Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar NovelR50548 Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 11)
Rate this Novel
Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 11)
Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar
ابھی سب ہی ساتھ ہیٹھے تھے۔ کہ مانو جو اپنے موبائل فون پر کسی گیم میں گم تھی۔کہ کسی کی آواز پر ہوش میں آئی تھی۔۔۔
“تم تو جل گئی ہوگئی نہ مجھے یہاں دیکھ کر ۔۔۔؟ اور وہ بھی ازلان کے ساتھ نایاب نے منہ کھولتے ہی آگ اُگلی تھی۔”
جس پر انمول نے زوردار قہقہہ لگایا۔” ڈئیر نایاب خاتون میں تم سے جلوں گی۔تم سے ریئلی تم سے تو میری جوتی پر جمی ہوئی دھول بھی نا جلے اور اس زکوٹا جن کے ساتھ دیکھ کر تو ہرگز بھی نہیں” انمول نے نایاب کی بات پر کھلی اُڑائی تھی۔۔
“اس لیے نایاب بی بی اب اپنا یہ میک اپ سے لیپا ہوا چہرہ یہاں سے لے کر جاؤ کیوں کہ مجھے ڈسٹ الرجی ہے۔ اور تمہارے میک آپ سے مجھے کھانسی بھی آسکتی ہے۔اس لیے میں رسک بھی نہیں لینا چاہتی تو لحاظ سٹے اوئے نایاب بی بی۔”
انمول کے جواب پر نایاب کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اور انتی زبردست سی انسلٹ پر چہرہ غصہ سے لال ٹماٹر ہوگیا۔۔۔۔
ابھی نایاب جواب میں کچھ بولتی کہ پہلے ہی انمول دوبارہ سے بولی آٹھی ” یار نابی۔۔!! یقین مانو ایسی لال لگ رہی ہو جیسے بندریا کی بیک بمز لال گلابی ہوتے ہیں۔مطلب کہ میک کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔”انمول آنکھیں ٹپ ٹپا کر بولی تھی۔۔
انمول کی بات پر نایاب بیج و تاب کھاتی رہے گئی۔اور جب مانو نے نایاب کو منہ کھولے شارک کی کیفیت میں مبتلا دیکھا۔
تو اس کے کان کی طرف جھک کر بولی “انمول سے پنگا ایز نوٹ چنگا ورنہ آپکی لائف میں دنگا ہی دنگا۔۔” بولتے ہی وہاں سے رفو چکر ہو گئی۔پیچے نایاب نے غصے میں صبر کے گھونٹ بھرے تھے۔
“سارے بچے میری بات سن لیں” حسن صاحب کی آواز، پر سبھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔”آپ سب کے فیملی ٹرپ کا انتظام ہوگیا ہے۔انشاءاللہ دو دن بعد صبح سات بجے کی فلائٹ ہے۔پہلے یو-ایس-اے پھر دوبئی۔۔۔۔”
“یاہو۔۔!!”
او بلے بلے او بلے بلے بلے
شاوا او شاوا شاوا شاوا۔۔”
مانو، پری ایشو اور داریاں تو ہوٹنگ کرتے ہوئے خوشی سے بھنگڑے ڈالنے لگئے۔۔۔۔
اور باقی سب بڑے ان باولوں کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
چلو بچوں بہت دیر ہوگئی ہے۔گھر چلیں رات کے دو بجے کا وقت ہورہا ہے۔ تو کچھ ہی دیر راجپوت فیملی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی اور خانزادہ فیملی نے بھی سونے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔






رات کے تین بجے کا وقت تھا۔ آبادی سے کوسوں دور خستہ حال عمارت میں تین سائے ساتھ ایک میز پر بیٹھے تھے۔
“فائر اینڈ ہنٹر کیا اپ ڈیٹ ہیں۔۔۔؟”
ہنٹر
کیلر میں نے اسلام آباد کے سارے ہاسپٹلز کی چھان بین کی ہے۔ صرف ایک ہاسپٹل ہے ۔جس سے سمگلنگ ہورہی ہے۔ ساتھ ہی ایک بڑی خبر ہے۔
