Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 34)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 34)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
آج شام کو داریان اور ماہم کی رخصتی تھی۔ساتھ ہی سالار اور مومل کا نکاح بھی تھا۔تو سارے فنگشن راجپوت ہاؤس میں رکھے گے تھے۔ہر طرف تیاری کا زور شور تھا۔ ازلان اور باقی سب واپس پہنچ چکے تھے۔ مگر کسی نے ایک دوسرے سے کوئی سوال نہ کیا تھا۔
صبح کے وقت سارے ناشتے کی ٹیبل پر موجود ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپوں میں مصروف تھے۔
“داریان!! تمہارے لیے بہت ضروری کام پڑا ہے۔پرسوں تم ذرہ گرے لینڈ جانا “انمول کی بات پر داریان مانو کی طرف متوجہ ہوا تھا۔مگر انمول کی آنکھوں میں چمکتی وحشت کو دیکھا کر جھرجھری سی آئی تھی۔
” پتہ نہیں اب کس نے اس کا جلالی روپ دیکھنا ہے۔”
ازلان کے ہونٹوں سے بےساختہ پھسلا تھا۔جس کو سنتے انمول کی ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ بکھری تھی۔
“کونسے کام کی بات کر رہی ہو تم۔۔؟ مانو پہلے بتا رہی ہوں، اگر تم نے آج کوئی گڑبڑ کی نہ تو میں نے سارے لحاظ بھول بھال کر تمہاری چھترول کرنی ہے۔” سعدیہ بیگم نے مانو کو گھور کر وارن کرتی نظروں سے بولیں تھیں۔
سعدیہ بیگم کی بات سنتے انمول گڑبڑاتے ہوئے سیدھی ہوئی تھی۔ ” ارے مما جانی میں نے کچھ نہیں کہا۔۔” انمول نے جلدی بات کو بدلا تھا۔
“مانو ۔۔!! تاریخ گواہ رہے گی،کہ پاکستان کی سفاک ٹاکسک کیلر فقط اپنی ماں کی چھترول سے ڈرتی ہے۔” سب نے انمول کو یوں گڑبڑاتے دیکھ ، سب نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔مگر ایشعال کی سرگوشی نے رہی سہی کسر پوری کی تھی۔اور اپنی ہنسی کو زبردستی دبایا تھا۔تو انمول نے ايشو کو خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے،کھسیانی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی تھی۔
“زی۔۔! اگر فری ہو تو پلیز مجھے مال شاپنگ پر لے جانا ” نایاب نے ازلان سے منت بھرے لہجے میں کہا تھا۔ تو ازلان نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے ہامی بھری تھی۔ازلان کی ہامی پر جہاں نایاب کا چہرہ کھل اُٹھا تھا، وہیں انمول کا دل اُداس سا ہوگیا تھا۔مگر خاموش رہی تھی۔ وہ اپنی دوستوں کا سپیشل ڈے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔



ایس_وی کو جب سے غفار کے مارے جانے کی خبر ملی تھی۔ تب وہ جلے پیر کی بلی کی مانند پاگل ہو رہا تھا۔ ” شیخ وہ ایک لڑکی تھی۔ اس نے مجھے برباد کر دیا، میں اُس کے گھر والوں کو برباد کر دوں گا۔اس کی ملک کو تباہ کروں گا۔”
“شہیر۔۔! قابو رکھو خود پے، غصے میں پاگل مت بنو، اور سب سے پہلے تم ڈیول کنگ کے گھر والوں کو ختم کرواؤ، اس سے وہ ٹوٹ جائیں گے۔ پھر اس کیلر اور اس کے ساتھیوں کو ،بھی دیکھتے ہیں۔” بہرام شیخ نے شراب گلاس میں اُنڈیلتے ہوئے، شہیر شاہ کی طرف بڑھایا تھا۔
شہیر شاہ نے گلاس ہونٹوں سے لگایا ہی تھا۔ کہ اس کا فون بجنے لگا تھا۔فون پر جگمگاتے نام کو دیکھ کر شہیر نے بےزایت سے کال ریسو کی تھی۔
” اسلام وعلیکم۔۔! ” کال اٹینڈ کرتے ہی سالار نے سلام کیا تھا۔
وعلیکم السلام۔۔!! شہیر نے بے زار لہجے میں سلام کا جواب دیا تھا۔شہیر انداز پر سالار نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھیجیں تھیں۔
” آپ کو زیادہ بے زار ہونے کی ضرورت نہیں، آج رات کو نو بجے تک، میرا نکاح ہے، دل کرے تو نکاح میں شرکت کریے گا۔ ” سالار نے بولتے ہی کال کاٹ دی تھی۔
“واہ بیٹے کا نکاح ہے، اور باپ کو اب معلوم ہو رہا ہے۔” شہیر شاہ نے پراسرار سا قہقہہ لگایا تھا۔آج اُس کی حالت دیکھ کر کسی پاگل کا گمان ہو رہا تھا۔



” مومی۔۔۔!! کیا ہوگیا ہے، یار اپنی حالت دیکھو، چہرے پر زری سی گھلی ہوئی ہے۔” پریہان نے فکرمندی سے مومل کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھا تھا۔
” ارے نہیں پری ، ایسا کچھ نہیں ہے، بس کل سے ذرہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے،الٹیاں ہو رہی ہیں،اسی لیے تمہیں ایسا، محسوس ہورہا ہے۔” مومل نے اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی وجہ بتائی تھا۔
” موسم کی وجہ سے ، ایسا ہورہا ہوگا، اگر تم شادی شدہ ہوتی ، تو پتہ ہے ، دادی کیا بولتیں ، لگاتا ہے لڑکی کے پیر بھاری ہوگے ہیں،” مومل کی بات سنتے کمرے میں داخل ہوتی ایشعال نے اپنی فلاسفی جھاڑی تھی۔ اور پھر پری اور ایشو کا قہقہہ گونجا تھا۔مگر ایشعال کی بات سنتے مومل کے چہرے کا رنگ فق پڑا تھا۔
“مومی یار ریلکس میں مذاق کر رہی ہوں۔” ایشعال نے مومل کی اُڑی ہوئی رنگت کو دیکھ کر اپنی بات سنبھالی تھی۔کہ شاید مومل نے بات کو دل پر لے لیا ہے۔مگر حقیقت میں مومل کے دل کو دھڑکا لگا تھا۔اگر وہ واقعی میں ماں بننے والی ہوئی تو۔۔۔۔؟
لوگ اس معصوم سی جان کو نا۔ناجائز بولیں گے۔یہ سوچ دماغ میں آتے ہی مومل کی روح تک کانپ اُٹھی تھی۔
