔

☆☆☆☆☆

مانو،داری، ماہم، سالار اور مومل..

ہاتھ یہ تھام کر کہاں پر ہے تو چلا

اپنا بھی شکریہ کر دیا ہوتا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆

احمر اور علیان کے ساتھ مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب نے ساتھ دیا۔۔۔۔

ہم اگئے پیچھے ڈولتے ہیں بھوروں کی طرح

ہم دیکھتے ہیں یوں بے صبروں کی طرح

کیا میرے دیوانے ہو۔۔؟

ہاں جی ہاں جی ہاں

کیا میرے پروانے ہو

ہاں جی ہاں جی ہاں

اج ہم کہتے ہیں تم سے پیار ہوگیا۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆

سب بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔

اور اب سب ایرپورٹ پہنچ چکے تھے۔کچھ ہی دیر میں انکے جہاز نے اوڑان بھرنی تھی۔

پلین میں ایشو اور علی کی ایک ساتھ سیٹ تھی، ماہم اور داریاں کی،پری اور احمر کی،مول ، سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم کی تھی۔ جبران اور حسن صاحب ساتھ تھے۔ آسیہ بیگم اور کلثوم بیگم،مصطفٰی صاحب اور ابراہیم صاحب ایک ساتھ تھے۔نایاب کی کسی اجنبی بزرگ خاتون کے ساتھ تھی۔۔۔

لیکن سب سے بڑی جنگ یہ تھی کی مانو کہ سیٹ سالار اور ازلان کہ درمیان میں تھی۔۔۔۔

“حسن انکل میں نے نہیں بیٹھنا اس لنگور کے ساتھ” مانو نے ازلان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“آپ میری جگہ آجائیں”

“میں بھی مرے نہیں جارہا تمہارے ساتھ بیٹھنے کو میری بلا سے جدھر جاؤ چائے بھاڑ میں ہی کیوں نہ۔۔۔” ازلان نے تپ کر کہا تھا۔

“بس مجھ سے دور رہو۔”

ازلان نے ناک سے مکھی اُڑائی تو مانو نے دانت پیسے۔۔۔

“مجھے بھی کوئی شوق نہیں تم سے بات کرنے کا۔میرے طرف سے تم جہاں جاؤ چاہئے کچرے کے ڈبے میں ہی کیوں نہیں۔۔۔”

“اپنی بکواس بند کرو بلڈوز کہیں کی”

“اور تم زکوٹا جن۔”

مانو تمیز بات کرو ازلان سے تم سے بڑا ہے۔نایاب درمیان میں بولی۔۔۔

“پہلی بات کالی گوریلی، چوہے کی منہ والی پینڈو انسان تمہیں بڑی تمیز ہے۔جب دو بندے آپس میں گفتگو کر رہے ہوں درمیان میں نہیں گھستے، مگر نا مرغے کی وہی ایک ٹانگ اپنا بیگن جیسا بوتھا گھسانا لازمی ہے۔۔۔”

“چلو اب دفعہ پرے ہو جاؤ ورنہ میرے منہ سے، بے ساختہ کچھ نکل جائے گا۔” مانو سارا غصہ نایاب پر نکلنے کہ بعد یہ بولی۔۔۔

مانو سعدیہ بیگم نے مانو کو وارن کرتی نظروں سے گھورا۔

جبکہ پورے پلین میں سب کی ہنسی کی ہلکی ہلکی آواز گونجی رہی تھی۔

“ارے مانو میں درمیان میں آجاتا ہوں سالار فورن بولا۔”

“نہیں شاہ اب میں اپنی جگہ پر بیٹھوں گئی”

انایاب اپنی اتنی ذلالت پر ضبط کرتی رہے گئی۔جب کہ باقی سب اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے۔

سب بہت زیادہ خوش تھے۔لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں تھا، دور کھڑی قسمت ان سب کی خوشیوں پر طنزیہ انداز میں مسکرائی تھی۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

“اج اخر کار وہ دن آ ہی گیا۔ ہم تینوں مل کر اس ملک کو تباہ کرنے کے لیے اج پہلا قدم بڑھائیں گے۔”