اس ہاسپٹل کے ہاسٹل میں پڑتے سٹوڈنٹس کے ساتھ بری طرح سے مبینہ زیادتی کی جارہی ہے۔چاہے لڑکیاں ہوں یا پھر لڑکے اگر کوئی ہاسپٹل کے خلاف کچھ بولتا ہے۔ تو اس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔اور وہ ہاسپٹل اسلام آباد کا سب سے مشہور اور پرانا ہاسپٹل ہے۔ (سٹی ہاسپٹل) “
ہنٹر کی بات سن کر ٹاکسک کیلر کی آنکھیں لال رنگ میں تبدیل ہوگیں تھیں۔غصہ سے اس نے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔
” ہممم ” مخصوص جواب دیا۔۔
فائر
” کیلر میں نے ایس_وی اور سیاسی لوگوں کے بارے میں چھان بین کی ہے۔ لیکن کسی بھی سیاسی پارٹی کی کوئی انولومنٹ نہیں ہے۔لیکن یہ ایک بات معلوم ہوئی ہے۔ ایس-وی کے لیے جو بھی کام کرتا ہے۔اس کے ہاتھ یا بازو پر سانپ کا ٹیٹو بنا ہوتا ہے۔”
“ہممم۔۔”
“وہ ٹیٹو ایس-وی نے اپنے نام کا بنوایا ہے۔ایس-وی یعنی سنیک ونم(𝔰𝔫𝔞𝔨𝔢 𝔳𝔢𝔫𝔬𝔪) سانپ کا ٹیٹو بھی اس لیے بنایا جاتا ہے۔ جو لوگ ایس-وی کو اپنا مالک مانتے ہیں۔اور اس کی آرمی میں شامل ہوتے ہیں۔”






صبح نماز کے بعد سب ہی سو چکے تھے۔ لیکن ایشعال کو نیند نہیں ارہی تھی۔ تو وہ اپنے لیے چائے بنانے کے لیے نیچے ہال میں آئی تو صوفے پر علیان کو بیٹھے دیکھا۔۔۔
جو اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔آنکھیں شدید سرخ ہو رہیں تھیں۔تو وہ کچن کی بجائے علیان کی طرف آئی تھی۔
“علیان بھئیو آپ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟”
“کچھ نہیں یار بس رات سے نیند نہیں آئی سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔”
“اہووو رکیں میں اپکو پین کیلر دیتی ہوں۔” ایشعال پین کیلر لینے کے کیے پربھی تھی۔
“ارے نہیں ایشو میں نے ابھی لی ہے۔”
“اچھا پھر چائے بنا دیتی ہوں۔” ایشعال نے علیان کو چائے کی پیشکش کی۔تو فورن سے علیان نے ہامی بھر لی۔
“ہاں ٹھیک لیکن پہلے ذرہ میرا سر دبا دو۔مما کو بولتا لیکن رات سب تھک چکے تھے۔جگانا مناسب نہیں لگا۔علی نے اپنے دکھتے سڑکوں دبانے کی ناکام کوشش کی۔
” ٹھیک ہے، میں دبا دیتی ہوں۔پ سیدھے ہو کہ بیٹھیں۔”
” یار تم یہاں آجاؤ میں تمہاری گود میں سر رکھ لوں گا” علیان کی بات پر ایشعال کے چہرے پر سے ہوائیں اُڑنے لگئیں۔ ایشو ہچکچاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔
لیکن پھر بھی صوفے پر بیٹھ گئی۔ اصل جھٹکا تو تب لگا۔ جب علیان نے ايشو کی گود میں سر رکھا سر سے پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوگئی۔پہلی بار اس کو ایسا محسوس ہوا کہ جان نکلنا کس کو کہتے ہیں۔
“یار دبا بھی دو علیان کی آواز پر ایشعال کو جھٹکا لگا”
” ج ی جی ۔۔۔!! “
پورا جسم کپکپا رہا تھا۔ ایشو نے ہمت کرتے ہوئے علی کی پیشانی پر اپنے ہاتھ رکھے جہاں ایشو کے ہاتھ ڈر کے مارے برف کی مانند ٹھنڈے تھے۔ وہی علی کی پیشانی آگ کی مانند تپ رہی تھی۔ پیشانی کی رگیں اُبھری ہوئیں تھیں۔ شاید درد کی شدت سے برا حال تھا۔
آرام آرام سے ایشو نے علی کا سر دبانا شروع کیا جس پر علی کو ایشعال کے نرم و ملائم ہاتھوں سے سکون ملتا محسوس ہوا۔۔۔
تقریبن ایک گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا تھا۔ ایشعال تھک چکی تھی۔ جو کہ علی محسوس کر چکا تھا۔
“بس ایشو تمہارا بہت زیادہ شکریہ۔”
علی نے ایشو کی گود سے سر اُٹھایا اور سیدھا ہوکے بیٹھا۔