” اچھا مومی تم آرام کرو،رات میں تھک جاو گی۔ ” پریہان نے مومل کی آنکھوں سے چشمہ اتارتے ہوئے، آرام کرنے کی تاکید کی تھی، پری کے حکم پر عمل کرتے ہوئے، مومل بھی سوگئی۔



ظہر کا وقت تھا۔ساری خواتین نماز سے فارغ ہو کر ہال میں بیٹھیں باتوں میں مصروف تھیں۔آج موسم کافی حد تک ابر آلود تھا۔تیز ہواؤں کا رقص تھا۔گھر کے مرد حضرات فنگشن کے ساری تیاری دیکھنے میرج ہال کی طرف گئے تھے۔
“چلو بچوں تم تینوں بھی آرام کر لو رات میں بہت کام ہیں۔”دانیہ بیگم نے انمول ، پری اور ایشو سے کہا تھا۔جو کہ ہلکی آواز میں کچھ باتیں کر رہیں تھی۔
” اوکے مما جانی جانتے ہیں ” پریہان نے ماں کو فورن سے جواب دیا تھا۔
” سعدیہ تم بھی آرام کر لو ” دانیہ نے اپنی بہن جیسی سہیلی کو بھی آرام کرنے کی تاکید کی تھی۔ سعدیہ بیگم نے سر اثبات میں ہلا کر جواب دیا تھا۔
مگر اچانک ہی پورے گھر کی لائٹس سپارک کرنے لگیں تھی۔ کہ دیکھتے ہی دیکھتے بیس سے پچس لوگ گھر میں داخل ہوئے تھے۔جن کے کپڑوں پر خون سے نہائے ہوئے تھے۔ہاتھوں میں گنز اور چہرے ماسک میں چھپے ہوئے تھے۔
اتنے لوگوں کو دیکھتے دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ مگر انمول پری اور ایشعال کے چہروں پر گہری سنجیدگی سی چھائی تھی۔
انمول نے اشارے سے سب کو میسج کر کے گھر بلانے کا کہا تھا۔ کیوں کہ وہ سب کے سامنے یوں بےدھڑک لڑ نہیں سکتی تھی۔
” ڈیول کنگ کہاں ہے۔۔۔؟”
ایک آدمی دھاڑا تھا۔کہ انمول اور اس کے ساتھیوں نے خود پر ضبط کیے آنکھیں میچیں تھیں۔مگر کچھ سوچتے انمول کی سبز آنکھیں چمکیں تھیں۔انمول پری اور ایشو دیکھتے آنکھ دبائی تھی۔
“غنڈے بھائی!!! کیا ہوگیا ہے۔کیوں اپنا گلا پھاڑ رہے ہیں۔۔؟”انمول نے معصومیت سے انکھیں ٹپ ٹپاتے ہوئے سوال کیا تھا۔
“ارے لڑکی تم سب ہمارے منہ مت لگو،اور ڈیول کو بلاو۔۔نہیں تو تم سب کی کھوپڑیاں کھول دینی ہیں۔” ایک نقاب پوش غنڈہ جو کہ سب کا سربراہ لگ رہا تھا۔ انمول کو ناگوار نظروں سے گھورا کر بولا تھا۔ساتھ ہی کچھ روعب سے دھمکی بھی لگائی تھی۔
جب کہ ایشو اور پری بھی انمول کے ان کے سامنے آئیں تھی۔
” ارے غنڈہ بھائی۔۔!! توبہ توبہ ہم آپ کی بیوی کے حق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتیں، اور ویسے بھی، الحمد اللہ ہم شریف لڑکیاں ہیں،اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کے منہ نہیں لگتیں، پریہان کی بے باک بات سنتے، سب کو اپنے کانوں دھوائے نکلتے محسوس ہو رہے تھے۔
سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم ہونقوں کی طرح اپنی پاگل بیٹیوں کو دیکھ رہیں تھیں۔جن پاگلوں کو ایسی سچویشن میں بھی مذاق سوجھ رہا تھا۔اور ساتھ ہی سارے غنڈے بھڑک ہی اٹھے تھے۔
“اے لڑکی خود کو شانڑی سمجھتی ہے، زیادہ مذاق سوجھ رہا ہے،۔۔۔؟”
“بھائی مذاق شروع اپنے کیا تھا۔” پریہان نے خود کو معصومیت کی چادر میں چھپاتے ،ساری غلطی ہی اسی پر ڈال دی تھی۔
” ابے رک تیری تو سب سے پہلے کھوپڑی کھولتا ہوں۔۔بہت زیادہ چک چک کرتی ہے۔” غنڈوں کا سربراہ آگے بڑھ تھا۔ کہ درمیان میں ایشعال دا گریٹ ایشو نے اپنی اینٹری ماری تھی۔
“ارے ارے بھائی ایک منٹ پہلے مجھے بچاری کے سوال کا جواب دیں،کہ آپ اس کی کھوپڑی کیسے کھولیں گے۔” ایشو نے تجسس کے مارے دل میں آیا ہوا، سوال کر ہی ڈالا تھا۔اس بات سے مقابل واقعی میں پاگل ہو چکا تھا۔اپنے بال نوچتے، وہ ایک فیصلے پر پہنچا تھا۔
“ابھی تمہیں اُس کا نمونہ پیش کرتا ہوں”، بولتے ہی بنا سوچے سمجھے سامنے سعدیہ بیگم کی طرف گن کا رخ کرتے گولی چلائی تھی۔ مگر ایشعال نے کلابازی کھاتے ہوئے، ماں کو دھکا دیتے ہوئے،گولی اپنے بازو پر کھائی تھی۔
سعدیہ اور دانیہ بیگم دونوں نے چیختے ہوئے، بےیقینی سے،سب دیکھا تھا۔وہ ایشعال جو ایک چھپکلی سے ڈر کر چیخیں مار مار کر گھر سر پر اُٹھا لیتی، آج اُس کی بازو سے خون کا فوارہ پھوٹا تھا۔مگر لبوں سے ایک سسکی بھی نہ نکلی تھی۔ابھی وہ ایک صدمے سے نکلیں نہ تھیں،ایک درد ناک چیخ نے ان کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر ، ان توجہ اپنی طرف کی تھی۔
جہاں انمول نے اُس شوٹر کی گردن کے بیچ و بیچ چاقو گھونپا تھا۔اسی کے ہاتھ سے گن چھنتے اُس کی چیخ کے دوران ہی،منہ میں گن رکھ کر،ٹریگر دبایا تھا۔جس سے وہ پھڑپھڑاتا ہوا شخص، ساکت ہوا تھا،اتنے درد کے باوجود بھی وہ چیخ نہ پایا تھا،اور ایک جھٹکے سے، وہ زمین بوس ہوا تھا۔ انمول کی اس قدر سفاکی پر سعدیہ بیگم ششدر سی رہے گئیں تھیں۔
پورے گھر میں سناٹا سا چھا گیا تھا۔ایسی ہولناک خاموشی کہ کوئی ذی روح بھئ موجود نہ ہو، باقی کھڑی فوج نے بےساختہ اپنا گلہ تر کیا تھا۔کوئی اتنا وحشی کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک گولی کے بدلے ایسی درد ناک موت ، سامنے کھڑی لڑکی کوئی انسان نہ تھی، شاید وہ ایک سفاک وحشی شیطان تھی۔