“ہاہاہا”

“Yes! Dear Snake venom…”

دوسری طرف سے جواب موصول ہوا۔جس پر ایس۔ وی کے چہرے پر مکرو سی ہنسی نمودار ہوئی۔

“اج میں بتاؤں گا۔ اس کھوکھلے ملک پاکستان کو کے، اس کی کیا حیثیت ہے۔میرے سامنے دا گریٹ سنیک ونم ہے کیا۔بچاری پاک آرمی اور مارخور۔

لوگوں کو بچانے کیلئے حاضر ہوتے ہیں، نا آج دیکھتا ہوں کس کس کو بچاتے ہیں۔ جن کو یہ تک معلوم نہیں بمز ہیں کہاں اور کتنے ہیں ایک نہیں دو نہیں بلکہ چار ہیں۔۔”

ایک بار پھر تینوں نے زوردار قہقہہ لگایا۔

“ہاہاہاہاہاہاہا”

“ویسے شیخ اس بار جو مال لڑکیوں کا بھیج رہا ہوں۔ان کو دیکھتے ہی دل للچا جائے گا، پوری حسن کا پیکر ہیں۔

بلکل ان ٹچ ” یہ بولتے ہوئے ایک بار پھر تینوں خباثت سے مسکرائے تھے۔

“R.B

” تم میرا مال تیار رکھو اور شیخ تم بھی۔”

اب کال منقطع ہو چکی تھی۔

اب سے ٹھیک دو گھنٹے بعد ہی ایک ساتھ چار جگہوں پر

“بومممم”

“ٹک ٹک ٹک سٹارٹ”

بولتے ہی ایس-وی نے ریموٹ کا بٹن دبا دیا۔اور اپنے اندر شراب اُنڈیلنے لگا۔۔۔

“غفار مال ڈیلور کرنے کی تیاری کرو۔۔۔”

🖤
🖤
🖤
🖤

“ٹیم ممبرز بی الرٹ کیوں کہ ہمارے پاس صرف دو گھنٹے کا وقت ہے۔ اس ہی وقت میں بم کو ڈھونڈ کر ڈیفوز کرنا ہوگا۔۔”

سب کو میسج موصول ہوا تو سب اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

“کیلر بہت شوکنگ نیوز ہے۔کہ آج سنٹورس شوپنگ مول میں ونٹر سیزن کی سیل ہے اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں عوام موجود ہے۔۔۔”

“تو ایس-وی نے صرف جلسہ گاہ، مدرسے اور ریلوے کو ہی کیوں نشانہ بنایا۔۔۔؟”

ہنٹر کی بات پر کیلر کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔۔۔

دو منٹ کا کھیل تھا۔ جس پر کیلر نے مٹھیاں بھینچ لیں۔

“او شیٹ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔”

کیلر نے گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا ہنٹر اینڈ فائر تم دونوں جلسہ گاہ جاؤ۔۔۔

کیلر نامی سایہ ہنٹر اور فائیر نامی سایوں دونوں پر چلایا تھا۔جس کو سنتے ہی دونوں وہاں سے سیکنڈ میں گم ہوگئے تھے اور وہ خود باہر کی طرف چل پڑا تھا۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

ڈیول کینگ اس وقت عام آدمی کہ لباس میں ریلوے اسٹیشن پر موجود تھا۔۔۔

حلیہ کچھ اس طرح تھا۔ بلیک لانگ کوٹ،سر پر کیپ جس سے سارا منہ بھی ڈھکا ہوا تھا لیکن پھر بھی منہ پر ماسک لگا ہوا تھا۔۔۔

دوسری طرف ایول مونسٹر نے اپنے حلیے کو اس طرح سیٹ کیا تھا۔ہاتھ میں بڑی سی لکڑی پکڑے، لنگڑاتے ہوئے چل رہا تھا،گلے میں پانچ سے چھ رنگ پرنگی مالا ڈالے، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ،بڑی ہوئی دھاڑی، لمبے بکھرے بال،جس سے وہ ایک بھیک مانگنے والا بھکاری لگ رہا تھا۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کو بلکل نا پہچانتے تھے۔ہر طرف دونوں کی نظریں گھوم رہیں تھیں۔۔۔