ارے علی بھئیو ایسی بھی کوئی بات نہیں تھی۔ “پہلی بات کہ ایشو تم مجھے علی بول سکتی ہو۔ مجھے برا نہیں لگئے گا۔”
ایشو ہونک بنی علی کی بات سمجھ رہی تھی۔” پر میں کیوں اپکو علی بولنے لگئی۔ جب ماہم آپی، مانو اور پری سب اپکو بھئیو بولتے ہیں۔اور ویسے بھی آپ مجھ سے بڑے ہیں۔ میں آپکی عزت کرتی ہوں۔اور یہ حق آپکی بیوی کو ہوگا۔”
ایشو جب بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی۔زبان کو بریک تم تب لگئی جب علیان کو مسکراتے ہوئے پایا۔تو دانتوں تلے زبان دبائی۔۔
“تو بن جاؤ نا بیوی کس نے روکا”
علیان کے جواب پر ایشعال کی آنکھیں حیرت کے مارے باہر اُبلنے کو تھیں۔جس کو دیکھ کر علیان جی جان سے مسکرا تھا۔۔۔۔
جب کافی دیر تک ایشو کو ویسے بیٹھے پایا تو اس کے سامنے چٹکی بجائی جس پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
:ک۔۔کچ۔۔کچھ نہیں میں چائے بنا لوں۔”
یہ بولتے ہی ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر پر سے سنگھ۔۔۔
جس کو دیکھ کر علی نے نفی میں سر ہلایا۔” پاگل ہے بلکل”
دس منٹ میں چائے بنا کر واپس آئی تو علی کو اپنا منتظر پایا۔۔۔
یہ آپکی چائے علی کو چائے کا مگ تھماتی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔علی بھی مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔






” ایس_وی سر ایول مونسٹر کی طرف سے گرین سگنل مل چکا ہے۔” ایس-وی کے خاص آدمی نے سر جھکائے ہوئے بتایا۔۔
جس پر ایس_وی کے چہرے پر گہری مسکراہٹ نمودار
ہوئی۔ “غفار تیاری کرو مال ڈیلور کرنے کی ہر مال کے دو ٹرک تیار کروا۔اور ساتھ ہی بلاسٹ کی تیاری بھی کرو یہاں سب تڑپیں گئے، مریں گئے۔دوسری طرف میرا مال سکون سے ڈیلور ہوگا۔
مارخور اپنے ملک کے لیے اپنی جان بھی لگا دیتے ہیں نا۔۔!! دیکھتے کیسے بچاتے ہیں۔ اپنے ملک کی بربادی کو کیسے حفاظت کرتے ہیں اپنے ملک کی اس سنیک سے اور اس کے ونم سے۔۔”
” ہاہاہاہاہا دونوں نے قہقہہ لگایا تھا۔”





صبح سات بجے سے مانو کا موبائل فون زور و شور سےبج رہا تھا۔آدھا گھنٹےسے مسلسل فون بجنے کی وجہ سے مانو کی نیند میں خلل پڑا تو ہاتھ بڑھا کر فون اُٹھایا۔۔۔
” کیا موت پڑ گئی ہے۔” بنا فون کی سکرین کو دیکھے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا تھا۔ تو فون پر دوسری جانب شخص کی چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ ائی۔
“موت یہ پڑی ہے،کہ اپ نے میرے ساتھ مورنگ واک کا پرامس کیا تھا۔تو بس وہی یاد دلا رہا تھا۔”سالار کی آواز پر مانو نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔
” اوپس سوری شاہ میں نے نام نہیں دیکھا تو ایسا بول دیا” انمول ہڑبڑا کر بولی تھی۔
“ہاہاہا کوئی بات نہیں میں اپکا ویٹ کر رہا ہوں۔جلدی سے نیچے آئیں۔”
” اوکے پندرہ منٹ رکو ابھی ائی۔”
انمول سالار کو انتظار کا بولتے ہی کال کاٹ گئی۔ٹھیک پندرہ منٹ بعد سالار کو وہ آتی ہوئی دیکھی دی۔۔۔
جو کہ پرپل اینڈ بلیک کلر کے جوگینگ ڈریس میں تھی۔گھنے لمبے بالوں کی اونچی ٹیل پونی بنائے آنکھوں میں کاجل لگائے۔وہ کوئی معصوم گڑیا ہی لگ رہی تھی۔جس کو دیکھ کر سالار کی دھڑکنوں نے ایک شور برپا کیا تھا۔۔۔
چلیں۔۔!
مانو بولی جس پر سالار نے اثبات میں سر ہلایا تو دونوں نے اگے کی طرف دوڑ لگا دی۔ دونوں باتیں بھی کر رہے تھے۔اور جاگینگ پارک میں راؤنڈ بھی لگا رہے تھے۔انکو راؤنڈ لگاتے ہوئے آدھا گھنٹہ گز چکا تھا۔دور سے نیلی آنکھیں یہ منظر دیکھ رہیں تھیں۔
” ویسے مانو مجھے لگ رہا تھا۔ کہ تم جاگنے والی نہیں ہو۔”
“ہاہاہاہا وہ کیوں شاہ۔۔؟”
“کیوں کہ پورے آدھے گھنٹے سے میں لگاتار کالز کر رہا تھا”
سالار ہنس کر بولا تو مانو کھسیانی سی مسکرا دی۔۔۔
دونوں باتوں میں مکمل طور پر مگن تھے۔ جس پر مانو کی نظر پانی والے پائپ پر نہیں پڑی تھی۔
جب ہی اچانک اس کا پاؤں موڑا اور وہ نیچے گرنے والی تھی۔کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اس کو تھام لیا تھا۔ افففف اللہ مانو کو لگا وہ آج اچھی خاصی چوٹ لگوا لیے گی۔۔۔
لیکن جب اس کو احساس ہوا کہ وہ نہیں گیری جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو دیکھا خود کو سالار کے بازوں کے حصار میں پایا۔
اور سالار مسلسل انمول کو تکے جارہا تھا۔کہ آنمول کی آواز نے اس کو ہوش کی دنیا میں واپس پٹخا۔۔۔
“شکر ہے شاہ تم نے بچا لیا،ورنہ میں تو گئی تھی۔”
انمول سالار کے حصار سے نکلتی ہوئی بولی۔سالار جواب دیتا کہ کسی کی آواز پر پلٹے۔۔۔
“واہ واہ کیا خوب دوستیاں نبھائی جارہیں تھیں۔۔۔۔”
” زکوٹا جن تم یہاں اور تمہاری بات کا کیا مطلب ہے۔” ازلان کی بات مانو کہ سر ہر سے گزری تھی۔ لیکن پھر بھی کمر پر ہاتھ ٹیکا کر کسی لڑاکا عورتوں کی طرح پوچھا۔
جس پر ازلان بس گھور کر ہی رہے گیا تھا۔لیکن سالار اچھے سے ازلان کے طنزیہ انداز کو سمجھ چکا تھا۔ ” وہی دوستیاں جو تم اپنی پیاری سی نایاب کے ساتھ نبھا رہے ہو۔”
مانو نے جب ازلان کہ پیچھے کھڑی نایاب کو دیکھا تو ازلان کو اسی کا انداز اور جواب سود سمیت واپس کیا انجانے میں ہی سہی۔۔
دوسری طرف انمول کی بات پر سالار نے اپنی ہنسی ضبط کی۔” تم نا اپنی چونچ بند رکھا کرو بلڈوز کہیں کی” مانو کی بات پر ازلان تپ کر بولا۔
“مانو ہمیں چلنا چاہیے ہاں ٹھیک ہے شاہ۔۔۔”
اوکے بائے مسڑ زکوٹا جن اینڈ مس نایاب بی بی۔۔”
دونوں اگئے کی طرف بڑھ گئے۔ پیچھے ازلان نے غصے سے اپنا سر جھٹکا۔۔۔۔۔






ڈیول کینگ کو ایول مونسٹر کی طرف سے ایک میسج موصول ہوا۔ جس میں تاریخ اور ساتھ ہی چھ جگہوں کا پتہ تھا۔ساری کی ساری ایک دوسرے سے بہت ہی زیادہ دور تھیں۔۔۔