انمول نے ہاتھ میں لی ہوئی گن، اپنے پیچھے کی طرف اچھالی تھی۔جس کو بڑی مہارت سے پریہان نے کیچ کی تھی،انمول نے سب کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرتے ہوئے، ہونٹوں سے کچھ گنگنا شروع کیا تھا۔ اُس کا انداز انتہا کا پراسرار تھا۔سبز مسکراتی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔
There’s part of Mine
That I cannot Hide
I’ll Tride And Tride
A million times
Cross My Heart
Hope to Die
welcome To My
Dark Side ![]()
انمول کے خاموش ہونے پر تینوں مارخور ایک ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ایشعال نے ٹیبل پر فروٹ باسکٹ سے فنر والا تیز دھار چاکو اُٹھایا تھا۔ انمول نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،اچانک سے تینوں نے اپنا حملہ شروع کیا تھا۔کہ سامنے کھڑے سارے غنڈے سنبھلے تھے۔اور دھڑادھڑ فائرنگ شروع کر دی تھی۔پریہان نے بھی جلدی سے اپنی ماں اور ساس کے سامنے صوفے الٹ دیا تھا۔اور پھر جوابی کارروائی میں فائرنگ کی تھی، تینوں کے چہروں پر خطرناک حد تک سنجیدگی طاری تھی۔
وہ تینوں تباہی کی مانند تھیں، جو کہ بڑی سفاکی سے لاشیں گراتی جارہیں تھیں۔ پورے گھر میں خون کی ندیاں تھیں۔ سعدیہ اور دانیہ دونوں ایک دوسرے سے چیپک کر، اپنی نازک سی اولادوں کا شیطانی روپ دیکھ رہیں تھیں۔ جو ایک چھوٹی سے چوٹ پر آنکھوں سے سیلاب بہا لیتں،آج اتنی سفاکی سے انسانوں کا خون بہا رہیں تھیں۔ چھ شوٹرز کو پریہان مار چکی تھی۔ تو انمول نے دس شوٹرز کو جہنم وصول کروائی تھی۔اور ایشعال نے چار شوٹرز کو زمین بوس گرایا تھا۔باقی بچے پانچ اپنے ساتھیوں کی حالت دیکھ کر چھپ گئے تھے۔
اتنا شور سنتے،آسیہ بیگم اور کلثوم بیگم بھی اپنے کمروں سے نکلتیں باہر کو بھاگیں تھی،مومل جو تھوڑی دیر پہلے سوئی تھی، اچانک اتنی تیز آوازوں پر کمرے سے نکلتی بار کو آئی تھی۔ اپنی پوتیوں کا ایسا وحشی روپ دیکھ،کر دونوں کے ہاتھ منہ کو پڑے تھے۔مومل تو یہ سب دیکھتے ہی بے ہوش ہوگی تھی۔جس کا فائدہ اٹھاتے پانچوں شوٹرز نے،آسیہ اور کلثوم بیگم کو اپنی حراست میں لیا تھا۔
پورا گھر ایک بار پھر خاموش ہوا تھا۔مگر ہلکے قدموں کی چاپ سنتے دا گریٹ ٹاکسک کیلر یعنی انمول راجپوت کے چہرے پر یک طرفہ مسکراہٹ ائی تھی۔کیوں کہ وہ آگیا تھا، دنیا جس کو شارپ شوٹر کے نام سے جانتی تھی، ہاں وہ شیطان جس کی گولی کسی کو، ایک سانس کی بھی مہلت نہیں دیتی ، انسان سیدھا جہنم وصول کرتا ہے۔یہ دیکھتے ہی انمول نے اپنی گن پھنک دی تھی۔ہاں وہ شیطان کا بادشاہ ڈیول کنگ، اچکا تھا۔ڈیول کے ساتھ برائی کا دیوتا بھی آیا تھا،جس کے نام کی دہشت کم وقت میں ہی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی، ایول مونسٹر بھی آیا تھا۔۔
ان چاروں کے ہال میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہوا کو چیرتی گولیاں داخل ہوئیں تھی، تین شوٹرز کے دل کے مقام کا نشانہ لیا گیا تھا۔ جب کہ باقی دو شوٹرز کو دماغ کے بیچ و بیچ میں گولی لگی تھی۔انمول نے زمیں پر پڑے ہوئے ایک شوٹر کی گن لیتے ہوئے اپنا رخ بدلا تھا۔اور بن پلک جھپکائے، ان سب کو دیر سے آنے کی سزا دی تھی۔
دس منٹ کا وقت دیا تھا۔ مگر وہ لوگ بیس منٹ بعد گھر پہنچے تھے۔ جس کی سزا تو بنتی تھی۔اور سب سے بڑی وجہ وہ تینوں گھر والوں کے سامنے اپنا شیطانی روپ چھپائے رکھنا چاہتے تھے۔ڈیول ،ایول ،ریبل اور ہیکر کو سب ٹانگوں پر گولی لگی تھی، وجہ وہ جانتے تھے،اسی لیے خاموش تھے۔
جب کہ کچھ ہی وقت میں داریان بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ماہم بھی تھی، جو کہ آنکھیں پھاڑے، اپنے گھر میں گری لاشوں کو دیکھ رہی تھی۔
“سوری کیلر ! مجھے غریب کو کچھ مت کرنا، میں آگیا راستے میں ٹریفک بہت زیادہ تھی۔”داریان ان چاروں کو زخمی دیکھ کر بےساختہ بولا تھا۔تو انمول نے ایک اور فائر کیا تھا۔ جو کہ داریاں کی گردن کے پاس سے گزرا تھا۔داریاں نے اپنی موت کو اتنا قریب سے دیکھ کر جھرجھری سی آئی تھی۔
“مس ٹاکسک کیلر! آج کچھ بولنا چائیں گی،آج آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے اپنی گن پھنک دی تھی۔اُس دن میں نے بھی خود کو اپنی فیملی کے لیے سرنڈر کیا تھا۔” ازلان نے انمول پے بھگو طنز کر طنز کیا تھا۔ کہ اسی پل انمول نے خود کی ٹانگ پر فائر کیا تھا۔ گھر میں موجودہ سب لوگوں کو،انمول کی سبز سرخ آنکھوں سے وحشت سی ہو رہی تھی۔
داریان نے جلدی سے اپنا بیگ کھولا تھا۔ اور سب صوفے پر لیٹتے ہوئے ،باری باری گولیاں نکالیں تھیں۔جب کہ ماہم ایشعال کے بازو سے گولی نکالنے کے بعد اُس کی پٹی کر رہی تھی۔
سب کی پڑی چل رہی تھی۔کہ دس آدمی جو کہ کالی وری میں ملبوس تھے۔گھر میں داخل ہوئے ، تو سب ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔اور انمول کے سامنے مودبانہ انداز میں دو قطاروں میں کھڑے ہوئے تھے۔
” یس میم۔۔!! ” ایک نے آگے بڑھ کر ادب سے سوال کی تھا۔
انمول جو صوفے پر سر نیچے جھکائے بیٹھی تھی۔ سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
” دس منٹ منٹ میں پورا صفایا کرو اور ان کا جنازہ پڑھ کر تدفین کر دینا۔اللہ ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائیں ” کیلر نے سب پر افسوس کرتے ہوئے، ایک نظر ڈالی تھی۔
” اوکے میم۔۔۔!!” اس شخص نے اپنی نظروں سے ہی اشارے سے سب کو کام پر لگنے کا حکم دیا تھا۔مگر خود کیلر کے سامنے خاموشی سے کھڑا تھا۔
“ایک چیز کو بھول مت جانا ، ان کو غسل نئے ایسڈ سے دینا، جو ریسنٹلی فائر اور ہنٹر نے تیار کیا ہے۔”
انمول کے اس خوفناک حکم پر سب نے دہل کے ، اس کی طرف دیکھا تھا۔آخر کیا تھی وہ، اور کیا کوئی حد تھی، اُس کی سفاکی کی۔۔۔؟ نہیں بلکل نہیں وہاں بیٹھے ہر شخص کو اُس کیلر سے خوف آیا تھا۔اُس کا آنداز ابھی تک پراسرار اور وحشی تھا۔
سب کی مرہم پٹی ہوچکی تھی،سوائے انمول کے، اور وہ سب سے لاتعلق زمیں میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔سعدیہ، دانیہ، آسیہ اور کلثوم بیگم سب ابھی تک ان سب کو بےیقینی سے دیکھ رہیں تھیں۔جب کہ انمول کی ٹانگ سے بہتے خون کو دیکھ کر سب کو اس کی فکر ہوئی تھی۔سالار نے ابھی لب کشائی ہی کی تھی۔ کہ انمول نے ہاتھ کہ اشارے سے خاموش رہے کو کہا تھا۔
جبکہ وہ اس کی آنکھیں زمین کو گھور رہیں تھیں۔جب کہ سالار تو اُس کی صلاحیت کو دیکھتا دنگ رہے گیا تھا۔باقی سب کی بھی حالت مختلف نہ تھی، ازلان تو ابھی تک اپنے طنز پر خود پچتا رہا تھا۔ کاش کہ وہ اپنی اینجل کوئین کی خوداری پر چوٹ نہ کرتا، شاید وہ خود کو کم درد دیتی،مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا۔کمان سے نکلا تیر اور زبان سے پھسلا طنز، کبھی کوئی نہیں روک سکتا۔مومل کو بھی ہوش اچکا تھا۔ دانیہ بیگم اور سعدیہ بیگم کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
کہ تبھی داخلی دروازے سے مصطفٰی، صاحب، ابراہیم صاحب، جبران صاحب اور حسن صاحب کے ساتھ وارث صاحب کو گھر میں آتے دیکھ کر سب ٹھٹھک سے گئے تھے۔جبران صاحب نے داریاں کو اشارہ کیا تھا۔ کہ پٹی کرو، تو ڈرتے ڈرتے ،داریان انمول کے قریب آیا تھا۔ وارث صاحب نے انمول کے ہاتھ سے گن لی تھی۔گھر مکمل طور صاف ستھرا ہو چکا تھا۔اور جو صفائی کے لیے آئے تھے۔وہ لاشوں کو اُٹھاتے ہوئے واپس چلے گے تھے۔ داریاں نے انمول کو انجیکشن لگایا تھا۔اور پھر اس کی ٹانگ پے لگی گولی نکالی تھی۔ سب خاموش تھے۔
تو انمول گہری سانس بھرتے ہوئے، اپنی جگہ سے اٹھتی، ماں کے پاس بڑھی تھی۔ اور قریب آتے،بمشکل بولا تھا۔
“مما۔۔۔!!”ابھی آگے کچھ پولتی کہ سعدیہ بیگم نے انمول کے مما پکارنے پر ،ایک جھٹکے میں اپنی جگہ پر سے کھڑی ہوئیں تھیں، غم و غصے کے عالم میں انمول کے رخسار پر تھپڑ رسید کیا تھا۔انمول کے سرخ و سفید رخساروں پر پیلی زری سی گھلی ہوئی تھی، اور پھر اُسی پیلے پڑتے رخسار پر چٹاخ کر تھپڑ۔انمول کا سر ایک طرف کو جھکا تھا۔سب اپنی جگہ تھم سے گئے تھے۔ مگر جبران صاحب انمول کی طرف بڑھے تھے۔
اور جلدی سے اپنی گڑیا کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔ “سعدیہ بیگم۔۔۔!!! “جبران صاحب دھاڑے تھے۔اور کچھ بھی بولنے سے باز رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ انمول کو جلدی سے صوفے پر بیٹھایا تھا۔ “جبران صاحب۔۔!!آپ نے نہیں دیکھا اس نے ان لوگوں کو کسی بے رحمی سے قتل کیا ، یہ انسان نہیں ہے، یہ تو ایک خونی ہے، یہ درندہ صفت لڑکی ہے، یہ میری معصوم سی انمول نہیں” سعدیہ بیگم جو اب تک خاموش تھیں، اب آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑیں تھیں۔ مگر انمول نے ماں کی باتوں پر کرب سے آنکھیں میچیں تھیں۔
جو لڑکی خود کو گولی مارتے ہوئے، نہ ڈری تھی، مگر ماں کی باتوں پر دل میں درد سا ہوا تھا، سبز آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔” خاموش سعدیہ۔۔۔!!! نہیں ہو تم کسی بھی بات سے واقف اسی لیے یہ سب بول رہی ہو۔ جسے تم درندہ صفت لڑکی بول رہی ہو،وہ تو ایک فرشتہ ہے،اپنے ملک کی محافظ، وہ ایک مارخور ہے۔ایک سچی محب الوطن” جبران صاحب کی فخر سے لبریز آواز سب کے کانوں میں پڑی تھی۔سعدیہ بیگم نے اپنے شوہر کو بے یقینی سے دیکھا تھا۔ مطلب کہ وہ بھی سب جانتا تھا۔
“بھابھی جی۔۔!! صرف انمول ہی نہیں ، سب کہ سب بچے ہمارے مارخور ہیں، ایشعال ،پریہان، عليان ،احمر اور ازلان، حد تک کہ سالار بھی ایک مارخور ہیں۔ یہ سب سیکرٹ ایجنٹس ہیں۔ ماہم اور داریاں کو ڈاکٹر بنے کا شوق تھا۔ اور ہم دونوں میں سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔”حسن صاحب نے بھی اپنے بچوں کے بارے میں فخر سے بتایا تھا۔۔جبران اور حسن کے لہجے میں غرور ٹپک رہا تھا۔سعدیہ بیگم نے تڑپ کر انمول کو دیکھا تھا۔جو کہ اپنے درد کو چھپائے، چہرے کو ہر احساس سے عاری رکھے ہوئے تھی۔
“ان۔انمول۔۔!! ” سعدیہ بیگم نے روتے ہوئے کئی ٹکروں میں انمول کا نام لیا تھا۔انہوں نے غصے اور جلد بازی میں بہت کچھ غلط کر دیا تھا۔چھوٹے چھوٹے قدم لیتں، انمول کی طرف آئیں تھیں۔اور اپنے بازو واں کیے تھے۔کہ انمول بنا ایک پل ضائع کیے ۔ماں کے سینے لگ گئی تھی۔ پریہان بھی جھٹ سے اپنی ماں کی طرف بھاگی تھی۔ اور ماں کے گلے لگی تھی۔
” مما میں بھی ہوں۔۔!!” انمول اور اپنی ماں کو ایک دوسرے سے گلے دیکھ ،ایشعال سوں سوں کرتے دوہائی دی تھی۔ جس کو سنتے سبھی مسکرا دیے تھے۔ ” آجا جل ککڑی نہ ہو تو روندو بچی ” انمول نے اپنی بازو کھولتے ،ایشعال کو جگہ دی تھی۔اور ساتھ ہی چڑایا بھی تھا۔ تو سعدیہ بیگم نے دونوں کو پیار سے سر پر بوسہ دیا تھا۔سب نے مسکراتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا۔
” ماہم بیٹا اگر آپ ایزی ہیں،تو سب کے لیے چائے بنا کر لائیں۔” جبران صاحب نے سب کے چہروں پر چھائی تھکاوٹ کو محسوس کرتے چائے کا بولا تھا۔تو ماہم اٹھتی کچن کی جان چلی گی تھی۔شام ہونے کی تھی۔کچھ ہی دیر میں ماہم سب کے لیے چائے، بسکٹ اور ساتھ کچھ ریفریشمنٹ کی چیزیں لائی تھی۔
” مومل بیٹا۔۔!! وارث صاحب کافی وقت سے آپ کو ڈھونڈ رہے تھے۔اج ان کی تلاش ختم ہوئی ہے۔” جبران نے برگیڈیر وارث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مومل سے کہا تھا۔ جب کہ سب ایجنٹس یہ جانتے تھے، کہ وارث صاحب اپنی گم شدہ بیٹی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ مگر وہ بیٹی مومل ہوگی، کبھی سوچا نہ تھا۔
” کیا مطلب انکل میں آپکی بات سمجھی نہیں۔۔!!”مومل کو جبران صاحب کی بات سمجھ نہ آئی تھی۔آنکھوں میں الجھن تھی۔”بیٹا برگیڈیر وارث مجتبٰی آپ کے والد ہیں”
یہ کیسا انکشاف تھا۔سب ہی حیرانی سے کبھی مومل کو تو کبھی وارث صاحب کو دیکھ رہے تھے۔
” مومل بیٹا کچھ ایسے واقعات ہوئے،جس کی بنا پر میں نے آپ کو اپنے آپ سے دور رکھا، آپ میرے ایک وفادار ملازم کے پاس پلی، لیکن ہمارے دشمنوں کو جیسے ہی یہ پتہ چلا ، کہ تم زندہ ہو، انہوں نے فاروق اور اس کی فیملی کو موت کے گھاٹ اتارا، مگر فاروق کا بھلا ہو ، اس نے تمہیں یتیم خانے بھیج کر مجھ غریب پر احسان کیا، بہت وقت سے تمہیں چوری چھپے ڈھونڈ رہا ہوں، کیوں کہ دنیا کی نظر میں میں مرچکا ہوں، اسی لیے تمہیں ڈھونڈنے میں بہت وقت لگا، اور یتیم خانے سے جیسے ہی تمہارے ہاسٹل کا پتہ چلا ،وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ تم کافی دنوں سے واپس لوٹی نہیں تھی، میں آخری امید بھی دم توڑ دیتی ، لیکن بھلا ہو اُس واڈن کا جنہوں نے مجھے تمہاری تصویر دیکھائی، وہ دیکھ ہی رہا تھا۔ کہ جبران مجھ سے ملنے آیا، ٹیبل پر تمہاری تصویر دیکھ کر پوچھا ، مومل کی تصویر تمہارے پاس کیوں ہے، تو ٹھٹھک کر رکا اور پھر جبران نے بتایا، تم ان کے گھر ہو ،اور آج نکاح ہے تمہارا سالار کے ساتھ۔۔”
مومل جلدی سے اپنے باپ کے آغوش میں جا چھپی ، جس کی ہمیشہ سے، اُس کو چاہ تھی، کہ کاش اس کی بھی کوئی فیملی ہوتی ، اُس کے ماں باپ، اُس کو پیدا کر کے یتم خانہ نہ چھوڑتے، آج اپنے اتنے اہم دن پر ،اپنے باپ کا ملنا ،کسی نعمت سے کم نہ تھا۔سب نے پیاری سی مومل کو نیک نصیب کی دعائیں دیں تھیں۔
شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے۔سب کتنا خوش تھے،احمر اور علیان نے خاموشی سے سرکتے ہوئے اپنی بیگمات کے ساتھ ڈیرہ جمایا تھا، عليان تو ایشعال کی بہادری پر عش عش کر اُٹھا تھا، بے ساختہ اس کو دن یاد آیا تھا، جب اپنے اوپر نقلی چھپکلیاں دیکھ کر ایشعال نے ،پورا گھر سر پے اُٹھایا تھا۔ اور اب گولی لگنے کے بعد آرام و سکون سے بیٹھی تھی۔” ایشعال بیگم۔۔!! ہم تو آپ کی بہادری کے دیوانے ہوگئے ہیں،اپ کی بہادری کو خراج تحسین تو بنتا ہے” علیان کی ذومعنی بات پر ایشعال جھنمپ سی گئی تھی۔احمر اور پریہان بھی کسی بات پر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
کیا یہ غموں کے سائے جھڑ چکے تھے۔۔۔ ؟نہیں !! قسمت نے یکتلفی جواب دیا تھا۔دور کھڑی قسمت نے ابھی تو شطرنج کا کھیل شروع کیا تھا۔



رات کا سماں تھا۔چاند آسمان پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔سامنے سٹیج پر دو جوڑیاں بیٹھیں تھیں۔ داری اور ماہم اپنے خوش گپوں میں مصروف تھے۔ اج ان کا ولیمہ تھا۔دوسری جانب سالار اور مومل کا نکاح ، مومل تو آج خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔زندگی میں خوشیوں نے دستک دی تھی، جس کا اس نے دل سے خوش آمدید کہا تھا۔اج اس کو اپنی محبت ہمسفر کے روپ میں ملی تھی،تو ساتھ ہی اپنا خونی رشتہ بھی ملا تھا۔ اس کو اپنا باپ بھی ملا تھا۔
انمول جو گیسٹ سے باتیں کر رہی تھی، اچانک سے سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا،گیسٹ کو ایکسکیوز کرتی، وہ تنہائی کی جانب آئی تھی، کہ ایک بار پھر شدید سر چکرانے کی وجہ سے وہ گرتی، اس سے پہلے ہی ، کسی کے مضبوط کسرتی بازوں نے اس کو زمیں بوس ہونے سے بچایا تھا۔
انمول نیچے گرتی اس جھٹ سے آنکھیں میچ لیں تھیں، مگر نیچے نہ گرنے کا یقین کر کہ پھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں۔کہ اپنے سامنے سالار کو دیکھ حیران ہوئی تھی۔جس کے چہرے حد درجہ سنجیدہ تھا۔اور انمول کو گرتا فورن بھاگا تھا۔ ” شاہ تم۔۔!! یہاں کیسے۔۔۔؟” انمول نے اپنے سامنے سالار کو دیکھ کر، جیسے کنفرم کرنا چاہا تھا۔
” جی میں سالار۔۔!! آپ ٹھیک تو ہیں۔۔؟” سالار کے سنجیدہ چہرے پر فکرمندی سی چھائی تھی۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں،” انمول اپنی پوزیشن کو دیکھ کر سیدھی ہوئی تھی، “بس سر چکرا گیا تھا۔اب ٹھیک ہوں، یہ بتاؤ تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟” انمول نے سالار کو جواب دیتے اُلٹا سوال کیا تھا۔ ” بس یار کسی چھوٹے بچے نے بھاگتے ہوئے، شیروانی پر جوس گرا دیا، اسی لیے وہی صاف کرنے جارہا تھا۔ تمہیں سر تھامے دیکھا، تو سوچا پوچھ لوں، کیا ہوا ہے، مگر جب قریب پہنچا تو تم گرنے والی تھی۔”
سالار نے تھوڑی دور کھڑی پریہان کو آواز لگائی تھی۔اور اپنے قریب بلایا تھا۔تو پریہان سب کو ایکسکیوز کرتی ان دونوں کے قریب آئی تھی۔”سالار کچھ چاہیے تھا۔۔!! تو سالار نے پریہان کا دھیان مانو کی طرف کیا تھا۔ انمول تمہارا چہرہ زردی کی مانند پیلا پڑ رہا ہے، کیا ہوا ہے،” پریہان نے پریشانی سے انمول کی طرف آئیں تھی۔ ” ہاں پری بھابھی میں ٹھیک ہوں ایک دم۔۔” طبیعت خرابی میں بھی انمول کو مذاق سوجھ رہا تھا۔جوابن پری نے زبردست قسم کی گھوری سے نوازا تھا۔
سب خوش گپوں میں مصروف تھے۔کہ سامنے شادی ہال کے داخلی دروازے سے شہیر شاہ بڑے کروفر سے چلا آرہا تھا۔راجپوت اور خانزادہ فیملی حیرت سے اس کو دیکھ رہے تھے،جو بڑے ٹھاٹ باٹ سے اپنی مونچھوں کا تاو دیتا ہوا سٹیج کے قریب آیا تھا۔ ” لگتا ہے مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہوگئی” شہیر شاہ نے سب کا گروپ فوٹو سیشن ہوتے دیکھ بولا تھا۔
” جی ڈیڈ۔۔!! زیادہ نہیں تھوڑے سے لیٹ ہوگئے ہیں، نکاح ہوچکا، ابھی کھانا کھلنا باقی ہے۔”سالار نے اپنے باپ پر بھگو بھگو کر تیر برسائے تھے۔سالار کی بات سنتے شہیر شاہ کے تاثرات یک دم سخت ہوئے تھے۔جس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، سالار نے اپنی باتوں کا رخ بدلا تھا۔ ” خیر آئیں آپ کو سب سے ملواتا ہوں، جو میری فیملی کی طرح ہیں اور اپنی بیوی یعنی آپ کی بہو سے بھی ملواں، ” تو شہیر شاہ آگے بڑھا تھا۔
” یہ مصطفٰی دادا ہیں، یہ ان کی بیوی آسیہ دادی ہیں۔ اور یہ ابراہیم دادا ہیں یہ ان کی بیوی کلثوم ہیں، یہ جبران انکل ہیں، اور یہ حسن انکل ہیں ہیں، باقی انمول ،ایشعال، پریہان اور مومل میرے کلاس فیلو ہیں۔ یہ ازلان اور داریاں پریہان کے بھائی ہیں، اور عليان، ماہم اور احمر یہ انمول بھائی بہن ہیں۔ باقی یہ مومل ہے میری بیوی آپ کی بہو،اور میرے سسر جی ایک منٹ ان کو بھی بلاتا ہوں، وارث انکل۔۔!!! “سالار نے سٹیج سے ہی ہانک لگائی تھی۔ وارث جو فون کال پر مصروف تھا،وہ پلٹا تھا اور شہیر نے بھی سالار کی نظروں کا تعاقب کیا تھا۔
مگر دونوں نے جیسے ہی ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دونوں کہ چہروں کا رنگ فق پڑا تھا۔کئی سائے لہرائے تھے۔ شہیر اور وارث کے چہرے پر ، دونوں کی آنکھوں میں شناسائی تھی۔
“ارے وارث انکل آپ یہاں آئیں، انمول نے وارث کو ایک ہی جگہ سٹل دیکھا، تو ان کے بازو سے تھام کر سٹیج کی طرف بڑھی تھی۔ مگر انمول اور وارث کو ایک ساتھ دیکھ کر ماضی نے دوبارہ،شہیر کو جھنجھوڑا تھا۔ فرق بس اتنا تھا، کہ وارث کا ہاتھ تھامے،شاہ میر آتا تھا، مگر کل کے برعکس آج شاہ میر کی جگہ انمول تھی۔
اتنے سالوں بعد وہ دونوں روبرو کھڑے تھے۔ دونوں کے چہرے حد درجہ سنجیدہ تھے۔ “ڈیڈ۔۔!! یہ ہیں مومل کے بابا، وارث مجتبٰی” سالار نے وارث کی طرف اشارہ کر کے بتایا تھا۔ وارث صاحب مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تھے۔ مگر شہیر تو جیسے پتھر کی مانند جم سا گیا تھا۔
“کیسے ہو غدار دوست ۔۔؟” وارث صاحب نے ملتے ہوئے ہلکی آواز میں سرگوشی کی تھی۔ ” تم زندہ ہو۔۔!!! ” مگر مقابل کے منہ سے صرف یہی ادا ہوا تھا۔
” ڈئیر شہیر شاہ۔۔!! یا سنیک ونم عرف ایس-وی جو بھی ہو تم ویلکم بیک ٹو پاکستان ” وارث نے ہنوز گلے لگے ہی، اس پر حیرت کے پہاڑ توڑے تھے۔ شہیر شاہ کو اپنا وجود زلزلوں کی زد میں آتا ہوا محسوس ہوا تھا۔شہیر شاہ کو سکتے کی حالت میں دیکھ وارث نے ایک اور دھماکہ کیا تھا۔
” چلو بہت چھپن چھپائی کا کھیل لیا ،کیوں نہ اب روبرو کھیلا جائے، ارے ہاں ایک اور اہم خبر دیتا چلوں ، تمہارا وفادار کتا بھی ہمارے پاس ہے، اسی لیے اس کو ڈھونڈنے کی زحمت مت کرنا، کیوںکہ اس کی لاش بھی نہیں ملے گی۔”
وارث صاحب نے گویا شہیر شاہ کو جھٹکے پے جھٹکا دیا تھا۔ اپنی جیب سے ایک لفافہ نکل کر سالار کی طرف بڑھاتا، جلدی سے باہر کی بڑھا تھا۔اس کو سانس لینے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اپنی گاڑی میں بیٹھتے جلدی سے انحیلر سے سانس لی تھی۔اور جلدی سے اپنی گاڑی مینشن کی طرف بھگا لی تھی۔




کچھ دنوں بعد۔۔!!
” پری ایشو۔۔!!یار کچھ بتاؤ، میں اپنے اکڑو جن کے لیے کیا تحفہ لوں، مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔” انمول جھنجھلا کر بولی تھی۔ پورا ہفتہ ہونے کو تھا۔انمول کا روز کا یہ معمول تھا۔جب سے ازلان کی سالگرہ کی تاریخ قریب آرہی تھی۔ویسے ہی انمول آکسائیڈ بڑھتی جارہی تھی۔
پریہان اور ایشعال کو اپنے دوست پر بے انتہا کا پیار آیا تھا۔ وہ چھوٹی سی بات کو لے کر ، اتنا خوش تھی۔ جتنا شاید اپنی سالگرہ پر بھی نہ ہوئی تھی، ” انمول بھابھی جو تحفہ آپ بھائی کو دینے والی ہیں نہ ، وہ دنیا کا حسین ترین تحفہ ہے” پریہان چہک کر بولی تھی۔
” ہاں پری۔۔! سو مچ آکسائیڈ کوئی چھوٹی سی جان آئے گی یا آئے گا، مجھے خالہ اور تمہیں پھپھو بولے گا۔” ایشعال چہرے پر گہری مسکراہٹ سجا کر بولی تھی۔جب کہ انمول کا چہرے لال قندھاری ہوگیا تھا۔
” اچھا میں جاتی ہوں ، فارم ہاؤس پر ،پری یاد سے زی کو کال کر کے بھیج دینا ۔۔” انمول اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی، عجلت میں بولی تھی۔ تو پریہان نے سر اثبات میں ہلا کر جواب دیا تھا۔تو انمول اپنی گاڑی کی چابی لیتی باہر کی طرف بڑھی تھی۔
فارم ہاؤس کے گارڈن کو انتہائی خوبصورتی سی سجایا گیا تھا، ہر طرف سفید رنگ گلاب تھے، لگے تھے۔ گارڈن کے بیچ و بیچ خوبصورت سا کیک رکھا تھا۔ اور ساتھ ہی کچھ کھانے کے لوازمات بھی سجائے گئے تھے۔
انمول یہ سب سیٹ کرتی اندر تیار ہونے چلی گی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ شاور لینے کے بعد مکمل تیار ہوئی تھی، اپنے زی کے لیے فقط اپنے عشق کے رنگ میں ڈھلی تھی۔
سفید رنگ کی میکسی پہنے ، کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ڈالے ،گلے میں باریک سی ہارٹ شیپ کی چین تھی۔
ناک میں چھوٹی سی چمکتی ہیرے کی لونگ، انمول نے فقط اپنے شوہر کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے پہنی تھی، آج ہی اپنا ناک چھڈوایا تھا۔جس سے اس کی ناک گہری سرخ ہورہی تھی۔ موسم نے بھی انمول کا ساتھ دیتے ہوئے، اپنے رنگ بدلے تھے۔آسمان پر کالی گھٹائیں چائیں تھیں۔ٹھنڈی ہواؤں کا رقص تھا۔انمول کی سر سبز شاداب مسکراتی آنکھوں میں گہرا کاجل تھا۔جو اس کو نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت بنا رہا تھا۔نازک گلابی ہونٹوں کو مزید گلابی بنایا گیا تھا۔ آج شاید انمول اپنے زی کے چاروں شانے چت کرنا چاہتی تھی۔
ازلان کی گاڑی کا ہارن سنتے انمول کی دھڑکنوں نے شور مچایا تھا۔کہ کچھ ہی دیر میں ازلان گارڈن میں داخل ہوا تھا۔ازلان کی آنکھوں میں کچھ تھا۔جس کو شاید انمول اپنی خوشی میں دیکھ نہ پائی تھی۔ ازلان کی طرف انمول کی پشت تھی۔ ازلان جیسے ہی رکا تھا۔ انمول پلٹی تھی۔ ہاتھوں میں سفید اور لال گلابوں کا دستہ تھامے، وہ ہلکے قدم لیتی اپنے ، عشق کے قریب آئی تھی۔ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ کر ، ازلان سے کچھ بولنا شروع کیا تھا
” اے روح من۔۔!! مجھے تم سے محبت نہیں عشق ہے، محبت تو ہر کسی سے ہو سکتی ہے،کسی کے لفظوں سے، کسی ناول کے کردار سے، لمبی سڑک سے، زرد پتوں سے، مجھے عشق ہےتم سےاور عشق ہر کسی سے نہیں ہوتا،عشق بس ایک سے ہوتا ہے، اے روح من!! میرا عشق تم سے شروع اور تم پر ختم”۔
انمول نے اپنے دل کی گہرائیوں سے ازلان کے لیے یہ الفاظ شدت سے ادا کیے تھے۔کتنا مان اور محبت تھی، اس کے الفاظوں میں، جیسے اپنے عشق کا رس گھولا ہو۔
” آج میں انمول راجپوت، ازلان خانزادہ کے سامنے یہ عتراف کرتی ہوں، کہ بچپن سے تمہارے عشق میں گرفتار ہوں، جب میں عشق کے” ع “سے بھی ناواقف تھی۔تب سے تمہیں شدت سے چاہا ہے۔میں تمہاری دیوانی ہوں، زی۔۔!! عشق میں شرک اور محبت میں بے وفائی نہیں ہوتی، محبت میں بھی روزہ رکھنا پڑتا ہے، جو ادھر ادھر دیکھنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اور میں نے بچپن سے تمہارے لیے روزہ رکھا ہے۔”
ازلان نے ہاتھ بڑھا کر انمول سے پھولوں کا دستہ لے کر، ساتھ سجی میز پر رکھا تھا۔اور انمول کو اپنے روبرو کھڑا کیا تھا۔انمول کی چہرے کی چمک مزید گہری ہوگی تھی۔ گالوں میں پڑتے گڑے پوری آب و تاب سے چمک رہے تھے۔بےساختہ انمول ازلان کے گلے لگی تھی۔ اور اس کی گال پر ہونٹ پر بوسہ دیا تھا۔ اور ہلکی آواز میں سرگوشی کی تھی۔
“زی۔۔! ہماری فیملی کمپلٹ ہوگی، تم بابا بننے والے ہو” یہ بولتے ہی انمول نے اپنا شرم و حیا سے لال قندھاری چہرے ازلان کی گردن میں چھپایا تھا۔مگر کچھ منٹوں بعد ازلان نے ایک جھٹکا دے کر، انمول کو خود سے دور جھٹک دیا تھا۔انمول نے نہ سمجھی سے ازلان کی طرف دیکھا تھا۔ جس کے چہرے کے تاثرات عجیب سے تھے۔
” مس انمول خانزادہ کیا تمہیں میں پاگل نظر آتا ہوں۔۔۔۔۔! یا میرے چہرے پر بہت بڑا بےوقوف لکھا ہے۔۔۔۔؟یا پھر چھوٹا بچہ لگتا ہوں۔۔؟کہ جب دل کیا کھیل لیا جب دل کیا پھنک دیا اور کل تک تم اس رشتے کو قبول کرنے سے انکاری تھی،آج تم نے سب قبول کر لیا۔۔۔!! “
ازلان اب تک میں پہلی مرتبہ لب کشائی کہ تھی۔اور وہ ستمگر بولا بھی کیا، اتنے سخت الفاظ ، ساتھ ہی طنز کہ تیر برسائے تھے۔اُس نازک دل لڑکی کہ سینے کو چھلنی کیا۔
“تمہیں مجھے سے عشق ہوگیا واہ واہ!!!!
اب اتنا بھی اندھا نہیں ہوں، تم جو کہو گئی، وہ مان لوں گا۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ائی تھی۔ساتھ ہی زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ کہ ہنستے ہوئے، ازلان کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔
“ہاہاہاہا۔۔!!!
انمول راجپوت تمہارےاس معصوم چہرے پر سے نقاب اتر چکا ہے،اور تمہاری بدصورت اور گھٹیا سچائی میرے سامنے اچکی ہے۔تو اپنا پیار، محبت، عشق کا ڈرامہ بند کرو۔۔”
ازلان کے الفاظوں نے انمول کے معصوم سے دل پر کاری سی زرب لگائی تھی۔اس نے کرب اور ضبط سے اپنی لال آنکھیں میچیں تھیں۔ اور دوبارہ آنکھیں کھول کر سامنے اپنے دشمنِ جان کی طرف دیکھا۔جو اُسے اپنے ہر لفظ سے اذیت دے رہا تھا۔
“کِسی کے ساتھ بھی تم منہ کالا کرو گی اور اس کا گند میرے سر ڈالو گی اور میں خوشی خوشی تمہیں اور تمہارے پیٹ میں پلتے یار کے ناجائز گند کو قبول کر لوں گا۔۔” ازلان ابھی بول ہی رہا تھا۔ کہ انمول کا ہاتھ اُٹھا تھا۔
چٹاخ۔۔!
“بس ازلان خانزادہ بس۔۔!!”
“خبردار۔۔۔!!
جو میرے کردار پر انگلی اٹھائی یا پھر میری اولاد پر ناجائز کا بہتان لگایا۔ نہیں تو تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گئی۔”انمول اپنی آنکھوں سے، اگ سے شعلے برساتے ہوئے چلائی تھی۔وہ تڑپی تھی، اِس قدر گھٹیا الزام پر ،اور اُس شخص کہ منہ سے، ایسا نیچ الزام کبھی سوچا نہ تھا، جس سے وہ عشق کرتی تھی، وہ بھی بچپن سے،۔انمول اور ازلان دونوں کی آنکھوں میں اگ سے شعلے پھوٹ رہے تھے۔
“میں ازلان خانزادہ تمہیں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دے***۔۔۔”
ازلان کے الفاظوں پر انمول کا سانس پھولنے لگا تھا۔انمول کے کان سائں سائں کرنے لگے تھے، مگر پھر بھی ،اُس نے ایک ناکام سی کوشش کی تھی،کہ سامنے کھڑے پتھر انسان کا دل پگھل جائے۔
“پلیز زی !!! روکو !!! ایسا مت کرو، سچ میں یہ ہمارا بچہ ہے۔ میں نے ہمیشہ تم سے عشق کیا ہے۔ تمہارے علاوہ کسی کو انکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا۔تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ جس رات تم نشے میں تھے اس****رات ” انمول اپنی اکڑتی سانس کے درمیان بولی تھی۔
” بس۔۔ !! مجھے تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی” ازلان اتنی شدت سے دھاڑا تھا۔ کہ وہ معصوم لرز اُٹھی تھی۔
” جاؤ اپنے یار کے پاس ، میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، ویسے سوچنے کی بات ہے، کون ہوگا اس گند کا باپ۔۔ !! ہاں وہی ہوگا ، جو ہوٹل کے روم نمبر “407” میں تمہارے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا تھا۔” ازلان نے استہزاء انداز میں قہقہہ لگایا تھا۔
” کیا ہوا سمجھ نہیں ارہا، مجھے کیسے پتہ چلا۔۔۔!!خیر اس کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کون ہے اس گند کا باپ ۔۔۔!!! ارے یار وہی ہوگا، تمہارا گریٹ سالار شاہ اُس ہی کا گند ہوگا۔ جس کے نام کی تم ہمیشہ مالا جپتی رہتی ہو۔” ازلان کی باتوں پر وہ ڈھے سی گئی تھی۔ چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ اُس میں اب ہمت نا تھی کہ وہ اپنے کردار کی صفائی دیتی۔
وہ دشمنِ جان جا رہا تھا۔اس کے جذبات اور احساسات کی تذلیل کر کے۔اس کے خوابوں کہ محل کو اپنے پاؤں سے کچل کر مگر رک کر پلٹا تھا۔ انمول کو ایک چھوٹی سی امید نظر آئی تھی۔کہ شاید دل میں کوئی احساس پیدا ہوا ہو اور وہ اس کے بکھری روح کے چیتھڑوں کو سمیٹ لے مگر،اس نے جو خبر دی تھی، مانو کو محسوس ہوا، کہ اس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیل دیا ہو۔
” مس انمول راجپوت تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے،کچھ ہی دنوں میں میرا اور نایاب کا نکاح ہے۔آنا ضرور اپنے یار کے ساتھ”
انمول کو اپنے وجود میں چونٹیاں رینگتی ہوئی محسوس ہورہیں تھیں،وہ واپس جانے کے لیے پلٹ چکا تھا۔ اس بے رحم سنگ دل انسان کی بات پر انمول چیخ اُٹھی تھی۔انمول کی چیخ و پکار اُس کو اپنے کانوں میں سنائی دی رہی تھی۔ مگر وہ آن سنی کرتا اگے بڑھ گیا تھا۔
“زی تم بہت تڑپو گے،تم موت بھی مانگو گے، تو بھی تمہیں کچھ نہیں ہوگا،تمہارے پاس تمہیں تو موت بھی نہیں ائے گی۔ یہ میری نہیں میرے بچے کی بد دعا ہے بد دعا ہے۔”
انمول زمین پر ڈھے سی گئی تھی۔دماغ سن ہونے لگا تھا۔وہ چیختے چیختے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی زمین پر پڑی تھی۔موسم عبر آلود تھا، کہ کچھ ہی دیر میں تیز بارش نے ڈیرہ جما لیا تھا۔
میں نے پوچھا پیر صاحب۔۔۔ کیا یہ سچ ہے کہ عشق کا ”ع“ عقل کے ”ع“ کو کھا جاتا ہے۔۔؟
پیر صاحب نے کتاب سائڈ پر رکھی اور میرے طرف دیکھ کر مسکرائے بولے، ”ع” کے بعد “غ” لازمی ہے ۔۔۔۔”عشق” ہو اور “غم” نہ ملے یہ نا ممکن ہے۔ میں نے کہاں پیر و مُرشد ٹھیک فرمایا۔۔
جاری ہے