دونوں نے ایک دوسرے کو ٹیکسٹ میسج پر بتا دیا تھا۔ کہ یہاں موجود ہیں۔ایول مونسٹر آیک بنچ کے قریب بیٹھا تھا۔۔۔

ہر آتے جاتے شخص کو دیکھ رہا تھا۔کہ سپیکر سے آواز اُبھری کہ ٹرین کچھ خرابی کی وجہ سے کچھ دیر انتظار کریں۔

ریلوے کی ٹیم کی ساتھ ایک آدمی جو کہ ٹرین کو بنانے آیا تھا۔وہ ٹرین کہ نیچے لیٹ تھا۔اور کام کر رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں ٹرین بن گئی۔ تو سب مسافر اس میں سوار ہونے لگے۔۔

یہ جانے بغیر کہ ان سب کی زندگیوں کو کتنا خطرہ ہے۔وہ آدمی جو ٹرین بنانے آیا تھا۔وہ ٹرین میں بم پلانٹ کر کے گیا تھا۔۔

ابھی وہ شٹیشن سے باہر نکلتا اس شخص کہ کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا۔ کیوں کہ جب وہ کام کر کے بنچ پر بیٹھا تھا۔

اس کہ چہرے پر ڈر کے سائے لہرا رہے تھے۔سردی میں بھی پسینے سے شرابو تھا۔اسی لیے تیز تیز قدموں سے چلتا جارہا تھا۔لیکن کسی کے ہاتھ رکھنے پر اس کا حلق تک خوشک ہو گیا تھا۔۔۔

🖤

دوسری جانب سپائے ہیکر اور ریبل نے بھی اپنا حلیہ بدلا ہوا تھا۔لیکن چہرہ نقاب میں مقید تھا۔ دونوں اس وقت اسلام آباد کی مشہور اور بڑی مسجد اور مدرسے میں موجود تھے۔ جہاں لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔۔۔

جہاں بچے، بوڑھے جوان مرد اور عورتیں سب تھے۔۔۔

اسی بیج بم کو ڈھونڈنا کوئی بچگانہ حرکت لگ رہی تھی۔خیر دونوں کی تلاش جاری تھی۔۔۔۔

🖤
🖤

شہیر شاہ کا اج جلسہ تھا۔ کیونکہ کہ ووٹ قريب تھے۔ بلیڈی ہنڑ اور کولڈ فائیر بھی کیلر کا آوڈر مانتے ہوئے جلسہ گاہ پر موجود تھے۔ لیکن اپنے مخصوص حلیے میں تھے۔اتنی بھیڑ میں ڈھونڈنا تقریبن ناممکن سا لگ رہا تھا۔لیکن پھر بھی وہ دونوں اپنے اپنے کاموں میں جت گئے۔اور ہر جگہ تلاشی شروع کر دی۔۔۔

🖤
🖤
🖤

کیلر نامی سایہ اس وقت شاپنگ مال میں موجود کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہر طرف اپنی نظریں گھوم رہا تھا۔چہرہ مکمل طور پر چھپائے ہوئے تھا۔اس کا رخ اب کنٹرول روم کی طرف تھا۔۔

جہاں وہ پہنچا کہ سامنے دو آدمی شاپنگ مال کی سی سی ٹی وی کنڑول کر رہے تھے۔ سایہ اندر داخل ہوا اور ساتھ ہی کمرہ کی ساری لائٹس آف کر دیں۔۔۔

جس پر دونوں کمپیوٹر آپریٹر حیران ہوئے تھے۔کہ کیلر نے اگئے بڑھ کر دونوں کی گردنوں پر موجود خاص رگ دبا دی منٹوں کا کھیل تھا۔دونوں کی گردنے ایک طرف کو لڑک گئیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *